منگل، 5 مارچ، 2013

تہانوں کی ۔

بہت ہی افسوس ہوا یہ کارٹون دیکھ کر
وڈی سرکار کا میڈیا ونگ کیسے لوگوں کو احمق سمجھ کر ٹریٹ کرتا ہے
اور اس سے زیادہ افسوس ہو ان لوگوں کی عقل پر جو اس کو "بہت خوب " کے ٹائیٹل اور کومنٹس کے ساتھ شئیر کر رہے ہیں

لمحہ فکریہ کہ
اگر اپ کو یا اپ کے کسی عزیز کو پولیس یا کوئی ریاستی ادارہ اٹھا کر لے جاتا ہے
اپ کہاں فریاد کریں گے؟؟؟
اور اس بات کا فیصلہ کون کرئے گا کہ اپ کا عزیز  مجرم ہے بھی کہ نہیں ؟
یا کہ اپ کے کسی فعل کی کیا  وجوہات تھیں  کہ اپنی دانست میں ملک کی بہتری کے لئے کام کر رہے تھے
لیکن
اپ کو مجرم سمجھ کر پکڑ لیا گیا ہے
اس بات کی وکالت کون کرے گا؟
یا کہ جس جس کو حساس اداروں نے مار دیا  وہ سب مجرم تھے؟
تو اتنے سارے مجرموں کی موت کے باوجود ملک میں انارکی بڑہتی ہی کیوں جا رہی ہے؟
کہیں اصل مجرم " وہ " تو نہیں ہیں ، جن کو تم معصوم سمجھ رہے ہو؟؟
مثال دے کر واضع کرتے ہیں
افضل تیلی  کا ابا بیمار ہے
جس کی تیماردری کے لئے وہ  مردان کے ہسپتال میں ہے
شام کو اس کا بھائی آ جاتا ہے کہ
بھائی تم گاؤں جا کر ارام کر لو ، اج رات میں ابے کے ساتھ  ٹہر جاتا ہوں
افضل تیلی جو کہ  سائیکلوں کی مرمت کا کام کرتا ہے
نسوار اور چرس  کا بھی شوق رکھتا ہے
واپس گاؤں جاتے ہوئے  ایک ناکے پر ملیشا والے کھڑا کر لیتے ہیں
اس کے پاس سے تلاشی کے باوجود کچھ نہیں نکلتا
لیکن
خفیہ والے اس کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔
چند دن بعد اس کی لاش ملتی ہے
سارا ملک اس افضل تیلی کی  دہشت پسندانہ سرگرمیوں سے واقف ہو جاتا ہے ۔

میر خان  کا چھوٹا بھائی ایک  غیر ملکی فوج کے ڈرون حملے میں مارا جاتا ہے
میر خان غم سے نڈھال ہو جاتا ہے
اپنی قبائیلی جبلت اور رواج کے مطابق اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے
لیکن دشمن نظر نہیں اتا
میر خان ایک راکٹ لانچر کا انتظام کر کے دن رات اپنی چھت پر بیٹھا رہتا ہے
کہ
جب بھی ڈرون نظر ائے گا اس جہاز کو مار گرائے گا۔
میر خان کے ملک کی فوج جو کہ اس کے بھائی کی زندگی کو تحفظ بھی ناں دے سکی اور ناں ہی میر خان کے بھائی کے قتل کا بدلہ ہی لے سکی
اس فوج کے بندے آ کر میر خان کو راکٹ لانچر کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیتے ہیں ،
چند دن بعد  میر خان کی لاش بھی مل جاتی ہے ایک جگہ جھاڑیوں کے پاس ۔
میر خان کا ابا جس کے دو ہی بیٹے تھے
اس کے دل پر گزرنے والی واردات کا احساس کرنے کی ضرورت نہیں ہے
بس یہ دیکھیں کہ بدلے کی اگ میں جھلستے ہوئے اس " ابے " نے بارودی جیکٹ  پہنی
اور
ملکی فوج کے ایک قافلے کے اندر جا کر پھٹ گیا
اگلے دن کے اخباروں میں مذہبی لوگوں کا  خود کشی کی حرمت کا مناظرہ ہوا
فوج کی طرف سے اس کے دہشت گرد اور ملک دشمن  ہونے کا بتایا گیا
 ملک  کی سب سے بڑی عدالت نے
ملکی فوج سے پوچھ لیا کہ
میر خان کا بھائی ڈرون حملے میں کیوں مارا گیا؟؟
اور احمق لوگوں نے
عدالت کی حثیت پر جگتیں لگانے والے کارٹون بنا کر فیس بک پر لگانے شروع کردئے

پر  جی
تہانوں کی!!!۔

5 تبصرے:

کوثر بیگ کہا...

جب بھی ایسی خبروں پر نظر پڑتی ہے کلیجہ پھٹنے لگتا ہے لاکھ نہ چاھتے ہوئے بھی روز ایک دو نیوز میں ایسے خبر پڑھنے کو مل ہی جاتے ہیں ۔آپ جہاں کہیں کے بھی مسلمانوں کے حالات جاننا چاہے ہر جگہ یہ ہی حال ہے ۔ ہر صورت میں مسلم ہی مجرم سمجھا جاتا ہے اور سزا بھی اسے ہی ہر صورت میں ملتی ہے ۔۔۔یہ کب تک ہوتے رہے گا اور کیوں ہو رہا ہے اور اس کی روک تھام کیسے کرنے ہوگی ۔۔۔ اللہ ہی بہتر جانے

افتخار اجمل بھوپال کہا...

یہ کارٹون دیکھ کر بنانے والوں کی عقل پر رونا آیا ۔ ایک ہی تو جگہ رہ گئی ہے جہاں کسی حلال کی کھانے والے کی شنوائی ہوتی ہے اور یہ حرام کی دولت سے پلے لوگ اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں

Muhammad Abdullah کہا...

گستاخی معاف جناب یہ تو سارا وزن ایک ہی پلڑے میں ڈال دیا عدالت وی اتنی آئیڈیل نئیں جتنی آپکی باتوں سے ظاہر ہو ری

گمنام کہا...

کسی کو بھی بغیر ثبوت اور گواہوں کے سزا نہیں دی جاسکتی۔عدلیہ سے جن لوگوں کو سزائے موت ہوئی بھی ہے ان کی سزا پر عملدرآمد ہمارے رحمدل صدر مملکت نے رکوایا ہوا ہے۔عدلیہ کی آزادی ان کالی بھیڑوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔اسی لئے ہر روز ایک نئے ظریقے سے عدلیہ کیخلاف سازش اور پروپگنڈیا کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر جواد احمد خان کہا...

بہت اعلیٰ جناب۔۔۔

Popular Posts