اتوار، 25 نومبر، 2012

انوکی کے ساتھ ایک شام

خاور کھوکھر اور انوکی محمد حسین
میری عمر کے لوگوں میں سے پاکستان میں کون ہو گا جو
انوکی کو نہیں جاتا ہو گا
جی ہاں جاپانی پہلوان انوکی جس کا نام ہے انتونی انوکی
لیکن اسلامی دنیا میں انوکی خود کو محمد حسین انوکی کہلوانا پسند کرتا ہے
انوکی اگلے ہفتے پاکستان جا رہا ہے
جس کے لئے انتظامات میں مصروف ہیں قیصر محبوب اور ہمایوں مغل صاحب
جمعرات کو سفارت خانے میں انوکی کی کے ساتھ سفیر کی ملاقات تھی جہاں میڈیا والوں کو بھی بلایا گیا تھا
جاپانی عادت کے مطابق انوکی صاحب طے شدہ وقت سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے ُپہنچ گئے تھے
سفیر صاحب صاحب ابھی تیار ہو رہے تھے
اس لئے میں اور ہمایون مغل اور قیصر ، انوکی صاحب سے باتیں کرتے ہے
انوکی صاحب اپنی عمر کے سترویں سال میں ہیں
جی ہاں بزرگ بندے ہیں
انوکی نے بتایا کہ انیس سو چھتر یں ان کو پاکستانی پہلوان اکرم  عرف اکّی کی طرف سے چیلنج کیا گیا
جو کہ میرے لئے بڑا حیران کر دینے والا عمل تھا
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ان کے اس دنگل کو دیکھنے کے لئے بے شمار لوگ جمع ہوئے تھے

ایک اندازے کے مطابق کوئی کوئی پچاس ہزار لوگ ہوں گے
انوکی صاحب سن چھہتر کی بات کر رہے ہیں جب ابھی سرمے والی سرکار جرنل ضیاع کا شریفین سے مل کر لایا ہوا ہارس ٹریڈنگ اور ہیرئین اور کلاشنکوف کلچر انے میں ابھی کچھ سال باقی تھے
پھر تو جی فنون لطیفہ مرتے گئے
اور
فنون کثیفہ بشمول مذہب اور پیسے کو عروج ہوا کہ
اج ہم بھگت رہے ہیں
سفیر نور محمد جادمانی، انوکی اور خاور کھوکھر

انوکی صاحب بتاتے ہیں کہ مختلف کلچر اور کشتی کے اصولوں کا اختلاف ہونے کے باوجود دنگل ہوا تھا
جس میں ماحول کچھ اس طرح کا بنا دیا گیا تھا کہ زندگی اور موت کی جنگ جیسا تھا
میری کلائی پر اج بھی اکیّ کے دانت کا نشان ہے
اکی پہلوان نے میری کلائی منہ میں دبائی ہوئی تھی جس سے جان چھڑانے کے لئے میں نے اکی پہلوان کی انکھوں میں انگلیاں ماری تھیں
وہاں ایک شور مچا ہوا تھا ، میں بھی اندیشوں میں گرا ہوا تھا
پھر میں نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کی طرح اوپر اتھا دئے
ایک معجزہ سا ہو گیا کہ مجمع پر سکوت طاری ہو گیا
انوکی کا کہنا ہے کہ اکیّ پہلوان کے ساتھ دنگل میں جیت، کبھی بھی میرے لئےفخر نہیں رہی ، بعد میں اکیّ پہلوان کے بھتیجے زبیر عرف جھارا سے سے کشی کے متعلق بتاتے ہیں کہ
یہ دنگل برابر رہا ، لیکن میں نے کشتی کے بعد جھارے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر اٹھا دیا تھا ،۔
اس دفعہ پاکستان جانے کے متعلق انوکی صاحب کا کہنا تھا کہ سال ہا سلا سے میں اکی پہلوان کی قبر پر فاتحہ کے لیے جانا چاہتا تھا لیکن ہر دفعہ کوئی ناں کوئی بات نکل اتی تھی
تو اس دفعہ پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کے طور پر ہی سہی میں پاکستان جا رہا ہوں
ایمبیسی مٰن ہونے والی اس ملاقات میں سوالات کے سیشن میں انوکی صاحب سے صرف دو ہی سوال پوچھے گئے تھے
ایک جاپانی میڈیا کے بندے نے پوچھا تھا
کہ پاکستان میں سیکورٹی کی کیا پوزیشن ہو گی
جس کا جواب سفیر صاحب نے دیا تھا کہ
جی فکر ہی ناں کریں جی وغیرہ وغیرہ
دوسرا سوال مٰں نے پوچھا تھا کہ
اپ کے مسلمان ہونے کی افواہ بھی ہے کیا یہ سچ ہے
تو انوکی صاحب نے بڑی تفصیل سے بتایا کہ جی ہاں میں انیس سو نوے میں مسمان ہواتھا
کربلا کی سیر کو گئے تھے جب اس موضوع پر بات ہوئی اور دوسری مسجد مین میں نے مولوی صاحب کے ساتھ کلمہ پڑھا
جس کے بعد دو دنبوں کا صدقہ کیا گیا
سب لوگوں نے ایک عربی نام ہونے کا کہا تو
ایک نام محمد علی بھی تجویز ہوا لیکن ایک تو یہ نام عظیم باکسر محمد علی کا تھا
جس کے ساتھ میرا ایک مقابلہ بھی ہو چکا تھا
اس لئے محمد حسین پر اتفاق ہوا، جس میں "حسین " اس دور کے عراقی صدر صدام حسین سے لیا گیا تھا

اگلے ہفتے انوکی صاحب پاکستان میں ہوں گے
میڈیا بریکنگ نیوز اور پتہ نہیں کیا کیا نیوز اور باتیں کہے گا
لیکن جی

