سوموار، 29 اگست، 2011

شاستر

مستان نامی ایک جگه ہے نیپال میں
جهاں پہنچنے کے لیے
ایورسٹ سر کرنے سے تھوڑی هی کم مصیبت اٹھانی پڑتی ہے

یہاں کے رهنے والے لوگ بہت هی غریب هیں
ناں خوراک اچھی اور ناں هی زندگی کی کوئی اور سہولت
ایک دن یهاں سے ایک "کافر" کا گزر هوا
یه کافر هے بقول مولوی کے
اور اگر کسی درویش نے دیکھا تو دنیا دار کتا کہے گا
اور یه کافر اگر ان دونوں کو دیکھے گا بھی تو؟

کومنٹ دینے سے زیادھ اس کو کچھ "اور " چیزوں کی فکر هو گی
تو جی یه بنده تھا ایک جاپانی
ستر کی دھائی میں جاپان کی حکومت کے ایک پروگرام کے مطابق مستان کی چوٹیوں پر گیا تھا
که یهان رهنے والے لوگوں کی بهتری کے لیے کام کرسکے
تیز هواؤں اور خشک ٹھنڈک والی ان چوٹیوں پر گھاس بھی کم هی اگتی هے
اور زمیں هے که
جس کو اردو ميں بنجر کہیں گے
بنجر که جس مٹی میں پتھر اتنے زیاد هوں که ہل چلانا بھی مشکل هو
اس بندے نے مستان کے لوگوں کو کچھ دینے کا تہیه کر لیا
اور اس نے ان کو
کھیتی باڑی کا طریقه بتایا
که
پہاڑوں سے انے والے پانی کو کھڑا کرنے کے لیے پتھروں سے روکاوٹیں کھڑی کیں
هوا سے اوٹ دینے والی پہاڑیوں کی اوٹ میں درخت اور کھاس اگائی
اور یهاں سبزیاں اگائیں
اب مجھے اس کا نام یاد نهں ارها
لیکن اس جاپانی کی عمر اس وقت
نوے سال ہے
اور ابھی زندھ ہے
گھوڑے پر بیٹھے اس بابے کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر ایک یا دو جوان چلتے هیں
گندے کپڑے پہنے میلے سے چهروں والے دیهاتیوں کے چہرے اس بابے کو دیکھ کر کھل اٹھتے هیں
بابے کا کام هتھیلی پر سرسوں جمانے والا نهیں تھا
که
روم ایک دن میں نهیں بن جاتا
سبزیوں کی کاشت کے لیے زمین کو تیار کرنے سے لے کر
سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار تک
ایک عرصه لگا
یه پھل اور سبزیاں مستان کے لوگوں کے دسترخوان پر رونق کا باعث بنیں
پیٹ بھر کر کھانا نصیب هوا تو
اگلے ایک عرصے ميں ان سبزیوں اور پھلوں کو مارکیٹ تک پہنچا کر
کمائی کا راسته بنایا
تب جا کر مستان کے لوگوں میں
اپنے انسان هونے کا احساس پیدا هوا
که اس وقت تک مستان کے جوان کمائی کے لیے شهروں کی طرف چلے جایا کرتے تھے که دیهاتوں میں بابے اور مائیاں هی ره جاتی تھیں
جب مقاممی لوگوں کو روزگار ملا تو
یه باهر جانے کے روحجان میں کمی آئی تو جی
جاپانی بابے نے ان دیهاتیوں کے بچوں کے لیے
تعلیم کا انتظام بھی کر دیا
که
ان کو سکول بنا دیا
اور ان کی صحت کے لیے ایک شفا خانه بھی بنوا دیا
ایک بندے نے
اپنی جوانی
کسی اور ملک کے لوگوں کی بھلائی کے لیے وقف کر کے
اپنی ساری صلاحتیں
مستان کے لوگوں کے لیے لگا دیں
پاک سوچ کے مطابق سوال پیدا هوتا هے که
اپنے لیے کیا بنایا؟؟
کچھ بھی نهیں
نان سوئس بنکوں میں اکاؤنٹ
اور ناں هی اسلام اباد کے پلاٹ
اور ناں هی سڑکوں اور پلوں کے افتتاح کی تختیاں
لیکن یه بابا
بڑا مطعمن هے نوے سال کی عمر میں بھی
کیوں که اس سے جب زمینوں کی بحالی کا کام کیا تو
سب لوگوں کی زمین جیسے اسی کی زمیں سی بن گئی
اور اپنا بھی فارم بنا لیا
جس میں ایک گھر بھی هے
ساری زندگی اچھا کھانا کھایا
اپنی مرضی کے گھر ميں رها
ایک سوال
زندگی کیا ہے؟؟؟
جواب
جو دن هم گزار رهے هیں !!ـ
تو جی اس کا مطلب هوا که اگر کسی کا اج اچھا نهیں هے تو اس کی زندگی اچھی نہیں هے
اگر کوئیاپنی اچھی زندگی کے لیے اپنا اج برا کرکے کمارها هے تو
اس کے سارے اج برے هوں گے
تو
اس کی اچھی زندگی کب شروع هو گی ؟؟
کبھی نهیں !!!ـ
تو جی بابے نے اپنی ساری زندگی
اپنی خواهش کے مطابق گزاری ہے
که اس کی خواهش هی کسی کے کام انا تھا
کسی کے کام انے کی خواهش کی تکمیل
اور اس کی لذت
کے ساتھ ساتھ
اچھا کھانا
اچھے کپڑے
اچھا مکان
اور اچھی سواری
که بابا جی کے پاس اچھے گھوڑے هیں
اب ایک بہترین بڑهاپا
لوگ بابے کے اگے پیچھے پھرتے هیں اور دل سے خواهش کرتے هیں که باباجی
همیشه زندھ رهیں

