جمعرات، 22 دسمبر، 2011

فرشتوں کے کام

یه مسلم لیگ بچے دے دے کر پھاوی سی هو گئی هے
اس لیے اس سے پچے دلوانے والے فرشتوں نے کچھ اور سوچا هے که
اب فرشتوں کے نئے بچے مسلم لیگ کا نام لے کر پیدا نهیں کیے جائیں گے
بلکه
انقلاب کا سابقه یا لاحقه لگا کر پیدا کیے جائیں کے اور اس سابقے اور لاحقے کے اگے پيچھے کے نام بھی بدلنے کی گنجائش رکھی جائیں گی
بڑا رواج تھا جی
لنگی کا ان دنوں جب پاکستان بنوانے کے لیے مسلم لیگ سرگرم کیا پاؤں گرم دل گرم اور پته نهیں کیا گیا کرم تھی که
ایک جگه کسی مخیر نے مسلم لیگیوں میں لنگیاں بانٹیں
سوتی لنگیاں تھیں که ایک هی دهلوائی میں سکڑ گئیں
اسی مخیر نے بڑے فخر سے پوچھا که کیسی هیں میری دی گئی لنگیاں
تو
منچلے نے جواب دیا که
کانگرس کی حمایتی لگتی هیں
که جب ان سے مسلم دھانپتے هیں تو " لیک " ننگی هو جاتی هے
اوراگر "لیک" ڈھانپیں تو" مسلم " ننگا هو جاتا هے
مجھے تو جی اب پاکستان کی سیاست دیکھ کر لگ رها هے که
روحانی خانوادوں کے کاروبار ميں اب سیاست کی دوکاندایان بھی داخل هوچکی هیں
اور انے والی تین چار دھائیوں میں سیاسی جماعتوں کی خانقاهیں بھی هوں گی جن کے سجاده نشین ملک کی حکومت کے لیے کوشش کیا کریں گے
بی بی شهید ، بابا شهید ، شهید جمهوریت ، پیر سیاست ، شهید انقلاب وغیره وغیره قسم کے نام هوں گے ـ
لیکن
اگر الله پرست لوگ آئے اور انهوں نے ساری سیاسی اور روحانی اور تعویذی اور وظیفی خانقاهوں پر بلڈوزر چلا دیے اور لوگوں کے دیکھتيے هیں دیکھتے قبروں والے بابے ان بلڈوزروں کو روک بھی ناں سکے
تو؟؟
چھڈو جی !!ـ
یه اوپر والا خاور کا خواب هے اور توحید کے داعی هزاروں سال سے یه خواب دیکھتے آئے هیں
اس خواب کے لیے قتل بھی هوتے هیں اور دربدر بھی
بے عزت بھی هوتے هیں اور بدنام بھی
لیکن اس خواب کو پورا بھی کرتے هیں اور نام چھوڑ جاتے هیں
لیکن
بڑا هی واهیات جانور هے
انسان بھی که
ایک اسی سبق کو جلد بھول جاتا هے اور
میرے رب ! الله سائیں کے ساتھ لوگوں کو ، چیزوں کو شریک کرنے لگتا هے
اور ملک کے حالات پاکستان جیسے هو جاتےهیں
خاور ان حالات کو بے دین معاشرے کے حالات کہتا ہے
اور بد انیش لوگ اس کو دین(سسٹم) کهتے هیں
آپ بھی اپنے اردگرد دیکھیں که کون کون انقلاب لانے کی باتیں کر رها هے
اور اس کا منشور کیا هے عزم کیا هے؟؟
بس انقلاب!!ـ
مولبی طاهر صاحب بھی قائد انقلاب کہلوائے تھے اور بھائی الطاف بھی انقلاب کی باتیں کرتي هیں اور
اسی لیے عمران خان کے انقلاب ميں کراچی ميں تعاون کو روش اپنائی هے
جی
ایم کیو ایم نے
کیوں که فرشتوں کا حکم ہے
اور فرشتے انقلاب لانا چاهتے هیں
اب اس بات کا مجھے بھی علم نهیں ہے که
فرشتوں کے نزدیک " انقلاب " کے معنی کیا هیں ـ
یاد رهے فرشتوں کے الفاظ معنی عوام سے مختلف هوتے هیں

1 تبصرہ:

جعفر کہا...

بات یہ ہے جی کہ آخر اتنی سہولتیں اور رقبے اور عیش چھوڑنے کا کس کا دل کرتا ہے؟
آپ جی ساری زندگی ٹیکس دیتے ہیں تو آپ کو کیا ملتا ہے ریاست کی طرف سے؟ امن و امان، صحت، تعلیم؟ جی نہیں ۔۔ ملتا ہے تو گھنٹا ملتا ہے۔ باقی جی ساری سہولتیں تو فرشتوں اور ان کی ذریت کے لیے ہیں۔
آخر جی اسلام کے قلعے کے محافظ ہیں اتنا حق تو ان کا بنتا ہے کہ جو ان کے خرچ کے کا حساب لینے کی بات کرے۔ اسے تُن کے رکھ دیں۔
اسی تُنن تنائی کا نام انقلاب ہے جی۔
پر آپ جیسے بے سمجھ لوگاں کی سمجھ میں یہ معرفت کی باتاں کیسے آئیں گی؟