یہان سوشل میڈیا میں بھی انوکی صاحب کے دورے کا لکھ دیا گیا ہے

بدھ، 21 نومبر، 2012

گالی نما لوگ


کھلتا کسی پہ کیوں میرے کنجر ھونیکا معاملہ،
دوستوں کے انتخاب نے مشہور کیا مجھے :ڈ
یہاں جاپان میں اپ کو بہت سے ایسے بڑے ناموں والے لوگ مل جائیں گے جو کہ اصل میں چھوٹے لوگ ہیں
ان کے چھوٹے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ بندہ اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے
یہ بڑے لوگ ہیں کہ ان کے اردگرد ہے لوگ چھوٹے ہیں
یہ لوگ بڑی باتیں کرتے ہیں کہ ان کے آس پاس کے لوگ کند ذہن ہیں
یہ لوگ بڑے علم والے ہیں کہ ان کے دوست بے علم ہیں
بس جی مختصر یہ کہ یہ لوگ بونوں میں عالم چنا بنے بیٹھے ہیں
اور اہل نظر کو یہ لوگ بھی بونوں میں بونے ہی لگتے ہیں
عظیم چینی مفکر اور فلسفی کہ جس میں چین کا پیغمبر کہتا ہوں
نے کہا تھا
خوش بخت لوگ اپنے کاموں کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں
اور بد بخت لوگ
شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں،
اور
بدنامی انکا پیچھا کرتی ہے
 اس کی مثال کہ اپ دیکھ سکتے ہیں کہ
جاپان میں سستی شہرت بیچنے والی سائٹوں پر ان کی فوٹو لگی ہیں اور فوٹو لگوانے کے بہانے کے لئے احمقانہ بیانات لگے ہیں
کچھ سائٹوں والے پانچ ہزار ین اور کچھ دس ہزار لیتے ہیں ، "ان" کی کمپنی کے اشتہار کا۔
اور ان کے بیانات کی عوض "کھانا " کھاتے ہیں ریستورینٹوں میں
دوستوں کے انتخاب نے مشہور کیا ان کو
کھلتا کسی پہ کیوں ان کےچول ہونے کا راز
دوسری طرف
بقول کنفوشس کے خوش بخت لوگ بھی ہیں جی جاپان میں
ان خوش بخت لوگوں کے اردگرد بھی خوش بخت لوگ ہیں
یہ لوگ کام کر رہے ہیں
اور شہرت کے پیچھے نہیں بھاگتے
لیکن ان کو لوگ جانتے ہیں
بندہ اپنی محفل سے پہچانا جاتا ہے
ناں جی
خوش بخت لوگ اپنے دوستوں سے برابری کی بنیاد پر ملتے ہیں ایک دوسرے کو اچھے ناموں سے پکارتے ہیں
پیٹھ پیچھے دوستوں کی تعریف کرتے ہیں
جیسے کہ رقم بڑے دعوے سے کہا کرتا ہے کہ
میرے سارے دوست بڑے سیانے معتبر اور گریٹ لوگ ہیں
اور ان گریٹ لوگوں میں سے میں بھی ہوں
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
اپ کن میں سے ہیں ؟؟
ان میں سے جو محفل سے اٹھ کر جانے والوں کو گالیاں دیتے ہیں
اور خود بھی گالیاں لایق ہوتے ہیں
یا کہ دوسری قسم کے لوگ؟؟
کہ
جو ایک دوسرے کو پرموٹ کرتے ہیں
اب جب کہ جاپان میں ایسوسی ایشن کے انتخابات انے والے ہیں
او ان میں ایک بندہ چنا جائے گا
جو کہ پھر ساری زندگی صدر ہی کہلوائے گا
کہ پھر کہاں ایمبیسی انتخاب کروائے گی
اور اگر یہ بندہ " وہ" والا منتخب ہو گیا ناں جی
تو پھر ساری کمیونٹی گالیان ہی کھانے والی بن جائے گی
کہ "اس " کی تو پہلے ہی عادت ہے کہ محفل سے اٹھ کر جانے والے کے متعلق کہتا ہے
چنگا ہویا مگروں لتھا
اب دیکیں کہ کمیونٹی پر کوئی خوش بخت آتا ہے
کہ
کوئی"گالی" بن کر اتا ہے جو کہ کمیونٹی کے لئے مستقل گالی ہو گا

