جمعرات، 31 اگست، 2017

اکنامک کہانی کی اگلی بات


اپ نے میری تحریر کردہ وہ کہانی تو پڑھی ہو گی ؟؟
بہت کاپی ہوئی ہے وہ کہانی فیس بک پر کہ انٹرنیٹ پر ،۔

قربانی ہو یا کہ کوئی بھی رسم جس میں خرچ ہوتا ہے ، اس سے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہے
پاکستان جیسے ملک ، جس میں پہلے ہی سرمائے کی حرکت بہت سست ہے ایسے ملک میں عید قربان ، جشن آزادی ، شب برات وغیرہ سے بہت سے لوگوں کا مال فروخت ہوتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ،۔
ہر خرچ پر یہ کہنے والے کہ یہ پیسا کسی غریب کو دے دینا تھا
اصل میں جہاد افغانستان کے لئے تیار کئے مذہبی دانشوروں کے ترتیب دئے گئے کلچر جس میں بھیک کو گراس روت لیول تک لے جایا جا چکا ہے اس کے پروردہ ہوتے ہیں ،۔
بھیک کی امید رکھنے والوں کو دوسروں کی کمائی بری لگتی ہے ،۔
ایک کسان جو چند بیل پال کر عید پر فروخت کرتا ہے ،۔
ایک بیوپاری جو یہ بیل منڈی تک لاتا ہے ،۔ منڈی میں چارہ بیچنے والا ۔
بیل ، چارہ منڈی تک لانے اور یہاں سے خریدار کے گھر تک پہنچانے والے ٹرانسپوٹڑ کا کاروبار ۔
بسنت پر پتنگ بنانے والے ، ڈور تیار کرنے والے ، پتنگ بیچنے والے دوکان دار ، ان دوکانداروں پر ڈپینڈ کرنے والے کاروبار
شب برات پر آتش بازی بنانے والے ، ،۔ کھیر کے لئے مٹی کے برتن بنانے والے لوگ ،ان سب کے کاروبار تہواروں پر خرچ کرنے کی رسم سے ہی چلتے ہیں ،۔
پاکستان ، جہاں بھیک مانگنے کو عظمت کی نشانی بنا کر رکھ دیا گیا ہے ،۔
بھیک مانگ کر اپ جتنا بھی شوخ کام کر لیں ، اس سے نظام نہیں چلا کرتے ،۔
یاد رکھیں ترقی یافتہ اقوام نے اپنی ابادیوں کے پانی کے نکاس کے بعد جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ ہے ۔
پیسے کو حرکت دے کر پیسے کے فوائد  گھر گھر پہنچانے کا کام کیا ہے ،۔
ایک دوسرے کے پیسے ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں ،۔
بھیک مانگنے والو ، تم لوگوں نے خدا اور انسانیت کے نام پر بھیک مانگ مانگ کر خدا اور انسانیت کو بہت خوار کیا ہے ،۔
لوگو! سنو !!!۔
خود داری ، عزت نفس اور غیرت کا مفہوم جانو
اور
آو امداد باہمی (بیمہ) کے نظام پر بات بات کریں ،۔
پیسے کی حرکت میں برکت پر بات کریں ،۔

جمعہ، 25 اگست، 2017

حالات حاضرہ ، امریکہ


امریکہ ، پچھلے سولہ سال میں ، جی ہاں صرف سولہ سال میں  افغانستان میں کوئی  117بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے ،۔
اس سے پہلے سویت کے اندہام میں خرچ ہونے والی رقموں کا ذکر اج کا موضوع نہیں ہے لیکن اپ ان کو بھی ذہن میں رکھیں ،۔
ایک سو سترہ بلین ڈالر کی امریکی  انوسٹمنٹ دنیا کے خطرناک ترین ملک  افغانستان میں ہوئی ہے ،۔
اتنی بڑی رقم کی واپسی کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ افغانستان کی معدنیات  کو نکال کر اس سے وضع کر لی جائے ،۔
افغانستان  میں خام لوہے ، زنک  تانبے کے علاوہ سونے چاندی اور پلاٹنم کے بڑے ذخائیر موجود ہیں ،۔
لیتھنم کے متعلق تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ افغانستان لیتھنیم کا سعودیہ ہے ،۔
لیٹھینم جو کہ سمارٹ فونز اور بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
اور تانبے کی کانیں دنیا کے بہترین تانبے کا ذخیرہ رکھتی ہیں ،۔
امرکی ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ معدنیات کوئی ایک ٹریلن ڈالر کی وقعت رکھتی ہیں ،۔
جو کہ افغانستان کو ایک محفوظ ملک بنا کر اور یہاں پر ترقی یافتہ ممالک کے برابر سٹریکچر تیار کرنے اور جمہوریت قایم کرنے کے لئے ایک معقول  رقم ہے ،۔
لندن کے ایک بنکر جو کہ افغانستان میں کان کنی میں ایک بڑے انوسٹر ہیں ان کے مطابق ، افغانسان میں کان کنی  کی یہ حالت ہے کہ یہاں کوئی ایک بھی کان چالو نہیں ہے ،۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چینی کمپنی  “ مس عینک” نامی کان سے تانبہ نکال رہی ہے ،۔
افغان حکومت  معدنیات کو نکال کر استعمال میں لانے کے لئے امریکی حکام سے رابطے میں ہے ،۔
اس معاملے میں اس سال جون میں افغانی سفیر  حماد اللہ محب نے امریکی صدر ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات بھی کی ہے ۔
 ایک امریکی اور افغان حکومت میں معدنیات کے متعلق مشترکہ دلچسپی پائی جاتی ہے  ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق  افغانستان سے سالانہ بیس بلین ڈالر کی معدنیات نکالی جا سکتی ہیں ،۔

