جمعرات، 30 اکتوبر، 2008

اشتہار

جاپان سے ردی کاغذ امپورٹ کرنے کی بات هو رهی تھی کسی دوست سے انٹر نیٹ پر که فون پر اب یاد نہیں آ رها که کس سے !ـ
اگر مجھے یاد آجاتا تو میں اس دوست سے رابطه کرنا چاهتا هوں که اب هم جاپان سے کاغذ بھیج سکتے هیں !ـ
اس وقت همارے پاس رسالوں اور اخبار کی ردی موجود ہے جس میں تھوڑا سا پلاسٹک چڑھا کاغذ اور کارٹن گته شامل ہے ـ
فوری طور پر هم چھ هزار ٹن ردی دے سکتے هیں ـ
اگر کوئی دوست اس معاملے میں دلچسپی رکھتا هو تو میرے ساتھ رابطه کرلے ـ
ہم بہت هی مناسب قیمت پر اس کو کسی بھی ملک کے لیے کارگو کرواسکتے هیں ـ
اس کے علاوھ کارٹن کا گتّه بھی ہے جتنا که کوئی چاهے ـ
ہم یه ردی فوراً بیچنا چاهتے هیں ـ
یعنی که انے والے تین هفتوں میں اگر معاهدھ هو جائے تو اچھا ہے ـ
میرا ای میل
ellha@yahoo.com

میل کرنے پر میں فون نمبر بتا دوں گا اور پھر فون پر بات هو جائے گی

هندوستان اس کاغذ کی اچھی مارکیٹ هو سکتا ہے ـ

اتوار، 19 اکتوبر، 2008

هار جیت

ایک جاپانی جوڑا غالباً اکیاسی کی بات ہے یا اسی کی دھائی کے کسی سال کی که امریکه کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس سیر کے لیے گیا ـ
وهاں ان کے ساتھ ایک حادثه هو گیا که ان کو ڈاکو پڑ گئے اور
اس ڈاکے کے دوران فائرنگ میں خاتون کو گولی لگ گئی جس سے اس کا انتقال هو گيا ـ
مرنے والی خاتون کا نام تھا مے گُمی
اور اس کے خاوند کا نام تھا می یو را (فیملی نیم) !!ـ
مے گمی کے والدین نے اس کے خاوند می یو را پر مقدمه کر دیا که اس نے ایک سازش کے تحت ڈاکے کا ڈرامه کر کے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے
جاپان میں یه کیس بڑا مشهور هوا تھا
جاپانی پولیس کی تحقیقات کے مطابق جاپانی عدالت نے می یورا کو دو هزار تین میں اس کیس سے بری کر دیا که می یورا بے گناھ ہے ـ

می یو را ایک کمپنی کا مالک ایک ممتول آدمی تھا
می یو را اس کیس میں بری هونے کے بعد پچھلے دنوں یعنی دوهزار آٹھ میں میکرو نیشیا کے جزائر کے ایک جزیرے سائپان کو سیر کے لیے گیا
جہاں اس کو مے گمی کے قتل کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا ـ
میکرو نیشین جزائر کے جزائر گوام اور سائیپان امریکه کی ٹیروٹیری هوتے هیں
یاد رہے ٹیروٹری ناں که ریاست !!ـ
یہاں کا سربراھ اعزازی طور پر امریکه کا ایم پی هوتا ہے ـ
کرسٹل کی طرح چمکتا هوا سمندر کا پانی اور چینی جیسی سفید ریت والے بیچ سیاحوں کے لیے ایک کشش رکھتے هیں ـ
میں بھی اپنی آوارھ گردی کے دنوں میں ان جزائیر میں کچھ وقت گزار چکا هوں !ـ
بارش ایسی که جیسے کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی هو اور دس منٹ میں یه بارش ختم اور دھوپ ایسے نکل؛تی هے که کیا کبھی بارش هوئی هو گی
هریالی ایسی که جیسی خط استوا کے ممالک میں هوتی هے ـ
لیکن جونکیں اتنی که سڑک کے دونوں کنارے لہو لہان هوئے هوتے هیں ان جونکوں کے ٹائیروں کے نیچے کچلے جانے سے !ـ
ان جزائیر کی اکنامک جاپانی سیاحوں کی بدولت ہے
جاپانی یہاں غسل افتابی کے لیے تو اتے هی هیں اس کے علاوه
جاپان میں کسی بھی شہری کو اسلحه رکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اسلحه چلانے کے شوقین لوگ یہاں شوٹنگ کلبز میں اسلحه چلا کر اپنا شوق پورا کر لیتے هیں ـ
ڈیوٹی فری شاپنک بھی هو جاتی هے
اور
پورنو ویڈیو کی انفرادی خریداری بھی ـ
کیونکه جاپان میں پورنو ویڈیوں میں عورت اور مرد کی پیشاب والی جگه سنسر کردی جاتی هے
لیکن امریکه میں ایسا نہیں هوتا
اس لیے جاپانی سائیپان وغیرھ سے ایسی ویڈیو خرید لاتے هیں اور جاپانی کسٹمز کا رویه بھی انفرادی شوق رکھنے والوں کے ساتھ سخت نہیں هوتا
اس لیے ایک دو ڈی وی ڈی پرکسٹم والے اعتراض نہیں کرتے ـ
تو جی
مسٹر می یو را سائپان کی سیر کو گئے اور گرفتار هو گئے که لاس اینجلس پولیس کو دو دھایاں پرانے اس کیس میں کچھ ایسے شواهد ملے هیں که ان پر می یو را کو
گرفتار کر کے عدالت میں پيش کیا جاسکے ـ
اب بقول مسٹر می یو را ان کے ذهن میں دور دور تک بھی یه خیال نہیں تھا که سائیپان بھی امریکه ہے
گرفتاری هے بعد دو تین مہینے اس بات پر گزر گئے که می یو را پر کیس سائیپان میں هی چلایا جائے یا لاس اینجلس میں جہاں که واردات هوئی تھی ـ
اخر کار اکتوبر کے دوسرے ہفتے ان کو سائیپان سے براسته هوائی لاس اینجلس لے جایا گیا
که ان کو عدالت میں پیش کیا جا سکے
لاس اینجلس پہنچتے هیں مسٹر می یو را لاس اینجلس پولیس کے ساتھ ھاتھ کر گیا !!ـ
اپنے ساتھ کچھ بھی هو جائے مسئله نہیں هے دشمن کی جیت نہیں هونی چاهیے ـــــــ
جان پر کھیل کر دشمن کو هرانے کی روایت جاپانوں نے هی ڈالی تھی دوسری جنگ عظیم میں ـ
تو می می یو را نے بھی خود کشی کرکے عدالت میں ناں پیش هو کر ، لاس اینجلس پولیس کو هرا دیا هے که
ٹھینگا دکھا گیا جی می یو را لاس اینجلس پولیس کو جو اس کے ساتھ جو کرنا چاهتی تھی وه می یو را نے ان نہیں کرنے دیا ـ
جاپانی خود کشی کے لیے ایک طریقه استعمال کرتے هیں
اپنی زبان کاٹنے کا
که بڑے حفاظتی انتظامات میں بھی اپنی زبان کو دانتوں میں لے کر اپنی تھوڑی پر نیچو سے مکه مار کر اس کو کاٹ کر کھا جاتے هیں اور بہنے والا خون بھی پی جاتے هیں جس سے ان کی موت واقع هو جاتی هے
مگر می یو را نے
یه طریقه استعمال نہیں کیا هے بلکه
می یو را جھو ل گیا جی گلے میں کچھ ڈال کر
میں رهوان نا ناں رهواں تینوں جیتن نہیں دیاں گا !!!ـ
اور اب می یو را کا وکیل لاس اینجلس پولیس کو گھسیٹے
'' او'ے تسی کردے کی سو پئے ؟؟؟''

