اتوار, جولائی 6, 2008

نودولتیے

خمار گندم کہـ لیں یا بقول استاد دامن
رجے ٹڈ (بھرا پیٹ ) کی باتیں ـ
یه باهر کے ملکوں میں بیٹھے پاکستانی جب سیاست میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اپنا قد بڑھا رہے هوتے هیں مجھے بڑا عجیب سا لگتا ہے ـ
اور استاد دامن کا وه شعر یاد آجاتا ہے
رجے ٹڈ دیاں ساریاں گلاں نے
آٹا لگے تے طبلے پٹاخدے دے نیں
شروع شروع میں جب هاهر کے ملکوں میں جاتے هیں تو یه پوزیشن هوتی ہے
پیٹ واسطے باندراں پائی ٹوپی
ہتھ بنھ سلام گزاردے نے
اور جب تھوڑا پیسا آجاتا ہے تو
کهتے هیں
چيرپھاڑ جے کھان بندیا ں نوں
ریچھ نچدے وچ بازار دے نے ـ
تھوڑا اور پیسا آجاتا ہے تو
خود کو شیر کہلوانا پسند کرتے هیں
باندر سے ریچھ اور ریچھ سے شیر بن جاتے هیں
اور کچھ تو شیر ببر بھی بن جاتے هیں
مختلف جانور بنے جاتے هیں
انسان
کہلوانا
ان کی توهین هوتی هے
لیکن ہم جیسے للکارے مارتے رهتے هیں
اوئے بندے دے پتر بنو!!!ـ
لیکن جانور کے هی پتر بنے جاتے هیں جی یه لوگ !ـ
کوئی غیر ''مسلم '' لیگ بنا رها ہے اور
کوئی پيپل کے نیچے بیٹھی پارٹی ـ
اور پھر ان مسلم لیگوں میں بھی شاید '' مرغ مسلم '' کا مرغن پن هوتا ہے که هر بندھ ایک نئی مسلم لیگ کو جنم دے رها هوتا ہے
اور اس لیگ کی پیدائیش کرتے ان صاحبان کے جذبات سے '' دردزھ '' جھلک رهی هوتی هیں ـ
کہیں ایسا تو نہیں که
غلامانه ذہنیت کے لوگوں کو آپنی جبلت کی تسکین کے لیے ایک آقا چاهیے هوتا ہے تو یه کسی کو آقا بناکر لیتے هیں
یاکسی کی کتی طبیت کو اس وقت تک سکون هی نہیں ملتا که جب تک کسی کے سامنے دم نه هلالے ؟؟
هم خود کو تارکین وطن کہنے والے لوگ اصل میں وطن سے دھتکارے هوئے لوگ هوتے هیں
هم اپنے ملک میں کسی کام نہیں هوتے هیں اسی لیے هم باهر ان ملکوں میں چلے جاتے هیں جن اقوام نے اپنی کوشش سے ایسا ماحول بنا دیا هوتا ہے که ایک احمق ادمی بھی کمائی کرکے زندگی گزار لے ـ
اور هم احمق لوگ ان کے معاشروں میں اگر جب کمانے لگتے هیں همیں عقلمندی کے مغالطےلگنے لگتے هیں
مغالطے اس لیے که بنیادی طر پر هیں تو احمق هی ناں جی !ـ
اور اتنے احمق که جس ملک میں رھ رہے هوتے هیں جس ملک کی مہربانی سي کمانے کے قابل هوتے
اس ملک کو بنانے والے اس ملک کے لوگوں کو هی احمق ، کافر ، بے دین ، چوەڑے ، گندے اور پته نہیں که کیا کیا کہنے لگتے هیں ـ
اوقات ہماری یه هوتی هے که لوگ ہمیں بھکاری سمجھتے هیں ـ
اور پاکستان میں رہنے والے بھی جانتے هیں که باهر والے احمق هوتے هیں اور وه بھی ان کو بیوقوف بناتے رہتے هیں ـ
دهوبی کے کتے کی طرح ناں گھر کے ناں گھاٹ کے ـ
یورپ میں رہنے والے جب ٹکیس چوری اور کئی طرح کی کمینگیوں سے چار پیسے بنا لیتے هیں تو ان کو سیات کا شوق چڑھتا ہے
لیکن یورپین اقوام گھاس نہیں ڈالتیں تو پاک ملک کی سیاست میں ٹانگ اڑانے کا هی خیال آتا ہے
مگر
اس ملک میں اپنی حثیت یه هوتی ہے که
وهاں کے دھتکارے هوئے ردی قسم کے تو هوتے هیں
تو سیاست میں چلیں گے کیسے ؟؟
چلو اس طرح کر لیتے هیں که باهر رہتے هوئے هی کسی کے چمچے بن جاتے هیں ـ
اور اب یورپ سے یه رسم جاپان بھی منتقل هوگئی ہے
دولت بہت ہے اس ملک میں اور علم اور عقل بھی مگر
جاپانی لوگوں نے دولت تو ہم پاکستانیوں کو بھی بہت خیرات کی ہےمگر علم اور عقل نہیں دی
اصل میں هم میں کوئی علم اور عقل کا خواهش مند هی نہیں تھا ـ
یقین کریں جاپانی ہم پاکستانی گاڑیوں کا کام کرنے والوں کو خیرات میں پیسے دے رہے هوتے هیں ـ
ایک جاپاکی(جاپان میں پاکستانی) بزنس میں جب کسی جاپانی سے گاری خریدنے جاتا ہے تو جاپانی اس کو یه بات بتا دیتا ہے
که یه گاڑی اگر تم منڈی میں لے جاؤ گے تو دس ہزار ڈالر مں بک جائے گي اس لیے سات ہزار میں لے جاؤ !ـ
یاکه تج بے چارے کو بھی چار پیسے بچ جائیں ـ
اب اپ خود سوچیں که ایسی کمائی سے امیر بنے جاپاکی جب خود کو جاپانیوں سپیرئیر سمجحتے هیں اور جاپانیوں کو نیچ تو جاپانیوں کا رویه هوتا ہے
که ایسے بندے کی بات کا جواب بھی نہیں دیتے بس ہلکا سا کہـ دیتے هیں
یه تو هے هی بیوقوف اس کی بات کا برا کیا منانا!!ـ
یه تارکین وطن لوگوں کی بنائی هوئی لیگیں اور پارٹیاں
هیں کس کام کی؟؟؟
کسی بھی کام کی نهیں هیں ـ
ناں تو یه ووٹ ڈال سکتے هیں
اور ناں هی پاکستان کی سیاست پر کسی اور طرح سے اثر انداز هو سکتے هیں
ان لوگوں کی حثیت پرکاھ جیسی هے
اور سوچ کی پرواز که سمجھتے که عرش تک جائے گی
مگر
ان کی سوچ کے پر جل جاتے هیں وهاں تک جاتے جاتے جہان سے کسی اہل نظر کی سوچ شروع هوتی هے ـ

باقی فیر سہی ـ

10 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

ہمیں نہیں لگتا آپ نے کسی پر ڈائریکٹ ہٹ کی ہو ہاں اگر دل میں چور ہو تو پھر اس کا کیا کیا جائے۔ ہماری نظر میں تو یہ ایک شاہکار تحریر ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر کسی کو اپنا ہی چہرہ نظر آئے گا۔
ویسے ہم لوگوں کے بلاگ کیا اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ لوگ انہیں پڑھ کر خود پر تنقید سمجھنے لگے ہیں۔
ہم آپ کے خیال کی اڑان کی داد دیتے ہیں اور آپ کو دھمکیاں دینے والوں سے یہی درخواست کریں گے کہ وہ اسے اپنی زات کیلیے مخسوص نہ کر لیں بلکہ ایک اجتماعی کردار کی عکاسی سمجھیں۔

راشد کامران کہا...

میرا تو یہی مشورہ ہوگا کے کسی بھی دھمکی کو نظر انداز نہ کریں ۔۔ ہمارا عدم برداشت کا کلچر اتنا مکروہ ہوچکا ہے کہ لوگ آئینے میں اپنی شکل اچھی نظر نہ آنے پر آئینہ توڑ دینے کو فوقیت دیتے ہیں لیکن اپنی شکل کا بگاڑ درست کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔ میرے ایک دوست نے واقعہ سنایا کے دو لاہوری لوگوں کا یہاں امریکہ جھگڑا ہوگیا تو ایک نے دوسرے کو دھمکی دی کے “تو لاہور ائر پورٹ پہنچ میں تجھے دیکھتا ہوں“۔ مقصد یہ کہ جو حفاظتی اقدام بن پڑھتا ہے وہ کر گزریے کیونکہ جنگل میں آپ کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوتی ہے۔

بدتمیز کہا...