اور دوسری طرف  کام کو چالو کرنے سے پہلے اور دوران میں اٹھنے والے مسائل پر بھی غور کیا جا رہا ہے ،۔؛
جن میں سب سے بڑا مسئلہ  خام لوہے ، تانبے اور لتھینم کو افغانستان سے باہر نکال کر امریکہ پہنچانے کا ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہت بری ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہتر کرنے کے بعد امریکی ماہرین کی نظر میں جو راستے ہیں ان میں پاکستان یا انڈیا سے گزر کر سمندر تک پہنچنے کا راستہ ہے ،۔
اور یہ دونوں راستے طالبان کی وجہ سے محفوظ نہیں ہیں ،۔
طالبان جن کو امریکی  ڈیفینشنز میں دہشت گرد کہا جاتا ہے ان کے ٹھکانے  پاکستان کے پہاڑوں میں ہونے کا شک کیا جاتا ہے ،۔
جس کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ سوائے پاکستان کے یہ راستے کوئی اور محفوظ نہیں کروا سکتا ،۔
افغانستان سے نکلنے کے بعد  سی پیک نامی منصوبہ جو کہ پاکستان میں چینی حکومت کے زیر اثر چل رہا ہے اس کو استعمال کرنے میں بھی امریکی حکومت کو کئی تحفظات ہیں  ۔
امریکی حکومت افغانستان میں پچھلی صدی کی اٹھویں دہائی سے لے کر اب تک جو خرچ کر چکی ہے ، کی واپسی کے لئے افغانی معدنیات کے حصول کے سوا اور کوئی راھ نظر نہیں آتی ،۔
لیکن ان معدنیات کو نکال کر امریکہ پہنچانے میں جو قباحتیں ہیں ان کو دور کرنے لے لئے امریکی حکومت دہائیوں سے پاکستان کی امداد کر کے ایک بہت بڑی رقم انوسٹ کر چکی ہے ،۔
اس لئے امریکہ حکومت پاکستان سے اس انوسٹمنٹ کی پروگریس دیکھانے کا مطالبہ کرتی ہے ،۔
دوسری طرف پاکستانی  سیکورٹی حکام ، یہ سمجھتے ہیں کہ کہ معدنیات کی دولت سے ملنے والا حصہ جو کہ ان کو مل رہا ہے یا کہ جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ کم ہے ،۔
افغان معدنیات پر امریکی نظر اور ان کو نکال کر امریکہ تک پہنچانے میں جو مسائل ہیں اگر اپ ان کو غور سے دیکھیں تو امریکہ کی بھارت میں دلچسپی  کی وجہ صاف نظر آتی  ہے ،۔
تحریر : خاور کھوکھر

اتوار، 9 جولائی، 2017

**** ٹوٹکا *****

** ٹوٹکا *****
جوانی میں  دیس پردیس کی اوارہ گردی کی لیکن پانی سے پرہیز ہی کیا
کہ جہاں بھی گئے کوکاکولا ہی نوش کیا
اس سے یہ تو ہوا کہ “ پانی لاگ “ نہیں ہوئی ۔
لیکن شوگر ضرور ہو گئی ،۔
جب تک کوکے کولے کی “ تاثیر” کا علم ہوا ، بقول شخصے ، چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں ،۔
 
چار سال پہلے اپنی جنم بھومی کی سیر پر جب پانی لاگ ہوئی تو بڑی شرمندگی ہوئی
کہ لوگ کیا کہیں گے ، “ وڈا انگریز “!!،۔
اقوال بزرگاں سے منسوب،  “جس دیس میں جاؤ وہاں پیاز کھاؤ “ والے احمقانہ  نسخے کو بھی ازما کر دیکھا ۔ْ
کچھ فرق نہں پڑا ،۔
تنزانیہ کے شہر دارسلام میں تھا  جب پانی لاگ کی وجہ سے ہوٹل تک سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو؟
ایک دیسی حکیم کی بتائی ہوئی بات یاد آئی کہ
جس کے معدے میں سبز مرچ کا ایک بھی دانہ موجود ہو اس کو ہیضہ نہیں ہو سکتا!!،۔
صبح ناشتے میں شملہ مرچ اور آلو بھنے ہوئے رکھے تھے ،۔
میں نے وہ کھا لئے ،۔
پیٹ میں بہت در اٹھا ، لیکن دو کھنٹے بعد  شوٹر بند ہو چکے تھے ،۔
اس دن  سے میں نے معمول بنا لیا ہے کہ جہاں بھی جاتا ہوں ،۔
مرچ کی نسل کی سبز مرچ ضرور کھاتا ہوں ،۔
ضروری نہیں کہ مرچ کڑوی ہی ہو ، شملہ مرچ یا کہ دیگر پھوکی مرچ اگر سالن میں سالم پڑی ہے تو  ، میں کھا لیتا ہوں ،۔
چار سال میں کوئی پانچ ممالک کے سو کے قریب شہروں کا سفر کیا ہے
لیکن  ہری مرچ کی مہربانی سے پانی لاگ نہیں ہوئی م،۔
ملک سے باہر میں پانی بہرحال منرل ہی استعمال کرتا ہوں لیکن برف وغیرہ یا کہ دیگر مقامی پانی میں تیار کی گئی چیزوں کو کھانے کے باوجود ڈائیریا سے بچا ہوا ہوں ۔ْ

