بدھ، 16 مئی، 2018

جاپان میں تعلیم


جاپان کے نظام تعلیم میں سرکاری سکول ہی بنیادی چیز ہیں ، کچھ پرائیویٹ سکول اور غیر ملکی سکول بھی ہیں ، لیکن معاشرے میں 
ان  پرائیوٹ اور غیر ملکی سکولوں کی کوالٹی پر اعتماد نہیں  ہے ،۔

جاپان میں تعلیم ہر کسی پر فرض ہے یعنی کہ ایجوکیشن بائی فورس ہے ،۔

غیر ترقی یافتہ ممالک کی طرح جاپان میں تعلیم سب کا حق ، یا کہ بنیادی حقوق جیسے جذباتی نعرے نہیں ہیں ،۔
یہاں جاپان میں پیدا ہونے والے ہر انسانی بچے کو نو سال تک سکول جانا ہی پڑے گا ،۔
سکول ٹائم کے دوران اگر کوئی بچہ کہیں ابادی میں یا کہ ابادی سے باہر نظر آ جائے تو یہ قابل دس اندازی پولیس ہے ،۔
اس بچے کو پولیس اپنی تحویل میں لے کر اس کے سکول سے رابطہ کرئے گی اور سکول کے استاد کی سپرد داری پر اس بچے کو چھوڑا جائے گا ،۔
سکول سے غیر حاضری کی صورت میں اسی دن سکول کی انتظاممیہ بچے کے والدین سے رابطہ کرئے گی ، رابطہ نہ ہو سکنے کی صورت میں  سکول ٹیچر شام کو بچے کے گھر میں جا کر صورت حال کا جائیزہ لے گا اور اس کی تحریری رپورٹ دے گا ،۔
تیس دن تک سکول سے غیر حاضر رہنے والے بچے کو حکومت اپنی تحویل میں لے لے گی ،۔ 
بچے کو مخصوص محکمے کی زیر نگرانی لازمی تعلیم مکمل کرنے تک بچے کو والدین سے علیحدہ کر دیا جائے گا ،۔
 ایسے بچے جن کے والدین کام کی مصروفیت یا کہ نوکری کی مجبوری کی وجہ سے رات دیر تک کام کرتے ہیں ، ان بچوں کے لئے سکول میں گاکدو نامی ایک سیکشن بنایا گیا ہوتا ہے جہاں بچے سکول کے بعد بالغ لوگوں کی زیر نگرانی اپنی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں مصروف رہ سکتے ہیں ،۔
والدیں شام کو کام سے واپسی پر یہاں سے بچوں کو لے لیتے ہیں ،۔

چھ سال پرائمری سکول اور اس کے بعد تین سال مڈل سکول ،۔ پرائمری سکول ہر بچے کے پیدل سکول جانے کی حد میں ہوتا ہے ،۔
بہت کم ایسا ہے کہ بچوں کو سکول بس میں جانا پڑے ،۔
 ہر گھر میں گاڑی ہونے کے باوجود  والدین بچوں کو سکول نہیں چھوڑ سکتے ،۔ 
بچوں کو گروپ کی شکل میں پیدل چل کر سکول جانا ہوتا ہے ،۔
بڑی عمر یا کہ بڑے قد کے بچے بچی کو لیڈر بن کر اگے چلنا ہوتا ہے اور باقی کے بچے اس کو فالو کر کے چلتے ہیں ،۔
شہروں کے علاوہ گاؤں دیہات میں سڑکوں کی تعمیر میں اس نظرئیے سے کی جاتی ہے کہ ہر گھر سے پرائمری سکول تک سڑک کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ بنایا جاتا ہے ،۔
تاکہ بچے ٹریفک کے حادثات کا شکار نہ ہوں ،۔
اس کے بعد مڈل سکول کے بچوں پر سکول جانے کے لئے سائیکل لازمی ہے ،۔
کیونکہ ہر مڈل سکول چند پرائمری سکولوں کے مجموعی طلبہ کے لئے ہوتا ہے ،۔
اس طرح قریبی علاقوں کے طلبہ ایک دوسرے کے ساتھ جان پہچان ہوتی ہے اور معاشرے کی بنیادی اکائی جنم بھومی میں معاشرت کرنے کی راہیں استوار ہوتی ہیں ،۔
اس کے بعد ہائی سکول ، کالج یاکہ یونورسٹی کی تعلیم ہر شہری کا حق ہے ، اب یہ بات شہریوں پر منحصر ہے کہ یہ تعلیم حاصل کرتے ہیں یا کہ نہیں ،۔
شہریوں کی اکثریت مڈل کے بعد ہائی سکول یا کہ کسی تکنیکی سکول میں تین سال کی تعلیم حاصل کر کے کمائی والے کسی 
کام سے منسلک ہو جاتی ہے ،۔


جیسا کہ اوپر لکھا ہے ۔

جاپان میں تعلیم ہر کسی پر فرض ہے یعنی کہ ایجوکیشن بائی فورس ہے ،۔

تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی بچہ معذور پیدا ہوتا ہے تو ؟  یعنی کہ انکھوں سے ، کانوں سے معذور ، جسمانی معذوری ہو سکتی ہے یا کہ ذہنی معذوری بھی تو ہو سکتی ہے ،۔
ایسے بچوں کو جبری طور پر تعلیم کے لئے سکول بھیجنے کا کیا طریقہ کار ہے ؟
جی ہاں یہیں جاپان کی کوالٹی نظر آتی ہے  کہ اگر ایجوکیشن بائی فورس ہے تو  حکومت نے ایجوکیشن کا نظام بھی بنا کر اس کو چالو رکھنے پر مسلسل ایکٹو نظر آتی ہے ،۔
یہان جاپان میں معذوروں کے لئے علیحدہ سے سکول ہیں ،۔
جہاں گونگے بہروں کو اشاروں کی زبان سکھا کر ان کو ان کی ذہانت کے مطابق اعلی تعلیم تک رسائی حاصل ہے ،۔
جسمانی معذوروں کے لئے بھی ایسا ہی ہے کہ ان کے ایکٹو ذہنوں کو جلا بخشنے والی تعلیم سے آراستہ کر کے ان کو معاشرے کے کارآمد افراد بنایا جاتا ہے ،۔
جسمانی طور پر صحت مند لیکن ذہنی طور پر پسماندہ بچوں کو اس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ اہنے جسم کی صفائی ، اپنی متعلقہ چیزوں کی ترتیب رکھ کر گھروں میں ایسے افراد بن کر رہیں جو والدین یا کہ دیگر بہن بھائیوں کے لئے رکاوٹ نہ بنیں ،  اور مستقبل میں لیڈر یا کہ فورمین کی زیر نگرانی بتایا گیا کام کر کے کمائی بھی کر سکیں ،۔
جاپان جیسا بہتریں ملک اور معاشرہ جاپان کے سرکاری سکولوں سے تعلیم یافتہ لوگوں کا بنایا ہوا معاشرہ ہے ،۔
اور انہی دیسی سرکاری سکولوں کے نظام تعلیم پر ساری قوم کو اتنا اعتماد ہے کہ اس نظام تعلیم کو برقرار رکھنے کی بھی تعلیم دی جاتی ہے ،۔ 

تاکہ جاپان کی آنے والی نسلیں بھی تعلیم کی برکات سے مستفید ہوسکیں ،۔

جمعہ، 4 مئی، 2018

جاپان کا نیا دور کس نام سے ہو گا؟


جاپانی حکومت ، آنے والے نئے زمانے کا نام (گین گو) اگلے سال فروری  میں اعلان کرئے گی ،۔
نیا دور جو کہ  سال 2019ء کے یکم مئی سے شروع ہو رہا ہے ،۔
یہاں جاپان میں ہر شہنشاھ کے دور کا ایک نام ہوتا ہے ، جس سے کلنیڈر ، سال اور مہینوں کا ، لوگوں کی تاریخ پیدائیش کا کمپنیوں کے آڈٹ کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے م،۔
جب میں 1988ء میں جاپان آیا تھا تو اس دور کا نام تھا “ شووا”، کوئی چھ ماھ بعد ہی شہنشاھ کے انتقال پر “ہے سے “ کا زمانہ شروع ہو گیا ، “ہے سے “ کا دور 31 سال پر محیط  رہ کر ختم ہو رہا ہے ،۔
چرخ گردوں  نے یہ بھی دیکھایا کہ جو کبھی  کہیں کسی ملک کی تاریخ میں نہیں ہوا وہ جاپان میں ہونے جا رہا ہے کہ زندہ شہنشاھ اپنی ذمہ داروں سے سبکدوش ہو کر دے رہا ہے ،۔
روادری ، ٹیم ورک کی ہی مثال نہیں عظمت کی بھی مثال قایم ہونے جا رہی ہے ،۔
مجھے کتاب مقدس میں لکھی ہوئی وہ آیت یاد آ گئی ، جس میں رب فرماتا ہے ،۔
وہ جو مسکینوں پر عدل قائم کرتے ہیں ان کی بادشاہی کو دوام حاصل ہوتا ہے ،۔
جاپان ، برطانیہ اور یورپی بادشاہتوں  میں بادشاھ لوگوں نے ملک میں پارلمانی نظام بنا کر عدالتوں کو اتنا مضبوط بنا دیا ہوا ہے کہ
ہر مظلوم کے ساتھ ہر مجروح کے ساتھ ہر ہدف بننے والے ساتھ حکومتی مشنری کھڑی ہوتی ہے اور ظالم کو جارح کو چور کو قرار واقعی سزا دیتی ہے ،۔
اسی لئے
جاپان کی بارشاہی کو کبھی بھی کوئی خظرہ نہیں رہا ،۔
دوسری طرف اسلامی ممالک کی بادشاہتیں ہیں ،
جہاں وطنی اور خارجی کے لئے قوانین ہی علحدہ ہیں ،۔
مسکین کے لئے عدل نہیں ہے اور ہر ہر بادشاہت کو اندرونی بیرونی خطرات نے گھیرا ہوا ہے م،۔

ہفتہ، 14 اپریل، 2018

گزرے کل کی بات


جاپان میں ایسا ہوتا تو کم ہی ہے کہ کوئی بندہ اپ سے ہاتھا پائی شروع کردے ،۔
گزرے کل کی بات ہے ،اپنے ایک جاپانی دوست کے ساتھ گاڑی میں جا رہے تھے ، دوست کی گاڑی  تھی ،۔
ہم دونوں پینڈو توچیگی کین کے بڑے شہر میں جا رہے تھے کہ ایک جگہ ہماری غلطی سے حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا ، پچھلی گاڑی والے نے ہارن بجا بجا کر غصے کا اظہار کیا ، ہارن کی تکرار سے میرے دوست نے گاڑی کو سائیڈ پر لگا کر زبانی معافی مانگنے کے لئے باہر نکلا تو ؟
پچھلے گاڑی والا جوان  جوکہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تھا ، وہ بھی گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا ، وہ بڑے غصے میں تھا ، گالیاں دے رہا تھا ،۔
میرا دوست ندامت کا اظہار کر رہا تھا  لیکن پچھلی گاڑی والے نے آ کر اس کے سینے پر دوہتھڑ مارا ،۔
جس پر میرا دوست پوچھتا ہے ،۔
لڑائی چاہتے ہو؟
ہاں لڑائی چاہتا ہوں  کہہ کر اس نے دوسرا دوہتھڑ مارا ،۔
تو میرا دوست جو کہ کراٹے میں بلیک بیلٹ چار دان ہے ،۔
اور مسلسل ورزش بھی کرنا ہے ،۔
پچھلی گاڑی والے غصہ ور کو کہتا ہے اچھا ایک منٹ !!،۔
اور اپنی گاڑی کی ڈگی کھول کر اس میں سے  پچاس کلو وزنی “ سینڈ بیگ “ کو کھلونے کی طرح اچھال کر باہر نکالتا ہے اور سینڈ بیگ کو دو کک مار کر کہتا ہے ،۔
چھڈو یار آپکو بھی جو غصہ ہے اس بیگ کو دو چار لگا کر نکال لو !!،۔
بیگ کو لگنے والی ککوں کی ساؤنڈ سے اس کا غصہ پہلے ہی رفو ہو چکا تھا ،۔
لڑائی ختم کرنے کی آفر سن کر اس نے بھی  دو مکے زور زور سے سینڈ بیگ کو لگائے اور گاڑی میں جا بیٹھا ، اس کی گرل فرینڈ اور میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا  تھا ،۔

ہفتہ، 31 مارچ، 2018

لہجے تے کیٹاگریاں

پتہ نئیں کہ کیوں  ، پر گاما راشد دی بڑی عزت  کردا اے ،۔
منڈی  وچ  گاما راشد دے نال چل رہیا سی انیج لگدا سی پیا جیویں  گاما چاپلوسی کردا اے پیا  ، پر گامے نوں جانن والے جاندے نیں کہ گاما بڑا خوددار بندہ اے ،۔
سامنے توں  چیمہ صاحب اوندے سن پئے ، راشد نوں ویکھ کے بڑے چاء نال ایدھے نال سلام دعا کیتی  ، منڈی وچ نہ آون دے شکوے کیتے ، تے جدوں گامے نال نظر ملی تے گامے وی ہولی جیہی سلام چاء کیتی ،۔
ورزشی جسم والے گامے دی شخصیت دا رعب سی یاں کہ ایویں ای چیمہ صاحب راشد نوں پوچھدے نے ، راشد صاحب تعارف تے کرواؤ اے صاحب کون نے ؟
راشد اکھیا ، اے تہاڈے نال دے پنڈ دے کمہار جے ، گاما کمہار !!،۔
چیمہ صاحب کا لہجہ  ای بدل گیا تے پوچھدے نے ۔
اوئے ! توں ایں گاما ؟  بڑا ناء سنیا اے تیرا ،۔
پر گامے دی تے حالت ای بدل گئی اکھاں دیاں پتلیاں چٹیاں سفید  ہو گیاں ، گل وچوں گراریاں جیہیاں چلن دی آواز نکلی  تے اینج لگیا جیویں کوئی خراب روبوٹ بولدا اے  تے آواز نکلی توں ں ں ں ں ں  ، جیویں تنیاں ہویا تاراں دی وائیبریشن دی آواز ہوندی اے ،۔
توں اوں اوں اوں !!م،۔
گامے نے اپنے سر نوں دو تین واری تھپے مارے ،۔ چیمہ صاحب پریشان ہو کے ویکھن لگ پئے کہ پتہ نئیں کی ہون لگا اے تے راشد دے منہ تے وی ہوائیاں اڈں لگ پئیاں ،۔
کوئی دو کو منٹ بعد گاما ٹھیک ہویا تے آکھن لگا ،۔
او جی چیمہ جی تہاڈی توں سن کے میرے دماغ دے کمپیوٹڑ ویچ ایرر آ گیا سی ، پروسیسر کم چھڈن لگا سی ، بڑا جھٹکا لگا اے پر ہون کوئی گل نئیں ،۔
میں دماغ دے کمپویٹر وچ تیری کیٹاگری چینج کر دتیی اے ہون تون پاویں آکھ تے پاویں نہ آکھ ، ہن اے ایرر نئیں آئے گا ،۔
چیمہ مذاق اڈان والے لیہجے وچ پوچھدا اے
اوئے ، کیڑی کیٹاگری رکھی اے اوئے توں ، میرے اپنے کمپیوٹر وچ ؟
گاما بڑے بڑے اعتماد دے نال مضبوط لہجے وچ آکھدا اے ۔
پئین چوداں والی کیٹا گری !!!،۔
چیمہ صاحب نے گامے تے حملہ کر دتہ  تے گامے نے چیمہ صاحب نوں تھلے رکھ کے اتے چڑھ گیا ،۔
فیر لوکاں پولیس بلا لئی تے ہن دونوئیں تھانے وچ نے ،۔
ویکھو ضمانت  ہوندی اے کہ نئیں ،۔

