اتوار، 29 مارچ، 2009

سیاست گرم تے موسم ٹھنڈا

یہاں جاپان میں سیاست گرماگرم ہے
لوٹے لوٹنیاں لگا رهے هیں ـ
منافق اصولوں کی باتیں کر رهے هیں
نسلی لوگ حق کی بات کر رهے هیں
فقیر لوگ تماشا دیکھ رهے هیں
پیٹ بھرے لوگوں باتیں هیں که پاؤں کے نیچے سے گرز رهی هیں
میری گاڑی متسبشی کی مینیکا جس کو میں وکٹوریه کها کرتا تھا
اس کا واٹر پمپ لیک کر کيا هے
فجر کی نماز میں جماعت کے ساتھ شامل هونا ناممکن سا هو گیا ہے جب تک که گاڑی نهیں ملتی
ٹرک کا بھی کوئی بیرنگ آواز دے رها ہے
ویسے بھی اس کے ٹوکن مئی میں ختم هونے والے هیں
اللە نیا دے جی
آمین
کاروبار ٹھنڈا چل رها هے که جذبات پر بھی سردی چھائی هوئی هے
آج جی اپنے نون لیگ والوں کا کوئی جلسه سا هے
اس میں جائیں کے لوکاں کی باتاں سنیں گے
کسی کے منه پر سچی کہـ کر پاگل کہلوائیں گے
اگر کوئی گلی گلوچ پر اتر ایا تو جی خاور کی گالیوں کی فیکٹری کچھ نئی گالیاں بنا کر ان کی خدمت میں پيش کردے گی ـ
ھاتھا پائی میں تین چار پر تو بھاری هوں اگر هجوم هو گيا تو مار پڑے گی
مار کھائیں کے بلاک لکھیں گے
اور سمجھیں گے که جی سیانے هیں صرف هم هی زمانے میں باقی کے تو سارے کم علم اور کم عقل هیں
اور اپنی تعلیم هے جی
انڈر میٹرک
انگلش کو انگریزی اور چابی کو کنجی شلوار کو ستھن اور قمیص کو چگا کہتا هوں
اور پنجابی ایسی که اگر کبھی انگریزی کی اخبار پڑھ رها هوں تو لوگ منه پر هی هنسی اڑانے لگتے هیں
میں بھی کیا هوں جی چوں چوں کا مربه
آدھا تیتر ادھا بٹیر
ناں هنسوں میں ناں کوا
ناں پورا پاک لوگ اور ناں پورا جاپانی
پڑھے لکھوں میں ان پڑھ اور انپڑھوں میں پڑھ پڑھ گے پاگل
جیک آف آل کانئنڈ ماسٹر آف نن
یعنی هرفن مولا اور کسی بھی فن کا مولا نهیں هوں جی
بس جی دعا کرو که الله دولت دے
یاں پھر بہت ساری عقل دے دے که دولت ایک ضمنی سی چیز بن کے رھ جائے

منگل، 24 مارچ، 2009

کامیاب دورے

کامیاب دورے
جاپان میں کاروباری حالات مندی کا شکار هیں ـ
اس لیے اپنے جیدو ڈنگر اور بالے موٹے پاکستان کے کامیاب دورے کا پروگرام بنایا هے ـ
بالے موٹے نے جیدو سے پوچھا که هم کامیاب دورے کو کیسے کامیاب بنائیں گے؟؟
تو جیدو ڈنگر نے انتہائی دانشمندانه لہجے میں کہا
کامیاب دورے کو کامیاب بنانے کے لیے دورے کا کامیاب هونا ضروری ہےـ
بس اس لیے هم اپنے پاکستان کے دورے کو کامیاب دورھ قرار دیں گے
کیونکه یه دورھ پاکستان کا کامیاب دورھ هو گا ـ
تو جی بس جیدو ڈنگر اور بالے موٹے نے اپنا پاکستان کا کامیاب دورھ یہاں جاپان سے هی شروع کردیا ـ
ائیر پورٹ پر پر اور بھی کتنے هی لوگ ان کو ملے جو که پاکستان کے کامیاب دورے پر جا رهے تھے
راستے میں تھائی لینڈ میں دو دن کا سٹاپ اوور تھا
اس لیے جیدو ڈنگر اور بالے موٹے نے بنکاک میں بھی پاکستان کا کامیاب دورھ کیا
یہان بنکاک میں جیدو ڈنگر نے گریس هوٹل کے ڈسکو میں بے تحاشا بھنگڑا ڈانس کر کے پاکستان کے کامیاب دورے کو کامیاب کیا ـ
هاں بالے موٹے نے اپنےاس پاکستان کے کامیاب دورے کو ڈانس کا تڑکا نہیں لگا سکا کیونکه بالا موٹا بے تحاشه موٹا ہے ان لیے جیدو ڈنگر کی طرح بےتحاشه ڈانس نہیں کر سکتا
پاکستان میں ان دونوں کا بچپن کا دوست تابو چوھا بھی فرانس سے اپنے پاکستان کے کامیاب دورے پر ایا هوا تھا
جیدو ڈنگر نے تابو چوهے سے چھوٹتے هی پوچھا
اور تابو ، تم بھی فرانس سے پاکستان کا کامیاب دورھ کرنے آئے هو ناں ؟؟
اوئے سدا کے ڈنگر جیدو یه پاکستان کا کامیاب دورھ کیا هوتا ہے اؤیے ؟؟
یار اج کل جاپان میں پاکستان کے کامیاب دورے کرنے کا دورھ پڑا هوا ہے لوگوں کو تو جی همیں بھی تم سمجھ لو که پاکستان کا کامیاب دورھ کر نے کا دورھ ، نهیں یار ، شوق چڑھایا هے ـ
اچھ اچھا میں سمجھ گيا تابو چوھے نے کہا
جیسے اپنے چاچے مولے کے کھوتے زیادھ پھک کھا کر ٹیٹنے وٹتے تھے اس طرح جاپان کے دولت مند لوگوں کے ٹیٹنے پاکستان کا کامیاب دورھ هوتے هیں ـ
اؤے چوھے تم هو هی سدا کے دل کتر باتیں کرنے والے
یار تم نے هم جاپاكی لوگوں كو چاچے مولے کے کھوتوں سے ملا دیا ہے
یه هماری انسلٹ ہے تابو چوھے زبر دست انسلٹ
هم جاپان میں رهنے والے پاکستانی گریٹ ترین لوگ هیں
تمهیں کیا معلوم که هم کتنے گریٹ هیں ـ

جیدو ڈنگر کے پاکستان گو کامیاب دورے میں گھر پہنچتے هیں جو کام نکالا وه تھا جی ان کی بھینس '' بول '' پڑی تھی
اپنے دورے کو کامیاب ترین کرنے کے لیے جیدو کو اپنی بھینس کسی کے بھینسے کے پاس لے کر جانی پڑی
اب جی بھینسے نے جو اس بھینس کے ساتھ کیا وھ قابل تحریر نہیں هے ـ
رات کو ایک کانفرنس میں شمولیت کی دعوت تھی جی
بالے موٹے اور جیدو ڈنگر دونوں کو ـ
گاؤں کے لوگ تو ان کو چنڈال چوکڑی کہتے هیں مگر کیوں که جیدو اور بالا پاکستان کے کامیاب دورے پر ائے هوئے تھے اس لیے ان کے بچپن کے دوستوں نے یه کانفرنس ان کے اعزاز میں بلائی تھی ـ
اس کانفرنس میں شامل معززین کے نام کجھ اس طرح هیں
مالک زلف تراش عرف مالو
طفیل ٹمبر مرچنٹ عرف تھیلا مسواکاں والا
اصغر آئل مل عرف عسو کولہو والا ـ
صابر انجنئیرنگ عرف صابر سائکلاں والا
ان سب کے علاوه علاقے کی مشہور شخصیت جن کا ٹرانسپورٹ کا کام (گدھوں اور خچروں پر)ہے
سیٹھ اشرف عرف اچھو کمیار اس کانفرنس کا سب سے جہاندیدھ بندھ تھا ـ
پاکستان سے غریبی مٹانے کے موضوع پر اس کانفرنس میں پنجابی کی پرانی گالیوں کے علاوھ جیدو اور بالے نے کچھ نئی گالیاں بھی سیکھیں ـ
اچھو کمیار نے جیدوڈنگر اور بالے کو بہت سراها که جاپان چلے گئے اس لیے بچ گئے ورنه یه پاکستان کے کامیاب دورے تم نے کسی ویگن کی ڈرائیوری میں یا کہیں اور خجل هوتے هونا تھا
جیدد ڈنگر نے اچھو کے اس تبصرے پر اچھو کو پنجابی کی پرانی گالیاں دیں
جن میں اس کی ماں بہن پر ڈنگروں سے ناجائیز تعلقات کا انکشاف فرمایا گيا تھا اور اس کے جواب میں
اچھو نے جو گالیاں دیں ان کو سن کو جیدو ڈنگر کو احساس هوا که پنجاب نے گالیوں کی تکنیک میں کتنی ترقی کی ـ
اس لیے جیدو ڈنگر بد مزھ هونے کی بجائے اس کااچھو کا مشکور هوا که اس نے جیدوڈنگر کے کامیاب دورے کو کچھ نئی گالیاں سکھا کر چار چاند لگا دیے هیں ـ
پنجاب کی تکنکی مہارت کا نظارھ کروا کے
کانفرنس کے اختتام پر جیدو ڈنگرا ور بالے موٹے نے غریب لوکوں میں سو سو روپے بانٹے تاکه چرس کا سوٹا لگا کر پاکستا ن کے دورے کی کامیابی میں مدد کریں ـ
جیڈو ڈنگر کو معلوم نہیں که کیا سوجھی که ملک زلف تراش کے حمام پر چلا گیا که انڈر شیو کے لیے اس رچھ (استر) سے اپنی پرانی ورایت کو زندھ کر کے پاکستان کے دورے کو کامیاب کرے
که مالو خود تو حمام پر نہیں تھا که اس کے شاگرد نے جیدو کو استرا دینے سے انکار کر دیا
جاپان کی دولت کے نشے سےـ چور جیدو ڈنگر جو پاکستان گیا هی کامیاب دورے پر تھا
اس کی تو پتلیں هی تپ گئیں
اور کاکے تم مجھے جاتے تو هو ناں؟؟
جیدو نے پوچھا
شاگرد نے کہا
هاں تم وهی هو ناں جس کی پیٹھ پیچھے سب ڈنگر کہتے هیں ـ
لیکن تم مجھے نہیں جانتے
مجھے سارا گاؤں میرے منه پر طافو ڈنگر کہتا ہے
جیدو برا سامنه بناتا هوا باهر نکل ایا
اور دل میں سوچ رها تھا که اب اس ڈنگر کے کیا منه لگنا
دورھ تو میرا هی کامیاب کہلوائےگا ناں
پاکستان کا کامیاب دورھ
پاکستان سے واپسی پر جیدو ڈنگر کے ساتھ جو کچھ لاهور میں پی ائی اے اور کسٹم اور ایمگریشن والوں نے باری باری کیا کیااس پر پھر کبھي سہی
لیکن قصه مختصر کے جیدو کا یه دورھ پاکستان کا کامیاب دورھ تھا ـ

اتوار، 22 مارچ، 2009

پاک لوگ

یہان جاپان میں هم پاکستانیوں کی کل ابادی آٹھ هزار سے دس هزار افراد هو گی
جاپان جو که رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے تقریباً نصف ہے
دس هزار کی ابادی کچھ بھی تو نهیں هے ناں جی ؟
اور ان دس هزار میں سے تقریباً ایکسو کے قریب لوگ هیں جو بڑھ بڑھ کر سیاست میں حصه لیتے هیں اور سیسات بھی پاک سیاست اور طریقه کار بھی پاک هی هے
جس کو اهل علم ناپاک کہتے هیں
اور ان ایک سو کے قریب لوگوں میں سے بھی تقریباً پچاس لوگ هیں جن کو انٹر نیٹ پر فوٹولگوانے کا بڑا شوق ہے
پھر ایکسٹرا منافق لوگ هیں جی ـ
ابھی همارے ایک دوست هیں جی انجم مسیح جنهوں نے
غیر مسلم لیگ
بنانے کا پلان بنایا هے
کیا خیال ہے جی آپ کا ؟
غیر مسلم لیگ

