سوموار، 12 جنوری، 2015

چارلی ایبدو

فرانس کے شہر پیرس میں ، ایک جریدے “ چالی ایبدو” کے دفتر پر ہونے والے حملے اور اس میں مارے جانے والے بارہ افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ
یہ ایک ظالمانہ کام ہوا ہے  ۔
غیر مسلم ممالک میں پناھ گزین مسلمان بھی   اپنے محافظ ممالک کے لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
اسلام  قتل کے خلاف ہے ، کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔
منافقت !!۔
منافقت کر رہے ہیں ۔
میں منافق نہیں ہوں سیدھی اور کھری بات کروں گا ۔

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
یہ الفاظ سننے میں بڑے پیارے لگتے ہیں ۔
لیکن آزادی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
جاپان کے معاشرے میں جہاں میں پناھ گزین ہوں ، یہ آزادی ہے ، حقیقی آزادی ، اور اس آزادی کے بھی کچھ اصول ہیں ۔
مثلاً ، اپ کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں ،۔ جہاں تک چاہیں پھیلا سکتے ہیں
لیکن
دوسرے کی ناک یا گریبان کے حدود سے اِدھر تک !!۔
آپ کی آزادی کی حدود دوسرے کی انسانوں کی حدود میں داخل ہونے کا نام نہیں اگر اپ دوسروں کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسروں کی آزادی پر حرف آتا ہے ۔
بات کرنے میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
نظریات پر تنقید کریں ،واقعات پر بھی تنقید کریں کہ واقعات جذبات پر اثر کرتے ہیں اچھا یا برا ، خوشی کا یا دکھ کا !۔
لیکن شخصیات پر بات کرتے ہوئے خیال رہنا چاہئے کہ کہیں کسی کی تذلیل نہ کریں ،۔
کسی کو گالی نہ دیں ۔
یا پھر اگر گالی دینی ہی ہے تو اپ کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ اپ کسی کو دشمن ڈکلئیر کر کے اس کے غصے کو ابھار رہے ہیں ۔
یہ تو کسی کی ماں بہن یا باپ کی گالی تک کا معاملہ ہے ۔
جب  کوئی اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دیتا ہے
تو
اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ، اسلام زمین پر پہلا مذہب ہے جو کچھ حدود کے بعد لڑائی کو فرض کردیتا ہے ۔
اللہ کے رسولﷺ کی انلسٹ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

فرانس کے اس جریدے “ چارلی ایبدو” نے جو گالی دی تھی ،اس کے ردعمل میں جن کے جذبات کی توہیں ہوئی تھی انہوں نے اس گالی کا بدلہ لے لیا ۔
فرانس نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے جرم میں ان لوگوں کو قتل کردیا ۔
اب اگر فرانس یہ چاہتا ہے کہ ہم بدلہ لینے والوں کی مذمت کریں تو ؟
“ دیزولے” ( سوری) میں اس کی کبھی بھی مذمت نہیں کروں گا ۔
بدلہ لینے والوں کے جذبات مجروع کئے گئے تھے ۔
دوسروں پر تحقیر کرنے والے لوگوں کو اس بات کااحساس ہونا چاہئے کہ ،ان کے عمل کا ردعمل بھی ہو گا ، جس کی شدت کا بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
بدلے کے لئے حملہ کرنے والے ان جوانوں کے حلمے سے پہلے دنیا کے کتنے ہی شہروں میں کتنے ہی لوگوں نے مظاہرے کر کر کے اپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ ،چارلی ایبدو والوں نے ایک معیوب کام کیا ہے
اس کی معافی مانگیں لیکن اپ لوگوں نے

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
کے نام پر لوگوں کے جذبات کا مذاق اڑایا تھا ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts