اتوار, ستمبر 13, 2009

آپنے لیے کچھ کرو جی

هر ملک کو حق حاصل ہے که اپنے لوگوں کے لیے کچھ کرے جو ان کے لوگوں کے لیے بہتر هو ، جیساکه امریکه اور دوسرے ترقی یافته ممالک کرتے هیں ـ
لیکن جی پاکستان ایک ایسا ملک هے جس کے حکمران آمریکه کے لیے " کچھ " کرنے کو بے تاب رھتے هیں اور عام لوگوں کو فلسطین کے لیے کچھ کرنے کا تاپ چڑھا رھتا ہے ، کچھ کو عراق کا عرق نکلتا نظر آتا ہے اور کچھ کو ویت نام اور جاپان پر هونے والے مظالم کی درد اُٹھ رهی هوتی هے ـ
میرے لوکاں کی کسی کو فکر هی نهیں هے جی ـ بلکه میرے لوکاں کو خود بھی اپنی فکر نهیں ہے
دو چیزیں بڑی طاقتور هیں جی پاکستان میں ایک بیورو کریسی اور دوسری
اللّه چنگا کریسی !!ـ
میری طرف سے جی کال پڑجائے کسی ملک میں یا طوفان آ جائے ، امریکه چڑھ دوڑے یا کوئی ڈنگر ، لیکن جی میرے بلوچیوں کو پٹھانوں کو ناں مارو جی ، مجھے درد هوتا ہے ان کی تکلیف پر جی ـ
اس لیے میں جہاد کے حق ميں هوں که یہی ایک چیز هے جو میرے لوکاں کو بچائے گی جی ـ
پیسے بناؤ جی لیکن ان پیسوں کو باھر کے ملکوں میں رکھنے کی بجائے پاکستان میں رکھو جی !ـ جی کهـ تو دیں لیکن حکمرانوں کو بھی معلوم ہے که اس طرح تو کسی دن یه لوگ جاگ گئیے تو چھین لیں گے ـ
هم جی دنیا کی زھریلی ترین قوم هیں !ـ جس کا زھر اس کے اپنے هی جسم میں سرایت کرتا جاتا ہے ـ
یه تو سب کو معلوم هے که مغربی میڈیا ههم لوگون کو گمراھ کرتا ہے لیکن اس سے گمراھ هو چکے لوگ خود کو اھل علم سمجھتے هیں ـ
اس وقت دنیا کا میڈیا جن کے ھاتھوں میں ہے وھ لوگ سادھ لوگوں کے اپنے هی خلاف اکسا اکسا کر امداد دینے والے سخی ملک کو دیکھا رهےهیں که جی دیکھو یه لوگ بڑے زھریلے هیں ، ان سے بچ کر رھنا ہے
اور سادھ لوگوں کو سخی ممالک کے خلاف اکساتے هیں که جی دیکھو سارے فساد کی جڑ یه ملک ہے ، اس کا کچھ کرو!ـ

همیں اپنے آپ سے دور کرنے کی دشمنوں کو سازش یه ہے که همارے سیانے لوگوں کو ایمپورٹ کرلو ، وه سیانے بھی بھی بس اتنے هی سیانے هیں که اندھوں ميں کانے تھے لیکن جب ملک سے دور هو گئے تو سیانف کی ترقی رک گئی اور بس ، پھر جی یه هوا که آپ دیکھ لوگ که شکار کی ایک تصویر بناؤ !!
اس میں شکاری کا حلیه سارا وھ والا هو گا جو که یورپی کے شکار کا هوتا ہے
آپنے شکاری کا حلیه هی کسی کو یاد نهیں هے
سکول ميں پڑھایا جاتا ہے
علی اپنے كتے كے ساتھ بیٹھا ہے
انگریزی سے ترجمعه کرکے کتاب بنائی ہے اس کو مسلمان کرنے کے لیے لڑکے کا نام علی رکھ دیا هے لیکن اس کو دیسی جانور نہیں دیا که اوریجنل سوچ هی ناپید هو چکی ہے ـ
بجلی کے بحران پر لوگ ورقے کالے کرهے هیں ، که جی سولر لے لو ، هوائی چکیان لے لو ، جنریٹر لے لو
بس جی لے لو خود سے نهیں بناؤ !ـ
اؤے بھلیو لوگوں جنریٹر کو بیل سے چلا لو ، ولاسٹی بنانے کے لیے اس کو فلائنگ وھیل لگا لو ـ
اس بات کا کسی کو بتاؤ تو جی لوگ زیر لب مسکرا دیتے هیں ـ
پاگل کهیں گا ـ
وه ایک دفعه میں پانی کے پمپ کو بیل سے چلانے کی بات کر رھا تھا اپنے پڑوسی گاؤں کے ایک چٹھه صاحب سے جو که پڑھے لکھے بھی هیں اور ان دنوں پرتگال ميں هوتے هیں ـ
ان چٹھه صاحب کو سمجھ هی نهیں لگ رهی تھی اور بار بار پوچھ رهے تھے که موٹر کیسے چلے گی؟؟
اوئے بھلیو لوکو میں موٹر کی جگہ پر بیل کو لگانے بات کر رها هوں لیکن وھ سوچ سوچ کر پھر کہتے تھے
پر موٹر؟؟
باقی جی هم نے پردیس میں رھ کر نچوڑ نکالا ہے که پاکستان کو کچھ بھی بھیج دو اس کا بنے گا کچھ نهیں
آپ لیب ٹاپ بھچ دو اپنے بھائی کو کچھ درجن که بیچ کر منافع کی بابت بتاؤ
تو نتیجه هو گا صفر
اور تو اور جی لاکھوں هی لوگوں نے اباجی لوگوں کو پاکستان میں کیش بھی بھیج کر دیکھا ہے
نتیجه هے صفر!!ـ
امریکه کا کچھ کرلو جی پھر سارے مسائل حل هو جائیں گے
بکواس !!ـ
اسرائیل فلسطین کا مسئله حل کرلو جی !!ـ
تو پھر ؟؟؟
اوئے اپنا کچھ کرو جی اپنا
وه اپنے سیالکوٹ والے اقبال صاحب تھے ناں جی ان کے بیٹے کے چیف جسٹس هونے نے ان کو قومی شاعر اور پته نهیں کیا کیا بنا دیا هے
لیکن جی شاعر بڑے کوالٹی کے تھے کیوں ناں هوتے نوابوں سے وظیفه ملتا تھا
بے فکری اور ترنگ میں گہـ گئے هوں گے
آپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی
تو گر میرا نهیں بنتا ناں بن ، اپنا تو بن
کسی کو عالم اسلام کا پڑا ہے
اور عالم اسلام کو زنانیوں کا پڑا ہے ـ
کسی کو حقوق نسوان کا پڑا ہے
اور زنانیوں کو ویاھ کا پڑا ہے
کسی کو کسی کا کسی کو کسی کا
کسی کو اپنا بھی فجر هے؟؟
سڑکیں ٹوٹی هیں
ادارے تباھ هو چکے هیں
سماجی نظام منافقت کی انتہا پر هے
آبادی بے هنگم بڑھے جارهی هے
گوجرانواله کا هر بندھ ھیپاٹیٹیس سی کا مریض هے ـ
اور چلے هیں جی امریكه نال متھا لگانے
بنڈ وچ گونھ نئیں ، تے کاوان نوں سینتراں!ـ

10 تبصرے:

عنیقہ ناز کہا...

اب صرف یہ بتائیں اپنے بارے میں سوچنا شروع کریں گے تو کہاں سے کریں گے۔ میرا جیسا ایک عام شخص ہنسی خوشی جو اسے میسر اس میں گذر کر رہا ہے۔ میں اپنے گھر کے پاس ٹوٹے روڈ کو صحیح کرانا چاہتی ہوں۔ یا تو میں موجودہ حکومتی ذمے دار کے پاس جاءونگی یا پھر انتظار کرونگی کہ نیا الیکشن ہو پھر میں اپنے علاقے کے لئے بہتر کام کرنے والے کو ووٹ دوں۔ لیکن میرے ووٹ دینے سے پہلے ہی نحوست پڑ جائے گی۔ جسے میں ووٹ دینا چاہتی ہوں کہ یہ کچھ کام کریگا، اسکے بارے میں مجھے کہا جائیگا کہ پہلے معلوم کروں ایک اچھا مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہے کہ نہیں۔ لیجئیے جناب، اب میں ہر فریق کی دوسرے کے متعلق لن ترانیاں سننے میں مصروف ہو جاتی ہوں۔ میرے گھر کے قریب کی ٹوٹی سڑک، میرے ملک کے افتادہ تر ہسپتال، تعلیمی نظام، صحت کی پالیسی، لوگوکے تحفظ کے قانون، معاشی آسودگی یہ سب مختلف فتاوی، اور آرٹیکلز کے بوجھ کے نیچے دفن ہوجاتے ہیں۔ ہمارا ٹارگٹ ایک بہترین مسلمان اپنی ذاتی شرائط پر بننا ہے تاکہ جنت الفردوس میں بہترین مقام حاصل کر سکیں اور خدا کے مقرب بندے کہلائیں۔ باقی دنیا کی زندگی تو آنی جانی ہے انسان کو اس لئے تو نہیں پیدا کیا گیا کہ وہ دنیا میں الجھ کر رہ جائے۔
اور یہ آپ نے کیا بات کی کہ آبادی کا بے ہنگم پھیلاءو، لا حول ولا قوت، مسلمان جتنے زیادہ ہوں جہاد میں اتنی آسانی رہتی ہے۔اگر ہم جہاد میں پابندی سے حصہ لیتے رہیں تو اس سے نہ صرف کافروں کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے بلکہ خود مسلمانوں کی تعداد بھی کنٹرول میں رہے گی۔ ایسی گہری باتیں اگر ہم سمجھ لیتے تو ہمیں ثریا سے زمین پر کیوں دے مارا جاتا۔
اب ناخلف اور ناہنجار لوگ بیٹھ کر نیم کا جوشاندہ پئیںریسرچ کہتی ہے کہ نیم کی پتیوں میں اینٹی بائیوٹک ہوتے ہیں اسے گرمی میں پینے سے تپ بھی نہیں ہوتی اور دوری بیماریوں ست بھی بچے رہتے ہیںاسکی نمکولیوں میں------۔ ،

گمنام کہا...

Khawar jee, leader bhee kiya karain. Akhree dafa aik ghair punjabi wazeer-e-azam nay amreeka say matha lagaya tu punjabiyoon nay tehrik chala kay isku phanda lagwa diya. Ub sab leaderoon ku mut ho gayee hai keah amreeeka kee maan lo warna yehee awam uth kharay hoongay.

راشد کامران کہا...

شاید تعلیم بالغاں میں ایک ترانہ پڑھا کرتے تھے

چین و عرب ہمارا ہمدوستاں ہمارا۔۔۔۔۔۔
رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا

یہ سامنے کی بات ہے کہ بہتری کا عمل اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے لیکن یار لوگوں کی ضد ہے کہ پہلے امریکہ سدھرے، اسرائیل کا وجود ختم کیا جائے، سارے یہودیوں‌ کو ہلاک کردیا جائے پھر بات کریں۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

دس سال کے کاکے کو بھی علم ہے کہ بہتری کا عمل اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اگر موضوع سخن امریکہ کا دوغلا جمہوری رویہ ہو تو بات امریکہ کے دو غلے پن پہ ہی ہوگی ۔ تانکہ موضوع کو ہر اینگل سے دیکھا جاسکے۔

کون اپنی طاقت کے مطابق حتی المقدر سخت ترین مخالف حالات میں اپنی ذات سے بہتری کی کوشش کرتا ہے ۔ اسکا اعلان کرنا ضروری نہیں۔ یہ الگ بات ہے جیسے خاور نے اوپر لکھا ہے کہ کچھ اپنے تئیں پڑھے لکھے لوگ بات کو "بیلوں سے موٹر کیسے چلے گی " کی بحث میں اصل موضوع کو دیدہ دانستہ گم کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک ذات کی اکائی کو کتنی ہی لاکھوں اکائیوں سے ملٹی پلس کر دیا جائے تب بھی ذاتی کاوشیں اسوقت تک رنگ نہیں لا سکتیں جب تک ان کوششوں کو سبو تاژ کرنے والی دنیا کی رذیل ترین اشرافیہ اور بیرونی ممالک اور امریکہ کے وارے نیارے جانے والے ماسوائے امریکن مفادات کی تکمیل اور بدلے میں اپنی جان کی امان ، پاکستان میں اقتدار اعلٰی اور پاکستان کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کی خیرات پانے چور اورحکمران اور کرپٹ نظام ختم نہیں کیا جاتا۔