یه تحریر اس بات کے تناظر میں لکھی ہے که
پاکستان میں جب بھی
ارباب اختیار سے بات هوتی ہے که ملک کے معاشی حالات کی بہتری کے لیے کچھ کریں
تو
ان کے منه
سے نکل جاتا هے
تے پیسے کتھوں اؤن گے

اتوار، 21 اگست، 2011

هدوانے


لذتوں کی تلاش میں لذتیں ملتی هی رهتی هیں
لیکن منزلیں مارتے هوئے بندے کو پرانی والی لذتیں یاد اتی هیں اور بھلی لگتی هیں
اسی لیے اپنے گاؤں کے ایک شاعر تھے جی
عبدلحمید عدم
وه کہتے هیں
جوانی ڈھلنے په مائل هو جس حسینه کی
وه اپنے یار پرانے تلاش کرتی هے
بڑی فقیر طبیت هے عدم تیری
یه رانوں کے سرهانے تلاش کرتی هے
اخر والے مصرع پر میرا ایک یار ہے
محمد رمضان عرف بوٹی
وه کها کرتا تھا
که
آہو جی !!!ـ فقیر طبیت جو هوئی
اپنی حالت هےکه شروع جوانی کی وه لذتیں یاد اتی هیں
جن کو بس ایويں سا هی سمجھ کر چھوڑ دیا تھا
که
اب دل مانگے
کوئی موڑ هو که وهیں چلے جائیں
لیکن
پیروں میں اتنے بھنور لیے هوئے هیں که اب
گھمن گھیریاں کھا کھا گھن چکر هو گئے هیں که
مزے کا احساس بھی بدل چکا هے
وه قلفی جو
ایک انے کی اتی تھی اس کا مزه اج کی کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی آئس کریم یا فروزن یوگرٹ میں نهیں هے

هدوانه جس کو تربوز کهتے هیں
هماری مادری زبان ميں اس کا لهجه بنتا ہے دوانا
اسی لیے وهاں گوجرانواله میں ایک دیوار پر لکھا تھا
دل دیا تھا یار کو دیوانه سمجھ کر
کھا گیا الو کا پٹھا هدوانہ سمجھ کر
بڑا منافق کا فروٹ هوتا ہے جی یه هدوانه بھی که
اوپر سے کبھی پورا مسلمان کبھی سیاھ دھاری کے ساتھ هلکا شیعه
اور کبھی پورا کالا کر کے شیعه هو جاتا هے لیکن
اندر سے یه سرخا هی نکلتا هے
کیمونسٹ
بلکل منافق فروٹ هے جی
یهاں جاپان میں اندر سے
پیلے هدوانے بھی نکلتے هیں
که ظاہر میں سبز مسلمان لگتے هیں لیکن اندر سے پیلے
اب جی پیلے کی ٹرم
ان قوموں کے لیے بولی جاتی هے جن کو هماری قوم پھینے کهتی هے
حالانکه
جاپانی پیلے سے زیادھ پنک رنگ کے هیں
هدوانے کے اندر باهر کی بات هے که همیشه منافق هوتا هے
ظاهر اس همیشه مسلمان اور اندر همیشه اس کا
کبھی کیمونسٹ اور کبھی کیمونسٹ نما
یملے سے کسی نے پوچھا که که پاکستانی حکمران هدوانے کی کس قسم میں شامل کرو گے؟؟
اس نے کها
کچے هداوانے کی کیٹاگری ميں
اوپر سے مسلمان
اندر سے انگریز (سفید) ــ
منافق بھی اور فضول بھی
ساری قوم ان هدوانوں کو چیر چير کر دیکھتی ہے اور مایوس هوتی هے اور پھر ایک اور چیرتی ہے اور مایوس هوتی ہے که یه سب اندر سے انگریز هیں
کچے هدوانے
اور پاک مولوی ؟؟
چوها کھائے هدوانے
اندر سے خالی
بلکل خالی

بدھ، 17 اگست، 2011

سہاروں کے متلاشی

ایک سیانے نے بتایا تھا کہ
رن (عورت) اور بدمعاش سہارے تلاش کرتے ہیں
رن کا تو اب نے دیکھا ہی ہو گا کہ کیسے پہلے شادی کی صورت سہارا بناتی ہے اور پھر ساری عمر اس کو کوسنے دے دے کر کمزور کرتی ہے
یا
مار کھاتی ہے
اور بد معاش؟؟
کسی ناں کسی کے سہارے پر ہی چلتا ہے
که اس کی ذہنیت میں چمچہ گیری نامی کوڈ ڈال دیا ہوتا ہے بنانے والے نے ۔

اس نے کچھ لوگوں کو چمچہ بنا کر رکھنا ہوتا ہے اور کچھ کا چمچہ بن کے رہنا ہوتا ہے
رن بھی ہو اور بدمعاش بھی تو؟؟
اس کی مثال یوں سمجھ لیں
کہ

او سر جی ،کچھ ممالک کی سیاسی پارٹیوں کا معاملہ ہوتا ہے کہ
ان کی طبیت بد معاش رن کی طرح کی ہوتی ہے
ہر پارٹی
که ایسے ممالک کی فوج بھی ایک پارٹی ہوتی ہے
جوکہ
حکومت میں ہوں کہ باہر
ان کو امریکہ کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے
یا چین کے کی !!،۔

یا روس کی!۔

ایک خصم جائے دوجا آئے
سیٹ خالی ناں ہو
تعلیم کی یه پوزیشن ہے کہ مغالطے ہی مغالطے پڑھ پڑھ کر
سوچ یه ہے کہ
لیاقت علی خاں کو امریکہ نہیں جانا چاہیے تھا
روس یا چین چلے جانا چاہیے تھا
کہ ان کے اُس دورے کی وجہ سے اج امریکہ
بد معاش رنوں كا خصم بنا بیٹھا ہے
اگر جی لیاقت علی خان
روس یا کہیں اور چلے جاتے تو ؟؟
اس خصم کو کوسنے دینے تھے
کسی نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی بات
سوچنی ہی نہیں ہے
کہ
سوچ کے پر جل جاتے ہیں جی
اتنی اونچائی کی بات سوچتے ہوئے
کہ
خود انحصاری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ،۔
امریکه بد معاش نهیں ہے ورنہ
امریکہ بھی ایک سہارے کی تلاش میں ہوتا