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2008

سیاست اور گدی کا فرق

جاپان میں پاکستانیوں ميں اج کل بڑی هی ایکٹو ایک سیاسی جماعت (جاپان میں غیر قانونی)کے کچھ لوگوں سے فرداً فرداً گفتگو کا اتفاق هوا ـ
تو دوران گفتگو اساس هوا که سیاسی اور جمہوری پارٹی کے عہدھ داران کہلوانے والوں کو جمہوریت کی انتہائی بنیادی باتوں کا بھی معلوم نہیں ہے ـ
میں جن دوستوں کا یہاں ذکر کرنے جارها هوں ان کے خلوص نیت پر مجھے کوئی شک نہیں هے مگر ان کے علم پر ـ
جاپان کی مختلف کین (ڈویژن) میں آپ نے پاکستانیوں کو عہدے بانٹے جارہے هیں ان میں سے گنماں کین کے ایک عہدے دار کے ساتھ اویاما کے اوکشن میں بیٹھے تھے اور گفتگو اس بات پر چل نکلی که ان عهدوں کی حثیت کیا ہے ـ
جب مجھ سے میرے خیالات پوچھے گئے تو میں نے بتایا که جی اپ کے سارے عہدے فضول هیں کیوں که یه کسی ایلکشن سے نہیں بنے بلکه سلیکشن سے بنے هیں
تو ہمارے اس دوست کو معلوم هی نہیں تھا که پارٹیوں کے اندر بھی الیکشن هوتے هیں ـ
تو میں نے ان کو بتایا که جی اصولی طور پر هو پارٹی کے ورکر ایک ورکر کے طور پر رجسٹرڈ هوتے هیں
اور ان ورکروں کو آپ اپنی جماعت کے ووٹر سمجھ لیں
ان ورکروں میں سے کچھ لوگ عهدوں کے لیے کھڑے هوتے هیں اور باقی کے پارٹی ورکر ان کو ووٹ دے کر الیکٹ یا ریجکٹ کرتے هیں ـ

اور اصولی طور پر هر پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق ایک ایک عرصه مخصوص کرنا هوتا ہے جس کے بعد اس پارٹی کی انتظامیه تبدیل هو جاتی ہے ـ
دوسرے دوست وه هیں جو که تھوچیگی کین میں رهتے هیں اور اس پارٹی میں اس وقت بھی شامل تھے جب اس پارٹی کے گدی نشین (اچھے لفظوں میں پارٹی لیڈر کہـ لیں )خاکی ولوں کے زیر عتاب تھے
یعنی که ایک مخلص ورکر!ـ
هم پاکستانیوں نے اپنی جمہوری پارٹیاں کہلوانے والی جماعتوں کو صرف ایک هی رنگ میں دیکھا ہے که ایک صاحب یا صاحبه کدی نشین هوتی هیں
اور تاحیات هوتی یا هوتا ہے هے ـ
اور پارٹی ان کی روحانی ملکیت هوتی ہے
اور ورکر ان کے مرید هوتے هیں اور ان مریدوں کو جس طرح پیران لوگ اپنے خلیفے چن لیا کرتے تھے ان کو سیکرٹری وغیرھ کا نام دے دیا کرتے هیں ـ
ٹوٹلی اپ دیکھیں گے که سارا سلسله ان روحانی سلسلوں کی طرح کا ہے جو برصغیر میں اسلام کے انے کے ساتھ ساتھ هی چل رہے هیں ـ
پیر صاحب کی بجائے لیڈر صاحب هیں
گدی کانام پارٹی قیادت ہے ـ
پیر صاحب کی منزل رب کی رضا هوتی تھی اور مریدان کی اس میں سے کچھ حصه ملنے کی
اور خلفاء صاحبان کو چندے میں سے ان کا حصه ملتا تھا ـ
اور پارٹی لیڈر کی منزل اقتدار هوتا ہے اور سیکرٹری لوگوں کی اس میں حصه ملنے کی ـ
سیاسی ورکروں کو ادھر ادھر پلاٹوں پرمٹوں وغیرھ کو شکل میں حصه مل جاتا ہے ـ
روحانی سلسلوں میں گدی نشین کا ورثه اس کو اولاد کو ملتا ہے
جو که عموماً اس وارث کو جواب میں بشارت کی شکل میں هوتا ہے
اور سیاسی پارٹیوں کی گدی بھی پارٹی لیڈر کی اولاد کو هی ملتی هے
وصیت کی شکل میں
اور یه وصیت پارٹی لیڈر کی موت کے دو دن پہلے کی لکھی بھی هو سکتی ہے ـ
آج کی پوسٹ کو یہیں ختم کرتا هوں
اور اللّه سے دعا کرتا هوں که هماری قوم کو چیزوں کو ڈیفینیشن مقرر کرنے کی سمجھ بوجھ دے ـ

