جمعہ، 22 جون، 2007

بے ربط باتیں

جناب ضیاء صاحب کو جب مکّے والی سرکار نے بلا لیا تها ـ
پاکستان میں لوگ اس کو ضیاع صاحب (ہماری معاشرتی اقدار کا ضیاع تهے یه صاحب) کی موت یا شہادت بهی کہتے هیں ـ
تو ہمارے گاؤں میں مستری طفیل خراداں والے نے مشہور کر دیا تها که خاور نے مٹهیائی بانٹی ہے ـ
اور میرا تراھ نکلا هوا تها که مستری طفیل مروائے گا ـ
کچھ اس طرح کی ریپوٹیشن رهی هے جی ہماری ـ
اوروه وقت تها که کوئی فوج کے خلاف بات سننا بهی گوارا نہیں کرتا تها ـ
ایک مقدس سی چیز تهی جی آپنی یه فوج صاحبه بهی ـ
لیکن آج کیا حال ہے که عام فہم کے بندے بهی یه سوچنے پر مجبور هیں که
فوج کردی کی پئی اے ـ
چکوال کے لوگوں کے ساتھ اگر کبهی نشست هو تو فوج کے بہت لطیفے سننے کو ملتے هیں ـ
جس طرح گوجرانوالہ یا لاہور کے لوگ سکھوں کے لطیفے سناتے هیں
چکوال والے فوجیوں کے لطیفے سناتے هیں ـ
ایک فوجی دوسرے سے پوچهتا ہے
یار ایک لڑکی سے ملاقات هوئی هے اب بات کو اگے کیسے چلاؤں ؟؟
دوسرا فوجی
اس کو گهر کے پکے کهانے کی دعوت پر اپنے کواٹر میں بلا لوـ
کچھ دنوں بعد ان فوجیوں کی دوباره ملاقات هوتی هے تو
پہلا دوسرے سے کہتا ہو که تمہارا دیا هوا آئیڈیا فلاپ ائیڈیا تها
کیوں ؟؟
اس لڑکی نے کهانا پکانے سے انکار کر دیا تها ـ

لو جی اب خبر ہی که پلسے بهی احتجاج میں شامل هوگئے ـ
نہیں یار پلس کو بهلا عقل کے کام کرنے کیا ضرورت ہے
پلس والے تو کهانے کا رونا رو رہے هیں ـ
که اس میں چوہے تهے یا خراب تها ـ
ٹڈ ناں پیاں روٹیاں تے سبے گلاں کهوٹیاں ـ
یا پهر استاد دامن نے لکا تها
پیٹ واسطے باندراں پائی ٹوپی
ہتھ بنھ سلام گزاردے نے ـ

کسی بهی معاشرے کی اس سے بڑی بے عزتی هو هی نہیں سکتی که اس کے ججون کو هڑتال کرنی پڑ جائے ـ
جج حکم دیا کرتے درخواستیں نہیں ـ
جج فیصلے سنایا کرتے هیں مشورے نہیں ـ
جج هونا رب کا نائب هونا ہے
اور اسمان کی طرف تهوکا آپنے منه پر اتا ہے ـ
جس کو رب نے عزت دی هو اس کو بے عزت کرنے والا خود بے عزت هوجاتا ہے ـ

مجهے تو جرنل مشرف کو چاچا کہتے بهی شرم آتی هے که میرے چاچے ایسے نہیں هو سکتے ـ
اپنے سلمان رشدی صاحب کو سر کا خطاب مل گيا ہے ـ
جاپانی میں سر بندر کو کہتے هیں ـ
رشدی صاحب کو سر کا خطاب دلوانے میں سب سے بڑا هاتھ هے مسلمانوں کا ـ
میں نے اس کی کتاب شیطانیک ورسس پڑهی ہے ـ
یارو اگر اس پر فتوی نه لگتا تو شائد فکشن کے شوقین اس کتاب کو هاتھ بهی نه لگاتے ـ
هاں رشدی صاحب کا دعوی تهاکه یه فکشن(گپ کہانی) ہے اور اس کتاب میں بهی لکهتے هیں که لوگ گپ کہانی اور تاریخ کے فرق کو بهی نہیں سمجهتے ـ
مگر اس کتاب میں نبی پاک کے نام سے ملتے جلتے نام کے ایک بزنس مین کی کہانی هے جو که نبی پاک کے حالات زندگی سے بہت ملتی جلتی هے ـ
اور کہانی جبریل فرشتے نام کے ایک فلمی دنیا کے بندے کے گرد گهومتی ہے ـ
جبریل فرشته نام کا یه کردار کبهی کچھ هے کبهی کچھ ـ
مجهےتو اس کہانی کا کوئی سرا هاتھ نهیں آیا تها که رائیٹر کہنا کیا چاهتا ہے ـ
کرداروں کے نام اور واقعات کی مطابقت اسلام کے محترم لوگوں سے اس حد تک ملتی هے کوئی بهی مسلمان پڑھ کر اس سے غصه کر سکتا ہے ـ
اور اگر کوئی یورپی امریکه یا جاپانی اس کتاب کو پڑهتا تو اس کو خاک بهی سمجھ نہیں لگنی تهی
مگر مسلمانوں کے فتوے نے اس کتاب کو بیسٹ سیلر کر دیا ـ
کچھ تو میری انگریزی کمزور تهی اور کچھ رشدی صاحب کا لکهنے کا انداز بهی گنجلک سا ہے
مجهے تو ایسا لگا که کہیں کی بات کہیں لے جارہے هیں اور عجیب عجیب سے ٹوٹے سے جوڑے هیں ـ
ٹوٹے سمجهتے هیں ناں جی آپ ؟؟
ویڈیو آنے سے پہلے زمانے میں جو سینماؤں پر چلا کرتے تهے ـ
ہر شہر میں ایک ادھ سینما هوتا تها جس کی ریپوٹیشن هوتی تهی که یه ٹوٹے چلاتا ہے ـ
میرے خیال میں تو اس کتاب شیطنی ایات کا اردو ترجمه کر کے لوگوں کو پڑها دینی چاهیے تهی ـ
اور ترجمه بهی بامحاوره نہیں لفظی ـ
تو لوگوں نے خود هی سمجھ جانا تها که رشدی سےاچهےلکهاری تو آپنے استاد امام دین گجراتی تهے ـ
بس جی خمینی صاحب جیسے عظیم ادمی نے رشدی کے خلاف فتوی دے کر رشدی کو بڑا بنا دیا ـ
اگر خمینی صاحب اس بندے پر غصه کرنے کی بجائے اس کو نظر انداز کر دیتے تو رشدی کو کوئی جانتا بهی نه هوتا ـ

1 تبصرہ:

Afzal کہا...

ہم ابھی کل ہی پڑھ رہے تھے کہ رشدی کی کتاب پبلشنگ کی تاریخ میں ایک ایسی کتاب ہے جس کی مشہوری تو بہت ہوئی مگر اسے پڑھا بہت کم گیا۔