جمعہ، 10 فروری، 2017

تیسری دفعہ کا ذکر

کہیں کسی جگہ دو سادھؤں کی ملاقات ہوئی ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے ،۔
جس پنتھ کے چیلے ہو ؟
دوسرا جواب دیتا ہے
میں پنتھ وچار کچھ نہیں جانتا
تم  اپنا آٹا دیکھاؤ اور میرا بھی دیکھ لو
کہ
آٹا کس کے پاس زیادہ ہے !!،۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے
کہیں کسی جگہ  دو مولویوں کی ملاقات ہوئی
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے
کس مسلک کے ماننے والے ہیں ،۔
دوسرا جواب دیتا ہے
مسلک شسلک چھوڑو
مجھے اپنا بتاؤ اور میں اپنے بتاتا ہوں کہ
ایجنسیوں میں تعلقات کس کے زیادہ ہیں !!!،۔
اس ملک میں چندا اس کو زیادہ ملتا ہے جو  بدکارِ سرکار کو  کارِ خیر ہونے کا واعظ کرنا جانتا ہے !!م،۔۔

تیسری دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہیں کسی جگہ
۔
۔
۔
۔
چھڈو پراں مٹی پاؤ !!،۔
سانوں کی !!۔

اتوار، 5 فروری، 2017

سرطان یعنی کینسر کا علاج اور اوپدیو

جاپان جہان ہر دوسرا شہری سرطان کے خطرے سے دو چار ہے
یہاں ، سرطان کی دوا دریافت ہو چکی ہے ،۔ کوئی ایک فیصد لوگ بلکل شفا یاب ہو جاتے ہیں اور باقی کو بھی خاصی شفا ہوتی ہے ،۔ یہ دوائی ابھی نئی ہے ، مارکیٹ میں دوہزار دس کہ بارہ  میں آئی تھی ، چار سال میں اس کی کوالٹی کا ڈیٹا بن رہا ،۔
انے والے دنوں میں آپ اس کے متعلق سننے لگیں گے
اوپدیو (http://www.opdivo.com/) نامی یہ دوا خاصی زیادہ مہنگی ہے ،۔
کوئی چھتیس لاکھ ین سالانہ کا خرچا ہے۔
جاپان جہاں کہ بیماری کا ستر فیصد خرچا انشورنس کور کرتی ہے ،۔
یہان ڈاکٹر دوائی لکھ کر دیتے ہوئے اس بات کا بلکل بھی خیال نہیں کرتے کہ دوائی کی قیمت کیا ہے
بلکہ ڈاکٹر صاحباں کو دوائی کی قیمت  علم بھی کم ہی ہوتا ہے ،۔
ڈاکٹر کا متمٰنی نظر مریض کا علاج ہوتا ہے نہ کہ مریض کی جیب کی حفاظت ،۔
 جاپان میں دانش ور اس بات پر سوچ بچار کر رہے ہیں کہ  سرطان کی علاج کو کیسے سستا کیا جاسکے ،۔
اوپدیو (opdivo) نامی دوا ایک بہت بڑی دریافت تھی ، اس دوا کی تحقیق پر کوئی 100,000,000,000 ین کی رقم خرچ ہوئی تھی ،۔
دوائی بنانے والی کمپنی کے منافع کے لئے حکومت نے اوپدیو نامی دوا پر 27 فیصد تک کا منافع رکھنے کی اجازت دے دی تھی ،۔
جو کہ رائج اصول کی شرٖح سے دس فئصد زیادہ ہے م،۔
رائج اصول میں منافع کی شرح 17 فیصد ہے ،۔
جاپان جو کہ داوائیوں کی تحقیق اور تکنیک میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر کا ملک ہے ،۔
یہاں سرطان کی دوا اس حد تک مہنگی ہے کہ ، قوت خرید رکھنے والی جاپانی معیشت بھی اس دوا کی مہنگائی سے پریشان ہے ،۔
جاپان سے باہر کے ممالک جو کہ اس دوا کو ایمپورٹ کر کے اپنے شہریوں کے علاج کا پروگرام رکھتے ہیں ،۔
ان کو مہنگی دوا کی قیمت کے علاوہ ٹرانسپوٹ کا کرایہ اور کسٹم ٹیکس اور دیگر ٹیکس ادا کر نے کے بعد یہ دوائی اور بھی مہنگی  کر کے علاج کے لئے مہیا کرنی پڑے گی ۔

سرطان ایک ایسی بیماری ہے کہ جس ہر کوئی دو اثر نہیں کرتی تھی ، ہوتا یہ تھا کہ جیسے ہی  کوئی دوا یا بیکٹریا ، یا کہ کوئی بھی ایسی چیز کو سرطان کے خلاف ہوتی تھی اس کے نزدیک آنے پر سرطان خود کو سمیٹ کر سخت کر لیتا تھا ،۔
اوپدیو میں یہ کوالٹی ہے کہ یہ سرطان کے خلیون میں داخل ہو کر  جسم کے مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف فعال کر دیتی ہے ،۔
اس لئے اب یہ ممکن ہو سکا ہے کہ سرطان پر قابو پایا جا سکے ،۔

