پیر، 27 اپریل، 2009

اب کچھ هو گا ضرور

میں نے لکھا تھا
انقلاب کی چاپ تو جی هو سکتا ہے که کوئی سمجھے که خاور طالبان هو گیا هے
تو ایسی کوئی بات نهیں هے جی
میں جی جو کچھ بھی هوں بقلم خود بلکه خود بخود هوں
جب ملک کے سب ادارے بیکار هو جائیں تو تو جی کسی نان کسی نے تو سماج سدھار کا کام کرنا هے ناں جی
اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق
اب جی طالبان نام کی مخلوق کی سمجھ بوجھ پر تو میں تبصرھ کرنے سے رھا
که ایک تو مجھے یه لوگ مستقبل کی طاقت کے طور پر بھی نظر آ ہے هیں اور
دوسری بات یه که پنجابی کا محاورھ ہے که
بندے کا پته چلتا ہے واھ پیاں یا راھ پیاں
یعنی یا تو کسی کے ساتھ معامله کرنے سے یا ساتھ سفر کرنے سے هی کسی کے متعلق رائے قائم هو سکتی هے
اور طالبان کے ساتھ ناں تو میں معامله کیا هے اور ناں هی سفر
باقی جب پاکستان میں پولیس اپنی پولیس کے کام چھوڑ کر دے
عدالتوں پر لوگوں کا اعتماد ناں رہے
جائز کاموں کے لیے بھی خجل هونا پڑے
آپ دیکھ سکتے هیں که گورنمٹ کے هر محکمے میں هر سیٹ پر ایک فرعون بیٹھا هوا ہے
جس کی انا کی تسکین دوسروں کو ذلیل دیکھ کر هوتی هے
سیاستدانوں اور افسروں کے رشتے دار کسی کا حق مار کر قانون توڑ کر بدمعاشی کرکے رهنے کو فیشن سمجحیں
پھر ایسا هے که آپ نے کبھی جنگل کی راکھ میں سے نئی کونپلیں نکلتی دیکھی هیں ؟؟
کبھی سبزی منڈی میں گلے سڑے پھلوں یا سبزیوں میں سے نئی کونپلیں بنتی دیکھی هوں گی ؟
بس بہت هو چکا که ایک مخصوص طبقه اپنی دولت کی بے جا نمائش سے دوسروں کا دل جلائے که
کچھ لوگ تو سڑکوں پر مارے جائیں اور کچھ لوگ ایسے که ان کی سیکورٹی دیکھ کر هی دل دھل جائیں
یه طالبان کوئی بیگانے نهیں هیں یه عام لوگوں میں سے هیں
آپ دیکھیں که سارے پاکستان میں لوگ پولیس سے تنگ هیں
تو جی اس کا کیا مطلب هوا که پولیس جو که حکومتی رٹ کا نشان هو تی هے
ایک طرف
اور جمہور ایک طرف
اب حالت یه هو چکی هے که لوگ حکومت کو ایک بیگانی سی چیز سمجھتے هیں
هو سکتا ہے که جب پنجاب تک یه لوگ پہنچیں تو آپ کے بھائی یا هوسکتا ہے که میرے آپنے بھی ان لوگون کو ساتھ مل کر حکومتی کارندوں اور حکومت لوگوں کو مار رهے هوں
اب یه حال هے که حکومتی لوگ ڈرے هوئے هیں اور میڈیا ان کے ھاتھ ہے
اور یه لوگ بچو کی طرح کہـ رهے هیں وه دیکھو جی طالبان آ رهے هیں یه هم لوگوں کو ماریں گے
نهیں جی یه هم لوکےن کو نهیں تم لوگوں کو ماریں گے
بس میرے لوگوں کو عام لوگوں کو اس بات کا معلوم هونے تک کی دیر هے که هم لوگ هم هیں
اورحکومتی لوگ
هم نهیں هیں
بس جب جب جهاں جهاں لوگوں کو اس بات کا ادراک هو رها ہے وھاں وھاں کے لوگ '' طالبان '' بنتے جارهے هیں

بدھ، 22 اپریل، 2009

ماں وکدی اے ؟

بي بی سی دی اک خبر پڑھ کے بڑا دکھ هویا ہے
دھرتی وکدی اے
یارو لوکی بہناں وی کسے نوں دے دیندے نے تے دھیاں وی
جاندے بجھدے بہناں بہنوئی نوں تے دھیاں جنوائیاں نوں
پر یارو لوکی ماں تے كسے نوں نہیں دیندے ناں ؟
دھرتی وی تے ماں ای هوندی اے ناں ؟
مغلان نے دھرتی ماں تے گوریاں نوں پیر رکھن دی تھاں دیتی تے
گوریاں نے دھرتی دے نال کی کیتا
اج وی خطاب یافته لوکاں دے گھر نیلیان اکھاں والے تے گورے رنگ دے بچے پیدا هوندے نے
اصل وچ اے دھرتی مغلاں ماں نهیں سی ناں
اوھ تے اپنی ماں تو چھڈ کے پکھاں دے مارے ساڈی دھرتی تے قبضه کربیٹھے سن
مغلاں دے وڈکے تیمور لنگے دا ابا تے اک اجالی سی ناں جی جیہڑا بکریاں چاردا هوندا سی
حرامی اکھدے نے جی اوس نوں جیہڑا ماں ای ویچ دے
ماں کو مارکیٹ وچ رکھ کے تے فائدے ویکھن والے
لوک جدوں پردھان بن جاون تے فیر کسے ناں کسے تے اٹھ کے پلس فوج تے حکومت نوں مارنا ای اے
بڑا دکھ هویا اے
خورے میں ای پاگل آں ؟
چلو جی پاویں پاگل ای آں ، حرامی تے نئیں
مینوں اپنی جمن والی ماں وی تے دھرتی ماں وی پیاری اے

