منگل، 18 ستمبر، 2012

خود کلامی

آج 18 آگست ہے
مجھے گھر سے نکلے چوبیس سال ہو گئے
تئیس سال کی عمر تھی
اج میں سنتالیس کا ہوں
کچھ پیسے کما کر واپس اپنے وطن میں کام کروں گا
یہ خواب لے کر نکلا تھا
پھر
ہم زمانے میں کچھ ایسے بھٹکے کہ
ان کی بھی گلی یاد نہیں والی حالت ہے
پنجابی کا شعر
بھلدے بھلدے فریاداں دی عادت اوڑک پنچھی بھل جاندے نیں
سہندے سہندے ہر سختی اخر لوکی سہ جاندے نیں
مونہوں پاویں گل ناں نکلے ہونٹ پھڑک کے رہ جاندے نیں
اینج وی اپنے دل دیاں گلاں ، کہنے والے کہ جاندے نیں

کیا سوچ کر گھر سے نکلے تھے
کہ  کس کے لیئے کیا کریں گے ، کس کو کیا دیں گے
اور کس کو کیا کر کے دیکھائیں گے
لیکن ہوا کیا
کہ
وہ خواب و خیال کی کھیتیاں سب زمین کے شور سے جل گئیں
بھیڑیں پالنے کا پروگرام تھا
کہ  بیٹریاں بنانے کا کارخانہ
کچھ زمین خریدنے کی خواہش تھی کہ آئیس کریم کی فیکٹری
ماں کو سونے کے کنگن لے کے دینے تھے کہ دادا جی کو حج کروانا تھا

خواہش وہ خواہش ہے جو مرنے تک بھی پوری  ہو
جو دل ہی دل میں رہ جائے اسے ارمان کہتے ہیں
کچھ خواہشیں تھی کہ پوری ہوئیں
اور کچھ خواہشیں کہ
بس دل میں ارمان بن کے رہ گئیں ہیں
ایک  کسک سی اٹھتی ہے ، سینے میں
ایک لہر سی اٹھتی ہے خیالوں کی  پھر یہ لہر سونامی بن کے صبر کے بندہن توڑ کر  انسوؤں  کی شکل میں نکلتا ہے
اب تو عمر کے ساتھ انسو پی جانے کے فن میں تاک ہوگیا ہوں
لاگوں کے سامنے اس فن کی فنکاری میں تاک
لیکن تنہائی میں
میں ہوتا ہوں اور میرا رب
میرا رب کہ جو مجھے شرمندگیوں سے بچاتا ہے

ایک پرانا گانا ہوا کرتا تھا
جیدہا دل ٹٹ جائے
جدہی گل مک جائے
جنہوں چوٹ لگے 
او جانے
دکھی دل حال کی جانن لوک  بے گانے!!

بے وطنی کا احساس  ، اجنبیت نے تو ہم زاد کی جگہ لی ہے
تئیس سال کی عمر  میں وطن چھوڑا
بے وطنی کے چوبیس سال  ، وطن سے زیادہ بے وطنی کی زندگی کہ پھر بھی بے وطنی کا احساس!
وہ گیت کانے کے لئے کہ جس گیت کو انسان روز اوّل سے گاتا چلا ایا ہے کہ جس کے گانے سے آدم کو دیس نکالا ملا تھا
گلی گلی دیس بدیس  ، کہیں انترہ میں نے اٹھایا اور لے میں لے ملانے کو ساتھی ملے اور کہیں کسی کے انترے میں میں نے لے ملائی اور امرت دھارے کا وہ ازلی گیت گایا!
ایک اجنبیت تھی کہ ہر ساتھی کے ساتھ رہی ، ایک مانوسیت بھری اجنبیت!
بھیڑ میں اکیلا ، بھرے کمرے میں تنہا!
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا راستہ بھول گیا
کہ اپنی جنم بھومی میں اجنبی کی طرح کا وہ احساس کہ جو وینس کی آبی گزرگاہوں پر تھا کہ اگر ان کو گلیاں کہ سکیں تو یا کہ روم کی سنگی راہیں کہ پیرس کی گلیاں !
لندن ہو کہ زمین کی پشت پر واقع ملک کے شہر ، ہر جگہ جس اجنیت نے دل میں کسک پیدا کی
وہ کسک ایک دن مجھے اپنے گاؤں میں بھی پیدا ہوئی
کہ میں ناں ناں یہاں کا رہا ناں وہاں کا

سوموار، 17 ستمبر، 2012

زرا ہٹ کے

ٹرینڈی کہتے هیں جی امریکی اس بات کو
لیکن جب ایک ٹرینڈ بن جائے تو کسی کو تو ایسا قدم اٹھانا هی پڑے گا که لوگ بھالے ٹرینڈ سے نکلیں
پاکستان ميں هونے والے کسی واقعے پر جب اخبار لکھتے هیں تو بلاگر بھی اسی پر لکھنا شروع هو جاتے هیں  حالانکه ان کو معاملے کی تعلیم اتنی هی هوتی ہے جتنی اخبار والوں نے دینی مناسب سمجھی هوتی ہے
تو ایسے وقت ميں کوشش کرتا هوں که اچھو ڈنگر یا گڑتھو چوہڑے کی کوئی بات لکھ کر ٹرینڈ کو کوما یا فل سٹاپ لگا دوں
فلسطین کے غم میں پریشان لوکاں کو کون سمجھائے که میرے اپنے پاکستانی کن دکھوں کے شکار هیں
میرے پاکستانی ریھڑیوں والے ٹانگے چلانے والے (اج کے دور میں چاند گاڑی)دوکان دار مزدور لوگ جن کے خاندان میں ناں کوئی سیاست دان ہےا ور ناں هی کوئی افسر
ان کو تو سپاہی بھی سب سے پہلے پوچھتا ہے
اوئے هوندا قون ایں؟؟

میں موٹر سائیکل پر تھا
پر کیا ! موٹر سائیکل کو گھسیٹ کر ون وے والی سڑک پر فٹ پاتھ کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا تھا
گوجرانوالہ میں پوسٹ افس کے سامنے
سپاہی نے روک لیا!
اس نے پوچھا هوندا کون ایں
کیوں جائداد بیچنی ہے، یا اپنا مل لگوانا اے ؟؟
اوئے میں موٹر سائیکل بند کردیاں گا
اک ہزار ڈالر  دی اے ، اے موٹر سائیکل ،تے میں اینہوں ایتھے اگ لگا کے گھر چلا جاواں گا
تے دس ہزارڈالر لگا کے تیری انکوائری لگوا دیاں تے ؟
تسی تے غصہ کرگئے اوسر جی هم بھی یہاں صبح سے دھوپ میں کھڑے هیں !!سپاہی کے گھگیانے پر
میں نے پوچھا
سو روپیا کافی اے؟
جی جی!
لیکن اگر میرے پاس جاپان کی کمائی ناں هوتی اور ميں اس کو بتادیتا که کمیار هونا واں ،
تے؟؟
موٹر سائیکل بند تھانے میں ہوتی تشریف  لال اور رشوت بھی دو ہزار اور سفارشی بھی ڈھونڈنا پڑتا جی
اور دولت کے اعتماد نے صرف سو روپے میں کام چلالیا اور سپاهی کے منگتے پن کی بھی تسکین هو گئی
چلو جی یہ  تو کام چل گیا پیسے سے
اور پیسے والوں کے ہی چلتے ہیں پاکستان میں
لیکن عام پاکستانیوں کا کیا بنے گا؟
سندہی  بھی اور بلوچی بھی پنجابی کا شکوہ کرتے ہیں
لیکن پنجابی کا اپنا برا حال ہے
پنجابی سپاہی
پوچھتا ہے ہوتا کون ہے
اور بندے کی مالی کوالٹی کا اندزہ لگا کر تڑی لگاتا ہے
اور غریب کو ماں بہن کی گالی دیتا ہے
اور رشوت لیتا ہے
اور یہی سپاہی ۔
افسر سے گالی کھاتا ہے اور  رشوت میں لی رقم کے تحائف خریدتا ہے
افسر کی بیگم کے لئے
پنجابی رینجر
دہشت کی علامت ہے
کراچی کے اصلی دہشت گردوں کے لئے
لیکن
بے چارہ خودف دہشت کا شکار ہے کہ
پنڈ(گاؤں) میں  ماں کو پیسے بھیجنے ہیں کہ بہن کی شادی کے لئے جہیز تیار کرئے
فوجی ، گولی کھاتا ہے
گالی کھاتا ہے
کسی "اور" کے تمغے اور تلوں کے لئے


بس جی میرا تو پاکستان ہی گواچ (گم ہو) گیا ہے
کیا اپ کا پاکستان گم نہیں ہوا ہے؟
پاکستان اپ کا بھی گم ہو چکا ہے
بس
اپ کو ابھی پتہ نہیں چلا ہے

اتوار، 16 ستمبر، 2012

واٹر کِٹ

بوزنوں کی سر زمین پاکستان میں جس کو بھی قریب جاکر دیکھو ، چھوٹا بندہ نکلے گا!
کسی نے بتایا کہ
پاکستان میں ہر بڑے بندے کو جب قریب سے دیکھو گے تو چھوٹا بندہ نکلے کا
سننے والے نے پوچھا کہ
اور ہر چھوٹا بندہ؟؟
تو جواب ملا کہ
چھوٹا بندہ ہے ہی چھوٹا
دور سے بھی اور قریب سے بھی!!
ڈاکٹر ثمر مبارک!!
جن کی بڑکوں اور واٹر کِٹ امیدوں سے پاک قوم خواب دیکھ رہی ہے اس کی حقیقت کیا ہے

اس خبر کے مطابق فلحال تھر کے کوئلے والے خواب پر مٹی پاؤ کی بات ہے اور بعد میں ماحول تیار کرکے بتایا جائے گا کہ
اس منصوبے سے اب کچھ اور لوگ موج  اڑائیں گے
اور خاور کے علم کے مطابق!!
کچھ اس طرح ہے کہ
تھر کا کوئلہ  ،  تھر کی ریت  سے کوئی تین سو میٹر نیچے ہے
جی ہاں ریت کے نیچے!!
کوئلے کو نکالنے کے لئے سرنگ بنا کر کان کنی کی جاتی ہے!
اور ریت میں سرنگ بن نہیں سکتی!!
اب کوئلہ  نکالنے کے لئے ریت کو ہٹانا پڑے گا۔
جس پر سالوں کا وقت اور اربوں میں ڈالر خرچ ہوں گے
یہ تھر کے کوئلے کا منصوبہ بھی کسی پاک سیانے یا ڈاکٹر ثمر مبارک کا نہیں تھا
اس کو ورڈ بنک نےایک کروڑ ڈالر کے خرچ کے بعد  لوکان کو بتایا تھا
اور ورڈ بنک کے اندازوں کےمطابق ، اس کوئلے کو نکال کر بجلی بنانے تک کوئی دس سال کا عرصہ اور
کوئی بارہ بلین ڈالر کا خرچ ہو گا
اب جی
چلو جی ریت ہٹا دی ۔
تو اس کے بعد کوئلہ نکالنے کے کام میں پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔
تھر اور پانی؟؟
چلو جی دریائے سندہ سے نہر نکال لیں گے
لیکن
دریائے سندہ تھر سے نیچا بہتا ہے
پانی اوپر کیسے چڑہاؤ گے؟
سب سے بڑی بات کہ
پاک قوم
اور
نہر نکال لے!!
انگرزوں کی بنائی نہروں پر پل بنانے ناممکم بنے ہوئے ہیں
اور نئی نہر!!

پاکستان میں ایک بات بڑی مشہور ہے کہ
چین نے گیارہ سنٹ یونٹ کی قیمت پر پاکستان کو بجلی دینے کی آفر کی تھی
لیکن پاکستان  اپنی بد اندیشی کی وجہ سے یہ افر رد کر دی
لیکن اس افواہ کی حقیقت یہ ہے کہ
چین کی ایک کمپنی نے 1997 میں تھر کے کوئلے کو نکال کر اس کو استعمال کرکے اس سے بنائی جانے والی بجلی کو گیارہ سینٹ میں پاکستان کو فروخت کرنے کی بات کی تھی۔
پنجابی میں کہتے ہیں
تہاڈا ای سر تے تہاڈیاں ای جوتیاں
اور اب جب اس منصوبے پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں
اب بھی باز آ کر اسی چینی کمپنی( چینی کمپنی ہے ، چینی حکومت نہیں) ٹھیکہ دے دیتے ہیں تو؟
ڈالر کی قدر میں کمی ، تیل کی قیمت میں اضافہ اور دیگر عوامل کی وجوہ سے
وہ کمپنی بھی اس قیمت پر راضی نہیں ہو گی
اور اس سے زیادہ قیمت کی بجلی پاکستان افورڈ نہیں کرسکتا

اس کو پنجابی میں کہتے ہیں
سو گنڈے وی کھانا تے سو لتر وی!!
کسی  گاؤں میں بندے نے چوری کی
پکڑا گیا !
مال برامد ہو کر مالکوں کو واپس بھی مل گیا
لیکن
پنچایت نے چور کو سزا سنائی کہ
یا تو پیٹھ پر سو لتر کھا لو
یا سو عدد کچے پیاز کھا لو!
چور نے پیاز کھانے کو اسان جانا اور پیاز کھانے کی سزا قبول کر لی
دس عدد کچے پیاز کھانے تک  انکھوں کے انسو اور دیگر کیفیات سے تنگ ٓ کر اس نے کہا کہ
نہیں میں سو لتر کھا لیتا ہوں
دس لتر لگنے تک چور بد حال ہوا اور
پیاز کی سزا کو بھال کرنے کی درخواست کی۔
اسی طرح کرتے کرتے اس چور نے کوئی اسی نوے پیاز اور سو لتر بھی کھا لیے جی!۔

جو میں نے لکھا ہے اس کو دوسروں کی سائینسی سے دیکھنے کی بجائے اپنی عقل سے سوچیں کہ
تین سو میٹر موٹی ریت کی تہ کو کیسےہٹائیں گے اور اس ریت کو کہاں رکھیں گے؟؟
چلو ایک منٹ کے لئے تصور کر لیں کہ اپ ایک کلو میٹر سکوائر سے ریت کو ہٹا لیتے ہیں جس کو دو کلو میڑ کے علاقے میں رکھ لیتے ہیں ، تو اس ریت سے اس دو کلو میں میں ڈیڑہ سو میٹر اونچا ریت کا ٹیلہ بن جائے گا جو کہ اپنی بنیادوں میں ڈھلوان ہو گا جس کی وجہ سے تین کلو میٹر کا ایریا گھیرا جائے گا
اور یہاں سے ریت نکالی ہے وہاں سے ڈھلوان کی وجہ سے ادہ کلو میڑ کے ہی علاقے سے کوئلہ نکالے کا ماحول بنے گا ۔
اب جب یہان سے کوئلہ نکال لیں گے تو اگلے علاقے میں ریت تین سو میٹر پلس ڈیڑہ سو میٹر ساڑھے چار سو میٹر ہے!!!!َ۔
اس ایک سوچ کے بعد بھی تکلیف کریں اور زرا کوئلے کی کان کنی پر کافر لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں پڑہیں کہ کیسے نکالا جاتا ہے ؟
کوئلہ جل اٹھنے والی چیز ہونے ک وجہ سے (اختصار کے ساتھ بتا رہا ہوں )توڑتے ہوئےپانی کی ضرورت ہوتی ہے
بلکہ بہت زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے
وہ پانی تھر تک لانے کے لئے کیا کیا جائے گا
اور کیسے لایا جائے گا؟
باقی اپ خود بھی سوچیں ڈاکٹروں کی سوچ تک ہی ناں رہیں کہ
پاکستان میں جھوٹ اتنا زیادہ ہے کہ
اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔

 

