جمعرات، 23 فروری، 2017

حکومت کون ہے ؟

حکومت ؟ یہ حکومت کیا ہے ؟
قائد اعظم کو خراب ایمبولینس !!!۔
راول پنڈی سازش ،افشاء ہو گئی تھی اس لئے سازش کہلوائی ، کمپنی باغ میں جب واقعی لیاقت علی قتل ہو گئے تو؟
قاتل نامعلوم ،۔
کشمیر میں قبائلی داخل کر کے جونا گڑھ اور حیدر آباد میں انڈیا کی مداخلت کو جواز فراہم کر دیا ،۔
ایوب نے حکومت سنبھال لی ، ملک پر قبضہ ، یہ قبضہ واگزار ہو ہی نہیں سکا اس کے بعد کی ہر حکومت فوج کی حکومت ہے ،۔
الیکشن میں ایوب نے خود کو سلیکٹ کیا
اور مادر ملت فاطمہ جناح ہار گئیں ،۔
سارے ملک میں “جھرلو” پھیر دیا ۔
 الیکشن کے نام پر سلیکشن ،۔

باری باری ،۔
اس دوران کی بات رہ گئی کہ ایوب سے ملک کا قبضہ یحی خان نے لے لیا یعنی فوجی سے فوجی نے ،۔
اس کے دور میں الیکشن کروائے گئے
لیکن مجیب الرحمان کی بجائے سلیکشن بھٹو صاحب کی حکومت بنائی گئی وہ بھٹو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ،۔
ملک ٹوٹ گیا ، الیکٹ مجیب نے بنگلہ دیش میں حکومت سنبھال لی اور سلیکٹ بھٹو نے  پاکستان کی ،۔
اقتدار فوج کے ہاتھ میں تھا ، اقتدار الیکٹ لوگون کو منتقل نہیں کیا ، ملک ٹوٹ گیا الزام سیاست پر رکھ دیا ،۔
موجودہ پاکستان کی آبادی کی ننانوے فیصد آبادی کو ملک ٹوٹنے کے اسباب کا ہی علم نہیں ہے ،۔

پھر جنرل ضیاء " خود فوجی " آ گئے ،۔ ان کی حکموت کو مذہبی سہارا جماعت نے دیا ، سیاسی سہارے کے لئے شریف پیدا کئے گئے ،۔
سیاست کی نس بندی کر دی گئی ،۔
تعلیمی اداروں میں سایسی سرگرمیاں ختم کر دی گئیں
لیکن

کالج یونورسٹیوں میں قوم کی بیٹویں کی عصمت اور قوم کے بیٹوں کے کردار کے محافظ پیدا کر دئیے گئے جن کے نزدیک مخالف سٹوڈنس کی ٹانگیں تورنا ہی امت مسلمہ کی خدمت قرار پایا ،۔
معاشرے میں سے سیاست  کا بیج ہی ختم کر دیا گیا
سیاسی طور پر خصی قوم میں ستر کی دہائی کے بعد کوئی سیاست دان پیدا نہیں ہوا ،
اگر کوئی سیاست کے نام پر آگے آیا بھی تو وہ جی ایچ کیو کے گملوں میں اگا ہوا بونسائی ہی ایا ۔

پھر مشرف صاحب آ گئے ، انہوں نے چوہدری متعارف کروائے ،۔
مجھے یہ بتائیں کہ حکومت ہے کیا ؟
سب کے سب یا تو خود فوجی ہیں یا فوجیوں کے لائے ہوئے لوگ !،۔
تو حکومت کیا ہوئی ؟
ہم لکھنے والوں کو پہلے اپنا ذہن واضع کرنے کی ضرورت ہے کہ
حکومت ہے کیا ،۔ اداروں کا کردار کیا ہونا چاہئے اور اور کیا ہوا جا رہا ہے ؟
غلط کیا ہے صحیح کیا ہے ،۔
اس بات کا ادراک کرنے کے بعد ہمیں صرف اور صرف اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہو کر پارٹیوں ، اداروں کے معاملے میں انتہائی غیر جانبدار ہو کر لکھنا چاہئے ،۔
روٹی روزی کی مجبوریاں بندے کو مجبور کر دیتی ہیں ،۔
اس کے لئے اپنی یونینز مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،۔
یونییز کی مضبوطی کا مطلب ہے کہ ہمیں ٹیم ورک کی تربیت اور تعلیم کی ضروت ہے
یونین میں ہر بندہ صدر ہی نہیں بنے ، بلکہ مینجر ، ورکر ، اور دیگر کئی عہدے بھی ہیں اور ہار جانے کی صورت میں خود کو سابق صدر کہلوانے میں بھی کوئی ہتک نہیں ہے ،۔