ہفتہ، 27 ستمبر، 2008

رمضان دوهزار آٹھ

اج کچھ حال بیان کیا جائے گا اس مسجد کا جو واقع هے جاپان کے شہر تاتے بیاشی میں ـ
نام ہے اس مسجد کا مسجد قبا ـ
ناظم هے جو اس مسجد کا شوقین ہے بہت کھانے کا ـ
اور اس سے بھی زیادھ کھلانے کا ـ
ساتھی هیں اس ناظم کے زیادھ تر مہمان نواز اس لیے انتظام هوتا ہے اس مسجد میں جو روزے کی افطاری کا وه اپنی مثال میں نرالا ہے ـ
لگتا هے ایسے که بیٹھے هیں کسی ریستوران میں ، کھانے هیں که ائے چلے جاتے هیں ـ
احوال اس مسجد میں ایک افطاری کا بیان کرتے تصاویر کے ساتھ
دیکھیں اس تصویر کو

نہیں هے یه مورت کسی کریانے کی دوکان یا بھٹیارے کے مکان کی ـ
تصویر هے یه ایک کونے کی مسجد کے باورچی خانے کی ـ
بیٹھا ہے ایک ورکر نام ہے اس کا اصغر سامنے ایک الماری کے جو بھری پڑی ہے مسالوں سے ـ

دیکھیں یه مورت


که پانچ بندے کاٹ رهے هیں صرف فروٹ کو ، دیا جائے گا جو که افطاری میں روزھ داروں کو ـ

نہیں ہے وقت ڈار صاحب کے پاس پوز بنانے کا بھی فوٹو کے لیے ـ

یه هیں جی


پکوڑے چوزے کی ٹانگوں کے ـ

اور

تھاک بھرا ہے پکوڑوں کا کھانے کے لیے روزھ داروں کے ـ


سمو سے هیں که ابھی تلے نہیں هیں مگر جائیں کے پیٹ میں روزھ داروں کے اور باعث بنیں کے جلن کا سینے کی اور روزگار چلے گا ڈاکٹر کا ـ



پیکنگ هو رهی هے مٹھائیوں کی منگوائی گئیں هیں سات سمندر پار کے ملک پاکستان سے که روزھ افطار کریں مومن اور خود کفیل هوں شوگر میں ـ

بانٹ رہے هں ورکر لوازمات افطار کو ـ




ایک منظر یادگاری مسجد قبا کا سال دو ہزار آٹھ کے رمضان کا که روزھ دار بیٹھے هیں انتظار میں افطار کرنے کے ـ


یه ایک ایک تھالی دی گئی هر روزھ دار کو ،
شامل هیں اس میں پکوڑے بیسن کے اور چوزے کے کچھ دانے کھجوروں کے اور نمک پارے هیں اور دسیوں قسم کے فروٹ هیں ساتھ دهی مسالے دار کے ـ
لیکن اگر روزھ دار ختم کرلے اس خوراک کو تو اور لے سکتا ہے
نہیں هے کوئی مضائقه اس بات میں که کھانا بہت ہے ـ

اور یه ہے سارا بیان صرف افطاری کا ، نہیں ہے بیان اس میں اس کھانے کا جو دیا جائے گا بعد تراویح کے ،
تفصیل اس کھانے کی اگر اختصار میں کروں تو هوگا بریانی اور روسٹ گوشت کے ساتھ ، پینے کو هو گا کھوا ملا دودھ جس میں ملائے جائیں گے کچلے هوئے بادام اور دوسرے مغزیات یعنی پسته ، چہار مغز وغیرھ ـ
رب مہربانی کرئے معدوں پر مسلمانوں کے اور دے ان کو پچانے کی طاقت که بسایر خوری میں یکتا هیں زمانے میں یه لوگ ـ

جمعہ، 26 ستمبر، 2008

بخیل سیٹھ

دولت کے پجاریوں کے لیے امیر ادمی دیوتا مانند هوتـےهیں ـ
اور دولت کے پجاری ان کی تعریف میں کافی ایکٹو هوتے هیں ـ
سیٹھ صاحب بڑے چنگے بندے نیں ـ
سیٹھ صاب بڑے دهیالو نیں ـ
نمازیں پڑھ پڑھ کر ان کے متھے پر محراب بن گيا ہے ـ
لیکن
هر نماز میں سیٹھ صاحب ٹوپی تو پہن کر آتے هیں مگر پہلے هی سجدے میں اس کو سر سے گرا دیتے هیں جو که عموماً امام صاحب کی ایڑهیوں کے پاس گرتی هے تاکه باقی کے سارے نمازیوں کو معلوم رہے که سیٹھ صاحب بھی نماز میں کھڑے هیں ـ
ریاکاری بھی دولت کے پجاریوں کو سیٹھ صاحب ک ادا نظر اتی ہے ـ
لیکن اہل نظر کی بات کچھ اس طرح ہے که
سیٹھ صاحب کی ساری فیملی ڈنگروں کی تجارت کرتی ہے
میں بھی ڈنگروں کی تجارت میں انا چاهتا تھا
مگر ڈنگرں کی قیمت کا تعین نہیں کر سکتا تھا
اس لیے میں نے سوچا که اپنے سیٹھ صاحب کو فیملی کے افراد مجھے عرصه تیس سال سے جانتے هیں
اور کافی اچھے لوگ کہے جاتے هیں
ان سے پوچھ لیا جائے تو معلومات دے هی دیں گے ـ
جمعه کی نماز سے فارغ هو کر میں نے سیٹھ صاحبان سے پوچھا که میں بھی اس کاروبار میں انا چاھتا هوں اور مجھے اپ کے تعاون کی ضرورت ہے
اگر آپ مجھے قیمتوں کا تعین کرنے میں مدد کر دیں تو آپ کی مہربانی هوگی
سیٹھ صاحبان نے میری یه بات چلتے چلتے سنی ان سنی کی اور چلتے هوئے گاڑی میں بیٹھ گئے
اور چھوٹے سیٹھ صاحب نے گاڑی کا شیشه کھو ل کر بے دھیانی کی سی کیفیت میں میری طرف دھیان کر کے سنتے رهے ـ
میں نے سمجھا که اپنی مصروفیت کی وجه سے میری طرف دھیان ناں دے سکے مگر سیٹھ صاحب کافی چنگے مشہور هیں
مجھے معلومات دینے میں بخیلی نهیں کریں گے
اس لیے میں جب کہیں ایک ڈنگر خریدنے کے لیے گیا تو میں نے سیٹھ صاحب کو فون کر کے پیچھا که اس طرح کے ڈنگر کی مارکیٹ ویلیون کیا هے ؟؟
تو سیٹھ صاحب نے فرمایا که یه ڈنگر تو هميں لگتا هی نہیں هے
اس لیے کسی اور سے پوچھ لو ـ
اسی طرح کتنی هی دفعه هوا که میں جس ڈنگر کا پوچھتا وهی سیٹھ صاحب کو نہیں لگ رها هوتا تھا ـ
میں نے ان کو کہا که جی سیٹھ صاحب اپ کا اس کاروبار اس علاقے میں کافی بڑا نام ہے
اپ مجھے معلومات دے دیا کریں آپ کی مہربانی هو گي ـ
تو سیٹھ صاحب نے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے کہا که یار تم منڈی جایا کروں ـ
لو جی مجھے سمجھ آگئی که جی سیٹھ صاحب کافی سے زیادھ بخیل واقع هوئے هیں اس لیے میں نے ان سے پیچھنا چھوڑ دیا بلکه کسی بھی معاملے میں ان کوتکلیف ناں دنے کا فیصله کر لیا
مگر
سیٹھ صاحب کو اپنے پیسے کا رعب جمانے کا کافی شوق ہے میں اس بات سے بھی واقف تھا مگر مجھے ان سے
پیسے نہیں معلومات چاهیے تھیں ـ
اب مسجد میں یا پھر کسی دوکان میں ملاقات تو هو هی جاتی هے ناں جی ایک هی علاقے میں رھتے هوئے ـ
میں نے ایک دوکان سے خریدداری کی اور بڑے سیٹھ صاحب وهاں کھڑے تھے
انہوں نے فوراً میري فریداری کی ادائیگی کی پیشکش کر دی جو که میں نے بڑی شائستگی اور سختی سے رد کر دی ـ
لیکن مجھے انسلٹ کا احساس هوا که که سیٹھ صاحب نے میری غریبی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی هے
که مجھے جس چیز کی ضرورت تھی وه تو ان کے پاس هونے کے باوجود مجھے دی نهیں اور پیسے خرچ کر کے
لوگوں کی ٹکے ٹکے کا هونے کا احساس دلوارہے هیں ـ
انهی دنوں اپنے مشرف صاحب نے پاکستان میں ایمرجنسی لگا دی
یں نے سیٹھ صاحب سے پوچھا که جی اپ کا کا کیا خیال ہے اس معاملے میں ؟؟
تو جی سیٹھ صاحب نے منه توڑ جواب دیا
اؤے مینوں سیاست وچ کوئی دلچسپی نہیں ہے !!ـ
لو جی گل ای مک گئی
فٹبال ایسوسی ایشن کے صدرهونا تو باکل هی غیر سیاسی عہدھ هو گا
مسجد کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصه لینا اور ان کی کتنی سیاسی باتیں مجھے یاد آ گئیں
اور میں نے سوچا که جی سیٹھ صاحب انسلٹ کرنے کے بھی کافی سے زیادھ ٹیکنیکل ایکسپڑ هیں ـ
مین نے ان کی ایک اور بات کا بهت مشاھدھ کیا که
که سیٹھ صاحب هر ادمی کو اتنی هی گھاس ڈالتے هیں جتنا وه ان کے لیے کارآمد هو سکتا ہے !ـ
اب سیٹھ صاحب کی اس عادت کی روشنی میں سیٹھ صاحب میرے لیے تو کار آمد بندے هیں نہیں اس لیے میں نے بھی ان کو گھاس ڈالنی چھوڑ دی ـ
ایک دن کا ذکر ہو که جمعه کا روز تھا
جمعه کی نماز کے بعد میں نے مولوی صاحب کو کلفی کھانے کی دعوت دی
مولوی صاحب کے ساتھ ایک اور باباجی بھی تھے انہوں نے کہا که جی کلفی نہیں ہمیں روٹی کھانی ہے
مجھے تو خوشی هوئی که چلو کسی کو کھانا کھلانے کا موقع ملے گا
میں ان بابا جی اور مولوی صاحب کو لے کر ایک دوکان پر چلا گیا جہاں سیٹھ صاحب اپنے کچھ حواریوں کے ساتھ پہلے هی بیٹھے تھے
اب جی سیٹھ صاحب نے کیا کیا که اٹھ کر بڑی گرم جوشی سے تو مولوی صاحب کو ملے اور هم دونوں کو رسمی طور پر
اس کے بعد صرف مولوی صاحب کو اپنی ٹیبل پر ساتھ بٹھانے کی کوشش کی تو میں نے کہا که
جی سیٹھ صاحب
اب جب مولوی صاحب میرے ساتھ ائے هیں تو ان کو میرے ساتھ هی بیٹھنے دیں ـ
بہرحال کھانا کھا کر جب میں بل دینے لگا تو پته چلا که جی سیٹھ صاحب نے پلے هی بل دے کر میرا بچھایا دستر خان ''هائی جیک '' کر لیا ہے
میں نے دوکان دار کو کہا که تم ان کے پیسے واپس کرو میں اپنے پیسے خود دوں گا ـ
لیکن اس بات کا سیٹھ صاحب بھی برا منانے لگے
جب میں نے اصرار کیا
تو فرمانے لگے
که
جب تم اکیلے هو گے تو اپنا بل خود دے لینا ـ
مجھے بڑا دکھ هوا که مجھے یه بھکاری سمجھ رہے هیں جس کو پیسوں کی ضرورت ہے اور کچھ ٹکوں میں اس پر احسان کر رہے هیں
جس چیز کی مجھے ضرورت تھی یعنی معلومات کی اس میں تو یه سیٹھ صاحب انتہائی بخیل واقع هوئے که کہیں خاور بھی کاروبار کر کے پیسے والا ناں بن جائے
که اگر کوئی اور پیسے والا بن گیا تو ان کا فخر ' پیسا '' کسی اور کے بھی پاس آ جائے گا
اور اسطرح تھوڑے تھوڑے پیسے خرچ کر کے دولت کے پجاریوں میں دیوتا بنے بیٹھے هیں
وهاں ایک اور دیوتا کا اضافه پجاریوں کی کمی کا باعث بنے گا ـ
ایک عام ادمی سوچتا ہے که سیٹھ صاحب نے میرے کھانے کا بل دے کر میری عزت افزائی کی ہے مگر مجھے اس بات سے بے عزتی کا احساس هو رها ہے که سیبھ صاب هینڈ کر گئے
کیا خیال ہے جی اپ لوگوں کا بیچ اس بات که که میں غلط هوں ؟؟
بڑی باریک بات ہو یه خود کو ایک خوددار بندے کی جگه رکھ کر جواب دیں که کیا یه ایک معتبر بندے کی انسلٹ نہیں ہے کیا ؟؟؟