جمعہ، 12 مئی، 2017

ایک کہانی


جب وہ پیدا ہوا تو اس کا نام شیباشٹن رکھا گیا ،۔
ابھی وہ چند ماھ کا تھا کہ اس کا آئریش باپ اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا ،۔
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک اور سوشل ویلفئیر کے نظام کی وجہ سے اس کی ماں کو اس کے پالنے میں کوئی زیادہ دقت تو نہیں ہوئی
لیکن پھر بھی ایک اکیلی عورت کو سہارا چاہئے ہوتا ہے م،۔
جو اس کو نواز کھوکھر کی صورت میں مل گیا ،۔
 نواز کھوکھر ایجنٹ کو پیسے دے کر پنجاب کے بہت سے جوانوں کی طرح خوابوں کی سرزمین برطانیہ میں آ تو  گیا تھا لیکن ویزے کی مشکلات  تھیں جن کو حل کرنے کے لے اس کو بھی ایک سہارے کی تلاش تھی ،۔
چرس  کی عادت نواز کھوکھر کو وہاں چکوال کے نواحی گاؤں میں پڑ چکی تھی اور یہاں برطانیہ میں شراب کی بہتات دیکھ کر اس کا جی چاہتا تھا کہ شراب میں ڈبکیاں لگائے ،۔
شیباشٹن کی ماں سے میرج رجسٹر کروا کر ویزے کے لئے اپلائی کر دیا ،
ایک ڈسکو کلب کے باہر گارڈ کی نوکری مل گئی ،۔
 شیباشٹن کی ماں بھری جوانی میں روڈ ایکسڈنٹ  میں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائی گئی ،۔
ویزے کے انتظار میں  نواز کھوکھر کو اس عورت کی موت  اپنی ڈیپورٹیشن نظر آ رہی تھی ،۔
نواز کھوکھر نے دل کی  گہرائیوں سے شیباشٹن کی ماں کی زندگی کے لئے دعا کی
لیکن جو خدا کو منظور تھا
کہ شیپاشٹن کی عمر اس وقت کوئی تین سال تھی جب اس کی ماں  مر گئی ،۔
لیکن نواز کھوکھر کو ویزہ مل ہی گیا کہ اس نے شیباشٹن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی کرنی تھی ،۔
اپنی دنیا میں مگن نواز کھوکھر جس کو عورت اور شراب ڈسکو کے گارڈ کی نوکری کی وجہ سے وافر مسیر تھیں ،۔
اس کو اب شادی کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ
ویزہ بھی مل چکا تھا ،۔
تین سالہ شیباشٹن کی دیکھ بھال اس کو مصیبت نظر آنے لگی ،۔
نواز کھوکھر نے شیباشٹن کو اپنے ماں باپ کے پاس وہاں اپنے گاؤں بھیج دیا ،۔
*********************

گاؤں میں سارے لوگ اسکو ککا کہتے  تھے ، وجہ تسمیہ اس کی یہ تھی کہ نیلی آنکھیں سنہرے بال ، سفد رنگ ، جو کہ اس علاقے میں سو میل کے ایریا میں کسی کا نہ تھا ،۔
ککا اپنے دادی دادے کے ساتھ رہتا تھا ،۔
ککے کا باپ کہیں فارن میں رہتا تھا ،جو کہ ماں باپ کو  کبھی کبھی پیسے بھیج دیتا تھا ،۔
ککے کے باپ کا فون بھی کم ہی آتا تھا
اور خود کبھی واپس آیا ہی نہیں ،
کہ
ککے کو اپنے باپ کی شکل بھی یاد نہیں تھی
کہ ککے نے جب سے ہوش سنبھالی تھی اس کے اپنے باپ کو گھر آئے دیکھا ہی نہیں تھا ،۔
ماں کے متعلق اس کو اس کی دادی نے بتایا تھا
مر کھپ گئی تماری ماں ، میرے سامنے اس کا نام نہیں لینا ،۔
ککے کو دادی سے بہت پیار تھا اس لئے ماں کا کبھی ذکر بھی زبان پر نہیں لایا م۔
دادے کی کچھ زرعی زمین تھی ککے کے لاڈ دیکھنے کو گھر کے دانے اور پیسے بھی تھے،۔