اس کے لئے بھی انے والی نسلوں کا اگر خیال ہو تو ؟
ایسے معاشرے کی تعمیر کے لئے ذہن سازی کی کوشش ہونی چاہئے ، جس میں ادارے اپنا اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کریں عدالتوں کو مضبوط کریں تاکہ انے والی نسلیں ہی سہی ، محفوظ ماحول میں اسان زندگی گزار سکیں ۔۔


منگل، 14 فروری، 2017

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت
*****************
انڈیا پر مغلوں کی حکومت  کا زمانہ تھا ،۔
جب مغربی اقوام دنیا کو اپنی کالونی بنانے  کے لئے نکلی ہوئیں تھیں ،۔
اکبر کے زمانے میں پرتگیزیوں کے چھاپے خانے کی مشین متعارف کروانے سے بھی پہلے کی بات ہے کہ
ابھی برطانیہ کے گورے  ہند میں پاؤں جمانے کی کوشش میں تھے لیکن پرتگیزی لوگ سندہ کی بستیوں کو لوٹ کر سمندر میں غائب ہو جاتے تھے ،۔
سفارتی محاذ پر مغربی اقوام کے سیانے لوگ ، تاجرون کے روپ میں ، مغل بادشاہوں سے تعلق بڑھانے کی کوشش میں تھے ،۔
اکبر کے دربار میں  ملاّ دو پیازہ اور بیربل کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی ،۔
مغربی اقوام کی سفیر اور تاجر ، کچھ بیربل کے ذریعے اور کچھ ملا دو پیازہ کے ذریعے  دربار تک رسائی حاصل کرتے تھے ،۔
اس دن چودہ فروری کا دن تھا ،۔
بیربل کی  دریافت پنجابی رقاصہ اس دن دربار میں  رقص کر رہی تھی ،۔
بیربل کے ساتھ پرتگال اور برطانیہ کے کچھ تاجر بھی اکبر بادشاھ کے دربار میں رقص و سرود کی یہ محفل دیکھنے کے لئے موجود تھے ،۔
ملا دو پیازہ بھی یہیں موجود تھا ،۔
بیربل نے رقاصہ کو سیکھایا ہوا تھا کہ
ملا کو تنگ کرنا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اس دن رقص کے ساتھ ساتھ جو گیت گا رہی تھی ۔
اس کا طرح مصرع تھا
مینوں ، ویل تاں دے” ۔
رقص کرتے کرتے رقاصہ ملا کے پاس جاتی ہے اور اپنا گھٹنا فرش پر ٹکا کر کہتی ہے
وے سوہنیا ،  ویل تاں دے ،۔
ملا  اس کے ہر دفعہ یہ کہنے پر اس کو ایک اشرفی عطا کرتا ہے ،۔
ملا کا یہ ایکشن دیکھ کر اکبر بادشاھ  ملا پر موتی نچھاور کرتا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اور بھی ولولے سے گاتی ہے ،۔
وے ظالما ، مینوں ویل تاں دے ،۔
ہائے بالماں ، مینوں ویل تاں دے ۔
وے ہیریاں ، مینوں ویل تاں دے ،۔
جملے کی تکرار سن سن کر مغربی ممالک کے تاجر لوگوں کو یہ الفاظ یاد رہ جاتے ہیں ،۔
وہ تاجر لوگ یورپ واپس جا کر  اس دن کی یاد میں چودہ فروری کو  اپنی اپنی داشتاؤں اور دوستوں کے منہ سے کہلواتے ہیں ،۔
ویل تاں دے !!،۔
یورپی لہجے میں ویل تاں دے  کا تلفظ بگڑ کر  “ ویل تان ڈے “ بن گیا ۔
صدیوں کے گزرنے سے یہاں دیسی لوگوں کو یاد نہیں رہا اور مغربی اقوام ہمیشہ کی طرح  ہماری دیسی روایات کو چوری کر کے اپنی رسم بنا چکی ہیں ،۔
گامے پی ایچ ڈی کا پیغام ہے
کہ
اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ سب دیسی لوگوں تک پہنچ جائے کہ
ویل ٹان ڈے  ،حقیقت میں ویل تاں دے  کا بگڑا ہوا  لفظ ہے اور یہ خالص دیسی اور مغلیہ دوری کی شغلیہ  رسم  ہے ،۔

سوموار، 13 فروری، 2017

اللہ نوں وکیل کرن والے

پاء مصطفٰے کے مشکل دنوں کی بات ہے کہ
اس کے گاؤں کے لڑکے کہنے لگے
کہ
آپ پارٹس کے کنٹینر دبئی بھیج دیا کریں ، ہم اپ کو  مال بیچ کر رقم بھیج دیا کریں گے ،۔
پاء مصطفے نے بڑی مشکل سے رقم وغیرہ کا انتظام کیا اور کنٹینر بھر کا مال دبئی بھیج دیا ،۔
ساتھ ہی اپنے بھائی کو پاکستان سے دبئی جانے کو کہا کہ تھوڑی سیر ہو جائے گی اور مال فروخت کرتے ہوئے ذرا پاس ہونے سے  دبئی کے تارڈ والے کچھ ڈنڈی مارنے میں بھی جھجک محسوس کریں گے ،۔
پہلے کنٹنر کے پیسے بڑے معقول  آگئے تھے ،۔اس کے بعد دبئی والوں نے فیصلہ کر لیا کی پاء  مصطفے کو بس صرف بارہ لاکھ ہی بھیجنا ہے ،۔
ایک کنٹینر کا بارہ لاکھ ، اگلے مرحلے میں پاء مصطفے کے دو کنٹینر ایک ہی دن بھر کر بھیج دئے  اور ساتھ  ہی پاکستان والے بھائی سے کہا کہ دبئی گھوم پھر آؤ ، بھائی اپنا چاول کا کاروبار ہے جس کو وقت نکالنا بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی پاء کا بھائی دبئی پہنچ گیا ۔
مال ابھی بک رہا تھا اور لگتا تھا کہ ابھی تین اور لگ جائیں گے کہ
پاء کے چھوٹے بھائی کو فوراً پاکستان جانا پڑ گیا ،۔
پاء نے اس کو کہا بھی کہ دبئی والا منڈا ٹھیک نہیں ہے اس پر اعتبار نہیں کرو ،۔
دبئی کے یارڈ پر کام کرنے والے ایک ملک صاحب نے بھی پاء کے بھائی کو کہا کہ اپنا مال یہاں کھڑے ہو کر  فروخت کرو ۔
لیکن  پاء کے بھائی کی مجبوری بھی تھی اور کچھ ان اللہ لوک  بھائی میں اللہ پر اعتماد کی بھی انتہا ۔
کہ
پاء مصطفے کا بھائی کہتا ہے
میں اللہ کو وکیل کھڑا کر کے جا رہا ہوں ، بس ، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
دبئی والے لڑکوں نے اپنی سی ہی کی کہ دو کنٹنیر کا بھی بارہ لاکھ بنا کر بھیج دیا ۔
دو کنٹنیر میں صرف سکریپ ہی پچاس ٹن ہو جاتا ہے جو کہ اگر جاپان میں مارکیٹ میں بھی بیچا جاتا تو   پچیس لاکھ کا مال تھا ،۔
پاء مصطفے  اپنے بھائی کو فون کر کے بتاتا ہے کہ
فیر بارہ لاکھ آیا ہے ،۔
پاء کا بھائی کہتا ہے
فیر پاء جی یہ پیسے ہمارر مقدر میں تھے ہی نہیں ۔ کہ
اللہ  کی یہی مرضی ہو گی ،۔
چلو ٹھیک اے جی ۔
اللہ اللہ تے خیر صلّا !!،۔
چھ ماھ کی مدت میں کوئی پانچ ملین روپے کا نقصان کر کے دونوں بھائی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے
اللہ جی دی  مرضی !!!،۔

کوئی چھ ماھ اور گزرے کہ پاء مصطفے تنزانیہ جاتے ہوئے  دبئی سے گزر ہوا ، پاء کے دل میں خیال آیا کہ دبئی والوں کے یارڈ پر جا کر دیکھ ہی آئے کہ
اللہ کی مرضی کیا تھی ۔
دبئی والوں کا چھوٹا بھائی یارڈ کے دروازے پر ہی مل گیا
بڑے تپاک سے ملا ، پاء جی اپ نے بتانا تھا میں آپ کو ائیرپورٹ لینے آ جاتا ،۔
پاء مسکرا کر طرح دے گیا
اور پوچھتا ہے ،۔
اوئے ، یارڈ اجے وی قائم جے ؟؟
نئیں پا جی یارڈ تے وک گیا جے ، بس میں ایتھے کاغذاں تے سائین کرن لئی کھلوتا ہویا جے (نہیں بھائی جی یارڈ تو بک چکا ہے ، میں بس یہاں کاغذوں پر سائین کرنے کو کھڑا ہوا ہوں ،۔)۔
پاء  مصطفے نے وہاں سے نکلتا بنا ، دبئی والوں کا چھوٹا بھائی کہتا ہی رہا کوئی پانی شانی کوئی روٹی شوٹی ۔۔
پاء مصطفے اندروں بہت ڈریا ہویا
کہ
اے تے اللہ  دی وکالت وچ پکڑے گئے نئیں ، اینہاں دے کول کھلو کے کلے میں وی لپیٹ وچ نہ آ جاواں
کیوں کہ پاء  مصطفے ، اللہ کولوں بڑا ڈردا اے !!،۔

جمعہ، 10 فروری، 2017

تیسری دفعہ کا ذکر

کہیں کسی جگہ دو سادھؤں کی ملاقات ہوئی ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے ،۔
جس پنتھ کے چیلے ہو ؟
دوسرا جواب دیتا ہے
میں پنتھ وچار کچھ نہیں جانتا
تم  اپنا آٹا دیکھاؤ اور میرا بھی دیکھ لو
کہ
آٹا کس کے پاس زیادہ ہے !!،۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے
کہیں کسی جگہ  دو مولویوں کی ملاقات ہوئی
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے
کس مسلک کے ماننے والے ہیں ،۔
دوسرا جواب دیتا ہے
مسلک شسلک چھوڑو
مجھے اپنا بتاؤ اور میں اپنے بتاتا ہوں کہ
ایجنسیوں میں تعلقات کس کے زیادہ ہیں !!!،۔
اس ملک میں چندا اس کو زیادہ ملتا ہے جو  بدکارِ سرکار کو  کارِ خیر ہونے کا واعظ کرنا جانتا ہے !!م،۔۔

تیسری دفعہ کا ذکر ہے ۔
کہیں کسی جگہ
۔
۔
۔
۔
چھڈو پراں مٹی پاؤ !!،۔
سانوں کی !!۔

اتوار، 5 فروری، 2017

سرطان یعنی کینسر کا علاج اور اوپدیو

جاپان جہان ہر دوسرا شہری سرطان کے خطرے سے دو چار ہے
یہاں ، سرطان کی دوا دریافت ہو چکی ہے ،۔ کوئی ایک فیصد لوگ بلکل شفا یاب ہو جاتے ہیں اور باقی کو بھی خاصی شفا ہوتی ہے ،۔ یہ دوائی ابھی نئی ہے ، مارکیٹ میں دوہزار دس کہ بارہ  میں آئی تھی ، چار سال میں اس کی کوالٹی کا ڈیٹا بن رہا ،۔
انے والے دنوں میں آپ اس کے متعلق سننے لگیں گے
اوپدیو (http://www.opdivo.com/) نامی یہ دوا خاصی زیادہ مہنگی ہے ،۔
کوئی چھتیس لاکھ ین سالانہ کا خرچا ہے۔
جاپان جہاں کہ بیماری کا ستر فیصد خرچا انشورنس کور کرتی ہے ،۔
یہان ڈاکٹر دوائی لکھ کر دیتے ہوئے اس بات کا بلکل بھی خیال نہیں کرتے کہ دوائی کی قیمت کیا ہے
بلکہ ڈاکٹر صاحباں کو دوائی کی قیمت  علم بھی کم ہی ہوتا ہے ،۔
ڈاکٹر کا متمٰنی نظر مریض کا علاج ہوتا ہے نہ کہ مریض کی جیب کی حفاظت ،۔
 جاپان میں دانش ور اس بات پر سوچ بچار کر رہے ہیں کہ  سرطان کی علاج کو کیسے سستا کیا جاسکے ،۔
اوپدیو (opdivo) نامی دوا ایک بہت بڑی دریافت تھی ، اس دوا کی تحقیق پر کوئی 100,000,000,000 ین کی رقم خرچ ہوئی تھی ،۔
دوائی بنانے والی کمپنی کے منافع کے لئے حکومت نے اوپدیو نامی دوا پر 27 فیصد تک کا منافع رکھنے کی اجازت دے دی تھی ،۔
جو کہ رائج اصول کی شرٖح سے دس فئصد زیادہ ہے م،۔
رائج اصول میں منافع کی شرح 17 فیصد ہے ،۔
جاپان جو کہ داوائیوں کی تحقیق اور تکنیک میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر کا ملک ہے ،۔
یہاں سرطان کی دوا اس حد تک مہنگی ہے کہ ، قوت خرید رکھنے والی جاپانی معیشت بھی اس دوا کی مہنگائی سے پریشان ہے ،۔
جاپان سے باہر کے ممالک جو کہ اس دوا کو ایمپورٹ کر کے اپنے شہریوں کے علاج کا پروگرام رکھتے ہیں ،۔
ان کو مہنگی دوا کی قیمت کے علاوہ ٹرانسپوٹ کا کرایہ اور کسٹم ٹیکس اور دیگر ٹیکس ادا کر نے کے بعد یہ دوائی اور بھی مہنگی  کر کے علاج کے لئے مہیا کرنی پڑے گی ۔