جمعرات، 26 جنوری، 2017

ملکہ بلقیس اور ڈی سی تھرٹی

بچہ گھر ، مدرسے سے گھر آتا ہے ۔
تو ماں  پوچھتی ہے ۔
کیا کچھ نیا سیکھا؟
ہاں
بچے نے بتایا کہ مولوی صاحب نے اج  حضرت سلیمان علیہ سلام اور بلقیس کا قصہ سنایا ہے ،۔
ماں اشتیاق سے کہتی ہے : اچھا ؟ مجھے بھی تو سناؤ !،۔
بنی اسرائیل میں کوئی  بادشاھ سلیمان گزارا ہے ،۔
ایک دفعہ
ہوا یہ کہ حضرت سلیمان کو ڈرون  کی جاسوسی سے علم ہوا کہ وہاں یمن میں کوئی خوبصورت  بی بی حکومت کرتی ہے تو ، انہوں نے اس بی بی کو اپنے ملک کی سیر کی دعوت کی
بی بی بلقیس نے جب دعوت قبول کر کے حضرت سلیمان کے ملک کی طرف  سفر شروع کیا تو حضرت سلیمان کو جاسوسوں کے بتانے پر احساس ہوا کہ بی بی بلقیس کا تخت بڑا خوبصورت اور مہنگا ہے ،۔
سلیمان بادشاھ نے  اس تخت کو چوری کر کے بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  پہلے اپنے سامنے دیکھنے کا حکم جاری کر دیا ،۔
جس پر سارے جن اور دیو   اس پروجیکٹ کو قبول کرنے سے گھبرانے لگے ،۔
تو
ان کے ایک جنرل نے جس کی بیگم  ڈی سی تھرٹی پر پھجے کے پاوے منگوانے میں مشہور تھی اس نے اس پروجیکٹ کی ذمہ داری لے کر ، بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  ڈی سی تھرٹی پر وہ تخت منگوا کر حاضر کر دیا تھا ،۔
بچے کی بات سن کر ماں  ہکا بکا رہ گئی ،اور حیرانی سے پوچھتی ہے ،۔
واقعی مولوی صاحب نے یہ قصہ ایسے ہی سنایا ہے ؟؟
بچہ گویا ہوتا ہے ،۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سیانا تھا
اگر اس طرح میں آپ کو سناتا تو ، آپ کو نہ تو سمجھ آنی تھی اور نہ ہی یقین آنا تھا ،۔

بدھ، 18 جنوری، 2017

قسمت کا ولی


لوڈ شیڈنگ کے تدارک کے لئے جنریٹر کا انتظام کیا تھا
سٹینڈ بائی رکھنے کے لئے میں نے اپنے چچا زاد کو کہا
کہ جا کر پٹرول لے کر آؤ ۔
وہ لے آیا
میں نے جنریٹر میں ڈال کر سٹارٹ کیا چند منٹ بعد جنریٹر بند ہو گیا ،
بہت کک مارے ،سٹارٹ نہیں ہوا ۔
ائیر کلینر کھول کر کاربوریٹر میں انگل دے کر خاص میکنکی نسخہ استعمال کیا تو انجن بے شمار دھواں چھوڑ نے لگا ،۔
میں چاچا زاد سے پوچھا
اوئے یہ کون سا پٹرول لے آئے ہو ؟
پاء جی میں نے اس کو سستے والا پٹرول کہا ۔
جو کہ ڈیزل تھا
چچا زاد ایکسٹرا سیانا بننے کی کوشش میں اس کی عقل میں اتنا ہی فیڈ تھا کہ پیسے کم خرچ ہونے چاہے ، کم خرچی ہی عقل کی نشانی ہے ۔
میں اس کو بہت غصہ ہوا کہ
بات کو سن لیا کرو اور جو کوئی بڑا کہے ویسا ہی کیا کرو
نہ کہ خود سے عقل مند بننا شروع کر دیا کرو ،۔

کچھ دن بعد ٹریکٹر پر کام تھا
میں نے یاسر سے کہا کہ اج ڈیزل لے کر آو
یاسر لے آیا
ڈرائیور نے ٹینکی فل کر دی
کچھ ہی منٹ بعد ٹریکٹر بند ہو گیا،
ڈرائیو پوچھتا ہے
ہن کی کرنا جے پاء جی ؟ ۔
میں نے خالص مکینکی نسخے سے انجکشن پمپ پر سے آٹو مائینر کو جانے والا پائیپ ڈہیلا کر کے سیلف مارا تو اس میں سے پٹرول بہنے لگا ۔
میں ے یاسر سے پوچھا
اوئے یہ کیا لے آئے ہو ؟
پاء جی پچھلی دفعہ آپ نے بہت غصہ کیا تھا اس لئے مجھے یاد تھا کہ پٹرول ہی لے کر آناہے ۔
میں نے اپنا سر پیٹ لیا
اوئے کملیا
میری بد نصیبی ہی یہ ہے کہ میرے سارے بھائی اور کزن ایکسٹرا عقلمند ہیں ،۔
اتنے زیادہ عقلمد کہ
مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں ۔
جو کہ میں ہوں بھی
کہ اگر میں بیوقوف نہ ہوتا تو بار بار ان کو کام کیوں کہتا ؟؟
پنجابی کا وہ محاورہ مجھ پر صحیح فٹ بیٹھتا ہے ۔
واہ او قسمے دیا ولیا !۔
ردی کھیر تے ہو گیا دلیا،۔

جمعہ، 6 جنوری، 2017

عزت اور غیرت


چاچے فرید کی دوکان پر چاچا عنایت مستری اگلے ویہڑے والا یہ بات بتا کر کہتا ہے
کہ
یقین کرو جی ایک بدمعاش کے منہ سے سنی یہ بات کئی دہائیاں بعد بھی میں نہیں بھول سکا
اور ساری زندگی نہیں بھول سکوں گا کہ ایک بدمعاش ہو کر اس نے کیسی دانش کی بات کی،۔
چاچے عنائت کے اس اخری فقرے کی وجہ سے مجھے بدمعاشوں والا یہ واقعہ یاد رہا ہے
کہ آج مجھے یہ بات سنے کوئی چالیس سال ہو گئے ہیں
لیکن اج بھی مجھے چاچے عنائت کا بات کرنے کا وہ دھیما سا انداز اور چہرہ ایسے لگ رہا ہے کہ چند لمحے پہلے کی ہی بات ہو جیسے !!،۔