ایسے لوگ تو بکثرت پائے جاتے ہیں۔ سنا ہے جو بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں پر اب یہ نہیں معلوم بھونکنے والوں نے یہ کہاوت سن رکھی ہے یا نہیں۔
اگر مجھے کوئی کہے کہ اس نے مجھے پاکستان میں دیکھنا ہے تو میری کوشش ہو گی میں اس کو پہلی فرصت میں ادھر دیکھو۔ جدھر بندے کی جڑیں ہو نہ جی ادھر قانون کی پاسداری والے ملکوں میں بھونکا ہی جا سکتا ہے کاٹا نہیں جو بھونکتے ہیں اس کا مطلب ہڈیاں ابھی ادھر ادھر چھپاتے پھرتے ہیں۔ ہڈی کی ہی تو لڑائی ہے نہ جی۔

Azhar Ul Haq کہا...

افسوس تو اسی بات کا ہے بھائی کہ ہمارے ہاں طاقت ان لوگوں کے ہاتھ ہے جنکا ظرف بہت ہی گھٹیا ہے ، اگر کہیں لیڈر اچھا ہے تو کارکن ٹھیک نہیں اور کہیں لیڈر ہی بڑا غنڈا ہے ۔ ۔ ۔ میں تو یہ ہی مشورہ دوں گا کہ بھائی احتیاط سے ۔ ۔ ۔ مگر کمزور کی طاقت کو بھی سمجھنا پڑے گا ۔ ۔۔ ایک نہ ایک دن

مکی کہا...

ان کا دھمکی دینا اس بات کا غماز ہے کہ اب بلاگنگ اپنا اثر دکھا رہی ہے.. اول تو میں سمجھتا ہوں کہ جو گرجتے ہیں وہ واقعی نہیں برستے.. اور اگر خدا نخواستہ ایسا کچھ ہوا بھی تو بھی بلاگر برادری خاموش نہیں بیٹھے گی اور ان کا جینا حرام کردے گی.. دھمکی دینے والوں کو ابھی شاید بلاگنگ کی طاقت کا اندازہ نہیں ہوا.. مصر میں جب ایک بلاگر کو گرفتار کیا گیا تو مصری حکومت کو وقت پڑ گیا تھا.. دھمکیاں دینے والے ذرا اس واقعے کو یاد کر لیں..

خاور کھوکھر کہا...

آپ سب دوستوں کا شکریه که آپ لوگوں نے دلچسپی لی ـ
مجھے بڑا حوصله هوا ہے آپ لوگوں کی کومنٹس سے ـ
باقه رهی ان لوگوں کی دھمکی کی بات تو جی مجھے ان کا کوئی ڈر نہیں هے
میں اس دھمکی کا ذکر هر جگه اس لیے کر رها هوں که ان کا مذاق اڑانے کے لیے ـ
ورنه یه لوگ بھی اتنے هی طاقت ور هیں جتنے که ہم ـ
همیں تو جی خوشی ہے که اب ہماری بھی بات برے لوگوں کو چبھتی هے
اور یہی تو هم لکھنے والے جاهتے هوتے هیں که ہماری بات برے لوگوں کو بری لگے

ساجداقبال کہا...

ان بیچاروں کی اتنی ہی توفیق ہے کہ دھمکیاں دے دیں۔ آپ جاپان پولیس کو دھمکیوں کی بابت بتائیں، ان شاء اللہ یہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔

ڈفر کہا...

ہائے ہائے میرا کیا؟
میرا تو کافی وقت پاکستان میں گزرتا ہے؟
کم از کم اتنا تو ضرور کہ دھمکیاں دینے والے ۔۔۔
میرے کہنے کا مطلب تھا میں نے تو کسی سیاستدان کو کچھ نہیں کہا۔ اور ہاں میں پاکستان کے کسی سیاستدان کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا، ہاں پڑھ بھی نہیں سکتا۔خاص طور پہ زرداری، ڈیزل اور گنجے کے بارے میں تو بالکل بھی نہیں۔
اب کیا میری بچت کے کچھ امکانات ہیں؟

ڈفر کہا...

اتنا سچ لکھیں گے تو لوگوں کو پتنگے تو لگیں گے نا!

کاشف کہا...

السلام علیکم

ہمارے ملک کا المیہ ہے یہ کہ یہاں اقتدار اور طاقت پر غنڈوں، بدمعاشوں، جاہلوں کا راج ہے۔ تنقید کا مقصد ہوتا ہے اس سے اصلاح حاصل کرنا نا کہ نصیحت کرنے والے کو الٹی دھمکیاں دینا۔

اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو ان کے شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

Popular Posts