اتوار، 25 ستمبر، 2011

منکر حدیث یا منکر کتاباں


یارو
پنجابی میں کہتے هیں ناں
آلے (طاق) والا خط
که کسی بادشاه نے عالموں سے کها که پتر کو خط پڑھنے کے قابل بنا دو
اور وه وه ایک مهینے میں
ورنه قتل کردوں گا تو
ایک سیانے نے اس کو طاق میں رکھا هوا خط رٹا دیا تھا
یا پھر همارے اردو کے کسی کالم نگار نے لکھا تھا که ککس ایک هی چیز پر مضمون کرلیں
مثلاً
هاکی کا میچ
اور هر بات کی تان
هاکی کی کمنٹری پر کھینچ کر
واه واه کروالیں
اسی طرح
هم لوکوں کا طاق کا خط بن کے ره گیا هے
اسلام
میں کوئی مذہپ کا ٹھیکیدا ر نهیں هوں
که اپ کو کتابوں میں لکھی بونگیاں کے خوالے دے دو کر اپنا بھی اور دوسروں کا بھی دماغ خراب کروں
اور
قران کو میں نے سمجھنے اور هدایت کے لیے پڑھا اور سمجھا ہے
ناں که
ایتوں کے نمبر یاد رکھ رکھ کر دوسروں کو زچ کرنے کے لیے
اور یه بات بھی میرے ذهن میں هوتی هے که
جب میں قران کی کسی آیت کی بات کروں تو
سامنے والے کو اس آئت کریمه کا معلوم هو
بات چلی تھی فیس بک پر
که
کھوتے کے گوشت کے منع کی بات
قران میں نهیں هے
اس لیے هم دوسری کتابوں کے مرهون منت هیں
اس وقت میں پاکستان میں هوں
دو دن سے بخار سے پھنک رها هوں
لائیٹ گئی هوئی هے
اس لیے میں فیس بک پر هونے والی اس دوران کی کسی بات کا عالم نهیں هوں
پہلي بات کھوتے کے گوشت کی
اور پھر
دوسری هے که قران میں نمازوں کے اوقات کی
تو
جی
همارا( همارا سے مراد میں اور میرے جیسے)ـ
ایمان مکمل هوتا ہے
ایمان مفصل والی تفصیل سے
الله پر فرشتوں پر کتابوں پر رسولوں پر
اور
باقی کی اپ خود پڑھ لیں
ورنه اپ کے اس پاس هر مسلمان کو یاد هو گی اس سے سن لیں
تو جی پرانی اسمانی کتابوں کی روشنی میں
حرام حلال کی تفصیل یه هے که
هوا میں اڑنے والے
وه جو پنجوں میں لے کر کھائیں وھ حرام اور
جو
چونچ مار کر کھائیں وه حلال
پانی کے وه جانور جو
اپنی مرضی سے پانی سے نکل کر بھی زندگی گزار سکتے هیں
وه حرام اور
جو پانی سے نکالے جانے کے بعد زندگی کو برقرار ناں رکھ سکیں
وه حرام
پانچ ناخنوں والے جانور جو که عموماً گوشت خور هوتے هیں
حرام
اور جو جانور زمین میں بل کھود کر زندگی گزارتے هیں
حرام
جن جانوروں کے کھر(پاؤں کے ناخن)دو میں پھٹے هو
ان میں سارے مویشی کھائے جاسکتے هیں
کیونکه
سور کے کھر بھی پھٹے هوتے هیں
اس لیے کوتاه علم لوگوں کی هدایت کے لیے قران میں عقل کل الله سائیں نے تاکید کردی
حالانکه
کسی بھی زبان میں مویشی کی کیٹاگری میں
گھوڑے گدھے اور سور کو شامل نهیں کیا جاتا
اج کی عالم زبان انگریزی میں بھی نهیں
اگر اپ کے پاس قران اور اس سے پہلے کی کتابوں کا علم هے تو
قران کے بعد
لکھی گئی کتابوں کے فتنوں سے بچنے کا خاصا انتظام هے
بلکل جس طرح کچھ ریسٹورانٹوں میں خواتین کے لیے پردے کا خاص انتظام هوتا هے
اسی طرح
نابالغ ذهنوں کے لیے فتنوں سے بچنے کا خاص انتظام
هوتا هے که قران میں
اور پرانی شریتوں میں
جو که کینسل نهیں کی گئی هیں
بلکه
ان میں کی گئی تبدیدلیوں کی طرف توجه کا کها گیا هے
جی هاں تبدیلیاں
جن کی اسلام میں نشاندهی کے لیے
هم لوگوں کو منتخب کیا کيا هے
دوسرا سوال تھا
نماز کے اوقات کا
تو که
اس کا جواب ہے که
قران میں صلواة کے اوقات صرف تین بتائے گئے هیں
حالانکه میں نمازاں پانچ پڑھتا هوں
اور واضع طور پر بتائے گئے هیں
اور اگر میں نے اس کی تفصیل لکھی ناں جی تو کام چور نمازی
اس کو سهولت بنا کر نمازیں چھوڑ دیں گے
اس لیے میں یهاں سورة کا نام یا ایت نمبر نهیں لکھوں گا
اور میں سوچ رها هوں که صرف ایک کتاب قران میں لکھی باتوں سے جو لاعلم ہے
اس کو کیسے علم حاصل هو گا که
پرانے مذاهب اور قران پر سوچ بچار کر سکے
یا که ایک سازز کے تحت ان کو سوچنے کا پلیٹ فارم هی دوسرا دے دیا گیا هے که
قران کے قریب نهیں جانا هے اور جو قران کی بات کرئے
اس کو
لفظوں میں الجھا کر اس طرح کا ماحول بنا دینا هے
که کوئی سننے اور پڑھنے والا بھی قران کے قریب ناں هو جائے
که
قران مذهبی دوکانداریوں کو ختم کر دیتا هے
اور یه بڑا نقصان هے دوکانداروں کا

جمعرات، 15 ستمبر، 2011

ڈینگی بخار

ڈنگی بخار
مجھے یاد هے که هر سال گرمیوں میں لوگوں کو بخار هوا کرتا تھا
جس کے لیے کونین کی گولیاں بانٹی جاتی تھی یا کھائی جاتی تھیں
همارے جیسے دیسی کھرانوں ميں نیم
یا
دھریک اور پھلا کے پتے گھونٹ کر پئے جاتے تھے
یه بخار کی وبا وهی تو نهیں هے جو پرانوں سے پنجاب میں هوا کرتی تھی
لیکن هر چیز امپورٹڈ کے شوقین
پنجابی
اب نام بھی
ڈنگی اور دوائیں بھی بدیسی چاهتے هیں
یه موسمی بخار تو نهیں هے کہیں
که کم علموں کا شیوه هوتا هے سنسنی پھلانے کا
اور
پاک حکومتی لوگوں کے کم علم هونے میں مجھے کوئی شک نهیں هے
که اگر یه اہل علم هوتے تو
کم از کم
ان کو
منافقت
جھوٹ
اور
بھیک کے عذابوں کا علم تو هوتا
ناں جی

بدھ، 14 ستمبر، 2011

تنگ لوگ

ناں جی پاکستان میں
ہے کون
جو تنگ نهیں هے؟؟
زردای!!ـ
یارو وھ بھی شریفین سے تنگ هے
پاکستانی یا تنگ هوتے هیں
یا تنگ کرتے هیں
تنگی میں گزرا کرتے هیں
لیکن بچپن میں جو لفظ تنگ میں نے پہلے پہل سنا وھ تھا جی
اس بیلٹ کا نام جو گھوڑے یا گدھے کی پیٹھ پر رکھی کاٹھی یا
پلانا کو سنبھالنے کے لیے
پیٹھ کے پیچھے سے گزاری جاتی هے

یه والا تنگ که جس کو سن سن کر باهر مقیم پاکستانی بھی تنگ آ چکے هیں
اس تنگ کی تنگی تو جی ضیاع صاحب کے
اسلامی دور ميں شروع هوئی تھی ناں جی
رشوت لینے والا بھی تنگ اور
دینے والا بھی تنگ
فوج تنگ هے که لوگوں کو ان کے پلاٹ اور رقبے نظر انے لگے هیں
سیاستدان تنگ هیں که
فوج
سکون سے لوٹنے نهیں دیتی
سارے امریکه قرضے هتھیا لیتی هے
کوئی تنگی سی تنگی هے جی پاکستان میں
اب تو سنا ہے که
مچھر بھی تنگ کرتے هیں
پاک لوگان کو
ایک تو جی پاک لوگ اس بات سے تنگ هیں که
لوگ ان کو پلید کہتے هیں
اس لیے
اب جو مچھر ان کو تنگ کرتا هے
ڈینگی والا
اس کی پیدائیش کا صاف پانی میں بتا بتا کر
اور سن سن کا تنگ هورهے هیں جی
لوگ
صاف پانی پاکستان میں هے کهاں؟؟
چھت پر رکھی ٹنکیوں میں !!!ـ
جن میں جالا لگا هوتا ہے
اوپر دھول جمی هوتی هے
اور اندر سنڈیاں!!!ـ
ان چاول کے دانوں کے سائیز کی سنڈیوں کی پاکستان ميں تنگی کی کوئی خبر وصول نهیں هوئی هے
که
کسی نے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی هو
تنگی کو ماپنے کا پیمانه
ابھی نهیں هے که کون کس سے کتنا تنگ هے
که پاکستان ميں
فوج نے هر کام بے حساب کرنے کا کلچر
عام کردیا هے
فوج کے کے آڈٹ کا کہنے والے کو غدار کہـ کر تنگ کرکر کے
اس لیے تنگی کی مقدار بھی بے حساب ہے
هاں
جو لوگ جتنے زیادھ کام چور هیں وھ اتنے هی تنگ هیں
لوگوں کے رویے سے
اور لوگ ان کو سب سے زیادھ تنگ کرنے والا کہتے هیں

پاکستان مقیم
لوگوں کا ایک فقره
جو باهر مقیم محنتی گدھوں کو تنگ کرنے کے لیے استعمال هوتا هے
که گدھے کام زیادھ کریں اور
پیسے زیادھ بھیجیں
تو جی باهر مقیم پاکستایوں کی اکثریت کیوں که
کام چور نهیں هے اس لیے
یه لوگ تنگ هونے کی بجائے پریشان هوتے هوتے هیں
اس فقرے کو سن کر
کیا فقره هے جی
یه که
سر پیٹ لینے کو دل کرتا هے
اور جب کسی غیر پاکستانی کو کهیں تو اس کا هاسا هی نکل جاتا هے
کیا گہرائی هے
جی اس ایک فقرے میں
که
کم عقلوں کے سر سے گزر جائے گا
اور
عقل والوں کے لیے
نشانیاں هیں جی اس ميں
اور وھ
فقرھ ہے
جی























پیسے دا تے هن بن دا ای کجھ نهیں جی!!ـ
پاکستان وچ

جمعہ، 9 ستمبر، 2011

سیب کا جوس


بخدمت جناب برین واشنگ ونگ
اسلام علیکم
صورت احوال یه هےکه
یهاں مری والے سیب کےباغات جو که جرنل صاحب کی ملکیت هیں
ان میں اس دفعه
یهود وهنود کی سازش کی وجه سے تیز هوائیں چلتی هی هیں
جس کی وجه سے سارے سیب گر گئے هیں
اس لیے اب یه سیب مارکیٹ مين فروخت کے قبل نهیں رهے هیں
جرنل صاحب کے کهنے پر میں اب کو لکھ رها هوں که
اس سال ان سیبوں کا صرف جوس هی فروخت کیا جاسکتا هے

لیکن قوم میں سیب کا جوس پینے کی سکت نهیں هے
اس لیے کیوں نان کچھ ایسا طریقه کریں که لوگ اس سال زیادھ سے زیاده سیب کا جوس پینا شروع کر دیں
تاکه جرنل صاحب کے باغات کے سیب ضائع هونے سے بچ جائیں
فقط
هیڈ مالی
باغات جرنل ٠٠٠٠٠

جناب هیڈ مالی صاحب
اپ کا لیٹر ملا
هم نے اس بات کے لیے جرنل صاحب سے ڈائریکٹ رابطه کیا هے
اب اپ بے فکر هو جائیں
انچارج
سرکاری میڈیا کا برین واشنگ ونک

جناب
جرنل صاحب جیسا که اب سے فون پر بات هوئی تھی اور اپ نے حکم دیا تھا
که مالی کے خط پر ایکشن لیا جائے تو هم نے
یه ایک پیغام تیار کیا هے
اس پیغام کو ملک ميں رائج کرنے کے لیے اپ کے حکم کا انتظار ہے
اور اگر اپ کے ذهن میں اخباروں ميں شائع کروانے کی بجائے
کوئی اور طریقه هو تو اس کے متعلق گائیڈ کرکے برین واشنگ ونگ کو مشکور فرمائیں
پیغام مندرجه ذیل هے