اتوار، 19 اپریل، 2009

انقلاب کی چاپ

یوں تو سب لفظ مہکتے گلاب هیں
لہجے کے فرق سے انهیں تلوار ناں بناؤ

بقول شخصے لفظوں کا زیادھ استعمال ان کا اثر ختم کر یدتا ہے
لفظ آئین کا معنے هیں دستور
جی اگر دستور کی بات کی جائے تو جن لوگوں کے دستور بدلتے رہتے هیں ان کو لوگ معتبر نهیں جانا کرتے
لیکن پاکستان میں دستور کو آئین کا نام دے کر کچھ ایسی چیز بنا دیا گیا ہے که
عام پاکستانی سمجھتا ہے که کوئی کتاب هو گی جس میں ادل بدل سے حکمران لوگوں کے مفادات بنتے اور ٹوٹتے هیں
آئین میں ترامیم پر عام بندھ (جمہور) کہتا ہے
سانوں کی !!ـ
لکن اگر آئین کا نام رکھ دیا جائے
ملک چلانے کا دستور
تو جی اس میں ادل بدل پر هر بندھ چونک جائے گا که
هیں ؟؟
کیا ؟؟
کیا بدلی هوئی ہے ؟
اور اگر اس کو پاکستانی بولی میں اس بات کا بتا دیا جائے که کیا بدلا هے
تو جمہور کو بھی معلوم هو گا که یه اچھا ہے که برا
لیکن جی هماری بد قسمتی هے که هم جتنا علم حاصل کرتے هیں اتنا هی اپنی زمین سے دور هوتے جاتے هیں
پہلے تعلیم سے علاقائی زبانوں سے اردو پر اتے هیں تو
اس میں اتنی وسعت نهیں پاتے که
که علاقائی زبانوں هی کی طرح زخیرھ الفاط نهیں هے
تو جی پھر هم انگریزی یا فارسی یا عربی کی مدد سے الفاظ بناتے هیں
کیونکه پنجابی پشتو یا بلوچی سندھی تو دیسی زبانیں هیں ان کے الفاظ اگر استعمال کر لیے تو اس کو گلابی اردو کے نام پر لوگ هنسیں گے
چھڈو جی اج کا موضوع دوسرا ہے
لفظ انقلاب اور اس کے معنی
انقلاب کو پنجابی میں کہیں کے
ھیٹھلی اُتّے آنا
شائد کوئی صحیع لفظ بھی هو مگر هماری بدقسمتی هے که هم نے پچھلی کتنی نسلوں سے پنجابی کی تعلیم چھوڑ دی ہے
نیچےوالے اپر اور اور اوپر والے مارے جائیں گے
جی هاں انگریزی میں
آپ سائیڈ ڈاؤن
هو جائے گی
لفظ انقلاب کو مذاق بنا کر رکھ دیا گیا هے
اپنے ایک مولوی هیں جن کو
بد ہضمی سے خواب بڑے آیا کرتے تھے
وه بھی کچھ دن قائد انقلاب کہلواتے رهے هیں
کسی نے نهیں پوچھا که جی انقلاب تھا که کڑی میں ابال
یا کسی چھپڑ میں بلبلے اٹھے تھے ؟
طالبان آرهے هیں
جی هاں یه انقلاب کی چاپ ہے
جو مجھے سنائی دی هے
بد حکمران انقلابیوں کے برے برے نام رکھ کر لوگوں کو ان سے دور کرنے کی کوشش کرتے هیں یا که اپنے آپ کو دھوکه دے رهے هوتے هیں
لیکن جن کی جڑھیں عوام میں هوں ان کو آپ مکتی باھنی کا نام دے کر مغربی حصے میں ان پر هنس سکتے هیں لیکن
هوا کیا تھا که جی کڑ کڑ کرتی وردیوں میں اکڑتےهوئے
فرعون نوے هزار کی تعداد میں قیدی بنا لیے گئے تھے
ابھی کوهاٹ میں ایک پولیس والے کی قبر کو بھی دھاکے سے اڑا دیا گیا ہے
کتنا غصه هے جی لوگوں کو حکمرانوں پر ؟
مناواں میں اگر عام لاهوریے ناں مدد کرتے تو جی
اپنی حکومتوں کا آہنی ھاتھ پولیس کو کتنی مار پڑتی ؟
حکومت لوگ بناتے هیں ، اپنے مسائل کی اسانی کےلیے مگر پھروقت گذرنے کے ساتھ ساتھ هوتا یه ہے که
حکومت اور لوگ دو علیحدھ چیز بن کے رھ جاتے هیں
اور حکومت بجائے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے
خود مسئله بن جاتی هے
بد حکمران بھول جاتے هیں که
حکومتوں کو لوگ هی بنایا کرتے هیں
ناں که حکومتیں لوگ بناتی هیں
پاکستان کی حکومت اور حکمران آپنی جاگیردارانه ذہنیت کے ساتھ
بہت بڑا مسئله هیں ـ
سوات میں طالبان نام کے انقلابی گروھ نے جاگیریں لے کر ان لوگوں کو دے دی هیں جو ان پر کاشت کر رهے تھے
جی هاں زرعی اصطلاحات
جو که پاکستان کی کسی بھی سیاسی پارٹی کے منشور میں نهیں هیں
طالبان لے کر آ رهے هیں وهی بات جو که سارے هی حکمران ٹولے کے مفادات پر زد هو گی
جاگیریں لے کر لوگوں کو دے دو
تو جی اپنی پاک فوج جو که خود پلاٹوں اور رقبوں کی شوقین ہے
آپنی آہنی پولیس جو که قبض گروپ کارپوریشن بن چکی هے
اپنے سیاست دان جو یا تو هیں هی جاگیروں والے یا پھر لوگوں کی زمینیں ھتھیانے میں لگے هوئے هیں
یه سب لوگ جن کا میں نے اوپر ذکر کیا هے سب ایک طرف هیں اور دوسری طرف هیں جی وه جو ان کے دشمن هیں چاهے ان کو طالبان کہـ لیں یا باغی ـ
اور تیسرے هیں جی عام لوگ جو ان دونوں کے درمیان پس رهے هیں
اور جب جب لوگوں کو اس بات کا احساس هو گا که کون ان کا اپنا هے اور کون بیگانا تو جی لوگ بھی اپنے لوگوں کے ساتھ مل جائیں گے
جو زیادھ امکان هے که طالبان هوں گے
رابن ھڈ هو یا سلطانه ڈاکو
هو سکتا ہے که یه فرضی کردار هوں لیکن هر دور میں لوگوں نے ان کو اپنا اپنا سا محسوس کیا هے
حکمران پولیس فوج اور دسرے ادارے اپنے جاگیرداروں کے ساتھ مل کر کسی کی چاھو کتنی بھی کردار کشی کرلیں
جب سورج چڑھتا ہو تو جی
سب کو نظر اتا ہے
آپ میں سے کتنوں نے اس بات کو اپنی زندگی میں دیکھا هو گا که
ایران میں کیا هوا تھا
جب تخت گرائے گیے تھے اور تاج اچھالے گئے تھے
وھاں فرانس میں مجھے ایک ایرانی ملا تھا جو که شاھ کی حکومت میں کسی طرح دار جنرل کا بیٹا تھا
اس نے اپنے باپ کی کی وھ تصویریں سنبھال کر رکھی تھیں جب جب وه شاھ کے ساتھ محفلوں اور میدانوں ميں اکٹھے چل رهے تھے
دس میٹر کے بوسیدھ سے کمرے میں رهنے والے اس ایرانی کو نہانا بھی کبھی کبھی نصیب هوتا تھا که
اس کے کپڑوں سے بو اتی تھی
ایک دن اس نے مجھے ایرانی کجھور کھانے کو دی
یه خاص قسم کی کجھور جو که ایران میں هی هوتی هے مجھے بہت پسند هے
بہت هی کالے رنگ کی اس کجھور کا چھلکاکاغذ کی طرح هوتا ہے اور چھلکے کے نیچے یه کجھور اتنی نرم هوتی هے که منه میں ڈالتے هی گھلتی چلی جاتی ہے
کیونکه یه کجھور کم هی ملتی هے میں نے اس سے پوچھا که کہاں سےخریدی تھی
اس نے مجھے ایک ایرانی کی دوکان کا بتایا
اور کہا که چار یورو میں کلو مل جائے گی جب میں اس دوکان پر گیا تو اس دوکاندار نے مجھے سے ساتھ یورو کلو کے چارچ کیے
میں نے اس دوکاندار کو کہا که فلاں فلاں ایرانی نے تو مجھے اس کی قیمت کچھ کم بتائی تھی تو
دوکان دار کہنے لگا که وه شخص صدقے کا حق دار هے اور میں اس کو صدقه سمجھ کر دیتا هوں