بدھ، 10 ستمبر، 2008

اپنے من میں ڈوب

بھگت کبیر کا ایک شعر ہے
تن مٹکی ، من دھی ، سرت بلوھن ھار
کبیرا ماکھن کھا گیو چھاچھ پئے سنسار

جسم کو آگر ایک مٹکا سمجھیں تو دل کو دھی اس جسم کے مٹکے میں دل کے دھی کو ڈال کے عقل کی مدانی سے بلوھنے والے اس واردات کو کرکے مکھن خود کھا گئے اور لسی بیچارے لوگوں کے لیے رھ گئی ـ

میں ذولفقار بھٹو کو پسند کرتا هوں که اس کے دور میں غریب کو اپنی طاقت کا احساس هوا بھٹو بڑا بندھ تھا جی که تن کی مٹکی میں من کا دوھ بھی تھا اور بلوھنے والی عقل بھی اور یارو بھٹو خود تو سولی پر چڑھ کر لوگوں کے دلوں میں زندھ رھ جانے کا ماکھن خود کھا گیا ور اب
باقی بچی لسی اس کو بیٹی نے بھی پی اور اس کا جنوائی بھی پی رها هے
اگر بھٹو کی بلوهی هوئی لسی ناں هوتی تو کیا بے نظیر بے نظیر بن پاتی یا پھر زرداری صاحب کے زر کے طرح داریاں هوتیں ؟؟
اس کے بعد میں پسند کرتا هوں نواز شریف کو که اس کے پہلے دور میں پیلی ٹیکسی اور غریب کو قرضے دینے کے عمل نے لوگوں كو ایک طرح کی اسائیش دیکھائی تھی ـ
بعد میں تو جی بھاری مینڈک نے پھدک پھدک کر وه حال کیا که بقول منو بھائی کے پندرھویں ترمیم کی کوشش میں تھے که امیر المومنین هی بن جائیں ـ
پاکستان میں سیاست چالاکی اور عیاری کا نام بن کر رھ گئی هے
جمہوریت کے معنی هی بدل دیے گئے هیں
الکشن کو تو برداشت هی نہیں کیا جاتا
بس سلیکشن کی بات هوتی هے
اور مزے کی بات ہے که سب سے بڑا بھی اپنی سلیکشن کے لیے امریکه بادشاھ کے سامنے زانو تلمند هوتا ہے ـ
پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنے اندر عہدوں کی تنظیم کے لیے الیکشن کرواتی هی نہیں هیں ـ
بس جی گدی نشین صاحب (چئیر مین) جس کو سلیکٹ کر دیں وهی وه هوتا ہے جو اس کو بتادیا جاتا ہے ـ

اس دفعه کے ایلکشن کے بعد نواز شریف کی سیاست تو بڑی سیاست تھی که ججوں کی بحالی پر زور دے رہے تھے اور ایک اسی ایشو پر اتحاد بھی بنالیا تھا
جسٹس افتخار چوھدری صاحب کو ریپوٹیشن کچھ انصاف کرنے والے جج کی هے اور هیں بھی !!!ـ
اس لیے نواز شریف کی سیاست تھی که اگر افتخار چوھدری بحال هو جائے تو یه جج خود هی سوموٹو ایکشن لے کر مشرف کا وه ارڈنینس ختم کر دو گا جس کی رو سے زرداری صاحب '' پاک صاف هو گئے هیں ـ
اور اگر ججوں کی بحالی میں زرداری صاحب ٹال مٹول کرتے هیں تو بھی نقصان زرداری صاحب کا که مقبولیت میں فرق پڑے گا ـ
لیکن جی زرداری صاحب چھا گئے هیں
که ان کو معلوم تھا که پاکستان میں مج(بھینس) اس کی هوتی هے جس کے ھاتھ میں ڈانگ(لاٹھی) هوتی ہے
اس لیے انہوں نے اپنے لیے صدر پاکستان کا عہدھ مانگ لیا جی سلیکشن کرنے والوں سے !ـ
صدر جس کے پاس آٹھ ونجوں کی ٹوپی (آٹھونجا ٹو بی) بھی هے ـ
اب جی ساری مجوں(بھینسوں ) پر تو جی ڈانگ والے صدر صاحب کا قبضه هو گيا
باقی سارے اب کہیں کے که میری مج (بھینس) بوری (سفید) تھی ـ
اپنی اپنی مج بوری(مجبوری) کا رونا هو گا
اور کہتے پھریں گے که جی یه هماری مج بوری تھی اور وه اس کی مج بوری تھی پر یارو اب مج کالی هو یا مج بوری ان پر اٹھ ونجوں کی ٹوپی کا اور صدارت کی طاقت کا معامله ہے

کسی بندے نے اپنی ایک فیکٹری پر اپنے سالے کو مینجر رکھا هوا تھا
جو که منافع میں ڈنڈی مارا کرتا تھا
اخر کار جب مالک کو معلوم هوا تو اس نے اپنے سالے کو نوکری سے نکل جانے کا حکم دیا
اور کبھی منه ناں دیکھانے کا وغیرھ وغیرھ
سالا کہنے لگا که جی میں رات کو گھر پر آؤں گا اور باجی کے سامنے اپ سے بات کروں اپنی صفائی میں
رات کو سالا صاحب گھر گئے اور اپنی صفائی میں یه کچھ اس طرح بات کی
که جناب بھائی جان آپ بتائیں که جیسا اپ جانتے هیں میرے پاس اپنی کوٹھی ہے کار ہے ایک بڑا بینک بیلنس ہے
بازار میں کچھ پراپرٹی خرید کر دوکانیں بھی کرایے پر دی هوئی هیں ـ
که هر طرح سے میں ایک خوش حال زندگی گزار رها هوں
اور میں نے یه سارا اپ کی فیکٹری کی کمائی سے هی بنایا هے
اب اکز اپ مجحے نكال دیتے هیں اور ایك نیا مینجر رکھتے هیں تو جناب اس مینجر کو یه سب نئے سرے سے بنانا پڑے گا
اور وه نئے سرے سے ڈنڈی مارے گا
تو جناب اپ مجھے هی مینجر رہنے دیں
که میں اتنی ڈنڈی نہیں ماروں گا جتنی که ایک نیا والا مینجر ـ

تو جی اس حکایت کی روشنی میں دیکھیں تو جی زرداری صاحب کے پاس پاکستان کا دیا سب کچھ ہے اس لیے هو سکتا ہے که اب یه صاحب ڈنڈی ناں ماریں که پہلے هی '' رجے '' هوئیے هیں ـ
سب سے بڑی بات یه هے که فوجی تو نہیں هیں ناں جی ؟؟
لیکن
یارو
امریت سے جان چھوٹی ہے اور استعمار کے پنجے میں پھنس گئے هیں ـ
میری قوم کی بد قسمتی هے که ان کو جمہوریت کی تعریف بھی معلوم نہیں هے ـ
استعمار کو جمہور کے نمائندے سمجھ کر مج بوری کی لسی پئے اونگھ رہے هیں ـ
بس جی میری وی مجبوری اے !!ـ

جمعرات، 4 ستمبر، 2008

فلماں

مرزا صاحباں کا منظوم قصه تو معلوم هی ہے سب کو
جس اخیر اس طرح هوتا ہے که مرزا کو صاحباں کے بھائی جھنڈ کے نیچے جان سے مار دیتے هیں
اس وقت جن مرزا اور صاحباں '' وصل '' لذت اٹھا کر سوئے پڑے هوتے هیں

اس ویڈیو میں شاعر کی سوچ کی پرواز دیکھیں که ان دونوں کا مرنے بعد کا مکالمه لکھ رها ہے
مجھے بڑا اچھا لگا جب مرزا کہتا ہے که
اگر میرے بھٍ بھائی ساتھ هوتے تو میں بھی موت کو مذاق کرتا ـ


یملا جٹ کا وه مشہور گانا جو هر پنجابی نے عمر کے کسی ناں کسی حصے میں سنا هو گا
دس مین کی پیار وچوں کھٹیا ؟؟
اسی گانے کو بڑھاپے ميں کاتے هوئے جٹ کی سانس ساتھ نہیں دیتی که لے کو اٹھا سکے مگر
مزا اگیا
یملا جٹ



شیو کمار بٹالوی پنجابی کے ایک درد بھے شاعر
پاک بنجاپ مین ان کو کم هی لوگ جانتے هیں
لیکن اس بات سے شیوکمار کی عظمت پر کوئی فرق نہیں ہے



لو جی اے ایک گانا ہے کهشاید هی آپ نے سنا هو گا
پنجاب کا ایک یه بھی رنگ هے روشن خیال سا
گانا سارا سننا ہے

اتوار، 31 اگست، 2008

وکی پیڈیا کے لیے دعوت

وکی پیڈیا
ایک انسائکلوپیڈیا ہے جو بہت سی زبانوں ميں معلومات مہیا کرتا ہے
اس انسائکلوپیڈیا میں اردو کا وکی پیڈیا بھی هے !!ـ
کیا آپ نے کبھی اس سا'ییٹ پر ایکسس کیا ہے ؟؟؟؟
http://ur.wikipedia.org/wiki/
نہیں !!!ـ
تو جی پھر میں کہنے پر مجبور هوں گا که اپ ابھی تک ایک دنیا کی سیر سے محروم رہے هیں ـ
آپ ایک دفعه اس پر وزٹ کر کے دیکھیں آگر اپ ایک علم دوست شخصیت ہیں تو اپ اس سے ضرور متاثر هوں گے
وکی پیڈیا پر اردو ٹیکسٹ کے نام سے ایک بہت هی فعال اور گم نام رکن هیں
جی اردو ٹیکسٹ صاحب
انہوں نے اج میل کی ہے وکی کے سارے ممبران کو جو که مجھے بھی وصول هوئی ہے
یه الفاظ اپ کو بھی مخاطب کر رهے هیں ـ