ذیلدار چوھدری صاحب  کے ڈیرے پر  علاقے کے سارے بستہ بے کے بدمعاشوں کو  ہر مہینے حاضری دینے کا حکم تھا ،۔
یہ حکم تو سرکار برطانیہ کے دور سے تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد بھی  ہم نے اپنے چوہدریوں کے ڈیرے پر بستہ بے کے بدمعاشوں کا جھرمٹ دیکھا ہے ،۔
یہاں پیپل کے نیچے والے کنوئیں کے پاس ہی چوہدری صاحب کی چارپائی ہوتی  تھی اور گاؤں کے  کمی  لوگوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے زمیندار بھی یہیں دریوں پر بیٹھا کرتے تھے
کسی کو چوہدری صاحب کی غیر موجودگی میں بھی منجی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ،۔
جس دن بدمعاشوں  کی حاضری ہوتی تھی
گاؤں کے لڑکے بھالے تماشہ دیکھنے یہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے ،۔
طرح طرح کے حلئے ، تہمند کے لڑ چھوڑے  بڑی بڑی مونچھوں والے اگر ہوتے تھے تو مریل مریل سے بکری نما داڑہی والے بھی ہوتے تھے ۔
عام سے حلئے کے  سر پر صافہ باندھے  تہمند قمیض میں  چہرے پر بے چارگی سجائے بیٹھے ہوئے یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اپنی ایک دہشت رکھتے تھے ،۔
یہاں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہنچتے ہی گربہ مسکین کی ایکٹنگ کر رہے ہوتے تھے ،۔
دو بد معاش اپس میں باتیں کر رہے تھے
میں بھی کان لگا کر سننے لگا
جو بات انہوں کی میں یہ بات ساری زندگی نہیں بھول سکتا کہ
ایک بد معاش ایسی دانش کی بات بھی کر سکتا ہے ،۔
لڑکپن کے ان دنوں میں ہمارے ذہن میں یہی ہوتا تھا کہ  ایک بد معاش میں اگر دانش ہوتی تو
وہ کوئی معقول معاش کیوں نہ اختیار کرتا ، بد معاشی کی ہی کیا ضرورت تھی ،۔
لیکن ان بد معاشوں کا یہ مکالمہ میں ساری زنگی نہیں بھول سکتا ،۔
ایک بدمعاش دوسرے سے کہتا ہے
اؤئے تم مجھے اپنی بیوی کچھ دن کے لئے دے دو !،۔
دوسرا اس کی بات کو سن کر نظرانداز کر دیتا ہے ،۔
میں سوچتا ہوں ایسا مطالبہ کوئی کم عقل بدمعاش ہی کر سکتا ہے ،۔
کہ اس بدمعاش نے دوسرے بار اپنی بات کی تکرار کی
تو
 سننے والے بد معاش نے اس کو کہا
اوئے ڈنگرا ، بیوی بندے کی عزت ہوتی ہے ، اور کوئی بھی انسان اپنی عزت دوسروں کو نہیں دیتا ،۔
بہن بیٹی اور ماں بندے کی غیرت ہوتی ہیں ،۔ اپنی غیرت کو لوگ جانتے بوجھتے رشتے بنا کر دوسروں کو دیتے ہیں ،۔
لیکن اپنی عزت کوئی کسی کو نہیں دیتا ،۔
عزت اور غیرت کے فرق کا یہ باریک سا فرق  کم ہی لوگوں کو علم ہوتا ہے ،۔
مجھے تو چاچے عنایت کی اس روایت کے سننے کے بعد ہی  غیرت اور عزت کا مفہوم ملا تھا ،۔

جمعہ، 30 دسمبر، 2016

جیدا سائیں اور جغرافیہ

گوجرانوالہ کے قریب کہیں کسی گاؤں میں سردیوں کی کسی رات کے پہلے پہر  کسی دارے میں حقہ کشید کرتے کچھی دیسی دانشور بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ
پنجاب کے دہی علاقوں میں سردیوں کی لمبی راتوں میں  ایسی محفلیں  بڑی دانش ، بڑی زیرک ،اور اس سے بھی زیادہ حماقت اور بونگیوں سے بھری ہوتی ہیں ،۔
جیدا سائیں  بتاتا ہے کہ
جی
ایک لڑکی  اپنی عمر 18 سے 22 سال میں افریقہ کی طرح ہوتی ہے ،
آدھی جنگلی ، آدھی پر اسرار، قدرتی حس ن اور زرخیر !!،۔
23 سے 30 سال میں امریکہ کی طرح
کہ
ویل ڈویلپ ، اوپن فار ٹریڈ ، سرمایہ کاری کی طلب  گار ،امیروں  غریب سب کو لبھانے والی ،۔
اور 31 سے 45 کی عمر میں
انڈیا کی طرح ، بڑی ہاٹ ، بڑی پرسکون ، اور اپنے حسن کے یقین میں مگن ، لیکن  پرانی پرانی سی ،۔
اس کے بعد 46 سے 55 کی عمر میں
فرانس کی طرح ، پولائیٹ بولی ، شرافت کا پرچار اور سونے (گولڈ) کے لالچ میں مبتلا ۔
پھر 56 سے 60 کی عمر میں
جنگ میں ہارے ہوئے مشرقی یورپ کی طرح جس کو میک اپ کی لیپا پوتی کی سخت ضرورت ہوتی ہے ،۔
یہان ٹھہر کر جیدا سائیں  سانس لیتا ہے اور پھر گویا ہوتا ہے ،۔
کہ 61 سال کی عمر کے بعد
ایک عورت پڑوسی ملک افغانستان کی طرح ہوتی ہے ،۔جسے ہر کوئی جانتا ہے کہ کہان واقع ہے
لیکن کوئی بھی وہاں جانا یا رہنا نہیں چاہتا ،۔
جیدا سائیں  ، اپنے گامے کی طرف دیکھ کر کہتا ہے
یار گامیا !،۔
اب کچھ مرد  لوگوں کا جغرافیہ تم ہی بتاؤ؟
گاما بتاتا ہے ،۔
مرد  اپنے عمر کے پہلے سالوں میں
پاکستان کی طرح ہوتا ہے  اس پر “ ڈو مور “ کا پریشر ہوتا ہے ،۔
اس کے بعد 15 سے 80 سال کی عمر میں بھی
پاکستان ہی ہوتا ہے
جس پر حماقت اور احمقوں کا راج ہے اور ہاتھ میں ۔ ۔ ۔ ہوتا ہے ،۔
ماخوذ،۔

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

اک ہور ، سانوں کی !۔

یہاں ایک چیز کی وضاحت کہ مختلف اقوام کی اپنی اپنی تاریخ سے کچھ وراء ہو کر سوچیں انسانی معاشرھ
جس میں ہم سب رہ رہے ہیں ،
مختلف اقوام پر عروج آیا !!ـ
اس عروج سے پہلے کی جو باتیں جن باتوں کی تاریخ کم ہی لکھی ہوتی ہے ، وہ وہی ہوتی ہیں،۔
کمزور پیدائش بتدریج جوانی تعلیم ، طاقت پکڑنا وغیرہ وغیرہ۔
دنیا پر چھا گئیں ، بہادری کی ایک تاریخ چھوڑ کر انے والی نسلوں کی کم عقلی کو سہارا دینے والی شنہری تاریخ لکھوا گئیں ،۔

اور پھر بتدریج کمزور ہوتی ہوئیں اپنے انت کو پہنچیں ـ
لیکن اج
 ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ سائینس کی ترقی ہے ۔
کہ ہوتی ہی چلی جا رہی ہے !!۔
میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے جو لوگ زندھ ہیں وہ جانتے ہیں کہ
ابھی ہمارے پجپن ميں جن چیزوں کا تصور بھی محال تھا ، آج وھ جادو بھری ایجادات ہمارے استعمال میں ہیں ۔
یعنی که سائینس
 جو که ہمارے پجپن تک ایک کمزور سی چیز تھی
آج اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنی جوانی کی طرف مائیل ہے ۔

اور اس صدی کا ہر جوان اس یقین کا کا شکار ہے کہ
یہ ایجادات کا رواج ،  مسلسل زور ہی پکڑتا چلا جائے گا
اس پر کبھی کمزوری نہیں آئے گی ۔
ہر زمانے کا جوان اپنی جوانی میں یہی گمان کرتا ہے
کہ

وہ اپنے دادے کی طرح بوڑھا نہیں ہو گا
اور اگر ہوا بھی تو؟
اس
 ہونے میں ابھی صدیاں بڑی ہیں ۔
حالانکہ اپنا،  دادااپنے سامنے ہوتا ہے ۔
جو کہ خود تیس سال پہلے کڑیل جوان تھا،۔

لیکن سائنس کی جوانی ہے کہ اس کے سامنے کوئی دادا یا بابا نهیں ہے ۔

اس کے سامنے اس جیسی کوئی مثال نهیں ہے۔
کہ زمانے نے کبھی سائنس کی ترقی کی جوانی ہی نہیں دیکھی تو اس کے کے بڑھاپے کا تو تصور ہی محال ہے ،۔
 لیکن کائنات کے افاقی اصول میں
ہر اوج کو زوال ہے ۔
اور یہ اصول اٹل ہے !!،۔
تو
 میں بھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہوں کہ کب
اور کون سے وقت کو؟ کس نقطہ کو انتہا کہوں
کہ
نقطہ انتہاء ہی نقطہ انحطاط ہوا کرتا ہے ۔
 اس سائینس کی جوانی کا زمانہ کس زمانے کو  کہیں گے؟؟
کون سا وہ نقطہ ہو گا کہ جہاں سے اس کی ڈھلوان شروع ہو گی ؟
که جہاں سے یہ کمزور ہوتی هوئی بتدریج اپنے انت کو پہنچے گی؟؟
ہاں جی ایک بات اور بھی تو ہے!ـ
حادثاتی موت!!!!ـ
بھری جوانی میں قتل ، حادثہ ، یا کچھ اور ؟
اور یه کچھ اور، کسی درخت کے ساتھ ہو کہ کسی چرند یا پرند کے ساتھ!،۔
 یا کسی پہاڑ کے ساتھ کہ دریا کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ هو کہ سلیمان تاثیر کے ساتھ !!!ـ
یه کچھ اور تو نهیں ہونے والا اس سائینس کے ساتھ
کوئی ایٹمی جنگ ؟؟
یا وباء یا
کچھ اور ؟
اس ایٹمی جنک سے یاد ایا که هماری پیاری اور نسلی ایلیٹ نے امریکہ کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ ہمارے مولویوں کو ایٹم بم چلانے کا بڑا شوق ہے
اور پاكستان کے جوانوں کا یه حال ہے کہ
وہ چاہتے ہیں که دو تین مزائیل نیفے میں اڑس کر چلیں، اور جیب میں دو تین دانے ایٹم بموں کے بھی پڑے هوئے هوں
لیکن جی اکر سائینس کےساتھ کوئی اور حادثہ نهیں ہوجاتا اور کائینات کے افاقی قانون کے مطابق بتدریج کمزور ہوتی چلی جاتی هے تو ایسا کیسے هو گا
اور پھر اس کے بعد کے انسانوں کے کیا حالات زندگی ہوں کے ؟
اور وہ کیا سوچ کر ان سب سائینسی چیزوں کے استعمال کے فائدے پر صبر کرلیں گے؟؟؟
میرے خیال ميں وہ پاکستانی سوچ کے مالک بن جائیں گے
اور ہر چیز کے نقصان پر کندہے اچکا کر کہا کریں گے
سانوں کی!!!!ـ

