جمعرات، 31 جنوری، 2013

انشاء اللہ

پاکستان کا ماحول کچھ اس طرح کا ہے کہ
جو کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا
اس کی کوئی عزت نہیں ہے
اس لئے معاشرے میں عزت کے لئے
مخصوص ذہنیت کے لوگ
کچھ لوگوں کے چمچے بن کر اور کچھ لوگوں کو چمچہ بنا کر معاشرے میں معتبر بنے بیٹھے ہیں
لیکن ابھی بہت سے لوگ ہیں جو کہ برابری کی بنیاد پر تعلقات کو ترجیع دیتے ہیں
اور یہ لوگ معاشرے میں بے اثر سے بن کے رہ گئے ہیں
جتنے کم ظرف تھے ان کو عزت ملی
جتنے چور تھے ، معتبر ہو گئے
اور ہم جیسے لوگ عزت بچا کر کونے لگے ہیں
بلاگ لکھنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو برابری کی بنیاد پر تعلقات کی نفسیات والے ہیں
کہ میں اب تک جن بلاگروں سے ملا ہوں میں نے ان سے مل کر یہ بات بہت محسوس کی کہ یہ لوگ مجھے اپنے جیسا سمجھ کر اور اپنا سمجھ کر بات کر رہے ہیں
لیکن معاشرے کا اثر تو ہوتا ہے ناں جی
کہ کوئلے کی کان میں کالک سے بچت مشکل کام ہے
اس لئے میں دیکھتا ہوں کہ کبھی کبھی کوئی کمزور سی اواز بلاگروں میں
اس بات کی بھی اٹھتی ہے کہ
ماس (تھوک )میڈیا بلاگروں کو کوریج نہیں دیتا
تھوک کے بیوپاریوں کی نفسیات ہوتی ہے کہ پیداوار کرنے والوں کو کم تر درجے میں رکھیں
کہ مال کی ترسیل میں کمی ناں آئے
میڈیا کے بڑے بڑے نام تھوک کے بیوپاری ہیں اور
ہم بلاگر وہ لوگ ہیں جو پیداوار دے رہے ہیں
لیکن
طلب اور رسد
کے نظام میں ابھی ہمارے پیداوار کی طلب نہیں ہے ؟
طلب ہے !!۔
بس تھوڑا انتظار اور
بس کوشش کرنی ہے کہ ہم نے ناں تو کسی کو چمچہ بنانا ہے
اور ناں ہی کسی کا چمچہ بننا ہے
ماس کمیونیکیشن کی طرف بھکاریوں کی طرح منہ کرکے نہیں دیکھنا ہے کہ ہمیں شہرت کی بھیک دو
ہم لوگ کمینوں کے اس دور کے معتبر لوگ ہیں
اقلیت میں ہونے کی وجہ سے دلگیر ضرور ہیں لیکن مایوس ہونے والی کوئی بات نہیں ہے
ہمیں ماس میڈیا کی طرف دیکھنا چھوڑنا ہو گا
بس اپنی دھن میں لکھتے رہنا ہو گا
انے والے زمانوں کے لوگ ہمرا نام لیں گے
انشاء اللہ!!۔

منگل، 15 جنوری، 2013

نیکی کی ہار

پاکستان میں برائیاں اپنے گند کو اچھالنے کے لئے دوسری برائیوں سے پرسرپیکار ہیں
اس ملک میں نیکی کی کوئی نشانی نہیں ہے
فتنے فتنوں سے ، جھوٹ ، جھوٹ سے ، سازشیں سازشوں سے
مکار دوسرے مکاروں
احمق دوسرے احمقوں سے برسرپیکار ہیں
یہان نیکی کا کوئی نشان نہیں ہے جو کہ کہیں کسی برائی سے لڑ رہی ہو
عوام میں جو کچھ ہے وہ مغالطون کی تعلیم سے آراستہ ہے
جس ملک میں عام لوگ مبالغون سے کام لیں
اور ان کی تعلیم مغالطوں پر مبنی ہو
جہاں پر طرف سازشیں ہی سازشیں ہوں ، جہاں جھوت ہی جھوت ہو
جہاں کسی بھی شخص کی دی گئی کسی بھی خبر کو سچ ناں کہا جاسکے
اس ملک کی بقا کی امید کس بات سے کروں ؟
اہک مغالطہ کہ اس ملک کی فوج بڑی منظم ہے
کیا اس مغالطے کا میں بھی شکار ہو جاؤں ؟
اس ملک کے نظام حکومت میں مجھے اوپر سے نیچے تک ، کہیں کوئی نیکی نظر نہیں آتی۔
دنیا نیکی اور بدی کا میدان جنگ ہے ۔
لیکن یہاں اس ملک پاکستان کے نظام حکومت میں کہیں نیکی کی رمق نظر نہیں آرہی ہے
ہر سیٹ پر ، وہ سیٹ کسی ادارے کی کرسی ہو کہ کسی سیاسی پارٹی کی چئیر ہو
ہر جگہ ہر کرسی پر ایک فرعون افسر بیٹھا ہے
اور
ہر سیاسی جماعت کی ‘‘ چئیر‘‘ کا چئیر میں فرعون بنا بیٹھا ہے
شخصیت پرستی کی انتہا ہے کہ
لوگوں کو سسٹم اور شخصیات کے فرق کا بھی علم نہیں ہے
میں کیا سمجھوں کہ
نیکی اور بدی کی جنگ کے اس میدان جس کو پاکستان کہتے ہیں
یہان نیکی ہار چکی ہے ۔
تو پھر بھی اگر یہ ملک
کچھ سال اور چلتا رہتا ہے تو
دہریئے جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہے
تو کیا وہ صحیع کہتے ہیں !!۔

سوموار، 14 جنوری، 2013

سوشل میڈیا کی اج کی پوسٹ

قادری کا لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے
کوئٹہ میں  پاکستانی لوگ اپنے پیاروں کی میتیں سڑک پر دھرے ، احتجاج کر رہے ہیں۔
ملک میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ
ملک کا کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داریوں کا دس فیصد بھی کام نہیں کر رہا
جو کام قادری نے شروع کیا ہے
یہ بھی اس کی ذمہ داری نہیں تھی ، جس کو پورا کرنے کے نام پر یہ بھی دس فیصد بھی نہیں کرئے گا۔
مٗلک ! اداروں کے مجموعے کا نام ہوتا ہے
جس ملک کا اداروں کا یہ مجموعہ جتنا منظم ہوتا ہے اتنا ہی ملک مضبوط ہوتا ہے
اور پاکستان میں یہ مجموعے کا مجموعہ ہی تباہ ہو چکا ہے
ملک میں لوگوں کو تعلیم دینے کے ادارے نے بھی اسی بات کی تعلیم دی ہے کہ
ملک میں بس ایک ہی ادارہ ہے  جو سارے دکھوں کا مداوا ہے
اور یہ ادارہ ہے فوج
میں دیکھ رہا ہوں کہ فیس بک پر لوگ عجیب سیکم عقلی کی باتیں کر رہے ہیں
کوئیٹہ کی میتوں سے ہمدردی کرنے والوں کو موسم کی شدّت کا زیادہ احساس ہے
لیکن اداروں کی ناکامی کا علم ہی نہیں ہے
اور اس بات کا تو کوئی بھی نہیں لکھ رہا کہ ایسا معاملہ ہو جائے تو اصولی طور پر کس کس ادارے اور ان اداروں میں کس کس اتھارٹی کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے نظام میں
دو دن سے تو ماحول ایسا بنایا ہوا ہے فیس بک پر کہ فوج کی کردار بندی  کی جارہی ہے فوج سے امیدیں فوج سے اظہار یک جہتی
فوج کے پاک ہونے کی باتیں
بلکہ ایک ویڈیو میں تو فوجی کی پٹائی دیکھا کر فوج کو مظلوم بنایا جارہا ہے
کنٹرول لائیں پر انڈیا کے ساتھ لڑائی کا معاملہ اچھالا جا رہا ہے
پاکستان میں بتایا گیا کہ ہندو نے حملہ کیا
ہندو کہتا ہے پاکستان نے حملہ کیا
اور ہندو تو یہاں تک کہ رہا ہے کہ ہند کے مرنے والے فوجیوں کی لاشوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئیں تھیں
بعد از مرگ تشدد۔
پاکستان میں غائب کر دئے جانے والوں کی بھی جب میتیں ملتی ہیں تو
ان کی میتوں کی بھی ہڈیاں ٹوٹی ہوتی ہیں
ایک ہجوم ہے جو کہ اپنی اپنی بے ڈھنگی چال چل رہا ہے
میڈیا کو لگام دینے کی باتیں  ان معاشروں میں ہوتی ہیں جن میں معاشروں میں نقص زیادہ ہوتے ہیں
ورنہ  منظم معاشروں مین میڈیا کے لئے اصول مقرر کر دئے جاتے ہیں
لیکن جہاں ، جس ملک میں کسی بھی ادارے کے کوئی اصول ناں ہوں وہاں اگر کوئی معاملہ ہو جائے تو بس اپنی مظلومیت کا واویلا ہوتا ہے اور دوسروں کے مظالم کا رونا
پاکستان کی ساری قوم کا دماغ کھول کر دیکھ لیں
اس قوم کے پاس کسی بھی چیز کو چلانے کے لئے کوئی اصول وضع نہیں ہے
لیکن  ہنود یہود کی سازشوں کا واویلا کرکے خود کو مظلوم اور امریکہ انڈیا کو ظالم بنانے کی کوشش میں ہیں
یہ فوٹواں دیکھیں کہ ان سے کیا ماحول بن سکتا ہے؟؟
اور یاد رکھیں کہ یہ چیزیں سوشل میڈیا نہیں ہیں
سوشل میڈیا وہ ہو گا
جو کسی بلاگر کا لکھا ہوا
اس بلاگر کے بلاگ پر موجود رہے گا
اور اس لکھے ہوئے کو  فیس بک ، ٹویٹر یا دوسری عوامی دیواروں پر لگایا جائے گا
خود میری اس پوسٹ سے میں میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں  اس کا تعین کرنا بھی مشکل ہے
میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ
معاملات ایک دو سال سے نہیں بلکہ نصف صدی سے ایسے بنائے جارہے ہیں جو
کہ بات کی سمجھ لگنے والی عقل کی تیاری کے خلاف ہیں
اور ذہنوں کو منتشر کرتے جا رہے ہیں
ان منتشر ذہنوں میں سے ایک میں بھی ہوں جو کہ
اپنے ذہن کی تربیت میں لگا ہوا ہوں

















اتوار، 13 جنوری، 2013

خواب امید تے پردیسی

دکھ ! بندے دے خون وچ رہ کے تے، خون پی کے جیوندے نے
تے! خون نوں زہر بنا کے بندے دا جیون مکا دیندے نے
تے آپی !۔مردے فیر وی نئیں۔
چھوٹے چھوٹے خواب لے کے تے باہر دے ملک آئے ساں۔ حیاتی مک چلی اے ،پر خواب بدل کے کجھ ہور دے ہور ای ہو گئے نے۔
خون جگر دا رکھ کے تلی اتے
دھرتی پوچدے پوچدے ٹر چلے
ایتھے کیویں گزارئے زندگی نوں
اہو سوچدے سوچدے ٹر چلے۔
جیدوں نوئیں نوئیں جاپان آئے تے اک سال بعد ای میں اپنے پراہ غلام مرتضٰے نوں وی سد لیا
دووئیں پراہ رل کے محنت کردے ساں تے ایمانداری دے نال ساری  دی ساری کمائی ابا جی نوں کل دیندے ساں
جدوں گھروں خط اؤندا سی کہ پیسے مل گئے نے
تے یقین کرو کہ اینی خوشی ہوندی سی کہ کی دسئے۔
چھوٹے پراہ نے جاپان اؤن توں پہلاں پاکستان وچ کھوتا ریڑھا بنایا ہوندا سی،تے پراہ دا بڑا دل کردا سی کہ اسی جدوں امیر ہو جاواں گے تے
افریقہ توں ایک زیبرے دا بچہ منگوا کے اس نوں کھوتے دی تھاں ریھڑے اگے جوواں گے۔
تے دور دور دے پینڈاں تک اے تہم پے جائے گی کہ
تلونڈی دے کمہاراں نے ریڑھے اگے زیبرہ جویا ہویا اے۔
تے میرا اے خیال سی کہ ہور کجھ نئیں تے میں موٹر سائیکلاں دی دوکان پاء لاں گا۔
کجھ زیادہ پیسے بن گئے تے کلفیاں دا کارخانہ لگا لواں گا
تے جو اوّر ٹائم زیادہ ہی لگ گیا تے
فیر
پیڈاں تے لیلے پال لواں گا۔
پر ہویا کہ
کہ جیویں ریت دی مٹھ بھری ہوئے تے ریت ہتھ وچوں سرک جاندے اے
انج ای ویلا میرے ہتوں سرکدا جاندا اے تے میں ، ویلے دا منہ پیا وینا واں ۔
کہ اے وقت میرے نال کی ہتھ کر گیا اے
داڑہی دےادھے وال چٹے ہوگئے نے
تے سر تے کنپٹیاں دے وال وی چٹے ہو گئے نے
منہ تے رونق دسدی  تے کوئی مشورہ دے دیندا اے کہ خاور جے توں والاں نوں کالک لگا لویں تے تے تیری عمر دا اندازہ نئیں ہونا
پر مینوں اے گل سن کے اینج لگدا اے کہ بندہ مینوں منہ تے کالک لگاؤن دا مشورہ دیندا اے پیا
مینوں چنگی طراں جانن والے ایک متر دا اکھنا اے کہ تیرے منہ دی اے رونق تیرے اندر دی چنگیایاں دا رنگ اے،
مینوں اپنے دادے حاجی محمد اسماعیل تہڑوائی دی گل یاد آجاندی اے
دادا جی اکھدے سن
کہ میں ساری حیاتی کسے دا دل نئیں دکھایا تے ناں میں کسے دا حق ماریا  اے ۔ جہڑی میری ذمہ داری سی  اناج تولن دی میں اس دے وچ وی ڈنڈی نئیں ماری
ایس لئی اے ہو ای نئیں سکدا کہ میں کسے دا محتاج ہو کے مراں!!!۔
ایس گل دا سارا پنڈ گواہ اے کہ دو ہزار دس  دے سال وچ جیدوں میرے دادا جی اللہ نوں پیارے ہوئے نے تے اوہ اپنے مرن اک دن پہلوں تک وی چنگے پلہے اپنیاں پوتریاں  تے پڑپوتریاں دے نال کھیڈے سن پئے۔
دناں دے مہینے تے مہیناں دے سال بن دے گئے
پر ساڈا ماحول ناں بنیا کہ اسی اپنے وطن ول  مڑ جاندے۔
میرے ویندیاں ویندیاں کئی لوک جیہڑے  میرے ہانی وی سن یا تھوڑے ودکی عمر دے وی سن
پردیس وچ ای مر گئے تے اینہاں دییاں میتاں ای  وطن ول گیئاں!!۔
جاپان تو ں وطن پرتیاں کجھ میتیاں دا تے ای وی ویکھیا کہ
"اوتھے " دے وارثاں نے میتیاں لین تو ای انکار کر دتتا !!!۔
کیوں ؟
ایس لئی کہ میت نے جاپان وچ ویزے لئے ویاہ کیتا تے فیر ایس دی کمائی وی تے حیاتی وی اپنے جاپان والے پریوار لئے ای ہو کے رہ گئی
تے جے بندہ  وطن جائے وی ناں تے پیسے وی ناں کلے تے
فیر میت ایتھوں یار دوست کل چھڈ دے نے

تے
اوتھے
 وی آنڈہی گواہنڈی  او ای دفنا چھڈ دے نے!!!۔
اپنیاں نوں تے پیسیاں دا گلے ای نئیں مکدے!!۔
کدی کدی تے رات نوں ترہ نال اکھ کھل جاندی اے کہ
میں کی کرنا پئیا واں تے میں ایتھے کرن کی ایاں ساں۔
تے فیر دل نوں اے اکھ کے تسلی دے لینا واں
کہ
اجھے میں جیوندا پئیا واں تے انشاء اللہ جیوندے جی میں وطن نوں پرت ای پواں گا۔
پر ویلے دی چال کجھ ہور ای اندیشیاں وچ پاء  جان والی پئی لگدی اے۔
پر یارو سیانے اکھدے نے ناں
کہ
امید نال دنیا قائم اے۔
تے نالے پرانی یونانیاں دیان باتاں وچ وچ وی تے لخیا ہویا اے ناں
کہ
پیڈورا ناں دی کڑی  نے جدوں بکسا کھولیا تے
سارے دکھ سکھ ، بیماریاں تے مصیبتاں دنیا وچ کھلر گیاں
پر اک چمکدی ہوئے پری رہ گئی سی
جیدا ناں
امید سی  !!!!!۔

بدھ، 9 جنوری، 2013

مرغی کا نکاح نامہ

مذہبی شوشے چھوڑنے کے ایسے ایسے انوکھے بندے بھی ہو سکتے ہیں کہ جو
اپ کو انڈہ کھانے کے بعد انڈے کے حلال ہونے کا بھی پوچھ سکتے ہیں
اور اپ انڈہ کھانے سے پہلے مرغی کا نکاح نامہ ناں دیکھ سکنے  کی پشیمانی میں پڑ سکتے ہیں
چکن لے حلال ہونے یا نان ہونے کا شوشہ تو ہو ہی سکتا ہے کہ
چوزے کے ختنے دیکھے تھے ، ذبح ہونے سے پہلے؟؟
رات یہاں جاہان میں اسلام سرکل والوں کی ٹوکیو کی ایک مسجد میں
پروفیسر غفور صاحب مرحوم اور قاضی حسین احمد خان مرحوم کی نماز جنازہ اور فاتحہ خوانی میں میں بھی شریک تھا
کہ
جہاں مختلف مقررین کو خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا گیا
جن میں سے کچھ وہ لوگ بھی تھے کہ جس کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں تھا
بلکہ ایک ادھ دانہ تو اپنے غلیظ پن کے لئے بھی مشہور ۔
بات ہونی چاہئے تھی مرحومین کے حالات زندگی پر لیکن مقررین میں میں بھی سنتے رہے
جاپان کے مشہور مذہبی بندے
سرمے والی سرکار جناب رئیس احمد صدیقی کی باری بھی آئی کہ انہون نے تقریر کے شروع میں ہی یہ شوشا چھوڑ دیا کہ ان کے ساتویں جماعت میں جو فزکس کیمسٹری  اور میتھ کے استاد تھے
اس کے اگے کیا سننا تھا کہ میں تو ایک ہی استاد کے اتنے علوم ماہر ہونے اور
صدیقی صاحب کے ساتویں جماعت میں ہی " وڈے مضمون" پڑہنے پر حیران رہ گیا
اس کے بعد کی خود ستائیشی کی بات گیسوئے یار یاکہ پنجابی کی لسی کو پتلا کرتے جانے کی مثال کی طرح لمبی ہی ہوتی چلی گئی تو مسعود حیدر ہاشمی نے مقرر کی توجہ عشاء کی نماز کے وقت کے نکلے جانے کی طرف دلائی تو
صدیقی صاحب ہتھے سے اکھڑ گئے کہ
میں ڈیڑہ گھنٹے کا سفر کرکے آیا ہوں اور اپ مجھے برداشت ہی نہیں کر رہے
خاور نے اونچی اواز میں مہربانی کا کہا اور ہاشمی صاحب سے بھی شکریہ کہلوا کر صدیقی صاحب کی تقریر کو اختصار دلوایا
اب میں نے مخلتف دوستوں سے ساتویں میں فزکس کیمسٹری اور میتھ کے مضامین پڑہنے کا پوچھا تو سبھی نے ان مضامین کے ناویں اور دسویں جماعتوں میں پڑہنے ہی بتایا
ملک حبیب صاحب بھی تھے میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے ہمارے زمانے سے پہلے کسی زمانے میں ساتویں میں وڈے مضامین کے پڑہانے کا رواج ہو
اس لئے ملک حیب الرھمان سے بھی پوچھ لیا لیکن ملک صاحب کی عمر میں بھی یہ وڈے مضامین کو ساتویں جماعت میں پڑہنے کی واردات  کا کوئی سراغ نہیں ملا
کھانے کے بعد یہ ہوا کہ
انٹر نیشنل پریس کلب جاپان کے صدر شاہد چوہدری نے صدیقی صاحب کو پکڑ لیا اور میرے منہ پر لے ائے
کہ یہ خاور پوچھ رہا ہے کہ
اپ نے فزکس کیمسٹری اور میتھ ایک ہی استاد سے اور وہ بھی ساتویں جماعت میں  پڑہنے والی بات کیا کی  ہے؟؟
تو صدیقی صاحب اڑ گئے کہ یہ مضامین میں نے تو ساتویں میں ہی پڑہے تھے
اب میں کیا کرتا
میں نے شاہد چوہدری سے سوال کیا کہ
کیا تم نے کبھی مرغی کی ایک سے زیادہ ٹانگیں دیکھی ہیں؟؟
شاہد جوہدری کا ہاسا نکل گیا اور میں صدیقی صاحب کو بتایا کہ میں نے پہلے دفعہ اپ کی باتیں سنی ہیں
اور مجھے ان باتوں سے اپ کے متعلق بہت علم حاصل  ہوا ہے۔

کیا خیال ہے، قارین!۔
اپ انڈہ کھانے سے پہلے اس کے حلال یا حرام زادہ ہونے کی تصدیق کے لئے مرغی کا نکاح نامہ دیکھتے ہیں
یا مرغ  کھانے سے پہلے قصائی سے مرغ کے ختنوں کی تصدیق کرتے ہیں ؟؟

اتوار، 6 جنوری، 2013

پولیو کہ ایک لاعلاج بیماری

خیری مصطفٰے
خیری ایک دوسالہ بچہ ہے ۔ خیری جاپان میں پیدا ہوا
اس کو پولیو کی جو داوئیاں معاشرے نے دینے کا تعین کیا ہوا ہے ، وہ سب روٹین کے مطابق دی گئیں
خیری جب گھٹنوں کے بل چلنے لگا تو عموماً ایک گھٹنا اور ایک پاؤں کے پنجے کو زمین پر لگا کر چلتا
جو کہ خلاف معمول بات تھی ، گھنوں کے بل چلنے والے بچے دونوں گھٹنے اور ہاتوں کے بل چلتے ہیں
ایک گھٹنے اور پاؤں کے بل  چلنا پولیو کی نشانی ہوتی ہے
کہ بچے کی ایک ٹانگ کی پرورش بند ہو جاتی ہے
جی کی وجہ سے بچے کو گھٹنوں کے بل چلنے میں درکار توازن نہیں ملتا جس کی وجہ سے وہ توازن بنانے کے لئے ایک ٹانگ جس کو کہ پولیو ہوتا ہے اس کے گھٹنے کو اٹھا کر پاؤں کو نیچے لگا کر چلتا ہے
خیری کی ماں نے خیری کی چلنے پر بڑا دھیان دینا شروع کیا
اور یہ بات نوٹ کی کہ خیری کبھی تو دونوں گھٹنوں ہی کے بل چلتا ہے اور کبھی ایک گھٹنا اٹھا کر
لیکن یہ بات ہے ضرور کی دن میں کچھ وقت خیری عام بچوں کی طرح نہیں چلتا
جس کے لئے والدین نے  ڈاکٹر کو دیکھایا
ڈاکٹر نے  دیکھنے کے بعد کہا کہ اصلی بات تو  ٹیسٹوں کے بعد ہی ثابت ہو گی لیکن بچے کے اس چلنے کے انداز سے پولویو کا خدشہ ہے
خیری کا باپ جو کہ ایک غیر جاپانی ہے
اس نے ڈاکٹر سے سوال کیا کہ اگر ابھی اسی سٹیج پر علم ہو جائے کہ بچے کو پولیو ہے 
تو
کیا اس کا علاج ممکن ہے
جس کے جواب میں ڈاکٹر نے بتایا کہ اگر پولیو کا حملہ ہو چکا ہے
تو
اب اس کا کوئی علاج نہیں ہے
خیری کو ساری زندگی ایک معذور ہی کی طرح گزارنی پڑے گی
خیری کے پولیو کے ٹیسٹ ایک ہی ہسپتال میں ممکن نہیں تھے
ایک ٹیسٹ تھا جس میں کہ ٹانگ پر ہلکی چوٹیں لگا کر اس بات کا اندازہ کیا جاتا ہے کہ بچے کو کتنا احساس ہو رہا ہے
اس احساس کے ہونے اور ناں ہونے سے پولیو کے ہونے یا نہ ہونے کا اندزہ لگایا جاتا ہے
اس ٹیسٹ میں خیری کئ محسوس کرنے کی صلاحیت معمعل کے مطابق تھی
لیکن ڈاکٹر نے کوئی بات بھی یقین سے نہ باتاتے ہوئے دوسرے ٹیست کا بھی کہا۔
ان سب ٹیسٹوں کے ہونے اور نتایج کے علم ہونے تک کئی دن لگ گئے
جس کے دوران والدین کو بجے کے بھیانک مستقبل کا خوف بھی ستا رہا تھا
ڈاکٹروں کے مطابق جاپان میں پولیو سے بچاؤ کے ٹکے اسی لئے لگائے جاتے ہیں کہ پولیو کا حملہ ناں ہو
لیکن اگر یہ نامراد بیماری لگ جائے تو
جدید میڈیکل سائینس کے پاس اس بیماری کا علاج نہیں ہے
جاپان جیسے منظم اور ترقی یافتہ معاشرے میں مستقل ورزشوں اور مساج کی ٹریٹمنٹ سے ٹانگ کو بلکل ہی سوکھنے سے تو بچایا جا سکتا ہے لیکن
اس  بیماری پولیو کا علاج کوئی نہیں ہے
خیری کا اگلا ٹیسٹ تھا جس میں کہ اعصاب اور خون کی رگوں میں سے بجلی گزار کر اس بجلی کی رفتار ماپی جاتی ہے
کہ
اعصاب اور خون میں سے کزرنے والی بجلی کی رو میں کوئی فرق رو نہیں ہے
یہ فرق سیکنڈ کے ہزارویں حصے یا اس سے بھی زیادہ کم وقت ہو سکتا ہے
اس ٹیسٹ میں  خیری کو پولیو بیماری سے محفوظ پایا گیا
خیری جس کو کہ
پولیو اور دیگر بیماریوں کے ٹیلے لگ چکے تھے
اس کے والدیں کو اس کے باوجود خیری کو پولیو کا خطرہ محسوس ہوا
تو غیر ترقی یافتہ ممالک میں جن بچوں کو یہ ٹیکے اور قطرے میسر نہیں ہیں ان کا کیا حال ہو تا ہو گا
اب جب کہ خیری دو سال اور دو ماہ کا ہو گیا ہے
اور صحت مند بچوں کی طرح اچھل کود کرتا ہے تو اس کے پیچھے
اللّٰہ تعالی کی مہربانی کے ساتھ ساتھ
حفظ ماتقدم کے طور پر لگوائے ہوئے ٹیکوں کا بھی ایک کردار ہے
اس اپنے بچوں کو صحت مند مستقبل دیں تاکہ وہ محنت مزدوری کر کے اپ کے بڑہاپے کا سہارا بنیں
اور ان کو پولیو کے ٹیکے ضرور لگوائیں
کہ اگر یہ نامراد بیماری لگ گئی تو اس کا علاج امریکہ اور جاپان میں بھی نہیں ہے

Popular Posts