اتوار، 4 دسمبر، 2011

لڑایاں اور مانگے

حمید پور کے چوھدیوں کا لڑکا گھبرایا هوا
دیڑے پر پہنچا
ابا جی مجھ سے بنده مر کيا هے
گولی لگنے سے !!!ـ
ابا جی بڑے سیانے تھے
اوئے فوراً بندوق لے کر !!ـ
یه لو جی مصطفے نے هاتھ میں پکڑی بندوق جلدی سے ابا جی کو دینے کی کوشش کی ـ
اوئے جھلیا !ـ اے نهیں ، اس سے تو بنده مار کر آئے هو اندر سے دوسری لے کر آؤ!ـ
هونهار پتر جلدی سے دوسری بندوق لے کر آتا ہے
ابا جی کیا کرتے هیں که
پاس هی کام کرتے هوئے چوہڑے کی طرف بندوق سیدھی کرتے هیں اور اس کو گولی ماردیتے هیں
چوہڑے کے ٹھنڈا هونے سے پہلے هی بیٹے کو کهتے هیں
اور پتر مصطفے جلدی سے تھانے پہنچ اور
پرچه کٹوا کر آ که دشمنوں کی گولی سے همارا چوھڑا مارا گیا هے اور هماری جوابی فائرنگ سے ان کا کوئی بنده بھی زخمی هو گیا ہے
ابا جی کی سوچ تھی که اس طرح دونوں طرف سے ایک ایک قتل کے پرچے سے کیس برابر هو جائے گا اور
بات صلح اور کچھ لینے دینے سے ٹل جائے گی
اور پھر هوا بھی ایسے هی !!!ـ
مانگی کی رسم پنجاب میں پرانوں سے پائی جاتی ہے
ایک گھر کی دیوار بنانی هے
گھر والے لوگوں کو مانگی کا کهیں کے
سب گاؤں والے یا کچھ آ جائیں گے
سب مل کر ایک دن کا کام کریں گے دوپهر کو میٹھے چاول کھائیں گے
کچھ بھاگ جائیں کے کچھ کام کو ختم کرنے تک رهیں گے
ان لوگوں کو مانگے کہا جاتا تھا پنجابی میں ـ
لیکن اب لڑائیوں میں فائرنگ کرنے کے لیے جو لوگ بلائے جاتے هیں
ان کو بھی مانگے کهتے هیں
همارے گاؤں کا بالا گجر ویگن چلاتے چلاتے
بدمعاش هو گیا
پھر مانگا جانے لگا
ایک دن چھچھر والی ميں ایک جگه کے قبضے کے لیے گئے
بالے نے للکارا مارا
اوئے بالا گجر آ گیا جے
بھاگ جاؤ اوئے!!!ـ
اندر کوئی اس سے بھی بڑا مانگا بیٹھا تھا
اس نے ایک هی گولی چلائی جو بالے کو سر میں لگی
بالا مر گیا
دوسرے مانگے بھاگ گئے
بالے کی بیٹی اور بیوی لاوارث هو گئیں
اقتصادیات کے اصول طلب اور رسد کے مطابق
جس مال کی طلب تھی پاک معاشرے میں وه پھر پچیس پچیس روپے میں رسد دینے لگیں ـ
اب جب جی پاک فوج امریکه کے مانگے بن چکے هیں
اور اس کام میں سالهاسال سے هیں
تو جی اگلی پارٹی کی گولیوں سے بھی مریں گے
اور حمید پور کے چوھدریوں کی طرح لاشوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے
چوھدریوں کی گولیوں سے بھی مریں گے ناں جی؟؟
اس لیے ميں ابھی پاک فوج کے جوانوں کی موت کے افسوس تک نهیں پہنچ سکا که
که
ابھی پچھلےگیاره سال سے مارے جانے والے عام پاکستانیوں کی میتوں کی تعداد هی اتنی زیاده هے که
ان کا افسوس ختم هو لے
پھر
میں مانگے کے سپاهیوں کا افسوس بھی کرلوں گا!!ـ
غائب کر دیے گئے لوگ !ـ
مسخ لاشیں
بم دھماکوں میں مرنے والے
بھی اتنے هی پاکستانی تھے جتنا که کوئی بھی فوجی هو سکتا هے
تنخواهیں لے کر جنگ کی تربیت لے کر اسلحے کے ساتھ مرنے والے فوجیوں سے زیاده مجھے
زیاده افسوس ہے ان پاکستانیوں کا
جو غائیب کر دیے گئے !!ـ
جو مسخ لاشیں بنا دیے گئے!!ـ
بقول ظہیر کیانی کے خاور تھرڈ پرسن
جیسے عام پاکستانیوں کو کس نے غائب کرکے مسخ شده لاشوں میں تبدیل کیا؟؟؟
کوئی نهیں بتائے گا
وقت کا صدر پاکستان بھی اپنی بیوی کے قاتلوں کی طرف انگلی اٹھا کر دیکھے تو!!!ـ

2 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

دراصل عوام ،پاکستانی صرف اس ملک میں بستے ہیں رعایا کی حثیت سے۔۔۔
اس دفعہ بادشاہوں کے بندے مارے گئے غم تو ہوگا جی

Memon کہا...

خیر یہ بات تو آپ کی درست ہے کہ تنخواہ یافتہ فوجیوں کی موت سے زیادہ افسوسناک غیر متعلقہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں قابل افسوس ہیں ۔ لیکن ہمارے فوجی ‘رہنما‘ اپنے پیٹی بھرا کے لیے زیادہ غمگین ہیں ۔