بدھ، 28 فروری، 2018

پنجابی ویڈیو بلاگنگ ،۔


 واھ او میریا مالکا ، لکھوں ککھ کرنا ایں تے ککھوں لکھ کرنا ایں
اوہدی چہلدا نئیں کوئی چہال جگ تے جدہے ول  دا توں پکھ کرنا ایں
جیدا رب پکھ مارے ؟ یاروں ایتھے تے جیدا کوئی ایس پی یا ایم پی اے ، یا ایم این اے پکھ مارے اور علاقے دا معتبر ہوندا اے ،۔
رانی خان دا سالا ہونادا اے ،۔
تے جیدا رب پکھ مارے ؟
او ہٹلر ہوندا اے ، او چنگیز خان ہوندا اے ،۔
تسی پاویں نہ منو ، پر میں تے اے یقن رکھنا واں کہ ہٹلر ہوئے کہ جارج بش اینہاں پاویں دنیا توں وخت ای پایا ، پر اوس دور وچ اینہاں دے پچھے رب دی   ہی طاقت سی رب کا پکھ سی ،۔
میں تے آکھناں واں کہ کدی رب میرا پکھ مارے تے ؟
کسی ملک ویزہ کی ، کسی ملک قومیت دی کی دعا منگنی اے ، رب پکھ تے مارے ، میں اوس ملک  ای سودا مار لاں ، ملک ای خرید لاں ۔
بس ، ذرا جہیا ای سی ، رب میرا پکھ تے مارے ،۔
جیدا جیدا رب نے پکھ ماریا ، اوس اوس دا ، ناں ، اک زمانہ جاندا اے ،۔
جے رب میرا پکھ مارے ، جے میں رب کولوں منگا کہ
میریا ربا میرا وی پکھ مار ،
میں اے نئیں منگاں گا کہ جیویں محمود غزنوں دا پکھ مارایا سی ، ایویں ، جیویں احمد شاھ ابدالی دا  پکھ مارایا سی ایویں ،۔
ای کہ منگناں ہویا کہ بندہ  ہن بندے مارن لئی رب کولوں ساتھ دیں دیاں دعاواں منگے ،۔
میں تے منگاں گا  اور چیز جیہڑی منگی سی ابراہیم علیہ سلام نے ،۔
میرا ربا ، مینوں او ہنر دے جیہڑے لوکاں دے کم اون ، مینوں او علم دے جیہڑے علم  میرا  ، تے میری اولاد دا ناں اوچا کرن ،
میریا ربا ! کجھ اینج دا کردے ، میریا عادتاں ، اونہاں لوکاں جیہیاں ہو جان جنہاں لوکاں  دے ناں نوں توں امر کر دتا ، رہندیاں زمانیان تک ،  تے اونہاں دی اولاد نوں تے اون والیاں نسلاں  تک نوں دوجے لوکاں تے حکم دار بنا دینا اٰں
ہاں ہاں
اونہاں لوکاں دی گل کرنا پیاں واں ،۔
جنہاں نوں
أنعمت عليهم
اکھیا ای ،۔
میریا رب میرا وی پکھ مار ، کہ میں تیری حمد کردا رہواں ، میریاں اون والیاں نسلاں وی  تیری حمد کرنا تے زمانے وچ سر کڈھدے لوک ہو جان ،۔

