بدھ، 23 جون، 2010

عورت مرد کی جنگ

اسماء که ایک پوسٹ پرمیں نے یه تبصرھ کیا
‎کسی سیانے نے کہا تھا که
‎میں عورت کے متعلق اپنی اصلی رائے اس وقت دوں گا جب میرے پاؤں قبر میں هوں گے اور رائے دیتے هی قبر میں چھلانگ لگا دوں گا
‎اور میں نے سوچ رکھا ہے که عورت کے متعلق اپنی اصلی رائے اس وقت دوں گا ، جب میں شجر ممنوعه چکھنے کے “جوگا” هی نهیں رهوں
‎میری اس تحریر سے کوئی اندازھ بھی لگا سکتا ہے اور میرا شجر ممنوعه والا کھیل ختم بھی هو سکتا ہے ؟؟
‎لیکن نهیں جی دیسی خواتین کو میں نے کبھی کھیل کا پاٹنر نهیں چنا ہے، اور ناں هی چننے کا ارادھ ہے اسی لیے اردو ميں لکھ بھی دیں تو جی میچ کھیلنے والے کھیل میں شامل هوتے هی رهیں گے که ان کو اردو کی سمجھ هی نهیں هے
‎کائینات کی یه سب سے بڑی حقیقت ہے که عورت پیاری بڑی لگتی ہے لیکن دیسی نهیں هونی چاھیے که اس کو اپنی عزت کا خیال هو ناں هو مجھے اس کی عزت کا خیال ہے
‎سکائیپ پر کال کرکرکے خاور پر ٹرائیاں کرنے والی بھی تھیں اور هو سکتا ہے که وھ یه بلاگ پڑھ بھی رهی هوں
‎ٹرائیاں کرنے کی وجه وھ تصاویر تھیں جو میرے پرانے پڑھنے والے جانتے هیں که بالغ لطیفوں والی سائیٹ پر لگی تھیں ـ
تواس کے جواب میں اپنی بی بی عنیقه نے یه جواب دیا
‎خاور صاحب، جب میں اکثر کمپیوٹر کھولتی ہوں تو لکھا آتا ہے اسکائیپ پہ فلاں شخص یا شخصیات آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میرے گھر کے آدھے سے زیادہ افراد باہر ہیں۔ اس لئے اسکائیپ استعمال ہوتا ہے۔میں نے ہمیشہ ان پیغامات کے متعلق یہ سوچا کہ یہ اسکاءیپ کا کچھ اپنا ڈیفالٹ پروگرام چلتا رہتا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں قطعآ نہیں جانتی۔ جبکہ کچھ ہماری اسی بلاگی دنیا کے لوگ ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے بہ نفس نفیس بات کرنے میں بھی دلچسپی نہ رکھتے ہونگے چہ جائیکہ اسکائیپ پہ قطعا بات کرنے کے خواہشمند نہیں ہونگے۔
‎تو اپنے بلاگی حضرات کی سمجھ دانیاں اور فہمیاں جاننے اور سمجھ لینے کے بعد میں یہ عین اپنا فرض کفایہ سمجحتی ہوں کہ اس وقت موجود بلاگر خواتین کی طرف سے آپکے اس خیال کی تردید فرمائووں کہ وہ آپ پہ ٹرائیاں مارتی ہیں۔ ان میں سے کوئ بھی مجھے اس جوگے نہیں لگتی۔ ان میں یہ ناچیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ مجھے اسکا تجربہ اس وقت ہوا جب فیس بک پہ ڈفر صاحب کی طرف سے مجھے یہ پیغام ملا کہ میں آپکو اپنے دوستوں میں شامل کر لوں۔ میں نے ایسا ہی کیا کہ ان دنوں میں نے کوئ سو سے اوپر لوگوں کو اس طرھ شرف دوستی دیا۔ پھر اسکے بعد آپکی طرف سے پوسٹ آئ کہ آپ دراصل فیس بک پہ دوستی کرنے کے لئے فارغ نہیں اور معذرت خواہ ہیں۔
‎حالانکہ میرے لئے اسکی کوئ ضرورت نہ تھی کہ فیس بک پہ موجود ڈیڑھ سو لوگوں کے تو مجھے نام بھی یاد نہ تھے۔ اگر میرے نام کے ساتھ آپکو کبھی بھی کوئ ایسی چیز ملے تو اسے ہمیشہ مشینی غلطی سمجھئیے گا۔ اس معاملے میں جب میں اللہ نے کثرت سے نوازا تھا تب بھی میں نے کام نہیں لیا۔ اور اب تو اور بھی کام ہے زمانے——–۔
‎اور ہاں عورت ہی نہیں، اس کائینات میں موجود مرد بھی بڑے پیارے لگتے ہیں۔ جب وہ اپنی اور دوسرے دونوں کی عزت کا خیال رکھتے ہیں۔
‎اور اس چیز پہ کوئ پوسٹ ضرور لکھئیے گا کہ مردوں کے یہاں بلوغت کا مسئلہ اتنی گھبیرتا کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ خدا نے ہر نوع کے جانور سمیت انسانوں میں بھی ہر دو جنس کو زندگی کے اس مرحلے سے گذرنے کا موقع دیا ہے۔
‎میں آپکے بلاگ پہ اب تبصرے سے گریز کرنا چاہونگی کہ آپکا یہ تبصرہ انتہائ خطرناک ہے۔

‎جس کو پڑھ کر اپنی اسماءبی بی جو که بیبی کم اور بابا زیادھ هیں ان کو بھی جاگ آکئی که خاور کی کیہندا اے
‎اور لکھتی هیں
‎جسطرح بيوقوف کو ايک لطيفے پر دو دفعہ ہنسی آتی ہے ميرا بھی يہی حال ہے اب عنيقہ ناز کے تبصرے کے بعد خاور صاحب کے تبصرے کی سمجھ آئی ہے واللہ چچا جان ميں تو آپکو اپنے حقيقی چچا کی طرح سمجھتی ہوں اور سکائپ بلا کا تو مجھے پتہ تک نہيں ميں نے تو ايک جو يونيورسٹی ميں ٹرائی ماری تھی اسی کی کاميابی کا دکھ جھيل رہی ہوں ويسے ميں نے ايک دن آپکے بالغوں والے لطيفوں کی سائيٹ جو کھولی اف ف ف
‎اور اب خاور کا جواب

بی بی جی بلکه بیبیو اپ کو غلط فہمی هو گئی ، میں بلاگر خواتین کی بات نهیں کررها وھ کوئی اور تھیں اور میرے پاس وقت بھی تھا اور باتاں بھی کی تھیں ،
ایک اپ خواتین کو هر بات اپنے اپ پر پھبتی کیوں لگتی هے؟
اور بلوغت والا سوال ایک جاپانی لڑکی نے بھی یا تھا
تو بی بی جی اس پر وھ والا لطیفه یاد آ گیا جب چرچل کو پاگل خانے کے معائینے کے دوران ایک صحتمند پاگل نے اپنی ذہنی صحت کا میڈیکل سرٹیفکیٹ هونے کا فخر کرکے چرچل کی ذہنی صحت پر شک کیا تھا
اس لے بی بی جی لڑکیاں تو جب سیانی هوتی هیں تو ان کو خود بھی معلوم هوجاتا هے که اج سے سیانی هیں لیکن مرد بے چارے بچوں والے هو کر بھی ایوں سے هی رہتے هیں
باقی اپ نے میرے پہلے تبصرے کو بالغ نظری سے پڑھا هوتا تو اپ کو اور بی بی عنیقه کو بھی معلوم هو جاتا که ميں لکھ رها هوں که جی دیسی خواتین میرے لیے ماں بہن جیسی هیں ، که ان کو اپنی عزت کا خیال هو که ناں هو میں ان کی عزت کرتا هوں
لیکن جی اپ خواتین بھی کمال کی چیز هیں که مجھ جیسے بندے کو عورت مرد کی بحث میں کھینچ لائی هیں
بے چارے ناتجربه کار یاکم تجربه کارلڑکوں کو تو اپ بے حال کردیں گی
بی بی جی میں عورت اور مرد کے تعلقات ميں ساری منازل سے گزرا هوں اور بار بار گزرا هوں
لطیف جذبوں کے سرخ بادل بھی دیکھے هیں اورکثیف جذبوں کے بن بارش کے سیلاب بھی
خود اذیتی کی لذت میں عورت مرد کے فرق کا پاک معاشرے میں تصور هی نهیں هے
ان مسافتوں کی باتیں اردو زبان میں نهیں لکھی جاتی که ابھی یهاں مرد هی نهیں عورتیں بھی بلوغت کی منزلوں کے وچکار هیں
خواتین کا معامله مشکل هوتا ہے که ان کی ساری عمر خود کو مرد سے بہتر ثابت کرنے میں گزر جاتی هے
باقی جی میں یه سمجھتا هوں که اگر اپ عقل مند هیں تو سب کو معلوم هو جائے گا که اپ عقل مند هیں اورر اگر اپ بیوقوف هیں تو چاھے کتنی هی ایڑیاں "چک چک' لیں اپ کا اصلی قد سب کو نظر اجائے گا
یه تو لوکاں سے پوچھیں یا لوکاں دے خیالات کی کھوج کریں اپ کے متعلق، تے فیر اصلی گل باہر نکلے گی
وھ مرزا صاحباں کی کتاب ميں لکھا ہے
ہس ہس لاندیاں یاریاں تے رو رو دیندیاں دس
جنس پر بات شروع کرلیں گی اور پھر سب کو بتاتی پھریں گی "اُس" نے یه کہا تھا
