بدھ، 20 جولائی، 2016

پوکے مون کیا ہے ؟

پوکے مون ،کے کریکٹرز ،۔

تحریر خاور کھوکھر: پوکے مون گو نامی ویڈیو گیم ،امریکہ کناڈا اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بعد اج سے جاپان میں بھی کھیلی جا سکے گی  ،
ننٹینڈو کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سرورز کو اپ ڈیٹس کیا جا رہا ہے  ،۔
تاکہ صارفین کو کوئی دقت نہ ہو ،۔
بہت سے دوست پوچھتے ہیں کہ پوکے مون ہے کیا ؟
پوکے مون ایک ویڈیو گیم ہے ، جو کہ ایک کہانی کے کریکٹرز کے ساتھ کھیلی جاتی ہے  ،۔
کہانی  میں کچھ بچے اہنے اپنے جانور رکھتے ہیں ،۔
جن کو پاکٹ مونسٹر کہتے ہیں ،۔ جس کا مخفف ہے پوکے مون ،۔
اردو میں اس کو جیب میں رکھی جا سکنے والی بلا کہہ سکتے ہیں ،۔
جو کہ ایک مخصوص ، گیند نما ڈبی میں بند ! بچے کی جیب میں پڑے ہوتے ہیں ،۔
آپ یوں کہہ لیں کہ
بچوں کے پاس ڈیجٹل بٹیرے ہیں اور وہ بچےاپنے اپنے بٹیرے لڑاتے ہیں ،۔
ہمارے معاشرت میں پوکے مون کو سمجھانے کے لئے بٹیروں سے بہتر مثال نہیں دی جا  سکتی ،۔
جس طرح بٹیرے باز اپنے اپنے بٹیروں کی نہگداشت کرتے ہیں ،
جس طرح بٹیرے بازوں کے پاس طرٖح طرح کی نسلون کے بٹیرے ہوتے ہیں اسی طرح پوکے مون میں بچوں کے پاس طرح طرح کے مونسٹر (بلائیں) ہوتے ہیں ،۔
پر بٹیرے باز کا بٹیرا بھی ایک بلا ہی ہوتا ہے ،۔
آپ نے سنا تو ہو گا
کہ
جب بٹیرے باز بڑہک لگاتا ہے ،۔
میرا بٹیرا ، پنچہ مار کر دھرتی ہلا دے !،
بس کچھ اسی طرح پوکے مون میں پوکٹ مونسٹر بھی دھرتی ہلا دیتے ہیں ،۔
ٹی وی پر کارٹون سیریز چلتی ہے ،۔
جس میں بچے اپنے اپنے بٹیروں کی جنگ (بیٹل) کرواتے ہیں ،۔
اس جنگ میں نئے نئے پینترے ، حربے ، اور وار کئے جاتے ہیں ،۔
ہر بٹیرا اپنی ایک یونیک شکل اور صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے ،۔
ٹی وی سیریز میں دیکھے ہوئے پنترے اور حربے ویڈیو گیم میں ازمائے جاتے ہیں م،
پوکے مون گو ، کیا ہے  ،۔
پوکے مون گو میں  ایک گیم متعارف کروائی گئی ہے  ،۔
جن میں فون کے کیمرے کے ساتھ کھلاڑی اپنے اردگرد دیکھتا ہے تو اس کو اپنی دنیا میں “مونسٹر “ یعنی کہ بٹیرے نظر آتے ہیں ،۔
جن کو قابو  کیا جاسکتا ہے  ،۔
ان قابو کئے گئے مونسٹرز سے دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹل کیا جا سکتا ہے  ،م،۔
بلکل بٹیرے بازوں کی طرح جس کے پاس جتنے زیادہ بٹیرے ہوں گے وہ اتا ہی عزت دار بٹیرے باز ہو گا  ،۔
پوکے مون گو میں کوئی  ایک سو اکاون  قسم کے مونسٹر ہیں ،۔
جن میں سے کچھ تو بہت ہی  نایاب قسم کے ہیں ،۔
یعنی کہ گیم بنانے والوں نے،کیم میں  یہ مونسٹر کم ہی ڈالے ہیں ،۔
پوکے مون گو میں ، مونسٹرز صارف کو چلتے پھرتے اپنے اردگر مل جاتے ہیں ،۔ کچھ نایاب قسم کے مونسٹرز کے متعلق انفارمیشن مل جاتی ہیں کہ وہ کس جگہ پائے جاتے ہیں م،
بہت سے مونسٹرز پانی کے جانور کی شکل ہے ہوتے ہیں جو کہ پانی ، یعنی دریا جھیل یا سمندر کے کنارے مل جاتے ہیں ،۔
زمین میں رہنے والے جانوروں والے کونے کھدوں میں مل جاتے ہیں ،۔
اڑنے والے مونسٹرز پارکوںمیں مل جاتے ہیں ،۔
اوارہ روحیں چرچ مندر یا قبرستانوں میں مل جاتی ہیں ،۔

ہفتہ، 2 جولائی، 2016

مانگت یا مولوی

ارویا مقبول جان اور دیگر علماء میڈیا اج کل مولوی کی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بول بول کر ہلکان ہیں ،۔
انگریز کو الزام دیا جارہا ۔ سازشی تھیوری کو سان پر چڑہایا جا رہا ہے ۔
اپ خود بھی سوچیں
کہ
کیا اپ نے کبھی احساس کیا ہے کہ
جنرل ضیاء صاحب والے اسلام کے بعد  مسجدوں کی بہتات ہو چکی ہے ،۔
ابادی ؟ سولہ کروڑ کی ابادی تھی  سن انیس پچاسی میں جو کہ اب بڑھ کر بیس کروڑ ہو چکی ہے ،۔
یعنی کہ کوئی 60% اضافہ ہوا ہے ، ابادی میں ،۔
اس طرح ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسجدوں کی رونق بڑھتی یا کہ چلو جس گاؤں میں دو مساجد تھیں وہاں تین ہو جاتیں ، چلو چار ہو جاتیں
لیکن ؟ یہاں ہوا یہ کہ
مساجد تین سو فیصد بڑھ چکی ہیں ،۔
ایسا کیون ہوا ہے
ایسا اس لئے ہوا ہے کہ
جنرل ضیاء کے اسلامی نفاذ کے دوران مودودی صاحب کی تعلیمات کی روشنی میں پاک فوج نے جو نظام روس کو زچ کرنے کے لئے بنایاتھا
اس میں مولوی کی کمائی کے لئے لوگوں کے سخاوت کے جذبات ابھار کر ، مولوی کو چندہ اکٹھا کرنے کی تکنیک سیکھائی گئی ، ۔
چندہ مانگنے کی یہ تکنیک جماعت اسلامی کے پوروگراموں سے گراس روٹ لیول تک پہنچ چکی ہے
مدرسوں میں دھڑا ڈھڑ مولوی اور مجاھد تیار کئے گئے ۔
مجاھد لوگ شہید کے مرتبے کو پہنچے
مجاھد تیار کرنے کی فیکٹریاں مساجد بنانے کے لئے چندے کے نظام کو مرتب کیا گیا
ڈھڑا ڈھڑ مولوی تیار کرتے گئے ؟
طلب اور رسد کے افاقی قانوں کے تحت ، مولوی کی رسد زیادہ ہوتی چلی گئی اور روس کے اندہام کے بعد طلب بھی ختم ہو گئی ۔
کچھ طالبان کے نام پر افغانستان کو پانچواں صوبہ بنانے کے پروجیکٹ میں ،
مولوی کی طلب برقرار رہی ۔
لیکن اخر کب تک ۔
اج مولوی بنانے کی فیکٹریاں بےحساب ہیں ۔
مولوی بھی بہتات میں ہیں ،۔
لیکن طلب نہیں رہی ،۔
جنازے ، پڑھانے کے لئے مولوی زیادہ ہیں مردے کم ہیں ،۔ بم دھماکے ، ڈکیٹی کے قتل اور نامعلوم قاتلوں کے کارگردگی کے باوجود
مولوی کی رسد ، مولوی کی طلب سے کہیں زیادہ ہے ۔
 بھیک کی کمائی سے تیار کردہ فیکٹری میں
بھیک کی کمائی کھا کر  بھیک مانگنے کا فن سیکھ کر جو مولوی تیار ہو گا
اس کی معاشرے میں حثیت کیا ہو گی ؟
یاد رکھیں
خالق کائینات نے چیزوں میں تاثیر رکھی ہے ،۔
اگر ایک بندہ پانی میں ہاتھ ڈالے کا تو اس کاہاتھ ضرور بھیگ جائے گا ۔
جو بندہ جھوٹ بولے گا اس کا اعتبار ختم ہو جائے گا ،
جو سود کھائے گا  ،اس کے جین سے محنت کی عادت ختم ہو جائے گی جس کی وجہ سے اس کی تیسری نسل مفلسی کا شکار ہو گی ۔
اسی طرح
بھیک (چندہ) مانگنے کی بھی یہ تاثیر ہے کہ  بندہ معاشرے میں ذلیل کر دیا جاتا ہے
اور یہ ہو رہا ہے مولوی کے ساتھ ،
مولوی کنگرے ، بھانڈ اور مانگت کے لیول پر اتر چکا ہے
لیکن عزت مولوی والی چاہتا ہے ۔

جہاں تک بات ہے مولوی کی تو ، جنرل ضیاء صاحب کے اسلام سے پہلے گاؤں قصبوں میں مولوی کی ایک بڑی حثیت تھی ، ہر مسجد کے ساتھ ایک رقبہ ہوتا تھا جس کے دانے مولوی صاحب کو ملتے تھے ۔
ہمارے گاؤں سے سیکرٹری وزارت خزانہ جناب ممتاز خان صاحب ہوئے ہیں ۔
جو کہ ملوانہ فیملی سے تھے ۔
ان کا خاندان گاؤں چھوڑ کر جا چکا ہے ، ان کے متروک مکان اج بھی گاؤں کے بہترین مکانات ہیں ،۔
مختصر یہ کہ اگر کوئی کہے کہ مولوی کو حقیر جاننے کا رویہ انگریز کا پیدا کیا ہوا ہے تو یہ ایک غلط بات ہے ۔

اس کے بعد جو میں نے دیکھا ہے کہ لفظ کمی ،کامے کی مختصر ہے ۔
اور میں نے یہ بھی دیکھاہے کہ کسی کو اس کے پیشے کی وجہ سے حقیر جاننے کا رویہ ہمارے علاقے میں بہت ہی کم ہوتا ہے ،۔
ہر بندے کی اقتصادی حالت ضرور اس کی عزت اور بے عزتی کا باعث ہوتی ہے ۔
اگر ایک کمہار ، یا لوہار  دانش مندی سے پیسہ کما لیتا ہے تو اس کو ئی بھی اوؤے کر کے نہیں پکارتا ،۔
اس کے برعکس اب جب کہ زمینیں گھٹ کر مرلوں تک پہنچ چکی ہے تو
جاٹوں کے بیٹے بھی ، ترکھان لوہار کا کام کر رہے ہیں ،۔
پیشہ بدلنے سے میں نے تو کہیں کسی کی عزت میں کمی ہوتی نہیں دیکھی ہے ۔
پیشہ بدلنے سے !!،۔
بھیک مانگنا کمائی ضرور ہے لیکن پیشہ نہیں ہے ، اگر پیشہ ہونے کا کہہ بھی لیں تو ؟
یہ ایک ذلیل ترین پیشہ ہے ۔

جمعہ، 1 جولائی، 2016

محاورے کی کہانی

محاورے کی کہانی!،۔
ٹرک دی بتی پچھے!!،۔
ساٹھ کی دہائی میں ، ملک تو ترقی کر رہا تھا لیکن لوگ ملک سے بھاگنے شروع ہو چکے تھے ،۔
جرمنی میں کہیں کسی لوگر ہاؤس میں  پاکستانی اور کچھ سکھ بھی  جرمن حکومت نے رکھے ہوئے تھے ،۔
ان میں سے سکھ اور مسلمان لڑکوں کی ہر روز کسی نہ کسی بات میں  مقابلہ بازی ہوتی ہی رہتی تھی ۔
کبھی گٹ پکڑنا ، کبھی پنجہ لڑانا ۔
جوان لڑکے مقابلے بازی میں اپنے اپنے ملک اور دھرم کو بہتر بنا کر پیش کرتے تھے تو بزرگ لوگ ریفری ہوتے تھے ،۔
اقبال سنگھ اور محمد اقبال کی چڑ چڑ سے تنگ ایک دن  ایک بزرگ لوگوں نے ان کو دوڑ کر اپنی صلاحیت دیکھناے کا راستہ دیکھایا ،۔
سارے لوگر ہاؤس کے لوگ ہلا شیری دینے لگے ،۔
رات کا وقت تھا ،۔
دور کہیں کسی گھر کی بتی جل رہی تھی ، پہلے محمد اقبال کو کہا گیا کہ تم اس بتی کو چھو کر واپس آؤ گے ،۔
ایک گھڑی درمیان میں رکھ کر محمد اقبال کو ون ٹو تھری کر دیا گیا ،۔
فاصلہ خاصا زیادہ تھا ، محمد اقبال کوئی ایک گھنٹے بعد واپس آیا ۔
اب باری تھی  اقبال سنگھ کی ، پہلے ہی کی طرح اس کو بھی ون ٹو تھری کروا  دیا گیا ۔
سب لوگ گھڑی دیکھ کر انتظار کرنے لگے ، اقبال سنگھ واپس نہیں پلٹا ، ایک گھنٹا ، دو گھنٹے ، تین گھنٹے ، رات بھیگنے لگی ، سب لوگ مایوس ہو کر سو گئے ، اگلے دن بھی اقبال سنگھ واپس نہیں آیا ،۔
بڑی چرچا ہوئی سب لوگ اقبال سنگھ کے لئے پریشان تھے کہ اس کو کیا ہو گیا ۔
تیسرے دن  اقبال سنگھ واپس پلٹا ، چہرئے پر ہوائیاں ، اڑ رہی تھیں ۔ سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرہ پچک کر چوسے ہوئے آم کی طرح ہوا تھا ،۔
سب لوگ اس کے گرد اکھٹے ہوگئے ، ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا
کہ اقبال سنگھا ہوا کیا تھا ؟
اقبال سنگھ نے ہانپتے ہوئے بتایا
یارو، تم لوگوں نے جو بتی مجھے دیکھائی تھی وہ ٹرک کی بتی تھی ۔
اور وہ ٹرک فرینکفرٹ جا کر رکا تھا ،۔
میں اس ٹرک کی بتی کو فرینکفرٹ میں ہاتھ لگا کر واپس آ رہا ہوں ۔
حاصل مطالعہ
اس دن سے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اقبال سنگھ کی فیلنگ کو  محسوس کرنے والا بندہ خود کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ہوا محسوس کرتا ہے ،۔