ہفتہ، 8 ستمبر، 2012

گم کردہ پاکستان کی تلاش


سکائیپ پر  خاور کنگ کے موڈ میں لکھا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش !!!
لیکن کم ہی لوگوں کو اس کی سمجھ لگتی ہے
کہ
اللہ عالی شان جو کہ عقل کل ہیں ان کا بھی فرمان ہے کہ
اکثریت سمجھ نہیں رکھتی
اور نشانیوں کا بتاتے ہیں  فکر کرنے والوں کے لئے
سوچ رکھنے والوں کے لیے
غلام ایم یا گاما پی ایچ ڈی!!
بڑا دور اندیش بندہ ہے
کسی خرابی کی جڑوں کا اور اس کے حل کا سوچتا ہے
لیکن اس خرابی کے پیدا کرنے والوں  کی اسی خرابی پر سیاست کا بڑا مخالف ہوتا ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
حجاب کے اج سے پچپن سال پہلے والے اصول اور معاشرے کی واپسی
ریلوے ، عدالت ، محکمہ تعمیرات ، سیاست ، اور بہت سی چیزوں کی واپسی
یعنی
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
یا یہ کہ لیں کہ پاکستان کی تلاش
مشرقی گیا مغربی گیا
باقی رہ گیا جی
لُنڈا پاکستان
جس میں کلمہ پڑہنے والے ہندؤں کی اکثریت رہتی ہے
جن کے معاشرے میں  برہمن(سید) کشتری(فوجی) ویش(عوام ) اور شودر ( اقلیتیں)  ہوتی ہیں ۔
پرستش کے لیے ان کے دیوتا( حضرت  و حضرات) ہوتے ہیں
گم کردہ پاکستان کی تلاش!

لیکن یہ سب ہندو کی ایک بھونڈی نقل کے سوا کچھ نہیں کہ جس طرح یہ مسلمان کہلواتے ہیں لیکن  ہوتے منافق ہیں اسی طرح ہندو کی طرز معاشرت رکھتے ہیں لیکن
ہندو  لفظ سے الرجی رکھتے ہیں !
ہندو ایک طرز معاشرت ہے
جس میں  صدیوں نہیں ! ہزاروں سال پہلے " لنگ جی مہاراج" کی بھی پرستش ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کے مندر ہوا کرتے تھے
کہ نسل انسانی کو بڑھانے میں  "ان " کی کرپا کی ضرورت ہوتی تھی
لنگ جی مہاراج کو خوش کرنے کے لئے  اور ان کی کِرپا کے "انت " کے لیے
کاما سوترا کی عبادات اور عمل ہوا کرتے تھے
مندجہ بالا بات سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہیدا ہو کہ خاور اس زمانے کو واپس لانا چہاتا ہے
تو جی ایسا نہیں ہے
یہ صرف اس لئے لکھا ہے کہ معاشرے کیسے اصولوں میں ترامیم کرتے رہتے ہیں

معاشرہ ترقی کرتا گیا
ابادی بڑہی تو
لنگ کی مہاراج کرپا کے جوش کو کم کرنے کے اصول وضع کیے گئے
جن کو پردے کے اصول کہ سکتے ہیں
جن میں عورتوں کو ان کے رشتوں کے مطابق خود کو چھپانے کے اصول بنائے گیے
جن کا میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا

جی ہاں
صدیوں نہیں ! ہزاورں سال پہلے
جو لوگ اس بات کے مغالطے کا شکار ہیں
کہ ہند میں کو کچھ ہوا اسلام کے انے کے بعد ہوا !
تو ان کے لیے
ایک بات کہ
ایک اردو کے بلاگر ہوا کرتے تھے بد تمیز !
ان کا کہنا تھا کہ جاہل کی سب سے بڑی سزا یہ ے کہ اس کو علم کی بات ناں بتائی جائے!!
اس لئے یہ علم کی باتاں اپ کے لئے نہیں ہیں جن کا اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے
جن کے خاندانوں کی روزی روٹی کا دارومدار ہی اسلام  کے نام ہر ہے
ان کو علم کی نہیں
بلکہ زیادہ سے زیادہ جہل اور مغالطوں کی ضرورت ہے
گم کردہ پاکستان کی تلاش!
کہ جو کچھ ہم میں تھا اس کو تباہ کیا گیا اسلام کے نام پر
اور اب اسی تباہ کر دی گئی رسوم کو مشرف اسلام کرکے ان کے دن منا کر
ہمیں بیوقوف بنا رہے ہیں
میں ایک مسلمان ہوں
میں ایک اللہ کو مانتا ہوں
اس لئے مندورں خانقاہوں ، مزاروں اور داروں سے دور رہتا ہوں
میں مسلمان ہوں
انسانوں کی برابری کا یقین رکھتا ہوں
اس لیے پاک برہمنوں (سید) لوگوں کو بھی کسی چوہڑے چمار یا کمہار کی طرح کا انسان ہی سمجھتا ہوں!
اگر کوئی ہندو  کسی سید کو ملیچھ کہے تو اس بھی اتنا ہی برا سمجھتا ہوں جتنا کسی پاک کے کسی ہندو کو پلید کہنے کو!
میں ایک مسلمان ہوں
اس لیے غیر اللہ کے نام پر  نذر نیاز یا بھوجن نہیں دیا کرتا
مجھے اسلام کی تبلیگ کرنے والوں نے احادیث کے نام پر بتایا ہے کہ
علم مومن کی میراث ہے  جہاں سے بھی ملے مومن اس کو اپنا مال سمجھ کر حاصل کرلیتا ہے
اور میں اس حدیث نامی قول سے قطع نظر  علم کی بات لےلیا کرتا ہوں
لیکن
پاکستان کے پاک لوگ
اگر علم کالی چمڑی والے سے ملے تو؟
ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے
جس طرح ہندو کا دھرم بھرشٹ ہو جاتا ہے


اج اتنا ہی سہی
کام پہ بھی جانا ہے!!