میں نے دوبارھ اس جرنیل کے بیٹے سے پوچھا که کیا تم کو معلوم هے که تم صدقه لے کر کھاتے هو
تو اس نے بتایا که هاں میں صدقه لے کر کھاتا هوں
جو اس کو انقلاب کهتے هں که ظالم حکومت کے جرنیلوں کے بیٹوں کو صدقه لے کر گزارھ کرنا پڑتا ہے

زانی کو سزا والی ویڈیو دیکھا کر کیا همارا میڈیا ، حکمران زانیوں کو سزاؤں سے بچانا چاھتا ہے ؟؟
طالبان کی سزاؤں کو ظالمانه دیکھا کر کچھ حاصل نهیں هو گا
که جرائم کی سزائیں هر حکومت بھی دیتی هے اور هر مذھب بھی
جی هاں انقلاب آئے گا اور یه لوگ جو که همارے اپنے هی پاکستانی هیں
آپ ان کا جو بھی نام رکھ لیں
یہی لوگ لے کر آئیں گے
لیکن اس کے بعد کے حالات جو مجھے نظر آرهے هیں
بہت خوفناک هیں
اور
وه بہت عرصه لیں گے امن قائم هونے تک ـ
یه لوگ عدالتوں میں انصاف چاھتے هیں چھے اس کا نام عدل رکھ لیں یا شریعت
اور حقوق کی منصفانه تقسیم چاھتے هیں
ایسے لوگوں کا راسته تاریخ کے کسی بھی دور میں روکا نهیں جاسکا
جب تک یه لوگ خود گمراھ ناں هو جائیں
میں نے دیکھا ہو که جہاں بھی چار پڑھے لکھے لوگ بیٹھتے هیں اس بات کا ذکر هوتا ہے که جاگیررادانه نام کا کچھ هونا چاھیے
تو جی اس نظام کا '' کچھ '' کرنے والے آ رهے هیں
اپنے ذھن تیار کر لیں
یه ناں هو که کہیں همیں کسی نے بتایا نهیں تھا

پیر، 6 اپریل، 2009

جگالی اور مولوی سرمے دانی

ایک پڑھے لکھے بنگالی نے کہاتھا جی که بندے کی یادوں کو گائے کی جگالی سے تشبیح دی جاسکتی هے هے که ایک سیانا کیا کرتاہے که یادیں بنائے جاتا هے
که جیسے گائے چارھ کھاتے هوئے بس چارا پیٹ میں ڈالتی جاتی هے
اور جب واپس اپنے جگه پر آتی هے تو اس چارے کو اگل کر مزے لے لے کر چباتی هے اور پھر اس کو لطف اندوز هو کر کھاتی ہے
جس کو جگالی کرنا کهتے هیں
تو اس طرح جی سیانے بندے یه کرتے هیں که کتابیں پڑھتے جاتے هیں اور زمانے کو کتاب سمجھ کر مطالعه کرتے جاتے هیں
که سیکھتے رهتے هیں جی اور جب ان کو کبھی فرصت ملے تو اپنی ان یادوں کو
نکال کر ان کی جگالی کرتے هیں
که لطف اندوز هوتے هیں که کبھی کرب محسوس کرتے هیں
که کبھی اضطراب
گائے چکالی کرکے ٹھوسی دیتی هے
اور بکری جگالی کرکے مینگنیاں
اور اسی طرح جگالی کرنے والے جانور کچھ ناں کجھ دیتے هیں
دیتے تو جی جگالی ناں کرنے والے بھی هیں لیکن اس کی بات بعد میں لکھتا هوں
سوچوں کی جگالی کرنے والے سیانے بندے دیتے هیں جی تحاریر اور فلسفه اور معاشرتی اصول
آپ آگر جانتے هیں تو آپ نے دیکھا هو گا که سب جگالی کرنے والوں کا جو فضله بھی هوتا هے اس کو کسی بھی دھرم میں مذهب میں اتنا ناپاک نهیں سمجھا جاتا که جتنا ناپاک جگالی ناں کرنے والوں کے گند کو سمجھا جاتا ہے
کیونکه جی جگالی کرنے والوں کا فضله بھی بد بودار نهیں هوتا که ناگوار گذرے لیکن جی
جگالی ناں کرنےوالوں کا گند تو جی گند هوتا هے ناں جی
اسی طرح سوچوں کی جگالی کرنے والے جو نکالتے هیں
وه کچھ کام کاهوتا هے
اس میں بد بو نهیں هوتی هے
هوسکتا ہے که جگالی کا طعنه دینے والے خود کو عظیم سمجھتے هوں
مگر جی جگالی ناں کرنے والے جانوروں کو تو جی اسمانی مذہب کھانا بھی پسند نهیں کرتے جی

