ہفتہ، 15 مارچ، 2014

تیرا کیا بنے گا؟


کیپیٹل ازم ( دجالی) ہی ایک مکمل ترین ضابطہ حیات ہے!!۔
اس کے مقابلے میں کوئی مذہب کوئی کلچر کوئی نظام مکمل ترین ہونے کا دعوہ اگر کرتا بھی ہے تو ، یہ دعوہ خام ہے ۔

کیپیٹل ازم   نے کبھی بھی ایک مذہب ہونے کا دعوہ نہیں کیا ہے ، اور نہ ہی کوئی شخص اس مذہب کا کوئی نبی یا “فونڈر” ہونے کا دعوے دار ہے ۔
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے سبھی مذاہب ، اس مذہب کی مخالفت کرتے ہیں ، اور سبھی مذہب اس کیپیٹل ازم  سے مغلوب بھی ہو چکے ہیں ،۔
کیپیٹل ازم ( دجالی) ہی ایک مکمل ترین ضابطہ حیات ہے!!۔
انسان کی اور انسانی معاشرے کی سبھی ضرورتوں کا تعین کر کے ان ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال یہ مذہب اج کی دنیا کی ضرورت بن چکا ہے ۔
افراد کے حقوق و فرائض ایک ایسا نظام ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔
اس مذہب میں عبادات کا بڑا مربوب نظام ہے ۔
ہر بندے کو جاب نامی عبادت کرنی ہی پڑتی ہے ، اور اس جاب نامی عبادت میں مراتب و مقامات بھی ہوتے ہیں ، جو کہ تعلیم نامی عبادت کی قلت یا کثرت سے متعین ہوتے ہیں ۔
جو بندہ تعلیم نامی عبادت  جتنے خلوص اور لگن سے کرئے گا ، اس کو تعلیم کے بعد کی عبادت “جاب “ میں اعلی مقام عطا کیا جائے گا ،۔
اور جو بندہ کیپٹل ازم کےدین میں جاب نامی عبادت جتنی لگن اور محنت سے کرئے گا  ، اس کو اتنی ہی زیادہ “نیکیاں “ ملیں گی ۔ لیکن کیپٹل ازم نے ان “ نیکیوں “ کا نام “ کرنسی “ رکھا ہوا ہے ۔ اور جاب نامی عبادت کے ایک خاص مرحلے پر عبادت گزار کو یہ کرنسی ادا کر دی جاتی ہے ۔
اور کرنسی سے سہولیات خریدی جاتی ہیں ۔

جاب نامی یہ عبادت روایتی مذاہب کی عبادات کی طرح نہیں ہوتی کہ ہر کوئی ایک ہی جیسی حرکات کرئے اور اس کو عبات کا نام دے کر نیکیوں کی امید پر کرتا ہی چلا جائے بلکہ
جاب نامی عبادت ، ہر بندے کا ایک ایسا عمل ہے جو کہ دوسروں کی سہولت کا باعث بنتا ہے ۔
اس طرح دیگر عبادات اور ان کے اجر ہیں ۔
ان سب باتوں پر دفعتاً فوقتاً روشنی ڈالی جاتی رہے گی ۔
لیکن ان باتوں کو کیپیٹل ازم کی تبلیغ نہ سمجھا جائے ۔
اگر کسی کو کیپیٹل ازم سے نفرت ہے تو ؟
اس نظام کی رسیاں ٹروا کر اگر نکل سکتا ہے تو نکل جائے ۔
دنیا بھر کے مذاہب اس نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں ۔
لیکن ان کی یہ جو جہد اسی طرح ہے ، جیسے کوئی نابینا بندہ کسی جن سے گتھم گتھا ہو ، کہ اس جن کو بچھاڑ کر چھوڑوں گا۔
پہلی بات تو یہ کہ اس جن سے جیتنا ہی مشکل ہے
اور
اگر
اس جن کو بچھاڑ ہی لیا تو ؟
کریں کے کیا؟
اس بات کا کسی بھی مذہب نے سوچا   ہی نہیں
کہ
بنکنگ ، ٹرانسپورٹ ، مواصلات، قوانین ، اور خوارک کی ترسیل کے اس مرطوب نظام اور دیگر کے مقابلے میں کسی بھی مذہب کے پاس کچھ نہیں ہے ۔

1 تبصرہ:

lmirza کہا...

Very good point. Even the worst corporations don't promise pay after death, only religions can make people that stupid. LM

Popular Posts