سرطان ایک ایسی بیماری ہے کہ جس ہر کوئی دو اثر نہیں کرتی تھی ، ہوتا یہ تھا کہ جیسے ہی  کوئی دوا یا بیکٹریا ، یا کہ کوئی بھی ایسی چیز کو سرطان کے خلاف ہوتی تھی اس کے نزدیک آنے پر سرطان خود کو سمیٹ کر سخت کر لیتا تھا ،۔
اوپدیو میں یہ کوالٹی ہے کہ یہ سرطان کے خلیون میں داخل ہو کر  جسم کے مدافعتی نظام کو سرطان کے خلاف فعال کر دیتی ہے ،۔
اس لئے اب یہ ممکن ہو سکا ہے کہ سرطان پر قابو پایا جا سکے ،۔

جمعرات، 26 جنوری، 2017

ملکہ بلقیس اور ڈی سی تھرٹی

بچہ گھر ، مدرسے سے گھر آتا ہے ۔
تو ماں  پوچھتی ہے ۔
کیا کچھ نیا سیکھا؟
ہاں
بچے نے بتایا کہ مولوی صاحب نے اج  حضرت سلیمان علیہ سلام اور بلقیس کا قصہ سنایا ہے ،۔
ماں اشتیاق سے کہتی ہے : اچھا ؟ مجھے بھی تو سناؤ !،۔
بنی اسرائیل میں کوئی  بادشاھ سلیمان گزارا ہے ،۔
ایک دفعہ
ہوا یہ کہ حضرت سلیمان کو ڈرون  کی جاسوسی سے علم ہوا کہ وہاں یمن میں کوئی خوبصورت  بی بی حکومت کرتی ہے تو ، انہوں نے اس بی بی کو اپنے ملک کی سیر کی دعوت کی
بی بی بلقیس نے جب دعوت قبول کر کے حضرت سلیمان کے ملک کی طرف  سفر شروع کیا تو حضرت سلیمان کو جاسوسوں کے بتانے پر احساس ہوا کہ بی بی بلقیس کا تخت بڑا خوبصورت اور مہنگا ہے ،۔
سلیمان بادشاھ نے  اس تخت کو چوری کر کے بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  پہلے اپنے سامنے دیکھنے کا حکم جاری کر دیا ،۔
جس پر سارے جن اور دیو   اس پروجیکٹ کو قبول کرنے سے گھبرانے لگے ،۔
تو
ان کے ایک جنرل نے جس کی بیگم  ڈی سی تھرٹی پر پھجے کے پاوے منگوانے میں مشہور تھی اس نے اس پروجیکٹ کی ذمہ داری لے کر ، بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  ڈی سی تھرٹی پر وہ تخت منگوا کر حاضر کر دیا تھا ،۔
بچے کی بات سن کر ماں  ہکا بکا رہ گئی ،اور حیرانی سے پوچھتی ہے ،۔
واقعی مولوی صاحب نے یہ قصہ ایسے ہی سنایا ہے ؟؟
بچہ گویا ہوتا ہے ،۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سیانا تھا
اگر اس طرح میں آپ کو سناتا تو ، آپ کو نہ تو سمجھ آنی تھی اور نہ ہی یقین آنا تھا ،۔

بدھ، 18 جنوری، 2017

قسمت کا ولی


لوڈ شیڈنگ کے تدارک کے لئے جنریٹر کا انتظام کیا تھا
سٹینڈ بائی رکھنے کے لئے میں نے اپنے چچا زاد کو کہا
کہ جا کر پٹرول لے کر آؤ ۔
وہ لے آیا
میں نے جنریٹر میں ڈال کر سٹارٹ کیا چند منٹ بعد جنریٹر بند ہو گیا ،
بہت کک مارے ،سٹارٹ نہیں ہوا ۔
ائیر کلینر کھول کر کاربوریٹر میں انگل دے کر خاص میکنکی نسخہ استعمال کیا تو انجن بے شمار دھواں چھوڑ نے لگا ،۔
میں چاچا زاد سے پوچھا
اوئے یہ کون سا پٹرول لے آئے ہو ؟
پاء جی میں نے اس کو سستے والا پٹرول کہا ۔
جو کہ ڈیزل تھا
چچا زاد ایکسٹرا سیانا بننے کی کوشش میں اس کی عقل میں اتنا ہی فیڈ تھا کہ پیسے کم خرچ ہونے چاہے ، کم خرچی ہی عقل کی نشانی ہے ۔
میں اس کو بہت غصہ ہوا کہ
بات کو سن لیا کرو اور جو کوئی بڑا کہے ویسا ہی کیا کرو
نہ کہ خود سے عقل مند بننا شروع کر دیا کرو ،۔