اردو ویکیپیڈیا ایک ایسی ویب
> سائٹ ہے کہ جہاں مختلف علوم پر
> بکھری ہوئی
> معلومات کو نا صرف یکجا کرنے کی
> کوشش کی جارہی ہے بلکہ ان میں
> اضافہ بھی
> کیا جارہا ہے۔
>
> وکیپیڈیا کی روایت کے مطابق 10000
> مقالات کی تعداد کو دنیا بھر میں
> تیسرے
> درجے پر فائز کیا جاتا ہے۔
>
> اردو جاننے والوں کے لیۓ اس سے
> بہتر تحفہ کیا ہوگا کہ اردو زبان
> کو دنیا
> پھر میں جاری اس مقابلے میں تین
> اولین درجات میں پہنچادیا جاۓ۔
>
> کسی بھی قوم کا تشخص اور قوم کی
> ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے
> کہ وہ
> قوم علم و عمل کے میدان میں کس طرح
> کے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتی ہے،
> اور
> اردو وکیپیڈیا آپ کو وہ موقع
> فراھم کرتا ہے کہ جہاں آپ نا صرف یہ
> کہ علمی
> میدان میں عملی طور پر باآسانی
> اردو کا تشخص اجاگر کرسکتے ہیں
> بلکہ خود
> اپنی شناخت بھی بنا سکتے ہیں۔
>
> 1- ویکیپیڈیا ایک عالمگیر سائٹ ہے
> ، اس پر کی گئی آپ کی تحریر بھی
> عالمگیر ہوگی۔
>
> 2- وکیپیڈیا آپ کو انٹرنیٹ پر
> لامحدود اسپیس مہیا کرتا ہے ، جس
> پر آپ جس
> قدر چاہیں اپنے قلم کی صلاحیت
> استعمال کر سکتے ہیں۔
>
> 3- وکیپیڈیا آپ کو اپنا ذاتی صفحہ
> مہیا کرتا ہے ، جس پر آپ اپنے بارے
> میں
> جو کچھ تحریر کرنا چاہیں اور جس
> قدر کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
>
> 4- وکیپیڈیا آپ کو قلمی دوست مہیا
> کرتا ہے جو ہر وقت اور ہر مرحلے پر
> آپ
> کے ساتھ ہونگے۔
>
> 5- ویکیپیڈیا آپ کو ہر مشکل پر فوری
> مدد فراھم کرے گا تاکہ آپ اپنی
> تحریر
> بخوبی مکمل کر سکیں۔
>
> 6- آپ کا جو مضمون بھی جامع ہو جاۓ
> گا ویکیپیڈیا اسکو منتخب مقالے کا
> درجہ دے کر صفحۂ اول (ہوم پیج) کی
> زینت بناۓ گا۔
>
> 7- آپ کا نام آپ کے ہر مضمون کے
> تاریخچے میں ہمیشہ کے لیۓ محفوظ ہو
> کر
> تاریخ کی زینت بنے گا۔
>
> اپنی زبان کے ساتھ اپنے تعلق کو
> جوڑنے اور اپنی نئی نسل کو موجودہ
> ترقی
> سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ضرورت ہے
> کہ موجودہ دور کے نصاب کے مطابق
> علمی ،
> سائنسی اور تاریخی و معاشیاتی
> مضامین ہماری اپنی زبان میں موجود
> ہوں۔
>
> مضامین کی تعداد 10000 تک پہنچانے کے
> لیۓ دیگر زبانوں کے ویکیپیڈیاؤں
> کے
> ساتھ اردو وکیپیڈیا کے مقابلے کا
> آغاز یکم رمضان المبارک سے شروع ہو
> کر
> عید تک جاری رہے گا۔ اس مقابلے میں
> آپ کی شرکت کے لئے تعلیم، تجربہ
> اور
> عمر وغیرہ کی کوئی شرط نہیں ہے۔
> مقصد صرف اردو کا فروغ اور ہماری
> نئی نسل
> کو اپنے اسلاف کی روایات و اقدار
> سے روشناس کرانا ہے۔
>
> آیۓ ! اس عید پر اردو پڑھنے سمجھنے
> والوں کے لیۓ مل جل کر ایک علمی
> تحفہ تیار کریں۔
>
> 10000 ہزار اردو مقالات کا ایک
> عالمگیر تحفہ!
>
> اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
>
> والسلام
> منجانب، اردو وکیپیڈیا کے فعال
> کارکن

جی هاں اپ بھی ائیں اس وکی پیڈیا پر کجخ کام کردیں
که جس طرح تحریک پاکستان میں کام کرنے والوں کی اولادیں اس بات پر فخر کرتی هیں که ان کے اباء نے تحریک پاکستان مین حصه لیا تھا
یه وکی بھی اسی طرح کی چیز ہے که آپ کی اولادیں اس بات پر فخر کیا کریں گی که همارے بابوں نے بھی اس پروجکٹ کو بنانے ميےن حصه لیا تھا ـ

اتوار، 24 اگست، 2008

ٹوٹکے

ٹونے ٹوٹکے هر معاشرے میں پائے جاتے هیں
یا کہـ لیں که ممالک کے موسمی حالات ایسے ٹوٹکے پیدا کرتے هیں ـ
پنجاب میں پرانے زمانے میں اکر کسی کو چکر انے لگتے تھے تو ایک ٹوٹکا کیا جاتا تھا که اس کو بیلنے کی '' ٹیرنی '' سے تول کر خام مال سے بنا هوا حلوا کھلایا جائے ـ
ٹیرنی کی ڈیفینیشنز هیں که کپاس بیلنے والا بیلنا جس سے روئی اور بنوله کو علیحدھ کیا جاتا تھا اس کو گمھانے کے لیے جو دستی استعمال هوتی تھی اس کو ٹیرنی کہتے تھے
اس سے برابر تول کر ڈالا گیا دیسی گھی کھنڈ (چینی) سوجی اور دوسری مغزیات سے یه اتنا مرغن بن جاتا تھا که لذت بھی هوتی تھی اور کلوریز بھی ـ
جس کسی کو برے خواب اتے تھا اس کو سرهانے ''ڈوئی '' رکھ کر سونے کا کہاجاتا تھا ـ
دل خراب هونے کو اردو میں کیا کہیں گے؟
متلی انا ؟
لیکن یه پنجابی والےدل کا خراب هونا کا صحیع ترجمعه نہیں بنتا کینکه یه کیفیت متلی سے کچھ کم هوتی هے ـ
فرانس میں دل خراب هو نے والے کو قند (چینی) کی ڈلی چوسنے کا کہتے هیں ـ
اور جاپان میں نمک چاٹنے کا !!ـ
فرانس میں اتنی ٹھنڈ پڑتی هے که سال کے چند هی دن هوتے هیں جب رات کو بناں کچھ اوڑھے سویا جاسکے
اس موسم کی مناسبت سے یه بات صدیوں کا نچوڑ هو گی
اور جاپان میں گرمیوں میں پسینے بہت اتا ہے
جس سے نمک کی کمی هو جاتی هو گی اور اس لوگوں نے نمک چاٹنے کا آئیڈیا پایا هوگا ـ
پاکستان میں دل خراب هو نے پر کیا کرتے هیں ؟؟
گرمیوں میں اگر دل خراب هو تو کالی مرچ چبانے کا کہتے هیں اور اگر سردیوں میں هو تواپنی بغلیں سونگھنے کا کهتے هیں ـ
انیس سو اٹھاسی کی بات ہے که میں جاپان ميں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا
جاپان ائے ابھی چند هفتے هی هوئے تھے
گوجرانواله وحدت کالونی کے ایک ایجینٹ منیر کو پانچ سو ڈالر دے کر اس فیکٹری میں کام لگا تھا
که ایک دن مجھے وه هو جس سے انکھوں کے اگے اندهیرا اجاتا ہے
میں نے اپنے ساتھ کام کرنے والے ستر ساله خاتون اکی با سان کو بتا یا
تو اس خاتون کے لنچ میں میرے اگے دو ابلے هوئے انڈے رکھ دیے ـ
میرو دل میں پہلا خایل تو یه ایا که لو جی یه مائی مجھے مارنا چاهتی ہے
که پاکستان میں انکھوں کے اگے اندهیرا انے کو گرمی هو جانے کی وجه کہتے هیں اور اسے بندے کو انڈھ مچھلی منع کرتے هیں
اور اکی با سان ہے که مجھے ابلے انڈے دے دهی ہے وه بھی '' دو دو '' ـ