سوموار، 19 نومبر، 2012

نام اور پہچان

ایک دفعہ جاپان کے شہنشاہ ،غالبآ میجی نے حکم جاری کیا کہ ملک کے سب لوگوں کو ایک ایک خاندانی نام چننے دیا جائے
اہلکاروں کی ٹیمیں نکل پڑیں
جس جس گاوں میں گئے ، اس گاؤں کے لوگوں کو ایک ایک خاندانی نام چننے کا کہا
اور یہ نام اسی وقت رجسٹر میں لکھ دیا گیا
لوگوں نے نام چننے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ جس کو جو اچھا لگا یا جس کی جس چیز سے پہچان تھی اس کا وہی خاندانی نام رکھ دیا  گیا
اردو میں یہ نام کچھ اس طرح سے بنتے ہیں
لکڑی کا گاؤن
بڑا کھیت، بڑا دریا ، چھوٹا دریا،پتھر کا پل ، لکڑی کا پل ، چھوٹا جزیرہ ، برا جزیرہ
جس گاؤن کے نزدیک یا جس گاؤں کو جس نام سے جانا جاتا تھا ان کے رہنے والوں کا بھی وہی نام رکھ دیا گیا
چند مکانوں کے گاؤں کا تو یہ حال ہوا تھا
زیادہ گھروں والے دیہاتوں میں
جس گھر کا پتھر کا سٹور روم تھا ان کو  سٹور روم والا اور جس کے پاس بڑا درخت تھا اس نام ہی بڑا درخت ہو گیا
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بس ایسے ہی کچھ دن کی بات ہے بعد میں یہ نام بدل لیں گے یا ہوسکتا ہے کہ یہ سسٹم چلے ہی نہ!!!۔
اس لئے کچھ لوگوں کے پاس جب سرکاری اہلکار پہنچے تو لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے
کسی نے اپنا نام مولی اور بینگن بتا دیا تو اس کا وہی نام رجسٹر ہو گیا اور وہی نام رائیج بھی ہو گیا
اس لئے اب بھی اپ بہت کم ہی سہی لیکن مولی کے خاندانی نام والے جاپانی بھی دیکھیں گے
یہ تو ہوا کنبے کا نام
باقی جی بندے کا جو نام تھا وہی رہا
جیسے کہ اب جاپانیوں کے نام ہوتے ہیں مشتاقا ، تھارو جیرو ، کینجی، ان ناموں سے اس فرد کو اس کے قریبی بندے ہی جاتے ہوتے ہیں
یا پھر سرکاری معاملات مین یہ کام اتا ہے ورنہ اپ جب بھی کسی جاپانی سے اس کا نام پوچھیں  گے وہ اپ کو صرف کنبے کا نام ہی بتائے گا
ہمارے یہاں جس علاقے کو ان دنوں پاکستان کہتے ہیں ، یہاں اس علاقے کا نام پاکستان ہونے سے پہلے اور ہونے بعد بھی کئی دہائیوں تک عدالتوں میں نام کچھ اس طرح پکارے جاتے تھے
پھتا ، نورے دا ۔ مالا رکھےدا،ان کوسلیس اردو مین کہیں گے
فتح محمد ولد نور دین، محمد مالک ولد اللہ رکھا
لیکن یہ نام اگر کہیں کسی نے لکنے ہوں تو ہی کام اتے تھے ورنہ محمد مالک ، مالا ہی ہوتا تھا اور فتح محمد ، پھتو ہی ہوتا تھا
لیکن کی گاؤں یا علاقے میں ایک سے زیادہ ہھتو اور مالے بھی ہوسکتے تھے اس لئے ان کو ان کے کبے کے نام سے جانا جاتا تھا
کنبے کا نام بھی کچھ اس طرح ہوا کرتا تھا کہ زمین دارلوگوں کے زرعی ڈیرے کا نام ہوا کرتا تھا
مثلآ بیری والا ، کیکر والا ، ککڑاں والا ، پرانی والا، ککھاں والا۔
اس لئے ان کنبوں کو جن کی زرعت ان ڈیروں پر ہوتی تھی ، اس ڈیرے کی نسبت سے پکارا اور پہچانا جاتا تھا
مثلآ پپو بیری والیا، کھالو ککڑاں والیا وغیرہ وغیرہ
اور غیر زمین دار لوگون کو ان کے پیشے سے پکارا جاتا تھا
محمد افضل تیلی کو اپھو تیلی کہا کرپکارا جاتا تھا
لیکن اگر کسی گاؤں میں یا علاقے میں تیلیوں کی ابادی زیادہ ہے تو اپھو تیلی کو اپھو تیلی رکھے دا کہ کر بھی پکاتا جاتا ہوگا
پاکستان بننے کے بعد جب ہم لوگون کو اپنی اہمیت کا احساس پوا تو ہم لوگون نے اپنے ناموں سے اپنی کولٹی کو بڑہانے کی کوشش کی
سب سے پہلے تو اپنے اپنے نام کو مالا اپھو  پھتو سے محمد مالک ، محمد افضل اور فتح محمد کیا
مزے ک بات کہ ایک نسل پہلے کے نام کچھ اور تھے
دوسرا ہم نے اپنے اپنے کنبے کے نام کو ‘‘ وجھکے ‘‘ والا بنانے پر بہت توجہ کہ
گھوڑے گدھوں پر ٹرانسپورٹ کرنے اور مٹی کے برتن بنانے والے تو بہت بعد میں رحمانی بنے
لیکن سیانے آئیل ملوں کے وارث جلدی ہی ،ملک بن گئے تھے
اس کے بعد پھر چل سو چل
کہ جس کو جو نام زیادہ بھایا اس نے وہ ہی اپنا نام بنانے کی تگ دو کی اور بن کے چھوڑا
بخاری کون لوگ تھے؟ قادری کس کنبے کا نام تھا ؟قریشی یا ہاشمیوں کی جڑیں اگر کسی نے انے والی صدیوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش شروع بھی برصغیر سے کی تو بندہ پاگل ہو جائے گا
پر سانوں کی!!!!
اج جو نام پاکستان میں چل رہے ہیں ان میں سے نام کیا ہے اور کنبہ کیا ہے اور عرفیت کیا ہے اور پہچان کیا ہے کے کنفیوژن سے نکلنے کے لئے
میں تو یہ سمجھتا ہون کہ
جن لوگوں میں سے اکثریت کو اپنی تاریخ پیدائش تک کا علم نہیں ان کو اپنے کنبے کا کیا علم ہو گا اور اپنی جڑوں کی کیا پہچان
میں بندے کا نام اس اس کی ولدیت سے پہلے حصے کو سمجھتا ہوں
غلام مصطفے میں غلام اور مصطفے کو علیحدہ کرنے کی بجائے ایک نام غلام مصطفے ہی جانتا ہوں
اب جب کہ میں پاکستان سے باہر ہوں
تو
لیکن اس کے بعد اس کا کنبے کا نام کیا ہے
کی بجائے اس کے پیشے، جو کہ اس نے ان دنوں اپنایا ہوا ہے سے اس کی پہچان کرتا ہوں
اور اپنے گاؤں میں کسی کو بھی اس کے کنبے کی وجہ سے پہچانتا ہوں
لیکن یہ ایک کنفیوژن تو ہے ناں جی
اسی لئے میں کہتا ہون کہ پاکستان بننے کے بعد میرے لوگوں کو مغالطوں اور مبالغوں کی تعلیم دی گئی ہے
کس نے دی ہے؟
برطانوی راج کے دور کے سرکاری ملازموں نے اور جن کی پالیسوں کو جاری رکھا جرنیلوں نے
اس لئے ہماری قوم میں بھی کوئی ایسا ہونا چاہئے کہ سب کو ایک ہی دفعہ جاپانی شہنشاہ کی طرح  ایک ایک کنبہ نام چن لینے دے
کہ سب  کے ناموں کی ایک پہچان تو بنے

بدھ، 14 نومبر، 2012

کھرکیات


ماہر کھرکیاتِ پاکستان بھٹی صاحب باتیں کر رہے تھے اور پاکستان کی مختلف کھرکوں (خارشوں)پر سیر حاصل بکواس سے سامین کے کان کھا رہے تھے
اور سامیں کی بڑی تعداد بھی انہیں کھرکوں کی مریض تھی لیکن سب ہی یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ باتیں اور کھرکیں دوسرں میں ہیں ہم نہیں ہیں
حتی کہ ماہر کھرکیات بھی دراڑوں کی کھرک (خارش) کے مریض ہیں
پاکستان کے لوگ سب سے زیادہ جس کھرک (خارش) میں مبتلا ہیں وہ ہے جی
مذہبی کھرک(خارش) !!۔
اس موض میں مردو زناں کی کوئی تفرہق نہیں ہے
اس مرض کے مریض کو اپنی کھرک اور دوسروں کو کھرک کرکرک کے ہلکان ہو جاتا ہے
اور اپنی اس کھرک کو بڑی اعلی سمجھتا ہے اور اس امید میں ہے کہ ایک دن ساری دنیا کو اس کھرک میں مبتلا کر کے ہی چھوڑے گا
کسی بھی دوسری قسم کی کھرک میں  مبتلا بندے کو اس خارش کا مریض اپنی ہی خارش باتٹ دینے پر تلا ہوتا ہے بلکہ کوئی چاہے یا نان چاپے
مذہبی خارش زدہ ہر بندہ کو بے رحمی سے کھجلانے لگتا ہے
لٹکتی چیزوں کی کھرک(خارش)
اس مرض میں پاکستان کے مرد حضرات ہی مبتلا ہیں ناقابل تحریر چیزوں کو کھرک کھرک
کر ، اگر انہون نے پتلون پہنی ہو تو کھرک کے نشانات واضع نظر ا رہے ہوتے ہیں
پاکستان سے باہر کے ممالک میں یہ کھرک پاکستانی مردوں کی نشانی بن چکی ہے
روحانی کھرک(خارش)
یہ کھرک مذہبی کھرک کی ہی ایک ذیلی لیکن بڑی زہریلی قسم ہے
اس میں مبتلا بندہ جیسے جیسے مرض بڑہتا جائے خود کو آل اور دوسروں کو امت سمجھنے لگتا ہے
اور امت کو کھرک کھرک کر احساس دلاتا رہتا ہے کہ
جس کھرک میں میں مبتالا ہون اس تک کیسے پہنچا اور
اس کھرک کا مریض جب کسی دوسرے اپنی قسم کے مریض کو دیکھتا ہے تو
اس کی کھرک کو جعلی اور اپنی کھرک کو اصلی کھرک کی کھجلی کرنے لگتا ہے
فوجی کھرک(خارش) !!
نہیں جی اس کھر کے متعلق میں نہیں بتا سکتا
یہ الفاظ تھے جی بھٹی کے جو کہ کمینوں کی اعلی ترین اور حرامیوں کی اصلی ترین چیز ہے
کسی نے پوچھا کہ کیوں
تو بھٹی کا جواب تھا
یہ کمیار بھی سن رہا ہے یہ کہیں لکھ ہی ناں دے جی
اور میں غایب کر دیا جاوں یا مارا جاوں
سیاسی کھرک(خارش)
یہ مرض پاکستان مٰیں کم اور
اور باہر کے پاکستانیوں میں زیادہ پائی جاتی ہے
اس کھرک میں مبتلا سیاسی بندے کے اندر کا کتورا لپک لپک کر کسی کے پاوں چاٹنا چاہتا ہے
کسی کے سامنے لوٹنیاں لگانا چاہتا ہے
کسی کے ساتھ فوٹو بنوا کر اخبار میں لگوانا چاہتا ہے
یہ کھرک بھی خاچی زہریرلی ہوتی ہے
اور اس کا مریض دوسورں پر بھونک بھوک کر پلکان ہوتا رہتا ہے اور اس بھونکنے کو سیاسی بیانات کہتا ہے
لیکن ہوتی یہ بھی ایک قسم کی کھرک ہی ہے
دراڑوں کی کھرک(خارش)
۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ہے
      ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ اور
اس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔!!،
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
 دیگر کھرکیں
ان اقسام کے علاوہ بھی بہت سی خارشیں ہوتی ہیں جو مختلف لوگوں میں مختلف زمینی حقائق اور حالات مٰیں اثر انداز ہوتی ہیں
 

سوموار، 12 نومبر، 2012

پانی کا بلبلہ

بی بی سی پر وسعت اللہ صاحب کے کالم کا اخری پیرا ہے

بری خبر یہ ہے کہ اس گلا کاٹ دنیا کو خود ترسی کے مرض میں مبتلا لوگوں اور معاشروں سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی یعنی یا تو ساتھ چلو، یا پھر گمنامی کی دھول میں گم ہوجاؤ۔ فل سٹاپ۔۔۔

یہاں میرا سوال ہے
اردو کے سوشل میڈیا کے جغادری لوگوں یعنی کہ اردو کے بلاگران سے کہ
اپ کے ذہن میں یہ پڑہ کر کیا سوچ آئی یا کہ اپ کو کیا سمجھ لگی؟؟
میں اپنی سمجھ کی بات کرتا ہوں!!۔
مجھے سمجھ لگی ہے کہ
سوشل میڈیا جس نے ملالہ کو ہیرو بنانے کے بی بی سی کے پروگرام میں خلل ڈالا  یا ڈالنے کی کوشش کی
ان کے منہ پر ایک طمانچہ یہ کہ
ملالہ ہیرو بن چکی ہے
اس کو بوبل انعام ، ہاں ہاں وہی والے نوبل صاحب جن کا نام الفریڈ نوبل تھا
جن کی ایجاد ڈائینامائٹ کی دھماکہ خیز امدن ، دھماکہ خیز امن کا انعام دینے کا سلسلہ چلایا ہوا ہے
یہ انعام ملالہ کو دلانے کی کوشش بھی کردی گئی ہے
اور جو کچھ بی بی سی پر لکھ دیا گیا ہے وہی  تاریخ اور وہی حقائق ہیں
باقی سب کچھ ہے جی
پانی کا بلبلہ
جی ہان پانی کا بلبلہ
ٹوئٹ کرنے والوں نے ٹوئٹ کیا!!۔
جس ٹوئت کو بی بی سی نے لکھ دیا وہ ٹویٹ امر ہو گئی
باقی کیا ہوئیں؟
پانی کا بلبلہ
چند لمحے ابھرا پانی  سے سر نکالا ، خود کو منفرد جانا ،خود کو سطح سے بلند دیکھا
پبر بلبلے کی حیاتی ختم !!۔
ملاملہ سے جو کام لینے کی کوشش تھی کامیاب ہوئی کہ نہیں
لیکن سوشل میڈیا کی یہ کوشش کہ ملالہ کے معاملے میں شکوک ہیں
اس بات کو پانی کا بلبلہ بنا دیا گیا ہے
فیس بک کی وال پوسٹیں
کسی گاوں کی وال چاکنگ بنا دی گئی ہیں
بھی ایک پانی کا بلبلہ ہی ہے
اسی لئے کپا گیا ہے
یا تو ساتھ چلو، یا پھر گمنامی کی دھول میں گم ہوجاؤ
میں ٹویٹ نہیں کرتا کہ مجھے ٹویٹ بے وقعت سی لگتی ہے
لیکن فیس بک پر حلقہ احباب رکھتا ہوں
اور اگر چہ کہ ایک کم نام سا بندہ ہوں لیکن بے نام نہیں ہوں
جی میرے کچھ نام ہیں ۔ جن میں ایک نام اردو کا بلاگر بھی ہے
یہ نام اتنا بے نام بھی نہیں ہے
اس لئے میں بلاگ لکھتا ہوں
کہ اگر میں پرنٹڈ اور کمرشل میڈیا کے ساتھ ناں بھی چلوں تو گمنام نہیں ہو جاوں گا
ہاں کم نام ہو سکتا ہوں
بلاگ پوسٹ پانی کا بلبلہ نہیں پے
بلاگ لکھیں ، اس پوسٹ کو جو موضوع سے تعلق  رکھتی ہو اس کو فیس بک پر لگائیں ، کومٹ میں حوالہ دیں
ٹوئٹ کریں ، پوسٹ ٹوئٹ کریں
تو میرے یا اپ کے خیالات پانی کا بلبلہ نہیں رہیں گے
بلاگ کی پوسٹ پر چار یا چالیس سال بعد بھی کوئی تبصرہ ہو سکتا ہے
ٹویٹ اور فیس بک کو چھوڑیں نہیں
لیکن یاد رہے کہ یہان کی گئی بات ایسے ہی ہے جیسے
رات گئی بات گئی
ا انگریزی میں
ون نائٹ سٹینڈ
ہر دو کے معنی بڑے ہی معنی خیز ہیں
 

منگل، 6 نومبر، 2012

شارجہ کا فتورا اور فضل ربی خان

عجیب سے نام بھی ہوتے ہیں لیکن
فضل ربی بھی نام ہی ہے ایک پٹھان کا
فضل ربی جاپان سے کئی ممالک کو مال ایکسپورٹ کرتا ہے
کل ملا تو اس نے پوچھا کہ کیا بنا جی خاور صاحب اپ کے دبئی کے کاروبار کا ؟
میں نے اس کو بتایا کہ بس جی چھ کنٹینر میں کوئی ڈھائی ملین کا نقصان کر کے چھوڑ دیا ہے
خاور صاحب دبئی میں مجھے تو ان لوگون نے فتورے  کی مار ماری تھی
فضل ربی بتانے لگا
اپ کو پتہ ہی ہے ناں وہاں دبئی میں فتورا ، رسید کو کہتے ہیں
میں نے جاپان سے سالم گاڑیاں شارجہ بھیجی تھیں
کہ ہمارے سیلز میں نے ایک گاڑی سات ہزار درہم مین بیچ دی
میں نے پوچھا کہ یار اتنے کی تو میں نے جاپان میں خریدی تھی
جس قیمت میں تم نے بیچ دی
فضل صاحب اج کل مارکیٹ مندی جارہی ہے
اور میں اپ کو فتورا دیکھا دیتا ہوں
اس نے مجھے فتورا دیکھا دیا
اور مجھے ایسا ہی لگا کہ اس نے
فتورے کی
میڈ اے تھرٹی تو اینڈ گیوڈ می!!۔
یہ گاڑی عراق کی مارکیٹ کی تھی اور میرا خیال تھا کہ پندرہ ہزار درہم کی ہو گی
میں اسی مارکیٹ میں ایک دوست کو مل کر نکلا تو
میں وہی گاری ایک بندے کو چلا کر جاتے دیکھا
میں نے اپنی گاڑی پہچان لی اور اس کو رکنے کا شارہ کیا
گاڑی ایک عربی چلا رہا تھا وہ میرے اشارے پر رک گیا
میں جو کہ عربی کی زبانی کی سمجھ رکھتا ہوں ، میں نے  اس سے پوچھا کہ اس طرح کی گاڑیاں میرے پاس بھی ہیں کیا تم کو خریدنے میں دلچسپی ہے؟
عربی کہنے لگا کہ ہاں ہاں کیوں نہیں !
میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کتنے کی خریدی ہے؟
عربی جو کہ عراقی تھا اس نے بتایا کہ تیرہ ہزار درہم کی !
میں ے اس کو کہا کہ یہ تو تم نے بڑی سستی خرید لی ہے
اس گاڑی کی مارکیٹ ویلیو تو پندرہ ہزار درہم ہے
تم کو سستی کیسے مل گئی ؟
عراقی نے مجھے جیب سے فتورا نکال کر دیکھایا کہ یہ دیکھو پاکستانی سے لے کر ایا ہوں میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا
اس نے مجھے یہ گاڑی اس شرط پر تیرہ ہزار کی دی ہے کہ فتورا سات ہزار کا کٹے گا
عراقی مجھے سات ہزار کا فتورا دیکھا رہا تھا اور میرے ذہن میں اندہیاں چل رہی تھیں
فضل ربی جب مھے یہ بات سنا رہا تھا تو میرا بھی وہی حال تھا جو فضل ربی کا فتورا دیکھ کر ہوا تھا
اور ایسے لگا کہ جیسے کوئی بندہ مجھے فتورا دیکھا کر کہ رہا ہو کہ
میک اے تھرٹی ٹو، اینڈ  ٹیک اٹ!!!۔

Popular Posts