ضروری اطلاع ؛ ڈاکٹر ندیم علی جو قائد اعظم یونیورسٹی میں مائکرو بیالوجسٹ ہیں ، انہوں نے اپنی ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ ایپل جوس(سیب کے رس) میں لیمن جوس( لیموں کے رس) کے چند قطرے ملا کر ڈینگی کے مریض کو پلایا جائے تو اسکا وائرس ختم ہو جاتا ہے ، مہربانی فرما کر اسے آگے بڑھائیں، تاکہ جانیں بچائیں جا سکیں


اپ کا تابعدار
میجر ٠٠٠٠٠٠

میجر
اسلام علیکم
مجھے تمهارے ونگ کا لکھا هوا یه پیغام پسند ایا
میرے خیال میں اس بیغام کو فیس بک پر لگا دو
باقی یهاں محقق بننے کے خواهشمند خود هی اس کو شئیر کرکر کے عام کردیں گے
جرنل ٠٠٠٠٠

جمعہ، 2 ستمبر، 2011

بصیر و نظیر


میرے کان گرمیوں میں بینڈے کی آواز سنتے هیں

اور

میرے ذهن کی بصارت مجھے میرا بچپن دیکھاتی هے

وه قبرستان كے پاس سے گزرنے والی کچی سڑک جس پر دهول اڑتی تھی

اور میں ننگے پاؤں هوتا تھا

میں کسی کی هنسی دیکھتا هوں

تو

مجھے میرا ذہن مجھے وه مدھر گیت سناتا هے جو دل

میں اتر کر پھر اترتے هی چلے جاتے هیں

کبھی میں دیکھ کر سنتا هوں اور کبھی

سن کر دیکھتا هوں

میرے رب نے مجھے کیا کیا لطف عطا کیے هیں که

اس کی عطا کی صفات کے تہـ در تہـ لطف اٹھاتا هوں اور

لہر در لہر بہتا هی چلا جاتا هوں

هاں میرے رب نے قران میں ایک احسان جتلایا هے

که

جس کو کینے سے پاک دل دیا

اس پر بڑا احسان کیا


میں کینے سے پاک دل کی وجه سے
کتنی هی اذیتوں سے بچالیا گیا هوں
که ورنه
ان اذیتوں ميں بھی تو ایک پرتوں کا سلسله هونا تھا

قانع لوگ


یهاں جاپان میں ایک مولوی صاحب آئے تھے جن کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا
ان سے بات چل پڑی ابروجین لوگوں (اسٹریلیا کے قدیم باشندے)کی تو کہنے لگے یه که لوگ اس دور میں بھی کیوں اتنے پسمانده هیں ؟
میں نے ان کو بتایا که عمرانایات کے ماہر کہتے هیں که انسانوں کی کچھ نسلیں بڑی هی قناعت پسند هوتی هیں که ترقی کی ضرورت هی محسوس نهیں کرتیں !!ـ
مولوی صاحب گے منه سے فوراً نکلا
جیسے همارے هاں کے مصلی لوگ!!ـ
میں نے اس اگے بات نهیں بڑھائی که مولوی صاحپ غصه کر جائیں گےـ
که گوری اقوام کا یه خیال همارے متعلق هےـ
ابروجین لوگ بهت هی قانع لوگ هیں
اتنے قانع که همارے روحانیت کے جغادری جو لکھتے هیں که
انے والے کل کی بھی فکر نهیں کرنی
رزق رب نے دینا هے
یه ابروجین بھی ایسا هی کرتے هیں که
کھیتی باڑی ميں بھی فصل اٹھنے تک انتظار کرنا پڑتا ہے
اس لیے
جانوروں کے شکار اور خود رو پھلوں سبزیوں سے یا اگر کوئی اناج قسم کی چیز هوتی هو گی تو اس سے گزارا کر لیتے هیں
ان کے بعد اتے هیں افریقی نسل کے کالے لوگ
یه لوگ بھی جو کچھ پاس هو
وه جنس مخالف کو متاثر کرنے لے لیے شو شا پر خرچ کردیتے هیں
اور مستقبل کی کم هی فکر کرتے هیں
کم فکر کرتے هیں
بلکل هی بے فکرے نهیں هیں
اس کے بعد جی هم لوگ هیں
جو تھوڑی کوشش کرتے هیں اور بس
باقی کا کام کسی معجزے پر چھوڑ دیتے هیں
یا کوئی بنی بنائی چیز مل جائے تو
اس پر قانع هو جاتے هیں
که یه هم پر هماری قناعت پسندی کا انعام هے
لیکن یه نهیں سوچتے که اس چیز کو بنانے والے
ایجاد کرنے والے
کی کیا سوج تھی که
جب کام چل هی رهے هیں تو
یه مسلسل تحقیق
جدو جهد اور خوب سے خوب تر کی تلاش ، جستجو ، کرنے والے کون لوگ هیں اور ان کی
یه سوچ هے کیا؟؟
هاں جی بات کررها هوں گوری اور پیلی اقوام کی
که پیلی اقوام یه بھی کہتی هیں که
گوری نسل
کچھ اس طرح کی هے که جیسے کچھ بچے همارے پاکستان ميں بھی ایک دم گورے سے هو جاتے هیں
پیدائیشی عجب
لیکن هر دو رنگ کی قومیں هیں که مسلسل تحقیق اور تجربات ميں لگی هیں
ان کے ممالک میں ویزے لے کر جابسنے کی خواهش هی کرتے هیں اور بس کوشش کرکے ان کے پاس چلے جاتے هیں
اور ان کی محنت ، تحقیق، اور تجربات سے بنائے گئے سسٹم کے فوائد سے اپنی زندگی کو تھوڑا
سهولت امیز بنا کر پھر
قانع هو جاتے هیں
میں سخت مخالف هوں جی قناعت کے
اپنے حال میں مست رهنے کی تلقین سے
ڈنگ ٹپاؤ قسم کی سوچ سے
اگر انجن بنانے کی مجرم قوم بھی قناعت پسند هوتی تو؟؟
انجن کو ریل سے کار تک کا سفر اور ڈیزل پٹرول انجن سے
هائی بریڈ انجن تک کے سفر میں اٹھائی گئی مشقت
هی هے
ورنه
سانوں کی
کہنے والی قوم کیا یه کرسکتی تھی


