منگل، 30 اپریل، 2013

تنزانیہ کا پہلا تاثر


پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سپیشل سلوک کے سارے لوگ شکوہ کناں رہتے ہیں ۔
میں خود یہ سمجھا کرتا تھا کہ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ سب سے زیادہ سپیشل سلوک پاکستان میں کیا جاتا ہے ۔
لیکن یہاں تنزانیہ میں کچھ زیادہ ہی سپیشل سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
میں ٹوکیو سے ویزہ لے کر ایا تھا
لیکن یہاں ایر پورٹ پر دوسو ڈالر امریکی بھی ویزہ فیس کے طور پر دینے پڑے ہیں ۔
میں جو کہ پچھلے دس بارہ سالوں سے ڈالر کم ہی ساتھ رکھتا ہوں۔
بائی چانس تین سو ڈالر بٹوے میں پڑے تھے ، جن سے یلو فیور کے انجکشن کے لئے اور ویزے کی فیس کے لئے ڈالر  مکل آئے ،۔
یہ  یلو فیور والا "ٹیکہ" پچاس ڈالر کا لگتا ہے ۔
یہ یلو فیور یعنی پیلے بخار کا ٹیکہ بہت سے ممالک بلخصوص افریقی ممالک مں داخلے کے لئے شرط ہوتا ہے
یہ اپ کہیں سے بھی لگوا سکتے ہیں ۔
اس کے ساتھ ایک پیلے رنگ کا سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے کہ بندے کو "ٹیکا" لگ چکا ہے۔
جب مجھے انجیکشن لگانے کے لئے ساتھ لیا گیا تو یہان دو بندے ہندی پاسپورٹ والے بھی تھے
ٹیکہ دونوں نے لگوایا ہوا تھا
بقول ان کے، ایک کے پاس جو سرٹیفکیٹ تھا اس کے غلط ہونے کا شک تھا متعلقہ افسر  کو اور دوسرے کے پاس صرف اس بات کا "بیان " ہی تھا کہ اس نے ٹیکہ لگوایا ہوا ہے
قصہ مختصر
ہر دو کو یہ اپشن دیا گیا کہ
انجکشن نہیں لگواؤ
لیکن 
پچاس پچاس ڈالر دے کر "ٹیکا سرٹفکیٹ" لے لو!!!۔
ویزہ کی فیس دوسو ڈالر سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ 
اپ کا تنزانیہ کا دورہ کاروباری نہیں ہونا چاہیے ۔
سیر سپاٹے کے دورے میں اپ کو پچاس ڈالر دینے پڑیں گے۔
اس سے کم ڈالر سے کام چلا سکنے کی کوئی تکنیک ابھی میرے علم میں نہیں آئی ہے ، 
اگر ایسی کسی بات کا علم ہوتا ہے تو بھی لکھ دوں گا۔
پاسپورٹ ویزے 
اور ٹیکے ولا یہ سلوک خاص طور پر ہندی اور چینی پاسپورٹ والوں کے ساتھ کیا جا رہا تھا
جن میں ایک میں تھا
پاکستانی پاسپورٹ والا۔
اس کے بعد کسٹم والوں کا سلوک ہوتا ہے۔
طریقہ وہی ترقی پذیر ممالک کے افسروں والا ۔ 
پاسپورٹ ہاتھ میں پکڑ لیا 
اور ایک ادھ سوال بندے سے اور بندے کو انڈر پریشر کرنے کے لئے دو افسروں کی اپس میں گفتگو۔
جس دوران بندہ منتیں کر رہا ہوتا ہے۔
اس لئے میں خاموشی سے کھڑا تھا
جو کہ افسروں کو ڈسٹرب کرنے والا رویہ ہوتا ہے کہ
بندہ ڈریا نہیں ہے۔
دس منٹ بعد میں نے کہا کہ
افسر صاحب ! ساری گل چھڈو ، اور ڈائیرکٹ اور پوائنٹ کی بات کرو جی کہ 
تسی چاہتے کیا ہو؟؟
جوان افسر کہنے لگا کہ 
جی ہم منشیات کے اسمگلروں کے خلاف چیکنگ کر رہے ہیں ۔
کہ پاکستان سے  منشیات بہت اتی ہیں ۔
میں جو کہ پاکستان سے ہی  آ رہا تھا
میں ے کہا کہ
ہاں جی اس بات کا امکان ہو سکاتا ہے کہ میں منشیات لے کر ایا ہوں 
اس لئے بجائے پاسپورٹ کے مندرجات ہی دیکھے جانے کے کیوں ناں میرے سامان کو چیک کیا جائے۔
اگر منشیات ناں بھی نکلیں تو
میرے سمان میں دو کلو کچے چاول بھی ہیں 
ہو سکتا ہےکچے چاولوں پر لاگو ہونے والا کوئی قانوں نکل ائے 
رقم وغیرہ چارج کرنے کا!۔
جس پر کھوچل والے افسر نے  کچھ دیر توقف کیا اور پاسپورٹ پر انگل رکھ کر کہنے لگا 
تمہارے نام میں یہ جو حصہ ہے ناں جی (غلام) 
اس طرح کے نام والا ایک بندہ یہان منشیات لاتے ہوئے ماضی میں پکڑا جاچکا ہے۔
میں نے ہنس کر ان کو کہا کہ
یہ تو بڑی ہی پرانی اور ترقی پذیر ممالک کے افسروں کی عموماً تکنیک ہے۔
اس لئے میں دوبارہ کہتا ہوں کہ
"پوائنٹ" کی بات کرو!!!!!َ۔
میرے اعتماد سے ان کو " پوائنٹ" کی بات کرنے سے باز رکھا اور کہنے لگے 
کہ جو بندہ تم کو لینے ایا ہے اس سے بات کرنی ہے۔
وہ بندہ دروازے کے سامنے ہی کھڑا تھا
اور وہ بندہ بھی .باہر کے ممالک میں رہنے کی وجہ سے"پوائنٹ" کی بات کی بجائے "نکتے" نکالنے لگا۔
جس پر افسروں نے مجھے با عزت بری کرتے ہوئے  ملک میں داخلے کی اجازت دے دی۔
یہاں تنزانیہ کے شہر دارالاسلام میں شام کے وقت پہنچا ہوں۔
ہوٹل میں سمان رکھنے کے بعد موٹر سائیکل پر تھوڑا سا شہر دیکھا ہے
بنکاک جیسا موسم اور درخت پتے دیکھ رہا ہوں۔
کھانوں کی خوشبو بھی کچھ ملتی سی ہے ۔
بس دھول جو اڑ رہی ہے۔
اور بارش کے بعد پانی اور کیچڑ کا ماحول یاد دلاتا ہے کہ 
یہ بنکاک نہیں ہے۔
ٹریفک کا حال پاکستان جیسا ہے، اگے نکلنے کی کوشش میں دوسروں کے لئے مشکل بن جانے ولا ماحول۔
لیکن سڑکوں کی حالت پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔
سڑکوں کی حالت پاکستان سے بہتر ہے 
لیکن
گلیوں کی حالت پاکستان سے نسبت کھلی اور کچی ہیں ، یہاں کیچڑ بنا ہوا ہے
زمین میں کنکر پتھر کی بہتات کی وجہ سے کیچڑ کی حالت ، پاکستان کی نسبت بہتر ہے
کہ 
گڑھے بنے ہونے کے باوجود گاڑیاں چل رہی ہیں۔
گاڑیوں کے کاروباری ہونے کی وجہ سے 
میں نے اندزاہ لگایا ہے کہ
ان گڑھوں کی وجہ ہے کہ یہاں تنزانیہ میں لوگ فور بائی فور کی گاڑیاں پسند کرتے ہیں۔

بجلی کا کہتے ہیں کہ کبھی کبھی چلی جاتی ۔

مغرب کی اذان ہوتے ہی لوگوں کا مسجد کی  طرف رخ ان لوگون کے  مذہبی  رویے کا تاثر دیتا ہے
لیکن ابھی تک یہاں غالباً یہان وہ پاکستان والے اسلام کی آمد نہیں ہوئی ہے۔

ہفتہ، 20 اپریل، 2013

شیر کی شرافت

پرانی کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے کہ
کسی جنگل میں ایک شیر اور ایک ریجھ اور لومڑی نے شکار کھیلنے کا سیاسی اتحاد بنا لیا۔
شکار میں تین جانور مار کر لائے گئے ۔
ایک زیبرہ ایک ہرن اور ایک خرگوش ۔
سارا شکار سامنے رکھ کر شیر نے  بڑی ہی شرافت سے ریچھ کو کہا کہ کیونکہ میں ایک شریف  چیز ہون اس لئے میں جمہوریت کا لحاظ رکھتے ہوئے
تم کو دعوت دیتا ہوں کہ شکار کی منصفانہ تقسیم کرو۔
رچھھ نے مال کی تقسیم کرتے ہوئے کا کہ
کیونکہ تم سب سے بڑے ہو اس لئے زیبرہ تم کھا لو اور ہرن میں کھا لیتا ہوں
اور لومڑی کو خرگوش دے دیتے ہیں  ۔
شیر کو بہت غصہ ایا
ریچھ شیر کی رینج میں ہی کھڑا تھا
شیر نے اس پر حملہ کر کے ریچھ کو مار دیا۔
اور ہانپتے ہوئے لومڑی سے مخاطب ہوا کہ
تم ایک عقلمند جانور ہو
تم صحیع اور منصفانہ تقسیم کر سکتی ہو۔
لومڑی نے کہا کہ
یہ زیبرہ اپ بادشاھ سلامت ابھی کھا لیں اور ہرن کو شام کے کھانے میں انجوائے کریں ۔
اور یہ جو خرگوش ہے
اس کو
اپ کل ناشتے میں کھا لیں ۔
اور اس میں سے اگر کچھ جائے گا تو وہ میں کھا لوں گی ۔
یہ سن کر شیر بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کہ
تم نے یہ عقل اور دانش کہاں سے سیکھی ہے؟؟

چھڈو جی لومڑی نے کیا جواب دیا ہو گا
مجھے بس یہ کہانی
نیٹ پر یہ خبر دیکھ کر یاد آ گئی تھی

مسلم لیگ(ن) نے سینیٹرمشاہداللہ خان کی بیٹی یابہوکوسندھ اسمبلی میں خواتین کی کسی مخصوص نشست پرنامزدنہیں کیا، پارلیمانی بورڈنے صرف ان لوگوں مخصوص نشستوں پرنامزدکیا جن کی سفارش متعلقہ شہریاضلع کی تنظیم کی طرف سے کی گئی تھی،مسلم لیگ(ن) کے ترجمان کا بیان

یاد رہے کہ یہ بات کسی ایک پارٹی کی نہیں ہے
پاکستان نامی حمام میں سبھی ننگے ہیں

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

باپ کا مال ۔

بات یہ چل نکلی کہ
ایشیا کے ممالک میں جاپانی ایسی قوم ہیں جن کے یونیورسٹی پاس لوگوں کی اکثریت کو انگریزی بولنی نہیں اتی!!!۔
ہمارے ہان تو ایک گریجویٹ کا ایمج ہی فر فر انگریزی بولتے شخص کا ہے
کجا کہ جاپانی جو کہ ایشیا کی تعلیم یافتہ ترین قوم ہے ، اس قوقم کی کریم لوگ یعنی گریجویٹ لوگ لوگ لیکن انگریزی سے پیدل۔
ایک بندے نے اس جواب یہ بھی دیا کہ
انگریزی بول سکنا ہی کیوں اعتراض کی بات ہے؟
لیکن ایک معقول شخص نے بتایا کہ
ایشیا کے ممالک کی بد قسمتی یہ ہے کہ ان ممالک کی زبانوں میں یونورسٹی کے لیول کی تعلیم کے لئے الفاظ کی کمی ہے
جس کمی کو پورا کرنے کے لئےان ممالک میں بچوں کو انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے
اور یہی بچے بعد میں معاشرہ بناتے ہیں
اور معاشرے میں انگریزی کی بوجھ ، ایک کوالٹی بن جاتی ہے ۔
مجھے یہ حقیقت سن کر بڑا افسوس ہوا کہ
جس خطے سے میرا تعلق ہے
اس خطے کی ابانوں میں الفاظ کی تو کمی نہیں تھی لیکن
جب
اس خطے میں دین کے نام پر بے دینی مسلط کر دی گئی تو
صدیون کا فلسفہ ، تکنیک اور علوم کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑے
اور اس لٹھ لے چڑھنے کو علم دوستی اور علم پھیلانے کے جہاد کا نام دیا گیا۔
دنیا بھر مین جہاں تک قدیم زبانوں کا کھوج ملا ہے ، ان زبانوں کو اشکال کی صورت میں لکھا پایا گیا ہے۔
فراعین مصر کی زبان ! تصویروں میں کہانیان لکھی گئی ہیں ۔
چینی زبان اشکال میں لکھی جاتی ہے ۔
چین جو کہ چار ہزار سال کا حکومتی ریکاڈ رکھتا ملک ہے
یاد رہے کہ یہ ریکارڈ مسلسل نہیں ہے جنگوں اور قدرتی افات میں صدیاں گم ہو جاتی ہیں لیکن صدیون کا ریکارڈ محفوظ رہ جاتا ہے ۔
لیکن ایک ہی زبان اور ایک ہی ملک کی چار ہزارسال کی تاریخ مرتب کرنے میں تسلسل بنا ہی لیا جاتا ہے ۔
لیکن سنسکرت میں اواز کو تحریر کی شکل دی گئی۔ جو بولا جاتا ہے وہ اگر پڑھا جائے تو سننے والے کو وہی سنائی دے گا جو کہنے والے نے لکھوایا تھا۔
اس طرز تحریر کے بعد کی ساری اقوام کی ترظ تھاری ہیں کہ اج
ہم لکھ پڑھ سکتے ہیں ۔
جس کی سب سے بڑی مثال انگریزی ہے۔
اشکال اور مورتوں کے لکھنے والاے انسان کو ایک صوتی خط یا طرز تحریر تک پہنچنے کے لئے کتنی صدیاں لگی ہوں گی؟؟
چیزوں کو کننے کے لئے ہاتھوں پیروں کی انگلیوں کی گنتی سے لے کر ہندسوں تک کے ارتقاء حیات کا سفر بھی تو لمبا ہو گا ہی
لیکن
ہندسوں میں صفر کا اضافہ کرنے والے بندے کی تعلیم کے پیچھے کتنے سالوں کی رضایتیں ہوں گی؟؟
مکمل ترین ضابطہ حیات کا دعوہ کرنے والے مذہب ، جو کہ جدید ترین دین ہونے کا دعوہ بھی رکھتا ہے ۔
اس میں کلینڈر کی حالت یہ ہے کہ
زرعی معاشروں میں اس کلینڈر کا کام ہی نہیں ہے ۔
اور خود اس دین (سسٹم ) کے تہواروں میں بھی ابہام بنا ہوا ہے۔
لیکن راجہ بکرم اجیت کو کلینڈر بنا کر دینے والے رشیون کی کیا تعلیم ہو گی کہ جنہون نے
اسلام کی پدایش سے بھی چھ سو سال پہلے موسمی کلینڈر بنا کر ایک زرعی معاشرے کو منظم دین دیا تھا؟

اسلام کی کتابوں میں ایک کہاوت لکھی گئی ہے جس کو بہت سے لوگ حدیث کے طور پر بھی مانتے ہیں ۔
علم مومن کی میراث ہے ، اس لئے علم جہان سے بھی ملے لے لینا چاہئے
اس کہاوت کو سلیس زبان میں لکھیں تو اس کے معنی بنتے ہیں
کہ
علم مومن کے باپ کے مال جسی چیز ہے
اس لئے جہاں سے بھی ملے باپ کا مال سمجھ کر اس کو چھوڑنا نہیں ہے
جہاں سے بھی ملے اس کو لے کر اپنے گھر میں ڈال لینا ہے۔
لیکن اسلام کے ماننے والے
اس کہاوت کے ساتھ بھی وہی حال کرتے ہیں جو کہ وہ دوسرے علوم کے ساتھ کرتے ہیں ۔
یعنی
پر اچھی بات کا تغرہ بنا کر دیوار پر لٹکا لیتے ہیں
ناں سجھتے ہیں
ناں عمل کرتے ہیں ۔
اس لئے اج کل کے پاکستان میں جو ‘‘ دین اسلام ‘‘ چل رہا ہے
اس میں
میراث( باپ کا مال) ہندو علم سمجھ کر نفرت کی جاتی ہے۔
سائینسی علم کو کفر کی علامت سمجھ کر اس سے بچنے کے ٹوٹکے کئے جاتے ہیں ۔
ایل علم اقوام کی بنائی ہوئی چیزوں کے بائیکاٹ کی تبلیغ کر کے لوگون کو ثواب پر اکسایا جاتا ہے۔
جس لئے ہماری زبانوں کے الفاظ مرتے جا رہے ہیں
اور ہم لوگوں کو تعلیم بھی یر ملکی زبانوں میں لینی پڑتی ہے۔
لفظ ڈائیجسٹ کے معنی میں نے جب ماسٹر گلام نبی صاحب سے پوچھے تو
انہوں نے کہا کہ اردو کی اسان زبان میں اس کا معنی نہیں ہے
لیکن تم اس طرح کرو کہ اس کے معنی کو ذود ہضم کے لفظ سے یاد کر لو۔
اب مجھے ذود ہضم کے معنی کون بتائے گا؟
لیکن اگر مقامی زبانوں کا علم ہوتا تو
مجھے یہ بھی بتایا جا سکتا تھا کہ
امتحان دینے میں تو تمہارے کا نہیں ائے گا
لیکن تمہاری سمجھ کے لئے بتا دیتا ہون کہ پنجابی میں اس کو
پچن ہار
سمجھ لو۔
لفظ نیم گرم کو سمجھنے کے لئے بس تم پنجابی کا
کوسا
سمجھ لو۔
اس لئے جاپانی سیانے کی یہ بات کہ ایشیا کی اقوام کی زبانوں میں الفاظ کی کمی ہے
کو میں یہ کہوں گا کہ
میری زبان میں الفاظ کی کمی تھی نہیں
لیکن
نظام تعلیم جو مجھ پر مسلط کر دیا گیا ، اس نظام نے مجھے میری زبان سے دور کر دیا ہے۔
ایک قدیم مکالمہ ہے
یہ
وہ اندہیری راہوں میں کیوں مارے گئے؟؟
جواب
ان کے باپوں نے ان سے جھوٹ بولا تھا!!!۔
اگر میری قوم کے بڑے
نظام تعلیم تو یہی اپان لیتے جو ان پر مسلط کردیا گیا لیکن زبان
اپنی میں موڈیفائی کر لئے تو؟؟
اس میں یا میری قوم تعلیم ‘‘حاصل‘‘ نہیں کر ہی ہوتی
بلکہ
تعلیم کو اپنے اندر اتار کر اپنے اندر جزب کر چکی ہوتی۔
لیکن اب باتوں کا علم تب ہوتا ہے جب کسی کو اس بات کی روشنی لگتی ہے
کہ
علم کو باپ کا مال سمجھ کر کیسے جھپٹنا چاہئے ۔

جمعرات، 11 اپریل، 2013

لطیفے

بھٹی نے بٹ کو بتایا
کہ
اج  ہماری بکری نے انڈھ دیا ہے۔
بٹ ھیرانی سے  اچھل ہی بڑا۔
اوئے بھوتنی کے  ، بکری اور انڈہ ؟؟
ہاں !! بھٹی نے بٹ کو بتایا کہ
ہم گریٹ لوگ ہوا کرتے ہیں ۔
ہم نے اپنی مرغی کا نام بکری رکھا ہوا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیرانی کی انتہا کیا ہے؟؟
جب اپ دو بندوں کو ٹوائیلٹ سے نکلتے دیکھیں
کہ ایک نالہ باندھ رہا ہو
اور دوسرا !
انگلیاں چاٹ رہا ہو!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ساقو بھٹی کی بیوی ،ڈاکٹر کے پاس "پوٹی" ٹیسٹ کے لئے گئی۔
ڈاکٹر نے اس کو بتایا کہ
یہ پوٹی نہیں ، حلوہ ہے ! حلوھ!!۔
ہائے میں مر گئی ڈاکٹر صاحب کیا میں ایک فون کر لوں؟
کیوں کہاں کرنا ہے؟
" اٗن " کو بتانا ہے کہ
پوٹی
ٹفن میں چلی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماں کون ہے؟
یہ ماں ہی ہے جو اپنے بچوں صبح اٹھا کر کہتی ہے۔
اٹھ جاؤ کنجرو ۔
گیارہ بجھ رہے ہیں ۔
کتوں کی طرح پڑے رہتے ہو، تمہارے باپ نے چار پانچ نوکر نہیں رکھے ہوئے
جو تمہیں ناشتہ بنا کر دیں ۔
زندگی حرام کر رکھی ہے کمینوں نے۔
۔
۔
۔
ماں کی ہر بات پر جذباتی نہیں ہو جانا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بٹ نے بھٹی سے پوچھا
کہ
عقل بڑی کہ بھینس؟
ساقو بھٹی نے بڑا سوچا لیکن سمجھ نہیں آئی
لیکن اوپر سے ہو کر کہتا ہے
اوئے بٹا توں مینوں پاگل سمجھتا ہے
دونوں کی دیٹ اف برتھ تو بتائی ہی نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیسٹ دے کر  پریشان لڑکا
رات کو چھت پر ٹہل رہا تھا
کہ
اس نے ٹوٹا ہوا ستارہ (شہاب ثاقب) کو دیکھ کر ٹیسٹ میں پاس ہونے کی دعا مانگی
تو
پاس کھڑے اس دوست نے کہا کہ
دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے
سائینس نے اتنی ترقی کر لی ہے لیکن
تم رہے
کمہار کے کمہار ہی !!!۔
لڑکے نے جواب دیا
کہ
اب سائینس نے ترقی کر کے ٹیسٹ ٹیوب بی بی پیدا کر لی ہے
تو
کیا
تمہارے خاندان میں شادی کا رواج ختم کر دیا گیا ہے کیا؟؟

ہفتہ، 6 اپریل، 2013

گیدڑ پروانہ

ایک بہت پرانی کہانی ہے جو کہ
اج ،منور مسعود صاحب کی ایک فیس بک کومنٹس سے یاد ائی کہ
کسی جنگل نما ملک میں پروانوں یعنی ڈگریوں کی بڑی وقعت ہو گئی ۔
کہ اس جنگل نما میں ایک ایک گیڈر نے اپنے علاقے میں من مانی کرنے کے لئے
ایک دن ایک کاغذ کا تکڑا منہ میں اٹھایا اور اپنے ہم جنسوں سے کہنے لگا کہ
یہ ہے ڈگری ۔
اس کی رو سے اب اپ لوگوں کو میری قیادت میں تھانوں میں میں من مانی کرنے اور
اور
کھیتوں (بنکوں) میں سے خربوزے(قرضے) کھانے کا پروانہ مل گیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام ( کیپٹل ازم) کے مالک  کے کھیتوں(بنکوں) میں سے خربوزے(کرنسی) کھانے کے شوق میں سارے گیڈر اس ڈگری ہولڈر  کے کھیتوں پر پر پل پڑے۔
کہ
اتنی دیر میں
تاک میں بیٹھے ، مالک کے کتے( ۔ ۔ ۔ ۔ )میرے عزیر ہم وطنوں کہتے ہوئے ان پر چڑھ دوڑے۔
ڈگری ہولڈر گیدڑ نے للکارا مار ، بھاگو اوئے رونہ مارے جاؤ گے۔
ایک دوسرے گیدڑ نے کہا کہ ان کو جمہوریت کا ماڑے موٹے مینڈٹ کا پروانہ دیکھاؤ ناں !!!۔
تو
ڈگری ہولڈر نے کہا
کہ یہ کتے انپڑہ ہیں ان کو ڈگری پڑہنی نہیں اتی ہے
سب گیدڑیوں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی
اور
کتوں کا دیہان بٹنے تک
کسی اور ڈگری کے بنوانے کے لئے انٹرنیٹ پر سرچ کرتے رہتے ہیں۔

اس دن سے پنجابی میں
اس قسم کی ڈگریوں کو
گدڑ پروانہ کہتے ہیں ۔

سوموار، 1 اپریل، 2013

ایک تاکید

ویکھ پتر!۔
توحید نوں بڑی مضبوطی نال پھڑ کے رکھیں  ۔
اے بڑی کامیابی دی کنجی اے  ۔
اک توحید ای ایسی چیز اے جو بندے نوں  اپنی صلاحیتاں نال اگے ودھن دا حوصلہ تے زور دیندی اے۔
بندے نوں ایتل اوتل دیاں چیزاں تے امیداں لا لا کے مایوس ہون توں بچاندی اے ۔
اک اکیلے رب تے یقین رکھیں کہ او ہی تیری عقل وچ پائے گا کہ کسے وی مصیبت وچ کی کرنا ایں ۔
پتر !۔
جے توں اک الّلہ تے ہی امیداں رکھیں گا تے تینوں اس گل دا وی پتہ لگے گا کہ
کم تینوں آپنے کم ،  اپی ہی کرنے پئین گے ۔
جے کدی تینوں کدی کوئی دہریہ اے اکھے! کہ رب کوئی نئیں  ۔
تے تون ایس نال بحث ناں کریں ۔
توں کہہ دئیں
کہ ہاں ہو سکدا اے کہ رب ناں ہی ہوئے
پر میں اپنے کم چلان لئے اک فرضی رب بنا رکھیا ہویا  اے۔
ہو سکدا اے کدی تیرے دل وچ وی اے گل جڑ پھڑ لے کہ رب کوئی نئیں
تے فیر وی جے توں عقل کولوں کم لوئیں
تے
اک رب نوں اپنا رب بنائی ای رکھیں ۔
یاں توں میری گل من لوئیں
تے اک رب تے یقین رکھیں۔
ناں کسے ہور تے امیداں لائیں تے ناں سمجھیں کہ کوئی تیریاں مراداں پوریاں کرے گا
تے فیر توں ویکھیں
کہ توں
آپ ، دوجیاں دے کم اون جوگا ہو جائیں گا۔
پر پتر نری توحید نال تیرے کم تے کاروبار نئیں چلنے۔
ایس لئی
توں انج کریں کہ
جھوٹ ، لالچ ، چوری ، جوئے،حسد، نشے تے بسیار خوری توں انت دا پراں رہویں ۔
اے جیڑیاں ست چیاں میں تینوں دیسیان نے
تو ں
ایہاں تو بہت ہی بچناں اے
تے لوکاں نوں اے دسنا ایئں
کہ
میرا رب اینہاں چیزاں توں منع کردا اے
ہوسکدا اے کہ رب ہووے کہ ناں
پر
اینہاں ست چیزاں تو بچ کے
سخت محنت نال توں اپنے زمانے دا امیر بندہ بن سکنا ایں
ہو سکدا اے تینون سارے مذہب ڈرامے لگن
پر
اے اک حقیت اے کہ
ایس کائینات نوں کسے نے بنایا ضرور اے
تے اوس نوں کسے وی ناں نال سد کے
توں
توحید نال چمڑیا رہویں
تے اپنی اولاد نوں وی اے دسدا رہویں۔
پتر! شرک ، ساریاں بیماریاں تے ناکامیاں دی جڑ ای
پتر شرک دی ڈیفینیشناں وچ ناں پوئیں
بس
اینی گل یاد رکھیں کہ رب ایک تے اکیلا اے
تے بڑا ای پالن ہار اے
رب دا حکم سمجھ کے
جھوٹ ، لالچ ، چوری ، جوئے،حسد، نشے تے بسیار خوری ، دے نیڑے نئیں جانا۔
توں اپنے اندر چاتی پاء کے ویکھیں کہ
اک رب تے یقین نال تیرے اندروں بڑے جہے ڈر نکل جان گے ۔
اک رب تے یقین رکھ کے توں او کتاباں ضرور پڑہیں
جنہان کتاباں نوں اسمانی کہیا جاندا اے
تے نالے جے تینوں  مل جان تے اونہاں لوکاں دیاں لکھیان ہویاں باتاں وی ضرور پڑہیں
جنہاں نوں ، لوک “رب” من دے نے یا “رب جہیا” من دے نے
پر پتر اینہاں دیاں گلاں تے ضرور غور کریں  پر اینہاں لوکاں دی عقیدت وچ ناں پے جائیں
کہ
او وی تیرے جہے انسان سن  ،
تے رب نے عقل تینوں وی دتّی اے
ویکھ پتر جھوٹ نئیں بولنا
لوک تیرے تے اعتبار کرنا چھڈ جان گے
تے پتر کوی وی بندہ ایڈا امیر نئیں ہوندا کہ
 تجارت کرئے تے ساری منڈی دا مال خرید سکے
توں جھوٹ توں بچ جاوئیں گا
تے لوکاں دے پیسے نال کاروبار کر سکیں گا
جے توں نالے لالچ کولوں وی بچ جاویں گا
تے
لوک تیرے کول اپنا مال رکھ جان گے
تے اونہاں وچوں بڑے جہے منگن وی نئیں اون گے۔
پر توں لالچ فیر وی ناں کریں ۔
تے ایس طرحاں تو منڈیاں دا بوہتا مال خریدن جوگا ہو جاوئیں  گا ۔

توں چوری نئیں کرنی
نئیں تے تیرے وچوں محنت کرن دی روشنی نکل جائے گی
تے پتر جیہڑے بندے وچوں محنت دی روشنی نکل جائے اوس دیاں نسلاں تک برباد ہو جاندیاں نی۔
تے بندے وچوں محنت دی روشنی مکان والیاں چیزاں وچوں سب تو وڈی چیز
اے
سود
تے چوری۔
تے جوّا
سود پتر نئیں کھانا۔
سود تیریاں اون والیاں نسلاں نوں مانگت(بھکاری) بنا دے گا۔
حسد نئیں کرنا پتر
توں محنت کرنی اے
تے تیرے کول وی او سب کجھ ہوئے گا
جو کسے ہور کول ہو سکدا اے۔
نشہ تے بسیار خوری
تیرے جسّے(جسم) نوں کھا جان گے
جے توں اپنی جوانی توں لذتاں کشید کرنیاں چاہناں ائیں تے
اپنا بڑھاپا سوہنا گزارنا چاہنا ائیں تے
نشے تے بہتا کھانا کھان توں بچ جاوئیں۔
توحید نوں منن والا بن کے تے
جدہوں وی چنگے تے مندے دی گل ہوئے تے!!۔
لڑائی نوں کدی مندا ناں سمجھیں۔
توں ظالم نئیں بننا
پر لڑائی لئی ہر وقت تیار رہنا ائیں۔
ایسے لئے میں تینون نشے توں وی منع کرنا واں کہ
اے ناں ہوئے کہ لڑائی سر آ پوئے
تے
توں
نشے وچ ای ماریا جاوئیں
لڑائی ناں ای بری چیز اے تے ناں ای گناھ اے
ظلم بری چیز اے تے
ظلم  گناہ وی اے!
ظلم ناں کرئیں تے ،  تے ناں ای ظلم برداشت کریں۔
پتر ۔  ظلم برداشت کرکے جیون نالوں  مر جاوئیں!!!۔
پتر میں تینوں اک واری فیر اکھاں گا
توحید نوں ناں چھڈیں
تے شرک دے نیڑے ناں جاوئیں
تیریاں عقیدتاں ، پرستشاں ، عبادتاں ۔ دعاواں سبھی اک اللہ لئے ہونیاں چاہی دیاں نے ۔
پتر میری گل نوں سٹ ناں پاوئیں
تے اے گلاں اپنی اولاد نوں وہی دس دا رہوئیں تے اینہاں تو
تاکید کریں کہ اے گلاں اپنی اولاد نوں وی ضرور دسن ۔

Popular Posts