جمعرات، 23 جون، 2016

سوال ہی سوال


ذہنی نابالغ یہ لوگ ابهی تک یه ہی فیصله نہیں کرسکے که پاکستان کی تاریخ کہاں سے شروع کریں اور پاکستان کی تاریخ کیا ہو گی اور پاکستان کے ہیرو کون لوگ ہوں گے ؟؟
سن سنتالیس تاریخ مرتب کرنی شروع کر لیں ؟
یه تو صرف شرمندگی ہوگی کہ اس دوران میں ہم کوئی ہیرو بهی امپورٹ نہیں کر سکے ـ
ایک ہیرو امپورٹ کيے تو تهے ـ
اپنے معین قریشی صاحب ـ
یه تو دیسی تهے اور دیسی ہیرو ہو ہی نہیں سکتا ـ
ایک ایٹمی سائینسدان بنایا گیا 
جو بعد میں اسمگلنگ میں ملوث نکلا ۔
چلو جی اس سے تھوڑا پہلے سے شروع کر لیتے ہیں ،
احمد شاھ ابدالی کے انے سے شروع کر لیتے هیں ؟
نہیں اس سے تھوڑا پہلے
یعنی، مغلوں کے انے سے شروع کرتے هیں ؟
تھوڑا تھوڑا کر کے ماضی میں چلتے چلے جاتے ہیں ۔
محمود غزنوی سے؟
غیاث الدین بلبن سے ؟
چلو جی محمد بن قاسم سے شروع کر لیتے هیں ـ
اس سے زیادہ ماضی میں نہیں جانا جی ۔
کہ
اور آگر کسی بچے نے پوچھ لیا که کیا اس سے پہلے اس سرزمین پر کچھ بهی نہیں ہوتا تها یا راجه داهر انسان نہیں تها ؟
کیا دہبیل کسی ہوائی قلعے کا نام تها ؟
اور کیا عرب تاجر اس زمین پر احسان کرنے آتے تهے ؟
ہم موہن جوڈرو سے شروع کرلیتے هیں !ـ
لیکن تکنیکی تربیت سے محروم ہم تو ابهی تک اس معاشرے کی تحاریر بهی نہیں پڑه سکے بلکه اس درو کی اصلی چیزیں اور برتن تو ہم دوسری قوموں کو بیچ کر کها بهی چکے هیں اور اب تو موہن جوڈرو کا اثاثه محمد نواز کمہار کے فن پارے هیں ـ
پهر بهی کوئی بدتمیز(اردو کے ایک بلاگر بهی بدتمیز نام کرتے هیں) بچه پوچھ سکتا ہے که موہن جوڈرو کے بعد اور راجه داهر تک کے ہزاروں سال میں کیا هوتا رها ہے ؟
توتاریخ پاکستان کیا جواب دے گی؟
سندهی اجرک کو ڈزائینکرنے والے جولاہےـ
کهیس (موٹا سوتی کمبل) رمٹا (پتلا سوتی کمبل)اور لوئی (اونی کمبل)بنانے والے لوگ ـ
گرمٹ (لکڑی میں سوراخ کرنے والا ورما) چوسا (ایک بہت هی کهردری ریتی لکڑی کے لیے )کا استعمال بهی همارے آباء کرتے رہے ـ
چجر(ایک قسم کا مٹی کا برتن جس میں رکها گیا پانی ٹهنڈایخ هو جاتا تها چاہے چجر دهوپ میں هی پڑی هو) کا پانی فریج کے پانی سے بہتر هوتا تها
منجی(چارپائی) کے بننےکا ہنر کیا آج کے لوگوں کی دریافت ہے اس ہنر کو ہم نے کتنا ڈویلپ کیا ہے؟
اور کتنی هی تکنیکیں ہنر کیا هوئے ؟
جنریشن گیپ غالباً اسی کو کہتے هیں ناں جی؟؟
جنتر منترکرتے لوگ کیا هوئے ؟
منتر کیا ہے اور جنتر کیا ہے ؟
کلینڈر کو پنجابی میں جنتری کہتے هیں اور جنتر اسٹرونومی یا علم نجوم کو کہتے هیں ـ
منتر علم تحریر کو کہتے هیں که کسی اور کی کهینچی لکیروں کو پڑھ لینا بهی ایک اسرار هے ناں جی !؟
ناں پڑھ سکنے والے لوگوں کے لیے ـ
دنیا کے زیاده تر لوگ جب اشکال کو تحریر کی صورت دیتے تهے جیسے که مصری اور چینی ـ
تو آواز کو تحریر کی شکل دینے والے لوگ کیا ہوئے ؟
زیرو کی دریافت کے ذمه دار لوگ کیا هوئے ؟
کپل وستو کا شہزادھ سدهارت (گوتم بده)کیا هوا؟
برصغیر میں آنے والے رسول کیا هوئے ؟
یا که امپورٹڈ دهرم کے ماننے والوں کی سوچ کی پرواز هی اتنی ہے که بنی اسرائیل کے رسولوں کے سوا کسی اور رسول کا علم هی نہیں ہے؟؟
ماہر عمرانیات چان نکیا (چانکیه)کے وجود کا کیا کریں گے ؟
یونانیوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کرنے والے جہلمی راجے پورس کا کیا کریں گے ؟
سکها شاهی ہی کہـ لیں رنجیت سنگھ کے دور کو کس خانے میں فٹ کریں گے ؟؟
اگر یه تاریخ اس طرح بهی شروع کی جائے تو کتنے سوال پیدا هوتے هیں یا یه کہہ لیں که ہمیں کچھ اس طرح کی تاریخ بتائی جارهی هے ـ
جس میں کتنے هی خلا هیں اور اگر ان خلاؤں کو پُر کرنے کی بات کی جائے تو ........ـ؟؟
میں جب بهی آپنے پاکستانی معاشرے پر غور کرتا هوں ، خاص کر حکومتی لوگوں کی عادات اور سوچ پر پر تو ! مجهے ایسا لگتا ہے ۔
کہ یہ ایک ایسا گهرانہ ہے جس کے سارے بڑے اچانک مر گئے ہوں ۔
اور بچوں کو حکومت دے دی گئی ہو ، بچے بھی ایسے کہ جن کو ناں تو ابهی معاملات که سمجھ تهی اور ناں ہی آپنے خاندان کی تاریخ کا علم ـ
اور آپنے خاندانی ہنر سے تو بلکل هی نابلد ـ
یه بچے کس بهی قسم کی معاشری اخلاقی اور تکنیکی تربیت سے بهی محروم رهے ـ
معاشری تربیت سے محروم ان لوگوں نے دوسروں کی بهونڈی نقالی سے جیسا معاشره بنانے کی کوشش کی وه آج کے پاکستان کی صورت میں آپ کے سامنے هے ـ
اخلاقی تربیت سے محروم ان لوگوں نے جس قسم کا اخلاق آپنایا وه بهی ہمارے سامنے هےـ
اور تکنیکی تربیت سے محرومی کی هی وجه هے که هم آج هم قوموں کی برادری میں مذاق بن کر ره گئے هیں ـ

جمعرات، 16 جون، 2016

پھکو جولاہ

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ
پھکو جولاہ کی یادوں میں سے
کہ
کراچی کے لئے عازم سفر تھی گاؤں کے کوئی پانچ چھ لڑکوں کی ٹولی ،۔
کراچی کے ساحل سمندر پر بھنے ہوئے چھولے بیچنے کے لئے ۔
ٹرین کا نام کچھ بھی ہو ایکسپریس یا کہ پسنجر ؟ پھکو جولاہ اینڈ ٹولی کا مقدر تو تھرڈ کلاس میں سفر کا ہی تھا ۔
روٹیاں اور پکوڑے  گھر سے ساتھ لے کر چلے تھے ، پانی کسی ناں کسی اسٹیشن سے مل جاتا تھا ،۔
پاک وطن کی دھول مٹی ، ان کے لئے مسئلہ ہی نہیں تھی کہ اسی مٹی کا جنم اور اسی میں مر کے جانا نصیب ٹھرا تھا ۔
گوجرانوالہ سے  خانیوال تک کے سفر کا تو کوئی حال نہیں ، اس کے بعد کہیں سے ایک جوان لڑکا ٹرین میں چڑھا ، اپنے ہم عمر اور ہم مرتبہ سے لوگ دیکھ کر وہ بھی پھکو  اینڈ ٹولی کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا ،۔
پھکو اینڈ ٹولی  پینڈو لہجے کی پنجابی میں گفتگو کرتے ہوئے لوگوں میں اس لڑکے نے جب دو چار الفاظ انگریزی کے  بولے تو جاجو مرزائی  کے منہ سے نکل گیا ۔
جی تسی کوئی تعلیم یافتہ بندے لگتے ہو ؟
وہ لڑکا کچھ اکڑ کر بیٹھ گیا ۔
ہاں جی !، بی ایس سی کر کے میں نے کیپٹنی کا کورس کیا ہوا ہے !۔۔
سب لوگ حیران ہو کر اس لڑکے کا منہ دیکھنے لگے کہ کچھ زیادہ ہی چھاڈو لگتا ہے ،۔
پھر بھی برداشت کرتے ہوئے بڑی ملائیمت سے  بھولا پوچھتا  ہے ۔
پائی جی تسی کون سے ضلعے کے ہو ؟
لڑکا جواب دیتا ہے ، شہر ساہیوال ، ضلع پنجاب ،۔
اب کیا کریں ضلع تو پنجاب ہی بنتا ہے ناں جی  شہر ساہیوال کا !،۔
ہیں جی ؟
پکھو جولاہ اینڈ ٹولی ایک دفعہ پھر اس لڑکے کا منہ دیکھتی رہ گئی ،۔
کسی نے سوال جڑ دیا ۔
جی تہاڈے ابا جی ،کام کیا کرتے ہیں ؟
لڑکا بڑی زہریلی مسکراہت ہونٹوں پر سجا کر کہتا ہے
کام کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟
میرے ابا جی پولیس میں ایس پی ہیں ،۔
دو چاچے فوج میں کرنل ہیں ۔
فیر تے جی آپ کی زمین بھی ہو گی ؟
زمین ؟ ہاں بہت ہے لیکن وہ سب مزارعوں پر چھوڑی ہوئی ہے ،۔
ٹھیکا آ جاتا ہے اللہ کا شکر ہے  بڑی موج لگی ہوئی ہے ،۔
پھکو اینڈ ٹولی منہ کھولے اس کی باتیں سن رہی تھی ، اس لڑکے نے بھی جب  دیکھا کہ سب لوگ خاصے متاثر ہو چکے ہیں تو ۔
کمال مہربانی سے پوچھتا ہے ۔
یارو ، میرے متعلق ہی پوچھے جا رہے ہو ، کوئی اپنی بھی بات سناؤ؟
کون  ہو ؟ کہاں کے ہو ؟ کہاں جا رہے ہو ۔
پھکو جولاھ اینڈ کمپنی نے پھکو کا منہ دیکھنا شروع کر دیا ،۔
جاجو مرازائی کہتا ہے ۔
یار پھکو ، تم ہی ان صاحب جی کو ہینڈل کرو ۔
پھکو جولاہ ، تھوڑا سا اس لڑکے کی طرف جھکا اور شرگوشیانہ انداز میں گویا ہوا
اب یار تم سے کیا پردہ ، لیکن یہ بات اپنے تک رکھنا ، بڑا ٹاپ سیکرٹ ہے ۔
یہ جو سارے لڑکے ہیں ناں ۔
یہ سارے میرے گاؤں کے کمیوں کے لڑکے ہیں ،۔
میں ان سب کو اپنے ساتھ لے کر نکلا ہوا ہوں ،۔
میرے اباجی نے میری ایک ذمہ داری لگائی ہوئی ہے اس لئے ۔
اس اجنبی لڑکے کے منہ سے نکلتا ہے
وہ کیا ؟
پھکو جولاہ سب کی طرف منہ کر کے پوچھتا ہے ۔
بتا دوں !۔
ساری ٹولی اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں سر ہلا کر پھکو کو ہلا شیری دیتی ہے کہ بتا دو!!۔
پھکو دوبارہ گویا ہوتا ہے ۔
اصل میں ناں یار ! یہ جو ٹرین ہے ، جس میں ہم سفر کر رہے ہیں ؟
یہ ٹرین میرے اباجی کی ملکیت ہے ،۔
بس ایک ہی ٹرین ہے ابا جی کی ملکیت باقی کے کام تو بس کچھ فیکٹریاں ہیں ہیں گوجرانوالہ میں ۔
اب بات یہ ہے کہ اباجی کو شک ہے کہ اس ٹرین کا کنڈیٹر اور ڈرائیور مل کر ٹکٹوں میں گھپلا کر رہے ہیں ،۔
ابا جی نے میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ ذرا ان پر نظر رکھوں ، دیکھ کر آؤں کہ ٹرین میں ہو کیا رہا ہے ،۔
ابھی بات یہیں تک پہنچی تھی کہ
اس اجنبی لڑکے کا منہ کھلے کھلا ہی رہ گیا ، کچھ لمحوں کے بعد کہتا ہے
یار تم تو بڑے چھاڈو ہو ، اتنی بڑی گپ
ہم نے تو کبھی نہیں سنا کہ ٹرین کسی کی ذاتی ملکیت ہو !،۔
یہاں پر جاجو مرزائی انٹری مارتا ہے
اور کہتا ہے ،۔
بڑے کم ظرف ہو یار؟
پچھلے تین گھنٹوں سے ہم سب تمہاری لمبی لمبی گپیں سن رہے ہیں ۔
ہم میں سے کسی نے تھے گپّی یا چھاڈو کہا ہے ؟
اور تم ہو کہ ہمارے پھکو کی ایک بھی برداشت نہیں کر سکے ۔
پھکو جولاہ کی ساری ٹولی قہقہے مار کر ہنسنے لگی ۔
بس پھکو ہی تھا جو سنجیدہ سا منہ بنائے اس لڑکے کا چہرہ دیکھا رہا
اور زبان بے زبانی میں پوچھ رہا تھا ۔
ہور سنا ، چناں ؟
جاجو مرزائی بتاتا ہے کہ اس کے بعد اس لڑکے نے ڈبہ چینج کر لیا تھا ۔

بدھ، 15 جون، 2016

برادر اسلامی ملک

جب افغانی لوگ  ! برادر اسلامی  ملک کہتے ہیں تو مجھے
پھکو جولاہ یاد آ جاتا ہے ،۔
جو کہ ان افغان لوگوں کے اسلامی بھائی چارے کااپنا مشاہدہ بتایا کرتا تھا ،۔
پھکو ، گوجرانوالہ سے ٹرین میں بیٹھ کر کراچی جایا کرتا تھا ، جہاں وہ ساحل سمندر پر بھنے ہوئے چنے بیچا کرتا تھا۔
جہاں ہمارے گاؤں کے کئی لڑکے یہی کام کرتے تھے ۔
کمائی خاصی معقول تھی ، ہر دوسرے مہینے کوئی نہ کوئی ٹولی گھر کا چکر لگانے آ جاتی تھی ۔
کراچی کی باتیں ہم نے ان سے ہی سن سن کر جانا کہ کراچی بڑا پر امن اور غریب نواز شہر ہوا کرتا تھا ۔
پھکو بتاتا ہے کہ جب ہم یہاں گوجرانوالہ سے ٹرین میں  چڑھتے تھے تو
پشاور سے ٹرین میں سوار، ساری سیٹوں پر پٹھان قابض ہوتے تھے ،۔
دو دو تین تین سیٹیں سنبھالے بیٹے ہیں ،۔
کسی پر چادر رکھی ہے اور کسی پر نسوار کی آئینہ لگی ڈبی ۔
کوئی صاحب استنجا کرنے والا لوٹا اور بکسا  کے لئے سینٹ منتخب کر چکے پیں ۔
جب ہم ان کو کہتے کہ کوئی سیٹ ہمیں بھی دیں تو ؟
تڑک کر جواب دیتے ۔
اوئے خوچہ ! ادھر ام بیٹھی اے ، یہ اماری سیٹ اے ۔
ام اتنی دور سے آتی ، چلو چلو مغز نہیں کاؤ۔
آیا بڑا سیٹ مانگنے والا۔
اور سرگوشی سی میں کہتے “دال خور” جو کہ ہم سن بھی لیتے کہ دال کھانے میں کیا برائی ہے؟۔
گوجرانوالہ سے کراچی تک کا سفر ان پٹھانوں کی وجہ سے سیٹوں کے ہوتے ہوئے بھی ، ذلیل ہو کر رہ جاتے ۔
سفر کی اس کوفت اور ذلالت سے بچنے کے لئے جب ہم واپس آتے تو؟
کراچی سے ہم  ، وقت سے پہلے ہی آ کر سیٹیں سنبھال لیتے تھے ،۔
پٹھان لوگ بعد میں آتے ، ہمین سیٹیں سنبھال کر بیٹھے دیکھ کر ، خوش اخلاقی سے انکی باچھیں کانوں تک کھلی ہوتی تھیں ۔
لہجے میں حلاوت ہوتی تھی کہ سن کر بھکاری بھی شرما جائیں ۔
بائی ساب ! توڑا ام کو بھی بیٹھنے دو ۔
لیکن ہم لوگ بھی تپے بیٹھے ہوتے تھے ، ہمارے ذہن میں گوجرانوالہ سے کراچی تک کی وہ بے عزتی اور کوفت ہوتی تھی
اس لئے ہم بھی انکار کر دیتے تھے ،۔
تو
پٹھان لوگوں کو اسلامی بھائی چارہ یاد آ جاتا تھا ۔
دیکھو جی ام سب مسلمان بھائی بھائی ہیں ، نبی پاک نے بھی روادری کا درس دیا ہے ۔
تے ماما ! جب وہاں گوجرانولہ سے کراچی تک ہم اپ لوگوں سے روادری کا تقاضا کرتے ہیں ،
تو کیا ہم کافر ہوتے ہیں ؟؟
یہ اپنا، افغانی اسلام  نسوار کی ڈبی میں واپس ڈال اور فرش پر بیٹھ کر ہمارے گوجرانوالہ اترنے تک صبر کر ۔
کہ اسلام صبر کی بھی تلقین کرتا ہے ۔

بدھ، 8 جون، 2016

بھوک کا ادب

بھوک کا ادب (عالم ادب یا کہ مقامی) پڑھ پڑھ کر  کئی نسلیں جوان ہوئیں اور مر کھپ گئیں  ۔
تھوڑے سے لوگ اب بھی موجود ہیں ۔
جو پیٹ کی بھوک کی بات کو  “ترس “  کے حصول کے لئے لکھتے ہیں ،۔
صاحب چار دن سے بھوکا ہوں !
دو دن سے کچھ کھانے کو نہیں ملا ، وغیرہ وغیرہ!۔
کھاد کی دریافت کے بعد عموماً اور  جنیاتی  موڈیفکیشن  والے چکن کے بعد خصوصاً ، اگر کوئی بھوکا ہے تو ؟
یاتو کام کی مصروفیت کی وجہ سے ہوگا یا پھر کاہلوں کا بادشاھ کہ اس انتظار میں ہو گا کہ کوئی اس کے منہ میں  نوالہ ڈال دے ۔
کھاد کی دریافت (بیسویں صدی کی چوتھی دہائی) کے بعد  معلوم انسانی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ انسان ، کھانے میں روٹیوں کی تعداد سے بے فکر ہوا ۔
کھاد کی دریافت کے بعد ستر کی دہائی میں جنیاتی موڈیافائی بیجوں کے تجربے کی وجہ سے افریقہ میں موزنبیق اور صومالیہ میں
قحط کی صورت حال پیدا ہوئی اور بڑی شدت سے پیدا ہوئی ۔
جس پر قابو پانے میں  دو دہائیاں صرف ہوئیں ۔
اور آئیندہ کے لئے معاملات کے اصول وضع کر لئے گئے ،۔
ورنہ جنگ زدہ علاقوں تک میں لوگ بھوک سے نہیں مرئے ۔
کھاد کی دریافت کے تقریباً  تیس سال بعد یعنی کہ ستر کی دہائی میں  پاکستان میں عام گھروں میں ہر فرد کو ایک روٹی یا کہ دو روٹیاں کی شرط ختم ہو چکی تھی ،۔ مشرقی پاکتسان کی شورش کی وجہ سے چند ماھ کے عرصے کو نکال کر  کہ ان دنوں  گندم کی بجائے لوگ مکئی یا باجرے کی روٹیاں کھانے پر مجبور ہو گئے تھے ،۔
بھول کا ادب پرانا ہوا
اب یہ بس کتابوں میں رہ گیا
تاکہ انے والی نسلیں پڑھ لیں کہ پرانے زمانے کے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل تھی اور انہوں نے انے والی نسلوں کے لئے کیا چھوڑا ۔
آج کا ادب ، بھوک کی بجائے “رج “ کا ہونا چاہئے ، “ لڑ “ (پنجابی کے لفظ لینج یعنی جس کی انکھ کی بھوک نہ مرے ،اس کے کھانا کھانے کے انداز کو لڑ مارنا کہتے ہیں ) مارنے کا ہونا چاہئے ،۔
بھرے پیٹ سے ہونے والی بیماریوں کی بات ہونی چاہئے ،۔
شوگر ، کولیسٹرول ،  بلڈ پریشر کی کہانیاں ہونی چاہئے ۔
ہاں اگر بھوک پر ہی لکھنا ہے تو ؟
پیسے کی بھوک پر لکھنا چاہئے ۔
اقتدار کی بھوک پر لکھنا چاہئے ۔
کہ ایک بھکاری نے دروازہ کھٹکٹایا
اور سوال کیا، کچھ کرنسی کا سوال ہے بابا  ، بٹوا پتلا ہو گیا ہے بابا !،۔
اقتدار کے بھکاریوں کے واشنگٹن کےوالی سرکار کے  در پر جانے کا احوال ہونا چاہئے ٹین ڈاؤنگ سٹریٹ کی برکات کا لکھنا چاہئے
کہ  کیسے ان درباروں سے خیرات ملتی ہے ۔
اور کیسے ان درباروں کے گدا بادشاھ بن جاتے ہیں ،۔
 

منگل، 7 جون، 2016

سجّی اور کھّبی



سجّی اور کھّبی ؟
پنجابی زبان میں ،۔
سجّے  ہاتھ (دائیں ) کی چپیڑ کو سجی اور کھبّے ہاتھ (بائیں) کی چپیڑ کو کھبّی کہتے ہیں ،۔
ویسے بکرے یا کہ پیڈو دنبے کی شولڈر کی بوٹی کو بھی کھبّی کہتے ہیں ،۔
اور بلوچ پکوانوں میں  ایک پکوان ہوتا ہے  سجّی !،۔
سنا ہے اج کل پاکستان میں لوگ سجیّاں اور  کھبّیاں کھا رہے ہیں ،۔
چپیڑیں بھی اور پکوان بھی  ،۔
میں نے یہ دونوں پکوان کبھی نہیں کھائے ،۔
کھبی غالباً شولڈر کی بوٹی کو سالم ہی کوئلے پر بھون کر کھانے کا نام ہے ، کھبّی  ؟
اور
سجّی؟
مجھے ایک بوڑھے بلوچ نے بتایا تھا کہ
سردیوں کی آمد سے پہلے ہم لوگ  دنبے ذبح کر کے ،اندر پیٹا نکال کر ان کو خشک ہونے کے لئے لٹکا دیا کرتے تھے  ،۔
ہلکے اندھیرے  میں اس گوشت پر ململ کا کپڑا ڈال دیتے تھے کہ مکھی یا اڑنے والے کیڑوں  کی مار سے محفوظ رہے ،۔
اصل میں مکھی کے انڈے گوشت میں کیڑے بن جاتے ہیں ناں اس لئے ۔
سخت سردی میں یہ گوشت خشک ہو جایا کرتا تھا ،۔
جسے ہم سٓجّی کہتے تھے ،۔
ساری سردیاں ، ہم اس میں سے گوشت کاٹ کاٹ کر پکایا کرتے تھے ،۔
تھوڑے سے گوشت میں بہت سا پانی ،جس کے نیچے آگ دھک رہی ہوتی تھی ،۔
سردیوں میں اس آگ کی حرارت ہوتی تھی اور سجّی کا سوپ اور بوٹیاں ہوتی تھیں ،۔
یقین کرنا خاور ! بوڑھا بلوچ بات جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے ۔
کہ سجی کا پکوان اتنا لذیذ ہوتا ہے کہ میں نے عربوں میں اور ایشا کے کئے ممالک کا سفر کیا ، طرح طرح کے کھانے کھائے
لیکن اس سجی کے ذائقے کو سب سے اعلی پایا ،۔
سنا ہے وہاں گوجرانوالہ میں بھی اب سجی کے پکوان مل جاتے ہیں ؟
کیا کبھی کھا کر دیکھا ہے ؟
نہیں میں نے کبھی نہیں کھایا ، میرے بتانے پر بوڑھا بلوچ گویا ہوا
سنا ہے وہاں گوجرانوالہ میں تو تازہ گوشت  کو ہی  پکا کر سجی کا الزام دے دیتے ہیں ؟

یقین کرو مجھے نہیں علم !،۔
کہ
مجھے خود گوجرانوالہ چھوڑے تیس سال ہو گئے ہیں ،۔
میں اور کیا جواب دیتا
کہ میرا تو وطن ہی چھن چکا ہے ۔
اب کیا سجّیاں اور کیا کھبّیاں ؟
وہ بوڑھا بلوچ بھی اسی کرب کا شکار تھا کہ
وہ بھی  یہیں میرے پاس بے وطن ہی تو بیٹھا ہوا تھا!!۔

سوموار، 6 جون، 2016

بندوقاں والے

گاؤں میں لڑائیاں ہوتی ہی رہتی تھیں ،ڈانگ سوٹے سے لوگ پھٹر بھی ہو جاتے تھے ،۔
زیادہ سیریس معاملہ ہوتا تھا تو  گنڈاسے اور  ٹوکے چھریاں خنجر بھی نکل آتے تھے ۔
زمانہ بدلا
وڈے چک میں  ایک ہی دن سات قتل ہوئے ، وہ بھی بندوق کی گولیوں سے ۔
سارے علاقے میں دہشت پھیل گئی ،
چکاں والے قتل اور قاتلوں کا نام دہشت کی علامت بن گیا ،۔
لڑائی کرنے والے خاندانوں نے بھی بندوقیں لینی شروع  کر دیں ،۔
کچھ لائیسنسی ، کچھ بے لائیسنسی!،۔
اب جب بھی گاؤں میں لڑائی ہوتی تھی تو  دونوں پارٹیاں ،گولیاں چلا چلا کر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتی تھیں ،۔
تجربہ کار لڑاکا خاندانوں  میں تو آپس میں تو کوئی قتل نہیں ہوا ۔
ناتجربہ کار  ماچھیوں نے ایک ہی  فائیر میں اپنے چاچے کو قتل کر کے بیٹھ گئے ،۔
یا پھر ایک دفعہ یہ ہوا کہ  لڑاکا فیملی کا ایک لڑکا ساتھ  کے گاؤں والوں کی گولی سے مارا گیا ،۔
اسلحے کی دوڑ چل نکلی
کمہاروں نے ، جولاہوں نے ، مستریوں نے سبھی نے ، کسی نے ایک کسی نے دو چار بندوقیں خرید کر گھر میں رکھ لی۔
کہ بندوق گھر میں ہونے سے زرا وجھکا سا رہتا ہے
کوئی کتا بلا منہ اٹھا کر  گھر میں گھسا نہیں چلا آتا ۔
گھالو  مومن کے گھر میں سعودیہ سے ریال آتے تھے ،
انہوں نے بھی بندوق خرید لی ، سعودی کی کمائی تھی اس لئے بندوق بھی جدید ترین لی کہ  اڑوس پڑوس میں ایسی بندوق کسی کے پاس نہیں تھی ،۔
اب کھالو لوگوں کا خیال تھا کہ لوگ ان سے دبک کر بات  کریں گے ،۔
اسی خام خیالی میں  کھالو ، ایک دن ہیرے موٹے سے منہ ماری کر بیٹھا ۔
ہیرے نے جب دو چپتیں لگائیں تو ؟
روتا ہوا گھر گیا کہ میں ابھی بندوق لے کر آتا ہوں ،۔
بندوق لے کر کھالو گلی سے نکلتا ہے ، اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کی بندوق کی دہشت سے   ہیرا بھاگ چکا ہو گا ۔
کھالو کو یہ علم نہیں تھا کہ صرف بندق کی دہشت سے دشمن نہیں بھاگتا ، بندے کی کوئی اپنی بھی کوالٹی ہونی چاہئے ۔
بس جیسے ہی کھالو  گلی سے نکلتا ہے ہیرا بڑھ کر اس سے بندوق چھین لیتا ہے ۔
اور دو چمپتیں مذید لگا کر کھالو کو بھاگ جانے کا کہتا ہے
کھالو بڑی شرافت سے گھر چلا جاتا ہے کہ اب بندوق ہیرے کے ھاتھ میں تھی اور کہیں یہ نہ ہو کہ ہیرا اسے چلا ہی دے ،۔
بندوق ! محفوظ  ہاتھوں میں پہنچ چکی تھی  ۔
ہیرا موٹا کہتا پھرتا تھا
لوگ سمجھتے ہیں کہ ایٹمی پاور بنتے ہی سارا گاؤں ہم سے ڈرنے لگے گا ، اب ورزش ، ڈسپلن یا کہ دوسری مشقتیں کرنے کی ضروت نہیں ہے ۔
میں نے ان کا ایٹم بم ہی چھین لیا ہے
ہاہاہاہا،۔
وڈے آئے ، بندوقاں والے !!،۔
 

اتوار، 5 جون، 2016

مولا خوش رکھے

آپ کے اردو گرد  ،ضرور ایسے گھر ہوں گے جہاں ہر وقت لڑائی  جھگڑا چلتا ہو گا۔
ہو سکتا ہے کہ اپ کا ہی گھر ہو جہاں سے پڑوسیوں کو  ہر وقت کسی ناں کسی بات پر تکرار کی آوازیں سنائی دیتی ہوں ،۔
ایسے گھروں  کے افراد کے کپڑے میلے ، جوتے ٹوٹے ہوئے یا کہ ننگے پیر پھرتے ہوئے، چہروں پر دھول اڑتی ہوئی  دانت کیڑا لگے ہوئے نظر آتے ہیں ۔
ایسے  گھروں کے  کاروبار  مندی کا شکار ، اجڑی اجڑی سی دوکانیں ، مریل سے باربرداری کے جانور
ہر وقت خراب مشینیں ،۔
اور اگر ان کو کوئی سمجھانے کی کوشش کرئے تو لڑائی اس کے سر آ جاتی ہے ۔
شکوہ شروع ہو جاتا ہے برادری نے ساتھ نہیں دیا ، برادری کے لوگ برے ہیں ، ان سے کوئی تعاون نہیں کرتا ، ۔
دوسری طرف
وہ گھر جہان  سے کبھی آپ کو جھگڑے کی آواز  سنائی نہیں دے گی ، سارے افراد اپنے اپنے کام پر  مطعمن ، چہروں پر مسکراہٹ ، صاف ستھرے کپڑے ، بہترین سی سواری اگرچہ کہ سائکل ہی کیوں نہ ہو ، اگر ایک گدھا بھی ہو گا تو صحت مند اور کھلا کھلا سا ۔
ایسے گھروں کے ساتھ مسائل بھی کم ہو ں گے ۔
محلے گاؤں میں لوگ عزت بھی کرتے ہوں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ تو گئے ہوں گے آپ لوگ ؟
پھڑ لو مائک ، سنبھال لو، کی بورڈ  ، چڑھ دوڑو مخالف فرقے پر !،۔
رمضان کے چاند کا معاملہ ہے ، اس کے بعد عید کے چاند کا معاملہ ہو گا ۔
مولا خوش رکھے ۔ بڑا زرخیز ماحول ہے ۔
لڑائی کے لئے خام مال وافر ہے ۔
چاندوں کے بعد  ، عدت ، بدعت کے معاملات ،  شرعی ، شر اور شرارت کے معاملات ، ہنود یہود کی سازشوں کے معمالات ۔
اگر کچھ کمی رہ جائے تو  ؟
سمجھ تے گئے ہو گے تسی ؟
جیّد علماء ہیں ناں جی !!،۔
اور اگر کبھی
کوئی آئینہ دیکھا دے
کہ پڑوسی ترقی کرتے جا رہے ہیں تو؟
ان کافروں کے لئے صرف اس دنیا کا حصہ ہے
ان کے لئے آخرت میں کوئی اجر نہیں ہے ۔
مولا خوش رکھے ، تسی بڑے گریٹ لوگ او !!!۔