اتوار، 17 ستمبر، 2017

خوش قسمت زمانہ


ابھی کل کی بات ہے کہ لکھنے والے ادب میں دو وقت کی روٹی کی دعائیں کرتے ہیں ، نان شبینہ کے میسر ہونے پر شکر کرتے ہیں ۔
عام عوام میں جس کو دو وقت کی دو روٹیاں نصیب ہوتی تھیں وہ تونگر گنے جاتے تھے ،۔
پنجاب میں وڈانک گندم ہوتی تھے  قد آدم اس گندم سے جانوروں کے لئے توڑی زیادہ اور انسانوں کے لئے اناج کم نکلتا تھا ،۔
اگر برصغیر میں آلو ، ٹماٹر ، اور تمباکو کا تصور نہیں تھا تو باقی دنیا میں تو دالیں ، مسالے ،  گڑ اور کپاس کے لئے بھی ہند  پر نظریں ہوتی تھیں ،۔
انسانوں کی معلوم تاریخ میں  بھوک کا ادب بہت لکھا گیا ،۔
کسی خطے کا ادب دیکھ لیں ، لکھنے والے بھوک کا لکھتے رہے ہیں
کہ
انسان نے بہت بھوک دیکھی ہے ،۔
پیٹ کی بھوک ، اس بھوک کو مٹانے کے لئے انکھوں میں بھوک اتر آئی ، کبھی مذہب کے نام پر کبھی نسل کے نام پر کبھی کسی بہانے کبھی کسی بہانے دوسروں سے زمین ، گوشت اور اناج چھیننے کے لئے جنگیں لڑی گئیں ،۔
جنگیں تو اج بھی ہیں ، لوٹ مار اج بھی ہے ، انسانیت کے نام پر معدنیات کی لوٹ مار کی جنگیں ہیں ،۔
لیکن
پیٹ کی بھوک اب صرف کتابوں میں رہ گئی ہے یا پھر ناہموار معاشروں میں رزق کی غلط تقسیم میں ،۔
کہ
امریکہ کی دریافت کے بعد پرتگالیوں نے آلو ، ٹماٹر ، تمباکو کو دنیا میں متعارف کروایا ،۔
امریکہ کے قیام سے بنی نوع انسان نے تکنیک کی ترقی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی ،۔امریکہ میں کھاد کی دریافت نے  کھیتوں میں وہ انقلاب برپا کیا ہے کہ اج دنیا میں چاول ، اور گندم مکئی کی کوئی کمی نہیں ہے ،۔
اور  کھاد کی تکینک کی انتہا ہے کہ گوشت کو بھی کھاد لگا دی ہے ،۔
بھیڑ ہو کہ گائے ، مرغی ہو کہ مرغابی ان کو گوشت کی عمر تک پہنچے کے لئے ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ،۔
ایک سور تھا جو کسی بھی دوسرے جانور سے زیادہ پیدا ہو کر جلدی گوشت تک پہنچ جاتا تھا ۔
لیکن
برائلر چکن کی دریافت کہ سور کے گوشت سے بھی جلدی تیار ہو جانے والے اس کوشت کو پیدا ہو کر دسترخوان تک پہنچے میں صرف دو ہفتے لگتے ہیں ،۔
اج انسان کے دسترخون پر ٹیبل پر خوراک کی بہتات ہے ،۔
جو کہ تاریخ میں کبھی بھی کسی بھی علاقے کے لوگوں کو مسیر نہ ہو سکی ،۔
اج کا انسان تاریخ کے خوش قسمت ترین دور میں رہ رہا ہے م،۔

بدھ، 6 ستمبر، 2017

میناماتا کی بیماری اور پاکستان

پارہ ، جس کو انگریزی میں مرکری کہتے ہیں ،۔
پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک میں پارہ کے نقصانات کا عام عوام کو کوئی ادراک نہیں ہے اور ایسے ممالک میں لکھاری  لوگ بھی ایسی باتوں کا علم نہیں رکھتے ،۔
پاکستان میں اناج کو کیڑوں سے بچاؤ کے لئے بھی پارہ، ریت میں ملا کر اناج کے ڈھیروں یا کہ پڑولوں میں ڈال دیا جاتا ہے جس کی ریکوری کے لئے کچھ بھی انتظام نہیں ہے ،۔
 یہ پارہ زمین میں مل کر زیر زمین پانی کو بھی زہر الود کر دیتا ہے م،۔
تھرما میٹر  یا کہ بلڈ پریشر چیک کرنے والے میڈیکل آلات میں استعمال ہونے والا  پارہ اور  صنعتی استعمال میں ہونے والے پارے کی ایک  بڑی مقدار معاشرے میں گردش کر رہی ہے ،۔
مہذب دنیا کو پارے کے نقصانات کا احساس جاپان سے ظاہر ہونے والی ایک بیماری  میناماتا کی بیماری کی وجہ سے ہوا ،۔
مینماتا بیماری کیا ہے ؟
میناماتا بیماری ، جاپان کے کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں  ڈیسکور کی گئی تھی ،۔
اس بیماری میں  مریض نیروجیکل سینڈروم میں مبتلا ہو جاتا ہے ،۔
ہاتھ اور پاؤں  کو کپکپاہٹ شروع ہو جاتی ہے ،۔
نظر  کو پریفیرل وژن کی بیماری ، جس میں مریض کا ویو سکڑ کر رہ جاتا ہے ،۔
قوت سماعت ختم ہو جاتی ہے ، قوت گویائی بھی ختم ہو جاتی ہے م،۔
 اس مرض میں مبتلا مریض وقت گزرنے پر کومے میں چلا جاتا ہے اور موت واقع ہو جاتی ہے ،۔
جاپان میں کوماموتو پرفیکچر کے شہر میناماتا میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اس بیماری کے بہت سے مریض پائے گئے ،۔
اس بیماری مینماتا کو 1956ء میں پہچانا گیا ،۔
اس کی وجہ میناماتا میں کیمیکل فیکٹری چیسو کارپوریشن  جو کہ پارہ استعال کرتی تھی  کو پایا گیا ،۔
سن  1932ء سے 1968ء تک کی اس کمپنی کا صنعتی فضلہ جو کہ  پانی میں بہہ کر دریا اور سمندر میں چلا جاتا تھااس کی وجہ سے  مچھلیوں میں پارہ کی مقدار زیادہ ہو گئی ، ان مچھلیوں کو غذا کے طور پر استعمال کرنے والےاور زمینی پانی پینے والوں کی ایک بڑی ابادی اس مرض میں مبتلا ہو گئی تھی ،۔
اس لئے اس  بیماری کو چیسو میناماتا بیماری بھی کہا جاتا ہے ،۔
جاپان میں اس بیماری کے مبتلا مریضوں کے چیسو کمپنی کے خلاف اجتجاج کی ایک تاریخ ہے ،۔
اس پر لکھنا اج کا موضوع نہیں ہے ،۔
مارچ 2001ء تک سرکاری طور پر  میناماتا بیماری کے مریضوں کی نفری 2265 تھی  جن میں سے 1784 افراد موت کا شکار ہو چکے تھے ،۔
اور 10000 سے زیادہ لوگ چیسو کمپنی سے ہرجانہ وصول کر چکے ہیں ،۔ سن 2004ء تک چیسو کمپنی  کوئی 86 کروڑ ڈالر ادا کر چکی ہے ،۔
جاپان میں میناماتا کی بیماری کی وجہ سے پارے کو استعمال کرنے ، پارے کو سنبھالنے پارے کو ری سائکل کرنے کی تعلیم شروع ہو ئی اور اس  کے لئے اصول وضع کئے گئے م،۔
اج جاپان اس پوزیشن میں ہے کہ جاپان کی وزارت ماحولیات نے ترقی پزیر ممالک میں پارے کو ری کور کرنے کے طریقہ کار کی تعلیم  دینے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے ،۔
پہلے پہلے ایشا میں جنوب مشرقی ایشائی ممالک میں اس کی تعلیم دی جائے گی ،۔
تھرما میٹر اور بلڈ پریشر کی مشین میں استعمال ہونے والے پارے کی مقدار جو کہ جاپان میں استعمال ہو رہی ہے اس کے متعلق انداز ہے کہ یہ کوئی  59 ٹن کے قریب ہے ،۔
جس میں 21 ٹن ہسپتالوں میں 7 ٹن سکولوں میں اور 18 سے 21 ٹن گھروں میں تھرما میٹروں اور بلڈپریشر ماپنے کی مشنیوں میں پڑا ہے م،۔
اسی نظرئے کے تحت جاپان کی وزارت ماحولیات کے ماہر  جنوب مشرقی ممالک میں ڈاکٹروں اور فارمسٹوں کو آگاہی دیں گے ،۔
مستقبل میں اس پروجیکٹ کو افریقہ کے ترقی پذیر ممالک تک وسیح کرنے کا پروگرام ہے م،۔
مندرجہ بالا تحریر سے اپ خود اندازہ کر لیں کہ پارے کے متعلق یا کہ اس سے پیدا ہونے والے ماحول دشمن  حالات سے نپٹنے کے لئے  پاکستان جیسے ملک میں کیا کام ہو رہا ہے یا کہ پاکستانی قوم کو اس معاملے کتنی آگاہی ہے ،۔
تحریر خاور کھوکھر

جمعہ، 1 ستمبر، 2017

اندر کے جانور

اج عید گاھ گیا ، عید کی نماز پڑھنے بہت سے ایسے چہرے بھی تھے جو کئی سال بعد نظر آتے ہیں اور ہر سال والے بھی ،۔
یہ میرا احساس تھا کہ غلط فہمی  مجھے ہر عمر ڈھلتے ساتھی کے چہرے پر اس کے اندر کے جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
بہت سے مرغی کی طرح لگتے تھے ، کہ کڑ کڑ کہیں اور انڈے کہیں ،۔
وہ جو مالکوں کے لئے انڈے دینے والے ،۔
ان کے ساتھ ساتھ ککڑ کی طرح نظر انے والے بھی تھے  بہت چوکنے ، ادھر ادھر ہر چیز پر نظر لیکن صرف ایفیشنسیاں ، پروگریس کوئی نئیں ،۔
یہاں طرح طرح کی بکریاں بھی تھیں ، جو کبھی کسی کے کام نہپیں  آتے اگر اتے بھی ہیں تو ؟ جب بھی دوددہ دیتی ہیں مینگنیاں  ڈال کر ہی دیتی ،۔
ان کے ساتھ ساتھ بکرے بھی تھے ، “ بو بکرے “  جو ہر وقت کسی بولی ہوئی بکری کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کس کو لگا دیں ،۔
یہاں طرح طرح کے کتے بھی تھے ، بل ڈاک ، ہاؤنڈز ، نسلی کتے بھی تھے  اور اوارہ کتے ،۔ ہر بندے کے چہرے پر اس کے اندر کے کتے کی شباہت نظر آ رہی تھی ،۔
یہاں وہ بھی تھے جو اپنا بخار تک کسی کو ادھار نہ دیں ،  جو پیسا کمانے اور سنبھالنے کے ماہر  گول گول چہرے ، گول گول پشت ، گول گول پیٹ  والے ، ان کے چہرے اور باتیں کرنے میں اس جانور کی شباہت نظر آ رہی تھی جس کا نام لینے میں زبان پلید ہو جاتئ ہے ،۔
ان کے ساتھ  گلہری کی طرح کے بھی تھے جن صرف کچھ گھٹلاں اکٹھی مل گئی ،ان کوسنبھال سنبھال کر رکھنے کو دولت مندی کے خمار میں مبتلا گلہریاں ،۔
یہاں وہ چاہا نما بھی تھے  جو تھوڑے سے مال پر پنساری بن  کر بیٹھے لگتے تھے ،۔
یہاں گائے بھی تھیں  جو کسی کے لئے کام کرتی سست سست دودہ دینے والی   اور ان کے ساتھ ساتھ بیل بھی نظر آ رہے تھے  ناراض ناراض سے طاقت کے نشے میں چور  لیکن چھری سے بے خبر ،۔

یہاں نئے نئے جوان وہ بھی نظر آ رہے تھے جن میں طاقتور گھوڑے کی شباہت تھی ، لمبی منزلوں کے لئے نکلے ہوئے ،۔
یہاں کچھ لومڑی  کی شباہت کے بھی تھے ،۔
اور بندر کی شباہت والے بھی ،۔
الو کی طرح دیدہ در بھی تھے تو کبوتر کی طرح کے بد اندیش بھی ،۔
یہ سب دیکھ کر میں باہر نکلا ، گاڑی سٹارٹ کی
اور بیک مرر میں دیکھ مجھے بہت شاک لگا
کہ
یہاں
مجھے ایک تھکا ہوا گھوڑا نظر آرہا تھا ،۔
تھکے ہوئے گھوڑے کا یہ چہرہ کسی اور کا نہیں خود میرا تھا ،۔
دوسروں کی سواری ، دوسروں کا دوست ، جس کی پیٹھ پر رکھی کاٹھی پر جس جس کا بھی داء لگا اس نے سواری کی ،۔

جمعرات، 31 اگست، 2017

اکنامک کہانی کی اگلی بات


اپ نے میری تحریر کردہ وہ کہانی تو پڑھی ہو گی ؟؟
بہت کاپی ہوئی ہے وہ کہانی فیس بک پر کہ انٹرنیٹ پر ،۔

قربانی ہو یا کہ کوئی بھی رسم جس میں خرچ ہوتا ہے ، اس سے معاشرے کو فائدہ ہوتا ہے
پاکستان جیسے ملک ، جس میں پہلے ہی سرمائے کی حرکت بہت سست ہے ایسے ملک میں عید قربان ، جشن آزادی ، شب برات وغیرہ سے بہت سے لوگوں کا مال فروخت ہوتا ہے جس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے ،۔
ہر خرچ پر یہ کہنے والے کہ یہ پیسا کسی غریب کو دے دینا تھا
اصل میں جہاد افغانستان کے لئے تیار کئے مذہبی دانشوروں کے ترتیب دئے گئے کلچر جس میں بھیک کو گراس روت لیول تک لے جایا جا چکا ہے اس کے پروردہ ہوتے ہیں ،۔
بھیک کی امید رکھنے والوں کو دوسروں کی کمائی بری لگتی ہے ،۔
ایک کسان جو چند بیل پال کر عید پر فروخت کرتا ہے ،۔
ایک بیوپاری جو یہ بیل منڈی تک لاتا ہے ،۔ منڈی میں چارہ بیچنے والا ۔
بیل ، چارہ منڈی تک لانے اور یہاں سے خریدار کے گھر تک پہنچانے والے ٹرانسپوٹڑ کا کاروبار ۔
بسنت پر پتنگ بنانے والے ، ڈور تیار کرنے والے ، پتنگ بیچنے والے دوکان دار ، ان دوکانداروں پر ڈپینڈ کرنے والے کاروبار
شب برات پر آتش بازی بنانے والے ، ،۔ کھیر کے لئے مٹی کے برتن بنانے والے لوگ ،ان سب کے کاروبار تہواروں پر خرچ کرنے کی رسم سے ہی چلتے ہیں ،۔
پاکستان ، جہاں بھیک مانگنے کو عظمت کی نشانی بنا کر رکھ دیا گیا ہے ،۔
بھیک مانگ کر اپ جتنا بھی شوخ کام کر لیں ، اس سے نظام نہیں چلا کرتے ،۔
یاد رکھیں ترقی یافتہ اقوام نے اپنی ابادیوں کے پانی کے نکاس کے بعد جو سب سے بڑا کام کیا ہے وہ ہے ۔
پیسے کو حرکت دے کر پیسے کے فوائد  گھر گھر پہنچانے کا کام کیا ہے ،۔
ایک دوسرے کے پیسے ایک دوسرے کے کام آ رہے ہیں ،۔
بھیک مانگنے والو ، تم لوگوں نے خدا اور انسانیت کے نام پر بھیک مانگ مانگ کر خدا اور انسانیت کو بہت خوار کیا ہے ،۔
لوگو! سنو !!!۔
خود داری ، عزت نفس اور غیرت کا مفہوم جانو
اور
آو امداد باہمی (بیمہ) کے نظام پر بات بات کریں ،۔
پیسے کی حرکت میں برکت پر بات کریں ،۔

جمعہ، 25 اگست، 2017

حالات حاضرہ ، امریکہ


امریکہ ، پچھلے سولہ سال میں ، جی ہاں صرف سولہ سال میں  افغانستان میں کوئی  117بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے ،۔
اس سے پہلے سویت کے اندہام میں خرچ ہونے والی رقموں کا ذکر اج کا موضوع نہیں ہے لیکن اپ ان کو بھی ذہن میں رکھیں ،۔
ایک سو سترہ بلین ڈالر کی امریکی  انوسٹمنٹ دنیا کے خطرناک ترین ملک  افغانستان میں ہوئی ہے ،۔
اتنی بڑی رقم کی واپسی کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ افغانستان کی معدنیات  کو نکال کر اس سے وضع کر لی جائے ،۔
افغانستان  میں خام لوہے ، زنک  تانبے کے علاوہ سونے چاندی اور پلاٹنم کے بڑے ذخائیر موجود ہیں ،۔
لیتھنم کے متعلق تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ افغانستان لیتھنیم کا سعودیہ ہے ،۔
لیٹھینم جو کہ سمارٹ فونز اور بیٹری پر چلنے والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
اور تانبے کی کانیں دنیا کے بہترین تانبے کا ذخیرہ رکھتی ہیں ،۔
امرکی ماہرین کے اندازے کے مطابق یہ معدنیات کوئی ایک ٹریلن ڈالر کی وقعت رکھتی ہیں ،۔
جو کہ افغانستان کو ایک محفوظ ملک بنا کر اور یہاں پر ترقی یافتہ ممالک کے برابر سٹریکچر تیار کرنے اور جمہوریت قایم کرنے کے لئے ایک معقول  رقم ہے ،۔
لندن کے ایک بنکر جو کہ افغانستان میں کان کنی میں ایک بڑے انوسٹر ہیں ان کے مطابق ، افغانسان میں کان کنی  کی یہ حالت ہے کہ یہاں کوئی ایک بھی کان چالو نہیں ہے ،۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کابل سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چینی کمپنی  “ مس عینک” نامی کان سے تانبہ نکال رہی ہے ،۔
افغان حکومت  معدنیات کو نکال کر استعمال میں لانے کے لئے امریکی حکام سے رابطے میں ہے ،۔
اس معاملے میں اس سال جون میں افغانی سفیر  حماد اللہ محب نے امریکی صدر ٹرمپ سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات بھی کی ہے ۔
 ایک امریکی اور افغان حکومت میں معدنیات کے متعلق مشترکہ دلچسپی پائی جاتی ہے  ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق  افغانستان سے سالانہ بیس بلین ڈالر کی معدنیات نکالی جا سکتی ہیں ،۔

اور دوسری طرف  کام کو چالو کرنے سے پہلے اور دوران میں اٹھنے والے مسائل پر بھی غور کیا جا رہا ہے ،۔؛
جن میں سب سے بڑا مسئلہ  خام لوہے ، تانبے اور لتھینم کو افغانستان سے باہر نکال کر امریکہ پہنچانے کا ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہت بری ہے ،۔
افغانستان میں سڑکوں کی حالت بہتر کرنے کے بعد امریکی ماہرین کی نظر میں جو راستے ہیں ان میں پاکستان یا انڈیا سے گزر کر سمندر تک پہنچنے کا راستہ ہے ،۔
اور یہ دونوں راستے طالبان کی وجہ سے محفوظ نہیں ہیں ،۔
طالبان جن کو امریکی  ڈیفینشنز میں دہشت گرد کہا جاتا ہے ان کے ٹھکانے  پاکستان کے پہاڑوں میں ہونے کا شک کیا جاتا ہے ،۔
جس کے لئے امریکی حکومت کا خیال ہے کہ سوائے پاکستان کے یہ راستے کوئی اور محفوظ نہیں کروا سکتا ،۔
افغانستان سے نکلنے کے بعد  سی پیک نامی منصوبہ جو کہ پاکستان میں چینی حکومت کے زیر اثر چل رہا ہے اس کو استعمال کرنے میں بھی امریکی حکومت کو کئی تحفظات ہیں  ۔
امریکی حکومت افغانستان میں پچھلی صدی کی اٹھویں دہائی سے لے کر اب تک جو خرچ کر چکی ہے ، کی واپسی کے لئے افغانی معدنیات کے حصول کے سوا اور کوئی راھ نظر نہیں آتی ،۔
لیکن ان معدنیات کو نکال کر امریکہ پہنچانے میں جو قباحتیں ہیں ان کو دور کرنے لے لئے امریکی حکومت دہائیوں سے پاکستان کی امداد کر کے ایک بہت بڑی رقم انوسٹ کر چکی ہے ،۔
اس لئے امریکہ حکومت پاکستان سے اس انوسٹمنٹ کی پروگریس دیکھانے کا مطالبہ کرتی ہے ،۔
دوسری طرف پاکستانی  سیکورٹی حکام ، یہ سمجھتے ہیں کہ کہ معدنیات کی دولت سے ملنے والا حصہ جو کہ ان کو مل رہا ہے یا کہ جس کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ کم ہے ،۔
افغان معدنیات پر امریکی نظر اور ان کو نکال کر امریکہ تک پہنچانے میں جو مسائل ہیں اگر اپ ان کو غور سے دیکھیں تو امریکہ کی بھارت میں دلچسپی  کی وجہ صاف نظر آتی  ہے ،۔
تحریر : خاور کھوکھر

اتوار، 9 جولائی، 2017

**** ٹوٹکا *****

** ٹوٹکا *****
جوانی میں  دیس پردیس کی اوارہ گردی کی لیکن پانی سے پرہیز ہی کیا
کہ جہاں بھی گئے کوکاکولا ہی نوش کیا
اس سے یہ تو ہوا کہ “ پانی لاگ “ نہیں ہوئی ۔
لیکن شوگر ضرور ہو گئی ،۔
جب تک کوکے کولے کی “ تاثیر” کا علم ہوا ، بقول شخصے ، چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں ،۔
 
چار سال پہلے اپنی جنم بھومی کی سیر پر جب پانی لاگ ہوئی تو بڑی شرمندگی ہوئی
کہ لوگ کیا کہیں گے ، “ وڈا انگریز “!!،۔
اقوال بزرگاں سے منسوب،  “جس دیس میں جاؤ وہاں پیاز کھاؤ “ والے احمقانہ  نسخے کو بھی ازما کر دیکھا ۔ْ
کچھ فرق نہں پڑا ،۔
تنزانیہ کے شہر دارسلام میں تھا  جب پانی لاگ کی وجہ سے ہوٹل تک سے باہر نہیں نکل سکتا تھا تو؟
ایک دیسی حکیم کی بتائی ہوئی بات یاد آئی کہ
جس کے معدے میں سبز مرچ کا ایک بھی دانہ موجود ہو اس کو ہیضہ نہیں ہو سکتا!!،۔
صبح ناشتے میں شملہ مرچ اور آلو بھنے ہوئے رکھے تھے ،۔
میں نے وہ کھا لئے ،۔
پیٹ میں بہت در اٹھا ، لیکن دو کھنٹے بعد  شوٹر بند ہو چکے تھے ،۔
اس دن  سے میں نے معمول بنا لیا ہے کہ جہاں بھی جاتا ہوں ،۔
مرچ کی نسل کی سبز مرچ ضرور کھاتا ہوں ،۔
ضروری نہیں کہ مرچ کڑوی ہی ہو ، شملہ مرچ یا کہ دیگر پھوکی مرچ اگر سالن میں سالم پڑی ہے تو  ، میں کھا لیتا ہوں ،۔
چار سال میں کوئی پانچ ممالک کے سو کے قریب شہروں کا سفر کیا ہے
لیکن  ہری مرچ کی مہربانی سے پانی لاگ نہیں ہوئی م،۔
ملک سے باہر میں پانی بہرحال منرل ہی استعمال کرتا ہوں لیکن برف وغیرہ یا کہ دیگر مقامی پانی میں تیار کی گئی چیزوں کو کھانے کے باوجود ڈائیریا سے بچا ہوا ہوں ۔ْ

جمعہ، 12 مئی، 2017

ایک کہانی


جب وہ پیدا ہوا تو اس کا نام شیباشٹن رکھا گیا ،۔
ابھی وہ چند ماھ کا تھا کہ اس کا آئریش باپ اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا ،۔
برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک اور سوشل ویلفئیر کے نظام کی وجہ سے اس کی ماں کو اس کے پالنے میں کوئی زیادہ دقت تو نہیں ہوئی
لیکن پھر بھی ایک اکیلی عورت کو سہارا چاہئے ہوتا ہے م،۔
جو اس کو نواز کھوکھر کی صورت میں مل گیا ،۔
 نواز کھوکھر ایجنٹ کو پیسے دے کر پنجاب کے بہت سے جوانوں کی طرح خوابوں کی سرزمین برطانیہ میں آ تو  گیا تھا لیکن ویزے کی مشکلات  تھیں جن کو حل کرنے کے لے اس کو بھی ایک سہارے کی تلاش تھی ،۔
چرس  کی عادت نواز کھوکھر کو وہاں چکوال کے نواحی گاؤں میں پڑ چکی تھی اور یہاں برطانیہ میں شراب کی بہتات دیکھ کر اس کا جی چاہتا تھا کہ شراب میں ڈبکیاں لگائے ،۔
شیباشٹن کی ماں سے میرج رجسٹر کروا کر ویزے کے لئے اپلائی کر دیا ،
ایک ڈسکو کلب کے باہر گارڈ کی نوکری مل گئی ،۔
 شیباشٹن کی ماں بھری جوانی میں روڈ ایکسڈنٹ  میں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائی گئی ،۔
ویزے کے انتظار میں  نواز کھوکھر کو اس عورت کی موت  اپنی ڈیپورٹیشن نظر آ رہی تھی ،۔
نواز کھوکھر نے دل کی  گہرائیوں سے شیباشٹن کی ماں کی زندگی کے لئے دعا کی
لیکن جو خدا کو منظور تھا
کہ شیپاشٹن کی عمر اس وقت کوئی تین سال تھی جب اس کی ماں  مر گئی ،۔
لیکن نواز کھوکھر کو ویزہ مل ہی گیا کہ اس نے شیباشٹن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی کرنی تھی ،۔
اپنی دنیا میں مگن نواز کھوکھر جس کو عورت اور شراب ڈسکو کے گارڈ کی نوکری کی وجہ سے وافر مسیر تھیں ،۔
اس کو اب شادی کی بھی ضرورت نہیں تھی کہ
ویزہ بھی مل چکا تھا ،۔
تین سالہ شیباشٹن کی دیکھ بھال اس کو مصیبت نظر آنے لگی ،۔
نواز کھوکھر نے شیباشٹن کو اپنے ماں باپ کے پاس وہاں اپنے گاؤں بھیج دیا ،۔
*********************

گاؤں میں سارے لوگ اسکو ککا کہتے  تھے ، وجہ تسمیہ اس کی یہ تھی کہ نیلی آنکھیں سنہرے بال ، سفد رنگ ، جو کہ اس علاقے میں سو میل کے ایریا میں کسی کا نہ تھا ،۔
ککا اپنے دادی دادے کے ساتھ رہتا تھا ،۔
ککے کا باپ کہیں فارن میں رہتا تھا ،جو کہ ماں باپ کو  کبھی کبھی پیسے بھیج دیتا تھا ،۔
ککے کے باپ کا فون بھی کم ہی آتا تھا
اور خود کبھی واپس آیا ہی نہیں ،
کہ
ککے کو اپنے باپ کی شکل بھی یاد نہیں تھی
کہ ککے نے جب سے ہوش سنبھالی تھی اس کے اپنے باپ کو گھر آئے دیکھا ہی نہیں تھا ،۔
ماں کے متعلق اس کو اس کی دادی نے بتایا تھا
مر کھپ گئی تماری ماں ، میرے سامنے اس کا نام نہیں لینا ،۔
ککے کو دادی سے بہت پیار تھا اس لئے ماں کا کبھی ذکر بھی زبان پر نہیں لایا م۔
دادے کی کچھ زرعی زمین تھی ککے کے لاڈ دیکھنے کو گھر کے دانے اور پیسے بھی تھے،۔

 دادی دادے کا لاڈلا پرائمری سکول تک تو گاؤں کے سکول میں ہی پڑھا،۔

جب مڈل سکول کی باری آئی تو نزدیکی قصبے کے مڈل سکول تک جانے کے لئے دادے نے سائیکل لے دیا ،۔
علاقے کے  سارے لڑکوں کی  باتیں سن سن کا ککے کا بھی ذہن   پڑھائی کی بجائے فارن میں جا کر کامیابی کی طرف ہی لگا رہتا تھا ،۔
مڈل کرنے کے بعد ککا چکوال کے ہائی سکول میں جانے لگا ،۔
چکوال میں کھلی فضا میں ککے کے پر کھلنے لگے تو یاری دوستیاں بھی بن گئیں ،۔
سکول سے بھاگ کر لاری اڈے پر چلے جانا ، کبھی کوئی دوست چائے پلادے تو عیاشی  ورنہ گھومنے پھرنے کی عادت ،۔
دادی دادے سے پیار تھا
اس لئے شام کو بڑے روٹین سے گھر پہنچ جاتا تھا ،۔
نوئیں میں فیل ہونے پر دادے نے ککے کو چکوال میں بجلی کے مکینک کے پاس شاگرد بٹھا دیا ،۔
کہ ہاتھ سیدھے کر لو  کچھ کما کھا لو گے ، ککے کا بھی اس کام میں دل لگ گیا کہ ککے کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے “نکے “ بھی فریج اور ائیر کنڈیشن کی مرمت کا کام اسی لئے سیکھ رہے تھے ، کہ ان دنوں سعودیہ میں  میں اس کام کی بڑی مانگ تھی ،۔
ککے کے ساتھ کام کرنے والا اس کا ایک سینئر  ککے کے دیکھتے ہیں دیکھتے سعودیہ چلا گیا ، اور وہاں سے پیسے بھیجنے لگا ۔
ککے کا بھی بہت جی چاہتا کہ جلدی کام سیکھ کر وہ بھی سعودیہ جائے اور دادے دادی کی اتنی خدمت کرئے گا کہ ان کو لندن گئے بیٹے کا دکھ بھول جائے گا ،۔
وقت گزرتا رہا ، کچھ سال بعد ککا ،اپنے کام میں پختہ ہو گیا ،  واشنگ مشین ، فریج اور ائیرکنڈیشن کا ایسا گاریگر بنا کہ استاد کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ،۔
ایک دن ککے کے استاد نے خود اس سے کہا کہ
کیا خیال ہے تمہارے لئے کسی ایجنٹ سے بات کروں ، سعودیہ جانے کے لئے ؟
سعودیہ جانے کے ان دنوں آزاد ویزے کا ریٹ بھی بیس ہزار روپے تھا ،۔
ککے نے دادے سے بات کی ، دادی نے ککے کے باہر جانے کا سن کر رونا شروع کردیا ،۔
ککے اور دادے نے بڑی مشکل سے دادی کو منایا کہ ککا سعودیہ سے ہر سال ملنے کے لئے آیا کرئے گا، ۔
اور ویزے کا ایگریمنٹ بھی بس پانچ سال کا ہے اس کے بعد یہاں آ کر چکوال میں اپنی ورکشاپ شروع کر لے گا،۔
ککے کے دادے نے ادھر ادھر سے پکڑ کر بیس ہزار کی رقم تیار کی ۔
ککے کے استاد نے ایجنٹ سے بات کہ کہ رقم تیار ہے ، اب بتاؤ کہ کب منڈے کو سعودیہ بھیج سکتے ہو ؟
ایجنٹ سے بتایا کہ پاسپورٹ کا انتظام کرو ، ایک ماھ میں منڈا سعودیہ میں ہو گا ،۔
اس دن پتہ چلا کہ ککے کا تو شناختی کارڈ ہی نہیں ہے ،۔
شناختی کارڈ بنوانے گئے تو
پتہ چلا کہ ککے کا تو کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے ،۔
ککا اور دادا شام کو پریشان بیٹھے تھے کہ
کس کو کہہ کر یہ کام کروائیں
کہ دادی نے پوچھا  کہ معاملہ کیا ہے ،۔
تو ککے نے بتایا کہ ایک کاپی سی ہوتی ہے جس کو پاسپورٹ کہتے ہیں ،۔ وہ ضروری ہوتا ہے جہاز پر بیٹھنے کے لئے ، وہ  بنوانا ہے ،۔
لیکن میرا تو نام ہی کہیں نہیں نکل رہا ،۔
ککے کی دادی گئی اور ایک صندوق سے ایک پرانا سا نیلے رنگ کا پاسپورٹ لے کر آ گئی کہ
بیٹا شہباز پتر ، جب تم اس گھر میں آئے تھے تو جہاز پر بیٹھ کر برطانیہ سے آئے تھے، اس وقت تمہارے پاس یہ کاپی تھی م،۔
ککے نے جب  وہ پاسپورٹ ھاتھ میں لیا تو وہ برٹش پاسپورٹ تھا
جس پر ککے کی  بچپن کی فوٹو لگی ہوئی تھی، جس پر ککے کا نام  شیباشٹن لکھا ہوا تھا،۔
یہ وہی شیباشٹن تھا جس کو نواز کھوکھر نے بوجھ سمجھ کر چکوال بھیج دیا تھا ،۔
اور ککے کے دادا دادی وہ عظیم لوگ تھے جنہوں نے اس کو ساری زندگی احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ تم ہمارا خون ہی نہیں ہو ،۔

بدھ، 10 مئی، 2017

اونٹ کٹارے


اونٹ کٹارے
اونٹ کٹارے ۔
جاپانی زبان کا ایک محاورہ ہے ،۔ جس کے معنی ہیں موٹا کر کے کھاؤ !،۔
جاپان کے وہ تونگر لوگ جو نئے کاروباری کو ، کاریگر کو جوان یا ناتجربہ کار کو سرمایہ مہیا کر دیتے ہیں ، اوزار لے کر دیتے ہیں ،کاروباری حلقوں میں متعارف کروا کر ایک طرح سے اس بندے کو موٹا کر رہے ہوتے ہیں کہ
جب یہ بندہ موٹا ہو جائے گا تو اس بندے سے فوائد حاصل کریں گے ،۔
اب مزے کی بات یہ کہ جو لوگ کسی کو "موٹا " کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں ، وہ خود اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ان کو کسی کی مدد کی ضروت ہی کم پڑتی ہے ،۔
دوسروں کو اسٹنیڈ کرنے کی خواہش میں ، دوسروں کو دینے کے لئے مال حاصل کرتے کرتے اتنے مال دار اور سورسز کے مال بن چکے ہوتے ہیں کہ
کسی کو موٹا کر کے اس کو ذبح کر کے کھانے کی طلب ہی نہیں رہتی ،۔
اونٹ کٹارے ۔
کہ
یہی محاورہ جب کوئی جاپان میں پناھ گزین بے وطن بندہ سناتا ہے
تو
اس بندے کے ذہن میں "خود ترسی " کی طلب نظر آ رہی ہوتی ہے ،۔
کہ
سر جی آپ کے پاس مال ہے مجھے بھی موٹا کرو ، بعد میں بے شک کھا لینا ،۔
یعنی کہ اگر جاپانی بولے تو یہی محاورہ کچھ اور معنوں میں ہوتا ہے اور
اگر
میرے لوگ بولیں تو متروس کچھ مدد چاہتا ہے ،۔
اونٹ کٹارے ، یہ پھول زعفران جیسا ہے ، زعفران ہے نہیں ،۔

جمعہ، 28 اپریل، 2017

درویش کی بات

پینو کے خصم نے دوسری شادی کر لی ۔
جوان بیوی کے ساتھ مگن پینو کے خاوند کی بے رخی نے پینو کا دل توڑ دیا ،۔
پینو کو سمجھ ہی نہیں لگ رہی تھی کہ جس مرد کے ساتھ لڑکپن سے لے کر جوانی  بیتا دی اب سے کے بغیر پہاڑ سی زنگی کیسے گزرے گی ۔
ہر وقت ٹھنڈی آہیں بھرتی پینو کو دیکھ کر اس کی ایک سہیلی نے اس کو بتایا کہ
وہان پہاڑوں میں ایک درویش رہتا ہے ،۔ اس کے پاس جاؤ شائد تمہاری مایوس زندگی میں کو تبدیلی آ جائے م،۔
پینو ، درویش نے ملنے کے لئے نکل پڑی ،۔ ٹانگے پر  شہر تک وہاں سے لمبے روٹ کی بس ، پہاڑوں کے پاس کی چھکڑا ویکن  اور پتہ نہیں کون کون سے سواریاں بدل کے کئی دن پیدل چل کر  جب پینو درویش کے پاس پہنچتی ہے ،۔
اور درویش کو ساری داستان سناتی ہے ،۔
درویش سر جھکائے ساری بات سنتا رہتا ہے ،۔
آخر پر پاس پڑی مٹی کی گڑوی سے کڑ کی ایک ڈلی نکلا کر پینو کو دیتا ہے ،۔
 پینو بڑے شوق سے گڑ کھا جاتی ہے ،۔
پینو گڑ ختم کرتی ہے تو
درویش پوچھتا ہے
ایک اور چاہئے ؟
پینو بڑے شوق سے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے  کہتی ہے کہ ہاں ایک اور عنایت فرما دیں ،۔
درویش ، پینو کی انھوں میں دیکھتے ہوئے فرماتا ہے ۔
کیا تمہیں مسئلے کی سمجھ لگی ہے ؟
پینو سوچ میں ڈوب جاتی ہے ،۔ سر جھکائے ہوئے آہستگی سے بولتی ہے
ہاں  ،  میرا خیال ہے کہ انسان بنیادی طور پر حریص ہے ،۔
انسان کو ایک چیز ملتی ہے تو دوسری کی حرص کرتا ہے ، ایک نئی چیز کی ایک بڑی  چیز کی ، اور اس حرص کا کبھی اختتام نہیں ہوتا ،۔
مجھے چیزوں کی ناپائیداری کا خیال کرنا چاہئے اور مایوس ہونے سے بچنا چاہئے ،۔
یہاں تک پہنچ کر پینو سر اٹھاتی ہے اور درویش کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے ۔
آپ یہی کہنا چاہتے ہیں ناں ؟
درویش نفی میں سر ہلاتا ہے اور بڑے تاسف بھرے لہجے میں کہتا ہے
نئیں ، میرا کہنے کا مطلب ہے کہ
تم بہت زیادہ  موٹی ہو ۔
تمہیں اپنا کھانا کم کرنا چاہئے !!م،۔

اتوار، 23 اپریل، 2017

قصائیاں دی لڑائی (پنجابی)۔

کالو قصائی دی شادی دی گل اے
کہ
خیر پنڈ وچ ایس گل تو تے سارے ہی واقف  سن کہ قصائیاں دے ویاھ تے لڑائی تے  مسٹ ہونی اے ،۔
جنج نکلن تو پہلوں پھپھڑ تے چاچے منان لئی  ہون والی لڑائی  تے بس ایک ادھ بندے دے کھنے سیکن  تک ای رہی ،۔
پر دوجے دن ولیمے تے جیہڑی لڑائی شروع ہوئی ،ایس وچ سر پاٹے ، کھنے سینکے تے نالے کتنے ای بندے پھٹر ہوئے تے
پنڈ والیاں نے پولیس سد لئی ،۔
پولیس والیاں آ کے سارے قصائیاں نوں نالے پھینٹی لائی تے نالے پھڑ کے لے گئے ،۔
جدوں پولیس پھڑدی  تے صلح سلوک کروان والے وی  چالو ہو جاندے نے ،۔
بہرحال ، گل چوہدریاں دے ڈیرے تک پہنچی ، وڈے چوھدری صاحب ، منجی تے بیٹھے سن تے سارے قصائی ایہاں دے سامنے ای فیر ایک دوجے نال گبھ کسنیں  ہو گئے ،۔
فیر مار کٹ تے کاکو رولا  ہون لگیا جیہڑا قصائی دے ویاہاں دا رواج سی
پر چوہردی صاحب دے ڈیرے تے پولیس والے وی کول ای کھلوتے سن ،۔ پولیس والیاں نے فیر کئی بندیاں لوں  لمیاں پاء کے پھینٹی لائی ،۔
پھینٹی کھا کے قصائیاں دا مچ مریا تے
اپی سارے تھلے زمین تے وچھیاں پھوڑیاں تے بہہ گئے ،۔
کالو دے ویاھ تے جاجو  ایس دا سربالا بنیا سی ،۔
سجے ہتھ دیاں انگلیاں تے  پٹیاں بنیاں ہویاں سن ،۔
جاجو قصائی اگے ہو کے آکھدا اے چوہدری صاحب میں ساری گل سناناں واں
کہ لڑائی کنے شروع کیتی سی، اے سارا قصور کالو دا جے ،۔
ہویا اے کہ
تہانوں پتہ ای اے کہ
ولیمے والے دن ساڈی برادری دا رواج اے کہ نویں وہٹی برادری دے نزدیکی لوکاں دے نال ناچ کردی اے ،۔
تے سب تو پہلوں سربالے دی واری ہوندی اے ،۔
ہن ایس  ویاھ دا سربالا میں ساں
ایس لئی نوئیں وہٹی دے نال میں ڈانس شروع کیتا ، برادری دیاں کڑیاں ڈھولکی وجانیداں  سن ،۔
ڈھولکی دی تاپ تے میں تے کالو دی وہٹی  ڈانس کردے رہے
پر ڈھولکی وجان والیاں  کڑیاں  جوش وچ آ گیاں تے ڈھولکی وجاندیاں ای چلیاں گیاں ،۔
نچ نچ کے
نوں وہٹی نڈھال ہو کے میریاں باہواں وچ ڈھلکی ہو گئی سی
میں ایس نوں اپنی کھبی بانہہ سے سنبھالیا ہویا سی
تے
کالو نے آ کے وہٹی دے چڈیاں وچ جتھے نازک تھاں ہوندی اے اوتھے ،اپنے زور دے نال کک مار دتی دی سی ۔ْ
جاجو دی گل سن کے چوہدری صاحب دے منہ تو نکل گیا
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
اتے اگوں جو کجھ جاجو نے آکھیا
ایس نوں سن کے چوہدری صاحب نے جاجو دیاں ٹٹیاں انگلاں تے وی ترس نئیں کھادا تے جاجو نو لمیاں پوا کے ایس دی بنڈ تے سو لتر لوائے سن ،۔
پتہ جاجو نے کی آکھیا سی ؟
جدوں چوہدری صاحب دے منہوں نکلیا
کہ
اوئے ، اے تے بڑا ظالماں والا کم کیتا کالو نے ،۔
تے جاجو آکھدا اے
ظلم جہیا ظلم جی ، نازک تھاں دے اندر میریاں انگلیاں سن ، کالو نے کک مار کے میریاں انگلیاں تروڑ دتیاں نے ،۔

Popular Posts