چھڈو جی اج هم آپ کو بات بتاتے هیں جی اپنے مولوی سرمه دانی کی
ان کا حلیه بلکل جی سرمے دانی سے ملتا هے
چھوٹی سی گردن پر چھوٹا سا سر اور اس نے نیچے بڑی سی مٹکے جیسی مٹکے سے بھی بڑی توند
اور اس کے نیچے چھوٹی چھوٹی سی ٹانگیں جی
بلکل سرمے دانی جی
مولوی صاب کے ابا جی بھی مولوی هوا کرتےتھے اور ان کے اباجی کے اباجی بھی
مولوی صاحب کانام تو کچھ اور تھا مگر کیونکه مسجد میں صفحیں درست کروانے میں بڑے ایکٹیو هوا کرتے تھے اس لیے ان کا نام صف دار سرمے دانی پڑ کيا تھا
سوچیں اور خیالات بھی کالے کالے که سرمے دامی سے سرمه هی نکلے گا ناں جی
لیکن جی یه صاحب کالک کو بھی حسن سمجھتے تھے جی اور اگر کبھی کوئی ان کے خیالات پر تبصرھ کردے تو جی اس کو ایسا بے عزت کرتے تھے که بندے کو کالک میں بھی چمک دیکھا دیتے تھے جی
سرم دانی صاحب کو ان کے اباجی نے پڑھایا بہت تھا
لیکن پڑھایا صرف وهی تھا جو که ان کے اپنے هی مسلک کا تھا
سرمے دان صاحب کے اباجی کے کچھ واقعات بڑے مشہور هیں
جب سرمے دانی نیانیا پڑھ کر ایا تو اباجی نے کہا که پتر جی اگر میں کهیں غلطی کرجاؤں تو تم کھنگورامار دیا کرنا
اباجی تھے تقریر میں مبالغے سے کام لینے والے
اتنا که صرف دیہاتی لوگ هی برداشت کرسکیں
ایک دن کہنے لگے که ایکسانپ هوا کرتا تھاکه میلوں لمباجس کے بڑے بڑے دانت تھے
ابھی یہیں پہنچے تھے که سرمے دانی کا گلے کی خارش کی وجه سے کھنگورا نکل گیا
ابا جی سمجھے که سانپ کی لمبائی کچھ زیادھ هو گئی ہے اس لیے کہنے لگے که
که سانپ کی لمبائی تھی جی ایک میل
مووی سرمے دانی نے کھنگورا مارا که میں نے اعتراض نهیں کیا هے مگر اباجی کو سمجھ لگی که سانپ کی لمبائی کچھ اور کم کرنی هے
اسی طرح کرتے کرتے جب پانچویں بار سرمے دانی نے کھنگورا مارا تو مولوی صاحب ممبر سے اتر آئے که اب تم هی سنبھالو جی مسیت
بس اس دن سے سرمے دانی بن گیا جی مولوی سرمے دانی
ان کے اباجی کا یک اور واقع هے که ایک دفعه کہنے لگے که جنت میں جو کیلے هوں کے ناں وه مسیت کے مینار سے بھی بڑے بڑے هوں کے
اور تو اچھو ڈنگر کے منه سے نکل گیا که جی پھر ان کیلوں کو کھانے والے منه کتنے بڑے بڑے هوں کے ؟
تو مولوی سرمے دانی کے ابا جی نے اچھو کو جھڑک دیا تھاکه تم هو هی ڈنگر کے ڈنگر تمهیں کیا معلوم که ازاد شاعری کیا هوتی هے ـ
سرمے دان کے بڑے بزرگ کسی افغانی حمله اور کے ساتھ لوٹ مار کے لیے آئے تھے لیکن یہان رزق کی فراوانی دیکھ کر یهیں کے هو گئے
اور عزت بنانےکے لیے انهوں نے فیصله کیا تھا که جیسے یہاں ھندوؤں کے برھمن هونتے هیں هم لوگ مسلمانوں کےبرھمن بن کر رهیں کے اس لیے سید گهلوائیں کے
سرمے دانی کہلوانے کے پيچھے بٍھی یہی بات هے که سارے سید بننے والے کسی ناں کسی وسط ایشیا کے گاؤں یا شہر کے کہلواتےهیں
انهوں نے واهاں کوئی گاؤں تھا جی سرم دان جس کی نسبت سے سرمے دانی کہلوائے
مولوی صاحب کو اپنی مشہوری کا بڑا شوق هے اس لیے انهوں نے بھی اپنی ایک سائیٹ بنائی هے
لیکن پته نهن کیوں دوسروں کی سائیٹوں کو برداشت نهیں کرتے
ابھی پچھلے دنوں ایک مستری لڑکے کی کسی بات پر اس کو جھاڑ رہے تھے که جس کے بھی پاس ڈیڑھ دوسو ڈالر آجاتا ہے سائیٹ بنا کر بیٹھ جاتا ہے
میں تو جی ڈرا هوا هوں که اگر ان کو معلوم هوگیاکه کمهاروں کا لڑکا بھی بے لاگ لکھتا ہے تو ان کے دل پر کیا گزرے کی
لیکن جی یقین کریں که میں سید لوگوں کی عزت کرتاهوں

