اتوار، 26 جولائی، 2009

کلاک

بڑے هی دن هو گئے تھے یه کلاک بنائے که اپ لوڈ کرنے واقت نهیں مل رهاتھا
ان کلاکوں کے اخر پر ایک لنگ هے جن میں سارے گلاک رکھ کر زپ لگا دی هے اس کو ڈاؤن لوڈ کرکے زب کھول لیں اور اور ای میل کرنے کے لیے یا جیسے بھی استعمال کے لیے
اس گے بعد میں نے فلیش کا کوڈ لکھ دیا هے جس میں یه کلاک بنے هیں
اپنا اپنا کوڈ کابی کرکے لگا لیں تو یه کلا اون لائی چل سکتے هں لیکن معلوم نهیں که کب یه فولڈر ختم کردیا جائے اس لیے اپ کے اپنے کمپیوٹر پر ایک کاپی کا هونا بہتر ہے


















































































































اس لنگ پر سے سارے هی کلاکوں کا مولڈر ڈاؤن لوڈ کر سکتے هیں

http://gmkhawar.net/pub/clocks/clocks.zip


سوموار، 20 جولائی، 2009

پدرم حجام بود

جہاں چار پاکستانی آکٹھے هوا کرتے تھے ، پاکستان کا سب سے بڑا مسئله جاگیرداری کو گنا جاتا تھا
یا شائید اب بھی لوگ ایسی هی باتیں کرتے هوں
لیکن وه اپ نے ایک پران کہان تو بڑھی هو گي چوھوں کو میٹنگ والی که اس میں بلی کے خطرے سے نمپٹنے کا ایجنڈا تھا ـ
تو چوھا کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی تھی که اگر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ دی جائے تو بلی کے انے کا معلوم هو جایا کرے گاتو هم چوھا لوگ بھاک کر جان بچا سکتے هیں
لیکن
یه میٹنک اس بات پر ختم هو گئی تھی
که
بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے گا کون؟؟
چوھوں کو صدیوں سے ایسا جری بہادر چوھا نهیں ملا ہے جو که بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ کر دے
یاپھر ان چوھوں کے ساتھ بھی پاکستانوں کی طرح ھینڈ هو جایا کرتا هے که ان میں سے جو بھی چوھا بلی کے گلے میں گھنٹ باندھنے کے '' جوگا '' هو سکتا هو اس کوبلیاں اپنے ميں مالا لیتی هیں یا یه خود سو هی بلی هونے کے خواب دیکھ کر یا بلی هی بن جاتا هے اور چوھوں کو کھانا شروع کردیتا ہے
چلو جی جاگیرداروں سے گلے اور شکایتیں هیں که ان کا هم کچھ علاج بھی کر هی لیں گے
اج ناں سہی انے والے دنوں میں هی سہی
لیکن یه هم میں سے کے لوگ
یعنی کمہار ، نائی ، موچی بھی جب تھوڑي ترقی کرلیتے هیں تو خودکیا سے کیا سمجھنے لگتے هیں
یه اپنے مشیر اعظم رحمان ملک صاحب سیالکوٹ کے قریب کے ایک گاؤں کے رهنے والے هیں ان کے اپنے لوگ ان کو مانا نائی کے طور پر جانتے هیں ، بچپن سے هی تعلیم میں محنتی اور هوشیار مانا جب رات کو دیر تک چھت پر پڑھ رها هوتا تھا تو پڑوس کا صادق فقیر اس کو کها کرتا تھا
اور مانیا !ـ اب سو جا اویے رات بڑی هو گئی ہے
سونی فقیر بتایا ہے که دبئی میں مانے کی بہن کے بیٹے نے بتایا تھا که اپنا مانا بہت هی بڑا افسر لگ گيا هے
تو اس کے بعد مانا نائی منزلوں پر منزلیں مارتا رحمان ملک بن گیا اور پھر جی اس کو بھی یاد نهین رها که وه گھر سے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے نکلا تھا
نهیں جی ملک صاحب گھر سے بلی بننے نکلنے تھے اور اب بلی بن گئے هیں اور لوگ بھالے ان کو چوھے نظر انے لگے هیں ـ
هم میں سے هوتے هوئے یه بندھ جاگیرداروں میں مل کر اب لوگوں کی تشریف لال کروانے والے قانون بنا رها هے
لیکن یاروں بلی اور چوھے تو جانور هوتے هیں اور انسانوں میں جانوروں والی خصلتیں
اور اب پاکستان کی سارے قوم میں گدھوں والی اور چوھوں والی خصلتیں عروج پر هیں تو جی انے والے دنوں میں بگیاڑ(بھیڑیا) والی بھی پیدا هو سکتی هیں اور طالبان بن کر جب یه لوگ مارگله کی پہاڑیوں تک پہنچ گئے تو ؟؟
گولوں کی دھن دھن اور گولیوں کی تڑ تڑ میں ان جاگیردار لوگون میں گیڈر کی خصلت اوج کر آئے گي اور ایسے بھاگیں گے که جیسی کُتّی گِینڈ چھڑا کر بھاگتی هے
مانا نائی اگر مانا نائی بن گیا تو اپنا هی هے ورنه جی
جہاں گئیاں گائیں وهیں گئے سائیں ـ

بدھ، 15 جولائی، 2009

چھوٹے بڑے لوگ

چاچے اسماعیل نے دو منزله گھر بنایا تو اس کا چوبارھ چوھدریوں کی کوٹھی سے چند انچ اونچا هو گیا
چاچا بھی بیچارھ کیا کرتا که پاکستان میں یه رواج هے که لوگ اپنے گھر سڑک سے اونچے بناتے هیں که بارش کا پانی گھر میں داخل ناں هو ، تو بارش کا پانی سڑک پر کھڑا هونے لگتا ہو تو سڑک ٹوٹ جاتی هے تو حکومت آ کر سڑک ک گھروں سے اونچا کردیتی هے ، تو لوگ اپنے اپنے گھر اونچے کرنے لگتے هیں ـ
سڑک اونچی کرو نمبر بناؤ اور گھر جاؤ پانی کے نکاس پر مستقل نظام بنانا پڑتا ہے اس لیے اس کی طرف خیال هی نهیں جاتا که نمبر بھی کم بنتے هیں
تو جی حکومت کے ساتھ سڑک مکان اونچائی کے مقابلے میں چاچے کا مکان اونچا هو گیا
تو اپنی چوھدرانی لگی گالیاں دینے
ان بے غیرت لوگوں کو شرم هی نهیں آتی اپنے مکان هم سے اونچے کرلیتے هیں
کتے کمینے لوگ ، بے غیرت ، انکھوں کا پانی هی مرگیا ہے ، بے غیرت ـ
اسی کی دھائی تک اتے اتے عوامی شعور کے بڑھ جانے اور چوھدریوں کے زوال کے باعث تھا که گالیوں سے کام چلا رهیں تھیں ورنه مکان گر کرنیچا کردیا جاتا ـ
ایسی ذهنیت کے لوگ جب حکومت میں آتے هیں تو گالیان کچھ اس طرح کی هوتی هیں
بے غیرت لوگ ، اب هم لوگوں کی طرح بجلی چاھتے هیں ، ان کے ابے نے بھی بجلی دیکھی تھی ؟ گارے کے گھروں میں رهنے والے کمی لوگ اب موبائیل فون اٹھائے پھرتے هیں ، بے غیرت لوگ ـ
کردو بجلی بند ان بہن ـ ـ ـ ـ کی ، اور لگادو ٹیکس ان کے ایم ایس ایم پر
ان کی ماں کی بغل میں تیر (بغل اور تیر کی جگه ناقابل تحریر الفاظ هیں ) اگر پھر بھی باز ناں آئیں تو اندر کردو ، چودھ سال ، اور لتر لگا لگا کر تشریف کو ایسےملائم کردو جیسے ان کی جائے شِیرمادر تھی ـ
رحمان ملک ولد چاچا فیروز نائی سکنه ججا تحصل و ضلع سیالکوٹ ـ

جمعرات، 9 جولائی، 2009

بابے آدم کی دوسری بیوی

چوھدری صاحب نے میراثی سے پوچھا
اوے میراثیا
تم میراثی لوگ کس نسل سے هوتے هو ؟
میراثی نے کہا که جی
بابے آدم کی نسل سے
تو چوھدری نے دوبارھ پوچھا
اوے !ـ بابا آدم میراثی تھا ؟؟
میراثی نے کہا
مولا خوش رکھے
تو پھر آپ ہی بتا دیں که بابا آدم کیا تھا ؟

چوھدری افضل عرف اپھو ٹنڈا ، آج کل ویلڈنگ کا کام کرتا ہے رات کو دارے میں بیٹھ گپیں ہانکتا ہے ۔
اپنے نسلی ہونے کی اتنی بحت کرتا ہے که خدا کی پناھ ، اور اس کے ساتھ شاھ جی بھی شامل هو جاتا ہے ۔

باقی هوتے هیں جی کمی لوگ !،جو ان کی باتیں سن سن کر ان کو کملے سمجھتے ہیں ۔
شاھ جی نے کہا کہ اوئے! تم ڈنگر لوگوں کو پته هی نهیں ہمارے بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ  یار بنانے سے پہلے اس کی ذات پوچھ لیا کروـ
اچھو نے کہا اسی لیے تم  ، ہم سب کمی لوگوں کے پاس بیٹھتے ہو ؟ !ـ
بزرگوں کے نافرمان شاھ جی !۔

میرے اور شاھ جی کے تم لوگوں میں بیٹھنے سے
  تم لوگوں کو اپنی اوقات بھول گئی هے ۔
شکر کرو کہ ہم لوگ تمہیں گھاس ڈالتے ہیں ۔
اپھو نے لقمه دیا ـ

مالو کمیار نے بڑے پتے کی بات کی ـ
اوئے ہم سارے بابے آدم کی اولاد ہیں ـ
مالو کمیار کی بات سن کر
ڈاڈو میراثی نے بڑے سنسنی خیز لہجے میں  کہتا ہے ۔

ہاں !ـ
، اماں حوا کے بطن ۔
 ہم سب کمی لوگ تو بابے آدم کی ہی اولاد ہیں
 لیکن یه چوھدری  افضل اور شاھ  جی لوگ بابےآدم کی دوسری بیوی سے ییں ـ

خادم کملے کا ، ڈاڈو مراثی کی بات سن کر منه ہی کھلا رھ گیا ،اور منمیاتی ہوئی اواز میں گویا ہوا۔
یار ڈادو ؟
مینوں سمجھ نئیں گی ۔


دوسری بیوی اور وه بھی بابے آدم کی ؟؟

اوئے تھی ایک  ، اپنے ابلیس کی چھوٹی بہن جو بابے کو پچھلے کھیتوں میں ٹیوب ویل والے کمرے میں ملنے آتی تھی ـ
ڈاڈو مراثی  نے بتایا ـ
بھولے سنیارے نے اطمینان بھر لمبی سانس کھینچ کر کہا
آچھا !!!!!!!!ـ
  اسی لیے بابے لوگ  ، کچھ لوگوں کو بھوتنی کے ، کہا کرتے تھے۔
یعنی کہ بھوتنی دے ؟؟
 

Popular Posts