میں ایک دفعه پھر لکھوں گا که میں دیسی زنانیوں کو ماں بہن کر طرح سمجھتا هوں اس لیے بڑھی لکھی بیبیوں سے درخواست ہے که مجھ سے ناں لکھوائیں جو اردو میں نهیں لکھا گیا ہے بلکه انگریزی سے پڑھ لیں که عورت نامی جنس کا کیا مول هے مارکیٹ میں
هم دیسی مردوں نے عورت کو انمول بنادیا ہے
ہمارے معاشرے ميں ماں هوتی هے بہن هوتی هے بیٹی هوتی هے بیوی هوتی هے
لیکن بلوغت کی منزلوں کی زیادھ هی طے کرلینی والی فی میل ان پوسٹوں سے ترقی کرکے " ایک عورت" هی بن جاتی ہے . اور عورت نامی جنس جن باٹوں میں تلتی هے پھر مرد ان کو انہی باٹوں سے تولتے هیں
آگر اپ بیبیون نے بھی ترقی کرلی ہے تو مرد عورت کی جنگ جاری رکھیں ، لذت لینے والوں کو لذت کا سمان ملے گا
میرے گاؤں علاقے کی کسی عورت کی کہ کردیکھ لیں که خاور بدکار ہے تو وھ میری غیر موجودگی میں هی میری شرافت کی گارنٹی دے دے گی
کیونکه میں واقعی ایک چنگا مرد هوں دیسی بی بیوں کے لیے
میرے خیال ميں میرے کم لکھے کی زیادھ جانیں گی اور مجھے عورت مرد کی جنگ میں نهیں کھینچیں گی
که میں آپ لوکاں کو ان رشتوں ميں هی دیکھتا هوں جو میرے معاشرے میں رائیج هیں
ایک اور بات کی وضاحت کے فیس بک پر اپنی عدیم الفرصتی کی وجه سے نه جاسکنے پر جو میں نے لکھا تھا
اس کا مطلب یه هے که دوستو میرے پاس وقت کم هے اس لیے جو ضروری بات کرنی هو میل کرلیں یا فون
اس کا یه مطلب نهیں تھا که میں کسی خاتون کو سنا رها هوں ، کیونکه ان دنوں وھ والی سائیٹوں کی خواتین کی طرف سے جنک میل بھی بہت ارهی تھیں
اور مزے کی بات ہے که فیس بک کا اؤنٹ میں نے خود نهیں بنایاتھایه کسی نے بنادیا تھا مجھے تو میلوں کے انے سے معلوم هوا تھا که میری ای میل کا اکاؤنٹ بن چکا ہے اور بھر میں نے جا کر دیکھا تو نام بھی عجیب ساتھا جس کو میں نے بدل کردیا اور بس !!-

11 تبصرے:

عثمان کہا...

خاور بھائی
اس ساری بحث کو ایک طرف رکھیں اور میری مدد کریں۔ میں ایک امتحان میں پھنسا ہوں۔ پورے سو نمبر کا سوال ہے۔

مندرجہ ذیل کو جملوں میں استعمال کریں:

زبان سے نکلے الفاظ اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔
مقابلے کے بعد یاد آنے والا گھسن اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔
رات گئی بات گئی۔
منڈے کھیڈن کڑیاں نال۔۔۔۔نک کٹان چھریاں نال۔

bdtmz کہا...

عنیقہ بی بی نہ جانے کب جا کر فل سٹاپ لیں گی بات سمجھے بغیر بول پڑنے کو۔
میرا طریقہ کچھ یوں ہے کہ میں کم از کم ان کی بات پڑھ کر ایک دن لیتا ہوں کہ یقین آ جائے یہ واقعی سنجیدہ ہیں اس کے بعد میں بے اختیار ہنس پڑتا ہوں اور پھر وہی کھیل جو بلی اون کے گولے سے کھیلتی ہے

چونکہ محترمہ فضول بحث میں الجھ جائیں گی لہذا اگر وہ تشریف لائیں تو میری ان کو یہی نصیحت ہو گی باٹوں کو توجہ دیں باٹوں کو۔

ہیلو۔ہائے۔اےاواے کہا...

