جمعرات، 30 مارچ، 2017

مرزا صاحباں


مرزے کی تاریخ پدائش 28 مارچ  1586ء بتائی جاتی ہے اور صاحباں اس سے ایک سال چھوٹی تھی م،۔
مرزا صاحب کے قصے کو حافظ  برخوردار اور دمدھرداس  نے منظوم لکھا ہے ،۔
کچھ اور شاعروں نے اگر لکھا ہوتو میرے علم میں نہیں ہے ،۔
حافظ برخودار کی کہانی  دانا باد کی مہری لانگی نامی خاتون سے شروع ہوتی ہے جو نوشوھ پیر کی خانقاھ پر اپنے بیٹے کی  لمبی زندگی کی دعا مانگتی ہے ،۔
مرزا دانا باد کا کھرل  تھا جو کہ اپنے نانکے کھیوے میں پلا بڑھا تھا ،۔
یہاں اس کی محبت صاحباں سے پروان چڑھتی ہے ، صاحباں کے بھائیوں کو بھنک مل جاتی ہے صاحباں اپنے بھائیوں کی تیور دیکھ کر مرزے کو دانا بادواپس اس کے دادکے بھیج دیتی ہے ،۔
مرزے کی غیر موجودگی میں صاحبان کی شادی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے ،۔
صاحباں  ، کرموں برہمن  کے ہاتھ مرزے کو خط بھیجتی ہے ،۔
مراز خط ملتے ہی اپنی گھوڑی جس کا نام نیلی تھا اس پر سوار دانا باد کا رخ کرتا ہے ،۔
شاعروں نے مرزے کی گھوڑی نیلی کی بہت تعریف کی ہے ، پنجابی کی شاعری میں کسی جانور کی تعریف کی ایک طرز کی بنیاد سی رکھ دی ہے ،۔
مرزے کے کھیوے کی طرف چلنے پر اس کو اس کا باپ ونجھل ، ماں مہری لانگی بہت سمجھاتے ہیں ،۔
ماں بات کے سمجھانے کو منظوم کر کے پنجابی میں محاوروں اور دانش کی بے مثال شاعری کی گئی ہے ،۔
مثلاً
چڑھدے مرزے خان نوں
جٹ ونجھل دینا مت
پٹ رناں دی دوستی
تے گتیں جنہان دی مت
ہس ہس لاندیاں یاریاں
تے رو کے دیون دس ،۔
اسی طرح راستے میں ایک مسافر ملتا ہے جو مزرے کو سمجھاتا ہے ۔

اس پر بھی بہت خوبصورت شاعری کی گئی ہے ،۔

مرزا جب کھیوے پہنچتا ہے تو اس کو اس کی پھوپھی  خطروں سے آگاہ کرتی ہے اور بہت سمجھاتی ہے ،
لیکن مرزا، صاحباں کو کھارے کی رسم کے دوران ہی  گھوڑی پر بٹھا لے اڑتا ہے ،۔
کھیوے سے دانا باد کے راستے میں بیلے میں بیری کے ایک  گھنے درخت کے نیچے جس کی شاخیں جھک کر  سائیبان سا بن چکا تھا اس کے نیچے آرام کرتے ہیں
یہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کو شاعر لوگ  “ عشق کی آخیر “ کا نام دیتے ہیں ،۔
مراز جب سویا ہوا ہوتا ہے تو صاحباں کے دل میں اپنے بھائیوں کا درد جاگ جاتا ہے اس کو خوف پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرزا مقابلے پر اتر آیا تو میرے بھائی مارے جائیں گے اس لئے وہ  مرزے کا ترکش درخت پر ٹانگ دیتی ہے اور اس کی گھوڑی کو “ٹنگا” ڈال دیتی ہے  یعنی اگلی اور پچھلی ایک ایک ٹانگ کو رسے سے جوڑ دیتی ہے ،۔
 صاحباں کا بھائی شمیر سوتے مرزے پر جب ڈانگ کا وار کرتا  ہے تو مرزے کی آنکھ کھلتی ہے
جب مرزا اپنی نیلی کو ٹنگے دیکھتا ہے اور تیر کمان کو درخت پر تو یہاں مرزے کی کیفیت کو شاعروں نے خوب لکھا ہے اور گوئیے لوگوں نے خوب گایا ہے ،۔
عالم لوہار کی آواز میں آپ نے سنا ہو گا
نی توں مندا کیتا صاحباں
میرا ترکش ٹنگیا  جھنڈ
میری گھوڑی چھڈی آ ٹنگ
مینوں باجھ بھرواں ماریا
میری  ننگی ہوگئی کنڈ
مرزے اور صاحباں کو قتل کر  دیا جاتا ہے
مرازے کی گھوڑی خالی جب دانا باد پہنچتی ہے تو  جٹ ونجھل کے بیٹے کی موت پر ترلے اور غم کی کیفیت بھی شاعروں نے خوب لکھی ہے ،۔
دانا باد کے کھرل مرزے کے خون کا بدلہ لینے کے لئے  
کھیوئے پر حملہ کرتے ہیں کھیوے کے جٹوں کے سروں کے ڈھیر لگا دیتے ہیں
اور ان کے گاؤں کو جلا کر خاک  کر دیتے ہیں م،۔

