جمعہ، 15 مارچ، 2013

سوشی اور ساشمی ، جاپانی پکوان

بہت ہی بچپن میں غٖالبا چوتھی جماعت کی عمرکی بات ہے کہ میں کہیں سے سنا کہ پڑھا
جاپانی لوگ کچی مچھلی کھا جاتے ہیں۔
پنجاب میں جہان سمندر کی مچھلی کا تو تصور بھی محال تھا
بلکہ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کی سرحدیں ملتی دھرتی کے علاقے میں تو دریا بھی بہت دور ہیں کہ
بس سنا کرتے تھے دریا کی مچھلی میں صرف ایک دو ہی کانٹے ہوتے ہیں
ہمارے نزدیک مجھلی کا تصور تھا جوہڑوں میں پلنے والی مچھلی ،ڈاؤلا، ٹچر۔ کینگڑ، للاکھی،اور کبھی کبھی ‘‘ملی‘‘ نامی مچھلی۔
ان مچھلیوں میں کینگڑ اور للاکھی تو ایسی مچھلیاں تھیں کہ ان کو پکڑنا خود کو زخمی کرنے والی بات ہوتی تھی۔
اس مچلیوں میں اتنے کانٹے ہوتے تھے کہ خدا کی پناھ۔
ایک دفعہ جب سنا کہ گدو بیراج کی پلا مچھلی دنیاکی لذیذ ترین مچھلی ہوتی ہے تو
میرا تصور مجھے یہی دیکھا سکا کہ
ڈولے کا پونگ یعنی بچہ ڈولا کے جیسی لذت ہو گی
اس لئے کہ دولے کے پونگ کے کانٹے نرم ہونے کی وجہ سے میں اس مچھلی کو کانٹوں سمیت چبا جاتا تھا۔
اس لئے جب یہ سنا کہ جاپانی لوگ کچی مچھلی کھا جاتے ہیں تو تصور یہ تھا کہ چھپڑ سے نکالی مچھلی کو ایسے ہی کھا جاتے ہوں گے جیسے ہم کسی کھیت سے گاجر یا مولی اکھاڑ کر کچر کچر کھا جاتے ہیں ۔
مدتوں بعد جب جاپان میں کچی مچھلی کھانے کا اتفاق ہوا تو احساس ہوا کہ میرا تصور کتنا غلط تھا۔
سوشی کا نام بہت سے لوگون سے سنا ہے اور پڑھا
اج ہم بات کرتے ہیں سوشی اور ساشمی کی۔
کھانے صرف پکوان ہی نہیں ہوا کرتے ۔
سوشی کا حدوداربعہ ساشمی کے بغیر کہنا مشکل ہے
ساشمی کہتے ہیں مچھلی کے گوشت کے قتلوں کو ، جن میں سے کانٹوں کو نکال باہر کیا گیا ہو۔
کم بیش ایک سنٹی میٹر چوڑے اور چار سے چھ سنٹی میٹر لمبے یہ قتلے انتہائی نفاست سے کاٹے گئے ہوتے ہیں ۔
لیکن یاد رہے کہ ساشمی اورسوشی میں استعمال ہیونے والی مچھلیاں جہان تک میں نے دیکھا سنا ہے ، صرف سمندر کی مچھلیاں ہی ہوتی ہیں ، میٹھے پانی(دریا) کی مچھلی کو کچا کھانے کاجاپان میں بھی ماحول نہیں ہے ۔
ساشمی میں کٹی ہوئی مچھلیوں کے قتلوں کو انتہائی نفاست سے پلیٹ میں یا لکڑی کی جھوٹی سی چوکی پر رکھ کر پیش کیا جاتا ہے ۔
ساشمی کو رکھنے کے لئے اس کے نیچے باریک اور لمبی کٹی ہوئی مولی کا کشن بنا کر رکھا جاتا ہے ۔
پتلی اور لمبی کٹی ہوئی مولی ؟ اپ اس طرح سمجھ لیں کہ مولی کی سیویاں سی بن گئیں ہوتی ہیں ۔
ایک چھوٹی سی پلیٹ میں واسابی اور سوے ساس رکھ لیا جاتا ہے۔
واسابی؟ واسابی مولی کی ایک انتہائی کڑوی قسم ہے
یہ مولی بہت چھوٹی سی ہوتی ہے۔
اس مولی کا پیسٹ سا بنا لیا جاتا ہے جو کہ سبز رنگ کا ہوتا ہے ۔
اس کا ذائقہ ؟ بس جی واسابی کا ذائقہ واسابی جیسا ہی ہوتا ہے ۔
ماچس کے سرے پر لگے مسالے جتنی واسابی اپ منہ میں ڈال کر دیکھیں
اپ کے ناک میں سے ایسے لگے گا کہ اگ نکل رہی ہے۔
اس واسابی ملے سوے سوس میں لگا لگا کر ساشمی ،چاولوں کے ساتھ کھائی جاتی ہے ۔
دو سال پہلے تک جاپان میں کلیجی کو بھی ساشمی کے طور پر کھایا جاتا تھا ۔
لیکن اب اس پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔
سوشی
چاول کی ایک لقمے کے برابر کی مستطیل نما ڈلی سی بنا لی جاتی ہے، اس پر تھوڑی سی واسابی لگا کر
اس کے اوپر ساشمی والا ایک قتلہ رکھ کر پیش کیا جاتا ہے ۔
کھانے والا اس کو
سوے سوس میں ہلکا سا لگا کر کھاتا ہے ۔
سوسی کی ایک قسم نوری ماکھی بھی ہوتی ہے۔
نوری ایک قسم کی سمندری گھاس ہوتی ہے
جس کو پیسٹ بنا کر اس کو کاغذ نما پتلا کر کے سوکھا لیا جاتا ہے۔
عام نظرمیں یہ ایک گہرا سبزرنگ کا سیاہی مائل کاغز ہی لگتا ہے
اس کاغذ میں چاولوں کو لپیٹ کر چاولوں کے اندر مچھلی یا مچھلی کے ساتھ سبزیاں ڈال کر گول ڈنڈا نما لپیٹ لیا جاتا ہے ۔
اس ڈنڈے کو لقمے کے سائیز کا کاٹ لیا جاتا ہے تاکہ کھانے میں اسانی ہو ۔
اسی نوری نامی کاغذ میں چاول کو لپیٹ کر مٹھی بھر چاول کو اونی گیری کہتے ہیں ۔
محنت کش جاپانی معاشرے میں محنت کش لوگ کام پر جاتے ہوئے کچھ اونی گیریبان بنا کر ساتھ رکھ لیتے ہیں ۔ جو کہ ان کے کھانے کے کام اتی ہے۔
پچھلے دنوں جاپان میں بین القوامی سوشی کا مقابلہ ہوا تھا
اس میں یورپی اقوام نے بھی حصہ لیا تھا ۔
یورپی اقوام میں سے رومانیہ کے سٹال نے لوگوں کی توجہ کھینچے رکھی تھی ۔
رومانیہ والوں نے مچھلی کے قتلوں پر کئی قسم کی خوشبودار پتیوں کا ذائقہ دیا ہوا تھا
جیسا کہ ہم اپنے ہاں ، دہنیا یا میتھی کا خوشبو دار ذائقہ دیتے ہیں
لیکن اس مقابلے میں پہلے نمبر پر انے والا ملک تھا
ناروے!!۔