جمعرات، 24 نومبر، 2016

کوّی اور کلپنا

میاں محمد بخش صاحب کی پنجابی شاعری سے مجھے بچپن سے یہ کچھ شعر یاد ہیں ،۔
زبان ، آسان پنجابی ہے ، مجھے امید ہے کہ اپ کو بغیر ترجمعہ لکھے سمجھ لگے گی
ورنہ اس کے بعد کی میری کلپنا سے تو مجھ لگ ہی جائے گی

کرماں باجھ پیاریا گل کوئی ناں

پاویں سر تے لالاں دی پنڈ ہوئے

جائے بازار تے نکل سب کھوٹے

پاویں مگر دلالاں دی ڈنڈ ہوئے ۔

بیجے کنک تے اگ باغاٹ پیندا

پاویں خاص نیائی دی ونڈ ہوئے

پراوں باجھ پیاریا جیون کوئی ناں

پاویں مگر قبیلے دی ترنڈ ہوئے ،۔

نومبر کا مہینہ چل رہا ہے ۔
امریکہ میں نئے صدر اور پاکستان میں نئے سپہ سالار کی  تبدیلی کا وقت ہے ۔
پاکستان میں ایک آفواھ اڑی ہوئی ہے کہ
آنے والا چیف آف آرمی سٹاف  کوئی قادیانی ہے ۔
عام عوام کا ایمان بھرسٹ ہونے کو ہے ،۔
اسلام خطرے میں پڑا نظر آتا ہے
اللہ خیر کرئے !!،۔
پاکستان میں ہم نے سرمے والی سرکار جناب جرنل زیاں صاحب کی قیادت میں اسلام کاشت کیا تھا ،۔
جرنل صاحب والا اسلام بھٹو صاحب نے قادیانیوں والا نقلی اسلام علیحدہ کر کے خالص اسلام بنا
کر دے دیا تھا،۔
یہ ختم نبوت والا اسلام ، مودودی صاحب کی تفہیم القران کی کھاد سے پاکستان میں بو دیا گیا تھا،۔
لیکن ہوا یہ کہ

بیجے کنک تے اگ باغاٹ پیندا

پاویں خاص نیائی دی ونڈ ہوئے

بوئی تو گندم تھی لیکن اس میں مسالک ، فرقوں اور نظریات کا باغاٹ اس کثرت سے اگا کہ
خدا کی پناھ
اس پر جو پھل آیا اس سے لشکر ، جیش ، جتھے اگ  کر سرخ انقلاب کی راھ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہو گئے ،۔
سفید ریچھ ، زخموں سے چور ، دریائے آمور کے اس پار جا کر زخموں کو چاٹنے لگا تو؟
تفہیم القران کی کھاد سے اگا ہوا اسلام !۔
خدا کی آنکھ بن کر معاشرے کی برائیوں کو چن چن کر قتل کرنے لگا،۔
اپنے گھر میں قتل ، پڑوسیوں کے گھر میں قتل ، کافر کافر شیعہ کافر ، کافر کافر سنی کافر ، کافر کافر یہ بھی کافر وہ بھی کافر
قادیانی تو پکے کافر !!،۔
اب جو بھی ہو سو ہو
اگر قادیانی چیف آ جاتا ہے تو ؟
اے ایمان والو یقین رکھو ، اس سے اسلام کو ئی خطرہ نہیں ہے ،۔
اسلام کوئی غریب کو جورو نہیں ہے جو چوراہے میں لٹ جائے گی ،۔
قادیانی چیف کے انے سے خطرہ ہے تو ان جڑی بوٹیوں کو ، جن کی جڑہیں  جی ایچ کیو کے گملوں میں لگی ہیں ۔
ہم پینڈو دیہاتیوں کو علم ہے کہ جب جھاڑ جھنگار پڑھ جائے تو درختوں کو کھیتوں کو کھالوں اور نالیوں کو اس جھاڑ جھنگاڑ سے صاف کرنا ہی پڑتا ہے ،۔
اللہ کرئے کہ کوئی ایسا آئے جو اس جھاڑ جھنگار کو صاف کر کے دے !،۔
وہ چاہے
قادیانی ہو کہ کافر ،!،۔
بس بندہ ہونا پاکستانی چاہئے،۔

