جمعرات، 1 دسمبر، 2016

اک ہور ، سانوں کی !۔

یہاں ایک چیز کی وضاحت کہ مختلف اقوام کی اپنی اپنی تاریخ سے کچھ وراء ہو کر سوچیں انسانی معاشرھ
جس میں ہم سب رہ رہے ہیں ،
مختلف اقوام پر عروج آیا !!ـ
اس عروج سے پہلے کی جو باتیں جن باتوں کی تاریخ کم ہی لکھی ہوتی ہے ، وہ وہی ہوتی ہیں،۔
کمزور پیدائش بتدریج جوانی تعلیم ، طاقت پکڑنا وغیرہ وغیرہ۔
دنیا پر چھا گئیں ، بہادری کی ایک تاریخ چھوڑ کر انے والی نسلوں کی کم عقلی کو سہارا دینے والی شنہری تاریخ لکھوا گئیں ،۔

اور پھر بتدریج کمزور ہوتی ہوئیں اپنے انت کو پہنچیں ـ
لیکن اج
 ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ سائینس کی ترقی ہے ۔
کہ ہوتی ہی چلی جا رہی ہے !!۔
میرے ہم عمر اور مجھ سے بڑے جو لوگ زندھ ہیں وہ جانتے ہیں کہ
ابھی ہمارے پجپن ميں جن چیزوں کا تصور بھی محال تھا ، آج وھ جادو بھری ایجادات ہمارے استعمال میں ہیں ۔
یعنی که سائینس
 جو که ہمارے پجپن تک ایک کمزور سی چیز تھی
آج اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اپنی جوانی کی طرف مائیل ہے ۔

اور اس صدی کا ہر جوان اس یقین کا کا شکار ہے کہ
یہ ایجادات کا رواج ،  مسلسل زور ہی پکڑتا چلا جائے گا
اس پر کبھی کمزوری نہیں آئے گی ۔
ہر زمانے کا جوان اپنی جوانی میں یہی گمان کرتا ہے
کہ

وہ اپنے دادے کی طرح بوڑھا نہیں ہو گا
اور اگر ہوا بھی تو؟
اس
 ہونے میں ابھی صدیاں بڑی ہیں ۔
حالانکہ اپنا،  دادااپنے سامنے ہوتا ہے ۔
جو کہ خود تیس سال پہلے کڑیل جوان تھا،۔

لیکن سائنس کی جوانی ہے کہ اس کے سامنے کوئی دادا یا بابا نهیں ہے ۔

اس کے سامنے اس جیسی کوئی مثال نهیں ہے۔
کہ زمانے نے کبھی سائنس کی ترقی کی جوانی ہی نہیں دیکھی تو اس کے کے بڑھاپے کا تو تصور ہی محال ہے ،۔
 لیکن کائنات کے افاقی اصول میں
ہر اوج کو زوال ہے ۔
اور یہ اصول اٹل ہے !!،۔
تو
 میں بھی یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہوں کہ کب
اور کون سے وقت کو؟ کس نقطہ کو انتہا کہوں
کہ
نقطہ انتہاء ہی نقطہ انحطاط ہوا کرتا ہے ۔
 اس سائینس کی جوانی کا زمانہ کس زمانے کو  کہیں گے؟؟
کون سا وہ نقطہ ہو گا کہ جہاں سے اس کی ڈھلوان شروع ہو گی ؟
که جہاں سے یہ کمزور ہوتی هوئی بتدریج اپنے انت کو پہنچے گی؟؟
ہاں جی ایک بات اور بھی تو ہے!ـ
حادثاتی موت!!!!ـ
بھری جوانی میں قتل ، حادثہ ، یا کچھ اور ؟
اور یه کچھ اور، کسی درخت کے ساتھ ہو کہ کسی چرند یا پرند کے ساتھ!،۔
 یا کسی پہاڑ کے ساتھ کہ دریا کے ساتھ یا کسی انسان کے ساتھ هو کہ سلیمان تاثیر کے ساتھ !!!ـ
یه کچھ اور تو نهیں ہونے والا اس سائینس کے ساتھ
کوئی ایٹمی جنگ ؟؟
یا وباء یا
کچھ اور ؟
اس ایٹمی جنک سے یاد ایا که هماری پیاری اور نسلی ایلیٹ نے امریکہ کو یہ باور کرایا ہوا ہے کہ ہمارے مولویوں کو ایٹم بم چلانے کا بڑا شوق ہے
اور پاكستان کے جوانوں کا یه حال ہے کہ
وہ چاہتے ہیں که دو تین مزائیل نیفے میں اڑس کر چلیں، اور جیب میں دو تین دانے ایٹم بموں کے بھی پڑے هوئے هوں
لیکن جی اکر سائینس کےساتھ کوئی اور حادثہ نهیں ہوجاتا اور کائینات کے افاقی قانون کے مطابق بتدریج کمزور ہوتی چلی جاتی هے تو ایسا کیسے هو گا
اور پھر اس کے بعد کے انسانوں کے کیا حالات زندگی ہوں کے ؟
اور وہ کیا سوچ کر ان سب سائینسی چیزوں کے استعمال کے فائدے پر صبر کرلیں گے؟؟؟
میرے خیال ميں وہ پاکستانی سوچ کے مالک بن جائیں گے
اور ہر چیز کے نقصان پر کندہے اچکا کر کہا کریں گے
سانوں کی!!!!ـ

جمعرات، 24 نومبر، 2016

کوّی اور کلپنا

میاں محمد بخش صاحب کی پنجابی شاعری سے مجھے بچپن سے یہ کچھ شعر یاد ہیں ،۔
زبان ، آسان پنجابی ہے ، مجھے امید ہے کہ اپ کو بغیر ترجمعہ لکھے سمجھ لگے گی
ورنہ اس کے بعد کی میری کلپنا سے تو مجھ لگ ہی جائے گی

کرماں باجھ پیاریا گل کوئی ناں

پاویں سر تے لالاں دی پنڈ ہوئے

جائے بازار تے نکل سب کھوٹے

پاویں مگر دلالاں دی ڈنڈ ہوئے ۔

بیجے کنک تے اگ باغاٹ پیندا

پاویں خاص نیائی دی ونڈ ہوئے

پراوں باجھ پیاریا جیون کوئی ناں

پاویں مگر قبیلے دی ترنڈ ہوئے ،۔

نومبر کا مہینہ چل رہا ہے ۔
امریکہ میں نئے صدر اور پاکستان میں نئے سپہ سالار کی  تبدیلی کا وقت ہے ۔
پاکستان میں ایک آفواھ اڑی ہوئی ہے کہ
آنے والا چیف آف آرمی سٹاف  کوئی قادیانی ہے ۔
عام عوام کا ایمان بھرسٹ ہونے کو ہے ،۔
اسلام خطرے میں پڑا نظر آتا ہے
اللہ خیر کرئے !!،۔
پاکستان میں ہم نے سرمے والی سرکار جناب جرنل زیاں صاحب کی قیادت میں اسلام کاشت کیا تھا ،۔
جرنل صاحب والا اسلام بھٹو صاحب نے قادیانیوں والا نقلی اسلام علیحدہ کر کے خالص اسلام بنا
کر دے دیا تھا،۔
یہ ختم نبوت والا اسلام ، مودودی صاحب کی تفہیم القران کی کھاد سے پاکستان میں بو دیا گیا تھا،۔
لیکن ہوا یہ کہ

بیجے کنک تے اگ باغاٹ پیندا

پاویں خاص نیائی دی ونڈ ہوئے

بوئی تو گندم تھی لیکن اس میں مسالک ، فرقوں اور نظریات کا باغاٹ اس کثرت سے اگا کہ
خدا کی پناھ
اس پر جو پھل آیا اس سے لشکر ، جیش ، جتھے اگ  کر سرخ انقلاب کی راھ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہو گئے ،۔
سفید ریچھ ، زخموں سے چور ، دریائے آمور کے اس پار جا کر زخموں کو چاٹنے لگا تو؟
تفہیم القران کی کھاد سے اگا ہوا اسلام !۔
خدا کی آنکھ بن کر معاشرے کی برائیوں کو چن چن کر قتل کرنے لگا،۔
اپنے گھر میں قتل ، پڑوسیوں کے گھر میں قتل ، کافر کافر شیعہ کافر ، کافر کافر سنی کافر ، کافر کافر یہ بھی کافر وہ بھی کافر
قادیانی تو پکے کافر !!،۔
اب جو بھی ہو سو ہو
اگر قادیانی چیف آ جاتا ہے تو ؟
اے ایمان والو یقین رکھو ، اس سے اسلام کو ئی خطرہ نہیں ہے ،۔
اسلام کوئی غریب کو جورو نہیں ہے جو چوراہے میں لٹ جائے گی ،۔
قادیانی چیف کے انے سے خطرہ ہے تو ان جڑی بوٹیوں کو ، جن کی جڑہیں  جی ایچ کیو کے گملوں میں لگی ہیں ۔
ہم پینڈو دیہاتیوں کو علم ہے کہ جب جھاڑ جھنگار پڑھ جائے تو درختوں کو کھیتوں کو کھالوں اور نالیوں کو اس جھاڑ جھنگاڑ سے صاف کرنا ہی پڑتا ہے ،۔
اللہ کرئے کہ کوئی ایسا آئے جو اس جھاڑ جھنگار کو صاف کر کے دے !،۔
وہ چاہے
قادیانی ہو کہ کافر ،!،۔
بس بندہ ہونا پاکستانی چاہئے،۔

منگل، 8 نومبر، 2016

سموگ ، وجوہات اور علاج

لاہور میں  سموگ نامی جو دھند پھیلی ہوئی ہے ؟
یہ کیا ہے ؟
یہ گاڑیوں کے انجن سے نکلنے والا دھواں اور گیسیں ہیں ،۔ فیکٹریوں ، ملوں اور بھٹوں کی چمنیوں سے نکلنے والی گیسیں ہیں ، جو زہر سے بھری ہوئی ہیں ،  ان سے طرح طرح کی بیماریاں انسانی جسموں میں سرایت کر جائیں گی ،۔
اور یہ ماحول کوئی ایک دن میں نہیں بنا ہے ،۔
یہ صنعتی  فضلہ ہے ۔
یہ زہر ہیں جو فضا میں رچ چکے ہیں ،۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  وہ ممالک جو ہم سے زیادہ ملیں ، گاڑیاں اور چمنیوں والی ملیں رکھتے ہیں ان میں یہ مسئلہ کیوں نہیں ہے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ
دھویں کے علاج کے لئے انیس اٹھتر میں امریکہ میں ایک قانون بنا تھا کہ ہر گاڑی کے سائلنسر میں ایک ڈبہ نما پرزہ لگایا جائے گا ،۔
اس سال کے بعد بننے والی ہر گاڑی میں یہ ڈبہ لگا ہوا ہے
جو پہلے پہل المونیم کی گولیوں سے بھرا ہوا یک ڈبہ ہوا کرتا تھا
اس کے بعد سرامک کا سوراخ دار برتن بنا  جو کہ اب بھی چل رہا ہے اور کچھ کمپنیاں میٹل یعنی لوہے کی جالی سے بھی بنا رہی ہیں ،۔
گاڑیوں کے سائلنسر میں لگا ہوئے اس ڈبے کا کیا فنکشن ہے ؟
پاکستان میں کوئی ایک بھی مکینک نہیں جانتاہو گا ۔
پاکستان میں اس تکینک کا کسی کو علم ہی نہیں ،۔
بلکہ مکینک لوگ اس ڈبے کو نکال کر باہر پھینک دیتے ہیں ،۔ حالانکہ اس ڈبے میں کوئی تین ہزار سے دس ہزار روپے کا سونا نکلتا ہے ،۔
اج میں جاپان اور دیگر مہذب دنیا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ڈبہ ہر کارخانے کی چمنی میں لگا ہوا ہے م،۔۔
دوئیں کے زہر کو صاف کرنے کے اس انتظام کو
انگریزی میں
catalytic converter کہتے ہیں
اور جاپانی میں شوکوبائی ، اردو میں اس کو نام دیا گیا ہے ، آلہ ردعمل یا آگ پریرک،۔
یہ آلہ پلاٹنم ، پلوڈیم اور دوڈیم نامی قیمتی دھاتوں سے فضا میں ہونے والے کیمیائی عمل سے گیسوں کے زہریلے خواص ختم کر دیتا ہے ،۔
پاکستان میں اس تکنیک کی تعلیم کی ضروت ہے
اور اس تکنیک کو اپنانے کی ضروت ہے
ورنہ ہماری آنے والی نسلیں اپاہج اور مفلوج ہوں گی
اور یہ سارا جرم
ہم پر آئے گا
یعنی اس نسل پر جو اج فضا کو گندا کر رہی ہے ،۔
اس زہر بھری فضا سے
کوئی ایک ڈیڑھ کروڑ لوگ سینے کے کنسر سے مریں گے ،۔
دس کروڑ بیماریوں میں مبتلا ہوکر کرب سے گزریں گے
جب بات ارباب اقتدار کے بچوں کی موت تک پہنچے گی ؟
تو
پہلے اس کا الزام سگریٹ پر لگایا جائے گا
بھر کسی سخی داتا ملک سے مدد کی بھیک مانگی جائے گی
شاید کوئی سخی ملک پاک لوگون کو شوکوبائی کی افادیت کی تعلیم دے گا
اور پھر جو کمیشن دے گا اس ملک کی امداد لے کر کارخانے داروں اور بھٹہ مالکان کی " بغل " میں ڈنڈا دے کر پیسے نکلوائے جائیں گے ۔
ٹریفک پولیس کا سائلنسر کے دھوئیں کے نام پر جگا ٹیکس چلے گا ،۔
ہم تم فارن میں بیٹھ کر فلسفے بکھاریں گے
کہ
ہم تو پہلے ہی کہتے تھے ۔

وقت کرتا ہے پروریش برسوں
حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے
“””””””””””””””
اردو کے انسائکلوپیڈیا پر اس تکنیک کی کچھ تفصیل
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D9%84%DB%81_%D8%B1%D8%AF%D8%B9%D9%85%D9%84_%D8%8C_%D8%B4%D9%88%DA%A9%D9%88_%D8%A8%D8%A7%D8%A6%DB%8C

منگل، 25 اکتوبر، 2016

ستمبر 2016ء فیس بک پر لکھے خاور کھوکھر کے اسٹیٹس ،۔

پاکستانیوں !،۔
چولاں نہ مارو ، میں تہاڈا ماما ضرور لگنا واں ۔
پر میں رب دے کمپیوٹر کا مانیٹر نئیں جے  ،۔
“” چندا ماموں “”
******************
میری قوم کی جہالت کو سب سے بڑا خطرہ کتابوں سے ہے ،۔
ملکی سلامتی اور حفاظت کے ذمہ داروں نے  بڑی کوشش کر کے قوم کو کتابوں کے کلچر سے بچایا ہوا ہے ،۔
کتابوں سے دور رہیں ، جہالت کی حفاظت کریں  اور آگہی کے عذاب میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں  ،۔
“” گاما پی ایچ ڈی “”
*******************
مینوں میری دادی دسیا سی
کہ
چن دے وچ اک بڈھی مائی چرخا داہے بیٹھی اے
تے چرخا وی پٗٹھا اے ۔
تے جاپانیاں نوں اینہاں دیاں دادیاں نے دسیا ہویا اے کہ
چن وچ اک  سیاھ (خرگوش) پچھلیاں لتاں تے کھلوتا اے  ،ْ۔
ایس طرحاں ای سب قوماں دیاں دادیاں  کجھ ناں کجھ دسدیاں نئیں
اک نویکلی قوم اے پاکستانی
ایس قوم دے پتر دسدے نئیں کہ چن  ، رب دے کمیوٹر دا مانیٹر بن گیا اے تے نویاں نویاں چیزاں  وکھان لگ پیاء اے ۔
اللہ دی شان اے جی
تے
عقل دے طوفان نے جی  ،۔
جیہڑے ایس قوم دے دماغاں وچ اٹھدے نیں ،۔
***********************


تھائی لینڈ کے بادشاھ  بھومی بول ادویادیج فوت ہو گئے  ہیں ،۔
تھائی لینڈ “ آزاد لوگوں کی سرزمین “ ، کے بادشاھ کو ان کی قوم کے لوگ خدا کی طرح پوجتے تھے ،۔
کون ہے جو تھائی گیا ہو اور اس نے بادشاھ کی فوٹو نہ دیکھی ہو ؟
بادشاھ  بھومی بول ادویادیج ایک گریٹ انسان تھے ،۔
ہو سکتا ہے  ، بادشاھ  بھومی بول ادویادیج کی موت کی خبر اپ کو میڈیا میں نہ ملے
لیکن یہ بادشاھ  بھومی بول ادویادیج تاریخ میں سب لمبا عرصہ بادشاھ رہے ۔
خدا انہیں غریق رحمت کرئے  کہ بادشاھ  بھومی بول ادویادیج  صاحب اپنی قوم کے لئے بہت ہی مخلص تھے ،۔

*******************
ہم تاریخ کے اس دور سے گزر رہے ہیں ۔
کہ
پچھلے ایک ہزار سال کی ہند کی تاریخ پر نظر رکھنے والا  بندہ چرخ گردوں کے پھیر پر حیران رہ جائے ،۔
چرخ گردوں کہ جس پر ایران کے بادشاھ خسرو  نے تفع بھیجا تھا ،۔
پچھلے ایک ہزار سال سے افغان لوگ جہاد کے نام پر ہند کو اسلام سیکھانے آتے رہے ہیں ،۔
ہند کے راجپوت  اس جہاد کے راستے میں سب سے بڑی روکاٹ رہے ہیں ،۔
ہند کا راجپوت ، اب جہاد سیکھ چکا ہے ، اور پچھلے تیس سال سے افغانوں کو جہاد سیکھا سیکھا کر  کبھی روس کے خلاف کبھی اپس میں جہاد کے لئے تعلیم دے رہا ہے ،۔
جہاد واپس پلٹ رہا ہے ، راجپوت  بہادر تو پہلے ہی تھا ، اب سیانا بھی ہو چکا ہے ،۔
***************************

یار ،گامیا! کیا وجہ ہےکہ اسلام ایک بہترین مذہب ہونے کے ،صدیوں سے اپنے نشاط ثانیہ تک نہیں پہنچ پا  رہا ؟؟؟
گاما : بس یار ،تو اتنا سمجھ لے کہ اسلام تو کبھی کا نشاط ثانیہ پار چکا ہوتا ، بس یہ مولوی ہیں جو روکاوٹ بنے ہوئے ہیں م،۔
***********************
میں تمہیں علم کیمیا کا وہ عظیم راز بتا ہی دیتا ہوں
جس سے تم سونا بنانے کے قابل ہو جاؤ گے ،۔
بس ایک چیز کا خیال رکھنا ہے
کہ
سونا بنانے کے اس عمل کے دوران
تمہارے ذہن میں باندر کا خیال نہیں آنا چاہئے ،م۔
اچھا ! تو اب غور سے سنو!۔
۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
آپ کا دماغ ابھی تک باندر میں اٹکا ہوا ہوگا ؟
***************************

سیاست ؟ مہذب ممالک میں ،
سوشل ورکر کی اعلی ترین قسم کے انسان کو سیاستدان کہتے ہیں ۔
جو اپنی معاشرت اور ملک کو سدھار کی راہ پر رواں رکھنے کے لئے ،آئین کے دائیرے میں رہتے ہوئے ،اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اسی کام میں جتے رہتے ہیں م،۔
لیکن
پاکستان میں ؟
سیاست ؟ فوج کے لے پالکوں کے درمیان کھینچا تانی کا نام ہے ، جن کی آدھی صلاحیتیں “ محلاتی سازشوں” میں ہی ضایع ہوتی رہتی ہیں ،۔
اور باقی کی آدھی ؟ مال اکٹھا کرنے میں ،۔

*********************
گوجرانوالہ کی کسی فیکٹری میں دو کاریگر  باتیں کر رہے تھے ۔
جیدا سائیں کہتا ہے
میرے بچے جوان کیا ہوئے ہیں میری تو سنتے ہی نہیں ہیں ،۔
میں تو گھر میں کتا بن کے رہ گیا ہوں
تم سناؤ ، تمہارے گھر والے کیسے ہیں ؟
بٹ صاحب گویا ہوتے ہیں ،
میرے گھر والے مجھے خدا کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں ۔
میں تو اپنے گھر کا خدا ہوں خدا ، میرے گھر والے مجھے پکارتے ہی تب ہیں
جب ان کو  اپنی کسی خواہش کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،۔
حاصل مطالعہ
بس جی گھر میں سب کا ایک ہی حال ہے ۔
تحریر : خاور کھوکھر
**********************
عمران کے متوالے   یہ سمجھتے ہیں کہ
عمران کے وزیر اعظم بنتے ہی  پاکستان ، پری ستان بن جائے گا ،۔
PAKISTAN
میں سے  K کو  اڑا کر  R کر دیں گے ۔ْ
نیو PAKISTAN ہو گا  
اصلی PARISTAN  ۔
ایسے  K !!۔
**********************

اسی کی دہائی میں ،اپنی عمر کی دوسری دہائی کے پہلے سالوں میں ، جاپان پہنچے لوگوں کو تو موت ہی یاد نہیں تھی
کیونکہ نہ تو ان کا کوئی دوست مرتا تھا اور نہ ہی ان کو کسی جاپانی کی موت کا علم ہوتا تھا ،۔
اب جب کہ زیادہ تر اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں ہیں تو ؟
یہی سننے کو ملے گا
وہ بھی گیا اور وہ بھی گیا ، اس بات کا کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ اگلی باری " میری " بھی ہو سکتی ہے ،۔
مشقت کو نیچ جان کر تن اسانی کی تلاش میں نکلے لوگون کو جاپان کی معیشت نے تن اسانی میسر کر دی ۔ْ
انکھون کی بھوک کو حلال فوڈ کے سستے ترین ایمورٹڈ گوشت نے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ نکل سکی انکھون کی بھوک
کہ
جس کی انکھوں میں بھوک بس جائے اس کو  پنجابی میں لینج کہتے ہیں ۔
اور لینج لوگ جب کھانا کھاتے ہیں تو معیار نہیں مقدار دیکھتے ہیں ،۔
اس کو کہتے ہیں “ لڑ مارنا”۔
بہت کم لوگوں اس بات کا ادراک تھا کہ کائینات کے ازلی اصولوں میں مشقت ہی تن درستی کی قیمت ہے ۔
اور دین ابراہیمی میں جو سات جرم بتائے گئے تھے ،۔،
چوری ، زنا، لوبھ ، کرود ، جھوٹ ، وعدہ خلافی ،
ان میں ساتوں جرم تھا بسیار خوری
یعنی “ لڑ مارنا” ،۔
اکثریت کو ادارک نہیں تھا اور جن کو ادارک تھا ،؟
وہ اپنی دنیا میں مگن رہے ، کیونکہ جاپان کے معاشرے میں پناھ گزین پاکستانیوں کی اکثریت  دوسروں کو اس کی مالی حالت کے تناسب سے عزت دیتی تھی م،۔
بسیار خوری اور تن اسانی کی سزا ہے کہ جاپان ، جس ملک میں مقامی لوگوں کی عمر کی اوسط 96 سال ہے ،۔
یہاں پاکستانی  اپنی پچھلی دھرتی  کے لوگوں والی اوسط عمر 53 سال میں ہی دنیا سے کوچ کئے چلے جاتے ہیں م،۔
پنجابی ادب سے ایک شعر
شکر دوپہرے ، میرا ڈھل چلیا پرچھاواں
قبراں اڈیکدیاں ، جیویں پتراں نوں ماواں
(شیو کمار بٹالوی)
***********************************

جاپان میں پولیس نے پوکے مون ڈویلپروں کو طلب کر لیا ،۔
نیٹ سورسز کازو :  ٹوکیو کے مشہور پارک اودائیوا میں پولیس نے پوکے مون بانے والی کمپنی کے ڈویلپروں کو اس وقت طلب کر لیا
جب یہاں پارک میں سینکڑوں  لوگوں کے جمع ہونے سے نقص امن کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا ،۔
ٹوکیو کے ساحل سمندر پر واقع اودائیوا پارک دنیا بھر میں نایاب پوکے مون کا شکار ملنے کے لئے مشہور  گیم پوائینٹ ہے م،۔
منگل کے روز سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ کے اکٹھے ہو جانے پر پولیس کو کئی فون کا ملیں ، جس کی وجہ سے پولیس کا عملہ جب پارک میں پہنچا تو انہون نے دیکھا  کہ موبائیل فونون پر پوکے مونز کے شکاری اتنے مگن ہیں کہ ان کو ٹریفک کے خلل اور پیدل چلنے والوں کی مشکل کا بھی احساس نہیں ہے ،۔
تو پولیس نے پوکے مون کے ڈویلپروں کو بھی وہاں طلب کر لیا
تاکہ ان کو بتایا جا سکے کہ موقع واردات میں گیم سے کس قسم کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں ،م۔
بعد میں پوکے مون کے ترجمان نے جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے  پر آ کر پوکے مون شکاریون کے لئے پیغام دیا کہصاف لوگ اپنے روئے کو اس طرح کا رکھیں کہ دوسروں کو دقت پیش نہ آئے اور اپنی حفاظت سے غافل نہ ہوں ،۔

**************
اوری میں حملہ کر کے “انہوں “ نے ہمارے بندہ مار دئے ہیں ۔
پم نے بھی ٹوئیٹر پر  #اروی-اٹیک کے ہیش ٹیگ کے ساتھ  دشمن کی نیندیں اڑا دی ہیں م،۔
ویلکم ٹو انڈیا !،۔
فار ایکشن ؟ ووئی واچ موویز!!،۔

************************
حالیہ پاک بھارت ٹینشن کے تناظر میں
یہاں بمبئی میں ایک اعلی سطح کا اجلاس ہوا ہے ،
جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان  میں اندر جا کر مار کرنے کے لئے ایک کمانڈو گروپ ترتیب دیا جائے جو کہ پاکستان میں موجود سارے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباھ کر دے گا ،۔ اخر میں پاکستان کے ایٹمی  پلانٹ کو تباھ کر کے ، نواش شریف اور راحیش شریف کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔
اس فلم کا نام رکھا جائے گا “  مہا یدھ “ !!،۔
*************************

تھوڑا ہس وی لو
بڑی سوہنی  تے وڈی ساری پراڈو دے کول کھلوتا ہویا سی ،۔
شو مارن لئی او ، کونی   چک کے ہتھ لمبا کر کے پراڈو دی چابی کن وچ پھیردا سی پیا ،۔
مائع لگے کپڑے سن تے کچھ وچ آیا ہوا مڑکا (پسینہ) وی دِس دا سی پیا ،۔
ویگن بدلن لئی اڈے تے اتریا ، اگلیاں پنڈاں وچوں کسے پنڈ دے اک مسافر نے اینہوں کن وچ چابی پھیردیاں ویکھیا تے
آکھن لگا
پاء جی ! تہاڈا دماغ دھکا سٹارٹ لغدا اے  ، چابی نال سٹارٹ نئیں جے ہونا،۔
پراڈو والا غصہ کر گیا مسافر نوں گالاں کڈن لگ پیا
نالے اکھدا اے
اوئے تینوں پتہ ہے میں ہے کون  آں ؟؟
مسافر نے معافی منگ کے جان چھڑائی  تے کول تماشا دیکھدے ، گامے نوں پچھدا اے ۔
اے صاحب ہیں کون جی تے اینہاں دا ناں کی اے؟
گاما اینہون دسدا اے
امریکہ والے وڈے پراھ نے اینہوں پراڈو لے دتی ہے تے
اے آپی ہے کی شے وے ؟ ایس دا اینہوں آپی وی نئیں پتہ  کہ اے ہے کون !،۔
مسافر چونک کے پچھدا اے
اے کی گل ہوئی جی ؟؟؟
اوے پائیا  ایس دی ماں ایس دے پیو نوں کتا آکھدی اے تے
ایس دا پیو ایدھی ماں نوں بلی آکھدا اے
ایس لئی اس نوں اجے آپی وی پتہ نئیں کہ اے
کتورا اے کی بلونگا!!،۔

ہفتہ، 24 ستمبر، 2016

گرم پانیوں کی جنگ کی حقیقت


میرے خیال میں سوشل میڈیا پر پاک جاپان روس تعلقات کے بہتری کی طرف رواں ہونے کوئی ایک سال پہلے لکھا تھا ،۔
اور یہ بھی لکھا تھا کہ عام عوام تک یہ معلومات کوئی چھ ماھ یا سال بعد پہنچیں گی
فیس بک پر مجھے فالو کرنے والے اور فرینڈز یہ بات جانتے ہیں م،۔

اس لئے میں ان روسی فوجیوں کی فوجی مشقوں کو پاکستان کے مستقبل کے لئے اچھی چیز سمجھتا ہوں ،۔

باقی جو بات ہے ماضی میں روس کو گرم پانیوں تک رسائی سے روکنے کی تو ؟
وہ اک بہانہ تھا
صدیوں سے افغان حملہ آور ہمارے علاقے میں اتے ہیں اور لوٹ کر چلے جاتے تھے ،۔
جب راجہ رنجیت سنگھ نے ان کو طورخم تک کے علاقے کو اپنی حکومت میں شامل کر کے ، قندھار تک حملے کر کر کے جو کام کیا تھا اس سے
  افغانون کو سمجھ آنی چاہئے تھی کہ اب " دال خور " جاگ گئے ہیں  ،۔

اس لئے اپنی فصلیں اگئیں ۔
اناج لوٹ کر لے جانے کی عادت پر قابو پائیں
احمد شاھ ابدالی کے بعد  رجنیت سنگھ کی وجہ سے افغان حلمہ نہ کر سکے
اس کے بعد برٹش گورمنٹ نے ان کو روک لاگئی رکھی ۔
پاکستان بنے کے بیس سال بعد ہی ان افغانوں کے اندر کی وحشی جبلت ان کو پاکستان پر حملے کے لئے اکسانے لگی ۔
اور سردار داؤد خان نے ماضی قریب میں پھر حملے کا پروگرام بنایا تو ؟
بھٹو نے افغان سیاست میں انارکی ڈال کر افغانستان کے حالات خراب کئے تاکہ افغان اپنے اندر کا جنگی گند اپنے ملک میں ہی نکالنے کے قابل ہو سکیں ،۔
اس انارکی کو سنبھالا دینے کے لئے جب روس افغانون کی مدد کو آیا تو ؟
گرم پانیون کا بہانہ بنا کر رینجیت  سنگھ کانے کے بعد دوسرے کانے ضیاؑ نے افغانستان کا بیڑا ہی غرق کر دیا ،۔
لیکن اصل معاملہ گرم پانی اور روس کا نہیں تھا
اصل معاملہ افغانوں کی وحشی جبلت کو روک لگانے کا تھا ،۔
اب جب معاملہ کچھ نہج پر آیا ہے تو ؟
پاکستان خود سڑک بنا کر روس کی گئس کی پائپ لائین بنا کر روس کو گرم پانیوں تک ویکم کہہ رہا ہے ،۔

افغانون میں اب بھی اگر عقل ہے تو بجائے اپنی لوٹ مار کی وحشی جبلے کی تسکین کے
اپنے ملک کی زراعت کو ترقی دیں اور افیم کے علاوہ گندم وغیرہ بھی اگا لیا کریں ،۔
اگر افغان یہ سمجھتے ہیں کہ احمد شاھ ابدالی  نے اٹک تک کنٹرول کیا تھا اس لئے افغانستان اٹک تک ہے تو ؟
اس کے بعد رنجیت سنگھ نے قندھار تک کنٹرول کیا تھا  تو کیا پاکستان قندھار تک کا ہے ؟
ہا ں ہے اگر ملا عمر کو امریکہ ٹھکانے نہ لگا دیتا تو ؟
 ملا عمر قندھار سے جلال اباد تک کی پٹی کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانا چاہتا تھا ،۔
پاک روس تعلقات زندہ باد
مجھے پوتن صاحب کا وہ تقاضا بہت اچھا لگا تھا جو انہوں نے 2015ء کے شروع میں راحیل شریف اور نواز شریف کو باری باری بلا کر کیا تھا ۔
وہ تقاضا تھا ،۔
مجھے پاکستان میں محفوظ حالات چاہئے !!،۔
پوتن صاحب کا یہ تقاضا میرے دل کی آواز ہے ،۔

بدھ، 31 اگست، 2016

نویکلی سوچ ، پنجابی ۔

فجر  پڑھن کی عادت  ، بستر  بڑا نرم مالیم تے عالیشان سی میں اٹھ کے پوڑہیاں اتریاں
کہ تھلے دی منزل والے سنک تے وضو کر لاں ،۔
پر پائیا مصطفٰے پہلوں ائی لاؤنج وچ  نماز لئے اٹھیا، مسلے تے بیٹھا سی ،۔
میں سلام آکھ  وضو کرن لگ پیا ،۔
پائیا مصطفے  کوئی تین دہایاں پہلوں جاپان آ گیا سی  ،  درویش صفت پائیے مصطفے دا زندگی  گزارن دا اپنا ای سٹائل اے  ،۔
پاؤند دناں وچ ای سکریپ دے کم وچ پئے گیا تے  بڑا پیسہ کمایا ۔ دولت دی ریل پیل سی کھان پین دی کوالٹی کہ لوک مثالاں دیں ،۔
کپڑے وی اعلی تو اعلی  ، پر وکھرا سٹائل اے کہ کم والی وردی  پائی تے کم ای کم ، چھٹی ہوئی تے تے فیر  زندگی دے اک اک منٹ توں لطف لے لے کے گزاری اے،۔
پر کم تے سکریپ دا ای سی ناں
ایس لئی جے شام تو بعد دی زندگی عسائش دی انتہا سی تے
کم کردیا ہویاں مشقت دی وی انتہا ہوندی سی ۔
بس جیہڑا وی کم کیتا انتہا تک کیتا!!،۔

گانے، اپنی مان بولی دے، تے راگ ؟ او سندا سی جیدی مینوں تے کدی سمجھ نئیں لگی ۔
اک دن ، دادرہ راگ سندا سی پیا تے مینوں کہن لگا
سن ایس راگ وچ  گاؤن والا اک ای شعر نوں ست رنگاں وچ کہوے گا ،۔
توں دہیان دیوں تے  تینوں سمجھ لگے گی کہ
کیویں رون وچ ہچکی بندھدی اے تے  بندے دے منہ وچوں  گل کیویں نکلدی اے ،۔
تے اوہو گل جدوں ہاسا اندروں نکلدا ہوئے تے کیویں نکلدی اے
یاں
اپنے یار اگے ترلا کردیاں کی لہجہ ہوجاندا اے ؟؟
دادرہ دے کجھ لہجیاں دی مینوں سمجھ لگی تے کجھ ناں لگی ،۔ پر پا ء مصطفے ایس راگ نوں سندا رہیا،۔
کدی کدی تے مینوں پاء مصطفے ایج لگدا سی جیوں  اے مسلمان ای نئیں ،۔
کدی مینوں کافر لغدا سی تے کدی ہندو تے کدی بابے نانک دی توحید دیاں گلاں ،۔
پر میں اینہوں جدوں وی کسے نماز دے ٹایم تے ملیا تے نماز  پڑھدیاں ای ویکھیا ،۔

جاپان وچ رہن والا ہر  جھوٹا تے مغرور بندہ  پائیے مصطفے توں بہت کوڑ کھانا سی ،۔
جے کدی کسے پوچھا کہ یار فلاں تے فلاں بندے تینوں بڑا برا آکھدے نے ۔
تے پایئے دا جواب ہوندا
یار اوس بندے نال میری گراری نئیں بہندی ،۔

ہر جھوٹا بندہ ایس گل تو تنگ کہ  ایدہے وچ عقل ای نئیں ، گل نوں سمجھدا ای نئیں ،۔
تے ہر  ہنکار بھریا ایس گل توں تنگ کہ  ایدھا دماغ خراب اے  بندے نوں بندہ ای نئیں سمجھدا ،۔
باقی دے لوگ ایس نوں بیوقوف سمجھدے سن
کہ
اپنی مجبوری تے مصیبت کا جھوٹا رونا وی رو  کے ویکھا دیو تے ، پنج ست لاکھ دا داء لاؤناں تے کوئی گل ای نئیں ،۔
میں وضو کر کے پلٹیا تے پائیا نماز پڑھ چکیا سی
منون کہن لگا ہن دو بندیاں دی جماعت  کی کرنی سی ؟ میں پڑھ لئی اے تے توں وہ پڑھ لے کھانا تیار اے ،۔
فیر کھانے آں،۔
نماز پڑھ کے میں پچھیا پرجائی تے منڈے نماز نئیں پڑھدے ؟
چھڈ پراں ! آ کھانا کھائے ،۔
ٹیبل تے  وڈے ویلے سویرے سویرے  ای لسی تے پراٹھے رکھے سن !۔
خورے راتی پکا کے  ہاٹ پاٹ وچ رکھ چھڈے ساؤ،۔
 تے نال ای فرانس  والی او “چیز “ رکھی سی جینہوں اسی لوک اپنی بولی وچ آکھدے تے پنیر آن پر  پر اے پنیر ہوندا نئیں
کہ پنیر تے پنجابی والی چھڈی نوں آکھدے نیں تے اے  “چیز “ سی انگریزی والا چیز جس دے وچوں اولی دی بو آؤندی سی  ،۔
میں اے اولی والی بو ماردی چیز پہلی واری  کوئی پندرہ سال پہلوں پائیے مصطفے دے گھر ای ویکھی سی ،۔
جدوں میں ایس نوں کھان تو کریچ کیتی تے پائیا آکھن لگا
اک واری کھا کے ویکھ لے
ایدی بو تیرے دماغ وچ وڑ جائے گی تے تون  اپنے اپ کولون اے “چیز “ کھان نوں منگیا کریں گا ،۔
واقعی اوہو گل ہوئی کہ
کئی واری ایس چیز کا سوچ کے وی منہ وچ پانی آ گیا ،۔
 کھانا کھا کے پائیا مصطفے دعا منگن لگ پیا ،۔
ہتھ چک کے کوئی ادھ گھنٹا نمانا منہ بنا کے دعا منگدا ای چلا گیا ،۔
میں وی  مجبوری نال اتھ چک اودھا منہ ویکھدا رہیا ،۔
جدوں دعا مکی تے میں پچھا کی منگدا سیں پیا ؟
کچھ وی نئیں !،۔
سب کجھ دے دتّہ سو ہور کی منگنا اے ،۔
میں تے شکر پیا کردا ساں کہ
گاں دے تھناں وچ وچ دودہ پایا  جیدا ایک ایک قطرہ چیز بنا کے ساڈے سامنے رکھ  دتہ
کنک دے سٹے وچ دانے پائے ، جیدا آٹا اساں کھادا ،
پانڈے دھون دا صابن دتہ ،  پین نون پانی دتہ ، چکھن نوں جیبھ دتی ، نگلن نوں تٗھک دتہ
پاء مصطفے
اپنے شکرانے دی تفصیل دسی جا رہیا سی تے میں سوچی پیاں سان
اک ساڈے مولوی نیں  جیہڑے سانوں دسدے نے کہ رب نوں راضی کر لو
تے
اک اے پاء مصطفے اے جیہڑا رب تے راضی ہویا پھردا اے ،۔
پاء مصطفے دی ایس نویکلی سوچ کو سمجھن لئی وی بہتی ساری سمجھ دی لوڑ اے ،۔

میرا خیال اے اج ایس زمانے نوں تو ایس تعلیم دی لوڑ نئیں کہ
رب نوں راضی کرو
بلکہ پاء مصطفے والے کم دی لوڑ اے کہ اسی رب تو راضی ہو جائیے ،۔
یقین کریا جے ایس گل وچ بڑا اسرار لکیا ہویا جے ۔
جیدہے وچ زمانے کی بھلائی دے خزانے دبے ہوئے جے ،۔
نویکلی سوچ

جمعہ، 26 اگست، 2016

ای سگریٹ ، تمباکو نوشی میں ایک نئی جہت

گاؤں دیہات میں ہم نے دیکھا ہے کہ  بڑی بوڑھیں پھسکڑا مارے بیٹھی ہوئی یا کہ چار پائی سے ٹانگیں لٹکائی ہوئی حقے کی نئے منہ میں دبائے سوٹے لگا رہی ہیں ،۔
برگد کے نیچے ، ڈیروں پر چوپالوں میں مردں کے گروپ حقہ نوشی کر رہے ہیں م،۔
بانس یا لکڑی کی نڑی والے منقش حقے یا کہ نرم پائیپ والے حقے  یہاں وہاں کشید کئے جارہے ہیں ،۔
پھر مارکیٹ میں سگریٹ آ گئے ،۔
حقے کو تازہ کرنا ، تمباکو کا انتظام ، آگ کا  انتظام کوفت لگے لگی اور مارکیٹ میں سگریٹ چھا گیا ،۔
سیگرٹ کی مضحر صحت ہونے کی  حکومتی آگاہی کی مہم چلی تو فلٹر والے سگریٹ آ گئے ،۔
سگریٹ نما کئی فلٹر چیزیں بھی آئی لیکن سگریٹ کے مقابلے میں نہ چل سکیں م،۔
ہاں حقہ کہیں نہ کہیں اپنی خصلت میں بقا کے جراثیم لئے چلتا ہی رہا
اور پھر  شیشہ کے نام سے ہماری محفلوں میں گڑ گڑ کرنے لگا ہے ،۔
اور اب  تمباکو نوشی کی مارکیٹ میں ای سیگریٹ آیا ہے اور آتے ہی چھا گیا ہے  م،۔
ای سیگریٹ فلپ موریس والوں نے اس کو  “ آئی کیو اے ایس “ کا نام دیا ہے م،۔
جس کے مقابلے میں جاپان  تمباکو نے “ پلوم ٹیک “ نامی ای سیگریٹ مارکیٹ میں لانچ کیا ہے  ،۔
ہر دو ! ای سیگریٹ فلپ موریس والوں اور جاپان تمباکو والوں کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ مارکیٹ میں جتنے بھی شوکیس تک پہنچتے ہیں بک جاتے ہیں  ۔
فلپ موریس والوں نے ای سگریٹ پچھلے سال ستمبر میں مارکیٹ میں پھینکا تھا ، اس دن سے اج تک اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ،۔
مارکیٹ میں جتنا بھی لایا گیا بک گیا
بلکہ کچھ سٹوروں والے تو ایڈوانس بکنگ کر کے رکھتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی اپنے گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے ،۔
اس ای سیگریٹ کو کشید کرنے سے نہ تو شعلہ بنتا ہے اور نہ ہی دھواں نکلتا ہے ،۔
اس میں ایک خاص قسم کے بخارات نکل کر سانسوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں م،۔
نیکوٹین کی مقدار کسی بھی عام روائیتی سیگرٹ جتنی ہی ہوتی ہے م،۔
ای سگریٹ  کی مشین کی قیمت فلپ موریس والوں کی کوئی نوہزار ین ہے اور جاپان تمباکو والوں کی کوئی چار ہزار ین ہے م،۔]
ہر دو میں کشید کرنے کے لئے مخصوص سگریٹ کیپسول علیحدہ سے خریدنے پڑتے ہیں م،،
ای سیگریٹ کو کشید کرنے سے صحت پر پڑنے والے برے اثرات کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ویسے ہیں ہیں جیسے کہ عام سگریٹ کے اثرات برے ہیں م،۔
صرف دھواں نہ نکلنے اور شعلہ نہ ہونے کی وجہ سے  اس کے برے اثرات  سے وہ لوگ بچے رہتے ہیں جو سیگریٹ نوش کے قریب ہوتے ہیں م،۔۔
ای سیگریٹ کو شروع کرکے چند ہفتوں سے لے کر چند مہینوں میں سگریٹ نوشی چھوڑ دینے والے افراد بھی سوسائٹی میں نظر آنے لگے ہیں ،۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ اپنی صحبت کی وجہ سے کسی دوست کو تمباکو نوشی کرتے دیکھ کر  ، ایک  سوٹا مجھے بھی لگوانا  ، سے دوبارہ اسی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں م،۔
جہان تک علاقائی حکومتوں کا رویہ ہے تو ،وہ مختلف علاقوں میں مختلف ہے ،۔
ٹوکیو میٹروپولیٹن کی “چیودا “ وارڈ  ای سگریٹ کو بھی  تمباکو نوشی کی طرح ہی پبلک مقامات پر یا کہ چلتے پھرتے سموکنگ کرنے کو جرمانے  کے قابل جرم  کے طور پر ڈیل کرتی ہے ،۔
اوساکا اور ناگویا کہ بلدیہ سرکار اس معاملے کو  شعلہ اور دھواں نہ ہونے کیہ وجہ سے ابھی   سزا سے مستثنی قرار دیتی ہیں ،۔
لیکن اس بات کا ضرور کہتی ہیں کہ عوام کو سروس مہیا کرنے والے کاروبار ریسٹورینٹ وغیرہ اپنی اپنی جگہ اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ
ای سیگریٹ کو سمکنگ ایریا تک محدود رکھنا ہے یا کہ نان سموکنگ ایریا میں بھی کشید کیا جاسکتا ہے ،۔
دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے ،۔
حقے سے سیگریٹ اور اب ای سیگریٹ ،۔
ترقی یافتہ اقوام نے ہر زمانے میں ان چیزوں کے استعمال کے اصول وضع کر کے اپنی زندگیوں کو اسان بنایا ہے ،۔
جاپان ای سیگریٹ کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے لئے اصول بھی وضع کر رہا ہے ،۔

ہفتہ، 20 اگست، 2016

کامیابی

جنگل کے بادشاھ شیر نے کہا کامیابی بس اسی چیز کانام ہے اپنے خاندان کے لئے جان لڑا دینااور زمانہ امن میں مکھیوں سے ناک چھپا کر سولینا ،۔
شیرنی نے زبان بے زبانی سے کہا  ، اپنے اور اپنے قبیلے کے لئے شکار مارنا کامیابی شکار پر قابو پا کر کھانے کھلانے کا نام ہے ،۔
گہلری نے کہا ، گٹھلیوں سے گھر بھر لینے کا نام کامیابی ہے ،۔
کتے نے کہا ؛ ہڈیوں کو دوسروں سے چھپا کر زمین میں دفن کر لینا چھوٹی کامیابی ہے اور ہڈی چھپائی کہاں ہے اس کو یاد رکھنا ہی کامیابی ہے ،۔
کوئے نے سیانے پن کی سیانف “گند “ کا حصول بتایا ،۔
اور بلبل نے پھولوں کی صحبت اور محبت کو کامیابی کہا ،۔
لومڑی نے کہا کہ کامیابی کسی دوسرے کے مارے شکار کو لے اڑنے کانام ہے تو دشمن کو چکمہ دینا ہی کامیابی ہے ،۔
اتنے میں ہلکی سی ہوا چلی
کہ
مچھر دہائی دیتا ہوا اڑا کہ اس ہوا سے خود کو سنبھال لیا جس نے وہ بڑا کامیاب ہوا ۔
سپیدہ سحر نمودار ہو کہ الو نے انکھیں میچ لیں
کہ اگر یہ روشنی نہ ہوتی تو میں کامیاب ہوتا ،۔
بھیڑ نے سوچا کہ اون منڈھوانا کامیابی ہے کہ ناکامی ،انسان نے مجھے دھر بنا کر رکھ لیتا ہے
کہ میری قسمت ہی مونڈھے جانا ہے ،۔
بندر کہنے لگا کسی کے ہاتھ نہ  آنا ، چستی ہوشیاری اور پھرتی کامیابی ہے ،۔
وہیں حضرت انسان بھی تو تھے
سب نے ان کی طرف دیکھا
کہ جناب اپ کے نزدیک کامیابی کیا ہے ؟
تو ؟
انسان سوچ میں پڑ گیا ،
اور خود سے پوچھنے لگا کامیابی ہے کیا چیز ؟
پھر حضرت انسان گویا ہوا ۔
دیکھو یارو تم سب جانور اپنی اپنی جگہ ایک مکمل جانور ہو
لیکن میں ابن آدم ایک ایسا جانور ہون جو سب جانوروں کی فطرت لئے ہوئے ہوں ،۔
میں جو کہ عقل رکھتا ہوں ، احساس رکھتاہوں  سوچ رکھتا ہوں  تو انسان ہوتا ہوں ۔
میں اگر ایمانداری سے کہوں تو
یہ ہی کہوں گا کہ
ابن آدم کی ایک بڑی اکثریت نے تو ، تم جانوروں کی طرح جس جس میں  جس جس جانور کی فطرت اوج کو آئی اس نے اسی کو کامیابی ہونے کا یقین رکھ کر گزر گیا ،۔
اب آدم نے اپنے اندر کے جانور کی طلب کو پا کر اپنی طلب کو کامیابی کہا اور دوسروں کی طلب کو حقیر جانا ،۔
ابن آدم  میں جو انسان ہوا
اس انسان نے ابھی کامیابی کی کوئی تعریف مقرر نہیں کی ہے
یارو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ انسان ابھی تک کامیابی کی کوئی تعریف مقرر ہی نہیں کر سکا ،۔
انسان  جو کہ اپنی سوچ میں اضطراب رکھتا ہے،۔
کبھی تو ندیوں کی روانی میں  کیدار راگ سن کر لطف لیتا ہے تو
دھوپ کی تپش میں دیپک راگ کو کانوں سے زیادہ مساموں سے سنتا ہے ،۔
چٹانوں کے چٹکنے سے تلنگ راگ کو سن کر یا گا کر اگر کامیابی نہیں تو
کبھی گہلری کی طرح مال اکٹھا کرتا ہے ، کبھی کتے کی طرح اپنے مال کو چھپا کر خود ہی بھول جاتا ہے ،۔
کبھی شیر کی طرح دشمن کو مارنا کامیابی کہتا ہے تو اگلے لمحے بیماری کی مکھیوں سے بچنے کو کامیابی محسوس کرتا ہے ،۔
کبھی کوئے کی طرح سیانا بن کر  گرتا ہے تو گند پر بھی گر جاتا ہے ۔
کبھی بھیڑ کی  طرح مونڈھا جاتا ہے اور اولاد کے ہاتھ مونڈھ منڈوا کر کامیابی کہتا ہے ،۔
کبھی الو کی طرح بے علمی کی سیاہی کو کامیابی اور علم کے نور کو اندھا پن کہہ کر اس کو کامیابی کہتا ہے ،۔
 بندر کی طرح ہوشیاری ،اور پھدکنے کو کامیابی کہنے والے بھی بہت ہیں ،۔
انسان ابن آدم بڑا متلون مزاج ہے ،۔
اس لئے انسانوں کی معاشرت میں کامیابی کی کوئی ڈیفینشنز مقرر نہیں ہوئیں۔
سانپ کی طرح مذاہب کی بین پر جھومنے والے کامیاب ہیں تو سائینس کی چونکا دینے والی  نکتہ چینیوں کے خوشہ چین بھی ہیں ،۔
فلسفے کی موشگافیاں ہیں تو حماقتوں کے قہقہے بھی ہیں ،۔
یارو ! مجھے ، بحثیت انسان  یہ کہنے دیں کہ ابھی انسانوں نے تو کامیابی کی کوئی تعریف مقرر نہیں کی  ، ہاں اپ لوگوں یعنی جانوروں کی برادری کی اپنی اپنی کامیابیاں ضرور ہیں  ۔ْ

جمعرات، 18 اگست، 2016

کٹ پیس


محبت ؟ ہاں محبت آندھی ہوتی ہے ،۔
اس  مرض کا علاج ، شادی ہوتی ہے ،۔
بینائی کی بحالی ہی نہیں ، انکھیں کھول دیتی ہے  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ؟ اکھدے نے انھی ہوندی اے ،
پر ، شادی ؟ اکھاں کھول دیندی اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کو ہنسی میں اڑانے کا طریقہ سیکھو ۔
کہ
اگر کوئی شر پسند ، جنت میں بہنے والی دودہ کی نہر کو دہی سے جاگ لگا جائے تو ؟
بجائے اس کو  سزا دینے کے لئے پاگل ہونے کے ۔
دہی کو ریڑکا لگا کر
مکھن ، اور لسی بنا لو ۔
مولا خوش رکھے ،۔

جذباتی ، پاک مسلمانوں سے معذرت
کہ
جرنل ضیاع والے اسلام سے پاکستان کو واگزار کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔
اپ کے ارمانوں کا قتل ہو رہا ہے ، اپ کے جذبات مجروع ہو رہے ہیں ؟
تو
عقل نوں ہتھ  مارو !،۔
تے سیانے بنو!۔


وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے ،یک دم نہیں ہوا کرتے ۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے وفاقی کابینہ، پارلیمنٹ اور محترمہ فاطمہ جناح کی مذمت کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے تھے
تقریباً نصف صدی بعد ۔
پنجاب میں دریاؤں کا پانی رس رس کر زمین میں فلٹر ہوتا رہتا پے ، جس کو کنوئیں اور پمپوں کے ذریعے نکال کر انسان پیتے ہیں ،۔

راوی دریا ایک نالہ بن چکا ہے ،۔
لاہور ! میں پانی کی سطح گر چکی ہے ،۔
جو پانی نکل رہا ہے اس میں سیسے کی مقدار  انسانی صحت کے لئے خطرناک حد تک  پائی جاتی ہے ،۔
پینے کا پانی لاہور کے لئے مسئلہ بن چکا ہے ،۔ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بہتات ہے ،
ریکارڈ نہ رکھنے کی وجہ سے ،اس خطرناک صورت حال کا ادراک مشکل بنا ہوا ہے ۔
اگر راوی میں پانی پہتا رہتا تو؟
لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح  اور کوالٹی برقرار رہتی ،۔
لیکن
کام خراب ہو چکا ہے
اور اس کا کوئی حل نہیں ہے ،۔
کہ سندہ طاس معاہدے کی رو سے  ستلج اور راوی کا پانی انڈیا کو دیا جاچکا ہے ۔
لاہوریو! تہاڈا پانی تے تہاڈی اؤن والی نسلاں دا پانی !۔
جرنل عیوب ویچ کے کھا وی چکیا ہویا جے ۔
تے تہانوں پتہ ای نئیں کہ تہاڈے نال کی “ ہینڈ “ ہو چکیا اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توحید ؟ توحید دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی کی کنجی ہے ، اس کے بہت فائدے ہیں ،۔
لبرل یا کہ بے مذہب ہو کر بھی اگر بندے کو سمجھ ہے تو؟ وہ "ایک خدا " ضرور بنا رکھے گا کہ
یہ بہت گہری بات ہے ۔
لیکن جہاں تک بات ہے پاکستان کے شرک کی تو یہ ایک علاقئی "جینز" میں پائی جانے والی چیز ہے ،۔
بنیادی طور پر یہ ہندو نیچر کہہ لیں یا کہ طریق معاشرت ؟ اس میں مورتوں اور شخصیات کی عقیدت ضرور ہوتی ہے ۔
ہندو طرز معاشرت کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ
اپنے نزدیک آنے والے ہر مذہب کو کھا جاتا ہے ، ۔
ہندو کے نزدیک کا کوئی بھی مذہب ، صدیوں کے سفر میں ہندو ہی بن جاتا ہے ،۔
دلچسپ بات کہ کچھ مذاہب اپنا نام علیحدہ رکھ کر خود کو غیر ہندو ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں
مگر
ان کی عبادات ، اور عقیدتیں ، ہندو ہی کی طرح کی ہوتی ہیں ،۔
فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ہر نئے مذہب کی عقیدت اور عبادت کے لئے گھڑی گئی شخصیات مختلف ہوتی ہیں ،۔
باقی مذاہب کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن ہم یہاں اسلام کی مثال دیتے ہیں ۔
کہ اسلام جس میں توحید کا سبق بڑا اہم ہے ، جس میں انسانوں کے برابر ہونے کا بہت بتایا جاتا ہے ،۔
یہی اسلام جب ہند میں آتاہے تو ۔
ہندو کے جنگی نعرے “بجرنگ بلی “ کے ہم وزن نعرہ “ یا علی “ لے آتا ہے ۔
انسانی برابری کی مثال
یہ کہ برہمن کے مقابلے میں “ سید “ لے آتا ہے ۔
ہر ہندو دیوتا ، بت کے مقابلے میں ایک قبر لے آتا ہے ۔
لیکن پھر بھی خود کو توحید پرست اور مساوات کا داعی کہتا ہے ۔
پاکستان کا اسلام ، پاک اسلام ہے ،۔
اس میں جو جو باتیں شامل ہو چکی ہیں ، وہ اس علاقے کی عادات ہیں ۔

منگل، 16 اگست، 2016

علم عقل کی باتیں


محاورے کی کہانی!،۔
ٹرک دی بتی پچھے!!،۔
ساٹھ کی دہائی میں ، ملک تو ترقی کر رہا تھا لیکن لوگ ملک سے بھاگنے شروع ہو چکے تھے ،۔
جرمنی میں کہیں کسی لوگر ہاؤس میں  پاکستانی اور کچھ سکھ بھی  جرمن حکومت نے رکھے ہوئے تھے ،۔
ان میں سے سکھ اور مسلمان لڑکوں کی ہر روز کسی نہ کسی بات میں  مقابلہ بازی ہوتی ہی رہتی تھی ۔
کبھی گٹ پکڑنا ، کبھی پنجہ لڑانا ۔
جوان لڑکے مقابلے بازی میں اپنے اپنے ملک اور دھرم کو بہتر بنا کر پیش کرتے تھے تو بزرگ لوگ ریفری ہوتے تھے ،۔
اقبال سنگھ اور محمد اقبال کی چڑ چڑ سے تنگ ایک دن  ایک بزرگ لوگوں نے ان کو دوڑ کر اپنی صلاحیت دیکھناے کا راستہ دیکھایا ،۔
سارے لوگر ہاؤس کے لوگ ہلا شیری دینے لگے ،۔
رات کا وقت تھا ،۔
دور کہیں کسی گھر کی بتی جل رہی تھی ، پہلے محمد اقبال کو کہا گیا کہ تم اس بتی کو چھو کر واپس آؤ گے ،۔
ایک گھڑی درمیان میں رکھ کر محمد اقبال کو ون ٹو تھری کر دیا گیا ،۔
فاصلہ خاصا زیادہ تھا ، محمد اقبال کوئی ایک گھنٹے بعد واپس آیا ۔
اب باری تھی  اقبال سنگھ کی ، پہلے ہی کی طرح اس کو بھی ون ٹو تھری کروا  دیا گیا ۔
سب لوگ گھڑی دیکھ کر انتظار کرنے لگے ، اقبال سنگھ واپس نہیں پلٹا ، ایک گھنٹا ، دو گھنٹے ، تین گھنٹے ، رات بھیگنے لگی ، سب لوگ مایوس ہو کر سو گئے ، اگلے دن بھی اقبال سنگھ واپس نہیں آیا ،۔
بڑی چرچا ہوئی سب لوگ اقبال سنگھ کے لئے پریشان تھے کہ اس کو کیا ہو گیا ۔
تیسرے دن  اقبال سنگھ واپس پلٹا ، چہرئے پر ہوائیاں ، اڑ رہی تھیں ۔ سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرہ پچک کر چوسے ہوئے آم کی طرح ہوا تھا ،۔
سب لوگ اس کے گرد اکھٹے ہوگئے ، ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا
کہ اقبال سنگھا ہوا کیا تھا ؟
اقبال سنگھ نے ہانپتے ہوئے بتایا
یارو، تم لوگوں نے جو بتی مجھے دیکھائی تھی وہ ٹرک کی بتی تھی ۔
اور وہ ٹرک فرینکفرٹ جا کر رکا تھا ،۔
میں اس ٹرک کی بتی کو فرینکفرٹ میں ہاتھ لگا کر واپس آ رہا ہوں ۔
حاصل مطالعہ
اس دن سے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اقبال سنگھ کی فیلنگ کو  محسوس کرنے والا بندہ خود کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ہوا محسوس کرتا ہے ،۔


اچھو : یار گامیا؟ یہ سارے مذہبی سکالر ، دانشور ، اور  مولوی شولوی  چودہ سو سال سے بحثیں اور لڑائیاں کیے جا رہے ہیں ۔
اخر ان کا مقصد کیا ہے ؟ یہ چاہتے کیا ہیں ؟؟
اے سارے سیانے اللہ دے حکم  “ واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا” تے عمل کیوں نہیں کرتے ؟
شیدا سیانا : گامیا کھول دے سیکرٹ ، اور بتا دے  حقیقت !۔
گاما : ویکھ اچھو ! یہ بات بڑی سیکرٹ ہے اپنے تک رکھنا ورنہ  ، یہ سارےے تمہیں قتل کرنے کی بات میں سارے تفرقے کو ایک طرف رکھ دیں گے۔
وہ سیکرٹ یہ ہے
کہ
اگر ان سب لوگوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو ؟
شیطان بے چارے کا کیا بنے گا ؟؟
گل سمجھ لگ گئی اے ناں ، اے سارے اللہ دے نام تے شیطان دے بندے نے !!۔


ایک کان صاحب، بادام بیچ رہا تھا ۔
گامے کو کہتا ہے بادم لے لو سیٹھ ! اس کے کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے ۔
گاما: اچھا وہ کیسے ؟
کان صاحب : میں ایک سوال پوچھتا ہوں اس کا جواب دو ۔
گاما : ہاں پوچھو !۔
کان صاحب : ایک سیر وزن میں چاول کے کتنے دانے ہوتے ہیں ؟
گاما : 38400 اٹھتیس ہزار چار سو دانے ۔
کان ساحب : بکواس کرتا ہے اے دال خور ، تم  نے چاول کا دانہ گنا ہوا اے ؟ گپ باز کمہارو!۔
گاما: کان صاحب وزن کا فارمولہ ہے
کہ 5 دانے چاول برابر ہے ایک رتی ،۔
آٹھ رتی کا ایک  ماشہ ، بارہ ماشے کا ایک تولہ  ، اسی تولے کا ایک سیر ،
یہ بنتے ہیں ، 5* 8=40 یعنی  ایک ماشہ ، 40*12= 480 ایک تولہ ، 480*80=38400 دانے چاول یعنی کہ ایک سیر ۔

اوئے کان صاحب ، عقل بادام کھانے سے نہیں آتی ،عقل تعلیم حاصل کرنے سے آتی ہے ۔

==================
جس کے پاس جا کر ہر مرد سر جھکا کر بیٹھ جاتا ہے ۔
اس کو کیا کہتے ہیں ؟،۔
اس کو راجہ (نائی) کہتے ہیں !!۔
اور  اس مرد مہربان کو کیا کہیں گے ، جو راجہ کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتا ؟؟َ
اس مرد مہربان کو کہیں گے !
گنجا !!،۔؎


شرک اور عقیدت پر بات چل رہی  تھی۔
شیدا سیانا ، بڑا سنسنی خیز لہجے میں جیسے کہ سب کو اطلاع دے رہا ہو !۔
بتاتا ہے ۔
ویکھو جی ؛ دنیا بھر میں کوئی بھی دھرم  ایسے ہی کوئی پتھر اٹھا کر اس کی پوجا شروع نہیں کر دیتا ۔
پتھر کے ہر بت یا قبر کے تعویذ کے پیچھے ایک شخیصت  ہوتی ہے ، جس کی پرستش یا عقیدت کرتے ہیں ۔
خاص گامے کی طرف منہ کر کے کہتا ہے ۔
کیوں جی بھائی گامیا؟ کیا ایسا کوئی احمق ہو گا جو ایسے ہی ، کسی پتھر سے امیدیں لگائے بیٹھا ہو ؟؟
گاما ہلکا سا  “ آہو “ کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے ۔
شیدا سیانا تپ کر کہتا ہے ، بھائی گامیا ، کوئی گل کر کرن والی ، ایسا کوئی احمق ہو ہی نہیں سکتا جو صرف ایک پتھر سے عقیدت یا  امید رکھتا ہو ۔
گاما: یار شیدیا ! تم نے بھی تو وہ کتاب پڑہی ہے ناں ؟ “ پتھروں کے خواص”؟ اور تم نے بھی تو فیروزہ انگوٹھی میں منڈھ رکھا ہے ناں ؟
کہ اگر فیروزہ مافک آ گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے ۔
اسی طرح نیلم ، تامڑہ ، زمرد اور پکھراج پہننے والوں کی امیدوں سے کیا تم واقف نہیں ہو ؟
شیدا سیانا لاجواب ہو کر کھسیانی سی ہنسی  ہونٹوں پر سجا کر سب کی طرف دیکھتا ہے
او جی اے گاما ہے ہی کھسکیا ہوا ، جب بھی بولتا ہے  وکھی سے ہی بولتا ہے  ۔
ہی ہی ہی ہی !!!۔


سوال تھا کہ
اصحاب اعراف کیا ہیں ،۔
جواب : وہ لوگ جو جہنم اور جنت کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں کہ
اس کے تیار کردہ کاغذات (نامہ اعمال) کے حساب سے ان کو جنت نصیب ہو گی کہ جہنم ۔
فی زمانہ
اپ ایسے لوگوں کی کیفیت کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو؟
ایسے لوگ دیکھ لیں جو ، امریکہ یورپ یا جاپان پہنچ چکے ہیں ،
اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ
امیگریشن والے ان کو جنت میں داخل کرتے ہیں یا کہ  ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

سوال تھا کہ
ذندیق کیا ہیں ؟؟
جواب : وہ لوگ جو فواید حاصل کرنے کے لئے  مسلمانون کے ساتھی ہوں لیکن دل سے اس نظام کی تباہی چاہتے ہوں ۔ بجائے تشکر کے کیڑے نکلاتے ہوں ۔
فی زمانہ
 امریکہ ،یورپ یا جاپان کی ایمگریشن ، نیشنیلٹی کے لئے ہلکان ، لیکن انہی ممالک کو درالاکفر ، کہتے ہوئے ان کی تباہی کی دعائیں کرتے ہیں ، ان کی مثال دیکھ سکتے ہیں ،۔

Popular Posts