ہفتہ, ستمبر 24, 2016

گرم پانیوں کی جنگ کی حقیقت


میرے خیال میں سوشل میڈیا پر پاک جاپان روس تعلقات کے بہتری کی طرف رواں ہونے کوئی ایک سال پہلے لکھا تھا ،۔
اور یہ بھی لکھا تھا کہ عام عوام تک یہ معلومات کوئی چھ ماھ یا سال بعد پہنچیں گی
فیس بک پر مجھے فالو کرنے والے اور فرینڈز یہ بات جانتے ہیں م،۔

اس لئے میں ان روسی فوجیوں کی فوجی مشقوں کو پاکستان کے مستقبل کے لئے اچھی چیز سمجھتا ہوں ،۔

باقی جو بات ہے ماضی میں روس کو گرم پانیوں تک رسائی سے روکنے کی تو ؟
وہ اک بہانہ تھا
صدیوں سے افغان حملہ آور ہمارے علاقے میں اتے ہیں اور لوٹ کر چلے جاتے تھے ،۔
جب راجہ رنجیت سنگھ نے ان کو طورخم تک کے علاقے کو اپنی حکومت میں شامل کر کے ، قندھار تک حملے کر کر کے جو کام کیا تھا اس سے
  افغانون کو سمجھ آنی چاہئے تھی کہ اب " دال خور " جاگ گئے ہیں  ،۔

اس لئے اپنی فصلیں اگئیں ۔
اناج لوٹ کر لے جانے کی عادت پر قابو پائیں
احمد شاھ ابدالی کے بعد  رجنیت سنگھ کی وجہ سے افغان حلمہ نہ کر سکے
اس کے بعد برٹش گورمنٹ نے ان کو روک لاگئی رکھی ۔
پاکستان بنے کے بیس سال بعد ہی ان افغانوں کے اندر کی وحشی جبلت ان کو پاکستان پر حملے کے لئے اکسانے لگی ۔
اور سردار داؤد خان نے ماضی قریب میں پھر حملے کا پروگرام بنایا تو ؟
بھٹو نے افغان سیاست میں انارکی ڈال کر افغانستان کے حالات خراب کئے تاکہ افغان اپنے اندر کا جنگی گند اپنے ملک میں ہی نکالنے کے قابل ہو سکیں ،۔
اس انارکی کو سنبھالا دینے کے لئے جب روس افغانون کی مدد کو آیا تو ؟
گرم پانیون کا بہانہ بنا کر رینجیت  سنگھ کانے کے بعد دوسرے کانے ضیاؑ نے افغانستان کا بیڑا ہی غرق کر دیا ،۔
لیکن اصل معاملہ گرم پانی اور روس کا نہیں تھا
اصل معاملہ افغانوں کی وحشی جبلت کو روک لگانے کا تھا ،۔
اب جب معاملہ کچھ نہج پر آیا ہے تو ؟
پاکستان خود سڑک بنا کر روس کی گئس کی پائپ لائین بنا کر روس کو گرم پانیوں تک ویکم کہہ رہا ہے ،۔

افغانون میں اب بھی اگر عقل ہے تو بجائے اپنی لوٹ مار کی وحشی جبلے کی تسکین کے
اپنے ملک کی زراعت کو ترقی دیں اور افیم کے علاوہ گندم وغیرہ بھی اگا لیا کریں ،۔
اگر افغان یہ سمجھتے ہیں کہ احمد شاھ ابدالی  نے اٹک تک کنٹرول کیا تھا اس لئے افغانستان اٹک تک ہے تو ؟
اس کے بعد رنجیت سنگھ نے قندھار تک کنٹرول کیا تھا  تو کیا پاکستان قندھار تک کا ہے ؟
ہا ں ہے اگر ملا عمر کو امریکہ ٹھکانے نہ لگا دیتا تو ؟
 ملا عمر قندھار سے جلال اباد تک کی پٹی کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانا چاہتا تھا ،۔
پاک روس تعلقات زندہ باد
مجھے پوتن صاحب کا وہ تقاضا بہت اچھا لگا تھا جو انہوں نے 2015ء کے شروع میں راحیل شریف اور نواز شریف کو باری باری بلا کر کیا تھا ۔
وہ تقاضا تھا ،۔
مجھے پاکستان میں محفوظ حالات چاہئے !!،۔
پوتن صاحب کا یہ تقاضا میرے دل کی آواز ہے ،۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts