بدھ, دسمبر 23, 2009

پاک ناپاک باتیں

نیا سال انے کو ہے ، ایک اور سال چلا گیا ، عمر بڑھتی جارهی ہے وه حسن جو همیں حسین نظر اتا هے ، اس حسن کو ہم بابے نظر انے لگے هیں ـ
یارو بنانے والے نے یه وقت بھی کیا چیز بنایا هے ؟؟
خود لامکان میں هے بنانے والا !!ـ لامکان کے معنوں پر غور کریں ـ
اور وقت میں قید مخلوقات مکان میں هیں وقت نام کے مکان میں وقت جو گزرتا هی چلاجارها ہے ـ
وھ جو بڑے بڑے ولی اللّه بنتے هیں وقت ان کو بھی رگیدتا چلاجاتا ہے ـ
اگر کسی کو اپنی زندگی کے بڑھانے تک کا هی پرمیشن مل جاتا ناں تو جی تو وھ بندھ خدا بن هی جاتا
لیکن جی ه سیاسی پارٹیوں کے گدی نشین ، جو پارٹیوں کے اندرونی الیکشن نام کی رسم کا ذکر بھی پسند نهیں کرتے اور ان سجادھ نشینوں کے چمچے لوگ ؟؟
شخصیت پرستی ایک لعنت هے ، ایک روگ ہے ، ایک کوڑھ ہے انسانیت کے جسم پر ،اور قران اس بات سے اتنی بار منع کرتاہے که کسی بھی اور بات سے اتنا منع نهیں کرتا ہے
لیکن جی بنی ادم بھی ایک هی احمق ہے که هر دور میں کچھ لوگ گھڑ هی لیتا ہے
پرستش کے لیے
روحانیت کے نام پر شخصیات کی پرستش سے بہتر هیں وھ لوگ جو شہوت کے لیے کسی حسین کی وقتی پرستش کا ڈرامه کرکے کسی اور حسین کی تلاش میں نکل جاتے هیں ـ
پاکستان کا باوا آم هی نرالا ہے
ہر چیز اپنی اپنی پوزیشن سے نکلے جارهی هے
ایک انجن میں کچھ پرزے هوتے هیں جو اپنی اپنی ذمه داری پوری کرکے انجن کو انجن بناتے هیں اور انجن روز بناتا ہے اور زور ؟؟ ایک حقیقت ہے چاہے بستر پر هو یا میدان ميں ـ
اکر ایک ملک کو انجن سے تشبیع دیں تو پاکستان کے انجن کی کرنک پسٹن بننے کی کوشش میں ہے ، اور پسٹن کیم شافٹ کا کام کرنا چاھتا ہے ـ
فوج سیاست میں اتی ہے اور اتی هی چلی جاتی هے ، سیاستدان فوج کے ٹیسٹیکل کی پرستش میں مصروف هیں ـ
که وھ پنجابی میں کہتے هیں ناں جی جس کے ـ ـ ـوں میں گریس هو گی وھی پردھان هو گا ناں جی ـ
تو یه سیاسی لوگ جس جس کے ٹیسٹیکل میں گریس دیکھتے هیں ماتھا ٹیکنے لگتے هیں ـ
اب جب جی ہر پرزھ مرضی کے کام کرنا چاھتا ہے تو پھر انجن انجن نهیں رھتا کچھ اور هی کہلوائے گا
کیا؟؟
کوئی پاک چیز !!ـ
پاک روپیه ؟ بے قدر
پاک لوگ ؟ بے قدر
پاک فوج ؟ بے قدر
لفظ کے معنے هی بدل گئے هیں
پاک ؟؟
وھ کورین زبان میں کاکروچ کو پاکی کہتے هیں ـ
اور کاکروچ کو هی فرانسیسی میں کافر کہتے هیں (کچھ تھوڑا سا لہجه کافر سے مختلف هوتا ہے لیکن کافر هی سنا جاتا هے )
پاک ملک ، پاک لوگ ، پاک چیزیں
سنا ہے پاکستان نے گوشت ميں پانی ملانے کی تکنیک میں بڑی ترقی کی هے
قوت مردانه کی اتنی کمی که دیواروں پر حکیموں کےاشتہارات لگے هیں
وھ جب بیل زیادھ ستانے لگے تو اس کو مشک کافور دیاکرتے تھے روٹی میں لپیٹ كر
که اس سے بیل کی شہوت کم هوجایا کرتی تھی
میرا یه حال تھا مڈل سکول کے دور ميں که
میں نے کئی دفعه مشک کافور کی گولیاں کھائیں تھیں
لیکن جی یه اتناکام نهیں کرتی هیں
پھر وهی واردات !!ـ
جس کے بعد زیاں کا ایک زبردست احساس !!!ـ
بڑے دنوں بعد اج وقت ملاتھا کچھ لکھنے کا لیکن ذہن میں کچھ خاکه نهیں تھا
اس لیے جو لکھا ہے اس کو برداشت کریں

3 تبصرے:

جعفر کہا...

بہت تلخ باتیں ہیں
سچی اور تلخ

Abdullah کہا...