جمعہ، 17 مارچ، 2017

جاپان اور معدنی دولت

جنگ کے بعد کے جاپان ، یعنی جنگ عظیم دوم کے بعد !،۔
جاپان نے جو معاشرت ترتیب دی ہے اس کی نظیر اقوام عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی ،۔
سو سال کی تعلیم کو اس ترقی کی اساس کہوں گا
اور
معدنی دولت  کو اپنی منظم محنت سے ترقی کی معراج بنا دیا ،۔
معدنی دولت   کوئلہ اور سیمنٹ   ،جی ہاں جاپان کوئلہ اور سیمنٹ  کی معدنی دولت سے مالامال ہے ،۔
جنگ کے بعد چالیس اور پچاس کی دھائی  جاپان  آبادی کی اکثریت کان کنی میں مصروف تھی ، اور باقی کی لوہے کو  ڈھالنے میں لگی ہوئی تھی ،۔
زلزلوں کی سرزمین جاپان  میں فلک بوس عمارتیں  لوہے اور سیمنٹ   انبار ہیں ،۔
یہاں گنماں کین کے پہاڑوں میں اتنا سیمنٹ ہے کہ جاپان کی سو فیصد ضرورت کو پورا کرتا ہے ،۔
گنماں کی پہاڑیوں سے زمین دور ٹرینیں سائیتا کین کے کوما گایا شہر تک چلتی ہیں ،۔
کوماگایا  جہاں جاپان  ایک عظیم سیمنٹ فیکٹری کام کر رہی ہے ،۔

پاکستان ، بھی ان دو چیزوں کوئلہ اور سیمنٹ کی دولت سے مالا مال ہے ،۔
لیکن عربوں کی سنت ہے کہ تیل کی دولت مالامال لیکن ریفائنری کی تکنیک میں نا اہل ،۔
پاکستان  بھی عربوں کی سنت پر عمل پیرا نظر آتا ہے
کہ
کوئلے اور سیمنٹ کو استعمال کرنے کی تکنیک سے نااہل،۔
فارن کی کمائی سے لاکھوں ڈالر پاکستان بھیجنے والا ایک محنتی شخص جب دس سال بعد پاکستان گیا تھا
تو اس نے دیکھا کہ اس کی کمائی ساری کی ساری ضائع ہو چکی ہے ،۔
گھر پر وہی  برتن ، وہی چمچ اور وہی رضائیاں تھیں جو وہ چھوڑ کر گیا تھا ،۔
ابا جی نے اس کو بتایا کہ
جو بھی کاروبار کیا اس میں نقصان ہوا 
بس جی میری قسمت ہی خراب تھی ،۔پاس ہی گاما کھڑا تھا
کہنے لگا
چاچا تیری قسمت نئیں ،دماغ خراب اے ،۔
آپ کا کیا خیال ہے ؟
پاکستان کے ارباب اقتدار کی بھی قسمت ہی خراب لگتی ہے ،۔

بدھ، 15 مارچ، 2017

جاپان

دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو  جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔
تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپانی قوم ایک عظیم قوم ہے ، معلوم تاریخ میں ایسی معاشرت کی مثال نہیں ملتی ،۔
آج کے جاپان کا معیار زندگی  تاریخ میں کسی بھی قوم کو نصیب نہیں ہوا ،۔ معدنی دولت ، جنگوں کی کمائی یا کہ غلاموں کے استعمال کے بغیر صرف اور صرف امداد باہمی سے تعمیر کی کئی معاشرت کو بے مثال اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ
برف کے دوسرے طوفان کو ختم ہوئے کوئی گیارہ ہزار سال ہونے کو ہیں ،۔
جن میں سے صرف چھ ہزار سال کی تاریخ کو معلوم تاریخ کہا جاتا ہے ،۔
جس میں بہت سے ابہام بھی ہیں ،۔
اگر چہ کہ جاپان میں برف کے طوفان کے دوران  کی ایک تہذیب کے بھی ثبوت ملتے ہیں
لیکن جاپان سے باہر کی دنیا میں بلخصوص ایشا میں انسانی تہذیب کے سب سے پرانے نشانات میں حمورابی کے قانون کے
نشان ملتے ہیں ، بادشاھ حمورابی کی معاشرت میں بھی غلاموں سے کام لینے اشارے ملتے ہیں م،۔
میسوپٹومیا ،  چار ہزار سال سے پانچ ہزار سال  پہلے کی تہذیب جس سے ملنے والی تحاریر سے حمورابی کا سراغ ملتا ہے ،۔
جو کہ اندازاً کوئی ایک ہزار سال کے واقعات ہوں گے م،۔
سمیری لوگ خود تاجر پیشہ تھے ، سمندروں میں سفر کرنے کے لئے انہوں نے بھی غلاموں  سے کام لیا ،۔
سمیریوں کو  لوٹنے والے  بادشاھ سارگون کے قبائل کی اسودگی  کی بنیاد سمیریوں سے لوٹی ہوئی دولت تھی ،۔
اس کے بعد مصر میں فرعونوں کی تہذیب ہمارے لئے نشانیاں لئے ہوئے ہے ،۔
یہ تہذیب بھی غلاموں کی محنت سے اپنے وقت میں عروج پر تھی ،۔
مصریوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر
اسودہ معاشرت قائم کی ،۔

 اس سے پہلے یا کہ ساتھ ساتھ موہن جودڑو کے کھنڈرات ہیں ، جس کی تحریر کو پڑھا ہی نہیں جا سکا
ہو سکتا ہے یہاں انسانی برابری کا کوئی معاشرہ ہو
 یا کہ نہیں بھی ہو سکتا ،۔ْ

ادبی ذوق اور فنون لطیفہ  کی لیڈر قوم یونانی،۔
یونانیوں میں دولت کی بہتات  جنگوں سے لوٹ کے مال اور اغوا کئے ہوئے غلاموں  کی وجہ سے تھی ،۔
یہودی  تجارت کے ساتھ ساتھ غلاموں  کی خرید فروخت سے اسودہ زندگی کی ایک تاریخ رکھتے ہیں ،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت ، ہندو !،۔
ہر دور میں مال اور کھانے کی بہتات لئے اس معاشرت میں طبقاتی اونچ نیچ تھی ،۔
امیر بہت امیر اور غریب بہت غریب  تھے ،۔
ہندو معاشرت جو کہ جاپانیوں کے لئے مذہبی ، روحانی اور معاشرتی طور پر ہمیشہ قابل رشک رہی ہے ،۔
خود اس معاشرت میں ایسی برابری کبھی نہیں رہی جیسی کہ اج کے جاپان میں ہے ،۔
آج کے جاپان میں دولت ہے ، مال ہے ، لیکن یہ معاشرت نہ تو جنگ میں لوٹی ہوئی دولت سے اور نہ ہی زمین سے نکلنے والی دولت  کی طاقت سے بنی ہے ،۔
اور نہ ہی اج کے جاپان میں ،غلامی کا کوئی تصور ہے ۔
یہ معاشرت صرف اور صرف باہمی امداد اور رواداری سے بنی ہے ،۔
امریکہ اور یورپ کی معاشرت کا تقابل  جاپان سے کرنا ہے تو
صرف اس بات تک کہ وہ ساری چیزیں جو جاپانی استعامل کر  رہے ہیں اور ایسی ہی انسانی برابری  یورپ اور امریکہ میں بھی پائی جاتی ہے ،۔
لیکن
یاد رہے
کہ
یورپ کی یہ مال داری افریقہ اور ایشیا کے ممالک سے کالونیوں کے عروج کے دور میں لوٹی ہوئی دولت ہے ،۔
امریکہ کی دولت مندی کے پیچھے جنگ کی فروخت ہے ،۔
جاپان میں نہ کالونیون سے چرائی ہوئی دولت ہے
نہ جنگی مال بیچ کر کمایا ہوا مال
نہ یہاں کوئی سونے کی کانیں ہیں اور نہ ہی مال غنیمت سے بنا ہوا کوئی بیت المال !!،۔
دنیا کی پرانی ترین معاشرت  ہندو ، جاپان سے مدد لے کر اپنی معاشرت کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہے ،۔

تیل کی دولت سے مالا مال  سعودی عرب کا بادشاھ اج یہاں  جاپان سے مدد مانگنے آیا ہوا ہے کہ
جاپان کا یہ نظام جو کہ نہ  مال غنیمت پر اور نہ ہی تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے ،
یہ نظام ہمیں بھی بنا کر دیں ،۔

جاپان انڈیا کو گائڈ کر رہا ہے کہ کیسے اپنے مزدوروں سے کام لے کر ملک سے بجلی کی قلت کو ختم کر سکے ، تیز ترین ٹرین کیسے چلا سکتا ہے ، ٹیکسوں اور بیمہ کے معاملات کی تربیت دے رہا ہے ،۔
اسی طرح اج اسلامی دنیا کا ان داتا سعودیہ یہاں جاپان سے “ہدایت “ کی امید لئے آیا ہوا ہے ،۔
 پاکستان کا دشمن  انڈیا سیانا ہے کہ کوالٹی کی قدر جانتا ہے ،۔اسی لئے جاپان سے مدد لے رہا ہے ،۔
پاکستان کا ان داتا سعودیہ بھی کوالٹی کی قدر کی سمجھ رکھتا ہے اسی لئے ، سعودیہ کا بادشاھ شاھ سلیمان  یہاں جاپان سے  تکنیک ، علم ، اور ہنر کی مدد مانگنے آیا ہوا ہے ،۔
پاکستان کو پتہ نہیں کس افلاطون نے مشورہ دیا ہوا ہے کہ وہ چین سے مدد مانگتا ہے
چین خود جس کے اپنے ملک میں برابری نہیں ہے اور جو خود جاپان کی تکینک اور ہنر کی نقل کرتا ہے ،۔
پاکستان کے لئے بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
اس ملک پر اللہ کا عذاب ہے
اور اللہ کا کیا ہوتا ہے ؟
اس کو پنجابی دانش میں ایک محاورے میں بیان کر دیا جاتا ہے ،۔
رب نہ مارے ڈانگاں
بس، پٹھی کر دے مت !،۔

جمعرات، 2 مارچ، 2017

کن فیکون

شائد یہ کائینات ناتمام ہے ابھی

آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

فلمی سین ہے ، کالج میں لڑکی کتابیں لے کر چل رہی ہے ، اس سے ایک لڑکا آ کر ٹکرا جاتا ہے ،۔
کتابیں بکھر جاتی ہیں
دونوں بیٹھ کر کتابیں اکٹھی کر نے لگتے ہیں ،۔
دونوں اوپر نظر اٹھا کر دیکھتے ہیں ،
کن ہو جاتا ہے
اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پنجاب کے کسی گاؤں کا منظر ہے
لڑکا جوان ہو گیا ہے ، فارن بھیجنے کے لئے  ایجنٹ کو پیسے دئیے ہیں ،۔
بس منڈا ایک دفعہ فارن پہنچ جائے ،
تو ؟ کن  ہو جائے گا
اور فیٰکون ہوتا چلا جائے گا ،۔
پڑوسویں کی فارن کی کمائی سے ،اپنے دیس میں کن کی کوشش میں ایک بندے نے بیٹری  سیل بنانے کی فیکٹری بنا لی ہے ،۔
مشہور برانڈ کے لیبل چھپوا لئے ہیں ،۔
کن ہو گیا ہے ۔؎اب فیٰکون ہوتا چلا جائے گا م،۔
جیدا سائیں بھی سوچ رہا ہے کہیں سے بھی کیسے بھی ،رقم کا کن ہو جائے تو شہر میں ایک پلازا بننے کا فیکون اور اس کے بعد ہن برسنے کا فیکون ہوتا ہی چلا جائے گا ،۔
اچھو نے کمیٹیان ڈال  ڈال  کر چاند گاڑی کا کن  کیا لیکن اس  فیکون نہیں ہو سکتا اچھو کو روز  ہر روز چاند گاڑی پر سواریاں ڈھونی  پڑتی ہیں ،۔
مجبوری ہے ،۔
گامے کا زمیندارہ ہے ، زمین پر ہل چلاتا ہے ،۔ کھاد بیج کے لئے شاھ جی (سود خور) سے رقم لے کر چھ مہینے پھوٹک کی تلفی ، کھرپی سے پولائی ، دن رات کی محنت سے فصل اٹھتی ہے ،۔
کن اور فیکون ، شاھ جی (سود خور)  کا ہو ہوتا ہے ،۔ فصل ان کے گھر جاتی ہے ،۔
مجبوری اے ۔
دیوندر سنگھ کی ماں دیوندر کے رشتے کے لئے مراثیوں اور وچولوں کی منتیں کرتی ہے تب جا کر رشتہ ہوتا ہے تھرو پراپر چینل ،۔
اس  کو کن اور فیکون کا علم ہی نہیں ہے م،۔
برائین ، کے ذہن میں بچپن سے ہی ڈال دیا گیا ہے
کہ جو جتنی زیادہ کوشش کرئے گا اس  کی کمائی اتنی ہی زیادہ ہو گی ،،۔
برائین ، سکول  کالج کے بعد یونیورسٹی تک کی تعلیم لے کر ملازمت کرتا ہے ، اس کو ہر روز کام پر جانا پڑتا ہے ،۔
اس کو بھی کن اور فیکون کا نہ علم ہے نہ تصور ،۔
تاناکا  سکول کے بعد ٹیکنیکل کالج سے تعلیم لے کر پرنٹنگ پریس لگا لیتا ہے ،۔
ہر روز نئے نئے ڈیزائین ، نئے رنگ  کی سوچ اور مسلسل محنت اس کا مقدر بن جاتی ہے ،۔
اس کو بھی  کن اور فیکون کے فلسفے کا علم ہی نہیں ہے ،۔

فرق صاف ظاہر ہے
سوچ اپنی اپنی  عمل آپنا آپنا ،۔
میکنتوش والوں کا سلوگن ہوتا تھا ،۔
تھنک ڈیفرینس یعنی کی سوچ ای وکھری اے ،۔

بدھ، 1 مارچ، 2017

پٹھان کی مینگنیاں

دبئی مال بھیج کر میں اپنے جاپانی مہربان کے ساتھ شارجہ کے یارڈوں پر گھوم پھر رہا تھا ،۔
احمد خان  کی مہربانی سے جمال شاھ نامی ایک فرشتہ  مجھے اپنی گاڑی پر بٹھا کر سارا دن میرے ساتھ ہوتا تھا ،۔
ایک یارڈ پر جب ہم لوگ رکے تو  جاپانی دوست نے زمین پر بکھری ہوئی مینگنیوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
یہ کس جانور کی مینگنیاں ہیں ،۔
وہ جاپانی بھی پینڈو تھا اور میں بھی پینڈو
لیکن ان مینگنیوں کا رنگ اور ساخت دیکھ میں نہیں پہچان سکا کہ یہ کس چیز کی منگنیاں ہیں ،۔
بہت غور کیا
نہ تو بکری کی تھیں  کہ بکری کی منگینیوں سے بڑی تھیں اور کچھ ان کی ساخت  بھی گول نہیں تھی ، سوچا شائد خرگوش ہو
لیکن جاپانی کہنے لگا کہ نئیں سائز مختلف ہے ،۔
مجبور ہو کر جمال شاھ سے پوچھا کہ یہ کس چیز کی مینگنیاں ہیں ،۔
جمال شاھ بڑا زندہ دل پٹھان تھا ،۔
جمال شاھ زیر لب مسکرایا
اور
کہنے لگا یہ پٹھان کی مینگنیاں ہیں ۔
میرے چہرے پر حیرت دیکھ کر جمال شاھ بات جاری رکھتا ہے
اور کہتا ہے
یہ پٹھانوں کا یارڈ ہے ،۔
سب لوگ نسوار کا شوق کرتے ہیں ،
یہ نسوار ہے  ،۔
منہ سے نکال کر ادھر ادھر پھینکی ہوئی ہے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے
کہ
اس کے بعد جاپانی دوست کو نسوار کی ساخت ، نسوار کے خواص ، رواج اور دیگر معلومات کی  وضاحت پر کئی دن لگے تھے ،۔

نسوار کے خواص


کہیں کسی جھیل پر کوئی خان صاحب کانٹے سے مچھلیاں پکڑ رہے تھے کی ان کے  کینچوے (گنڈوئے) ختم ہو گئے ،۔
خان صاحب اپنا سامان اٹھا کر کوچ کرنے لگے تھے کہ انہوں نے سرسراہٹ سنی ، اس طرٖف دیکھا تو ایک سانپ نظر آیا جس نے منہ میں ایک مچھلی پکڑی ہوئی تھی ،۔
خان صاحب کے ذہن میں آئیڈیا آیا کہ منہ میں مچھلی پکڑا سانپ کاٹ تو سکے گا نہیں تو کیوں نہ اس سے مچھلی چھین کر  اس مچھلی کو گنڈوئے  کی جگہ  استعمال کر کے شکار جاری رکھا جائے ،۔
خان صاحب سانپ پر جھپٹے ، سانپ کو گردن سے پکڑ لیا ،۔
مچھلی سانپ کے منہ سے گر گئی ،۔
مچھلی کے سانپ کے منہ سے نکلتے ہی خان صاحب کے سامنے پریشانی سر اٹھائے کھڑی ہوئی کہ اب سانپ کو چھوڑیں کیسے ؟
سانپ تو پلٹ کر کاٹے گا !!،۔
خان صاحب کی نایاب عقل میں ایک آئیڈیا آیا ، کاں صاحب نے دوسرا ہاتھ جیب میں ڈال کر نسوار کی ڈبی  نکالی جس میں انہوں نے نسوار کو ٹشو پیپر میں لپیٹ کر پڑیاں بنا کر رکھی تھیں ،۔
خان صاحب نے دو تین نسوار کی پڑیاں سانپ کے منہ میں ڈال دیں ، سانپ کا منہ بند ہو گیا ، خان صاحب نے سانپ کو جھیل میں پھینک دیا م،۔
سانپ کے منہ سے نکلی مچھلی کو ٹکڑے کر کے کانٹے پر لگا کر کانٹا ، پانی میں ڈالے بیٹھے تھے کہ
پھر سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔
جھک کر دیکھا تو؟
وہی سانپ تھا جس کو جھیل میں چھوڑا تھا
وہ سانپ منہ میں دو مچھلیاں دبائے  خان صاحب کا منہ دیکھ رہا تھا
کہ
ماڑا تھوڑی نسوار تو دو !!م،۔
حاصل معالعہ
باہمی بھائی چارے کے لئے نسوار ناگزیر چیز ہے ،۔

اتوار، 26 فروری، 2017

افغانوں کی ہزار سالہ تاریخ کا فخر


پاکستان سے باہر جب بھی کسی افغان سے ملاقات ہوئی ، اس نے اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ کا ذکر ضرور کیا ، جس تاریخ میں افغان ہند کو جہاد کے نام پر لوٹنے آیا کرتے تھے ،۔
افغانوں کو اپنا وہ ماضی بھولتا ہی نہیں ہے کہ پنجاب سندہ اور ہند کی زمینوں پر اگنے والے غلے کو لوٹ کر لے جاتے تھے ساتھ میں ہندی لوگوں کو غلام بنا کر غزنوی اور بخارا کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے م،۔
تاریخ میں پہلی بار رنجیت سنگھ نے ان کو روکا ، اس کے بعد انگریز آ گئے انہوں نے بھی افغانوں کو روک کر رکھا ،۔ پاکستان بنتے ہیں نادر شاھ کے چاچے سردار داؤد نے اپنی اس تاریخ کو دھرانے کے لئے پاکستان پر حملے کا منصوبہ بنایا ،۔
ان سب باتوں کے تناظر میں دیکھیں کہ افغانوں کے لشکر جب پنجاب میں لوٹ مار کر کے عورتوں کو ریپ کرتے تھے ، غلہ لوٹ کر لے جاتے تھے بچے اغوا کر کے لے جاتے تھے ،۔
اپنے گھروں میں امن سے رہنے والے پنجابیوں کے دل پر کیا گزرتی ہو گی ؟
افغان جب بھی طاقت ور ہو گا ، ظلم کرئے گا
جب بھی کمزور ہو گا ترحم کا طلب گار ہو گا م،۔

ہم نے اپنے لڑکپن میں پنجاب میں پٹھانوں کو دیکھا ہوا ہے ،، گیڈر بھبکی دے کر ڈراتے ہیں ،۔ لیکن بھی میں نے ان پر حملہ کیا ، نیچے بیٹھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر منمناتی چیخیں سنی ہیں ،۔
ایک دو نہیں کئی لوگوں سے ایسا ہوا ، سب افغانوں نے ایک ہی جیسی آوازیں نکالی ،۔
اج اگر کوئی افغان پنجابی کے تعصب کی بات کرئے تو ؟ غور سے سنیں کہ وہ پنجابی کے تعصب کی بات نہیں کر رہا ہوتا
بلکہ پنجابی کے رحم اور مدد کا طلب گار ہوتا ہے ،۔
اپنی ہزار سالہ تاریخ میں ہند کو اپنی " دھر " سمجھنے والے افغان اگر امن اور عزت چاہتے ہیں تو ؟
کوشش کر کے اپنا غلہ خود اگانے کی کوشش کریں ،۔
اپنے لالچ پر قابو پائیں اور پنجاب کو لوٹنے کی جبلت کو قابو کریں ،۔
اب وہ زمانہ پھر نہیں آئے گا ،۔
رنجیت سنگھ کے بعد پنجابی اپنے مال کو افغانون سے بچانے کی کچھ کم کچھ زیادہ کوشش میں ہے ،۔
سردار داؤد جیسے لوگ اج بھی وہاں ہیں لیکن ان کا بس نہیں چلتا
ورنہ پاکستان پر حملہ کر کے مسلمان پاکستان کو مذید مسلمان کرنے کے نام پر ضرور حملہ کریں گے ،۔

جمعرات، 23 فروری، 2017

حکومت کون ہے ؟

حکومت ؟ یہ حکومت کیا ہے ؟
قائد اعظم کو خراب ایمبولینس !!!۔
راول پنڈی سازش ،افشاء ہو گئی تھی اس لئے سازش کہلوائی ، کمپنی باغ میں جب واقعی لیاقت علی قتل ہو گئے تو؟
قاتل نامعلوم ،۔
کشمیر میں قبائلی داخل کر کے جونا گڑھ اور حیدر آباد میں انڈیا کی مداخلت کو جواز فراہم کر دیا ،۔
ایوب نے حکومت سنبھال لی ، ملک پر قبضہ ، یہ قبضہ واگزار ہو ہی نہیں سکا اس کے بعد کی ہر حکومت فوج کی حکومت ہے ،۔
الیکشن میں ایوب نے خود کو سلیکٹ کیا
اور مادر ملت فاطمہ جناح ہار گئیں ،۔
سارے ملک میں “جھرلو” پھیر دیا ۔
 الیکشن کے نام پر سلیکشن ،۔

باری باری ،۔
اس دوران کی بات رہ گئی کہ ایوب سے ملک کا قبضہ یحی خان نے لے لیا یعنی فوجی سے فوجی نے ،۔
اس کے دور میں الیکشن کروائے گئے
لیکن مجیب الرحمان کی بجائے سلیکشن بھٹو صاحب کی حکومت بنائی گئی وہ بھٹو ایوب کو ڈیڈی کہتا تھا ،۔
ملک ٹوٹ گیا ، الیکٹ مجیب نے بنگلہ دیش میں حکومت سنبھال لی اور سلیکٹ بھٹو نے  پاکستان کی ،۔
اقتدار فوج کے ہاتھ میں تھا ، اقتدار الیکٹ لوگون کو منتقل نہیں کیا ، ملک ٹوٹ گیا الزام سیاست پر رکھ دیا ،۔
موجودہ پاکستان کی آبادی کی ننانوے فیصد آبادی کو ملک ٹوٹنے کے اسباب کا ہی علم نہیں ہے ،۔

پھر جنرل ضیاء " خود فوجی " آ گئے ،۔ ان کی حکموت کو مذہبی سہارا جماعت نے دیا ، سیاسی سہارے کے لئے شریف پیدا کئے گئے ،۔
سیاست کی نس بندی کر دی گئی ،۔
تعلیمی اداروں میں سایسی سرگرمیاں ختم کر دی گئیں
لیکن

کالج یونورسٹیوں میں قوم کی بیٹویں کی عصمت اور قوم کے بیٹوں کے کردار کے محافظ پیدا کر دئیے گئے جن کے نزدیک مخالف سٹوڈنس کی ٹانگیں تورنا ہی امت مسلمہ کی خدمت قرار پایا ،۔
معاشرے میں سے سیاست  کا بیج ہی ختم کر دیا گیا
سیاسی طور پر خصی قوم میں ستر کی دہائی کے بعد کوئی سیاست دان پیدا نہیں ہوا ،
اگر کوئی سیاست کے نام پر آگے آیا بھی تو وہ جی ایچ کیو کے گملوں میں اگا ہوا بونسائی ہی ایا ۔

پھر مشرف صاحب آ گئے ، انہوں نے چوہدری متعارف کروائے ،۔
مجھے یہ بتائیں کہ حکومت ہے کیا ؟
سب کے سب یا تو خود فوجی ہیں یا فوجیوں کے لائے ہوئے لوگ !،۔
تو حکومت کیا ہوئی ؟
ہم لکھنے والوں کو پہلے اپنا ذہن واضع کرنے کی ضرورت ہے کہ
حکومت ہے کیا ،۔ اداروں کا کردار کیا ہونا چاہئے اور اور کیا ہوا جا رہا ہے ؟
غلط کیا ہے صحیح کیا ہے ،۔
اس بات کا ادراک کرنے کے بعد ہمیں صرف اور صرف اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہو کر پارٹیوں ، اداروں کے معاملے میں انتہائی غیر جانبدار ہو کر لکھنا چاہئے ،۔
روٹی روزی کی مجبوریاں بندے کو مجبور کر دیتی ہیں ،۔
اس کے لئے اپنی یونینز مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،۔
یونییز کی مضبوطی کا مطلب ہے کہ ہمیں ٹیم ورک کی تربیت اور تعلیم کی ضروت ہے
یونین میں ہر بندہ صدر ہی نہیں بنے ، بلکہ مینجر ، ورکر ، اور دیگر کئی عہدے بھی ہیں اور ہار جانے کی صورت میں خود کو سابق صدر کہلوانے میں بھی کوئی ہتک نہیں ہے ،۔