منگل، 8 نومبر، 2016

سموگ ، وجوہات اور علاج

لاہور میں  سموگ نامی جو دھند پھیلی ہوئی ہے ؟
یہ کیا ہے ؟
یہ گاڑیوں کے انجن سے نکلنے والا دھواں اور گیسیں ہیں ،۔ فیکٹریوں ، ملوں اور بھٹوں کی چمنیوں سے نکلنے والی گیسیں ہیں ، جو زہر سے بھری ہوئی ہیں ،  ان سے طرح طرح کی بیماریاں انسانی جسموں میں سرایت کر جائیں گی ،۔
اور یہ ماحول کوئی ایک دن میں نہیں بنا ہے ،۔
یہ صنعتی  فضلہ ہے ۔
یہ زہر ہیں جو فضا میں رچ چکے ہیں ،۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  وہ ممالک جو ہم سے زیادہ ملیں ، گاڑیاں اور چمنیوں والی ملیں رکھتے ہیں ان میں یہ مسئلہ کیوں نہیں ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ
دھویں کے علاج کے لئے انیس اٹھتر میں امریکہ میں ایک قانون بنا تھا کہ ہر گاڑی کے سائلنسر میں ایک ڈبہ نما پرزہ لگایا جائے گا ،۔
اس سال کے بعد بننے والی ہر گاڑی میں یہ ڈبہ لگا ہوا ہے
جو پہلے پہل المونیم کی گولیوں سے بھرا ہوا یک ڈبہ ہوا کرتا تھا
اس کے بعد سرامک کا سوراخ دار برتن بنا  جو کہ اب بھی چل رہا ہے اور کچھ کمپنیاں میٹل یعنی لوہے کی جالی سے بھی بنا رہی ہیں ،۔
گاڑیوں کے سائلنسر میں لگا ہوئے اس ڈبے کا کیا فنکشن ہے ؟
پاکستان میں کوئی ایک بھی مکینک نہیں جانتاہو گا ۔
پاکستان میں اس تکینک کا کسی کو علم ہی نہیں ،۔
بلکہ مکینک لوگ اس ڈبے کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں ،۔ حالانکہ اس ڈبے میں کوئی تین ہزار سے دس ہزار روپے کا سونا نکلتا ہے ،۔
اج میں جاپان اور دیگر مہذب دنیا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ڈبہ ہر کارخانے کی چمنی میں لگا ہوا ہے م،۔۔
دوئیں کے زہر کو صاف کرنے کے اس انتظام کو
انگریزی میں
catalytic converter کہتے ہیں
اور جاپانی میں شوکوبائی ، اردو میں اس کو نام دیا گیا ہے ، آلہ ردعمل یا آگ پریرک،۔
یہ آلہ پلاٹنم ، پلوڈیم اور دوڈیم نامی قیمتی دھاتوں سے فضا میں ہونے والے کیمیائی عمل سے گیسوں کے زہریلے خواص ختم کر دیتا ہے ،۔
پاکستان میں اس تکنیک کی تعلیم کی ضروت ہے
اور اس تکنیک کو اپنانے کی ضروت ہے
ورنہ ہماری آنے والی نسلیں اپاہج اور مفلوج ہوں گی
اور یہ سارا جرم
ہم پر آئے گا
یعنی اس نسل پر جو اج فضا کو گندا کر رہی ہے ،۔
اس زہر بھری فضا سے
کوئی ایک ڈیڑھ کروڑ لوگ سینے کے کنسر سے مریں گے ،۔
دس کروڑ بیماریوں میں مبتلا ہوکر کرب سے گزریں گے
جب بات ارباب اقتدار کے بچوں کی موت تک پہنچے گی ؟
تو
پہلے اس کا الزام سگریٹ پر لگایا جائے گا
بھر کسی سخی داتا ملک سے مدد کی بھیک مانگی جائے گی
شاید کوئی سخی ملک پاک لوگون کو شوکوبائی کی افادیت کی تعلیم دے گا
اور پھر جو کمیشن دے گا اس ملک کی امداد لے کر کارخانے داروں اور بھٹہ مالکان کی " بغل " میں ڈنڈا دے کر پیسے نکلوائے جائیں گے ۔
ٹریفک پولیس کا سائلنسر کے دھوئیں کے نام پر جگا ٹیکس چلے گا ،۔
ہم تم فارن میں بیٹھ کر فلسفے بکھاریں گے
کہ
ہم تو پہلے ہی کہتے تھے ۔

وقت کرتا ہے پروریش برسوں
حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے
“””””””””””””””
اردو کے انسائکلوپیڈیا پر اس تکنیک کی کچھ تفصیل
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D9%84%DB%81_%D8%B1%D8%AF%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%8C_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C

منگل، 25 اکتوبر، 2016

ستمبر 2016ء فیس بک پر لکھے خاور کھوکھر کے اسٹیٹس ،۔

پاکستانیوں !،۔
چولاں نہ مارو ، میں تہاڈا ماما ضرور لگنا واں ۔
پر میں رب دے کمپیوٹر کا مانیٹر نئیں جے  ،۔
“” چندا ماموں “”
******************
میری قوم کی جہالت کو سب سے بڑا خطرہ کتابوں سے ہے ،۔
ملکی سلامتی اور حفاظت کے ذمہ داروں نے  بڑی کوشش کر کے قوم کو کتابوں کے کلچر سے بچایا ہوا ہے ،۔
کتابوں سے دور رہیں ، جہالت کی حفاظت کریں  اور آگہی کے عذاب میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں  ،۔
“” گاما پی ایچ ڈی “”
*******************
مینوں میری دادی دسیا سی
کہ
چن دے وچ اک بڈھی مائی چرخا داہے بیٹھی اے
تے چرخا وی پٗٹھا اے ۔
تے جاپانیاں نوں اینہاں دیاں دادیاں نے دسیا ہویا اے کہ
چن وچ اک  سیاھ (خرگوش) پچھلیاں لتاں تے کھلوتا اے  ،ْ۔
ایس طرحاں ای سب قوماں دیاں دادیاں  کجھ ناں کجھ دسدیاں نئیں
اک نویکلی قوم اے پاکستانی
ایس قوم دے پتر دسدے نئیں کہ چن  ، رب دے کمیوٹر دا مانیٹر بن گیا اے تے نویاں نویاں چیزاں  وکھان لگ پیاء اے ۔
اللہ دی شان اے جی
تے
عقل دے طوفان نے جی  ،۔
جیہڑے ایس قوم دے دماغاں وچ اٹھدے نیں ،۔
***********************


تھائی لینڈ کے بادشاھ  بھومی بول ادویادیج فوت ہو گئے  ہیں ،۔
تھائی لینڈ “ آزاد لوگوں کی سرزمین “ ، کے بادشاھ کو ان کی قوم کے لوگ خدا کی طرح پوجتے تھے ،۔
کون ہے جو تھائی گیا ہو اور اس نے بادشاھ کی فوٹو نہ دیکھی ہو ؟
بادشاھ  بھومی بول ادویادیج ایک گریٹ انسان تھے ،۔
ہو سکتا ہے  ، بادشاھ  بھومی بول ادویادیج کی موت کی خبر اپ کو میڈیا میں نہ ملے
لیکن یہ بادشاھ  بھومی بول ادویادیج تاریخ میں سب لمبا عرصہ بادشاھ رہے ۔
خدا انہیں غریق رحمت کرئے  کہ بادشاھ  بھومی بول ادویادیج  صاحب اپنی قوم کے لئے بہت ہی مخلص تھے ،۔