امریکه ایک معتبر ملک ہے جس نے سہارے کے نام پر داشتہ بننے کی خواہش مند
اقوام کو سہارا دیا ہوا ہے
اور اپنی قوم کی بھلائی کے لیے ہر کام کرتا ہے
اگرچہ کہ اپنی قوم کی بھلائی کے کام کے دوران داشتہ ممالک کے لوگ مر مرا بھی جاتے ہیں تو؟؟
ہُو کئیر؟؟؟
یه پاکستان ميں کیا رویہ ہے کہ
پاکستان کا ایک خصم ہونا چاہیے
امریکہ اگر جھولی میں جگہ ناں دے تو چین کی طرف دیکھو
یه کیا رنڈی کے جیسے رویه ہے کہ
سہارا ہونا چاہئے۔
قوم کو جھوٹ کی افیم کھلا دی گئی ہے کہ
ہمارا اسلام دنیا کا سب سے اچھا اسلام ہے

ہماری فوج دنیا کی سب سے بہادر فوج ہے
ہم دنیا کی پاک ترین قوم ہیں
کیونکه ہم
استنجا کرتے ہیں
اور جب
حقائق کی تلخی سے اگر کبھی ہوش ایا بھی تو
لیس دار هو جانے والی تشریف کو محسوس کرکے کہیں گے کہ
لسوڑا گر گیا تھا
فیر مغالطہ!!!ـ

اتوار، 14 اگست، 2011

لطیفے الفاظ

جشن آزادی مبارک؟؟
یعنی که جشن کی مبارک دی جارهی هے جی پاکستان میں
چلو جی آزادی کا پلیکھا هی ملا هے
کبھی ازادی بھی مل هی جائے گی
جشن تو اصلی والا ہے ناں جی
معیار چاهے جیسا بھی هو
اور کچھ لوگ ازادی کے مغالطے کا شکار هیں اور همارے جیسے آزادی کی امید میں
اور وه بھی مل جانے کی امید میں
ناں که حاصل کرنے کی کوشش میں

کیسے کیسے الفاظ استعمال کرتے هیں جی پاکستان میں

یاد گار پاکستان؟؟؟
یاد گاریں کن چیزوں یا انسانوں کی بنائی جاتی هیں ؟؟
جو گزر چکی هوں !!ـ
ہے ناں ؟؟
رب خیر کرے جی تہاڈی سمجھ دی

بم دھماکے میں کافی لوگ مارے گئے
کتنے لوگ مر جائیں تو کافی هوتے هیں جی ؟؟؟؟
میری نظر میں تو ایک بھی کافی نهیں هے
مرنا تو دور کی بات مجروح بھی کافی نهیں هے
میرے خیال میں کافی کا استعمال کافی سے زیادھ هو چکا هے
اب وی چھڈو جی

باقی کے الفاظ معنی
آہنی هاتھ
جو ان کو دیا هوا هے امریکه نے

نپٹنا
لمیاں هی پے جانا

اجازت ناں دینا
نکلتے هوئے پیشاب کو روکنے کی کوشش

محفوظ هاتھ
امریکی حکومت

قومی سلامتی
فوجی جرنیلوں کی جائیداد کا تحفظ

نظریاتی سرحدیں
فوج کے خرچے کا آڈٹ

عالم اسلام
چنده اکٹھا کرنے کا منتر

غیر ملکی هاتھ
مٹی پاؤ جی مٹی پاؤ

پاکستانی وزارت خارجه کے ایک افسر سے بات هو رهی تهی
که میں نے پوچھا
اپ کو علم هے که بلاگ کیا هوتا ہے؟؟
اس کا جواب تھا
هاں کیوں نهیں !!ـ
وهی ناں که جو لوگ فارغ بیٹھے کچھ
لختے رهتے هیں

ہفتہ، 13 اگست، 2011

خون کا عطیه کریں


بچبن ميں لوگوں سے سنا كه فلاں ادمى جوانى ميں پچهـ لگوا كر پاء پكا خون نكلوايا كرتا تها ـ
كتنے هى بوڑهے لوگوں كى پنڈليوں پر كٹ لگے كے نشان بهى ديكهے هيں كه جوانى ميں پچهـ لگوا كر خون نكلوايا كرتے تهے ـ
ميں سمجها كرتا تها كه ايسا كر كے يه لوگ اپنى جوانى ميں دوسروں پر اپنى بەادرى كى دهاكـ بٹهانا چاهتے هوں گے ـ مگر بقول ان لوگوں كے ميرے جسم ميں خون ذياده هوتا تها اور اگر ميں پچهـ نەيں لگواتا تو مجهے گرميوں ميں چنكاں(سوئياں چبهناں) پڑتى تهيں ـ
بەت بعد ميں جا كر سمجهـ آئى كه سرد ممالكـ كے لوگوں كے جسم ميں گرم ممالكـ كے لوگوں كى نسبت خون ذياده هوتا هے ـ
اور پنجاب ميں سرديوں ميں سخت سردى اور گرميوں ميں سخت گرمى هوتى هے اس لئے سرديوں ميں جوان ادميوں كے جسم ميں خون كے بڑه جانے كى بات سجهـ ميں اتى هے اور گرميوں ميں اگر يه جب تكـ كه قدرتى طريقے سے كم هو گا اس وقت تكـ چنكاں توں پڑيں گى ـ اس لئے پرانے زمانے ميں لوگ پچهـ لگوا كر خون كى مقدار كو متوازن كر ليا كرتے تهے ـ
نقطے كى بات
اگر هم لوگ اپنے پنجاب كى اس روايت كو اج كے دور ميں لوگوں كو اچهى طرح وضاحت كر ديں اور اس پچهـ لگوانے كو خون كا عطيه دے كر اپنے خون كى مقدار كو متوازن كرنے كا طريقه بتائيں تو ايكـ تو خون كا عطيه دينے كا رواج پڑے گا اور خون كے ذيادتى سے پيدا هونے والے بيماريوں كے روكـ تهام بهى هو گى ـ

یهاں جاپان میں خون ایک انمول چیز هے
انمول ؟
جس کا مول ناں هو
جی هان جاپان میں اپ ناں خون خرید سکتے هیں اور ناں هی بیچ سکتے هیں
هاں بلڈ بنک میں خون جمع کروا سکتے هیں جهاں سے ضرورت پڑنے پر اپ کو یا اپ کے خاندان کو واپس کیا جائے گا
لیکن اکر اپ نے بلڈ بنک میں خون جمع هی نهیں کروایا تو؟
اپ کو حادثے کی صورت میں دوسروں کے اکاؤنٹ سے خون کا قرضه دیا جائے گا
تاکه اپ کی جان بچ جائے
لیکن اپ پر اس بات کی معاشرتی ذمی داری بن جائے گی که اپ یا اپ کے خاندان کے افراد اس خون کی مقدار بن میں جمع کروائیں
ایک بهت هی اچھے تعلیمی نظام سے بننے والے جاپانی معاشرے میں خون کا عطیه دینا عام سی بات ہے
ریڈ کراس والوں کی بس کہیں بھی کھڑی هو گی اور لوگ اس ميں بے تکلفی سے آ جا رهے هوں گے
جیسے که
گزرتے هوئے یاد سا آ جائے
هاں یه کام بھی کرنا تھا چلو کرتے چلتے هیں
میں ایسے لوگوں کو ذاتی طور پر جانتا هوں که
هر چار مہینے بعد
چار سو ملی لیٹر خون دیتے هیں اور بیس بیس سال سے تیس تیس سال سے ایسا کرتے هی چلے جارهے هیں
لیکن جاپان میں خون لینے والوں نے بھی ایک معیار بنایا هوا هے که
جو لوگ یورپ میں یا امریکه میں مقیم رهے هیں
ان کا خون قبول نهیں کیا جائے گا
کیوں که
گائے کی منه کھر کی بیماری کو بہانا بنایا جاتا هے
کچھ سالوں میں تو اگر اب نے برطانیه میں ایک رات بھی گزاری ہو تو اب کا خون قبول نهیں کیا جائے گا
پاکستان ميں خون کا عطیه دینے والوں میں ایک تاثر پایا جاتا هے که اس سے کمزوری آ جاتی هے
لیکن یه بات ایک مغالطه هے
جس کو که اپنی پنجاب کی روایات کی روشنی میں بھی اجاگر کیا جاسکتا هے

جمعہ، 12 اگست، 2011

مرشد پاک کی افطاری

اوے مرشدا
سناؤ بڑی افطاری کراوائی هے
سنا ہے که بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی؟؟
اوئے گامیا
ایک تو جب مجھے مرشد کهتے هو ناں تو تمهارا لہجه ایسا هوتا ہے که جیسے گالی دے رهے هو!!ـ
بس جی مَر شد پاک ،ایسی باتوں کو پہچاننے کی صلاخیت هی اپ کے ایک اصل اور نسلی مراثی هونے کی دلیل ہے
باقی جی تم نے یه جو شجراھ بنایا هوا هے ناں
یه اسی طرح ہے
جیسے گوجرانواله سے بسیں وایه گھووئینکی سیالکوٹ جاتی هے ناں
تم وایه سمڑیال چلے جاتے هو
کون کون سے واے پا کر تم
آل رسول بنتے هو

اور یه جو بڑی تعداد میں لوگ افظاری میں شامل هوئے تھے کیا ان کی تعداد دس تک چلی گئی تھی که صرف نو هی تھے؟؟
اوئے توں فیر میری انسلٹ کر رہے هو!!ـ
چھڈو جی انسلٹ
آپ کو مرشد پاک کہ رهے هیں اور اپ کو انسلٹ لگ رهی هے
باقی اس افطار پارٹی کے لیے خیرات کس سے لی تھی؟؟
اوئے گامے کھوتے
ڈنگر بندے
بنده بن
مرشد پاک جب اپ مراثی تھے تب بھی خیرات لیتے تھے لیکن اس وقت اپ کا ایک فن هوتا تھا که لوگوں کا شجره پڑھتے تھے اور گانا سناتے تھے
لیکن اب جب سے مرشد پاک هوئے هو
گانا سنا چھوڑ دیا هے
اور شجره اپنا بنا لیا هے
لیکن
پیشه پہلے بھی اپ کا بھیک تھا اب بھی بھیک هے
اس لیے جی اصلی گل دسو
جی
مر شده پاک!!!ـ
چپ گستاخ!!ـ
بکواس بند کر
گاما بستی پروف بنا کہتا هی چلا گیا
چھڈو جی تسی تے عصه ای کر گیے هو
اپ کے بزرگ لوگ تو غصه نہیں کیا كرتے تھے
ویسے یه تو بتائیں که اپ کی افطاری میں شامل لوگوں میں سے کسی کا روزه بھی تھا که
یا وھ سوچ
که چلو جی روزه تو رکھتے نهیں هيں اگر افطاری بھی ناں کریں تو
بلکل
هی کافر هو جائیں

سوموار، 8 اگست، 2011

گنجا چاند

استاد دامن نے یه بات کچھ دھایاں پہلے لکھی تھی


اسیں اوس دیس هاں رهن والے
جتھے زور دن رات ہے موالیاں دا

حق دار نوں حق ناں ، ملن دھکے
کم کاج هندا ، ساکاں سالیاں دا

خطره دیس وچ لٹن دا هو ویلے
صعنت کار وڈا ، ایتھے گولیاں دا

دوده پی کے وی تے ایتھے ڈنگ مارن
کی لابھ ہے ، سپان نوں پالیاں دا

باڑ کھیت دی کھیت نوں کھائی جاوے
کی فن ہے جی اینہاں رکھوالیاں دا

لیکن جو لوگ اهل اقتدار هیں پاکستان میں
یه سارے ایک هی خاندان هیں
ان کو پیدا هوتے هی ان کے نسلی هونے کا بتا دیا جاتا هے
اور یه لوگ هر حال میں حکومت میں هوتے هیں
مارشل لا هو که نام نهاد جمهوریت
یه فوجی بے چارے بھی اس خاندان ميں شامل هونے کے لیے هی حکومت پر قبضه کرتے هیں
اسی لیے
ان خاندانوں
کےلوگوں کے متعلق دامن کا ایک شعر