اتوار، 29 مارچ، 2009

سیاست گرم تے موسم ٹھنڈا

یہاں جاپان میں سیاست گرماگرم ہے
لوٹے لوٹنیاں لگا رهے هیں ـ
منافق اصولوں کی باتیں کر رهے هیں
نسلی لوگ حق کی بات کر رهے هیں
فقیر لوگ تماشا دیکھ رهے هیں
پیٹ بھرے لوگوں باتیں هیں که پاؤں کے نیچے سے گرز رهی هیں
میری گاڑی متسبشی کی مینیکا جس کو میں وکٹوریه کها کرتا تھا
اس کا واٹر پمپ لیک کر کيا هے
فجر کی نماز میں جماعت کے ساتھ شامل هونا ناممکن سا هو گیا ہے جب تک که گاڑی نهیں ملتی
ٹرک کا بھی کوئی بیرنگ آواز دے رها ہے
ویسے بھی اس کے ٹوکن مئی میں ختم هونے والے هیں
اللە نیا دے جی
آمین
کاروبار ٹھنڈا چل رها هے که جذبات پر بھی سردی چھائی هوئی هے
آج جی اپنے نون لیگ والوں کا کوئی جلسه سا هے
اس میں جائیں کے لوکاں کی باتاں سنیں گے
کسی کے منه پر سچی کہـ کر پاگل کہلوائیں گے
اگر کوئی گلی گلوچ پر اتر ایا تو جی خاور کی گالیوں کی فیکٹری کچھ نئی گالیاں بنا کر ان کی خدمت میں پيش کردے گی ـ
ھاتھا پائی میں تین چار پر تو بھاری هوں اگر هجوم هو گيا تو مار پڑے گی
مار کھائیں کے بلاک لکھیں گے
اور سمجھیں گے که جی سیانے هیں صرف هم هی زمانے میں باقی کے تو سارے کم علم اور کم عقل هیں
اور اپنی تعلیم هے جی
انڈر میٹرک
انگلش کو انگریزی اور چابی کو کنجی شلوار کو ستھن اور قمیص کو چگا کہتا هوں
اور پنجابی ایسی که اگر کبھی انگریزی کی اخبار پڑھ رها هوں تو لوگ منه پر هی هنسی اڑانے لگتے هیں
میں بھی کیا هوں جی چوں چوں کا مربه
آدھا تیتر ادھا بٹیر
ناں هنسوں میں ناں کوا
ناں پورا پاک لوگ اور ناں پورا جاپانی
پڑھے لکھوں میں ان پڑھ اور انپڑھوں میں پڑھ پڑھ گے پاگل
جیک آف آل کانئنڈ ماسٹر آف نن
یعنی هرفن مولا اور کسی بھی فن کا مولا نهیں هوں جی
بس جی دعا کرو که الله دولت دے
یاں پھر بہت ساری عقل دے دے که دولت ایک ضمنی سی چیز بن کے رھ جائے

منگل، 24 مارچ، 2009

کامیاب دورے

کامیاب دورے
جاپان میں کاروباری حالات مندی کا شکار هیں ـ
اس لیے اپنے جیدو ڈنگر اور بالے موٹے پاکستان کے کامیاب دورے کا پروگرام بنایا هے ـ
بالے موٹے نے جیدو سے پوچھا که هم کامیاب دورے کو کیسے کامیاب بنائیں گے؟؟
تو جیدو ڈنگر نے انتہائی دانشمندانه لہجے میں کہا
کامیاب دورے کو کامیاب بنانے کے لیے دورے کا کامیاب هونا ضروری ہےـ
بس اس لیے هم اپنے پاکستان کے دورے کو کامیاب دورھ قرار دیں گے
کیونکه یه دورھ پاکستان کا کامیاب دورھ هو گا ـ
تو جی بس جیدو ڈنگر اور بالے موٹے نے اپنا پاکستان کا کامیاب دورھ یہاں جاپان سے هی شروع کردیا ـ
ائیر پورٹ پر پر اور بھی کتنے هی لوگ ان کو ملے جو که پاکستان کے کامیاب دورے پر جا رهے تھے
راستے میں تھائی لینڈ میں دو دن کا سٹاپ اوور تھا
اس لیے جیدو ڈنگر اور بالے موٹے نے بنکاک میں بھی پاکستان کا کامیاب دورھ کیا
یہان بنکاک میں جیدو ڈنگر نے گریس هوٹل کے ڈسکو میں بے تحاشا بھنگڑا ڈانس کر کے پاکستان کے کامیاب دورے کو کامیاب کیا ـ
هاں بالے موٹے نے اپنےاس پاکستان کے کامیاب دورے کو ڈانس کا تڑکا نہیں لگا سکا کیونکه بالا موٹا بے تحاشه موٹا ہے ان لیے جیدو ڈنگر کی طرح بےتحاشه ڈانس نہیں کر سکتا
پاکستان میں ان دونوں کا بچپن کا دوست تابو چوھا بھی فرانس سے اپنے پاکستان کے کامیاب دورے پر ایا هوا تھا
جیدو ڈنگر نے تابو چوهے سے چھوٹتے هی پوچھا
اور تابو ، تم بھی فرانس سے پاکستان کا کامیاب دورھ کرنے آئے هو ناں ؟؟
اوئے سدا کے ڈنگر جیدو یه پاکستان کا کامیاب دورھ کیا هوتا ہے اؤیے ؟؟
یار اج کل جاپان میں پاکستان کے کامیاب دورے کرنے کا دورھ پڑا هوا ہے لوگوں کو تو جی همیں بھی تم سمجھ لو که پاکستان کا کامیاب دورھ کر نے کا دورھ ، نهیں یار ، شوق چڑھایا هے ـ
اچھ اچھا میں سمجھ گيا تابو چوھے نے کہا
جیسے اپنے چاچے مولے کے کھوتے زیادھ پھک کھا کر ٹیٹنے وٹتے تھے اس طرح جاپان کے دولت مند لوگوں کے ٹیٹنے پاکستان کا کامیاب دورھ هوتے هیں ـ
اؤے چوھے تم هو هی سدا کے دل کتر باتیں کرنے والے
یار تم نے هم جاپاكی لوگوں كو چاچے مولے کے کھوتوں سے ملا دیا ہے
یه هماری انسلٹ ہے تابو چوھے زبر دست انسلٹ
هم جاپان میں رهنے والے پاکستانی گریٹ ترین لوگ هیں
تمهیں کیا معلوم که هم کتنے گریٹ هیں ـ