*******************
ہم تاریخ کے اس دور سے گزر رہے ہیں ۔
کہ
پچھلے ایک ہزار سال کی ہند کی تاریخ پر نظر رکھنے والا  بندہ چرخ گردوں کے پھیر پر حیران رہ جائے ،۔
چرخ گردوں کہ جس پر ایران کے بادشاھ خسرو  نے تفع بھیجا تھا ،۔
پچھلے ایک ہزار سال سے افغان لوگ جہاد کے نام پر ہند کو اسلام سیکھانے آتے رہے ہیں ،۔
ہند کے راجپوت  اس جہاد کے راستے میں سب سے بڑی روکاٹ رہے ہیں ،۔
ہند کا راجپوت ، اب جہاد سیکھ چکا ہے ، اور پچھلے تیس سال سے افغانوں کو جہاد سیکھا سیکھا کر  کبھی روس کے خلاف کبھی اپس میں جہاد کے لئے تعلیم دے رہا ہے ،۔
جہاد واپس پلٹ رہا ہے ، راجپوت  بہادر تو پہلے ہی تھا ، اب سیانا بھی ہو چکا ہے ،۔
***************************

یار ،گامیا! کیا وجہ ہےکہ اسلام ایک بہترین مذہب ہونے کے ،صدیوں سے اپنے نشاط ثانیہ تک نہیں پہنچ پا  رہا ؟؟؟
گاما : بس یار ،تو اتنا سمجھ لے کہ اسلام تو کبھی کا نشاط ثانیہ پار چکا ہوتا ، بس یہ مولوی ہیں جو روکاوٹ بنے ہوئے ہیں م،۔
***********************
میں تمہیں علم کیمیا کا وہ عظیم راز بتا ہی دیتا ہوں
جس سے تم سونا بنانے کے قابل ہو جاؤ گے ،۔
بس ایک چیز کا خیال رکھنا ہے
کہ
سونا بنانے کے اس عمل کے دوران
تمہارے ذہن میں باندر کا خیال نہیں آنا چاہئے ،م۔
اچھا ! تو اب غور سے سنو!۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
آپ کا دماغ ابھی تک باندر میں اٹکا ہوا ہوگا ؟
***************************

سیاست ؟ مہذب ممالک میں ،
سوشل ورکر کی اعلی ترین قسم کے انسان کو سیاستدان کہتے ہیں ۔
جو اپنی معاشرت اور ملک کو سدھار کی راہ پر رواں رکھنے کے لئے ،آئین کے دائیرے میں رہتے ہوئے ،اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اسی کام میں جتے رہتے ہیں م،۔
لیکن
پاکستان میں ؟
سیاست ؟ فوج کے لے پالکوں کے درمیان کھینچا تانی کا نام ہے ، جن کی آدھی صلاحیتیں “ محلاتی سازشوں” میں ہی ضایع ہوتی رہتی ہیں ،۔
اور باقی کی آدھی ؟ مال اکٹھا کرنے میں ،۔

*********************
گوجرانوالہ کی کسی فیکٹری میں دو کاریگر  باتیں کر رہے تھے ۔
جیدا سائیں کہتا ہے
میرے بچے جوان کیا ہوئے ہیں میری تو سنتے ہی نہیں ہیں ،۔
میں تو گھر میں کتا بن کے رہ گیا ہوں
تم سناؤ ، تمہارے گھر والے کیسے ہیں ؟
بٹ صاحب گویا ہوتے ہیں ،
میرے گھر والے مجھے خدا کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں ۔
میں تو اپنے گھر کا خدا ہوں خدا ، میرے گھر والے مجھے پکارتے ہی تب ہیں
جب ان کو  اپنی کسی خواہش کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،۔
حاصل مطالعہ
بس جی گھر میں سب کا ایک ہی حال ہے ۔
تحریر : خاور کھوکھر
**********************
عمران کے متوالے   یہ سمجھتے ہیں کہ
عمران کے وزیر اعظم بنتے ہی  پاکستان ، پری ستان بن جائے گا ،۔
PAKISTAN
میں سے  K کو  اڑا کر  R کر دیں گے ۔ْ
نیو PAKISTAN ہو گا  
اصلی PARISTAN  ۔
ایسے  K !!۔
**********************

اسی کی دہائی میں ،اپنی عمر کی دوسری دہائی کے پہلے سالوں میں ، جاپان پہنچے لوگوں کو تو موت ہی یاد نہیں تھی
کیونکہ نہ تو ان کا کوئی دوست مرتا تھا اور نہ ہی ان کو کسی جاپانی کی موت کا علم ہوتا تھا ،۔
اب جب کہ زیادہ تر اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں ہیں تو ؟
یہی سننے کو ملے گا
وہ بھی گیا اور وہ بھی گیا ، اس بات کا کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ اگلی باری " میری " بھی ہو سکتی ہے ،۔
مشقت کو نیچ جان کر تن اسانی کی تلاش میں نکلے لوگون کو جاپان کی معیشت نے تن اسانی میسر کر دی ۔ْ
انکھون کی بھوک کو حلال فوڈ کے سستے ترین ایمورٹڈ گوشت نے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ نکل سکی انکھون کی بھوک
کہ
جس کی انکھوں میں بھوک بس جائے اس کو  پنجابی میں لینج کہتے ہیں ۔
اور لینج لوگ جب کھانا کھاتے ہیں تو معیار نہیں مقدار دیکھتے ہیں ،۔
اس کو کہتے ہیں “ لڑ مارنا”۔
بہت کم لوگوں اس بات کا ادراک تھا کہ کائینات کے ازلی اصولوں میں مشقت ہی تن درستی کی قیمت ہے ۔
اور دین ابراہیمی میں جو سات جرم بتائے گئے تھے ،۔،
چوری ، زنا، لوبھ ، کرود ، جھوٹ ، وعدہ خلافی ،
ان میں ساتوں جرم تھا بسیار خوری
یعنی “ لڑ مارنا” ،۔
اکثریت کو ادارک نہیں تھا اور جن کو ادارک تھا ،؟
وہ اپنی دنیا میں مگن رہے ، کیونکہ جاپان کے معاشرے میں پناھ گزین پاکستانیوں کی اکثریت  دوسروں کو اس کی مالی حالت کے تناسب سے عزت دیتی تھی م،۔
بسیار خوری اور تن اسانی کی سزا ہے کہ جاپان ، جس ملک میں مقامی لوگوں کی عمر کی اوسط 96 سال ہے ،۔
یہاں پاکستانی  اپنی پچھلی دھرتی  کے لوگوں والی اوسط عمر 53 سال میں ہی دنیا سے کوچ کئے چلے جاتے ہیں م،۔
پنجابی ادب سے ایک شعر
شکر دوپہرے ، میرا ڈھل چلیا پرچھاواں
قبراں اڈیکدیاں ، جیویں پتراں نوں ماواں
(شیو کمار بٹالوی)
***********************************