اس کے لئے بھی انے والی نسلوں کا اگر خیال ہو تو ؟
ایسے معاشرے کی تعمیر کے لئے ذہن سازی کی کوشش ہونی چاہئے ، جس میں ادارے اپنا اپنا کردار نیک نیتی سے ادا کریں عدالتوں کو مضبوط کریں تاکہ انے والی نسلیں ہی سہی ، محفوظ ماحول میں اسان زندگی گزار سکیں ۔۔


منگل، 14 فروری، 2017

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت

ویلینٹائین ڈے کی حقیقت
*****************
انڈیا پر مغلوں کی حکومت  کا زمانہ تھا ،۔
جب مغربی اقوام دنیا کو اپنی کالونی بنانے  کے لئے نکلی ہوئیں تھیں ،۔
اکبر کے زمانے میں پرتگیزیوں کے چھاپے خانے کی مشین متعارف کروانے سے بھی پہلے کی بات ہے کہ
ابھی برطانیہ کے گورے  ہند میں پاؤں جمانے کی کوشش میں تھے لیکن پرتگیزی لوگ سندہ کی بستیوں کو لوٹ کر سمندر میں غائب ہو جاتے تھے ،۔
سفارتی محاذ پر مغربی اقوام کے سیانے لوگ ، تاجرون کے روپ میں ، مغل بادشاہوں سے تعلق بڑھانے کی کوشش میں تھے ،۔
اکبر کے دربار میں  ملاّ دو پیازہ اور بیربل کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی ،۔
مغربی اقوام کی سفیر اور تاجر ، کچھ بیربل کے ذریعے اور کچھ ملا دو پیازہ کے ذریعے  دربار تک رسائی حاصل کرتے تھے ،۔
اس دن چودہ فروری کا دن تھا ،۔
بیربل کی  دریافت پنجابی رقاصہ اس دن دربار میں  رقص کر رہی تھی ،۔
بیربل کے ساتھ پرتگال اور برطانیہ کے کچھ تاجر بھی اکبر بادشاھ کے دربار میں رقص و سرود کی یہ محفل دیکھنے کے لئے موجود تھے ،۔
ملا دو پیازہ بھی یہیں موجود تھا ،۔
بیربل نے رقاصہ کو سیکھایا ہوا تھا کہ
ملا کو تنگ کرنا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اس دن رقص کے ساتھ ساتھ جو گیت گا رہی تھی ۔
اس کا طرح مصرع تھا
مینوں ، ویل تاں دے” ۔
رقص کرتے کرتے رقاصہ ملا کے پاس جاتی ہے اور اپنا گھٹنا فرش پر ٹکا کر کہتی ہے
وے سوہنیا ،  ویل تاں دے ،۔
ملا  اس کے ہر دفعہ یہ کہنے پر اس کو ایک اشرفی عطا کرتا ہے ،۔
ملا کا یہ ایکشن دیکھ کر اکبر بادشاھ  ملا پر موتی نچھاور کرتا ہے ،۔
پنجابی رقاصہ اور بھی ولولے سے گاتی ہے ،۔
وے ظالما ، مینوں ویل تاں دے ،۔
ہائے بالماں ، مینوں ویل تاں دے ۔
وے ہیریاں ، مینوں ویل تاں دے ،۔
جملے کی تکرار سن سن کر مغربی ممالک کے تاجر لوگوں کو یہ الفاظ یاد رہ جاتے ہیں ،۔
وہ تاجر لوگ یورپ واپس جا کر  اس دن کی یاد میں چودہ فروری کو  اپنی اپنی داشتاؤں اور دوستوں کے منہ سے کہلواتے ہیں ،۔
ویل تاں دے !!،۔
یورپی لہجے میں ویل تاں دے  کا تلفظ بگڑ کر  “ ویل تان ڈے “ بن گیا ۔
صدیوں کے گزرنے سے یہاں دیسی لوگوں کو یاد نہیں رہا اور مغربی اقوام ہمیشہ کی طرح  ہماری دیسی روایات کو چوری کر کے اپنی رسم بنا چکی ہیں ،۔
گامے پی ایچ ڈی کا پیغام ہے
کہ
اس پوسٹ کو اتنا شئیر کریں کہ سب دیسی لوگوں تک پہنچ جائے کہ
ویل ٹان ڈے  ،حقیقت میں ویل تاں دے  کا بگڑا ہوا  لفظ ہے اور یہ خالص دیسی اور مغلیہ دوری کی شغلیہ  رسم  ہے ،۔