اگر بندے کاباطن صاف ، دل مطمئن اور وه مسلسل جدوجهد پر یقین رکھتا هو تو اس کا ذہن حیلوں بہانوں کی کثافت سے پاک ہو گا
اور خوشحالی اس کا مقدر هو گی
لیکن
یه قناعت هی حیلے بهانے بنانے کی بنیاد هوتی ہے

پیر، 29 اگست، 2011

شاستر

مستان نامی ایک جگه ہے نیپال میں
جهاں پہنچنے کے لیے
ایورسٹ سر کرنے سے تھوڑی هی کم مصیبت اٹھانی پڑتی ہے

یہاں کے رهنے والے لوگ بہت هی غریب هیں
ناں خوراک اچھی اور ناں هی زندگی کی کوئی اور سہولت
ایک دن یهاں سے ایک "کافر" کا گزر هوا
یه کافر هے بقول مولوی کے
اور اگر کسی درویش نے دیکھا تو دنیا دار کتا کہے گا
اور یه کافر اگر ان دونوں کو دیکھے گا بھی تو؟

کومنٹ دینے سے زیادھ اس کو کچھ "اور " چیزوں کی فکر هو گی
تو جی یه بنده تھا ایک جاپانی
ستر کی دھائی میں جاپان کی حکومت کے ایک پروگرام کے مطابق مستان کی چوٹیوں پر گیا تھا
که یهان رهنے والے لوگوں کی بهتری کے لیے کام کرسکے
تیز هواؤں اور خشک ٹھنڈک والی ان چوٹیوں پر گھاس بھی کم هی اگتی هے
اور زمیں هے که
جس کو اردو ميں بنجر کہیں گے
بنجر که جس مٹی میں پتھر اتنے زیاد هوں که ہل چلانا بھی مشکل هو
اس بندے نے مستان کے لوگوں کو کچھ دینے کا تہیه کر لیا
اور اس نے ان کو
کھیتی باڑی کا طریقه بتایا
که
پہاڑوں سے انے والے پانی کو کھڑا کرنے کے لیے پتھروں سے روکاوٹیں کھڑی کیں
هوا سے اوٹ دینے والی پہاڑیوں کی اوٹ میں درخت اور کھاس اگائی
اور یهاں سبزیاں اگائیں
اب مجھے اس کا نام یاد نهں ارها
لیکن اس جاپانی کی عمر اس وقت
نوے سال ہے
اور ابھی زندھ ہے
گھوڑے پر بیٹھے اس بابے کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر ایک یا دو جوان چلتے هیں
گندے کپڑے پہنے میلے سے چهروں والے دیهاتیوں کے چہرے اس بابے کو دیکھ کر کھل اٹھتے هیں
بابے کا کام هتھیلی پر سرسوں جمانے والا نهیں تھا
که
روم ایک دن میں نهیں بن جاتا
سبزیوں کی کاشت کے لیے زمین کو تیار کرنے سے لے کر
سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار تک
ایک عرصه لگا
یه پھل اور سبزیاں مستان کے لوگوں کے دسترخوان پر رونق کا باعث بنیں
پیٹ بھر کر کھانا نصیب هوا تو
اگلے ایک عرصے ميں ان سبزیوں اور پھلوں کو مارکیٹ تک پہنچا کر
کمائی کا راسته بنایا
تب جا کر مستان کے لوگوں میں
اپنے انسان هونے کا احساس پیدا هوا
که اس وقت تک مستان کے جوان کمائی کے لیے شهروں کی طرف چلے جایا کرتے تھے که دیهاتوں میں بابے اور مائیاں هی ره جاتی تھیں
جب مقاممی لوگوں کو روزگار ملا تو
یه باهر جانے کے روحجان میں کمی آئی تو جی
جاپانی بابے نے ان دیهاتیوں کے بچوں کے لیے
تعلیم کا انتظام بھی کر دیا
که
ان کو سکول بنا دیا
