منگل، 10 اپریل، 2012

بے دین معاشره

دین دار(منظم) هونے کے لیے بڑی ذمه داریاں نبھانی هوتی هیں
ایک دین دار معاشرے ميں اس دین (سسٹم)کے ماننے والوں کو هر روز اپنے فرائض کی ادائیگی کرنی پڑتی هے
دین (سسٹم) فرائیض اور حقوق کے توازن سے بنتے هیں
دین دار معاشروں ميں جب لوگ اپنے اپنے فرائض خلوص نیت سے ادا کررهے هوتے هیں تو
دوسرے لوگوں کے حقوق کا انتظام بھی هو رها هوتا هے
یهان ٹی وی پر ایک پروگرام چل رها تھا
که پہاڑوں میں جهاں بهت زیاده برف باری هوتی هے
وهاں برف کے پھسلنے کے حادثات بھی هوتے هیں
پہاڑ کے اوپر سے جب برف پھسل کر چلتی هے تو اس کی مقدار مسلسل بڑھتی چلی جاتی هے
که اس ریلے کے سامنے اگر درخت بھی آ جائیں تو ٹوٹ کر گر جاتے هیں
بلکه چھوٹی موٹی چٹانوں کو بھی توڑ جاتے هیں
یه برف کے ریلے!!!ـ
اب جی دین دار(منظم) معاشروں ميں ، ان کے عالم اس چیز کا بھی علم حاصل کرتے هیں که ، ان برف کے تودوں کا بهاؤ کس طرف کا هو سکتا هے
برف کی کتنی مقدار کے بعد تودے کا بهاؤ شروع هو سکتا هے
اور
اس کا بچاؤ کا کیا طریقه کا بنایا جائے که پهاڑوں ميں کام کرنے والوں
یا رهائش رکھنے والوں کی حفاظت کا انتظام هو !!ـ
یه عالم لوگ اس چیز کا علم حاصل کرنے کے بعد اس چیز کے تدارک کا انتظام کرتے هیں
اس چیز کو علم اور عمل کا نام دیا جاتا هے
اردو میں هم ان لوگوں کو عالم باعمل کہـ سکتے هیں
ٹی وی پر دیکھا رهے تھے که
ان کے دین (نظام) ميں جن لوگوں کی ذمه داری هے که ان چیزوں پر نظر رکھیں اور اس کا انتظام کریں
وه لوگ ایسا کرتے هیں که جب برف کی مقدار ایک خاص حد تک جاتی هے تو
برف کے اوپری مقام پر ڈائنامائٹ کے دھماکے کرتے هیں
جس سے برف پھسل ترائی میں چلی جاتی هے
برف کے ترائیوں ميں جا کر رک جانے سے ایک تو ان کے پھسل کر جانی نقصان کرنے کا خدشه نهیں رهتا اور دوسرا یه برف درجه حرارت کے زیاده هونے کی وجه سے پگلنے کے عمل کے ساتھ دریاؤں میں بہـ کر انسانی کام انے والے پانی کا انتظام بنتی هے
لیکن
ایسا صرف دین دار معاشروں میں هی هوتا هے

1 تبصرہ:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بہت اچھی تشریح کی ہے آپ نے نظام کی ۔
برف کے پھسلنے کو روکنے کا آپ نے اچھا طریقہ لکھا ہے ۔ لیکن وہاں کیا کِیا جائے جہاں پورا پہاڑ ہی برف ہو ؟ اس وقت پوری دنیا کے عالم اس پر غور کر رہے ہیں کیونکہ 124 پاکستانی سیاچن میں پھسلنے والے برف کے پہاڑ تلے دبے ہیں
دین اللہ کے دیئے ہوئے نظام العمل کا نام ہے جسے اللہ نے قرآن شریف کے ذریعہ انسان کو بتایا اور سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے اس کی تشریح کی ۔ بغیر عمل کے دین ہو ہی نہیں سکتا ۔ دین کو مسلک بھی کہا جا سکتا ہے لیکن اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں نے سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بتائے ہوئے مسلک کی جگہ درجنوں مسلک بنا لئے ہیں ۔
مذہب کا مطلب فرقہ یا گروہ ہوتا ہے لیکن لوگوں نے دین کو مذہب کا نام دے رکھا ہے