 دادی دادے کا لاڈلا پرائمری سکول تک تو گاؤں کے سکول میں ہی پڑھا،۔

جب مڈل سکول کی باری آئی تو نزدیکی قصبے کے مڈل سکول تک جانے کے لئے دادے نے سائیکل لے دیا ،۔
علاقے کے  سارے لڑکوں کی  باتیں سن سن کا ککے کا بھی ذہن   پڑھائی کی بجائے فارن میں جا کر کامیابی کی طرف ہی لگا رہتا تھا ،۔
مڈل کرنے کے بعد ککا چکوال کے ہائی سکول میں جانے لگا ،۔
چکوال میں کھلی فضا میں ککے کے پر کھلنے لگے تو یاری دوستیاں بھی بن گئیں ،۔
سکول سے بھاگ کر لاری اڈے پر چلے جانا ، کبھی کوئی دوست چائے پلادے تو عیاشی  ورنہ گھومنے پھرنے کی عادت ،۔
دادی دادے سے پیار تھا
اس لئے شام کو بڑے روٹین سے گھر پہنچ جاتا تھا ،۔
نوئیں میں فیل ہونے پر دادے نے ککے کو چکوال میں بجلی کے مکینک کے پاس شاگرد بٹھا دیا ،۔
کہ ہاتھ سیدھے کر لو  کچھ کما کھا لو گے ، ککے کا بھی اس کام میں دل لگ گیا کہ ککے کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے “نکے “ بھی فریج اور ائیر کنڈیشن کی مرمت کا کام اسی لئے سیکھ رہے تھے ، کہ ان دنوں سعودیہ میں  میں اس کام کی بڑی مانگ تھی ،۔
ککے کے ساتھ کام کرنے والا اس کا ایک سینئر  ککے کے دیکھتے ہیں دیکھتے سعودیہ چلا گیا ، اور وہاں سے پیسے بھیجنے لگا ۔
ککے کا بھی بہت جی چاہتا کہ جلدی کام سیکھ کر وہ بھی سعودیہ جائے اور دادے دادی کی اتنی خدمت کرئے گا کہ ان کو لندن گئے بیٹے کا دکھ بھول جائے گا ،۔
وقت گزرتا رہا ، کچھ سال بعد ککا ،اپنے کام میں پختہ ہو گیا ،  واشنگ مشین ، فریج اور ائیرکنڈیشن کا ایسا گاریگر بنا کہ استاد کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ،۔
ایک دن ککے کے استاد نے خود اس سے کہا کہ
کیا خیال ہے تمہارے لئے کسی ایجنٹ سے بات کروں ، سعودیہ جانے کے لئے ؟
سعودیہ جانے کے ان دنوں آزاد ویزے کا ریٹ بھی بیس ہزار روپے تھا ،۔
ککے نے دادے سے بات کی ، دادی نے ککے کے باہر جانے کا سن کر رونا شروع کردیا ،۔
ککے اور دادے نے بڑی مشکل سے دادی کو منایا کہ ککا سعودیہ سے ہر سال ملنے کے لئے آیا کرئے گا، ۔
اور ویزے کا ایگریمنٹ بھی بس پانچ سال کا ہے اس کے بعد یہاں آ کر چکوال میں اپنی ورکشاپ شروع کر لے گا،۔
ککے کے دادے نے ادھر ادھر سے پکڑ کر بیس ہزار کی رقم تیار کی ۔
ککے کے استاد نے ایجنٹ سے بات کہ کہ رقم تیار ہے ، اب بتاؤ کہ کب منڈے کو سعودیہ بھیج سکتے ہو ؟
ایجنٹ سے بتایا کہ پاسپورٹ کا انتظام کرو ، ایک ماھ میں منڈا سعودیہ میں ہو گا ،۔
اس دن پتہ چلا کہ ککے کا تو شناختی کارڈ ہی نہیں ہے ،۔
شناختی کارڈ بنوانے گئے تو
پتہ چلا کہ ککے کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے ،۔
ککا اور دادا شام کو پریشان بیٹھے تھے کہ
کس کو کہہ کر یہ کام کروائیں
کہ دادی نے پوچھا  کہ معاملہ کیا ہے ،۔
تو ککے نے بتایا کہ ایک کاپی سی ہوتی ہے جس کو پاسپورٹ کہتے ہیں ،۔ وہ ضروری ہوتا ہے جہاز پر بیٹھنے کے لئے ، وہ  بنوانا ہے ،۔
لیکن میرا تو نام ہی کہیں نہیں نکل رہا ،۔
ککے کی دادی گئی اور ایک صندوق سے ایک پرانا سا نیلے رنگ کا پاسپورٹ لے کر آ گئی کہ
بیٹا شہباز پتر ، جب تم اس گھر میں آئے تھے تو جہاز پر بیٹھ کر برطانیہ سے آئے تھے، اس وقت تمہارے پاس یہ کاپی تھی م،۔
ککے نے جب  وہ پاسپورٹ ھاتھ میں لیا تو وہ برٹش پاسپورٹ تھا
جس پر ککے کی  بچپن کی فوٹو لگی ہوئی تھی، جس پر ککے کا نام  شیباشٹن لکھا ہوا تھا،۔
یہ وہی شیباشٹن تھا جس کو نواز کھوکھر نے بوجھ سمجھ کر چکوال بھیج دیا تھا ،۔
اور ککے کے دادا دادی وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے اس کو ساری زندگی احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ تم ہمارا خون ہی نہیں ہو ،۔