<< پچھلا بلاگ | بلاگز | اگلا بلاگ >>
کیا ان دیکھے این آر او بھی ختم ہونگے؟
اصناف: پاکستان

جاوید سومرو | 2009-12-19 ، 1:58

چند روز پہلے سولہ دسمبر کی شام میں واشنگٹن میں قائم بنگلادیش کے سفارخانے بغیر کسی دعوت کے چلاگیا۔ کسی دوست نے بتایا تھا کہ وہاں بنگلادیشی، پاکستان سے اپنی آزادی کی تقریب منا رہے ہیں۔ پاکستانی کی حیثیت سے یہ خیال مجھے بہت عجیب لگ رہا تھا کہ کسی نے ہم سے بھی آزادی لی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں نہ انگریزی کی کہاوت میں کہ 'تجسس کی وجہ سے بلی ہلاک ہوگئی تھی' تو میں نے بھی جاکر تقریب دیکھنے کی ٹھانی۔

درجنوں چہچہاتے بچے، عورتیں اور مرد تقریب میں شریک تھے جہاں بنگلادیشی زبان میں ملی نغمے گائے جارہے تھے اور بعض سازندے مختلف سازوں سے سر بکھیر رہے تھے۔

میں نے سولہ دسمبر کے متعدد پروگرام پاکستان میں دیکھے ہیں اور ہر برس تقریباً یکساں قسم کے نکلنے والے اخبارات کے خصوصی شمارے پڑھے ہیں جن میں بنگلادیش کے قیام پر ماتم کے ساتھ ہندوستان کی سازش کو بے نقاب کیا جاتا ہے اور اگر کبھی مقرر یا مصنف کو تھوڑا سا غیرجانبدار بننے کا خبط سوار ہو تو کچھ تنقید بھٹو اور جنرل یحییٰ خان پر کرکے ضمیر کا بوجھ اتارنے کی کوشش کر لیتا ہے۔

لیکن عام طرح ان مظالم سے پہلو تہی کی جاتی ہے جو جنرل ٹکا خان اور جنرل نیازی کی کمانڈ میں بنگالیوں پر ڈھائے گئے۔ بنگلادیشی کہتے ہیں کہ لاکھوں بنگالیوں کو قتل کیا گیا جبکہ تقریباً دو لاکھ بنگالی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ اعدادوشمار پاکستانیوں کے لیے شاید متنازعہ ہوں لیکن عالمی ذرائع ابلاغ اور مختلف غیرجانبدار انسانی حقوق کے اداروں نے جو اعدادوشمار یکجا کئے ہیں وہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکانے کے لیے کافی ہیں۔

بنگلادیشی سفارتخانے میں جہاں یہ تقریب ہورہی تھی وہیں ڈھاکے میں قائم جنگی میوزیم سے لائی جانے والی تصاویر کی ایک نمائش بھی چل رہی تھی۔ تصاویر میں بچوں کی سوختہ لاشیں بکھری ہیں، ایک بچے کے دونوں بازو اور دونوں ٹانگیں کٹی ہیں، ایک میں بے نام لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے، ایک اور تصویر میں کنویں میں لاشیں پڑی ہیں، ایک اور میں جنسی زیادتی کا شکار عورتیں اپنے مسلمان بھائیوں کے دئے زخم چھپا رہی ہیں۔

میں نے سوچا میں کسی ماں، کسی بچے یا کسی والد سے جاکر معافی مانگوں۔ لیکن پھر مجھے علی محمد ملے۔ وہ تیرہ برس کے تھے جب ان کے خاندان پر قیامت ٹوٹی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات فوج ان کے گاؤں میں داخل ہوئی تو ان کا پورا خاندان سہما ہوا گھر میں اللہ سے دعائیں مانگ رہا تھا۔ علی محمد کے والد نے گھر والوں کو تسلی دی کہ گھبرائیں مت اپنی فوج ہے اس سے کیا خطرہ وہ تو ہندوؤں کو تلاش کر رہی ہے۔

لیکن علی محمد کے مطابق ان کے والد کی تسلی ختم ہی ہوئی تھی کہ ان کے گھر کے دروازے پر لات پڑی اور باوردی جوان اندر گھس آئے۔ گھر میں کہرام مچ گیا، عورتوں نے فوجیوں کی منت سماجت کی، قرآن کے واسطے دئے لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ علی محمد کے مطابق فوجیوں نے ان کے گھر کے سات مردوں کو (ان کے والد اور چھ چچاؤں کو) گھر سے باہر قطار میں کھڑا کرکے گولیوں کی بارش کر دی۔ سات گرم لہو خاک میں مل گئے۔

علی محمد کی آنکھیں نم ہوگئیں اور شاید میری بھی۔ میں نظریں چرا کر سفارتخانے سے باہر آگیا۔

دوسرے روز میں نے ایک جاننے والے کو یہ قصہ بتایا تو کہنے لگے ہاں یار بنگالیوں پر بہت ظلم ہوئے، انڈین فوج نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر ہزاروں پاکستان کے حامی بنگالیوں کو قتل کیا۔

میرا اتنی شدت سے دل چاہا کہ اس کو ایک زوردار تھپڑ ماروں (نہیں چماٹ ماروں، کیونکہ جو تسکین چماٹ مارنے سے ملتی ہے وہ تھپڑ میں کہاں)۔

اسی وقت ایک موہوم سی خواہش نے بھی دل میں جنم لیا کہ اب جب ملک سے بدعنوانی اور ظلم کو ختم کرنے کا بیڑہ سپریم کورٹ نے اٹھا ہی لیا ہے تو کیا ہی اچھا ہو اگر بنگالیوں پر مظالم کرنے اور ملک توڑنے والوں کو ان دیکھے اور ان لکھے این آر او سے دی جانے والی معافی کو بھی آئین اور قانون سے متصادم قرار دے دیا جائے۔

گمنام کہا...

yeh to naheen kaha ja sakta ke pak fauj ne mashraqi pakistan mein mazaalim naheen kiye. lekin yeh a'dad o shumaar bhee bohot barha charha kar banae gae haen.
bohot se bangali scholars bhi is baat ko tasleem karte haen.
lekin baharhaal, jitna bhi zulm hua tha, iska koi jaqaz naheen tha, kyun ke muslman par to jang mein bhi kai pabandiyan hoti haen. geneva convention ki naheen, farmaan-e muhammaddee ki.

Popular Posts