سوموار، 13 فروری، 2017

اللہ نوں وکیل کرن والے

پاء مصطفٰے کے مشکل دنوں کی بات ہے کہ
اس کے گاؤں کے لڑکے کہنے لگے
کہ
آپ پارٹس کے کنٹینر دبئی بھیج دیا کریں ، ہم اپ کو  مال بیچ کر رقم بھیج دیا کریں گے ،۔
پاء مصطفے نے بڑی مشکل سے رقم وغیرہ کا انتظام کیا اور کنٹینر بھر کا مال دبئی بھیج دیا ،۔
ساتھ ہی اپنے بھائی کو پاکستان سے دبئی جانے کو کہا کہ تھوڑی سیر ہو جائے گی اور مال فروخت کرتے ہوئے ذرا پاس ہونے سے  دبئی کے تارڈ والے کچھ ڈنڈی مارنے میں بھی جھجک محسوس کریں گے ،۔
پہلے کنٹنر کے پیسے بڑے معقول  آگئے تھے ،۔اس کے بعد دبئی والوں نے فیصلہ کر لیا کی پاء  مصطفے کو بس صرف بارہ لاکھ ہی بھیجنا ہے ،۔
ایک کنٹینر کا بارہ لاکھ ، اگلے مرحلے میں پاء مصطفے کے دو کنٹینر ایک ہی دن بھر کر بھیج دئے  اور ساتھ  ہی پاکستان والے بھائی سے کہا کہ دبئی گھوم پھر آؤ ، بھائی اپنا چاول کا کاروبار ہے جس کو وقت نکالنا بہت مشکل ہے لیکن پھر بھی پاء کا بھائی دبئی پہنچ گیا ۔
مال ابھی بک رہا تھا اور لگتا تھا کہ ابھی تین اور لگ جائیں گے کہ
پاء کے چھوٹے بھائی کو فوراً پاکستان جانا پڑ گیا ،۔
پاء نے اس کو کہا بھی کہ دبئی والا منڈا ٹھیک نہیں ہے اس پر اعتبار نہیں کرو ،۔
دبئی کے یارڈ پر کام کرنے والے ایک ملک صاحب نے بھی پاء کے بھائی کو کہا کہ اپنا مال یہاں کھڑے ہو کر  فروخت کرو ۔
لیکن  پاء کے بھائی کی مجبوری بھی تھی اور کچھ ان اللہ لوک  بھائی میں اللہ پر اعتماد کی بھی انتہا ۔
کہ
پاء مصطفے کا بھائی کہتا ہے
میں اللہ کو وکیل کھڑا کر کے جا رہا ہوں ، بس ، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
دبئی والے لڑکوں نے اپنی سی ہی کی کہ دو کنٹنیر کا بھی بارہ لاکھ بنا کر بھیج دیا ۔
دو کنٹنیر میں صرف سکریپ ہی پچاس ٹن ہو جاتا ہے جو کہ اگر جاپان میں مارکیٹ میں بھی بیچا جاتا تو   پچیس لاکھ کا مال تھا ،۔
پاء مصطفے  اپنے بھائی کو فون کر کے بتاتا ہے کہ
فیر بارہ لاکھ آیا ہے ،۔
پاء کا بھائی کہتا ہے
فیر پاء جی یہ پیسے ہمارر مقدر میں تھے ہی نہیں ۔ کہ
اللہ  کی یہی مرضی ہو گی ،۔
چلو ٹھیک اے جی ۔
اللہ اللہ تے خیر صلّا !!،۔
چھ ماھ کی مدت میں کوئی پانچ ملین روپے کا نقصان کر کے دونوں بھائی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے
اللہ جی دی  مرضی !!!،۔

کوئی چھ ماھ اور گزرے کہ پاء مصطفے تنزانیہ جاتے ہوئے  دبئی سے گزر ہوا ، پاء کے دل میں خیال آیا کہ دبئی والوں کے یارڈ پر جا کر دیکھ ہی آئے کہ
اللہ کی مرضی کیا تھی ۔
دبئی والوں کا چھوٹا بھائی یارڈ کے دروازے پر ہی مل گیا
بڑے تپاک سے ملا ، پاء جی اپ نے بتانا تھا میں آپ کو ائیرپورٹ لینے آ جاتا ،۔
پاء مسکرا کر طرح دے گیا
اور پوچھتا ہے ،۔
اوئے ، یارڈ اجے وی قائم جے ؟؟
نئیں پا جی یارڈ تے وک گیا جے ، بس میں ایتھے کاغذاں تے سائین کرن لئی کھلوتا ہویا جے (نہیں بھائی جی یارڈ تو بک چکا ہے ، میں بس یہاں کاغذوں پر سائین کرنے کو کھڑا ہوا ہوں ،۔)۔
پاء  مصطفے نے وہاں سے نکلتا بنا ، دبئی والوں کا چھوٹا بھائی کہتا ہی رہا کوئی پانی شانی کوئی روٹی شوٹی ۔۔
پاء مصطفے اندروں بہت ڈریا ہویا
کہ
اے تے اللہ  دی وکالت وچ پکڑے گئے نئیں ، اینہاں دے کول کھلو کے کلے میں وی لپیٹ وچ نہ آ جاواں
کیوں کہ پاء  مصطفے ، اللہ کولوں بڑا ڈردا اے !!،۔

Popular Posts