بدھ، 10 مئی، 2017

اونٹ کٹارے


اونٹ کٹارے
اونٹ کٹارے ۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے ،۔ جس کے معنی ہیں موٹا کر کے کھاؤ !،۔
جاپان کے وہ تونگر لوگ جو نئے کاروباری کو ، کاریگر کو جوان یا ناتجربہ کار کو سرمایہ مہیا کر دیتے ہیں ، اوزار لے کر دیتے ہیں ،کاروباری حلقوں میں متعارف کروا کر ایک طرح سے اس بندے کو موٹا کر رہے ہوتے ہیں کہ
جب یہ بندہ موٹا ہو جائے گا تو اس بندے سے فوائد حاصل کریں گے ،۔
اب مزے کی بات یہ کہ جو لوگ کسی کو "موٹا " کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں ، وہ خود اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ان کو کسی کی مدد کی ضروت ہی کم پڑتی ہے ،۔
دوسروں کو اسٹنیڈ کرنے کی خواہش میں ، دوسروں کو دینے کے لئے مال حاصل کرتے کرتے اتنے مال دار اور سورسز کے مال بن چکے ہوتے ہیں کہ
کسی کو موٹا کر کے اس کو ذبح کر کے کھانے کی طلب ہی نہیں رہتی ،۔
اونٹ کٹارے ۔
کہ
یہی محاورہ جب کوئی جاپان میں پناھ گزین بے وطن بندہ سناتا ہے
تو
اس بندے کے ذہن میں "خود ترسی " کی طلب نظر آ رہی ہوتی ہے ،۔
کہ
سر جی آپ کے پاس مال ہے مجھے بھی موٹا کرو ، بعد میں بے شک کھا لینا ،۔
یعنی کہ اگر جاپانی بولے تو یہی محاورہ کچھ اور معنوں میں ہوتا ہے اور
اگر
میرے لوگ بولیں تو متروس کچھ مدد چاہتا ہے ،۔
اونٹ کٹارے ، یہ پھول زعفران جیسا ہے ، زعفران ہے نہیں ،۔

جمعہ، 28 اپریل، 2017

درویش کی بات

پینو کے خصم نے دوسری شادی کر لی ۔
جوان بیوی کے ساتھ مگن پینو کے خاوند کی بے رخی نے پینو کا دل توڑ دیا ،۔
پینو کو سمجھ ہی نہیں لگ رہی تھی کہ جس مرد کے ساتھ لڑکپن سے لے کر جوانی  بیتا دی اب سے کے بغیر پہاڑ سی زنگی کیسے گزرے گی ۔
ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرتی پینو کو دیکھ کر اس کی ایک سہیلی نے اس کو بتایا کہ
وہان پہاڑوں میں ایک درویش رہتا ہے ،۔ اس کے پاس جاؤ شائد تمہاری مایوس زندگی میں کو تبدیلی آ جائے م،۔
پینو ، درویش نے ملنے کے لئے نکل پڑی ،۔ ٹانگے پر  شہر تک وہاں سے لمبے روٹ کی بس ، پہاڑوں کے پاس کی چھکڑا ویکن  اور پتہ نہیں کون کون سے سواریاں بدل کے کئی دن پیدل چل کر  جب پینو درویش کے پاس پہنچتی ہے ،۔
اور درویش کو ساری داستان سناتی ہے ،۔
درویش سر جھکائے ساری بات سنتا رہتا ہے ،۔
آخر پر پاس پڑی مٹی کی گڑوی سے کڑ کی ایک ڈلی نکلا کر پینو کو دیتا ہے ،۔
 پینو بڑے شوق سے گڑ کھا جاتی ہے ،۔
پینو گڑ ختم کرتی ہے تو
درویش پوچھتا ہے
ایک اور چاہئے ؟
پینو بڑے شوق سے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے  کہتی ہے کہ ہاں ایک اور عنایت فرما دیں ،۔
درویش ، پینو کی انھوں میں دیکھتے ہوئے فرماتا ہے ۔
کیا تمہیں مسئلے کی سمجھ لگی ہے ؟
پینو سوچ میں ڈوب جاتی ہے ،۔ سر جھکائے ہوئے آہستگی سے بولتی ہے
ہاں  ،  میرا خیال ہے کہ انسان بنیادی طور پر حریص ہے ،۔
انسان کو ایک چیز ملتی ہے تو دوسری کی حرص کرتا ہے ، ایک نئی چیز کی ایک بڑی  چیز کی ، اور اس حرص کا کبھی اختتام نہیں ہوتا ،۔
مجھے چیزوں کی ناپائیداری کا خیال کرنا چاہئے اور مایوس ہونے سے بچنا چاہئے ،۔
یہاں تک پہنچ کر پینو سر اٹھاتی ہے اور درویش کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے ۔
آپ یہی کہنا چاہتے ہیں ناں ؟
درویش نفی میں سر ہلاتا ہے اور بڑے تاسف بھرے لہجے میں کہتا ہے
نئیں ، میرا کہنے کا مطلب ہے کہ
تم بہت زیادہ  موٹی ہو ۔
تمہیں اپنا کھانا کم کرنا چاہئے !!م،۔