جیدو ڈنگر کے پاکستان گو کامیاب دورے میں گھر پہنچتے هیں جو کام نکالا وه تھا جی ان کی بھینس '' بول '' پڑی تھی
اپنے دورے کو کامیاب ترین کرنے کے لیے جیدو کو اپنی بھینس کسی کے بھینسے کے پاس لے کر جانی پڑی
اب جی بھینسے نے جو اس بھینس کے ساتھ کیا وھ قابل تحریر نہیں هے ـ
رات کو ایک کانفرنس میں شمولیت کی دعوت تھی جی
بالے موٹے اور جیدو ڈنگر دونوں کو ـ
گاؤں کے لوگ تو ان کو چنڈال چوکڑی کہتے هیں مگر کیوں که جیدو اور بالا پاکستان کے کامیاب دورے پر ائے هوئے تھے اس لیے ان کے بچپن کے دوستوں نے یه کانفرنس ان کے اعزاز میں بلائی تھی ـ
اس کانفرنس میں شامل معززین کے نام کجھ اس طرح هیں
مالک زلف تراش عرف مالو
طفیل ٹمبر مرچنٹ عرف تھیلا مسواکاں والا
اصغر آئل مل عرف عسو کولہو والا ـ
صابر انجنئیرنگ عرف صابر سائکلاں والا
ان سب کے علاوه علاقے کی مشہور شخصیت جن کا ٹرانسپورٹ کا کام (گدھوں اور خچروں پر)ہے
سیٹھ اشرف عرف اچھو کمیار اس کانفرنس کا سب سے جہاندیدھ بندھ تھا ـ
پاکستان سے غریبی مٹانے کے موضوع پر اس کانفرنس میں پنجابی کی پرانی گالیوں کے علاوھ جیدو اور بالے نے کچھ نئی گالیاں بھی سیکھیں ـ
اچھو کمیار نے جیدوڈنگر اور بالے کو بہت سراها که جاپان چلے گئے اس لیے بچ گئے ورنه یه پاکستان کے کامیاب دورے تم نے کسی ویگن کی ڈرائیوری میں یا کہیں اور خجل هوتے هونا تھا
جیدد ڈنگر نے اچھو کے اس تبصرے پر اچھو کو پنجابی کی پرانی گالیاں دیں
جن میں اس کی ماں بہن پر ڈنگروں سے ناجائیز تعلقات کا انکشاف فرمایا گيا تھا اور اس کے جواب میں
اچھو نے جو گالیاں دیں ان کو سن کو جیدو ڈنگر کو احساس هوا که پنجاب نے گالیوں کی تکنیک میں کتنی ترقی کی ـ
اس لیے جیدو ڈنگر بد مزھ هونے کی بجائے اس کااچھو کا مشکور هوا که اس نے جیدوڈنگر کے کامیاب دورے کو کچھ نئی گالیاں سکھا کر چار چاند لگا دیے هیں ـ
پنجاب کی تکنکی مہارت کا نظارھ کروا کے
کانفرنس کے اختتام پر جیدو ڈنگرا ور بالے موٹے نے غریب لوکوں میں سو سو روپے بانٹے تاکه چرس کا سوٹا لگا کر پاکستا ن کے دورے کی کامیابی میں مدد کریں ـ
جیڈو ڈنگر کو معلوم نہیں که کیا سوجھی که ملک زلف تراش کے حمام پر چلا گیا که انڈر شیو کے لیے اس رچھ (استر) سے اپنی پرانی ورایت کو زندھ کر کے پاکستان کے دورے کو کامیاب کرے
که مالو خود تو حمام پر نہیں تھا که اس کے شاگرد نے جیدو کو استرا دینے سے انکار کر دیا
جاپان کی دولت کے نشے سےـ چور جیدو ڈنگر جو پاکستان گیا هی کامیاب دورے پر تھا
اس کی تو پتلیں هی تپ گئیں
اور کاکے تم مجھے جاتے تو هو ناں؟؟
جیدو نے پوچھا
شاگرد نے کہا
هاں تم وهی هو ناں جس کی پیٹھ پیچھے سب ڈنگر کہتے هیں ـ
لیکن تم مجھے نہیں جانتے
مجھے سارا گاؤں میرے منه پر طافو ڈنگر کہتا ہے
جیدو برا سامنه بناتا هوا باهر نکل ایا
اور دل میں سوچ رها تھا که اب اس ڈنگر کے کیا منه لگنا
دورھ تو میرا هی کامیاب کہلوائےگا ناں
پاکستان کا کامیاب دورھ
پاکستان سے واپسی پر جیدو ڈنگر کے ساتھ جو کچھ لاهور میں پی ائی اے اور کسٹم اور ایمگریشن والوں نے باری باری کیا کیااس پر پھر کبھي سہی
لیکن قصه مختصر کے جیدو کا یه دورھ پاکستان کا کامیاب دورھ تھا ـ

اتوار، 22 مارچ، 2009

پاک لوگ

یہان جاپان میں هم پاکستانیوں کی کل ابادی آٹھ هزار سے دس هزار افراد هو گی
جاپان جو که رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے تقریباً نصف ہے
دس هزار کی ابادی کچھ بھی تو نهیں هے ناں جی ؟
اور ان دس هزار میں سے تقریباً ایکسو کے قریب لوگ هیں جو بڑھ بڑھ کر سیاست میں حصه لیتے هیں اور سیسات بھی پاک سیاست اور طریقه کار بھی پاک هی هے
جس کو اهل علم ناپاک کہتے هیں
اور ان ایک سو کے قریب لوگوں میں سے بھی تقریباً پچاس لوگ هیں جن کو انٹر نیٹ پر فوٹولگوانے کا بڑا شوق ہے
پھر ایکسٹرا منافق لوگ هیں جی ـ
ابھی همارے ایک دوست هیں جی انجم مسیح جنهوں نے
غیر مسلم لیگ
بنانے کا پلان بنایا هے
کیا خیال ہے جی آپ کا ؟
غیر مسلم لیگ

اتوار، 8 مارچ، 2009

پیمانے

خط استوا سے قطب شمالی تک کے فاصلے کا ایک کروڑوان حصه هوتا ہے ایک میٹر
اور
١٠٠ گرام کا ایک جسم جب بلندی سے گرے تو اس کے گرنے کی طاقت کو ایک کلو نیوٹن کہتے هیں
اور
ھائیڈریجن کے تین ایٹم جوڑ کر رکهے جائیں تو اس کی لمبائی کو ایک نانو میٹر کہتے هیں
جی هاں نانو تکنیک که جو مالکیولوں کے درمیان موجود هوا کی مقدار کو کم بیش کرکے چیز کی کی ساخت هی بدل دیا کرے گی جی سائینس