جاپان میں پولیس نے پوکے مون ڈویلپروں کو طلب کر لیا ،۔
نیٹ سورسز کازو :  ٹوکیو کے مشہور پارک اودائیوا میں پولیس نے پوکے مون بانے والی کمپنی کے ڈویلپروں کو اس وقت طلب کر لیا
جب یہاں پارک میں سینکڑوں  لوگوں کے جمع ہونے سے نقص امن کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا ،۔
ٹوکیو کے ساحل سمندر پر واقع اودائیوا پارک دنیا بھر میں نایاب پوکے مون کا شکار ملنے کے لئے مشہور  گیم پوائینٹ ہے م،۔
منگل کے روز سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ کے اکٹھے ہو جانے پر پولیس کو کئی فون کا ملیں ، جس کی وجہ سے پولیس کا عملہ جب پارک میں پہنچا تو انہون نے دیکھا  کہ موبائیل فونون پر پوکے مونز کے شکاری اتنے مگن ہیں کہ ان کو ٹریفک کے خلل اور پیدل چلنے والوں کی مشکل کا بھی احساس نہیں ہے ،۔
تو پولیس نے پوکے مون کے ڈویلپروں کو بھی وہاں طلب کر لیا
تاکہ ان کو بتایا جا سکے کہ موقع واردات میں گیم سے کس قسم کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں ،م۔
بعد میں پوکے مون کے ترجمان نے جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے  پر آ کر پوکے مون شکاریون کے لئے پیغام دیا کہصاف لوگ اپنے روئے کو اس طرح کا رکھیں کہ دوسروں کو دقت پیش نہ آئے اور اپنی حفاظت سے غافل نہ ہوں ،۔

**************
اوری میں حملہ کر کے “انہوں “ نے ہمارے بندہ مار دئے ہیں ۔
پم نے بھی ٹوئیٹر پر  #اروی-اٹیک کے ہیش ٹیگ کے ساتھ  دشمن کی نیندیں اڑا دی ہیں م،۔
ویلکم ٹو انڈیا !،۔
فار ایکشن ؟ ووئی واچ موویز!!،۔

************************
حالیہ پاک بھارت ٹینشن کے تناظر میں
یہاں بمبئی میں ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے ،
جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان  میں اندر جا کر مار کرنے کے لئے ایک کمانڈو گروپ ترتیب دیا جائے جو کہ پاکستان میں موجود سارے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباھ کر دے گا ،۔ اخر میں پاکستان کے ایٹمی  پلانٹ کو تباھ کر کے ، نواش شریف اور راحیش شریف کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔
اس فلم کا نام رکھا جائے گا “  مہا یدھ “ !!،۔
*************************

تھوڑا ہس وی لو
بڑی سوہنی  تے وڈی ساری پراڈو دے کول کھلوتا ہویا سی ،۔
شو مارن لئی او ، کونی   چک کے ہتھ لمبا کر کے پراڈو دی چابی کن وچ پھیردا سی پیا ،۔
مائع لگے کپڑے سن تے کچھ وچ آیا ہوا مڑکا (پسینہ) وی دِس دا سی پیا ،۔
ویگن بدلن لئی اڈے تے اتریا ، اگلیاں پنڈاں وچوں کسے پنڈ دے اک مسافر نے اینہوں کن وچ چابی پھیردیاں ویکھیا تے
آکھن لگا
پاء جی ! تہاڈا دماغ دھکا سٹارٹ لغدا اے  ، چابی نال سٹارٹ نئیں جے ہونا،۔
پراڈو والا غصہ کر گیا مسافر نوں گالاں کڈن لگ پیا
نالے اکھدا اے
اوئے تینوں پتہ ہے میں ہے کون  آں ؟؟
مسافر نے معافی منگ کے جان چھڑائی  تے کول تماشا دیکھدے ، گامے نوں پچھدا اے ۔
اے صاحب ہیں کون جی تے اینہاں دا ناں کی اے؟
گاما اینہون دسدا اے
امریکہ والے وڈے پراھ نے اینہوں پراڈو لے دتی ہے تے
اے آپی ہے کی شے وے ؟ ایس دا اینہوں آپی وی نئیں پتہ  کہ اے ہے کون !،۔
مسافر چونک کے پچھدا اے
اے کی گل ہوئی جی ؟؟؟
اوے پائیا  ایس دی ماں ایس دے پیو نوں کتا آکھدی اے تے
ایس دا پیو ایدھی ماں نوں بلی آکھدا اے
ایس لئی اس نوں اجے آپی وی پتہ نئیں کہ اے
کتورا اے کی بلونگا!!،۔

Popular Posts