اتوار، 23 اپریل، 2017

قصائیاں دی لڑائی (پنجابی)۔

کالو قصائی دی شادی دی گل اے
کہ
خیر پنڈ وچ ایس گل تو تے سارے ہی واقف  سن کہ قصائیاں دے ویاھ تے لڑائی تے  مسٹ ہونی اے ،۔
جنج نکلن تو پہلوں پھپھڑ تے چاچے منان لئی  ہون والی لڑائی  تے بس ایک ادھ بندے دے کھنے سیکن  تک ای رہی ،۔
پر دوجے دن ولیمے تے جیہڑی لڑائی شروع ہوئی ،ایس وچ سر پاٹے ، کھنے سینکے تے نالے کتنے ای بندے پھٹر ہوئے تے
پنڈ والیاں نے پولیس سد لئی ،۔
پولیس والیاں آ کے سارے قصائیاں نوں نالے پھینٹی لائی تے نالے پھڑ کے لے گئے ،۔
جدوں پولیس پھڑدی  تے صلح سلوک کروان والے وی  چالو ہو جاندے نے ،۔
بہرحال ، گل چوہدریاں دے ڈیرے تک پہنچی ، وڈے چوھدری صاحب ، منجی تے بیٹھے سن تے سارے قصائی ایہاں دے سامنے ای فیر ایک دوجے نال گبھ کسنیں  ہو گئے ،۔
فیر مار کٹ تے کاکو رولا  ہون لگیا جیہڑا قصائی دے ویاہاں دا رواج سی
پر چوہردی صاحب دے ڈیرے تے پولیس والے وی کول ای کھلوتے سن ،۔ پولیس والیاں نے فیر کئی بندیاں لوں  لمیاں پاء کے پھینٹی لائی ،۔
پھینٹی کھا کے قصائیاں دا مچ مریا تے
اپی سارے تھلے زمین تے وچھیاں پھوڑیاں تے بہہ گئے ،۔
کالو دے ویاھ تے جاجو  ایس دا سربالا بنیا سی ،۔
سجے ہتھ دیاں انگلیاں تے  پٹیاں بنیاں ہویاں سن ،۔
جاجو قصائی اگے ہو کے آکھدا اے چوہدری صاحب میں ساری گل سناناں واں
کہ لڑائی کنے شروع کیتی سی، اے سارا قصور کالو دا جے ،۔
ہویا اے کہ
تہانوں پتہ ای اے کہ
ولیمے والے دن ساڈی برادری دا رواج اے کہ نویں وہٹی برادری دے نزدیکی لوکاں دے نال ناچ کردی اے ،۔
تے سب تو پہلوں سربالے دی واری ہوندی اے ،۔
ہن ایس  ویاھ دا سربالا میں ساں
ایس لئی نوئیں وہٹی دے نال میں ڈانس شروع کیتا ، برادری دیاں کڑیاں ڈھولکی وجانیداں  سن ،۔
ڈھولکی دی تاپ تے میں تے کالو دی وہٹی  ڈانس کردے رہے
پر ڈھولکی وجان والیاں  کڑیاں  جوش وچ آ گیاں تے ڈھولکی وجاندیاں ای چلیاں گیاں ،۔
نچ نچ کے
نوں وہٹی نڈھال ہو کے میریاں باہواں وچ ڈھلکی ہو گئی سی
میں ایس نوں اپنی کھبی بانہہ سے سنبھالیا ہویا سی
تے
کالو نے آ کے وہٹی دے چڈیاں وچ جتھے نازک تھاں ہوندی اے اوتھے ،اپنے زور دے نال کک مار دتی دی سی ۔ْ
جاجو دی گل سن کے چوہدری صاحب دے منہ تو نکل گیا
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
اتے اگوں جو کجھ جاجو نے آکھیا
ایس نوں سن کے چوہدری صاحب نے جاجو دیاں ٹٹیاں انگلاں تے وی ترس نئیں کھادا تے جاجو نو لمیاں پوا کے ایس دی بنڈ تے سو لتر لوائے سن ،۔
پتہ جاجو نے کی آکھیا سی ؟
جدوں چوہدری صاحب دے منہوں نکلیا
کہ
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
تے جاجو آکھدا اے
ظلم جہیا ظلم جی ، نازک تھاں دے اندر میریاں انگلیاں سن ، کالو نے کک مار کے میریاں انگلیاں تروڑ دتیاں نے ،۔