لیکن جی لنچ ٹائیم تھا اور سارے ورکر اکٹھے تھے اور جاپانی تھے میں ایک دیسی
انہوں نے مجھے یه دو انڈے کھانے پر مجبور کردیا (ویسے بھی ابلے انڈے مجھے پسند هیں ) ـ
لو جی سالہاسال مجھے انکھوں میں اندھیرو والی شکایت نہیں هوئی
جاپان کہتے هیں که انکھوں کے اگے اندھیرا انا کیلشیم کی کمی هوتی هے اور ناڈھ کیلشیم کی کمی پوری کر دیتا ہے ـ
اس لیے انڈھ کھاؤ
اور پاکستان میں اس بات پر اگر ایک نوجوان کسی نیم حکیم کے پاس چلا جائے تو وه کیا کرے گا ؟؟
وه میں نے اگر لکھا تو فحاشی کے زمرے میں اجائے گا
اس لیے باقی خیر سہی ـ

پیر، 18 اگست، 2008

جاپان کا چودھ اگست

جاپان میں چودھ اگست کی چھٹیاں تهیں جی ـ
بارھ اگست سے لے کر سترھ کے اتوار کو بھی ملا لیا گيا ـ
میرا بھائی حاجی ننھا جاپان کی ان چھٹیوں کو چودھ آگست کی چھٹیاں کہا کرتا تھا
لیکن جاپان مین ان کو اوبون کی چھٹیاں کہتے هیں
اوبون !ـ جاپان کی ایک رسم یا مذہبی تہوار هوتا ہے
ان دنوں جاپانی لوگ اپنے قبرستانوں میں جاتے هیں اور ایک چراغ کی صورت میں اپن بزرگوں کی ارواح کو ساتھ اپنے گھر لےکر اتے هیں ـ
اور یه دن اپنے بزرگوں کے ساتھ گزارتے هیں ـ
جاپان ميں هر قبرستان کے ساتھ ایک حانقاھ هوتی هے جس کو اوتے را کہتے هیں ـ
جاپانی خانقاھ یا ٹمپل دو طرح ک هوتے هیں
ایک جن کے ساتھ قبرستان هوتا ہے
اس کو او تے را کہتے هیں اور
دوسرا جس کے ساتھ قبرستان نهیں هوتا
اس کو جینجا کهتے هیں ـ
جینجا کی جو لفظی شکل هوتی ہے اس کو اگر پنجابی میں پڑھیں تو اس کا معنی بنتا هے خدا ـ
ابون کی چھٹیوں میں اوتے را ایک چراغ مہیا کرتا ہے جس میں جاپانی یقین کے مطابق ان کے بزرگوں کی ارواح هوتی هیں
اس چراغ کو گھر مين لا کر رکھا جاتا ہے اور اور اس چیز کے یقین کے ساتھ یه چار دن گزارے جاتے هیں که اپنے بزرگ بھی گھر میں هی هیں
رشته دار بھی ملنے اتے هیں
اور رشتے داروں کو ملنے جایا جاتا ہے که اس طرح سارے خادان کے بزرکےن کو سلام هو جاتا هے ـ
ابون کے ختم هونے پر اس چراغ کو واپس اوتے را میں لے جایا جاتا ہے
که ارواح واپس اپنی آرام گاھ پر پهنچ جاتی هیں ـ
کیونکه ان دنوں سارے هی کاروبار بند هوے هیں میں بھی گھر سے باهر نهیں نکلا که گرمی بھی بہت تھی ـ
اور کام کاروبار کا بھی کوئی امکان نہیں تھا ـ
اولمپک کی کوریج بھی دیکھی
مائیکل فلپ کی کارگردگی واقعی بہترین هے
اپنی اداؤں میں سادھ سا یه بندھ اپنے اندر کتنا ٹیلنٹ لیے هوئے هے
میری دعا ہے که بعد میں اس پر دوائی لے کر کار گردگی کا الزام ناں لگ جائے ـ
جوڈو ميں جاپان کو کارگردگی بھی ٹھیک هی تھی مگر جوڈو جو که جاپانی کھیل هے اس مین جاپانیوں سے کچھ اور بھی بہتری کا تقاضا کیا جاسکتا ہے مگر انٹرنیشنل جوڈو کے اصول کچھ بدل چکے هیں
جوڈو کسی حد تک ریسلینگ کی کشتی سی لگنے لگی هے
جس کو که ابھی جاپانی ہضم نہیں کرسکے شائد اس لیے !!ـ

لو جی اپنے سید ناں مشرف مرید بااوصاف استانه عالیه واشنگٹن شریف پیران نے پیر وڈی تے ڈاڈی وائٹ هاؤس والی سرکار
بھی پاکستان کی جان چھوڑنے پر مجبور کرهی دئے گئے
میں صرف مشرف صاحب سےاستعفی دینے پر اتنا هی کہوں گا
بڑی مہربانی جی جرنل صاحب

Popular Posts