مٹکے میں ساردان پانی بھرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔جب تک مٹکے کے پیندے میں سوراخ بند کرنے کی کوئی تدبیر نہ کی جائے مٹکے میں پانی نہیں ٹہرے گا۔

کسی ملک میں ادارے ، فنڈ اور انکے زمہداران اس لئیے ہوتے ہیں کہ وہ مسائل کا حل نکالیں ۔ اپنے وسائل کو ترقی دیں۔ جیسے جاپان سمیت باقی دنیا میں ہے ۔ اگر ادارے درست کام کر رہے ہوں تو عوام بھی درست سوچ اور اخلاق اپناتے ہیں۔ لیکن جہاں پتہ ہو کہ خون پسینے کی کمائی پہ دئیے جانے والا ٹیکس خرد برد ہوجائے گا ۔ وہ محکمے جو رشوت کو ختم کرنے کے لئیے قائم کیئے جاتے ہیں ۔ انھیں اگر رشوت نہ دی تو آپ کا جائز معاملہ ناجائز ثابت کر دیا جائے گا ۔ جو ادارے قانون کے نام پہ قانون شکنی کرتے ہوئے آپ سے اپنی خدمت مانگتے ہیں انکی خدمت نہ کی تو آپ پہ ناجائز مقدمہ بنا دیا جائے گا۔ ملک بھر کے مانگت جب آپ کے مالک بنے بیٹھے ہوں تو اسیے میں اخلاقیات اور کچھ کر گزرنے کا سا را بوجھ عوام پہ منتقل کرتے ہوئے عوام کے ہاتھ باند ھ کر انھیں کہا جائے تم کچھ کرو ۔ تو بندھے ہاتھوں تو وہ وہی کچھ کر سکتے ہیں جو آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ وہ زندگی کی سانسیں رینگ رینگ کر لے رہے ہیں ۔ پنچھی کے پر باند ھ کر مطالبہ کرنا ۔پرواز کر ۔ یہ زیادتی ہے۔
فاضل دوست ذاتی کوششوں کو جو نام مرضی دیں لیں مگر جب تک نظام ایک درست رخ نہیں پکڑتا پاکستان میں عام آدمی کی حالت بدلنے کا گمان کرنا دیوانے کا خواب ہے۔

راشد کامران کہا...

خاور صاحب نے بالکل درست لکھا ہے کہ کچھ لوگ موٹر کی بحث میں‌ اصل مسئلہ گول کردیتے ہیں۔

Apna korea کہا...

Nice post khawar khawer hai....sanny kore

گمنام کہا...

خاور صاحب ، لکھتے تو آپ اچھا ہیں ، کونٹینٹس کے لحاظ سے ۔ لیکن اگر تحریر کو بھی بہتر کر لیں ، تو کیا مضائقہ ہے ۔
آپ نے بات کی ، اپنے اور اپنے ملک ، یا اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنے کی ۔ تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کیوں نہیں کرتے ۔
آپ نے اپنے بلاگ کا موضوع رکھا ہے ”آپنے لئے کچھ کرو جی“ ۔ حالانکہ اسے ”آپنے لئے“ نہیں ، بلکہ ”اپنے لئے“ ہونا چاہئے ۔ کبھی کبھار تو ٹائپنگ کی غلطی چل جاتی ہے ، لیکن آپ کی تحریریں پڑھتے ہوئے ، بہت سے مقامات پر اندازے لگانے پڑتے ہیں ، کہ آپ شاید یوں کہنا چاہتے ہیں ۔ اندازے اس لئے لگانے پڑتے ہیں ، کہ آپ کے بہت سے جملے گرامر کے لحاظ سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے ، اور ہجے درست نہ لکھنے کی تو شاید آپ نے قسم کھائى ہوئى ہے ۔
میری تنقید آپ کو شاید بری ، بلکہ یقیناً کافی بری لگے گی ۔ کیوں کہ ہماری اکثریت کی سوچ یہ ہے کہ بس جی بات سمجھ میں آنی چاہئے ، باقی سب ٹھیک ہے ۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر آپ معاشرے میں سدھار کے بارے میں آگہی پیدا کرنا چاہتے ہیں ، تو سدھار کا آغاز اپنی ذات سے کریں ۔
مواد کے لحاظ سے ٹھیک ٹھاک لکھتے ہیں آپ ، لیکن تحریر کی غلطیوں سے آپ خود اپنی عمدہ تحریر کو خراب کر دیتے ہیں ۔
خدارا ، اس پر کچھ توجہ دیں ۔

Jafar کہا...

وہ جی نامعلوم صاحب
یہ اپنے خاور صاب کا اشٹائل ہے
اور ان کے پرستار ایسے ہی پسند کرتے ہیں جی

خاور کھوکھر کہا...

نامعلوم صاحب کی بات سوله آنے صحیع هے ہجے کے معاملے تک ، مجھے کچھ اور بھی پیارے دوستوں نےبھی کہا هے که هجے درست کروں ، اس لیے اب میں اپنے ٹائپ کیے کو دوبارھ دیکھ کر اور درست کرکے اپ لوڈ کیا کروں گا
لیکن جہاں تک فقرے کی ساخت کی بات ہے تو جی یه هی همارا شٹائیل ہے جی
اگر کبھی هم آپ کو خط لکھیں گے تو وھ شسته اردو میں هو گا اور فقروں کی نوک پلک دیکھ کر اپ پنجابی کی اداکاروں کی پلک کی نوک بھول جائیں گے ـ
انداز تحریر هے جی یه خاور کا ، که هم جیسے اگر ناں هوں تو جی حکومت کے چمچے لکھاریوں کے انداز تحریر هی دنیا میں رائیج هوتے چلے جائیں
لیکن جی خاور وھ لکھتا ہے جو عام بندے لوکاں میں بیٹھ کر باتاں کرتے هوئے بولی بولتے هیں ـ
عام بندے سمجھتے هیں ناں جی ؟
ٹانگے ریھڑے والے دکانوں والے ڈرائیور کلینڈر
اور پھر ان هی لوگوں کے انگریزی میڈیم میں جانے والے بچے
بھی ایسی هی بولی بولتےهیں ـ
لیکن هجوں کے متعلق آپ کی بات سٹ پانے والی نهیں ہے
اور جی خاور جلدی غصه نهیں کرتا جی
اپ بے فکر هو کر تنقید کرو ، خاور کے بلاگ پر اگر کوئی کومنٹس میں خاور کو گالی بھی لکھ دے تو ڈلیٹ نهیں کی جاتی

Memon کہا...

تحریر کا اسٹائل تو ہر ایک کا اپنا انفرادی ہوتا ہے ۔ اور اس پر وہی جچتا بھی ہے ۔ لیکن ہجے یا گرامر کی غلطیاں ، اسٹائل میں شمار نہیں ہوتیں ۔ اور ان کی وجہ سے پڑھنے والے کو بھی بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے ۔
خاور صاحب ، آپ نے نامعلوم صاحب کی ہجے والی بات تو تسلیم کرلی ۔ اس مسئلے پر میں نے بھی آپ کو توجہ دلائى تھی ۔ اس لئے آپکا شکریہ ۔
ویسے جہاں تک جملے کی ساخت کا تعلق ہے ، تو جہاں نے میں نے نامعلوم صاحب کی بات کا مطلب سمجھا ہے ، وہ گرامر کی غلطیوں کی بات کر رہے ہیں ، اسٹائل کی نہیں ۔ اسٹائل میں تو واقعی انفرادیت اور جدت ہونی چاہئے ۔

Popular Posts