جمعرات، 22 فروری، 2018

رب نال گلاں ، ویڈیو


ہفتہ، 10 فروری، 2018

آٹو درائیو کاریں ۔

آٹو ڈرائیو  کاریں ۔
جاپان کے وزیر اعظم جناب آبے نے عندیہ دیا ہے کہ دوہزار بیس تک کاریں آٹو ڈارئیو پر ہو جائیں اور دوہزار تیس تک سڑکوں پر بھی دوڑنے لگیں ،۔
پہلے پہل لوکل اور ابادیوں کی سڑکوں پر چلائی جائیں اور اور اگلے مرحلے میں ہائی ویز پر ،۔
آٹو ڈرئیو کی کاروں  اور ٹرکوں کو آٹو ڈرائیو پر  منتقل کر کے گاڑی میں سوار لوگوں کی ایکٹویٹی پر پرزینٹشنز ویڈیو بنا کر دیکھائے جا رہے ہیں ،۔
کہ کیسے گاڑی آٹو ڈائیو پر چل رہی ہے اور گاڑی میں سوال لوگ سیٹو کے منہہ ایک دسرے کی طرف کر کے میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں ۔
یا کہ لمبی مسافتوں کے مال بردار ٹرک کے ڈرائیور ، ٹرک کو آٹو پر کرکے کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں یا کہ سمارٹ ڈیوئیس پر ویڈیو ، گانے  یا کہ اپنے معاملے کے لئے روابط کر کے وقت کو استعمال کر رہے ہیں ،۔
یہ کوئی خواب و خیال کی گپیں نہیں ہیں  گاڑیاں ، ورکشاپوں میں تیار ہو رہی ہیں ، دوہزار بیس بس دو سال بعد ہی آنے والا ہے ،۔
 اور بارہ سال بعد  دوہزار تیس ، ہم سے کئی لوگ زندہ ہوں گے اور کئی میچور ہو چکے ہوں گے ،۔

پلٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
والی تصویر بنتی جا رہی ہے کہ
اکیسویں صدی کی یہ آٹو ڈرائیو گاڑیاں ، ہند کے گاؤں دیہات میں چلنے والی بیل گاڑیوں ، گھوڑے کے  ٹانگے کی طرح ہوں گی ،۔
بیل گاڑیوں پر مال لادھے ہوئے شہر کی طرف منہ کئے گڈھے کا ڈائیور  مال سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوتا تھا ،۔
علاقائی زبان کی کوئی منظوم لوک کہانی ، ماہئے یا کہ گیت گا رہا ہوتا تھا ،۔
بیل خود سے چلتے جاتے تھے ،سامنے سے آنے والی چیزوں ، انسانوں مکانوں سے بچ کر نکل جانے میں ڈائیو ر کو ٹینشن نہیں لینی پڑتی تھی ،۔
ٹانگے کا کوچوان باگیں ڈھیلی کئے ، پائیدان پر پیر ٹکائے بانس پر تشریف رکھے ہوئے ، تماشاہائے اہل کرم دیکھ رہا ہوتا تھا ،۔
پھر انجن والی گاڑیاں آ گئیں ، سٹئیرنگ تھامے ہوئے ڈارئیور کی انکھ جھپک گئی یا دھیان بٹ گیا تو ؟
کئی جانئں  ،جان سے گئیں ،۔
لمبی مسافتوں کے ڈارئیور لوگوں کے اعصاب تنے رہ رہ کر چٹخ جاتے تھے ،۔ آنکھیں پتھرا کر رہ جاتی تھیں ، ،۔
میوزک ،جو کہ امیروں کی عیاشی ہوا کرتی تھی آڈیو کے انے سے ڈرائیور کو ایک یہی عیاشی میسر تھی کہ کیسٹ بدلو اور گانے سنو،۔
لیکن دھیان نہ بٹ جائے کہ جان سے جاؤ گے اور گھر پر بیوی بچے انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے ،۔
آٹو ڈارئیو کے انے سے بیلوں کی نکیل ، گھوڑے کی لگام ڈھیلی چھوڑ کر وقت کو انجوئے کرنے والے گاڑی بان یا کوچوان کی طرح اب ڈرئیور بھی  ٹرک کو آٹو ڈرائیو کر کے وقت کی بچت کر لیا کریں
 گے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ وقت کی بچت ؟ پیسے کی طرح وقت کو بچا کر رکھ لیا جانا ناممکن ہے ۔
اگر کوئی کسی کو وقت کی بچت کا طریقہ بتا رہا ہو تو ؟
یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس پر پھر کبھی سہی ،۔
ابھی اپ اپنے تصور میں آٹو ڈرائیو والے ٹرک اور بیل والے گڈھے کا تقابل کر کے انجوائے کریں ،۔