اور ان کی صحت کے لیے ایک شفا خانه بھی بنوا دیا
ایک بندے نے
اپنی جوانی
کسی اور ملک کے لوگوں کی بھلائی کے لیے وقف کر کے
اپنی ساری صلاحتیں
مستان کے لوگوں کے لیے لگا دیں
پاک سوچ کے مطابق سوال پیدا هوتا هے که
اپنے لیے کیا بنایا؟؟
کچھ بھی نهیں
نان سوئس بنکوں میں اکاؤنٹ
اور ناں هی اسلام اباد کے پلاٹ
اور ناں هی سڑکوں اور پلوں کے افتتاح کی تختیاں
لیکن یه بابا
بڑا مطعمن هے نوے سال کی عمر میں بھی
کیوں که اس سے جب زمینوں کی بحالی کا کام کیا تو
سب لوگوں کی زمین جیسے اسی کی زمیں سی بن گئی
اور اپنا بھی فارم بنا لیا
جس میں ایک گھر بھی هے
ساری زندگی اچھا کھانا کھایا
اپنی مرضی کے گھر ميں رها
ایک سوال
زندگی کیا ہے؟؟؟
جواب
جو دن هم گزار رهے هیں !!ـ
تو جی اس کا مطلب هوا که اگر کسی کا اج اچھا نهیں هے تو اس کی زندگی اچھی نہیں هے
اگر کوئیاپنی اچھی زندگی کے لیے اپنا اج برا کرکے کمارها هے تو
اس کے سارے اج برے هوں گے
تو
اس کی اچھی زندگی کب شروع هو گی ؟؟
کبھی نهیں !!!ـ
تو جی بابے نے اپنی ساری زندگی
اپنی خواهش کے مطابق گزاری ہے
که اس کی خواهش هی کسی کے کام انا تھا
کسی کے کام انے کی خواهش کی تکمیل
اور اس کی لذت
کے ساتھ ساتھ
اچھا کھانا
اچھے کپڑے
اچھا مکان
اور اچھی سواری
که بابا جی کے پاس اچھے گھوڑے هیں
اب ایک بہترین بڑهاپا
لوگ بابے کے اگے پیچھے پھرتے هیں اور دل سے خواهش کرتے هیں که باباجی
همیشه زندھ رهیں

یه تحریر اس بات کے تناظر میں لکھی ہے که
پاکستان میں جب بھی
ارباب اختیار سے بات هوتی ہے که ملک کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے کچھ کریں
تو
ان کے منه
سے نکل جاتا هے
تے پیسے کتھوں اؤن گے

اتوار، 21 اگست، 2011

هدوانے


لذتوں کی تلاش میں لذتیں ملتی هی رهتی هیں
لیکن منزلیں مارتے هوئے بندے کو پرانی والی لذتیں یاد اتی هیں اور بھلی لگتی هیں
اسی لیے اپنے گاؤں کے ایک شاعر تھے جی
عبدلحمید عدم
وه کہتے هیں
جوانی ڈھلنے په مائل هو جس حسینه کی
وه اپنے یار پرانے تلاش کرتی هے
بڑی فقیر طبیت هے عدم تیری
یه رانوں کے سرهانے تلاش کرتی هے
اخر والے مصرع پر میرا ایک یار ہے
محمد رمضان عرف بوٹی
وه کها کرتا تھا
که
آہو جی !!!ـ فقیر طبیت جو هوئی
اپنی حالت هےکه شروع جوانی کی وه لذتیں یاد اتی هیں
جن کو بس ایويں سا هی سمجھ کر چھوڑ دیا تھا
که
اب دل مانگے
کوئی موڑ هو که وهیں چلے جائیں
لیکن
پیروں میں اتنے بھنور لیے هوئے هیں که اب
گھمن گھیریاں کھا کھا گھن چکر هو گئے هیں که
مزے کا احساس بھی بدل چکا هے
وه قلفی جو
ایک انے کی اتی تھی اس کا مزه اج کی کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی آئس کریم یا فروزن یوگرٹ میں نهیں هے

