ہفتہ، 3 نومبر، 2018

کتاب چور لڑکی


یہاں جاپان میں ایک لڑکی کتابیں چوری کرتی ہوئی پکڑی گئی ہے ،۔
ہائی سکول کی سٹوڈنٹ یہ لڑکی اسٹیشن کے سامنے والی بک شاپ  میں داخل ہوتی ہے ،۔
گھوم پھر کر چلی جاتی ہے ، چند گھنٹے بعد دوبارہ آتی ہے ،۔
سٹور میں گھومتی پھرتی ہے ، سٹور کیپر  اس لڑکی کا بیگ چیک کرتا ہے تو اس میں دس بارہ کتابیں ہوتی ہیں جن کی قیمت ادا نہیں کی گئی ہوتی ہے ،۔
سٹور کیپر  پولیس بلا لیتا ہے ، پولیس کے سوال کرنے پر لڑکی بتاتی ہے کہ اس سے پہلے والے پھیرے میں بھی اس نے کوئی دس کتابیں چوری کی ہیں ،۔
حالانکہ کہ لڑکی نابالغ ہے لیکن اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،۔
کیونکہ مال مسروقہ کی مالیت کوئی چھتیس ہزار  ین بنتی ہے جو کہ  پولیس کیس تیار کرنے کے لئے جاپانی سماج میں خاصی بڑی رقم سمجھی جاتی ہے ،۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لڑکی ان کتابوں کا کرتی کیا ہے ؟
جیسا کہ پچھلے سال اسی شہر میں ایک کیس ہوا تھا کہ ایک مڈل سکول کی طالبہ پکڑی گئی تھی جو مانگا اور کامک بکس چوری کر کے ان کتابوں کو پرانی کتابیں خریدنے والی دوکان پر بیچ کر جیب خرچ نکالتی تھی ،۔

لیکن اس کیس میں ایسا نہیں ہے ،۔
ہائی سکول کی طالبہ نے جو کتابیں چوری کی ہیں ان میں سے ایک کتاب کا نام ہے 
لوگ گریتھم کو سمجھنے کے اسان اور دلچسپ طریقے ،۔
باقی کی  ساری کتابیں بھی  خشک اور تحقیقی مواد سے بھری ہوئی ہیں ، جو کہ پرانی کتابوں کی دوکان پر  ناقابل فروخت ہیں ۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کتابیں اپنے پڑھنے کے لئے چوری کی ہیں ،۔
اس کیس میں لگتا ہے کہ لڑکی کو اپنی تعلیم کے لئے جس تحقیق کی ضرورت تھی ، وہ کتابیں اس کو سکول کی لائیبریری یا کہ بلدیہ کی لائیبریریوں میں میسر نہیں تھیں ، اس لئے اس نے یہ کتابیں چوری کی ہیں ،۔
اب دیکھیں کہ جاپانی سوسائیٹی  اس کیس کا کیا حل نکالتی ہے ،۔
ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکی اپنے شہر کی لائیبریری میں بھی جانی پہچانی شخصیت ہو ،۔
اور شہر کی انتظامیہ کو اپنی لائیبریری میں  ایسی کتابیں نہ رکھنے پر شرمندگی اٹھانی پڑے کہ جوان محقیقن کو چوری کیوں کرنا پڑی ؟
لڑکی کے والدین کو بلا  کر بھی شرمندگ دلائی جائے گی کہ ایسا کیوں ہوا ؟


کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts