بدھ، 28 جنوری، 2015

معجزہ اور انسان

بنی اسرائیل کے انبیاء کو  اللہ نے طرح طرح کے معجزات عطا فرمائے تھے ۔
جن میں سے ایک معجزہ یہ تھا کہ ، اس زمانے کے نبی کو اللہ تعالی نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ
ان کے پاس ایک زنجیر تھی  جو کہ ایک حجرے میں  چھت سے لٹکی ہوئی تھی ،  اگر کوئی بندہ اس زنجیر کو پکڑ کر جھوٹ بولتا تھا تو ! زنجیر اس بندے کو جکڑ لیتی تھی ۔
چوری کے معاملے میں مشکوک بندے کو یا کہ کسی بھی لین دین کے معاملے میں  مشکوک بندے اور مدعی  کو اس زنجیر کو یہ زنجیر پکڑ کر قسم کھانے کا کہا جاتا تھا ۔
اس دور میں ایک واقعہ ہوا کہ  ایک شخص کہیں سفر پر جانے سے پہلے ، قیمتی پتھروں اور موتیوں کی ایک مالا  ، کسی دوسرے شخص کے پاس امانت رکھ کر سفر پر چلا جاتا ہے ۔
سالوں بعد جب اس شخص کی سفر سے واپسی ہوتی ہے تو ، وہ اپنی امانت کی واپسی کے تقاضے کے ساتھ ، جب پہنچتا ہے تو ؟
وہ بندہ اس بات سے انکار کر دیتا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کی امانت رکھی گئی تھی ۔
یاد کرانے پر وہ شخص یہ موقف  اپناتا ہے کہ ، مالا اس کے پاس لائی گئی تھی لیکن اس نے وہ مالا  مسافر کو واپس کر دی تھی ۔
یہ معاملہ وقت کے نبی کے پاس جاتا ہے ۔
دونوں فریق  زنجیر والے حجرے میں پہنچ جاتے ہیں گاؤں کے کئی اور لوگ بھی تماشا دیکھنے آ جاتے ہیں ۔
پہلے مدعی ، زنجیر کو پکڑ کر کہتا ہے ۔
میں خدا کو  حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے دوست کے پاس اپنا ہار امانت رکھا تھا  ، اب وہ یہ ہار واپس کرنے سے انکاری ہے ۔
مدعی سچا تھا ، اس لئے زنجیر سے جکڑا نہیں گیا ۔
واپس آ کر مجمع میں شامل ہوتا ہے ۔
اب ملزم کی باری ہے  ، ملزم عمر رسیدہ بندہ چھڑی کے سہارے چلتا تھا ، ملزم نے اپنی چھڑی مدعی دوست کو تھمائی  کہ اسے سنبھالو ، میں بھی قسم اٹھا لوں ۔
چھڑی مدعی دوست کو تھما کر ، ملزم  زنجیر کے پاس جاتا ہے ، زنجیر کو پکڑ کر قسم کھاتا ہے ۔
کہ
میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے  وہ ہار واپس کر دیا تھا جو کہ میرے پاس امانت رکھوایا گیا تھا ۔
ملزم  کو بھی زنجیر نہیں جکڑتی  کیونکہ ملزم سچ بول رہا تھا ۔
ملزم واپس مجمع میں آتا ہے ، اپنی چھڑی مدعی دوست سے ہاتھ میں لیتا ہے اور چلتا بنتا ہے ۔
شہر میں شور مچ جاتا ہے کہ   مدعی کا مدعا بھی سچ ہے اور ملزم  کا تردیدی بیان بھی سچ ہے تو ؟
ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملزم بھی سچا ہو اور مدعی بھی ! تو پھر دعوے کا ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی کے پاس پیغام آتا ہے کہ
ملزم نے اپنی چالاکی سے معجزے والی زنجیر کو بھی دھوکا دیا ہے ۔
ملزم نے اس طرح کیا ہے کہ
بانس کی چھڑی میں کھوکھلی بانسری میں ہار ڈال کر لاتا تھا ۔
جب مدعی نے قسم  دی اور واپس آیا تھا تو  ؟
وہ چھڑی جس کی کھوکھلی بانسری میں ہار تھا ، وہ مدعی کو تھما کر قسم کھانے چلا گیا ۔
تکنیکی طور پر اس وقت جب ملزم قسم کھا رہا تھا تو ، ہار مدعی کے ہاتھ میں تھا ۔
یعنی کہ ہار واپس پہنچ چکا تھا ۔
اپنی بریّت کی  سچی قسم اٹھا کر ، ملزم ہار سمیت چھڑی لے کر چلتا بنا ۔
حاصل مطالعہ
جنہوں نے حرام کھانا ہوتا ہے ، ان کے پاس تکنیکیں بھی بہت ہوتی ہیں ،۔

سوموار، 12 جنوری، 2015

چارلی ایبدو

فرانس کے شہر پیرس میں ، ایک جریدے “ چالی ایبدو” کے دفتر پر ہونے والے حملے اور اس میں مارے جانے والے بارہ افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ
یہ ایک ظالمانہ کام ہوا ہے  ۔
غیر مسلم ممالک میں پناھ گزین مسلمان بھی   اپنے محافظ ممالک کے لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
اسلام  قتل کے خلاف ہے ، کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔
منافقت !!۔
منافقت کر رہے ہیں ۔
میں منافق نہیں ہوں سیدھی اور کھری بات کروں گا ۔

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
یہ الفاظ سننے میں بڑے پیارے لگتے ہیں ۔
لیکن آزادی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
جاپان کے معاشرے میں جہاں میں پناھ گزین ہوں ، یہ آزادی ہے ، حقیقی آزادی ، اور اس آزادی کے بھی کچھ اصول ہیں ۔
مثلاً ، اپ کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں ،۔ جہاں تک چاہیں پھیلا سکتے ہیں
لیکن
دوسرے کی ناک یا گریبان کے حدود سے اِدھر تک !!۔
آپ کی آزادی کی حدود دوسرے کی انسانوں کی حدود میں داخل ہونے کا نام نہیں اگر اپ دوسروں کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسروں کی آزادی پر حرف آتا ہے ۔
بات کرنے میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
نظریات پر تنقید کریں ،واقعات پر بھی تنقید کریں کہ واقعات جذبات پر اثر کرتے ہیں اچھا یا برا ، خوشی کا یا دکھ کا !۔
لیکن شخصیات پر بات کرتے ہوئے خیال رہنا چاہئے کہ کہیں کسی کی تذلیل نہ کریں ،۔
کسی کو گالی نہ دیں ۔
یا پھر اگر گالی دینی ہی ہے تو اپ کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ اپ کسی کو دشمن ڈکلئیر کر کے اس کے غصے کو ابھار رہے ہیں ۔
یہ تو کسی کی ماں بہن یا باپ کی گالی تک کا معاملہ ہے ۔
جب  کوئی اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دیتا ہے
تو
اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ، اسلام زمین پر پہلا مذہب ہے جو کچھ حدود کے بعد لڑائی کو فرض کردیتا ہے ۔
اللہ کے رسولﷺ کی انلسٹ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

فرانس کے اس جریدے “ چارلی ایبدو” نے جو گالی دی تھی ،اس کے ردعمل میں جن کے جذبات کی توہیں ہوئی تھی انہوں نے اس گالی کا بدلہ لے لیا ۔
فرانس نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے جرم میں ان لوگوں کو قتل کردیا ۔
اب اگر فرانس یہ چاہتا ہے کہ ہم بدلہ لینے والوں کی مذمت کریں تو ؟
“ دیزولے” ( سوری) میں اس کی کبھی بھی مذمت نہیں کروں گا ۔
بدلہ لینے والوں کے جذبات مجروع کئے گئے تھے ۔
دوسروں پر تحقیر کرنے والے لوگوں کو اس بات کااحساس ہونا چاہئے کہ ،ان کے عمل کا ردعمل بھی ہو گا ، جس کی شدت کا بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
بدلے کے لئے حملہ کرنے والے ان جوانوں کے حلمے سے پہلے دنیا کے کتنے ہی شہروں میں کتنے ہی لوگوں نے مظاہرے کر کر کے اپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ ،چارلی ایبدو والوں نے ایک معیوب کام کیا ہے
اس کی معافی مانگیں لیکن اپ لوگوں نے

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
کے نام پر لوگوں کے جذبات کا مذاق اڑایا تھا ۔

Popular Posts