هدوانه جس کو تربوز کهتے هیں
هماری مادری زبان ميں اس کا لهجه بنتا ہے دوانا
اسی لیے وهاں گوجرانواله میں ایک دیوار پر لکھا تھا
دل دیا تھا یار کو دیوانه سمجھ کر
کھا گیا الو کا پٹھا هدوانہ سمجھ کر
بڑا منافق کا فروٹ هوتا ہے جی یه هدوانه بھی که
اوپر سے کبھی پورا مسلمان کبھی سیاھ دھاری کے ساتھ هلکا شیعه
اور کبھی پورا کالا کر کے شیعه هو جاتا هے لیکن
اندر سے یه سرخا هی نکلتا هے
کیمونسٹ
بلکل منافق فروٹ هے جی
یهاں جاپان میں اندر سے
پیلے هدوانے بھی نکلتے هیں
که ظاہر میں سبز مسلمان لگتے هیں لیکن اندر سے پیلے
اب جی پیلے کی ٹرم
ان قوموں کے لیے بولی جاتی هے جن کو هماری قوم پھینے کهتی هے
حالانکه
جاپانی پیلے سے زیادھ پنک رنگ کے هیں
هدوانے کے اندر باهر کی بات هے که همیشه منافق هوتا هے
ظاهر اس همیشه مسلمان اور اندر همیشه اس کا
کبھی کیمونسٹ اور کبھی کیمونسٹ نما
یملے سے کسی نے پوچھا که که پاکستانی حکمران هدوانے کی کس قسم میں شامل کرو گے؟؟
اس نے کها
کچے هداوانے کی کیٹاگری ميں
اوپر سے مسلمان
اندر سے انگریز (سفید) ــ
منافق بھی اور فضول بھی
ساری قوم ان هدوانوں کو چیر چير کر دیکھتی ہے اور مایوس هوتی هے اور پھر ایک اور چیرتی ہے اور مایوس هوتی ہے که یه سب اندر سے انگریز هیں
کچے هدوانے
اور پاک مولوی ؟؟
چوها کھائے هدوانے
اندر سے خالی
بلکل خالی

بدھ، 17 اگست، 2011

سہاروں کے متلاشی

ایک سیانے نے بتایا تھا کہ
رن (عورت) اور بدمعاش سہارے تلاش کرتے ہیں
رن کا تو اب نے دیکھا ہی ہو گا کہ کیسے پہلے شادی کی صورت سہارا بناتی ہے اور پھر ساری عمر اس کو کوسنے دے دے کر کمزور کرتی ہے
یا
مار کھاتی ہے
اور بد معاش؟؟
کسی ناں کسی کے سہارے پر ہی چلتا ہے
که اس کی ذہنیت میں چمچہ گیری نامی کوڈ ڈال دیا ہوتا ہے بنانے والے نے ۔

اس نے کچھ لوگوں کو چمچہ بنا کر رکھنا ہوتا ہے اور کچھ کا چمچہ بن کے رہنا ہوتا ہے
رن بھی ہو اور بدمعاش بھی تو؟؟
اس کی مثال یوں سمجھ لیں
کہ

او سر جی ،کچھ ممالک کی سیاسی پارٹیوں کا معاملہ ہوتا ہے کہ
ان کی طبیت بد معاش رن کی طرح کی ہوتی ہے
ہر پارٹی
که ایسے ممالک کی فوج بھی ایک پارٹی ہوتی ہے
جوکہ
حکومت میں ہوں کہ باہر
ان کو امریکہ کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے
یا چین کے کی !!،۔