2 تبصرے:

shalla A J کہا...

مچھلی اور وە بھی کچی، بس تحریر کا کمال ہے کہ بساند نہیں آئی بلکہ شوق ہونے لگا کہ کوئی تصویر بھی لگائی ہوتی۔

hajisahb کہا...

خاور بھائی، اس تحریر میں مناسب تصاویر لگاتے تو تحریر کی سمجھ بہتر آتی۔
تمباکو کے پتے پیس کر تو کبھی کسی نے نہیں کھائے ہونگے مگر میں جب بھی واسابی کھاتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ ان تمباکو کے پتوں کا ذائقہ ایسا ہی ہوتا ہوگا۔
شروع میں جب دوستوں نے سوشی کھانے پر مجبور کیا تو میں واسابی کا خوب استعمال کرتا تھا کیونکہ اس طرح سے واسابی کی تکلیف سوشی کا ذائقہ ہی محسوس نہیں ہونے دیتی تھی کہ کیسی ہے یا کیسی نہیں ہے۔
جہازوں میں سلاد کے طور پر جب سوشی ملی تو پھر واسابی کے بغیر ہی ہمت کر ڈالی تو پتہ چلا کہ سوشی کھانا اتنا بھی نامناسب نہیں بس ذائقہ کیلئے اس پر ذرا سا لیمو ڈالدیا جائے تو۔
بہت ہی معلوماتی تحریر کیلئے شکریہ

Popular Posts