جاپان میں ایک جوس یا پانی کی بوتل کے ڈھکن کو بند کرنے کے لیے بھی قانون ہے که کتنے سے کتنے نیوٹن تک کی ٹائیٹ نیس میں بند کیا جائے گا
ایک ٹشو پیپر کتنے نیوٹن کے دباؤ هو گا تو گاهک اس کی نرمی سے اس کو خریدے گا
اور ایک کاغذ کتنے نیوٹن پر پھٹ جائے کا تو اس پر لکھتے هوئے قلم اس میں گھس هی ناں جائے یا یه اتنا وزنی ناں هو جائے که کاسٹ هی پوری ناں هو ـ
مارکیٹ میں بکنے والے جاپان میڈ موبائیل فون کے بٹن کو دبانے کے لیے کتنے نیوٹن کا دباؤ هوتا ہے یه هر کمپنی کا سیکرٹ هوتا ہے
که مارکیٹ میں لوگ بوڑھے بھی هوتے هیں اور جوان بھی اور اس کا بٹن اتنا نرم بھی ناں هو که بن دبائے هی فون کرنے لگ جائے اور اتنا سخت بھی ناں هو که نمبر ملے هی ناں ـ
سلیمان رشدی نے شیطانی ایات نامی کتاب میں اسلام پر طنز کرتے هوئے لکھا تھا که مکے میں کچھ لوگ باتیں کر رهے تھے که اس کاروباری نے جو نیا مذہب بنایا هے اس میں هر چیز کے لیے ایک اصول مقرر كردیا هے
حتی كه اگراپ نے هوا بھی چھوڑنی ہے تو منه هوا کے رخ پر کر لیں که بد بو دوسری طرف چلی جائے
یه تھا اسلام
اور اج مسلمان
،رسول پر طنز کرنے اور ٹھٹه اڑانے والے کافروں کی طرح
باتیں کرتے هیں که جی ان گوروں نے هر بات میں ایک اصول بنا دیا ہے
کتنا گر گیا هے جی همارا لیول ؟
وهاں برطانیه میں پارلمنٹ میں اس بات پر بحث هو رهی هے که نانو سے بننے والے روبورٹ جو که خوردبین سے نظر ائیں گے اور انسانی جسم میں داخل هو کر جہاں درد یا بیماری هو گی اس کو ٹھیک کردیا کریں گے ان کی تعریف کیا مقرر کی جائے
دوائی یا مشین ؟؟
اور ایک هم پاک قوم هیں که هماری پڑھی لکھی ابادی میں سے بھی نانو کی تکنیک کا کتنے پرسنٹ کو معلوم ہے ؟؟
یہاں جاپان کے سیاستدان بھی کوئی سائنسدان نہیں هیں بس جی سیاستدان هیں جو که جھگڑتے بھی هیں که کبھی کبھی پارلیمنٹ مچھلی بازار کا منظر پیش کررهی هوتی هے
مگر اس طرح کے معاملات میں اسمبلی میں بخث سے پہلے یه لوگ هوم ورک کرتےهیں اور اپنے نزدیکی پروفیسروں اور تکنیکی ماھرین سے مشورھ کرتےهیں
ان کی آراء کی روشنی میں پیمانے مقرر کیے جاتے هیں
پاک لوگوں کی طرح نهیں که پروفیسر اور تکنیکی لوگوں کو گھاس هی نہیں ڈالتے
جی هاں آپ علم کو ذلیل کروں دنیا آپ کو ذلیل کرکے رکھ دے گی
اپ نے دیکھا هوگا که کیسے اهل علم امریکه والوں نے پاک لوگوں کے وزیر اعظم پر بھی کتے چھوڑ کر اور ننگا کرکے پریڈ کروائی تھی ـ

چھڈو جی قنوطیت کی باتیں
بابے نجمی نے لکھا تھا
دوش ناں دیو هواواں نوں سر توں اڈیاں تمبوواں دا
کلے ٹھیک نهیں ٹھوکے خورے ساتھوں رسے ڈھلے رے
اگر هم کلے ٹھیک ٹھونک کر اور رسے خوب باندھ کر رهتے تو شائد اج همارے امن کا تمبو همارے سر سے ناں اڑ چکا هوتا

ہفتہ، 7 مارچ، 2009

گشتی

پنجابی میں ایک عقل کی بات کرتے هوئے شاعر کہتا ہے

راهوں ناں کدی کراھ پئے بھاویں پینڈا کنا دور هوئے

انجانی رهیں اختیار ناں کریں چاھے منزل کتنی بھی دور هو



ماں پیو نوں ناں مند اکھیے بھاویں اینہاں دے وچ قصور هوئے

والدین کو کبھی برا نه کهو چاهے قصور بھی ان کا هی هو



ٹردی پھردی ناں رن کریے بھاویں جنتان او حور هوئے

گھومنے پھرنے والی عورت کو بیوی نه بناؤ چاھے حور جیسی خوبصورت هو



گھومنے کی شوقین عورت کو پنجابی میں گشت پر نکلی مونث گشتی کہتے هیں

اور یه لفظ اپنے اصل معنوں سے هٹ کر اب ایک گالی بن چکا هے

گشتی رن

زرا بالغانه سا لطیفه ہے

که ایک مراثی نے چوھدریوں سے بھینس مانگی ، تو چوھدری نے اس کو ایک بھینس عنایت کردی

که یه بھینس بس '' لگی هوئی '' هے اب اس کی ٹہل سیوا کرو که جب بچه دے کی تو دودھ پینا ـ

کچھ دن گزرے که بھینس پھر ''بول '' پڑی ـ

مراثی اس کو پھر لگوا کر لایا

که ایک مہینے کے اندر پھر '' بول '' پڑی

اسی طرح جب تین چار دفعه هوا

که ایک دن چوھدری نے پوچھا

اوئے مراثیا

سناؤ بھینس کا؟؟

تو مراثی ھاتھ جوڑ کر کہنے لگا جی چوھدری صاحب اس کو بھینس نه کہیں ، بھینسیں تو جی هوئیں آپ کی هماری والی تو جی گشتی ہے گشتی ـ