یا روس کی!۔

ایک خصم جائے دوجا آئے
سیٹ خالی ناں ہو
تعلیم کی یه پوزیشن ہے کہ مغالطے ہی مغالطے پڑھ پڑھ کر
سوچ یه ہے کہ
لیاقت علی خاں کو امریکہ نہیں جانا چاہیے تھا
روس یا چین چلے جانا چاہیے تھا
کہ ان کے اُس دورے کی وجہ سے اج امریکہ
بد معاش رنوں كا خصم بنا بیٹھا ہے
اگر جی لیاقت علی خان
روس یا کہیں اور چلے جاتے تو ؟؟
اس خصم کو کوسنے دینے تھے
کسی نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی بات
سوچنی ہی نہیں ہے
کہ
سوچ کے پر جل جاتے ہیں جی
اتنی اونچائی کی بات سوچتے ہوئے
کہ
خود انحصاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ،۔
امریکه بد معاش نهیں ہے ورنہ
امریکہ بھی ایک سہارے کی تلاش میں ہوتا

امریکه ایک معتبر ملک ہے جس نے سہارے کے نام پر داشتہ بننے کی خواہش مند
اقوام کو سہارا دیا ہوا ہے
اور اپنی قوم کی بھلائی کے لیے ہر کام کرتا ہے
اگرچہ کہ اپنی قوم کی بھلائی کے کام کے دوران داشتہ ممالک کے لوگ مر مرا بھی جاتے ہیں تو؟؟
ہُو کئیر؟؟؟
یه پاکستان ميں کیا رویہ ہے کہ
پاکستان کا ایک خصم ہونا چاہیے
امریکہ اگر جھولی میں جگہ ناں دے تو چین کی طرف دیکھو
یه کیا رنڈی کے جیسے رویه ہے کہ
سہارا ہونا چاہئے۔
قوم کو جھوٹ کی افیم کھلا دی گئی ہے کہ
ہمارا اسلام دنیا کا سب سے اچھا اسلام ہے

ہماری فوج دنیا کی سب سے بہادر فوج ہے
ہم دنیا کی پاک ترین قوم ہیں
کیونکه ہم
استنجا کرتے ہیں
اور جب
حقائق کی تلخی سے اگر کبھی ہوش ایا بھی تو
لیس دار هو جانے والی تشریف کو محسوس کرکے کہیں گے کہ
لسوڑا گر گیا تھا
فیر مغالطہ!!!ـ

اتوار، 14 اگست، 2011

لطیفے الفاظ

جشن آزادی مبارک؟؟
یعنی که جشن کی مبارک دی جارهی هے جی پاکستان میں
چلو جی آزادی کا پلیکھا هی ملا هے
کبھی ازادی بھی مل هی جائے گی
جشن تو اصلی والا ہے ناں جی
معیار چاهے جیسا بھی هو
اور کچھ لوگ ازادی کے مغالطے کا شکار هیں اور همارے جیسے آزادی کی امید میں
اور وه بھی مل جانے کی امید میں
ناں که حاصل کرنے کی کوشش میں

کیسے کیسے الفاظ استعمال کرتے هیں جی پاکستان میں

یاد گار پاکستان؟؟؟
یاد گاریں کن چیزوں یا انسانوں کی بنائی جاتی هیں ؟؟
جو گزر چکی هوں !!ـ
ہے ناں ؟؟
رب خیر کرے جی تہاڈی سمجھ دی

بم دھماکے میں کافی لوگ مارے گئے
کتنے لوگ مر جائیں تو کافی هوتے هیں جی ؟؟؟؟
میری نظر میں تو ایک بھی کافی نهیں هے
مرنا تو دور کی بات مجروح بھی کافی نهیں هے
میرے خیال میں کافی کا استعمال کافی سے زیادھ هو چکا هے
اب وی چھڈو جی

باقی کے الفاظ معنی
آہنی هاتھ
جو ان کو دیا هوا هے امریکه نے

نپٹنا
لمیاں هی پے جانا

اجازت ناں دینا
نکلتے هوئے پیشاب کو روکنے کی کوشش

محفوظ هاتھ
امریکی حکومت

قومی سلامتی
فوجی جرنیلوں کی جائیداد کا تحفظ

نظریاتی سرحدیں
فوج کے خرچے کا آڈٹ

عالم اسلام
چنده اکٹھا کرنے کا منتر

غیر ملکی هاتھ
مٹی پاؤ جی مٹی پاؤ

پاکستانی وزارت خارجه کے ایک افسر سے بات هو رهی تهی
که میں نے پوچھا
اپ کو علم هے که بلاگ کیا هوتا ہے؟؟
اس کا جواب تھا
هاں کیوں نهیں !!ـ
وهی ناں که جو لوگ فارغ بیٹھے کچھ
لختے رهتے هیں

Popular Posts