منگل, اکتوبر 13, 2015

کرامتی مراثی

 مراثی کے مرتے ہی  منظر بدل جاتا ہے۔
موت کے فرشتے کرامتی مراثی کو
کرامت صاحب کرامت صاحب کہہ کر پکارنے لگتے ہیں
یه بگھی آ گئی ہے جی کرامت صاحب قبلہ !ـ
ادھر تشریف لائیں حضور کرامت صاحب !ـ
کرامتی مراثی کہ ٹک ٹک دیدم 
اور گھگی بندھی آواز میں کہتا ہے۔
 کہ
 جی کوئی غلطی لگ گئی ہے آپ کو فرشته صاحب !!۔
میں ہوں جی سدا کا کرامتی مراثی !ـ
کہیں یہ نہ ہو بعد میں بے عزتی کردیں میری ۔

سجی دھجی سواری میں بٹھا کر کرامتی کو  عدالت میں پیش کیاجاتا ہے
تو کرامتی سجدے میں گر جاتا ہے
 جی سچے بادشاھ صاحب اپ کا درشن هو گيا۔
 اب بے شک جہنم میں پھینک دیں  ساری زندگی کی کچلی  حیاتی کا کوئی گلہ نہیں  !ـ
ایک دفعه میں چوھدریوں کے گھوڑے پر چڑھ گیا تھا
اور اس پر بڑی لترول هوئی تھی
اپ کو بھی اگر کوئی غلطی لگ گئی  تو جی معاف کردیں میں کرامتی مراثی ہی ہوں  !ـ
کرامت   کہہ کر بلانے کی عزت ہی کافی ہے جی مجھے ۔
فرشته رضوان فائیل کھول کر پڑھنا شروع کرتا ہے  کہ جی
پیدائیشی نام کرامت علی، قوم مراثی ، ساری زندگی کسی کو دکھ دیا ناں دھوکہ
گناھ کوئی ناں بندوں نہیں،  خدمت ہی کرتے زیست گزار دی اس لیے کرامت صاحب کو جنت میں محل الاٹ کرنے کی سفارش کی جاتی ہے ـ
رضوان کی سارش قبول ہو جاتی ہے ۔
حکم جاری ہو جاتا ہے ۔
جنت میں محل اور جنت کی ساری نعمتوں   کرامت کو مہیا کرنے کا ۔
کرامتی کو لے کر پروٹوکول افسر ٹائیپ فرشتے محل میں جاتے ہیں اور کرامتی کو سارا محل دکھاتے ہیں که جی اب یہ آپ کا ہے
اور آپ اب جنت میں ہیں
یہاں اپ کی ہر خواہش پوری کی جائے گی !ـ
کرامتی نے محل کی ڈیوڑہی میں منجی ڈلوا لی اور کہنے لگے که جی مجھے یہی ٹھیک ہے
فرشتوں نے بہت کہا که جی یه سارا محل آپ کا ہے اور اب آپ کی ہر خواهش پوری ہو گی
مگر کرامتی کو یقین ہی نہیں آ رها تھا ـ
فرشتوں کی بار بار تکرار پر کہ یہاں ہر خواهش پوری ہو گی پر 
کرامتی جھجکتے ہوئے کہتا ہے۔

اچھا ؟ کیا آپ لوگ مجھے هر روز  تندور کی پکی دو روٹیاں اور کم شورے والی گاڑھی دال دے سکتے ہو؟؟
یه سن کر فرشتوں نے شرم سے سر جھکا لیا کہ 
جی اس بندے کی سوچ ہی اتنی ہے۔
 حاصل مطالعہ
تو ناداں چند کلیوں پہ قناعت کر گیا
ورنہ  گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا۔

بندے کو سوچ بڑی رکھنے چاہئے
 بڑی سوچ والے لوگ ہی بڑے کام کرتے ہیں ۔


کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts