جمعہ، 26 اگست، 2016

ای سگریٹ ، تمباکو نوشی میں ایک نئی جہت

گاؤں دیہات میں ہم نے دیکھا ہے کہ  بڑی بوڑھیں پھسکڑا مارے بیٹھی ہوئی یا کہ چار پائی سے ٹانگیں لٹکائی ہوئی حقے کی نئے منہ میں دبائے سوٹے لگا رہی ہیں ،۔
برگد کے نیچے ، ڈیروں پر چوپالوں میں مردں کے گروپ حقہ نوشی کر رہے ہیں م،۔
بانس یا لکڑی کی نڑی والے منقش حقے یا کہ نرم پائیپ والے حقے  یہاں وہاں کشید کئے جارہے ہیں ،۔
پھر مارکیٹ میں سگریٹ آ گئے ،۔
حقے کو تازہ کرنا ، تمباکو کا انتظام ، آگ کا  انتظام کوفت لگے لگی اور مارکیٹ میں سگریٹ چھا گیا ،۔
سیگرٹ کی مضحر صحت ہونے کی  حکومتی آگاہی کی مہم چلی تو فلٹر والے سگریٹ آ گئے ،۔
سگریٹ نما کئی فلٹر چیزیں بھی آئی لیکن سگریٹ کے مقابلے میں نہ چل سکیں م،۔
ہاں حقہ کہیں نہ کہیں اپنی خصلت میں بقا کے جراثیم لئے چلتا ہی رہا
اور پھر  شیشہ کے نام سے ہماری محفلوں میں گڑ گڑ کرنے لگا ہے ،۔
اور اب  تمباکو نوشی کی مارکیٹ میں ای سیگریٹ آیا ہے اور آتے ہی چھا گیا ہے  م،۔
ای سیگریٹ فلپ موریس والوں نے اس کو  “ آئی کیو اے ایس “ کا نام دیا ہے م،۔
جس کے مقابلے میں جاپان  تمباکو نے “ پلوم ٹیک “ نامی ای سیگریٹ مارکیٹ میں لانچ کیا ہے  ،۔
ہر دو ! ای سیگریٹ فلپ موریس والوں اور جاپان تمباکو والوں کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ مارکیٹ میں جتنے بھی شوکیس تک پہنچتے ہیں بک جاتے ہیں  ۔
فلپ موریس والوں نے ای سگریٹ پچھلے سال ستمبر میں مارکیٹ میں پھینکا تھا ، اس دن سے اج تک اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ،۔
مارکیٹ میں جتنا بھی لایا گیا بک گیا
بلکہ کچھ سٹوروں والے تو ایڈوانس بکنگ کر کے رکھتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی اپنے گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتے ،۔
اس ای سیگریٹ کو کشید کرنے سے نہ تو شعلہ بنتا ہے اور نہ ہی دھواں نکلتا ہے ،۔
اس میں ایک خاص قسم کے بخارات نکل کر سانسوں میں تحلیل ہو جاتے ہیں م،۔
نیکوٹین کی مقدار کسی بھی عام روائیتی سیگرٹ جتنی ہی ہوتی ہے م،۔
ای سگریٹ  کی مشین کی قیمت فلپ موریس والوں کی کوئی نوہزار ین ہے اور جاپان تمباکو والوں کی کوئی چار ہزار ین ہے م،۔]
ہر دو میں کشید کرنے کے لئے مخصوص سگریٹ کیپسول علیحدہ سے خریدنے پڑتے ہیں م،،
ای سیگریٹ کو کشید کرنے سے صحت پر پڑنے والے برے اثرات کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ ویسے ہیں ہیں جیسے کہ عام سگریٹ کے اثرات برے ہیں م،۔
صرف دھواں نہ نکلنے اور شعلہ نہ ہونے کی وجہ سے  اس کے برے اثرات  سے وہ لوگ بچے رہتے ہیں جو سیگریٹ نوش کے قریب ہوتے ہیں م،۔۔
ای سیگریٹ کو شروع کرکے چند ہفتوں سے لے کر چند مہینوں میں سگریٹ نوشی چھوڑ دینے والے افراد بھی سوسائٹی میں نظر آنے لگے ہیں ،۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ اپنی صحبت کی وجہ سے کسی دوست کو تمباکو نوشی کرتے دیکھ کر  ، ایک  سوٹا مجھے بھی لگوانا  ، سے دوبارہ اسی عادت کا شکار ہو جاتے ہیں م،۔
جہان تک علاقائی حکومتوں کا رویہ ہے تو ،وہ مختلف علاقوں میں مختلف ہے ،۔
ٹوکیو میٹروپولیٹن کی “چیودا “ وارڈ  ای سگریٹ کو بھی  تمباکو نوشی کی طرح ہی پبلک مقامات پر یا کہ چلتے پھرتے سموکنگ کرنے کو جرمانے  کے قابل جرم  کے طور پر ڈیل کرتی ہے ،۔
اوساکا اور ناگویا کہ بلدیہ سرکار اس معاملے کو  شعلہ اور دھواں نہ ہونے کیہ وجہ سے ابھی   سزا سے مستثنی قرار دیتی ہیں ،۔
لیکن اس بات کا ضرور کہتی ہیں کہ عوام کو سروس مہیا کرنے والے کاروبار ریسٹورینٹ وغیرہ اپنی اپنی جگہ اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ
ای سیگریٹ کو سمکنگ ایریا تک محدود رکھنا ہے یا کہ نان سموکنگ ایریا میں بھی کشید کیا جاسکتا ہے ،۔
دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے ،۔
حقے سے سیگریٹ اور اب ای سیگریٹ ،۔
ترقی یافتہ اقوام نے ہر زمانے میں ان چیزوں کے استعمال کے اصول وضع کر کے اپنی زندگیوں کو اسان بنایا ہے ،۔
جاپان ای سیگریٹ کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے لئے اصول بھی وضع کر رہا ہے ،۔

ہفتہ، 20 اگست، 2016

کامیابی

جنگل کے بادشاھ شیر نے کہا کامیابی بس اسی چیز کانام ہے اپنے خاندان کے لئے جان لڑا دینااور زمانہ امن میں مکھیوں سے ناک چھپا کر سولینا ،۔
شیرنی نے زبان بے زبانی سے کہا  ، اپنے اور اپنے قبیلے کے لئے شکار مارنا کامیابی شکار پر قابو پا کر کھانے کھلانے کا نام ہے ،۔
گہلری نے کہا ، گٹھلیوں سے گھر بھر لینے کا نام کامیابی ہے ،۔
کتے نے کہا ؛ ہڈیوں کو دوسروں سے چھپا کر زمین میں دفن کر لینا چھوٹی کامیابی ہے اور ہڈی چھپائی کہاں ہے اس کو یاد رکھنا ہی کامیابی ہے ،۔
کوئے نے سیانے پن کی سیانف “گند “ کا حصول بتایا ،۔
اور بلبل نے پھولوں کی صحبت اور محبت کو کامیابی کہا ،۔
لومڑی نے کہا کہ کامیابی کسی دوسرے کے مارے شکار کو لے اڑنے کانام ہے تو دشمن کو چکمہ دینا ہی کامیابی ہے ،۔
اتنے میں ہلکی سی ہوا چلی
کہ
مچھر دہائی دیتا ہوا اڑا کہ اس ہوا سے خود کو سنبھال لیا جس نے وہ بڑا کامیاب ہوا ۔
سپیدہ سحر نمودار ہو کہ الو نے انکھیں میچ لیں
کہ اگر یہ روشنی نہ ہوتی تو میں کامیاب ہوتا ،۔
بھیڑ نے سوچا کہ اون منڈھوانا کامیابی ہے کہ ناکامی ،انسان نے مجھے دھر بنا کر رکھ لیتا ہے
کہ میری قسمت ہی مونڈھے جانا ہے ،۔
بندر کہنے لگا کسی کے ہاتھ نہ  آنا ، چستی ہوشیاری اور پھرتی کامیابی ہے ،۔
وہیں حضرت انسان بھی تو تھے
سب نے ان کی طرف دیکھا
کہ جناب اپ کے نزدیک کامیابی کیا ہے ؟
تو ؟
انسان سوچ میں پڑ گیا ،
اور خود سے پوچھنے لگا کامیابی ہے کیا چیز ؟
پھر حضرت انسان گویا ہوا ۔
دیکھو یارو تم سب جانور اپنی اپنی جگہ ایک مکمل جانور ہو
لیکن میں ابن آدم ایک ایسا جانور ہون جو سب جانوروں کی فطرت لئے ہوئے ہوں ،۔
میں جو کہ عقل رکھتا ہوں ، احساس رکھتاہوں  سوچ رکھتا ہوں  تو انسان ہوتا ہوں ۔
میں اگر ایمانداری سے کہوں تو
یہ ہی کہوں گا کہ
ابن آدم کی ایک بڑی اکثریت نے تو ، تم جانوروں کی طرح جس جس میں  جس جس جانور کی فطرت اوج کو آئی اس نے اسی کو کامیابی ہونے کا یقین رکھ کر گزر گیا ،۔
اب آدم نے اپنے اندر کے جانور کی طلب کو پا کر اپنی طلب کو کامیابی کہا اور دوسروں کی طلب کو حقیر جانا ،۔
ابن آدم  میں جو انسان ہوا
اس انسان نے ابھی کامیابی کی کوئی تعریف مقرر نہیں کی ہے
یارو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ انسان ابھی تک کامیابی کی کوئی تعریف مقرر ہی نہیں کر سکا ،۔
انسان  جو کہ اپنی سوچ میں اضطراب رکھتا ہے،۔
کبھی تو ندیوں کی روانی میں  کیدار راگ سن کر لطف لیتا ہے تو
دھوپ کی تپش میں دیپک راگ کو کانوں سے زیادہ مساموں سے سنتا ہے ،۔
چٹانوں کے چٹکنے سے تلنگ راگ کو سن کر یا گا کر اگر کامیابی نہیں تو
کبھی گہلری کی طرح مال اکٹھا کرتا ہے ، کبھی کتے کی طرح اپنے مال کو چھپا کر خود ہی بھول جاتا ہے ،۔
کبھی شیر کی طرح دشمن کو مارنا کامیابی کہتا ہے تو اگلے لمحے بیماری کی مکھیوں سے بچنے کو کامیابی محسوس کرتا ہے ،۔
کبھی کوئے کی طرح سیانا بن کر  گرتا ہے تو گند پر بھی گر جاتا ہے ۔
کبھی بھیڑ کی  طرح مونڈھا جاتا ہے اور اولاد کے ہاتھ مونڈھ منڈوا کر کامیابی کہتا ہے ،۔
کبھی الو کی طرح بے علمی کی سیاہی کو کامیابی اور علم کے نور کو اندھا پن کہہ کر اس کو کامیابی کہتا ہے ،۔
 بندر کی طرح ہوشیاری ،اور پھدکنے کو کامیابی کہنے والے بھی بہت ہیں ،۔
انسان ابن آدم بڑا متلون مزاج ہے ،۔
اس لئے انسانوں کی معاشرت میں کامیابی کی کوئی ڈیفینشنز مقرر نہیں ہوئیں۔
سانپ کی طرح مذاہب کی بین پر جھومنے والے کامیاب ہیں تو سائینس کی چونکا دینے والی  نکتہ چینیوں کے خوشہ چین بھی ہیں ،۔
فلسفے کی موشگافیاں ہیں تو حماقتوں کے قہقہے بھی ہیں ،۔
یارو ! مجھے ، بحثیت انسان  یہ کہنے دیں کہ ابھی انسانوں نے تو کامیابی کی کوئی تعریف مقرر نہیں کی  ، ہاں اپ لوگوں یعنی جانوروں کی برادری کی اپنی اپنی کامیابیاں ضرور ہیں  ۔ْ

جمعرات، 18 اگست، 2016

کٹ پیس


محبت ؟ ہاں محبت آندھی ہوتی ہے ،۔
اس  مرض کا علاج ، شادی ہوتی ہے ،۔
بینائی کی بحالی ہی نہیں ، انکھیں کھول دیتی ہے  ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ؟ اکھدے نے انھی ہوندی اے ،
پر ، شادی ؟ اکھاں کھول دیندی اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کو ہنسی میں اڑانے کا طریقہ سیکھو ۔
کہ
اگر کوئی شر پسند ، جنت میں بہنے والی دودہ کی نہر کو دہی سے جاگ لگا جائے تو ؟
بجائے اس کو  سزا دینے کے لئے پاگل ہونے کے ۔
دہی کو ریڑکا لگا کر
مکھن ، اور لسی بنا لو ۔
مولا خوش رکھے ،۔

جذباتی ، پاک مسلمانوں سے معذرت
کہ
جرنل ضیاع والے اسلام سے پاکستان کو واگزار کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔
اپ کے ارمانوں کا قتل ہو رہا ہے ، اپ کے جذبات مجروع ہو رہے ہیں ؟
تو
عقل نوں ہتھ  مارو !،۔
تے سیانے بنو!۔


وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے ،یک دم نہیں ہوا کرتے ۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے وفاقی کابینہ، پارلیمنٹ اور محترمہ فاطمہ جناح کی مذمت کے باوجود سندھ طاس معاہدے پر دستخط کئے تھے
تقریباً نصف صدی بعد ۔
پنجاب میں دریاؤں کا پانی رس رس کر زمین میں فلٹر ہوتا رہتا پے ، جس کو کنوئیں اور پمپوں کے ذریعے نکال کر انسان پیتے ہیں ،۔

راوی دریا ایک نالہ بن چکا ہے ،۔
لاہور ! میں پانی کی سطح گر چکی ہے ،۔
جو پانی نکل رہا ہے اس میں سیسے کی مقدار  انسانی صحت کے لئے خطرناک حد تک  پائی جاتی ہے ،۔
پینے کا پانی لاہور کے لئے مسئلہ بن چکا ہے ،۔ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بہتات ہے ،
ریکارڈ نہ رکھنے کی وجہ سے ،اس خطرناک صورت حال کا ادراک مشکل بنا ہوا ہے ۔
اگر راوی میں پانی پہتا رہتا تو؟
لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح  اور کوالٹی برقرار رہتی ،۔
لیکن
کام خراب ہو چکا ہے
اور اس کا کوئی حل نہیں ہے ،۔
کہ سندہ طاس معاہدے کی رو سے  ستلج اور راوی کا پانی انڈیا کو دیا جاچکا ہے ۔
لاہوریو! تہاڈا پانی تے تہاڈی اؤن والی نسلاں دا پانی !۔
جرنل عیوب ویچ کے کھا وی چکیا ہویا جے ۔
تے تہانوں پتہ ای نئیں کہ تہاڈے نال کی “ ہینڈ “ ہو چکیا اے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توحید ؟ توحید دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی کی کنجی ہے ، اس کے بہت فائدے ہیں ،۔
لبرل یا کہ بے مذہب ہو کر بھی اگر بندے کو سمجھ ہے تو؟ وہ "ایک خدا " ضرور بنا رکھے گا کہ
یہ بہت گہری بات ہے ۔
لیکن جہاں تک بات ہے پاکستان کے شرک کی تو یہ ایک علاقئی "جینز" میں پائی جانے والی چیز ہے ،۔
بنیادی طور پر یہ ہندو نیچر کہہ لیں یا کہ طریق معاشرت ؟ اس میں مورتوں اور شخصیات کی عقیدت ضرور ہوتی ہے ۔
ہندو طرز معاشرت کی یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ
اپنے نزدیک آنے والے ہر مذہب کو کھا جاتا ہے ، ۔
ہندو کے نزدیک کا کوئی بھی مذہب ، صدیوں کے سفر میں ہندو ہی بن جاتا ہے ،۔
دلچسپ بات کہ کچھ مذاہب اپنا نام علیحدہ رکھ کر خود کو غیر ہندو ہونے کا یقین دلاتے رہتے ہیں
مگر
ان کی عبادات ، اور عقیدتیں ، ہندو ہی کی طرح کی ہوتی ہیں ،۔
فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ ہر نئے مذہب کی عقیدت اور عبادت کے لئے گھڑی گئی شخصیات مختلف ہوتی ہیں ،۔
باقی مذاہب کی مثال بھی دی جا سکتی ہے لیکن ہم یہاں اسلام کی مثال دیتے ہیں ۔
کہ اسلام جس میں توحید کا سبق بڑا اہم ہے ، جس میں انسانوں کے برابر ہونے کا بہت بتایا جاتا ہے ،۔
یہی اسلام جب ہند میں آتاہے تو ۔
ہندو کے جنگی نعرے “بجرنگ بلی “ کے ہم وزن نعرہ “ یا علی “ لے آتا ہے ۔
انسانی برابری کی مثال
یہ کہ برہمن کے مقابلے میں “ سید “ لے آتا ہے ۔
ہر ہندو دیوتا ، بت کے مقابلے میں ایک قبر لے آتا ہے ۔
لیکن پھر بھی خود کو توحید پرست اور مساوات کا داعی کہتا ہے ۔
پاکستان کا اسلام ، پاک اسلام ہے ،۔
اس میں جو جو باتیں شامل ہو چکی ہیں ، وہ اس علاقے کی عادات ہیں ۔

منگل، 16 اگست، 2016

علم عقل کی باتیں


محاورے کی کہانی!،۔
ٹرک دی بتی پچھے!!،۔
ساٹھ کی دہائی میں ، ملک تو ترقی کر رہا تھا لیکن لوگ ملک سے بھاگنے شروع ہو چکے تھے ،۔
جرمنی میں کہیں کسی لوگر ہاؤس میں  پاکستانی اور کچھ سکھ بھی  جرمن حکومت نے رکھے ہوئے تھے ،۔
ان میں سے سکھ اور مسلمان لڑکوں کی ہر روز کسی نہ کسی بات میں  مقابلہ بازی ہوتی ہی رہتی تھی ۔
کبھی گٹ پکڑنا ، کبھی پنجہ لڑانا ۔
جوان لڑکے مقابلے بازی میں اپنے اپنے ملک اور دھرم کو بہتر بنا کر پیش کرتے تھے تو بزرگ لوگ ریفری ہوتے تھے ،۔
اقبال سنگھ اور محمد اقبال کی چڑ چڑ سے تنگ ایک دن  ایک بزرگ لوگوں نے ان کو دوڑ کر اپنی صلاحیت دیکھناے کا راستہ دیکھایا ،۔
سارے لوگر ہاؤس کے لوگ ہلا شیری دینے لگے ،۔
رات کا وقت تھا ،۔
دور کہیں کسی گھر کی بتی جل رہی تھی ، پہلے محمد اقبال کو کہا گیا کہ تم اس بتی کو چھو کر واپس آؤ گے ،۔
ایک گھڑی درمیان میں رکھ کر محمد اقبال کو ون ٹو تھری کر دیا گیا ،۔
فاصلہ خاصا زیادہ تھا ، محمد اقبال کوئی ایک گھنٹے بعد واپس آیا ۔
اب باری تھی  اقبال سنگھ کی ، پہلے ہی کی طرح اس کو بھی ون ٹو تھری کروا  دیا گیا ۔
سب لوگ گھڑی دیکھ کر انتظار کرنے لگے ، اقبال سنگھ واپس نہیں پلٹا ، ایک گھنٹا ، دو گھنٹے ، تین گھنٹے ، رات بھیگنے لگی ، سب لوگ مایوس ہو کر سو گئے ، اگلے دن بھی اقبال سنگھ واپس نہیں آیا ،۔
بڑی چرچا ہوئی سب لوگ اقبال سنگھ کے لئے پریشان تھے کہ اس کو کیا ہو گیا ۔
تیسرے دن  اقبال سنگھ واپس پلٹا ، چہرئے پر ہوائیاں ، اڑ رہی تھیں ۔ سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرہ پچک کر چوسے ہوئے آم کی طرح ہوا تھا ،۔
سب لوگ اس کے گرد اکھٹے ہوگئے ، ہر کسی کی زبان پر ایک ہی سوال تھا
کہ اقبال سنگھا ہوا کیا تھا ؟
اقبال سنگھ نے ہانپتے ہوئے بتایا
یارو، تم لوگوں نے جو بتی مجھے دیکھائی تھی وہ ٹرک کی بتی تھی ۔
اور وہ ٹرک فرینکفرٹ جا کر رکا تھا ،۔
میں اس ٹرک کی بتی کو فرینکفرٹ میں ہاتھ لگا کر واپس آ رہا ہوں ۔
حاصل مطالعہ
اس دن سے ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگتے ہوئے اقبال سنگھ کی فیلنگ کو  محسوس کرنے والا بندہ خود کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ہوا محسوس کرتا ہے ،۔


اچھو : یار گامیا؟ یہ سارے مذہبی سکالر ، دانشور ، اور  مولوی شولوی  چودہ سو سال سے بحثیں اور لڑائیاں کیے جا رہے ہیں ۔
اخر ان کا مقصد کیا ہے ؟ یہ چاہتے کیا ہیں ؟؟
اے سارے سیانے اللہ دے حکم  “ واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا” تے عمل کیوں نہیں کرتے ؟
شیدا سیانا : گامیا کھول دے سیکرٹ ، اور بتا دے  حقیقت !۔
گاما : ویکھ اچھو ! یہ بات بڑی سیکرٹ ہے اپنے تک رکھنا ورنہ  ، یہ سارےے تمہیں قتل کرنے کی بات میں سارے تفرقے کو ایک طرف رکھ دیں گے۔
وہ سیکرٹ یہ ہے
کہ
اگر ان سب لوگوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا تو ؟
شیطان بے چارے کا کیا بنے گا ؟؟
گل سمجھ لگ گئی اے ناں ، اے سارے اللہ دے نام تے شیطان دے بندے نے !!۔


ایک کان صاحب، بادام بیچ رہا تھا ۔
گامے کو کہتا ہے بادم لے لو سیٹھ ! اس کے کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے ۔
گاما: اچھا وہ کیسے ؟
کان صاحب : میں ایک سوال پوچھتا ہوں اس کا جواب دو ۔
گاما : ہاں پوچھو !۔
کان صاحب : ایک سیر وزن میں چاول کے کتنے دانے ہوتے ہیں ؟
گاما : 38400 اٹھتیس ہزار چار سو دانے ۔
کان ساحب : بکواس کرتا ہے اے دال خور ، تم  نے چاول کا دانہ گنا ہوا اے ؟ گپ باز کمہارو!۔
گاما: کان صاحب وزن کا فارمولہ ہے
کہ 5 دانے چاول برابر ہے ایک رتی ،۔
آٹھ رتی کا ایک  ماشہ ، بارہ ماشے کا ایک تولہ  ، اسی تولے کا ایک سیر ،
یہ بنتے ہیں ، 5* 8=40 یعنی  ایک ماشہ ، 40*12= 480 ایک تولہ ، 480*80=38400 دانے چاول یعنی کہ ایک سیر ۔

اوئے کان صاحب ، عقل بادام کھانے سے نہیں آتی ،عقل تعلیم حاصل کرنے سے آتی ہے ۔

==================
جس کے پاس جا کر ہر مرد سر جھکا کر بیٹھ جاتا ہے ۔
اس کو کیا کہتے ہیں ؟،۔
اس کو راجہ (نائی) کہتے ہیں !!۔
اور  اس مرد مہربان کو کیا کہیں گے ، جو راجہ کے سامنے بھی سر نہیں جھکاتا ؟؟َ
اس مرد مہربان کو کہیں گے !
گنجا !!،۔؎


شرک اور عقیدت پر بات چل رہی  تھی۔
شیدا سیانا ، بڑا سنسنی خیز لہجے میں جیسے کہ سب کو اطلاع دے رہا ہو !۔
بتاتا ہے ۔
ویکھو جی ؛ دنیا بھر میں کوئی بھی دھرم  ایسے ہی کوئی پتھر اٹھا کر اس کی پوجا شروع نہیں کر دیتا ۔
پتھر کے ہر بت یا قبر کے تعویذ کے پیچھے ایک شخیصت  ہوتی ہے ، جس کی پرستش یا عقیدت کرتے ہیں ۔
خاص گامے کی طرف منہ کر کے کہتا ہے ۔
کیوں جی بھائی گامیا؟ کیا ایسا کوئی احمق ہو گا جو ایسے ہی ، کسی پتھر سے امیدیں لگائے بیٹھا ہو ؟؟
گاما ہلکا سا  “ آہو “ کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے ۔
شیدا سیانا تپ کر کہتا ہے ، بھائی گامیا ، کوئی گل کر کرن والی ، ایسا کوئی احمق ہو ہی نہیں سکتا جو صرف ایک پتھر سے عقیدت یا  امید رکھتا ہو ۔
گاما: یار شیدیا ! تم نے بھی تو وہ کتاب پڑہی ہے ناں ؟ “ پتھروں کے خواص”؟ اور تم نے بھی تو فیروزہ انگوٹھی میں منڈھ رکھا ہے ناں ؟
کہ اگر فیروزہ مافک آ گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے ۔
اسی طرح نیلم ، تامڑہ ، زمرد اور پکھراج پہننے والوں کی امیدوں سے کیا تم واقف نہیں ہو ؟
شیدا سیانا لاجواب ہو کر کھسیانی سی ہنسی  ہونٹوں پر سجا کر سب کی طرف دیکھتا ہے
او جی اے گاما ہے ہی کھسکیا ہوا ، جب بھی بولتا ہے  وکھی سے ہی بولتا ہے  ۔
ہی ہی ہی ہی !!!۔


سوال تھا کہ
اصحاب اعراف کیا ہیں ،۔
جواب : وہ لوگ جو جہنم اور جنت کے درمیان لٹکے ہوئے ہیں کہ
اس کے تیار کردہ کاغذات (نامہ اعمال) کے حساب سے ان کو جنت نصیب ہو گی کہ جہنم ۔
فی زمانہ
اپ ایسے لوگوں کی کیفیت کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو؟
ایسے لوگ دیکھ لیں جو ، امریکہ یورپ یا جاپان پہنچ چکے ہیں ،
اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ
امیگریشن والے ان کو جنت میں داخل کرتے ہیں یا کہ  ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

سوال تھا کہ
ذندیق کیا ہیں ؟؟
جواب : وہ لوگ جو فواید حاصل کرنے کے لئے  مسلمانون کے ساتھی ہوں لیکن دل سے اس نظام کی تباہی چاہتے ہوں ۔ بجائے تشکر کے کیڑے نکلاتے ہوں ۔
فی زمانہ
 امریکہ ،یورپ یا جاپان کی ایمگریشن ، نیشنیلٹی کے لئے ہلکان ، لیکن انہی ممالک کو درالاکفر ، کہتے ہوئے ان کی تباہی کی دعائیں کرتے ہیں ، ان کی مثال دیکھ سکتے ہیں ،۔

سوموار، 15 اگست، 2016

فوک وژڈم اور وچار


فلوک وژڈم (دیسی دانش) ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاپان کے دورے پر آئے ہوئے  پاکستان کے وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب سے ،ایمبیسی کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی ،۔
ڈار صاحب نے بہت تفصیل سے بتایا کہ جاپان کی حکومت نے اس بات کا بہت تکرار سے شکوہ کیا ہے کہ
جاپان کو لگتا ہے ، پاکستان تو جاپان کو بھول ہی گیا ہے ۔
راقم نے سوال کیا ،  جاپان کے اس شکوے کو دور کرنے کے لئے ، آپ کے ذہن میں کیا لائحہ عمل ہے ؟
تو ڈار صاحب نے بڑا منہ توڑ جواب دیا تھا ۔
پچھلے آدھ گھنٹے سے میں اس بات کی تو تفصیل بتا رہا ہوں  کہ جاپان کیا محسوس کرتا ہے ،۔
سوال چنا ، جواب گندم !!،۔
المیہ : حکمرانوں کی سوچ ہی چائینہ کا مال بن چکی ہے ،۔

چائینہ کا مال !!۔
ناقص کارگردگی کا استعارہ  ہے ۔
اور جاپان کا مال ؟
کوالٹی اور بھروسے کا نام ،۔
پاکستان میں اقتصادی کوریڈور سے لے کر ، ٹرینوں کے انجن ، چاند گاڑی ،بلکہ حکومت تک چائینہ کے مال سے چل رہی ہے ،۔
اور
دشمن پڑوسی ملک  ، کے ایٹمی پلانٹ ، ٹرینیں ، سی پورٹ ! ۔
جاپانی ماہرین بنا کر دے رہے ہیں ،۔
پھر کہتے ہیں ،
بنیا  بہت چالاک ہے ،۔
***************
کھاؤ خصماں دا سر ، تے ؟ سانوں کی !!۔


عید مبارک !!۔
****************
صرف میرے دوستوں ، خیر خواہوں اور پیاروں کو  “* عید مبارک “*۔
اللہ تعالی اپ سب کو بہت زیادہ خوشیاں نصیب فرمائیں ۔
******************
دیگر عوام   ، منافقوں کو ان کی منافقت ، جھوٹوں کو ان کا جھوٹ ، مغروروں کو ان کا ہنکار  مبارک ہو ۔
کتی کے بچوں کو ان کا کت خانہ ،مبارک ہو ۔

میرے طرف سے ،اپنی اپنی مبارک کا تعین خود کر لیں ۔
جزاک اللہ!!!۔

نوٹ : میں نہ تو خدا ہوں کہ سب پر رحمت  ہی کرتا چلوں
اور
نہ ہی منافق  ہوں !،۔


ہندو ایک طرز معاشرت ہے ،
جس میں برہمن ، مذہبی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ  کشتھری لوگوں کی “پوتھی “ (شجرہ) بھی لکھتا تھا ۔
اپ اس کو برتھ ریکارڈ رجسٹر سمجھ لیں ۔
اس رجسٹر کو سنبھالنے والے خاندان کو  مراثی کہتے تھے ، ۔
برصغیر میں پرانوں سے یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ
اپنی “جاتی “ تبدیل کر کے بڑی “جات “ (ذات) والے بن جاتے ہیں ،۔
یہ مراثی لوگ بھی کبھی کبھی علاقہ تبدیل کر کے  برہمن بن جاتے تھے ۔
لیکن ان کی بد قسمتی کہ ایک دو نسل تک لوگ ان کو “ بنا ہوا “ برہمن ہی کہتے تھے ،۔
پھر اسلام آ گیا ۔ یہی لوگ سید بن  جاتے تھے ،
لیکن برصغیر کے لوگوں کی ذہنیت کہ ان کو  بھی  “ بنا ہوا “ سید ہی کہتے تھے ۔
یہان جاپان میں ۔
پچھلی دو دہائیوں میں جن لوگوں نے جاپان کی شہریت لی ہے ان میں  زیادہ تر وہ پاکستانی وہ ہیں جو  “سید “ ہیں ۔
یہاں جاپان میں بھی یہی مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ہے کہ
سارا معاشرہ  ان کو “ بنا ہوا “ جاپانی ہی سمجھتا ہے ۔
مجبوری بھی ہے شکل ہی علیحدہ ہے ۔
لیکن کوئی بات نہیں جیسا کہ برصغیر میں ہوتا تھا
ایک دو نسل بعد تو “ اصلی والے “ ہی ہو جائیں گے ناں جی ۔

باتیں شکوفے ،چٹکلے


اسلام میں ، روح کی غذا “گانے “ حرام ہیں ۔
اور
میڈیکل سائینس میں  ، مریضوں کو سارے مزے کے کھانے حرام ہیں ،۔

یارو ؟ بندہ مسلمان بھی ہو اور مریض بھی تو؟

تسی آپ ای دسو کہ بندہ منجی کتھے ڈائے ؟؟
جواب: تسی بس “بٹ “ ہو جاؤ  تھے کھاندے ای جاؤ تے گاؤندے وی جاؤ ۔
مر تے اک دن جانا ای ایں ۔


گرمی دے موسم وچ ،آمبھ!
آمبھ کھان نال بندے وچ حوصلہ پیدا ہوندا اے !،۔
ہور بہتے سارے آمبھ خریدن کا حوصلہ ۔
ہدوانہ کھان نال ٹھنڈ پئے جاندی اے ،   ہدوانہ خریدن تے دل ای نئیں کردا !،۔


پینو سیانی ، اچھو ڈنگر کو ہمیشہ “ اچھو کوجا “ (بد صورت) کہہ کر پکارا کرتی تھی ،۔
پھر یہ ہوا کہ ایک دن پینو نے اچھو کی بنک والی پاس بک دیکھ لی ۔
اب
پینو سیانی ،   اچھو ڈنگر کو کیا کہہ کر پکارتی ہے ؟
کوجا تے کنگلا!!،۔


اچھو : یار گامیا؟ تم نے کبھی مشاہدہ کیا ہے کہ
یہاں کسی بھی دانش ور کی نسبت کسی بھی کتے کے زیادہ محسن ہوتے ہیں !۔
بھلا کیوں ؟
گاما : کیونکہ  کتّے دم ہلاتے ہیں ،۔
اور دانش ور کی دم نہیں ہوتی ۔


ایدھی صاحب کے لئے اللہ سے ان کے “جنت میں درجات” بلند فرمانے کی دعا کرنے والوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے
کہ
ایدھی جیسے لوگوں کو جنت میں بھیج کر اللہ تعالی  جنت کے درجات بلند فرماتے ہیں ،۔
جس پر جنت بھی  اللہ تعالی کی  مشکور ہوتی ہے ،۔
مولا خوش رکھے !۔

***************
ایدہی صاحب ، فوت ہو گئے ،۔
صرف بانوے سال کی عمر میں !،۔
ایدھی کے جانے کا پڑھ کر ، میرے ذہن میں ، شدّت کے ساتھ جو الفاظ ابھرے ،۔
وہ یہی ہیں ۔
ایڈھی چھیتی؟؟(اتنی جلدی)۔
اربوں سال عمر کی اس جوان کائینات میں اگر ایدہی کو  چند سو سال عطا کر دئے جاتے تو بھی کم ہی تھے ،۔ صرف بانوے سال !۔
دیسی دانش میں ایک محاورہ ہے کہ
جو لوگ خوبصورت فطرت  لے کر پیدا ہوتے ہیں  ، ان کی عمر بہت کم ہوتی ہے ،۔
ایدہی صاحب ایک بہت ہی خوب فطرت انسان تھے ، اسی لئے ان کو اتنی جلدی بلا لیا ہے  رب نے اپنے پاس ،۔
ہر رزو ،لوگوں کے مرنے کی خبریں پڑھتے ہیں ، سنتے ہیں ،ایک فقرہ لکھ کر گزر جاتے ہیں ،۔
انالله و انا الیه راجعون ،۔
وہ بھی کاپی پیسٹ  کرتے ہیں ،۔
یہ علم تھا کہ اب ایدھی صاحب کے دن کم ہیں ، سفید ریش ضعیف ، نقاہت جس کی ہر ادا سے جھلک رہی ہے ،۔
اس کے جانے کا زمانہ اب ایا ہی چاہتا ہے ،۔
لیکن پھر بھی دل کو تسلی دیتے تھے ،۔
شائد ابھی نہیں !!،۔
یہ موت ،انالله و انا الیه راجعون کہہ کر گزر جانے والی نہیں ہے ۔ میرے جیسے کٹھور دل کے بندے سے بھی بہت سے انسوؤں کا نذرانہ لے کر جانے والی موت ہے ،۔
ایدھی جیسے لوگ  روز روز پیدا نہیں ہوتے ، ایدھی جیسے لوگ ، خدا کے ہونے کا ثبوت لے کر آتے ہیں ۔
اور مذاہب کے منہ پر تھپڑ لگا کر چلے جاتے ہیں ،۔
عبدل ستار ایدھی ، زندہ باد !!۔

یوکائی واچ یعنی واہموں والی گھڑی ،۔

یوکائی واچ یعنی واہموں والی گھڑی کا ٹائیٹل ایمجز، ایج بشکریہ وکی پیڈیا
یوکائی واچ یعنی واہموں والی گھڑی ،۔
====== کہانی کا مرکزی خیال  ======
ایک لڑکا جس کا نام “ کے ای تا” ہے ،جاپان میں ساکورا نیو ٹاؤن نامی ابادی میں رہتا تھا ،۔
ایک دن جنگل میں بینڈے (کیڑے مکوڑے) پکڑنے کے لئے جاتا ہے ،۔
جنگل میں ایک پرانے درخت کے پاس اس کو گیند نما کیپسل ملتے ہیں ،۔
کے ایتا ان میں سے ایک کیپسل کو کھولتا ہے  تو اس میں سے ایک  یوکائی (بھوت یا واہمہ ) نکلتا ہے  ،۔
کیپسل مشین ، خیالی مشین کا ایمج ، جس میں سے کے ایتا کو یوکائی ویسپا والا کیپسل ملا تھا ۔

جس کا نام ہے ویسپا (سرگوشیاں)!۔
ویسپا  نامی یہ واہمہ  کے ایتا کو ایک گھڑی دیتا ہے ،۔
اس گھڑی کام ہے یوکائی واچ !۔
یوکائی  یعنی واہمے  واچ یعنی گھڑی ،۔
واہموں کو شناخت کرنے والی گھڑی ، یوکائی واچ!۔
اس یوکائی واچ سے کینتا  مختلف یوکائی (واہموں) کو دیکھنے اور ان کو قابو کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ،،۔
یہاں ان دونوں یعنی ویسپا اور کے ایتا کے ساتھ ایک بلی کی روح جو کہ یوکائی بن چکی ہے بھی شامل ہو جاتی ہے ،۔
اس کانام ہے جی بانیاں !،۔
یوکائی یعنی واہمے جو کہ معاشرے میں انسانوں کے روئیے پر اثر انداز ہوتے ہیں ،۔
کیپسل والی مشین سے آیت مصطفے والموں کا میڈل خرید کر دیکھا رہا ہے۔

یہ تینوں ، کے ایتا ، ویسپا، اور جیبانیاں مل کر ان واہموں کو شکار کرتے ہیں ،۔
یوکائی جو کہ معاشرے میں سارے فساد  کی جڑ ہوتی ہیں ،۔
یہ تینوں  اپنی گھڑی یوکائی واچ سے ان یوکائی یعنی واہموں کو شناخت کر کے ان کا سد باب کرتے ہیں ،۔
کےای تا کی کلاس دیکھتا ہے کہ اس کوئی کلاس فیلو  اچناک ایک دن مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے ،۔
کیتا کو  جیبانیاں احساس دلاتی ہے کہ اس پر ضرور کسی  یوکائی کا اثر ہے ،۔
کیتا اپنی گھڑی کے کور کو کھول کر دیکھتا ہے تو اس کو اپنے کلاس فیلو کے سر پر سوار  یوکائی (واہمہ) نظر آتی ہے ،۔
جس کا نام ہے مایوسی ، ۔
اس پر کیتا  ، ویسپا سے مشورہ کرتا ہے تو ، ویسپا جو کہ یوکائی (واہموں) کے معاشرے کا علم رکھتا ہے ۔
کیتا کو مشورہ دیتا ہے کہ
اگر ہم امید نامی یوکائی کو دوست بنا کر لے آئیں تو  امید نامی یوکائی کے سامنے یہ مایوسی نامی یوکائی بھاگ جائے گی ،۔
کیتا اور اس کے دونوں ساتھی  جیبانیاں اور ویسپا ، تلاش کر کے امید نامی یوکائی لے آتے ہیں ،۔
امید نامی یوکائی کا چہرہ روشن اور کھلا کھلا ہوتا ہے اس کو دیکھ کر ہی  دل کھل اٹھتا ہے ،۔
جب امید نامی یوکائی (واہمہ) مایوسی نامی یوکائی (واہمہ) کے سامنے آتی ہے تو  مایوسی ، امید کو بھی بھی مایوس کرنے کی کوشش کرتی ہے ،۔
جیبانیاں ۔

لیکن امید کے ساتھ ہلا شیری دینے کے لئے کیتا اور اس کے ساتھ موجود ہوتے ہیں اس لئے امید کی جیت ہوتی ہے اور مایوسی بھاگ جاتی ہے ،۔
جس سے کیتا کا کلاس فیلو ایک دفعہ پھر سے امید یافتہ فرد بن کر خوش خوش نظر آنے لگتا ہے ،۔
اسی طرح یہ کہانی چلتی رہتا ہے ،۔
کہ جب بھی کسی فرد پر یا کہ افراد پر کسی فساد ڈالنے والے یوکائی  (واہمے) کا اثر ہو جاتا ہے تو کیتا اور اس کے ساتھی اس کے مقابلے میں اس فساد کا توڑ کرنے والی یوکائی (واہمے) کو دوست بنا کر لے آتے ہیں ،۔
یوکائی کو شناخت کرنے والی گھڑی کی وجہ سے کیتا نے  سماج دوست واہموں کو دوست بنا رکھا ہے اور کیتا مسلسل سماج دوست واہموں کو دوست بناتا چلا جاتا ہے ،۔
فساد ڈالنے والے واہموں کو جن سے ایک دفعہ نمٹ لیتا ہے ان سے بھی واقفیت ہو جاتی ہے ،۔
اس لئے جب مستقبل میں ان سے دوبارہ واسطہ پڑتا ہے تو ، ان سے معاملہ کرنے میں اسانی رہتی ہے ،۔
یوکائی () کے برے اثرات سے معاشرے کو بچانے کے اس مشن میں کے ایتا کے دوست “کوما” بمعنی ریچھ  ایدےای (کانچی) اور کاتی ائے (فومی چاں) بھی اس کی مدد کرتے ہیں ،۔
بعد میں کہانی میں ایک لڑکی بھی شامل ہو جاتی ہے جو کہ اس قصبے میں نئی وارد ہے ،۔
اس لڑکی کا نام اینا ہو ہے اور اس کے پاس اس کی اپنی یوکائی واچ ہے ،۔
ایناہو کے پاس سپیس ویسپا نامی یوکائی ہے ،۔

============
مندرجہ بالا کہانی  یوکائی واچ یعنی کہ واہموں والی گھڑی کا مرکزی خیال ہے ۔
اس کے بعد اسی کہانی کی بنیاد پر ٹیلی وژن کی کارٹون سیریز چلتی ہے ،۔
جس میں ہر دفعہ ایک نئی کہانی ہوتی ہے ،۔
مرکزی خیال میں  ، جن کرداروں کا ذکر ہوا ہے ان کے ساتھ  کچھ نئے کردار ملا کر اور مختلف واہموں  سے مختلف کہانیاں  ہوتی ہیں ،
اسی طرح  میگزین میں بھی یوکائی واچ یعنی واہموں کی گھڑی کی تصویری کہانییاں ہوتی ہیں ،۔
جن کو جاپانی زبان میں “ مانگا “ کہا جاتا ہے ،۔
جاپانی زبان کا یہ لفظ مانگا اج دنیا کی کئی زبانون میں استعمال ہو رہا ہے ،۔
انگریزی ، فرانسیسی اور لاطینی میں  جاپانی زبان کے لفظ مانگا کو مانگا ہی لکھا پڑھا اور بولا جاتا ہے  ،۔
یوکائی واچ کی ویڈیو گیمز بہت مقبول ہیں ،۔
نینٹنڈو  کے ڈی ایس نامی ڈوائیس پر یوکائی واچ کی گیمیز کھیلی جاتی ہیں ،۔
کچھ گیمز سمارٹ فونز پر بھی کھیلی جاتی ہیں ،۔
گیم کے کھلاڑی  گیم میں واہموں کو کھانے کی چیزیں دے کر یا کہ بیٹلز میں جیت کر واہموں کو دوست بنا لیتے ہیں  یا قابو کر لیتے یں ،۔،۔
ان قابو کئے ہوئے واہموں سے گیمز میں دیگر واہموں پر قابو پانے اور اسی طرح گیم سے گیم نکلتی جاتی ہے ،۔
یوکائی واچ کی مقبولیت کی وجہ سے مارکیٹ میں بہت سے کھلونے یوکائی واچ کے ٹریڈ مارک کے ساتھ بک رہے ہیں م،۔
تولئے ، بھالو ، لنچ بکس ، گارمنٹس اور یوکائی واہموں کے میڈیل، ان میڈیلز سے جس واہمے کا میڈل ہو وہ واہمہ ایک کیور آر کوڈ کے ذریعے گیم میں داخل کر کے اس سے کھیلا جا سکتا ہے  ،۔
جاپان کے معاشرے میں اگر کارٹونز سیریز کی مقبولیت کو مختصر بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے
کہ
گزری صدی میں ستر کی دہائی ،دورائے مون کی مقبولیت کی دہائی تھی ، اسّی کی دہائی ،کریو چین چان کی دہائی تھی اور نوئے کی دھائی  پوکے مون کی دہائی تھے ،۔
اس صدی کی دوسری دہائی یوکائی واچ کی دہائی ہے ،۔
یوکائی واچ کی مقبولیت کی انتہا کے دنوں  یعنی  دوہزار سولہ میں پوکے مون گو کی اچانک مقبولیت نے دنیا کو چونکادیا ہے ۔


ہفتہ، 13 اگست، 2016

مذید وچار اور دیسی دانش


خلافت کے خاتمے سے کچھ دہائیاں پہلے !۔
ترکی میں ینی چری فوج اس کمال کو پہنچ چکی تھی کہ اپنی مرضی کے سلطان لگاتے ،ہٹاتے رہتے تھے ۔
سلطان مصطفٰے نے ان کو بیرکوں میں محدود کیا ،۔
مصطفٰے کمال پاشا کے بعد فوج ترکی کو کنٹرول کرتی تھی ، معاشرتی سمجھ بوجھ کو استعمال کر کے اردگان نے فوج کو کونے لگایا ،۔
اج ترکوں نے تیسری دفعہ فوج کو بیرکوں میں دھکیل کر واپس کیا ہے ،۔
لیکن میری قوم کی بد قسمتی کہ
ان کو اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ فوج ہو یا کہ سیاستدان ، مولوی ہوں یا کہ رائیٹرز ان سب کا اپنی اپنی حدود میں رہنا معاشرے کے لئے کتنا سود مند ہوتا ہے ۔
اگر کو ئی دانش ور ان کو اس بات کے “ سود مند “ ہونے کا بتانے کی کوشش کرئے گا تو؟
یہ احمق ، سود کے حرام حلال پر بحث شروع کر دیں گے ،۔


نواز شریف کو جو بندہ بھی قریب سے دیکھتا ہہے اس کو احساس ہوتا ہے کہ
ایسا ڈھگا بندہ ؟
اگر ایسے کو جنرل جیلانی اور جنرل ضیاء ، اس عروج تک پہنچا سکتے ہیں تو؟
میں بھی کیوں نہ بوٹ پالش کا وظیفہ شروع کر دوں ۔
مثالیں : عمران خان اور مولوی قادری ۔
ایک شعر
ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں
کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لئے ۔
سمجھ تے گئے ہو گئے تسی ؟


فوک وژڈم یعنی دیسی دانش۔
میری قوم کی تین بڑھکیں ۔
پہلی :  تہانوں پتہ ای اے
کہ
میں کدی جھوٹ نئیں بولیا !!،۔
**جھوٹ **
دوسری : تہانوں پتہ ای اے
کہ میں گل منہ تے کرنا واں ، مینوں غیبت دی عادت نئیں ،۔
**غیبت **
تیسری : تہانوں پتہ ای اے
کہ
جدوں مینوں غصہ چڑھ جاوے ،تے فیر !!،۔
** بزدل **

 مولوی کا رب ! جبار و قہار ہے ، آگ کا ایک لاؤ دھکائے بیٹھا ہے  ،  جو اس آگ سے بچ گیا  وہ کامیاب ہوا ،۔
گامے کا رب ! رحمان و رازق ہے ، ایک باغ لگائے بیٹھا ہے ، جو اس باغ کی بہاریں نہ لوٹ سکا ، وہ بلکل ہی عقل کا اندھا ہو گا ،۔
پنڈت اور مولوی کے رب کا خوفناک ہونا  ہی  مسجدوں اور مندروں کے چڑھاوے  کے کاروبار کی بڑھوتری ہے ،۔

جمعہ، 12 اگست، 2016

ماں بولی ،پنجابی اور دیسی دانش


پاکستان کے سیاسی ورکروں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ
اگر ترکی جیسا معاملہ پاکستان میں ہو جاتا تو؟
آپ جنم لینے سے پہلے ہی یتیم ہو چکے ہوتے  ۔
یہ معاملہ جرنل عیوب کے ساتھ ہو جاتا تو ؟
تو ناں بھٹو کو ڈیڈی ملتا ، ناں پیپلز پارٹی ہوتی اور نہ  ہی ۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر یہ معاملی جرنل ضیاع کے ساتھ ہو جاتا تو؟
تو ناں جرنل جیلانی ہوتے  نہ  شریف صاحب کے بیٹوں کو اقتدار ملتا اور نہ اپ کو نونیے کہلوانے کا موقع ملتا !،۔
اور اگر ؟
جرنل پاشا کی ریٹائیرمنٹ نہ ہوتی تو ؟
عمران اج وزیر  یازم ہوتا ۔
پی ٹی آئی والوں کے پٹ سیاپے ہوتے ، اور قندیل  بلوچ ابھی زندہ ہوتی ،۔
:: ہور وی لکخاں ؟ کہ اینا ای کافی اے ؟


*پنجابی*
کر کے ظلم عروج تے آؤن والے

ایس گل دا زرا خیال رکھیں

جا کے اوتلی ہوا وچ پاٹ جاندے

جنہاں گڈیاں نوں کھلی ڈور ملے ۔

**پیر فضل شاھ گجراتی۔**

بڑا کہاون تے بڑا دکھ پاون ، تے میں بڑا کہا کے بھلی
بڑے اونٹ مر جاندے ، پالے ، نہ کوٹھا نہ کلی
بڑے رکھ ڈِگ پیندے نے ، جد پوند ہنیری جھلی
 تے بلھّیا رب تو تِنّے منگ لے  ، کُلّی گُلّی جُلّی ۔

ایک پرانا لطیفہ ہے
کہ
بی آر بی نہر  کے اپری علاقے ، اور نواح کے باجوے (میرے فیس بک کے دوستوں میں بھی کچھ باجوے ہیں ، ان سے معذرت کے ساتھ) ۔
رات کے وقت گزرنے والے راہگیروں کو لوٹ لیا کرتے تھے ۔
میاں والی بنگلہ سے ایک مراثی گزر رہا تھا کہ لوگوں کے کہا ادھر نہ جاؤ، باجوے لوٹ لیں گے ۔
مراثی نے سوال جڑ دیا ، کچھ پاس ہو تو ہی لوٹتے ہیں
یا کہ کاغذ بھی کروا لیتے ہیں ؟
 وہ پرانا زمانہ تھا
اج سرمایہ دارانہ نظام میں ، جس کے پاس کچھ ہو ، وہ تو لٹتا ہی ہے
 ، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس سے کاغذ کروا لیتے ہیں ،۔

جمعرات، 11 اگست، 2016

حالات حاضرہ


ریو دی جنیرو اولمپک میں صرف سات نفر پاکستانی اتھلیٹ شامل ہو سکے ہیں ،۔
صرف سات ، جن میں سے چار کی تربیت پاکستان سے باہر ہوئی ہے ،۔
پاکستان میں اب کھلاڑی ، رائیٹرز ، فنون لطیفہ یا فنون سائنس کے لوگ پیدا نہیں ہوتے ،۔
اب وہاں صرف "مذہب" ہی رہ گیا ہے ۔
ساینس ، ادب ، تکنیک کی کتاب نہیں ملتی ،۔
صرف مذہبی کتابیں ملتی ہیں ،۔
یاد رکھیں ! جن معاشروں سے فنون ادب  اٹھ جاتا ہے وہ معاشرے زمانے کا ٹھٹھول بن کر رہ جاتے ہیں ،۔
جیسے کہ پاکستان کا معاشرہ ،۔
اگر کسی کو شک ہے تو ؟
مولا خوش رکھے ، تسی بڑے عظیم لوگ ہو ، تہاڈے نال بحث کر کے میں ذلیل نئیں ہونا چاہندا ۔

 مولا خوش رکھے
ویسے اپس کی بات ہے
یہ جاپان امریکہ والے جتنے چاہیں گولڈ میڈیل جیت لیں
آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ،۔

ریو دی جنیرو اولمپک کے پہلے ہی روز ! پاکستان کی ایک کھلاڑی کے ہار کر اولمپک سے آؤٹ ہونے پر
آپ کا کیا خیال ہے کہ
اگر کھلاڑیوں کی بجائے سٹیج پر کھڑے ہو کر بلند بانگ تقریروں کا مقابلہ ہوتا تو ؟
پاکستان کے مذہبی دانشور ضرور کوئی ناں کوئی میڈل لے آتے ؟
جی نہیں آپ کا خیال غلط ہے۔
معاشرتی انحطاط کی انتہا ہے کہ
ایسا بھی نہ ہوتا
کیونکہ
ترقی یافتہ ممالک میں بکواس کرنے کے ماہرین بھی ہوتے ہیں ،۔
جن کو جوکر کہتے ہیں ،۔
ہمارے مذہبی دانشوروں نے ان سے شکست کھا جانی تھی ،۔

اصلی لفظ ہے پوکے مون، پوکٹ مونکی کو مختصر کر کے بولنے کی جاپانی عادت نے اس کو پوکے مون بنا دیا ،۔
اج کل ایک گیم چل رہی ہے، جس میں پلئیر فون لے کر چلتے چلتے ہیں ، پلئیر کو کہیں بھی کوئی کریکٹر مل جاتا ہے جس کریکٹر سے " بیٹل " کرتے ہیں ،۔
ابھی یہ گیم جاپان میں نہیں آئی ،
لیکن حیرت انگیز طور پر کوریا کے ایک پارک میں یہ کریکٹر ملنے لگے ہیں ۔ شائد جی پی ایس والے سٹلائیت میں کوئی کوڈ یہ شرارت کر رہا ہے ۔
پوکے مون ، اینیمیشن کریکٹرز ہیں ، نوے کی دہائی میں اپنے عروج تک جانے والی اس سیریز کی ویڈیو گیم بھی بنائی جاتی ہیں ،
طرح طرح کے کریکٹرز ایک گولے میں بند ہوتے ہیں ،
جن کو نکال کر بچے “بیٹل “ کرواتے ہیں ،
ویڈیو گیم میں ان کریکٹرز سے کھیلا جاتا ہے ،۔
نئی انے والی گیم ایک موبائل فون ایپلی ہے ،۔جو کہ جی پی ایس سسٹم کے ساتھ کام کرتی ہے ،۔
اس گیم میں کمپنی کے پوکے مون کے کریکٹرز امریکہ کی سر زمین پر آبادیوں میں ،جگہ جگہ تخلیق کر دئے ہیں ،۔
جاپان میں اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنے سے منع کیا جا رہا ہے
کیونکہ خدشہ ہے کہ اس سے فون مشین وائیرس سے متاثر ہو سکتی ہے ،۔
ویسے بھی پوکے مون بنانے والی کمپنی جاپانی کمپنی ہے اور کمپنی نے ابھی یہ گیم جاپان میں کھیلنے کے لئے جاپان کی سرزمین پر کریکٹرز تخلیق ہی نہیں کئے ہیں ،۔
فلحال یہ کریکٹرز چند ممالک میں متعارف کروائے گئے ہیں ۔
مستقبل قریب میں یہ کریکٹرز ساری زمین پر بھی پائے جا سکتے ہیں ۔
امریکہ میں ایک قبرستان کے قریب، پوکے مون کے کریکٹر کی بہتات کی وجہ سے جوان لوگون کا ایک ہجوم لگا رہتا ہے ،۔
اس قبرستان کی انتظامیہ نے  پوکے مون کمپنی سے درخواست کی ہے کہ جی پی ایس سسٹم میں موڈفکیشن کر کے ان کریکٹرز کو سڑک کے اس پار والے پارک میں متقل کر دیا جائے ،۔
جگہ جگہ ،چرچوں کے آس پاس ان کریکٹرز  کے پائے جانے سے جوان سال اور نو عمر لڑکے لڑکیاں چرچوں کے سامنے ، جوق در جوق اکٹھے ہو رہے ہیں ،۔
اپنے فون کی سکرین میں مگن  جوان سال پلئیر ،حادثوں  بھی شکار ہو رہے ہیں ،۔
نوے کی دہائی میں اپنے عروج پر جانے والی پوکے مون سیریز  ، جاپان میں یوکائی واچ نامی سیریز کے انے سے دوسری پوزیشن پر چلی گئی ہے ،۔
جاپان میںپوکے مون کی مقبولیت اج بھی یوکائی واچ کے بعد ہے
لیکن امریکہ اور دیگر ممالک میں پوکے مون “گو” کی ریلیز کے بعد ایک دفعہ پھر پوکے مون کا زمانہ  آ چکا ہے ،۔

Popular Posts