کچھ دن بعد ٹریکٹر پر کام تھا
میں نے یاسر سے کہا کہ اج ڈیزل لے کر آو
یاسر لے آیا
ڈرائیور نے ٹینکی فل کر دی
کچھ ہی منٹ بعد ٹریکٹر بند ہو گیا،
ڈرائیو پوچھتا ہے
ہن کی کرنا جے پاء جی ؟ ۔
میں نے خالص مکینکی نسخے سے انجکشن پمپ پر سے آٹو مائینر کو جانے والا پائیپ ڈہیلا کر کے سیلف مارا تو اس میں سے پٹرول بہنے لگا ۔
میں ے یاسر سے پوچھا
اوئے یہ کیا لے آئے ہو ؟
پاء جی پچھلی دفعہ آپ نے بہت غصہ کیا تھا اس لئے مجھے یاد تھا کہ پٹرول ہی لے کر آناہے ۔
میں نے اپنا سر پیٹ لیا
اوئے کملیا
میری بد نصیبی ہی یہ ہے کہ میرے سارے بھائی اور کزن ایکسٹرا عقلمند ہیں ،۔
اتنے زیادہ عقلمد کہ
مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں ۔
جو کہ میں ہوں بھی
کہ اگر میں بیوقوف نہ ہوتا تو بار بار ان کو کام کیوں کہتا ؟؟
پنجابی کا وہ محاورہ مجھ پر صحیح فٹ بیٹھتا ہے ۔
واہ او قسمے دیا ولیا !۔
ردی کھیر تے ہو گیا دلیا،۔

جمعہ، 6 جنوری، 2017

عزت اور غیرت


چاچے فرید کی دوکان پر چاچا عنایت مستری اگلے ویہڑے والا یہ بات بتا کر کہتا ہے
کہ
یقین کرو جی ایک بدمعاش کے منہ سے سنی یہ بات کئی دہائیاں بعد بھی میں نہیں بھول سکا
اور ساری زندگی نہیں بھول سکوں گا کہ ایک بدمعاش ہو کر اس نے کیسی دانش کی بات کی،۔
چاچے عنائت کے اس اخری فقرے کی وجہ سے مجھے بدمعاشوں والا یہ واقعہ یاد رہا ہے
کہ آج مجھے یہ بات سنے کوئی چالیس سال ہو گئے ہیں
لیکن اج بھی مجھے چاچے عنائت کا بات کرنے کا وہ دھیما سا انداز اور چہرہ ایسے لگ رہا ہے کہ چند لمحے پہلے کی ہی بات ہو جیسے !!،۔

ذیلدار چوھدری صاحب  کے ڈیرے پر  علاقے کے سارے بستہ بے کے بدمعاشوں کو  ہر مہینے حاضری دینے کا حکم تھا ،۔
یہ حکم تو سرکار برطانیہ کے دور سے تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد بھی  ہم نے اپنے چوہدریوں کے ڈیرے پر بستہ بے کے بدمعاشوں کا جھرمٹ دیکھا ہے ،۔
یہاں پیپل کے نیچے والے کنوئیں کے پاس ہی چوہدری صاحب کی چارپائی ہوتی  تھی اور گاؤں کے  کمی  لوگوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے زمیندار بھی یہیں دریوں پر بیٹھا کرتے تھے
کسی کو چوہدری صاحب کی غیر موجودگی میں بھی منجی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ،۔
جس دن بدمعاشوں  کی حاضری ہوتی تھی
گاؤں کے لڑکے بھالے تماشہ دیکھنے یہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے ،۔
طرح طرح کے حلئے ، تہمند کے لڑ چھوڑے  بڑی بڑی مونچھوں والے اگر ہوتے تھے تو مریل مریل سے بکری نما داڑہی والے بھی ہوتے تھے ۔
عام سے حلئے کے  سر پر صافہ باندھے  تہمند قمیض میں  چہرے پر بے چارگی سجائے بیٹھے ہوئے یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اپنی ایک دہشت رکھتے تھے ،۔
یہاں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہنچتے ہی گربہ مسکین کی ایکٹنگ کر رہے ہوتے تھے ،۔
دو بد معاش اپس میں باتیں کر رہے تھے
میں بھی کان لگا کر سننے لگا
جو بات انہوں کی میں یہ بات ساری زندگی نہیں بھول سکتا کہ
ایک بد معاش ایسی دانش کی بات بھی کر سکتا ہے ،۔
لڑکپن کے ان دنوں میں ہمارے ذہن میں یہی ہوتا تھا کہ  ایک بد معاش میں اگر دانش ہوتی تو
وہ کوئی معقول معاش کیوں نہ اختیار کرتا ، بد معاشی کی ہی کیا ضرورت تھی ،۔
لیکن ان بد معاشوں کا یہ مکالمہ میں ساری زنگی نہیں بھول سکتا ،۔
ایک بدمعاش دوسرے سے کہتا ہے
اؤئے تم مجھے اپنی بیوی کچھ دن کے لئے دے دو !،۔
دوسرا اس کی بات کو سن کر نظرانداز کر دیتا ہے ،۔
میں سوچتا ہوں ایسا مطالبہ کوئی کم عقل بدمعاش ہی کر سکتا ہے ،۔
کہ اس بدمعاش نے دوسرے بار اپنی بات کی تکرار کی
تو
 سننے والے بد معاش نے اس کو کہا
اوئے ڈنگرا ، بیوی بندے کی عزت ہوتی ہے ، اور کوئی بھی انسان اپنی عزت دوسروں کو نہیں دیتا ،۔
بہن بیٹی اور ماں بندے کی غیرت ہوتی ہیں ،۔ اپنی غیرت کو لوگ جانتے بوجھتے رشتے بنا کر دوسروں کو دیتے ہیں ،۔
لیکن اپنی عزت کوئی کسی کو نہیں دیتا ،۔
عزت اور غیرت کے فرق کا یہ باریک سا فرق  کم ہی لوگوں کو علم ہوتا ہے ،۔
مجھے تو چاچے عنایت کی اس روایت کے سننے کے بعد ہی  غیرت اور عزت کا مفہوم ملا تھا ،۔

جمعہ، 30 دسمبر، 2016

جیدا سائیں اور جغرافیہ

گوجرانوالہ کے قریب کہیں کسی گاؤں میں سردیوں کی کسی رات کے پہلے پہر  کسی دارے میں حقہ کشید کرتے کچھی دیسی دانشور بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ
پنجاب کے دہی علاقوں میں سردیوں کی لمبی راتوں میں  ایسی محفلیں  بڑی دانش ، بڑی زیرک ،اور اس سے بھی زیادہ حماقت اور بونگیوں سے بھری ہوتی ہیں ،۔
جیدا سائیں  بتاتا ہے کہ
جی
ایک لڑکی  اپنی عمر 18 سے 22 سال میں افریقہ کی طرح ہوتی ہے ،
آدھی جنگلی ، آدھی پر اسرار، قدرتی حس ن اور زرخیر !!،۔
23 سے 30 سال میں امریکہ کی طرح
کہ
ویل ڈویلپ ، اوپن فار ٹریڈ ، سرمایہ کاری کی طلب  گار ،امیروں  غریب سب کو لبھانے والی ،۔
اور 31 سے 45 کی عمر میں
انڈیا کی طرح ، بڑی ہاٹ ، بڑی پرسکون ، اور اپنے حسن کے یقین میں مگن ، لیکن  پرانی پرانی سی ،۔
اس کے بعد 46 سے 55 کی عمر میں
فرانس کی طرح ، پولائیٹ بولی ، شرافت کا پرچار اور سونے (گولڈ) کے لالچ میں مبتلا ۔
پھر 56 سے 60 کی عمر میں
جنگ میں ہارے ہوئے مشرقی یورپ کی طرح جس کو میک اپ کی لیپا پوتی کی سخت ضرورت ہوتی ہے ،۔
یہان ٹھہر کر جیدا سائیں  سانس لیتا ہے اور پھر گویا ہوتا ہے ،۔
کہ 61 سال کی عمر کے بعد
ایک عورت پڑوسی ملک افغانستان کی طرح ہوتی ہے ،۔جسے ہر کوئی جانتا ہے کہ کہان واقع ہے
لیکن کوئی بھی وہاں جانا یا رہنا نہیں چاہتا ،۔
جیدا سائیں  ، اپنے گامے کی طرف دیکھ کر کہتا ہے
یار گامیا !،۔
اب کچھ مرد  لوگوں کا جغرافیہ تم ہی بتاؤ؟
گاما بتاتا ہے ،۔
مرد  اپنے عمر کے پہلے سالوں میں
پاکستان کی طرح ہوتا ہے  اس پر “ ڈو مور “ کا پریشر ہوتا ہے ،۔
اس کے بعد 15 سے 80 سال کی عمر میں بھی
پاکستان ہی ہوتا ہے
جس پر حماقت اور احمقوں کا راج ہے اور ہاتھ میں ۔ ۔ ۔ ہوتا ہے ،۔
ماخوذ،۔

جمعرات، 1 دسمبر، 2016

اک ہور ، سانوں کی !۔

یہاں ایک چیز کی وضاحت کہ مختلف اقوام کی اپنی اپنی تاریخ سے کچھ وراء ہو کر سوچیں انسانی معاشرھ
جس میں ہم سب رہ رہے ہیں ،
مختلف اقوام پر عروج آیا !!ـ
اس عروج سے پہلے کی جو باتیں جن باتوں کی تاریخ کم ہی لکھی ہوتی ہے ، وہ وہی ہوتی ہیں،۔
کمزور پیدائش بتدریج جوانی تعلیم ، طاقت پکڑنا وغیرہ وغیرہ۔
دنیا پر چھا گئیں ، بہادری کی ایک تاریخ چھوڑ کر انے والی نسلوں کی کم عقلی کو سہارا دینے والی شنہری تاریخ لکھوا گئیں ،۔