جیت اسی کی ہوتی ہے جو ہار کے ایسے جیتے کہ جیتنے والا جیت کے پچھتائے ۔

Jafar کہا...

آپ کی باتیں غور طلب ہیں۔۔
لیکن جن کو غور کرنا چاہیے ۔۔
وہ لے کے آجائیں گے
ہمچوما دیگرے نیست
کا بڑا بینر
اور لگائیں گے نعرے
خاور کو پھانسی دو۔۔۔

Jafar کہا...

آپ کی باتیں غور طلب ہیں۔۔
لیکن جن کو غور کرنا چاہیے ۔۔
وہ لے کے آجائیں گے
ہمچوما دیگرے نیست
کا بڑا بینر
اور لگائیں گے نعرے
خاور کو پھانسی دو۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

بس جی خاور کو پھانسی دو وہ بھی بھیچ چوراہے۔
ویسے آپ کا وہ تبصرہ تھوڑا سا الجھن پیدا کر نے والا تھا۔میں سمجھا تھا کہ پھیپھے کٹنی صاحبہ نے آپ پر ٹرائی ماری تھی۔
میرے جیسے ناسمجھ بھی پڑھتے ہیں۔کم فہمی کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ھو جاتی ھے۔
ذرا نظر ثانی کر لیجئے گا۔

عین لام میم کہا...

وہ لطیفہ تو سنا ہو گا کہ ایک خاتون نے پولیس والے کو کہا کہ وہ چشمے والے صاحب مجھے پریشان کر رہے ہیں۔۔۔ لیکن محترمہ وہ تو آپ کو دیکھ بھی نہیں رہے۔۔۔۔۔ہاں! تو یہ کیا کم پریشانی کی بات ہے۔۔۔۔!۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں سوائے اس کے کچھ نہيں کہہ سکتا کہ پينڈو مرد نال متھا لان واسطے جگرا چہيدا اے
بات آپ کی درست ہے ليکن مسئلہ وہی ہے کہ جسے سمجھنا چاہيئے اسے کم ہی سمجھ آتی ہے

پھپھے کٹنی کہا...

کل ميں گھر کی چھنڈا چاڑی ميں مصروف تھی اس ليے آج جاپانی کی چھنڈا چاڑی ، ميعے ميں وہ کون سی خصوصيات پائی جاتی ہيں جس سے جاپانی کو شک ہوا کہ ميں نے چچا جی پر لائن ماری ہو گي بتانا پسند فرمائيں گے

خاور کھوکھر کہا...

اسماء بی بی کی کومنٹ کا جواب دیا جارھا ہے اندیشہ بد امنی کی وجه سے
جواب ہے پوسٹ کو زرا غور سے پڑھیں
میں نے لکھا ہے که
بی بی جی بلکه بیبیو اپ کو غلط فہمی هو گئی ، میں بلاگر خواتین کی بات نهیں کررها وھ کوئی اور تھیں اور میرے پاس وقت بھی تھا اور باتاں بھی کی تھیں ،
ایک اپ خواتین کو هر بات اپنے اپ پر پھبتی کیوں لگتی هے؟
باق جیسا رویه ہے ناں جی اساء صاحبه کا ایسی خاتون کے کردار پر میں کٹخی بھی شک نهیں کرسکتا
که ایک خاتون تھی ہمارے گاؤں مين بڑی کھلی ڈھلی که مرد مار سی کاروبار بھی کرتی تھی اور حقه بھی پیتی تھی
بی بی چیمی کہتے تھے اس کو مردون کے ساتھ کاروبار مردوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا
لیکن کردار کی ایسی که کسی کو ٹرائی مارنے کی بھی جرأت نهیں هوتی تھی
مجھے تو اپ میں بھی ایک چیمی بی بی نظراتی هے

پھپھے کٹنی کہا...

چچا جی آپ کی بات مجھے سمجھ آ گئی تھی اسی ليے پھڈا نہيں ڈالا يہ تو ميں جاپانی سے دريافت کر رہی ہوں کہ انہيں مجھ پر شک کيوں ہوا
ويسے چچا جی ابھی ريٹائرمنٹ کا کب تک ارادہ ہے آپ کا؟

Popular Posts