جمعرات، 18 جون، 2015

وہ اللہ کو رب مانتے تھے


بادبانوں والے اس بحری جہاز پر ، مولوی وہ صرف دو ہی تھے ۔
مہینوں کا سفر تھا ،  زیارت کے لئے حجاز کی طرف سفر میں شامل سب لوگ ہی مولوی صاحبان کی عزت کرتے تھے ۔
سمندر میں ، دور ایک سرمئی سی لکیر دیکھ کر مولوی صاحب نے اشارہ کر کے جہازی سے پوچھا 
وہاں اس جزیرے کا کیا نام ہے  ۔
اس جزیرے کو بابا کا جزیرہ کہتے ہیں ۔
جہازی نے بتایا کہ اس جزیرے میں کوئی ابادی نہیں ہے ،۔
بس دو بابے رہتے ہیں ۔
نہ کسی سے کچھ مانگتے نہ کسی پر انحصار کرتے ہیں  ،مچھیرے جب ان کے جزیرے پر اترتے ہیں تو  یہ بابے مچھیروں کی بھی خدمت کرتے ہیں ۔ لیکن کسی سے لیتے کچھ نہیں ۔
بس اپنی کاشت کاری کرتے ہیں ،اور مچھلیاں پکڑ کر بھوک مٹاتے ہیں   ۔
اس جزیرے پر پہنچنے والوں کو کچھ نہ کچھ دے کر  خوش ہوتے ہیں ۔
اپ کو معلوم ہی ہے مولوی صاحب ، غریب مچھیرے دو مٹھ چاول یا تھوڑے سے جو کے دانوں سے خوش ہو جاتے ہیں ۔
مولی صاحب نے جہاز کے کپتان سے درخواست کی کہ ہم نے ان بابوں کو ملنا ہے
جہاز کو اس جزیرے کی طرف موڑو ، ہم ان بابوں کو دین کی باتیں بتانی چاہتے ہیں  ۔
جہاز جزیرے کی طرف موڑ لیا گیا ، سب زیارتی لوگ بھی  خوش تھے کہ چلو چند دن خشکی پر گزار لیں گے ۔
جہاز کے ساحل کر لگتے ہی بابے ریت پر آن کھڑے ہوئے ، انہون نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ
اوپر والے نے ان کے پاس مہمان بھیجے ہیں ۔
افریقہ کے ایک بڑے علاقے میں بولی جانے والی بولی میں وہ بابے بات کر رہے تھے ۔
جب انہوں نے اوپر والے کا کہا تو مولوی نے پوچھا کہ
کیا تم اوپر والے کو جانتے ہو ؟
ہاں ! ہم اس کو اللہ کہہ کر پکارتے ہیں ۔
اللہ جو سارے جہانوں کا مالک ہے ۔
وہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے ،اتنا پیار کہ ہم اس کے پیار سے دی گئی نعمتوں کو برتتے ہیں ۔ اور اس پیار میں مگن رہتے ہیں ۔
اللہ کے پیار  میں بڑی لذت اور سرور ہے ۔
اسی میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ۔
مولوی نے پوچھا کیا تم اس کو پکارنے کا صحیح طریقہ جانتے ہو ۔
سادہ دل بابوں نے انکار میں سر ہلا دئے اور پوچھنے لگے کہ وہ کیا ہوتا ہے ۔
مولویوں نے ان کو بتایا کہ عبادت کے لئے  نماز  اور دیگر عبادات ہوتی ہیں  ان کو سیکھنا پڑے گا ۔
بابے بڑے خوش ہوئے  کہ اللہ کی عبادت کا ہمیں بھی سکھا دو ۔
مولویوں سارا دن لگا کر بمشکل ان کو کلمہ اول سکھایا۔
بوڑہی عمر کے طوطے کی طرح رٹا لگانے پر بھی یاد مشکل تھا
بابے بار بار بھول جاتے تھے
لیکن بڑی ہی خلوص نیت سے سیکھتے رہے ۔
نماز کے متعلق جب سبق شروع ہوا تو  سورہ الحمد پر ہی پورا دن گزر گیا ۔
پانچ دن کے قیام میں جو ہو سکا مولوی حضرات نے ان کو سکھایا
بابے  بڑے خوش تھے کہ اب وہ اللہ کی خوش نودی کے لئے زیادہ بہتر عبادت کر سکیں گے
بڑے شوق سے سارا سار دن رٹے لگا رہے تھے
کبھی کہیں اٹک جاتے تو مولوی ان کو یاد کروا دیتے
 پانچویں دن صبح سویرے فجر کی نماز کے بعد جہاز نے لنگر اٹھائے اور سفر پر روانہ ہوا ۔
بابے بڑے شوق سے الوداع کرنے کے لئے ساحل کی ریت پر دیر تک ہاتھ ہلاتے رہے ۔
جہاز کوئی دو میل گیا ہو گا کہ  جہازیوں کو پیچھے سے کوئی پکارنے کی آوازیں آنے لگیں  ۔
سپیدہ سحر میں دور سمندر کے پانی کے چھینٹوں کی دھول سی اڑتی نظر آئی ایسا لگ رہا تھا کوئی چیز جہاز کی طرٖف دوڑتی چلی آ رہی ہے  ۔
جہاز کے بادبان کھینچ کر انتظار کیا جانے لگا کہ لمحوں میں وہ نظر انے لگے
وہ دونوں بابے پانی پر دوڑتے چلے آ رہے تھے ۔
ان کی سانس پھولی ہوئی تھی ۔
مولوی ان کو دیکھنے کے لئے جہاز کی دیوار پر جھک آئے ۔
جہاز کے پاس پہنچ کران بابوں نے  پھولی ہوئی سانسوں سے کہا
بوڑہی عمر میں سبق یاد نہیں آرہا تھا 
سورة الحمد کی ترتیب ایک دفعہ پھر یاد کروا دیں ۔
مہربانی ہو گی!!!۔
مولوی یہ دیکھ کر کہنے لگا
اپ لوگ جس طرح عبادت کیا کرتے تھے اسی طرح کرتے رہو
اور ہمارے لئے بھی دعا کرنا کہ اللہ ہمیں بھی اپ جیسی عبادت نصیب فرمائے ۔

بدھ، 17 جون، 2015

زرداری ! قدم بڑھاؤ اور تم جانو


زرداری بڑا کمیشن خور ہے ، زرداری بڑا کرپٹ بندہ ہے ، زرداری کے گھوڑے مربے کھاتے ہیں ۔
کھائے خصماں دا سر !!!۔
مجھے زرداری کی اخلاقیات پر بڑا اختلاف ہے
لیکن مجھے کیا معلوم کی زرداری کی اخلاقیات ہیں بھی کہ نہیں ۔
مجھے تو جو اخباروں نے ، میڈیا نے بتایا میں تو وہی جانتا ہوں
فوج  کے جنریلوں کو للکار کر  زرداری نے جو کام کیا ہے
یہ شاباش ہے قابل ہے
میں نے جو دیکھا ہے ، کہ فوج کے جرنیلوں کے فعلوں پر بھی بات کرنے کا جو للکارا زرداری نے مارا ہے ۔
یہ ہوتا ہے اصلی سیاستدان !!!۔
پاکستان جہاں سیاستدان جی ایچ کیو کے گملوں میں پنیری لگتے ہیں ۔
زرداری ایک " بائی چانس " اور خودرو بوٹی کی طرح اگا ہوا سیاستدان ہے ،۔
جس کی جڑیں لگتا ہے کہ زمین میں خاصی گہری ہیں ۔
کہیں بھی کسی بھی زندہ معاشرے میں
کسی بھی ترقی کرنے والے ملک میں سیاستدان
فوج پر قدغن لگاتے ہیں ۔

زرداری کی سوچ کو اہل نظر بہت پہلے پہچان گئے تھے
جب اس نے فوج کے لگائے ہوئے اور فوج کے ہی چرکے لگے شریفین کو اس بات پر منا لیا تھا کہ " واری واری " حمومت کرتے ہیں ۔
یہ واری واری فوج کے اقتدار میں انے سے روکنے کی سازش تھی
یہ سازش جاری ہے
اگر
زرداری کی یہ سازش کامیاب ہو گئی تو ؟
ملک پر بڑی مہربانی ہو گی
سیاست کا گند ، عوام خود ہی ٹھیک کر لیں گے ۔

زرداری صاحب کھچ کے رکھو ،۔
زرداری صاحب قدم بڑھاؤ
کم از کم
میں تو اپ کے ساتھ نہیں ہوں  ۔

سوموار، 15 جون، 2015

بقا کی جبلت


جس طرح جانوروں میں اپنی بقا کی جبلت پائی جاتی ہے اسی طرح آدمیوں میں بھی پائی جاتی ہے
اور آدمیوں میں بھی
سب سے زیادہ مضبوط جبلت مراثیوں کی ہے ۔
یہ واحد لوگ ہیں جو کسی بھی قسم کے حالات میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،
پبلک کے جذبات کو کیش کروانے کا فن ان کو آتا ہے ۔
ہند میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی انہون نے ہندو موسیقی کو مسلمان کر کے اپنا اپ قائم رکھا اسیطرح
آج کے پاکستان میں یہ لوگ سید بن چکے ہیں ۔
اور جس چیز کی قوم میں ڈیمانڈ ہے ،اسی کی سپلائی کر رہے ہیں ۔
جب گانوں کی دیمانڈ ہے ،گانے جب نعتوں کی ڈیمانڈ ہو گی نعتیں ۔

ایک بے تکلف دوست تھا
کہا کرتا تھا
خاور یار ، تم ناں چاہے فرانس کے بہترین ڈیزائینروں کے ڈیزائین کئے ہو سوٹ پہن لو
رب نے تمہیں پرسنیلٹی بھی انتہا کی دی ہوئی ہے ۔
ساری دنیا دھوکا کھا سکتی ہے
لیکن
جب بھی تم کسی گدھے کے پاس سے گزرو کے ، اس گدھے کی ڈر سے پیٹھ جھک جائے کہ کہیں کونی مار کر پسلیاں ناں سینک دے  ۔
کیونکہ
کسی اور کو پتہ چلے ناں چلے گدھے کو پتہ چل جائے گا
کہ سوٹ کے اندر ایک  کمہار ہے ۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ
ہند کے سبھی قبائل میں سے سب سے بڑھ کر  خوش ذوق ، زیرک ، اہل علم اور نفیس ترین لوگ جو ہیں وہ مراثی ہیں ۔
اس لئے کسی بھی قبیلے کے فرد کا قبیلہ بدلنے پر بھانڈا پھوٹ سکتا ہے
کہ
سوٹ کے اندر کمہار ہی ہو گا
لیکن
جب ایک مراثی کوئی بہروپ بھرے کا تو؟
وہ ایک بہترین بھروپ ہو گا
چاہے گانے والے کا ہو یا قوالی کا
چاہے مرثیہ گو کا ہو یا پاپ گانے والے کا
یا فیر اقوال بزرگاں سنا سنا کر مسلمانوں کا برہمن بننے کا
مراثی ایک استاد قبیلہ ہے ، میری یہ مجال کہ میں ان کی انسلٹ کا سوچوں
میں تو صرف ایک بات کا ذکر کر رہا ہوں کہ
جانوروں کی بقا کی جبلت کی ایک بہترین مثال کیا ہو سکتی ہے  ۔

جمعرات، 11 جون، 2015

چھاڈو لوگ


یہ ایک لسٹ بنائی ہے ، ان باتوں کی جو کہ بڑے بڑے “چھاڈو” لوگ چھوڑتے رہتے ہیں ۔
ایسے کردار اپ کے اردگرد بہت ہوں گے جو کہ اس لسٹمیں موجود کوالٹیوں کے مالک ہو ں گے ۔
کچھ کم کچھ زیادہ ۔
میں ے کسی کا نام نہیں لکھا ۔
اپ لوگ اپنی نزدیکی شخصیت کا نام لکھ کر خود ہی انجوائے کر لیں ۔

    ◆    بحر مردار کو جس نے قتل کیا تھا۔
    ◆    وہ جب ڈنڈ لگاتا ہے تو ؟ اپنے بازو سے زمین کو دھکیل دیتا ہے ۔
    ◆     اس نے ہی مونا لیزا کو مسکراہٹ دی تھی ۔
    ◆    وہ کمپیوٹر کے ری سائکل بن کو بھی ڈلیٹ کر سکتا ہے ۔
    ◆    وہ کسی بھی کتاب کے سرورق کو دیکھ کر اس کتاب کا مضمون سارے کا سارا جان جاتا ہے ۔
    ◆    وہ ایک مچھلی کو بھی پانی میں ڈبو کر قتل کر سکتا ہے ۔
    ◆     اس نے ایک دفعہ ایک گھوڑے کی ٹھوڑی پر کک لگائی تھی ،اج دنیا اس کو زورافے کے نام سے جانتی ہے ۔
    ◆    وہ میکڈونلڈ  پر دال چاول کا آڈر بھی دے سکتا ہے ۔
    ◆    برمودا کی تکون ، پہلے ایک مربع شکل کی ہوتی تھی ، اس نے اس مربفے کے ایک کونے کو کک کی تھی جس نے برمودا ایک تکون بن گئی تھی ۔
    ◆    یہ صاحب گرمیوں کی بارش  میں بھی سنو مین  بنا سکتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب کوڈ لیس فون سے بھی دشمن کی مشکیں کس سکتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب ، صرف ایک سبزی آلو سے بھی سالن بنا سکتے ہیں
    ◆    یہ صاحب ایک گھنٹے کے اوکشن کو بیس منٹ میں بھکتا سکتے ہیں ۔
    ◆    کون کہتا ہے ؟ روم واز ناٹ بلٹ ان ون ڈے ، انہوں نے روم کو ایک دفعہ ایک دن میں بھی بنا دیا تھا ۔
    ◆    ان صاحب کی ایک دفعہ تلوار سے لڑائی ہو گئی تھی ، اس مقابلے میں تلوار ہار گئی تھی ۔
    ◆    یہ صاحب طبلے ہر ہارمونیم کے سر نکال سکتے ہیں ۔
    ◆    ان صاحب کے بچپن میں جو بستر گیلا ہو جاتا تھا ، وہ اصل میں بستر کا موتر نکل جانے کی وجہ سے ہوتا تھا ۔
    ◆    یہ صاحب جینے کے لئے سانس نہیں لیتے ، بلکہ ہوا اپنی بقا کے لئے ان کے سینے کے اندر آتی جاتی رہتی ہے ۔
    ◆    یہ صاحب مریخ پر بھی جا چکے ہیں ، اسی لئے وہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں مل رہا ۔
    ◆    ان صاحب پر ملک کے ٹاپ سیکرٹ بھی عیاں ہوتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب گصے سے دیکھ لیں تو ؟ پانی بھی ابلنے لگتا ہے ۔
    ◆    ایک پتھر  سے دو پرندوں کا شکار ؟ نہیں یہ صاحب دو پتھروں کو ایک پرندے سے شکار کر سکتے ہیں ۔
    ◆    ان صاحب کو کوئی بھی گوگل پر  تلاش کر کے نہیں پا سکتا ، کیونکہ انہوں نے گوگل کو اپنی تلاش کی اجازت ہی نہیں دی ہوئی ہے ۔
    ◆    یہ صاحب سپائیڈر میں کو کیڑے مار سپرے سے شکار کر سکتے ہیں ۔
    ◆    اگر یہ صاحب کورٹ میں پیش ہو جائیں تو ؟ کورٹ کے جج کو سزا سنا دیں ۔
    ◆    ان کو گھڑی پہننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وقت ان کی مرضی سے چلتا ہے ۔
    ◆    لوگوں کو درائیونگ لائیسنس اٹھارہ سال کی عمر میں ملتا ہے ، ان صاحب نے اٹھارہ دن کی عمر میں لے لیا تھا ۔
    ◆    اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہے ، تو یہ صاحب اس بات کو اپنی ذاتی توہین سمجھ لیتے ہیں ۔
    ◆    صرف یہی صاحب ہیں جن کا دماغ چاچے چودھری سے بھی تیز چلتا ہے ۔
    ◆    اگر کوبرا سانپ بھی ان صاحب کو کاٹ لے تو کوبرا تڑپ تڑپ کر مر جائے ۔




اتوار، 7 جون، 2015

جنریشن گیپ


ریٹائیر پروفیسر صاحب ۔ شہر چھوڑ کر جب اپنے گاؤں جانے لگے تو پچھتر سال کی عمر کے اخری دفعہ جامعہ میں گئے
یادیں تازہ کرنے کے لئے ، کچھ منظر یادوں میں بسانے کے لئے ، کچھ خام مال جھاڑے کی اندھیری لمبی راتوں میں لطف لینے کے لئے ۔
انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا بینچ پر بیٹھا پڑھائی میں مگن ہے ۔
ان کو اپنی جوانی کے دن یاد آ گئے کہ اسی طرح پڑھائی میں مگن ،دنیا سے الگ اپنی ہی دنیا میں ہوتے تھے ۔
پروفیسر صاحب اس لڑکے کے پاس  بنچ پر بیٹھ گئے ۔
لڑکے نے سر اٹھایا اور ایک معمر بندے کو دیکھ کر کچھ اس طرح گویا ہوا

کہ تم پچھلی نسل کے لوگ ! ہماری نسل کی ترقی کا ادراک بھی نہیں کر سکتے
جس دنیا میں اپ لوگ پیدا ہوئے تھے اج کی دنیا اس بلکل مختلف ہے ۔
وقت کو برتنے کا انداز ؟ تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ۔
لڑکا لیکچر دینے والے انداز میں بات جاری رکھتا ہے ۔
اج کا جوان ٹی وی رکھتا ہے ، ہوائی جہاز ، خلاء کا سفر ، مائیکرو ویو اون استعمال کرتا ہے ۔
میں درجنوں کتابیں ، اج ایک چھوٹی سی چیپ میں لے کر چلتا ہوں ۔
اج کا جوان بجلی ، ہائیٹروجن اور ہائی بریڈ کاریں استعمال کرتا ہے ۔
ہم جو کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں ، اس کی سپیڈ روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے ۔
یہاں تک پہنچ کر جوان لڑکا سانس لینے کو رکا ۔
تو پروفیسر صاحب نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور بات کرنے لگے
ہاں بیٹا !! ایسا ہی ہے
جب ہم یعنی میری نسل کے لوگ پیدا ہوئے تھے تو یہ چیزیں نہیں تھیں
اس لئے ہم نے اور ہماری نسل کے لوگون نے ایجاد کر کے اپ کو دیں ۔
بیٹا جی اگر میری نسل کے لوگون کو طعنہ دینا ہی ہے تو
اس بات کا دو کہ تمہاری نسل کے لوگ انے والی نسلوں کے لئے کیا بنا رہے ہو جو چھوڑ کر جاؤ گے ؟؟؟؟؟۔
حاصل مطالعہ
جہاں ڈیگریوں  والوں کی ڈگریاں نقلی اور تعلیم یافتاؤں کی تعلیم نقل سے حاصل کی گئی ہو
اس معاشرے کے سینئیرز نے کیا چھوڑا؟
اور اج کے جوان ،انے والی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کر جائیں گے ؟

Popular Posts