تو جی پهلے تو پاکستان میں صرف گشتی رنیں هوتی تھیں اور اب سنا ہے که جی گشتی عدالیتیں بھی هوا کریں گی

گشتی پولیس بھی هوا کرتی تھی اب بھی هو شائد

گشتی پولیس

گشتی رنیں

گشتی عدالتیں

میں تو کہوں یه حکومت هی گشتی ہے

دروں کے شوقین اپنے صدر صاحب بھی گشتی صدر هیں ناں جی

گشتیاں ای گشتیاں نے جی

زندگی که گاؤں کی ایک حسین لڑکی

پھنس گئی ہے تماش بینوں ميں ـ

پیر، 2 مارچ، 2009

وطنے دی بوٹی اور اس کی مہک

اپنے عالمی اخبار والے مصباح حسین سابق القمر والے صاحب کا فون ایا جی اج اسٹریلیا سے
چھوٹتے هی پوچھتے هیں
جی خاور صاحب اپ بھی تلونڈی موسے خان سے هیں
جی هاں جی میں تلونڈی موسے خان سےهوں اور جی اپنے نسوانی نام والے صنف کرخت کے شاھ صاحب کے اباء بھی ہمارے پنڈ کے نکلے جی ـ
پیر محمود شاھ صاحب هوا کرتے تھے جی همارے گاؤں میں هماری پیدائش سے پہلے کی بات ہے
مشہور ہے که تلونڈی میں مچھر اور مکھی ان پیر صاحب کو دعا سے نهیں ایا کرتا تھا
ساتھ کے گاؤں نوئیں کے ، بلکه اصل گاؤں نوئیں کے جس میں سے تلونڈی نام کا گاؤں نکلا تھا
اس گاؤں میں سانپ کے کاٹے سے موت کے واقعات هوتے رهتے هیں مگر بڑے بزرک کہا کرتے تھے که تلونڈی کی جوح(حد) میں اتے هیں ان پیر محمود شاھ صاحب کی دعا ہے که سانپ کا زہر ختم هو جاتا ہے
میں تو جی ان باتوں کومانتا نهیں هوں مگر پته نهیں که کیا وجه ہے که تلونڈی میں سانپ کے کاٹے کی موت کا سنا نهیں هے کبھی ـ
اور هماری هوش میں مچھر مکھی اتناتھا که جی ایکسپورٹ کرکے بھی کم ناں پڑے ـ
ایک کردار هوا کرتا تھا
جی حاجی دارو گر
کھوکھر گوت کے ماچھی هیں جی اور داروگری یعنی آتش بازی تیار کرتے تھے لیکن هماری هوش میں هم نے ان کو ابلے آلو چھولے کی ریھڑی لگاتے دیکھا ہے
گورنمنٹ ھائی سکول تلونڈی موسے خاں کے پڑھے هوئے لوگوں کو سب کو هی یاد ہےیه یه کردار
که ادھی چھٹی کے وقت اسی سے آلو چھولےلے کر کھایا کرتے تھے
حاجی دارو گر یه ناں سمجھیں که الو چھولے بیچتا تھا تو کوئی جاهل ادمی تھا
جی تلونڈی کا تو پاگل بھی اجنبی کے ساتھ اردو میں بات شروع کردے
یه حاجی صاحب ایسے ایسے شعر سناتے تھے که فارسی کے طالب علموں کو بھی الفاظ کے معنی ماسٹر جی سے پوچھنے پڑیں
ایک دفعه حاجی نے بتایا که پیر صاحب کے پاس جب اوقلی هوتی تھی تو اکر کسی کو حال پڑ جاتا تھا تو پیر صاحب حاجی کو اشارھ کیا کرتے تھے که تم سنبھالو اسے
اور جی خاجی صاحب چھ فٹے جوان بندے تھے
حاجی صاحب کے منه سے میں نے خود سنا هے كه حال كا تو سب ڈرامه هوتا هے
جب میں اس کو دبوچ لیا کرتا تھا تو جی بندے کی چیں بول جایا کرتی تھی
اپنی جوانی میں یه حاجی صاحب ایک ماجھی لرکی پر عاشق هو گئے تھے
عاشق بھی ایسے که صبح جس گلی میں سے گزر کر اس نے باهر حوائج ضروریه کے لیے جانا هوتا تھا
اس گلی میں جھاڑو دے کر پانی کا چھڑکاؤ کردیا کرتے تھے
روایت ہے که پیر محمود شاھ صاحب نے اس کو خوش هو کر پوچھا که حاجی کوئ خواهش هو تو بتاؤ
تو حاجی نے کہا که جی ماچھن چاهیے
پیر صاحب نے فرمایا
اوے جھلیا وه ماچھن تیری قسمت میں نهیں هے
که تمہاری قسمت میں کافی اولاد ہے اور اس کی قسمت میں کچھ نهیں بنجر هے
تو حاجی کا بڑا لڑکا همارا دوست هوا کرتا تھا
ضمیرالحسن
لڑکپن میں توڑے دار بندوق اور اس کے ساتھ شکار اور اس کا بارود بنانے میں حاجی دارو گر صاحب کو رهنمائی کی کہانی پھر کبھی سہی
تو جی اپنے مصباح صاحب ان پیر صاحب کی اولاد هیں
پیر صاحب کے بچے گاؤں چھوڑ کر کهیں اور چلے گئے تھے
کسی سکینڈل کی وجه سے وه سکینڈل کیا تھا
میں نے ایک دفعه صدیق کھل والے سے پوچھا تو اس نے جھڑک دیا تھا که
اب تم کو میں کیا بتاؤں
اب تھوڑا سا یاد اتا ہے که ریھڑے پر سمان لادھا جارها هے اور عورتیں افوسوس اور تاسف سے کهـ رهی هیں که
اج پیر لوگ واقعی گاؤں چھوڑ گئے جی
مصباح صاحب سے معذرت کے ساتھ که هو سکتا هے کوئی بات ان کے خلاف جاتی هو
مگر یہی باتیں هیں که گاؤں میں عام لوگ جانتے هیں
یا هوسکتا ہے که اب جوان لوگوں کو یه بھی معلوم ناں هو
مصباح صاحب کی تحاریر کا لنک
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=misbah

Popular Posts