بدھ، 5 ستمبر، 2012

حجاب اور ہندو رسوم

حجاب حجاب ہو رہی ہے جی
زرا غیر ملکی زبان کا لفظ ہو ۔ اور غیر ملکی رسوم کی چیز ہو تو پاک لوکاں کے جذبات بڑے عروج کو پہنچتے ہیں
چنری، گھونکھٹ کا نام نہیں لینا ہے
کہ
دیسی سی چیز ہے
اور کوئی اہل علم اس کو پاک مذہب کی بجائے ، ہندو کی رسوم کا ناں بتا دے
قران کے مطابق
عورتوں کو بال کو چھپانے اور جسم کی آرائیش کی جگہوں کو نمایاں ناں کرنے کا حکم دیا ہے جی  اللہ عالی شان صاحب سچے پادشاہ نے !!!
جدید تعلیم سے ناآشنا دیہاتی خواتین کھیوتں میں کام کررہی ہوں یا جانوروں کی دیکھ بھال! ان کا ڈوپٹہ ان کے سر پر  ہی ٹکا رہتا ہے
دیسی ڈوپٹہ اپنی ساخت میں ایسی چیز ہے کہ بالوں کو اور اوپری جسم کو بڑے بہترین طریقے سے ڈھانپتا ہے
لیکن یہ ڈوپٹہ  خالصتاً  دیسی چیز ہے
برصغیر میں مسلمان خواتین اس کا استعال کرتی ہیں
تو ہندو اور سکھ خواتین بھی اس کو استعمال کرتی ہیں
ہندو میں اس ڈوپٹے کے استعمال کےاصول  پاک لوکاں کے اصولوں سے کہیں سخت ہیں
ایک ہندو بی بی کو گھونگھٹ کا پابند ہونا پڑتا ہے
لمبی گھیر دار سکرٹ (گھگرا) پہن کر سارے جسم کو چھپانے کو ساتھ ساتھ
جیٹھ ، دیور ، سسر اور کئی نزدیکی رشتے داروں سے بھی منہ چھپانا ہوتا ہے!
گھر کے کام کاج ۔  چولہا چوکا۔ پوچا پاچی ۔ اور گھر  گرستی کے سارے کام بھی جاری رہتے ہیں اور گھر میں اتے جاتے  جیٹھ سسر یا دوسرے اس عورت کا منہ بھی نہیں دیکھ سکتے
پردے کا یہ طریقہ  میں نے اپنی برادری کی خواتین میں بھی دیکھا ہے
ہم جو کہ مجھ سے شروع کریں تو چودہ نسل  پہلے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں
بابا مسو تھا جس نے اسلام قبول کیا میرے اباء میں سے اور اس نے اپنے بیٹے کا نام رحیم رکھا تھا
ہمارے گھورں میں میری چاچیاں اور دادیاں اسی طرح پردہ کیا کرتی تھیں
اور ہم کوئی شاہی نسل کے تو ہیں نہیں کہ جن پر کام کرنا اور کمی کہلوانا گالی کی طرح لگتا ہے
اس لیے ہم کام کرتے ہیں اور ہماری بی بیاں مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرتی تھیں اور
جن رشتوں سے گھوگھٹ نکالنا ضروری تھا ان سے گھونگھٹ بھی نکالتی تھیں
لیکن کیونکہ ہم مسلمان تھے اس لیے  میری ماں ہو کہ چاچیاں  یا دادیاں ان سب کو داج( جہیز) میں برقعے بھی ملے ہوئے تھے
لیکن  میں نے یہ برقعے اس وقت ہی دیکھے ہیں جب  پیٹیوں )(بکسوں) سے نکال کر ان کو دھوپ لگائی جاتی تھی
ورنہ جی کام کرنے والے خاندان کی عورتوں کو برقعہ پہننے کا موقعہ ہی کب ملتا تھا؟
ناں تو جی ہماری بیبیوں کو شاپنگ پر جانا ہوتا تھا
اور ناں ہی سڑکوں پر سیر کی  فرصت
یہی ہوتا تھا کسی شادی بیاہ پر تو جی
یہی دن ہوتے تھے بی بیوں کے اپنے لباس نمائیش کرنے کے مواقع!!
تو جی لمبے گھونگھٹ والی چادروں کی بہار آئی ہوتی تھی جی شادیوں اور بیاہوں میں !!
جی شادیاں بھی کوئی ایک دن والی تو نہیں ہوتی تھیں ناں جی
دو راتیں تو برات ہی ٹھر جاتی تھی
لیکن کبھی پردے کا مسئلہ نہیں ہوا تھا
لیکن جی پاکستان بنانے کے بعد ہم کو
اپنی علیحدہ شناخت کا کچھ زیادہ ہی شوق ہے کہ
ہر چیز میں ہماری علیحدہ شناخت ہونی چاہیے
لیکن کیا ہونی چاہیے؟؟
شوقین کوے کی طرح
بس بگلے کا رنگ ہونا چاہئے
اس کو علیحدہ شناخت کا نام دیے لیں گے
اور یہ نقل ہو گی کسی اور معاشرے کی !!
پاکستان بنایا
اور
پھر ہم نے نام بھی دیسی والے چھوڑ دئے
اللہ دتہ ، اللہ رکھا ، چراغ دین ،
اور طفیل ، مالک اور یونس جیسے ناموں سے ترقی کرتے کرتے
ایسے ناموں ہر آ چکے ہیں کہ
عربی میں چاہے سبزیوں کے ہی نام ہوں
ہم اپنے بچوں کے رکھ لیتے ہیں
حجاب کے دن پاک لوک ایک قدم اور بڑہ کر اپنے معاشرے کو عربی کے قریب کرنے کی کوشش میں ہیں
اسلام کے پردے کے مقاصد کیا ہیں ؟
اور یہ مقاصد مقامی رسوم سے کیسے بہتر طور پر حاصل ہو سکتے ہیں ؟
اس بات کی سوچ ہی نہیں ہے
کہ اوریجنل سوچ تک بند کرکے ، سوچ تک عربی کرنے کی کوشش میں ہیں
لیکن عربوں کی کم عقلی پر تو جی ان کی تیل کی دولت نے پردہ ڈالا ہوا ہے
پاک لوکاں کی کم عقلی پر ڈالنے کے لیے پردہ بھی بھیک کی صورت اتا ہے
ڈالروں اور ریالوں میں !
اہل فکر ، ان پردوں کے پیچھے کا بھی جانتے ہیں
پس یہ معلوم ہو کہ
چنری ، چادر ، گھونگھٹ ، جیسی دقیانوسی چیزیں ہندوانہ اور کافر ہیں !!
یا پھر کمی لوگوں کا پہناوا ہیں !!
اس لیے
پاک لوکان کو عربی طرز کا حجاب اور ایرانی اور عربی ڈیزائینوں کے برقعے استعمال کرنے چاہیے

Popular Posts