اور پھر بتدریج کمزور ہوتی ہوئیں اپنے انت کو پہنچیں ـ
لیکن اج
 ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ سائینس کی ترقی ہے ۔
کہ ہوتی ہی چلی جا رہی ہے !!۔
میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے جو لوگ زندھ ہیں وہ جانتے ہیں کہ
ابھی ہمارے پجپن ميں جن چیزوں کا تصور بھی محال تھا ، آج وھ جادو بھری ایجادات ہمارے استعمال میں ہیں ۔
یعنی که سائینس
 جو که ہمارے پجپن تک ایک کمزور سی چیز تھی
آج اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنی جوانی کی طرف مائیل ہے ۔

اور اس صدی کا ہر جوان اس یقین کا کا شکار ہے کہ
یہ ایجادات کا رواج ،  مسلسل زور ہی پکڑتا چلا جائے گا
اس پر کبھی کمزوری نہیں آئے گی ۔
ہر زمانے کا جوان اپنی جوانی میں یہی گمان کرتا ہے
کہ

وہ اپنے دادے کی طرح بوڑھا نہیں ہو گا
اور اگر ہوا بھی تو؟
اس
 ہونے میں ابھی صدیاں بڑی ہیں ۔
حالانکہ اپنا،  دادااپنے سامنے ہوتا ہے ۔
جو کہ خود تیس سال پہلے کڑیل جوان تھا،۔

لیکن سائنس کی جوانی ہے کہ اس کے سامنے کوئی دادا یا بابا نهیں ہے ۔

اس کے سامنے اس جیسی کوئی مثال نهیں ہے۔
کہ زمانے نے کبھی سائنس کی ترقی کی جوانی ہی نہیں دیکھی تو اس کے کے بڑھاپے کا تو تصور ہی محال ہے ،۔
 لیکن کائنات کے افاقی اصول میں
ہر اوج کو زوال ہے ۔
اور یہ اصول اٹل ہے !!،۔
تو
 میں بھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہوں کہ کب
اور کون سے وقت کو؟ کس نقطہ کو انتہا کہوں
کہ
نقطہ انتہاء ہی نقطہ انحطاط ہوا کرتا ہے ۔
 اس سائینس کی جوانی کا زمانہ کس زمانے کو  کہیں گے؟؟
کون سا وہ نقطہ ہو گا کہ جہاں سے اس کی ڈھلوان شروع ہو گی ؟
که جہاں سے یہ کمزور ہوتی هوئی بتدریج اپنے انت کو پہنچے گی؟؟
ہاں جی ایک بات اور بھی تو ہے!ـ
حادثاتی موت!!!!ـ
بھری جوانی میں قتل ، حادثہ ، یا کچھ اور ؟
اور یه کچھ اور، کسی درخت کے ساتھ ہو کہ کسی چرند یا پرند کے ساتھ!،۔
 یا کسی پہاڑ کے ساتھ کہ دریا کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ هو کہ سلیمان تاثیر کے ساتھ !!!ـ
یه کچھ اور تو نهیں ہونے والا اس سائینس کے ساتھ
کوئی ایٹمی جنگ ؟؟
یا وباء یا
کچھ اور ؟
اس ایٹمی جنک سے یاد ایا که هماری پیاری اور نسلی ایلیٹ نے امریکہ کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ ہمارے مولویوں کو ایٹم بم چلانے کا بڑا شوق ہے
اور پاكستان کے جوانوں کا یه حال ہے کہ
وہ چاہتے ہیں که دو تین مزائیل نیفے میں اڑس کر چلیں، اور جیب میں دو تین دانے ایٹم بموں کے بھی پڑے هوئے هوں
لیکن جی اکر سائینس کےساتھ کوئی اور حادثہ نهیں ہوجاتا اور کائینات کے افاقی قانون کے مطابق بتدریج کمزور ہوتی چلی جاتی هے تو ایسا کیسے هو گا
اور پھر اس کے بعد کے انسانوں کے کیا حالات زندگی ہوں کے ؟
اور وہ کیا سوچ کر ان سب سائینسی چیزوں کے استعمال کے فائدے پر صبر کرلیں گے؟؟؟
میرے خیال ميں وہ پاکستانی سوچ کے مالک بن جائیں گے
اور ہر چیز کے نقصان پر کندہے اچکا کر کہا کریں گے
سانوں کی!!!!ـ

Popular Posts