اتوار, ستمبر 25, 2011

منکر حدیث یا منکر کتاباں


یارو
پنجابی میں کہتے هیں ناں
آلے (طاق) والا خط
که کسی بادشاه نے عالموں سے کها که پتر کو خط پڑھنے کے قابل بنا دو
اور وه وه ایک مهینے میں
ورنه قتل کردوں گا تو
ایک سیانے نے اس کو طاق میں رکھا هوا خط رٹا دیا تھا
یا پھر همارے اردو کے کسی کالم نگار نے لکھا تھا که ککس ایک هی چیز پر مضمون کرلیں
مثلاً
هاکی کا میچ
اور هر بات کی تان
هاکی کی کمنٹری پر کھینچ کر
واه واه کروالیں
اسی طرح
هم لوکوں کا طاق کا خط بن کے ره گیا هے
اسلام
میں کوئی مذہپ کا ٹھیکیدا ر نهیں هوں
که اپ کو کتابوں میں لکھی بونگیاں کے خوالے دے دو کر اپنا بھی اور دوسروں کا بھی دماغ خراب کروں
اور
قران کو میں نے سمجھنے اور هدایت کے لیے پڑھا اور سمجھا ہے
ناں که
ایتوں کے نمبر یاد رکھ رکھ کر دوسروں کو زچ کرنے کے لیے
اور یه بات بھی میرے ذهن میں هوتی هے که
جب میں قران کی کسی آیت کی بات کروں تو
سامنے والے کو اس آئت کریمه کا معلوم هو
بات چلی تھی فیس بک پر
که
کھوتے کے گوشت کے منع کی بات
قران میں نهیں هے
اس لیے هم دوسری کتابوں کے مرهون منت هیں
اس وقت میں پاکستان میں هوں
دو دن سے بخار سے پھنک رها هوں
لائیٹ گئی هوئی هے
اس لیے میں فیس بک پر هونے والی اس دوران کی کسی بات کا عالم نهیں هوں
پہلي بات کھوتے کے گوشت کی
اور پھر
دوسری هے که قران میں نمازوں کے اوقات کی
تو
جی
همارا( همارا سے مراد میں اور میرے جیسے)ـ
ایمان مکمل هوتا ہے
ایمان مفصل والی تفصیل سے
الله پر فرشتوں پر کتابوں پر رسولوں پر
اور
باقی کی اپ خود پڑھ لیں
ورنه اپ کے اس پاس هر مسلمان کو یاد هو گی اس سے سن لیں
تو جی پرانی اسمانی کتابوں کی روشنی میں
حرام حلال کی تفصیل یه هے که
هوا میں اڑنے والے
وه جو پنجوں میں لے کر کھائیں وھ حرام اور
جو
چونچ مار کر کھائیں وه حلال
پانی کے وه جانور جو
اپنی مرضی سے پانی سے نکل کر بھی زندگی گزار سکتے هیں
وه حرام اور
جو پانی سے نکالے جانے کے بعد زندگی کو برقرار ناں رکھ سکیں
وه حرام
پانچ ناخنوں والے جانور جو که عموماً گوشت خور هوتے هیں
حرام
اور جو جانور زمین میں بل کھود کر زندگی گزارتے هیں
حرام
جن جانوروں کے کھر(پاؤں کے ناخن)دو میں پھٹے هو
ان میں سارے مویشی کھائے جاسکتے هیں
کیونکه
سور کے کھر بھی پھٹے هوتے هیں
اس لیے کوتاه علم لوگوں کی هدایت کے لیے قران میں عقل کل الله سائیں نے تاکید کردی
حالانکه
کسی بھی زبان میں مویشی کی کیٹاگری میں
گھوڑے گدھے اور سور کو شامل نهیں کیا جاتا
اج کی عالم زبان انگریزی میں بھی نهیں
اگر اپ کے پاس قران اور اس سے پہلے کی کتابوں کا علم هے تو
قران کے بعد
لکھی گئی کتابوں کے فتنوں سے بچنے کا خاصا انتظام هے
بلکل جس طرح کچھ ریسٹورانٹوں میں خواتین کے لیے پردے کا خاص انتظام هوتا هے
اسی طرح
نابالغ ذهنوں کے لیے فتنوں سے بچنے کا خاص انتظام
هوتا هے که قران میں
اور پرانی شریتوں میں
جو که کینسل نهیں کی گئی هیں
بلکه
ان میں کی گئی تبدیدلیوں کی طرف توجه کا کها گیا هے
جی هاں تبدیلیاں
جن کی اسلام میں نشاندهی کے لیے
هم لوگوں کو منتخب کیا کيا هے
دوسرا سوال تھا
نماز کے اوقات کا
تو که
اس کا جواب ہے که
قران میں صلواة کے اوقات صرف تین بتائے گئے هیں
حالانکه میں نمازاں پانچ پڑھتا هوں
اور واضع طور پر بتائے گئے هیں
اور اگر میں نے اس کی تفصیل لکھی ناں جی تو کام چور نمازی
اس کو سهولت بنا کر نمازیں چھوڑ دیں گے
اس لیے میں یهاں سورة کا نام یا ایت نمبر نهیں لکھوں گا
اور میں سوچ رها هوں که صرف ایک کتاب قران میں لکھی باتوں سے جو لاعلم ہے
اس کو کیسے علم حاصل هو گا که
پرانے مذاهب اور قران پر سوچ بچار کر سکے
یا که ایک سازز کے تحت ان کو سوچنے کا پلیٹ فارم هی دوسرا دے دیا گیا هے که
قران کے قریب نهیں جانا هے اور جو قران کی بات کرئے
اس کو
لفظوں میں الجھا کر اس طرح کا ماحول بنا دینا هے
که کوئی سننے اور پڑھنے والا بھی قران کے قریب ناں هو جائے
که
قران مذهبی دوکانداریوں کو ختم کر دیتا هے
اور یه بڑا نقصان هے دوکانداروں کا

جمعرات, ستمبر 15, 2011

ڈینگی بخار

ڈنگی بخار
مجھے یاد هے که هر سال گرمیوں میں لوگوں کو بخار هوا کرتا تھا
جس کے لیے کونین کی گولیاں بانٹی جاتی تھی یا کھائی جاتی تھیں
همارے جیسے دیسی کھرانوں ميں نیم
یا
دھریک اور پھلا کے پتے گھونٹ کر پئے جاتے تھے
یه بخار کی وبا وهی تو نهیں هے جو پرانوں سے پنجاب میں هوا کرتی تھی
لیکن هر چیز امپورٹڈ کے شوقین
پنجابی
اب نام بھی
ڈنگی اور دوائیں بھی بدیسی چاهتے هیں
یه موسمی بخار تو نهیں هے کہیں
که کم علموں کا شیوه هوتا هے سنسنی پھلانے کا
اور
پاک حکومتی لوگوں کے کم علم هونے میں مجھے کوئی شک نهیں هے
که اگر یه اہل علم هوتے تو
کم از کم
ان کو
منافقت
جھوٹ
اور
بھیک کے عذابوں کا علم تو هوتا
ناں جی

بدھ, ستمبر 14, 2011

تنگ لوگ

ناں جی پاکستان میں
ہے کون
جو تنگ نهیں هے؟؟
زردای!!ـ
یارو وھ بھی شریفین سے تنگ هے
پاکستانی یا تنگ هوتے هیں
یا تنگ کرتے هیں
تنگی میں گزرا کرتے هیں
لیکن بچپن میں جو لفظ تنگ میں نے پہلے پہل سنا وھ تھا جی
اس بیلٹ کا نام جو گھوڑے یا گدھے کی پیٹھ پر رکھی کاٹھی یا
پلانا کو سنبھالنے کے لیے
پیٹھ کے پیچھے سے گزاری جاتی هے

یه والا تنگ که جس کو سن سن کر باهر مقیم پاکستانی بھی تنگ آ چکے هیں
اس تنگ کی تنگی تو جی ضیاع صاحب کے
اسلامی دور ميں شروع هوئی تھی ناں جی
رشوت لینے والا بھی تنگ اور
دینے والا بھی تنگ
فوج تنگ هے که لوگوں کو ان کے پلاٹ اور رقبے نظر انے لگے هیں
سیاستدان تنگ هیں که
فوج
سکون سے لوٹنے نهیں دیتی
سارے امریکه قرضے هتھیا لیتی هے
کوئی تنگی سی تنگی هے جی پاکستان میں
اب تو سنا ہے که
مچھر بھی تنگ کرتے هیں
پاک لوگان کو
ایک تو جی پاک لوگ اس بات سے تنگ هیں که
لوگ ان کو پلید کہتے هیں
اس لیے
اب جو مچھر ان کو تنگ کرتا هے
ڈینگی والا
اس کی پیدائیش کا صاف پانی میں بتا بتا کر
اور سن سن کا تنگ هورهے هیں جی
لوگ
صاف پانی پاکستان میں هے کهاں؟؟
چھت پر رکھی ٹنکیوں میں !!!ـ
جن میں جالا لگا هوتا ہے
اوپر دھول جمی هوتی هے
اور اندر سنڈیاں!!!ـ
ان چاول کے دانوں کے سائیز کی سنڈیوں کی پاکستان ميں تنگی کی کوئی خبر وصول نهیں هوئی هے
که
کسی نے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی هو
تنگی کو ماپنے کا پیمانه
ابھی نهیں هے که کون کس سے کتنا تنگ هے
که پاکستان ميں
فوج نے هر کام بے حساب کرنے کا کلچر
عام کردیا هے
فوج کے کے آڈٹ کا کہنے والے کو غدار کہـ کر تنگ کرکر کے
اس لیے تنگی کی مقدار بھی بے حساب ہے
هاں
جو لوگ جتنے زیادھ کام چور هیں وھ اتنے هی تنگ هیں
لوگوں کے رویے سے
اور لوگ ان کو سب سے زیادھ تنگ کرنے والا کہتے هیں

پاکستان مقیم
لوگوں کا ایک فقره
جو باهر مقیم محنتی گدھوں کو تنگ کرنے کے لیے استعمال هوتا هے
که گدھے کام زیادھ کریں اور
پیسے زیادھ بھیجیں
تو جی باهر مقیم پاکستایوں کی اکثریت کیوں که
کام چور نهیں هے اس لیے
یه لوگ تنگ هونے کی بجائے پریشان هوتے هوتے هیں
اس فقرے کو سن کر
کیا فقره هے جی
یه که
سر پیٹ لینے کو دل کرتا هے
اور جب کسی غیر پاکستانی کو کهیں تو اس کا هاسا هی نکل جاتا هے
کیا گہرائی هے
جی اس ایک فقرے میں
که
کم عقلوں کے سر سے گزر جائے گا
اور
عقل والوں کے لیے
نشانیاں هیں جی اس ميں
اور وھ
فقرھ ہے
جی























پیسے دا تے هن بن دا ای کجھ نهیں جی!!ـ
پاکستان وچ

جمعہ, ستمبر 9, 2011

سیب کا جوس


بخدمت جناب برین واشنگ ونگ
اسلام علیکم
صورت احوال یه هےکه
یهاں مری والے سیب کےباغات جو که جرنل صاحب کی ملکیت هیں
ان میں اس دفعه
یهود وهنود کی سازش کی وجه سے تیز هوائیں چلتی هی هیں
جس کی وجه سے سارے سیب گر گئے هیں
اس لیے اب یه سیب مارکیٹ مين فروخت کے قبل نهیں رهے هیں
جرنل صاحب کے کهنے پر میں اب کو لکھ رها هوں که
اس سال ان سیبوں کا صرف جوس هی فروخت کیا جاسکتا هے

لیکن قوم میں سیب کا جوس پینے کی سکت نهیں هے
اس لیے کیوں نان کچھ ایسا طریقه کریں که لوگ اس سال زیادھ سے زیاده سیب کا جوس پینا شروع کر دیں
تاکه جرنل صاحب کے باغات کے سیب ضائع هونے سے بچ جائیں
فقط
هیڈ مالی
باغات جرنل ٠٠٠٠٠

جناب هیڈ مالی صاحب
اپ کا لیٹر ملا
هم نے اس بات کے لیے جرنل صاحب سے ڈائریکٹ رابطه کیا هے
اب اپ بے فکر هو جائیں
انچارج
سرکاری میڈیا کا برین واشنگ ونک

جناب
جرنل صاحب جیسا که اب سے فون پر بات هوئی تھی اور اپ نے حکم دیا تھا
که مالی کے خط پر ایکشن لیا جائے تو هم نے
یه ایک پیغام تیار کیا هے
اس پیغام کو ملک ميں رائج کرنے کے لیے اپ کے حکم کا انتظار ہے
اور اگر اپ کے ذهن میں اخباروں ميں شائع کروانے کی بجائے
کوئی اور طریقه هو تو اس کے متعلق گائیڈ کرکے برین واشنگ ونگ کو مشکور فرمائیں
پیغام مندرجه ذیل هے

ضروری اطلاع ؛ ڈاکٹر ندیم علی جو قائد اعظم یونیورسٹی میں مائکرو بیالوجسٹ ہیں ، انہوں نے اپنی ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ ایپل جوس(سیب کے رس) میں لیمن جوس( لیموں کے رس) کے چند قطرے ملا کر ڈینگی کے مریض کو پلایا جائے تو اسکا وائرس ختم ہو جاتا ہے ، مہربانی فرما کر اسے آگے بڑھائیں، تاکہ جانیں بچائیں جا سکیں


اپ کا تابعدار
میجر ٠٠٠٠٠٠

میجر
اسلام علیکم
مجھے تمهارے ونگ کا لکھا هوا یه پیغام پسند ایا
میرے خیال میں اس بیغام کو فیس بک پر لگا دو
باقی یهاں محقق بننے کے خواهشمند خود هی اس کو شئیر کرکر کے عام کردیں گے
جرنل ٠٠٠٠٠

جمعہ, ستمبر 2, 2011

بصیر و نظیر


میرے کان گرمیوں میں بینڈے کی آواز سنتے هیں

اور

میرے ذهن کی بصارت مجھے میرا بچپن دیکھاتی هے

وه قبرستان كے پاس سے گزرنے والی کچی سڑک جس پر دهول اڑتی تھی

اور میں ننگے پاؤں هوتا تھا

میں کسی کی هنسی دیکھتا هوں

تو

مجھے میرا ذہن مجھے وه مدھر گیت سناتا هے جو دل

میں اتر کر پھر اترتے هی چلے جاتے هیں

کبھی میں دیکھ کر سنتا هوں اور کبھی

سن کر دیکھتا هوں

میرے رب نے مجھے کیا کیا لطف عطا کیے هیں که

اس کی عطا کی صفات کے تہـ در تہـ لطف اٹھاتا هوں اور

لہر در لہر بہتا هی چلا جاتا هوں

هاں میرے رب نے قران میں ایک احسان جتلایا هے

که

جس کو کینے سے پاک دل دیا

اس پر بڑا احسان کیا


میں کینے سے پاک دل کی وجه سے
کتنی هی اذیتوں سے بچالیا گیا هوں
که ورنه
ان اذیتوں ميں بھی تو ایک پرتوں کا سلسله هونا تھا

قانع لوگ


یهاں جاپان میں ایک مولوی صاحب آئے تھے جن کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے تھا
ان سے بات چل پڑی ابروجین لوگوں (اسٹریلیا کے قدیم باشندے)کی تو کہنے لگے یه که لوگ اس دور میں بھی کیوں اتنے پسمانده هیں ؟
میں نے ان کو بتایا که عمرانایات کے ماہر کہتے هیں که انسانوں کی کچھ نسلیں بڑی هی قناعت پسند هوتی هیں که ترقی کی ضرورت هی محسوس نهیں کرتیں !!ـ
مولوی صاحب گے منه سے فوراً نکلا
جیسے همارے هاں کے مصلی لوگ!!ـ
میں نے اس اگے بات نهیں بڑھائی که مولوی صاحپ غصه کر جائیں گےـ
که گوری اقوام کا یه خیال همارے متعلق هےـ
ابروجین لوگ بهت هی قانع لوگ هیں
اتنے قانع که همارے روحانیت کے جغادری جو لکھتے هیں که
انے والے کل کی بھی فکر نهیں کرنی
رزق رب نے دینا هے
یه ابروجین بھی ایسا هی کرتے هیں که
کھیتی باڑی ميں بھی فصل اٹھنے تک انتظار کرنا پڑتا ہے
اس لیے
جانوروں کے شکار اور خود رو پھلوں سبزیوں سے یا اگر کوئی اناج قسم کی چیز هوتی هو گی تو اس سے گزارا کر لیتے هیں
ان کے بعد اتے هیں افریقی نسل کے کالے لوگ
یه لوگ بھی جو کچھ پاس هو
وه جنس مخالف کو متاثر کرنے لے لیے شو شا پر خرچ کردیتے هیں
اور مستقبل کی کم هی فکر کرتے هیں
کم فکر کرتے هیں
بلکل هی بے فکرے نهیں هیں
اس کے بعد جی هم لوگ هیں
جو تھوڑی کوشش کرتے هیں اور بس
باقی کا کام کسی معجزے پر چھوڑ دیتے هیں
یا کوئی بنی بنائی چیز مل جائے تو
اس پر قانع هو جاتے هیں
که یه هم پر هماری قناعت پسندی کا انعام هے
لیکن یه نهیں سوچتے که اس چیز کو بنانے والے
ایجاد کرنے والے
کی کیا سوج تھی که
جب کام چل هی رهے هیں تو
یه مسلسل تحقیق
جدو جهد اور خوب سے خوب تر کی تلاش ، جستجو ، کرنے والے کون لوگ هیں اور ان کی
یه سوچ هے کیا؟؟
هاں جی بات کررها هوں گوری اور پیلی اقوام کی
که پیلی اقوام یه بھی کہتی هیں که
گوری نسل
کچھ اس طرح کی هے که جیسے کچھ بچے همارے پاکستان ميں بھی ایک دم گورے سے هو جاتے هیں
پیدائیشی عجب
لیکن هر دو رنگ کی قومیں هیں که مسلسل تحقیق اور تجربات ميں لگی هیں
ان کے ممالک میں ویزے لے کر جابسنے کی خواهش هی کرتے هیں اور بس کوشش کرکے ان کے پاس چلے جاتے هیں
اور ان کی محنت ، تحقیق، اور تجربات سے بنائے گئے سسٹم کے فوائد سے اپنی زندگی کو تھوڑا
سهولت امیز بنا کر پھر
قانع هو جاتے هیں
میں سخت مخالف هوں جی قناعت کے
اپنے حال میں مست رهنے کی تلقین سے
ڈنگ ٹپاؤ قسم کی سوچ سے
اگر انجن بنانے کی مجرم قوم بھی قناعت پسند هوتی تو؟؟
انجن کو ریل سے کار تک کا سفر اور ڈیزل پٹرول انجن سے
هائی بریڈ انجن تک کے سفر میں اٹھائی گئی مشقت
هی هے
ورنه
سانوں کی
کہنے والی قوم کیا یه کرسکتی تھی


اگر بندے کاباطن صاف ، دل مطمئن اور وه مسلسل جدوجهد پر یقین رکھتا هو تو اس کا ذہن حیلوں بہانوں کی کثافت سے پاک ہو گا
اور خوشحالی اس کا مقدر هو گی
لیکن
یه قناعت هی حیلے بهانے بنانے کی بنیاد هوتی ہے

Popular Posts