پیر، 15 جنوری، 2018

بے تال لوگوں کا منتر

ہمالیہ کی ترائیوں سے بحر ہند کے پانیوں  تک کی سرزمین ہند میں  ،۔
ہندو لوگوں کا ایک قبیلہ ، جس کو “ بے تالے “ کہتے ہیں بکھرا پڑا ہے ،۔
کہیں یہ بے تال کہلواتے ہیں کہیں بے تالے ، کہیں بٹالے اور کہیں بٹ لالے ،۔
بے تال کے معنی ہوتے ہیں ، کھسکا ہوا یا کہ بے عقل یا کہ جس کی سوچ کے تال میل نہ کھاتے ہوں ،۔
لیکن
ان لوگوں میں بڑے بڑے کاروباری ، دانش وار اور مفکر لوگ پیدا ہوتے ہیں ،۔
ان لوگوں میں ایک روایت پائی جاتی ہے کہ کئی سال قبل مسیح میں راجہ بکرم اجیت کے دور میں ، راجہ بکرم اجیت کے رتن نے ان کے بڑے بزرگ کو بتایا تھا کہ
تم ایک بے تال ہو ، تم میں عقل نہیں ہے ،۔
اور تمہاری انے والی نسلوں میں بھی کوئی عقل مند  پیدا نہیں ہو گا ،اس لئے تم کو میں ایک منتر بتاتا ہوں
جو کہ تم نے اپنے بیٹوں اور بیٹوں کو بتانا ہے اور ان کو کہنا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بھی یہ بتاتے رہیں ،۔
تمہاری نسل میں جو جو یہ منتر یاد رکھے گا ، اس کو ہر زمانے میں عزت ،دولت اور وقار ملے گا ،۔ جو جو یہ منتر بھول جائے گا  وہ وہ زمانے میں رسوا ہو گا ،۔
میرے سے اور میری نسل میں کبھی کوئی عقل مند پیدا نہیں ہو گا ،  میرے بالکو ! ،۔
اس باتکا  تمہارے پڑسیوں کو علم نہیں ہونا چاہئے  ، اس بات کو راز رکھنے اور چھپانے کے لئے ، تم نے کوشش کر کے اور بڑی تندہی سے  جنتر (اسٹرونومی اور ہندسوں کا علم) اور منتر (تحریر کا علم)سیکھنا ہے ،۔
تم میں سے جو جنتر اور منتر نہ سیکھ سکے وہ انت کی مشقت کر کے اور اپنا منہ بند رکھ کے اس راز کی حٖفاظت کرئے گا ،۔
میرے بالکو ! یاد رکھنا تم نے کبھی بھی کسی بھی زمانے میں بھیک اور سود نہیں کھانا ،۔

بے تالوں کے خاندان میں یہ منتر پڑھا جاتا ہے اور بے تالے لوگ ہر زمانے میں سرتال (ردھم) کے ساتھ کامیاب لوگ رہے ہیں ،۔