اتوار، 16 اپریل، 2017

طلبہ تنظیموں کو بحال کرو

جس طرح جمہوریت کی کرپشن کا علاج مذید جمہوریت ہے
کہ انتخابات کے تسلسل سے ووٹ کے ذریعے گندے لوگ ٹھکانے لگتے جائیں گے م،۔
جس طرح تفرقے بازی کا علاج مذید اسلامی تعلیم ہے ،۔
اسی طرح یونورسٹیوں میں لڑائی جھگڑے کا علاج بھی مضبوط طلبہ تنظیمیں ہیں ،۔
شروع میں لگتا ے کہ انارکی پھیل رہی ہے
لیکن آہستہ آہستہ پھینٹی کا خوف پھینٹی لگانے سے بھی باز رکھتا ہے م،۔
سب سے ؓری بات یہ کہ آپ کو اس بات کا ادارک ہونا چاہئے کہ سیاستدان کیا ہوتا ہے ؟
سیاستدان ،سوشل ورکر کی ایک اعلی ترین قسم ہوتی ہے م،۔ جس کی جبلت میں معاشرے کے لئے تعمیری کام کرنے شامل ہوتے ہیں ،۔
معاشرہ اس کو ووٹ کی طاقت سے سرکاری مشینری پر نگران (وزیر) بنا کر اس کو اپنی جبلت کی تسکین کا موقع فراہم کرتا ہے ،۔
جس کی وجہ سے امریکہ ، برطانیہ ، جاپان اور یورپ جیسے معاشرے پروان چڑھتے ہیں ،۔
اور یہ سیاستدان پیدا ہوتے ہیں طلبہ تنظیموں سے !!،۔
یاد رہے کہ امریت (فوجی حکومت) اور استعمار (سویلین قابض) ہر دو ، طلبہ تنظیموں کے دشمن ہوتے ہیں ،۔
کیونکہ کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ نئی نسل میں لتنا بڑا لیڈر پیدا ہو جائے جو کہ آمریت اور استعمار کو کچل کر رکھ دے ،۔
اس لئے آمریت اور استعمار طلبہ تنظیموں پر پابندی بلکہ کچلنے کی کوشش کرتے ہیں ،۔
اگر اپ دیکھتے ہیں کہ اج ایک طلبہ تنظیم ڈنڈے کے زور پر جامعات میں اپنے فلسفے اور فرقے کے نام پر گند کر رہی ہے ، تو ؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ایک تنظیم کو آمریت کی پشت پناہی حاصل تھی اور اس کے مقابلے میں کوئی تنظیم نہیں تھی جو آمریت کی دست راست اس تنظیم کے کسی بھی عمل پر رد عمل دیکھا سکتی ،۔

ہفتہ، 15 اپریل، 2017

جاپانی گالیاں

جاپانی اور گالیاں
****************
ایک دلچسپ واقعے کا میں گواھ ہوں کہ
ایک بندے نے روزمرہ کی جاپانی سیکھ لی تھی ساتھ کام کرنے والے جاپانی سے کچھ کھندک سے ہوئی تو اس پاکستانی نے جاپانی کو پنجابی کی ایک گالی جاپانی میں ٹرانس لیٹ کر کے دے دی ۔
جس گالی میں جاپانی کی ماں کو “کچھ” کرنے کی خواہش کا اظہار تھا

جاپانی گالی سن کر اس کو جواب دیتا ہے ۔
میری ماں تمہیں نہیں دے گی وہ میرے ابّے کے ساتھ بہت مطمعن ہے م،۔

پاس کھڑے خاور کا ہاسا نکل گیا تھا،۔
کہ
جاپان کی معاشرت بھی عجیب معاشرت ہے
کہ
جاپانی زبان میں گالی نہیں ہے ،۔
ایسی بھی بات نہیں غصے میں جاپانی بھی مد مقابل کو زچ کرنے کے لئے کچھ الفاظ ادا کرتے ہیں اور ان کا اثر بھی ہوتا ہے ،۔
مثلاً “ باکا یارو “ اس کو اردو میں پاگل کار کہہ لیں ، یعنی پاگل پن کے کام کرنے والا ،۔
دوسری مثال ہے “ کونو یارو” جس کو پنجابی میں کہہ لیں “وڈا کارو” ۔ اور موقع محل سے یہ بات سجتی بھی ہے اور سننے والے کو شرمندگی بھی ہوتی ہے ،۔
جاپانی زبان میں دوسرے کی تحقیر کے سارے ہی الفاظ ہیں
دلّا
کام چور ،
نکما
سست
اور جس بندے میں جو نقص ہو اسی نقص کی گالی دی جاتی ہے ،۔
اب اگر اپ کسی بندے کو غصے میں پنجابی سٹائل میں “ دلّا “ کہہ دیتے ہیں ،۔
جس کے لئے جاپانی میں “ ہیمو” کا لفظ بولا جاتا ہے ،۔
تو گالی سننے والا بجائے غصہ کرنے کے حیران ہو کر آپ کو دیکھنے لگے گا
کہ
میں دلّا ہوں ہی نہیں تو مجھے یہ کیوں کہہ رہے ہو؟
کسی عام عام کو اپ کہتے ہیں “ناماکے مونو” یعنی سست !۔ تو وہ بھی اپ کی عقل پر افسوس کر کے اپ کو “ باکا “ کہہ سکتا ہے کہ میں تو سست ہوں ہی نہیں تو تم مجھے پہچان نہ سکنے والے خود پاغل ہو گے ،۔
پاک لوگوں کی غیرت یعنی کہ ماں بہن کی گالی کا یہان تصور ہی نہیں ہے ،۔
اس لئے اگر اپ جاپان کے کسی دیوی دیوتا ، کسی گزر چکے بڑے بزرگ کو ماں بہن کی گالی دیتے ہیں تو ؟
سننے والا جبائے اپنے بزرگ کی توہین محسوس کرنے کے اپ کی عقل پر افسوس کرئے گا کہ
جس کی ماں یا بہن سے تم سیکس کرنے کی خواہش کر رہے ہو اس کو مرئے ہوئے بھی صدیاں گزر گئیں ہیں تو تم اس کو “چودو” گے کیسے ۔
کل کلاں کو اگر جاپان کسی پیغمبر کو ماننے لگتے ہیں ،۔
اور کوئی بد بحت ان کے پیغمبر کو گالی دیتا ہے تو ؟
جاپانی کندھے اچکا کر نکل دیں گے کہ
ہمارے پیغمبر میں یہ نقص تھا ہی نہیں
تم اپنی عقل کا علاج کرواؤ۔
میرا خیال ہے اپ سمجھ تو گئے ہوں گے ؟
کہ
میں کہنا کیا چاہتا ہوں ،۔

