جمعرات, جنوری 26, 2017

ملکہ بلقیس اور ڈی سی تھرٹی

بچہ گھر ، مدرسے سے گھر آتا ہے ۔
تو ماں  پوچھتی ہے ۔
کیا کچھ نیا سیکھا؟
ہاں
بچے نے بتایا کہ مولوی صاحب نے اج  حضرت سلیمان علیہ سلام اور بلقیس کا قصہ سنایا ہے ،۔
ماں اشتیاق سے کہتی ہے : اچھا ؟ مجھے بھی تو سناؤ !،۔
بنی اسرائیل میں کوئی  بادشاھ سلیمان گزارا ہے ،۔
ایک دفعہ
ہوا یہ کہ حضرت سلیمان کو ڈرون  کی جاسوسی سے علم ہوا کہ وہاں یمن میں کوئی خوبصورت  بی بی حکومت کرتی ہے تو ، انہوں نے اس بی بی کو اپنے ملک کی سیر کی دعوت کی
بی بی بلقیس نے جب دعوت قبول کر کے حضرت سلیمان کے ملک کی طرف  سفر شروع کیا تو حضرت سلیمان کو جاسوسوں کے بتانے پر احساس ہوا کہ بی بی بلقیس کا تخت بڑا خوبصورت اور مہنگا ہے ،۔
سلیمان بادشاھ نے  اس تخت کو چوری کر کے بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  پہلے اپنے سامنے دیکھنے کا حکم جاری کر دیا ،۔
جس پر سارے جن اور دیو   اس پروجیکٹ کو قبول کرنے سے گھبرانے لگے ،۔
تو
ان کے ایک جنرل نے جس کی بیگم  ڈی سی تھرٹی پر پھجے کے پاوے منگوانے میں مشہور تھی اس نے اس پروجیکٹ کی ذمہ داری لے کر ، بی بی بلقیس کے پہنچنے سے پہلے  ڈی سی تھرٹی پر وہ تخت منگوا کر حاضر کر دیا تھا ،۔
بچے کی بات سن کر ماں  ہکا بکا رہ گئی ،اور حیرانی سے پوچھتی ہے ،۔
واقعی مولوی صاحب نے یہ قصہ ایسے ہی سنایا ہے ؟؟
بچہ گویا ہوتا ہے ،۔
نہیں ! جس طرح مولوی صاحب نے سیانا تھا
اگر اس طرح میں آپ کو سناتا تو ، آپ کو نہ تو سمجھ آنی تھی اور نہ ہی یقین آنا تھا ،۔

بدھ, جنوری 18, 2017

قسمت کا ولی


لوڈ شیڈنگ کے تدارک کے لئے جنریٹر کا انتظام کیا تھا
سٹینڈ بائی رکھنے کے لئے میں نے اپنے چچا زاد کو کہا
کہ جا کر پٹرول لے کر آؤ ۔
وہ لے آیا
میں نے جنریٹر میں ڈال کر سٹارٹ کیا چند منٹ بعد جنریٹر بند ہو گیا ،
بہت کک مارے ،سٹارٹ نہیں ہوا ۔
ائیر کلینر کھول کر کاربوریٹر میں انگل دے کر خاص میکنکی نسخہ استعمال کیا تو انجن بے شمار دھواں چھوڑ نے لگا ،۔
میں چاچا زاد سے پوچھا
اوئے یہ کون سا پٹرول لے آئے ہو ؟
پاء جی میں نے اس کو سستے والا پٹرول کہا ۔
جو کہ ڈیزل تھا
چچا زاد ایکسٹرا سیانا بننے کی کوشش میں اس کی عقل میں اتنا ہی فیڈ تھا کہ پیسے کم خرچ ہونے چاہے ، کم خرچی ہی عقل کی نشانی ہے ۔
میں اس کو بہت غصہ ہوا کہ
بات کو سن لیا کرو اور جو کوئی بڑا کہے ویسا ہی کیا کرو
نہ کہ خود سے عقل مند بننا شروع کر دیا کرو ،۔

کچھ دن بعد ٹریکٹر پر کام تھا
میں نے یاسر سے کہا کہ اج ڈیزل لے کر آو
یاسر لے آیا
ڈرائیور نے ٹینکی فل کر دی
کچھ ہی منٹ بعد ٹریکٹر بند ہو گیا،
ڈرائیو پوچھتا ہے
ہن کی کرنا جے پاء جی ؟ ۔
میں نے خالص مکینکی نسخے سے انجکشن پمپ پر سے آٹو مائینر کو جانے والا پائیپ ڈہیلا کر کے سیلف مارا تو اس میں سے پٹرول بہنے لگا ۔
میں ے یاسر سے پوچھا
اوئے یہ کیا لے آئے ہو ؟
پاء جی پچھلی دفعہ آپ نے بہت غصہ کیا تھا اس لئے مجھے یاد تھا کہ پٹرول ہی لے کر آناہے ۔
میں نے اپنا سر پیٹ لیا
اوئے کملیا
میری بد نصیبی ہی یہ ہے کہ میرے سارے بھائی اور کزن ایکسٹرا عقلمند ہیں ،۔
اتنے زیادہ عقلمد کہ
مجھے بیوقوف سمجھتے ہیں ۔
جو کہ میں ہوں بھی
کہ اگر میں بیوقوف نہ ہوتا تو بار بار ان کو کام کیوں کہتا ؟؟
پنجابی کا وہ محاورہ مجھ پر صحیح فٹ بیٹھتا ہے ۔
واہ او قسمے دیا ولیا !۔
ردی کھیر تے ہو گیا دلیا،۔

جمعہ, جنوری 6, 2017

عزت اور غیرت


چاچے فرید کی دوکان پر چاچا عنایت مستری اگلے ویہڑے والا یہ بات بتا کر کہتا ہے
کہ
یقین کرو جی ایک بدمعاش کے منہ سے سنی یہ بات کئی دہائیاں بعد بھی میں نہیں بھول سکا
اور ساری زندگی نہیں بھول سکوں گا کہ ایک بدمعاش ہو کر اس نے کیسی دانش کی بات کی،۔
چاچے عنائت کے اس اخری فقرے کی وجہ سے مجھے بدمعاشوں والا یہ واقعہ یاد رہا ہے
کہ آج مجھے یہ بات سنے کوئی چالیس سال ہو گئے ہیں
لیکن اج بھی مجھے چاچے عنائت کا بات کرنے کا وہ دھیما سا انداز اور چہرہ ایسے لگ رہا ہے کہ چند لمحے پہلے کی ہی بات ہو جیسے !!،۔

ذیلدار چوھدری صاحب  کے ڈیرے پر  علاقے کے سارے بستہ بے کے بدمعاشوں کو  ہر مہینے حاضری دینے کا حکم تھا ،۔
یہ حکم تو سرکار برطانیہ کے دور سے تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد بھی  ہم نے اپنے چوہدریوں کے ڈیرے پر بستہ بے کے بدمعاشوں کا جھرمٹ دیکھا ہے ،۔
یہاں پیپل کے نیچے والے کنوئیں کے پاس ہی چوہدری صاحب کی چارپائی ہوتی  تھی اور گاؤں کے  کمی  لوگوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے زمیندار بھی یہیں دریوں پر بیٹھا کرتے تھے
کسی کو چوہدری صاحب کی غیر موجودگی میں بھی منجی پر بیٹھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ،۔
جس دن بدمعاشوں  کی حاضری ہوتی تھی
گاؤں کے لڑکے بھالے تماشہ دیکھنے یہاں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے ،۔
طرح طرح کے حلئے ، تہمند کے لڑ چھوڑے  بڑی بڑی مونچھوں والے اگر ہوتے تھے تو مریل مریل سے بکری نما داڑہی والے بھی ہوتے تھے ۔
عام سے حلئے کے  سر پر صافہ باندھے  تہمند قمیض میں  چہرے پر بے چارگی سجائے بیٹھے ہوئے یہ لوگ اپنے اپنے میدان میں اپنی ایک دہشت رکھتے تھے ،۔
یہاں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہنچتے ہی گربہ مسکین کی ایکٹنگ کر رہے ہوتے تھے ،۔
دو بد معاش اپس میں باتیں کر رہے تھے
میں بھی کان لگا کر سننے لگا
جو بات انہوں کی میں یہ بات ساری زندگی نہیں بھول سکتا کہ
ایک بد معاش ایسی دانش کی بات بھی کر سکتا ہے ،۔
لڑکپن کے ان دنوں میں ہمارے ذہن میں یہی ہوتا تھا کہ  ایک بد معاش میں اگر دانش ہوتی تو
وہ کوئی معقول معاش کیوں نہ اختیار کرتا ، بد معاشی کی ہی کیا ضرورت تھی ،۔
لیکن ان بد معاشوں کا یہ مکالمہ میں ساری زنگی نہیں بھول سکتا ،۔
ایک بدمعاش دوسرے سے کہتا ہے
اؤئے تم مجھے اپنی بیوی کچھ دن کے لئے دے دو !،۔
دوسرا اس کی بات کو سن کر نظرانداز کر دیتا ہے ،۔
میں سوچتا ہوں ایسا مطالبہ کوئی کم عقل بدمعاش ہی کر سکتا ہے ،۔
کہ اس بدمعاش نے دوسرے بار اپنی بات کی تکرار کی
تو
 سننے والے بد معاش نے اس کو کہا
اوئے ڈنگرا ، بیوی بندے کی عزت ہوتی ہے ، اور کوئی بھی انسان اپنی عزت دوسروں کو نہیں دیتا ،۔
بہن بیٹی اور ماں بندے کی غیرت ہوتی ہیں ،۔ اپنی غیرت کو لوگ جانتے بوجھتے رشتے بنا کر دوسروں کو دیتے ہیں ،۔
لیکن اپنی عزت کوئی کسی کو نہیں دیتا ،۔
عزت اور غیرت کے فرق کا یہ باریک سا فرق  کم ہی لوگوں کو علم ہوتا ہے ،۔
مجھے تو چاچے عنایت کی اس روایت کے سننے کے بعد ہی  غیرت اور عزت کا مفہوم ملا تھا ،۔

Popular Posts