منگل، 2 جنوری، 2018

برف پر پھسلنا


سکیئینگ اور سکیٹنگ ،انگریزی کے دو الفاط ہیں جن کے اردو میں  معنی “ برف پر پھسلنا “ پڑھائے جاتے ہیں ،۔
حقیقت میں یہ دونں کھیل ، گیم یا کہ سہورٹس کہہ لیں بلکل دو مختلف چیزیں ہیں ،۔ ان کے اصول اور قوانین ، سے لے کر استعمال کے اوزار کپڑے اور ماحول تک میں بہت فرق ہے ،۔
اسکیٹنگ ، جمی ہوئی برف جس کو انگریزی میں  آئس کہتے ہیں اس پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
اور سکئینگ ؟ برسنے والی برف ، یعنی  سنو پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
میں نے ایک دو دفعہ اسکیٹنگ کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اس میں مزہ نہیں آیا یا کہ کہہ لیں میں اس کو صحیح طریقے سے کر ہی نہیں سکا ،۔
لیکن سنو پر پھسلنے والی  یعنی اسکیئینگ  انیس سو نوے سے کر رہا ہوں ،۔
کراٹے کے استادوں کی مہربانی جنہوں نے مجھے برف پر پھسلنا ، بریک لگانا موڑ کاٹنا اور رکنا سکھایا ،۔

یکم جنوری  2018ء کے دن توچیگی کے پہاڑوں پر سکیئینگ کے لئے گیا تھا ،  ، چار تاریخ کو پھر جانے کا پروگرام ہے ،۔
اس سے پہلے کئی سال سکئینگ کے لئے نہیں جا سکتا تھا ،۔

جمعرات، 28 دسمبر، 2017

ماخوذ

توہین مذہب کے ڈر سے ،ہندوانہ رنگ میں پیش کرتے ہیں ،۔
کہ
جوان لڑکی بھگوان سے پراتھنا کرتی  ہے ،۔
پربو ! میں  بیاھ نہیں چاہتی ، میں  ودیا ، گیان کے ساتھ ساتھ آتما کی شانتی خودانحصاری چاہتی ہوں ، مجھے خصم نہیں چاہئے ،۔
اے بھگوان میری سن لے مجھے خصم سے بچا لے  ،۔
بھگوان کی آواز آتی ہے ،۔
ناری ! میں نے تمہیں بہت سندر اور بھرم بھری بنایا ہے ، بڑے ہی گن رکھے ہیں تم میں لیکن تم سارے کا م نہں کر سکتی جب جب تم غلطی کرو گی تمہیں الزام دینے کے لئے ایک خاوند کی ضرورت ہو گی ،۔
صرف اپنی غلطیوں کو الزام دینے کے لئے ایک خاوند ،۔
گاما بھی مندر میں ہی تھا ، بھگوان کی آواز سن کر گاما تلملا کر رہ گیا اور بات کئے بغیر نہ رہ سکا
اور بھگوان سے پوچھتا ہے
تو میں کیا کروں ؟ میں کس کو الزام دوں ؟؟
آواز آتی ہے ،۔
پترا ! تمہارے لئے بہت وسعت کے   میدانوں میں  ۔
تم حکومت کو الزام دے سکتے ہو ، نظام تعلیم کو الزام دے سکتے ہو ، ماحول کو الزام دے سکتے ہو ، اکنامک کی سست گروتھ کو اور تیز گروتھ کو بھی الزام دے سکتے ہو ،۔
تم مذہب کو الزام دے سکتے ہو بیوروکریسی کو الزام دے سکتے ہو ،۔
سیاستدانوں کی بہن کی سری کر سکتے ہو
اور تو اور تم مجھے ، یعنی بھگوان کو الزام دے سکتے ہو ،۔
بس ایک بات یاد رکھنا  بیوی اور فوج کو الزام نہیں دینا
اور
اور
 اور
عمران خان کو بھی الزام نہیں دینا ورنہ پی ٹی آئی والے بڑی گندیاں گالاں کڈدے نی !!،۔
ماخوذ

Popular Posts