جمعرات، 30 مارچ، 2017

مرزا صاحباں


مرزے کی تاریخ پدائش 28 مارچ  1586ء بتائی جاتی ہے اور صاحباں اس سے ایک سال چھوٹی تھی م،۔
مرزا صاحب کے قصے کو حافظ  برخوردار اور دمدھرداس  نے منظوم لکھا ہے ،۔
کچھ اور شاعروں نے اگر لکھا ہوتو میرے علم میں نہیں ہے ،۔
حافظ برخودار کی کہانی  دانا باد کی مہری لانگی نامی خاتون سے شروع ہوتی ہے جو نوشوھ پیر کی خانقاھ پر اپنے بیٹے کی  لمبی زندگی کی دعا مانگتی ہے ،۔
مرزا دانا باد کا کھرل  تھا جو کہ اپنے نانکے کھیوے میں پلا بڑھا تھا ،۔
یہاں اس کی محبت صاحباں سے پروان چڑھتی ہے ، صاحباں کے بھائیوں کو بھنک مل جاتی ہے صاحباں اپنے بھائیوں کی تیور دیکھ کر مرزے کو دانا بادواپس اس کے دادکے بھیج دیتی ہے ،۔
مرزے کی غیر موجودگی میں صاحبان کی شادی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے ،۔
صاحباں  ، کرموں برہمن  کے ہاتھ مرزے کو خط بھیجتی ہے ،۔
مراز خط ملتے ہی اپنی گھوڑی جس کا نام نیلی تھا اس پر سوار دانا باد کا رخ کرتا ہے ،۔
شاعروں نے مرزے کی گھوڑی نیلی کی بہت تعریف کی ہے ، پنجابی کی شاعری میں کسی جانور کی تعریف کی ایک طرز کی بنیاد سی رکھ دی ہے ،۔
مرزے کے کھیوے کی طرف چلنے پر اس کو اس کا باپ ونجھل ، ماں مہری لانگی بہت سمجھاتے ہیں ،۔
ماں بات کے سمجھانے کو منظوم کر کے پنجابی میں محاوروں اور دانش کی بے مثال شاعری کی گئی ہے ،۔
مثلاً
چڑھدے مرزے خان نوں
جٹ ونجھل دینا مت
پٹ رناں دی دوستی
تے گتیں جنہان دی مت
ہس ہس لاندیاں یاریاں
تے رو کے دیون دس ،۔
اسی طرح راستے میں ایک مسافر ملتا ہے جو مزرے کو سمجھاتا ہے ۔

اس پر بھی بہت خوبصورت شاعری کی گئی ہے ،۔

مرزا جب کھیوے پہنچتا ہے تو اس کو اس کی پھوپھی  خطروں سے آگاہ کرتی ہے اور بہت سمجھاتی ہے ،
لیکن مرزا، صاحباں کو کھارے کی رسم کے دوران ہی  گھوڑی پر بٹھا لے اڑتا ہے ،۔
کھیوے سے دانا باد کے راستے میں بیلے میں بیری کے ایک  گھنے درخت کے نیچے جس کی شاخیں جھک کر  سائیبان سا بن چکا تھا اس کے نیچے آرام کرتے ہیں
یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کو شاعر لوگ  “ عشق کی آخیر “ کا نام دیتے ہیں ،۔
مراز جب سویا ہوا ہوتا ہے تو صاحباں کے دل میں اپنے بھائیوں کا درد جاگ جاتا ہے اس کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا مقابلے پر اتر آیا تو میرے بھائی مارے جائیں گے اس لئے وہ  مرزے کا ترکش درخت پر ٹانگ دیتی ہے اور اس کی گھوڑی کو “ٹنگا” ڈال دیتی ہے  یعنی اگلی اور پچھلی ایک ایک ٹانگ کو رسے سے جوڑ دیتی ہے ،۔
 صاحباں کا بھائی شمیر سوتے مرزے پر جب ڈانگ کا وار کرتا  ہے تو مرزے کی آنکھ کھلتی ہے
جب مرزا اپنی نیلی کو ٹنگے دیکھتا ہے اور تیر کمان کو درخت پر تو یہاں مرزے کی کیفیت کو شاعروں نے خوب لکھا ہے اور گوئیے لوگوں نے خوب گایا ہے ،۔
عالم لوہار کی آواز میں آپ نے سنا ہو گا
نی توں مندا کیتا صاحباں
میرا ترکش ٹنگیا  جھنڈ
میری گھوڑی چھڈی آ ٹنگ
مینوں باجھ بھرواں ماریا
میری  ننگی ہوگئی کنڈ
مرزے اور صاحباں کو قتل کر  دیا جاتا ہے
مرازے کی گھوڑی خالی جب دانا باد پہنچتی ہے تو  جٹ ونجھل کے بیٹے کی موت پر ترلے اور غم کی کیفیت بھی شاعروں نے خوب لکھی ہے ،۔
دانا باد کے کھرل مرزے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے  
کھیوئے پر حملہ کرتے ہیں کھیوے کے جٹوں کے سروں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں
اور ان کے گاؤں کو جلا کر خاک  کر دیتے ہیں م،۔

Popular Posts