ایتھے گنجا کتورا وی آکھدا اے
میں او چن نئیں جنہوں گرہن لگے

بدھ، 3 اگست، 2011

رزق کی ایڈجسٹمنٹ

رزق کے متعلق جهاں تک مجھے سمجھ لگی هے کچھ اس طرح هے که
میسر زیادھ هے
لیکن کھانے کی کچھ شرائط هیں نظام قدرت میں
انگریزی میں کلوری یا کیلری کہتے هیں
ناں جی جس چیز کو
ان کی مقدار پر بندے کی حیات کی لمبائی هے
یعنی که اگر ایک بندے کو روزانه اس کی گئی مشقت کی عوض میں دو هزار کلوری کی اجازت هے یا کہـ لیں که دوهزار کلوری کا نظام ہضم دیا گیا هے تو اس کو سال میں
سات لاکھ تیس هزار کلوری سے صحت نصیب هو گی

چار کروڑ اٹھتیس لاکھ کلوری سے ساٹھ سال زندھ ره سکے گا
لیکن اگر یهی بندھ اپنی مشقت سے ڈیرھ گنا کلوری لیتا ہے تو جی ؟؟
اس کو منع کرنے کے لیے نظام قدرت میں تنبیح اور سزا کا نظام هے
پہلا انتباھ هوتا ہے
کھٹے ڈکار
پھر گیس
پھر بلڈ پریشر
اسی طرح که
اگر بندے کو سمجھ هی ناں هو یا سمجھ کے باوجود
باز هی ناں آئے تو؟؟
هارٹ اٹیک
ختم شدھ
رزق ختم

لیکن سر جی قدرت
کنجوس نهیں هے
اس میں جس طرح رزق کی فراوانی هے
اسی طرح
کلوری کی مقدار بڑحانے کا بھی طریقه هے
یاکہـ لیں که
کلوری بڑھانے کی قیمت هے
باٹر سسٹم
کچھ دو کچھ لو
جی
کلوری بڑھانے کی قیمت هے
مشقت
چاهے کام ميں کر لو
یا اکھاڑے میں
یا پھر کسی
ایکسرسائیز کلب میں
مزے کے کھانے کھانا چاهتے هو تو مشقت کرنی هی پڑے گی
دو گھنٹے کی بے تحاشا ورزش
بندے کو پچاس سال تک
کلوری کے شمار مقدار سے بے نیاز کردیتی هے
اگر کبھی کسی نے روزانه دو گھنٹے ورزش کرنے والے کو اوپر دی گئی پابندیوں میں مبتلا دیکھا ہے تو مجھے بھی بتائے
هاں هو سکتا هے که کسی اور جرم کی سزا میں کسی اور پابندی ميں مبتلا هو
اج کا موضوع رزق کا ہے
هوتا یه ہے که ورزش کے باوجود بھی کچھ
اوپر نیچے کا امکان هو تا ہے اس لیے
ایمان والوں پر ان کے رزق دینے والے الله کی طرف سے روزے فرض کیے گئے هیں که
اس ایک مہینے ميں باقی کی کلوری کی ایڈجسٹمنٹ کر لو
سحری کھاؤ
سارا دن مشقت کر کے جسم ميں موجود چربی کی شکل میں موجود کلوریز کو جلا کر ختم کرو
شام کو معده چھوٹا چھوٹا سا لگے گا افطاری کے وقت
تو جی معدے کو تنگ ناں کرو
جتنا ڈلے اتنا هی ڈالو
پھر دانت صاف کرو سادا پانی پیو
ایک مہینه
اور پھر
پيٹ کچھ کم هوجائے گا
جسم هلکا سا لگنے لگے کا
ایمان والوں کو
فکر کرنے والوں کو
سمجھ رکھنے والوں کو
صبر کرنے والوں کو
هاں لیکن ایک
اکثریت سمجھ نهیں رکھتی

Popular Posts