اتوار، 8 مارچ، 2009

پیمانے

خط استوا سے قطب شمالی تک کے فاصلے کا ایک کروڑوان حصه هوتا ہے ایک میٹر
اور
١٠٠ گرام کا ایک جسم جب بلندی سے گرے تو اس کے گرنے کی طاقت کو ایک کلو نیوٹن کہتے هیں
اور
ھائیڈریجن کے تین ایٹم جوڑ کر رکهے جائیں تو اس کی لمبائی کو ایک نانو میٹر کہتے هیں
جی هاں نانو تکنیک که جو مالکیولوں کے درمیان موجود هوا کی مقدار کو کم بیش کرکے چیز کی کی ساخت هی بدل دیا کرے گی جی سائینس

جاپان میں ایک جوس یا پانی کی بوتل کے ڈھکن کو بند کرنے کے لیے بھی قانون ہے که کتنے سے کتنے نیوٹن تک کی ٹائیٹ نیس میں بند کیا جائے گا
ایک ٹشو پیپر کتنے نیوٹن کے دباؤ هو گا تو گاهک اس کی نرمی سے اس کو خریدے گا
اور ایک کاغذ کتنے نیوٹن پر پھٹ جائے کا تو اس پر لکھتے هوئے قلم اس میں گھس هی ناں جائے یا یه اتنا وزنی ناں هو جائے که کاسٹ هی پوری ناں هو ـ
مارکیٹ میں بکنے والے جاپان میڈ موبائیل فون کے بٹن کو دبانے کے لیے کتنے نیوٹن کا دباؤ هوتا ہے یه هر کمپنی کا سیکرٹ هوتا ہے
که مارکیٹ میں لوگ بوڑھے بھی هوتے هیں اور جوان بھی اور اس کا بٹن اتنا نرم بھی ناں هو که بن دبائے هی فون کرنے لگ جائے اور اتنا سخت بھی ناں هو که نمبر ملے هی ناں ـ
سلیمان رشدی نے شیطانی ایات نامی کتاب میں اسلام پر طنز کرتے هوئے لکھا تھا که مکے میں کچھ لوگ باتیں کر رهے تھے که اس کاروباری نے جو نیا مذہب بنایا هے اس میں هر چیز کے لیے ایک اصول مقرر كردیا هے
حتی كه اگراپ نے هوا بھی چھوڑنی ہے تو منه هوا کے رخ پر کر لیں که بد بو دوسری طرف چلی جائے
یه تھا اسلام
اور اج مسلمان
،رسول پر طنز کرنے اور ٹھٹه اڑانے والے کافروں کی طرح
باتیں کرتے هیں که جی ان گوروں نے هر بات میں ایک اصول بنا دیا ہے
کتنا گر گیا هے جی همارا لیول ؟
وهاں برطانیه میں پارلمنٹ میں اس بات پر بحث هو رهی هے که نانو سے بننے والے روبورٹ جو که خوردبین سے نظر ائیں گے اور انسانی جسم میں داخل هو کر جہاں درد یا بیماری هو گی اس کو ٹھیک کردیا کریں گے ان کی تعریف کیا مقرر کی جائے
دوائی یا مشین ؟؟
اور ایک هم پاک قوم هیں که هماری پڑھی لکھی ابادی میں سے بھی نانو کی تکنیک کا کتنے پرسنٹ کو معلوم ہے ؟؟
یہاں جاپان کے سیاستدان بھی کوئی سائنسدان نہیں هیں بس جی سیاستدان هیں جو که جھگڑتے بھی هیں که کبھی کبھی پارلیمنٹ مچھلی بازار کا منظر پیش کررهی هوتی هے
مگر اس طرح کے معاملات میں اسمبلی میں بخث سے پہلے یه لوگ هوم ورک کرتےهیں اور اپنے نزدیکی پروفیسروں اور تکنیکی ماھرین سے مشورھ کرتےهیں
ان کی آراء کی روشنی میں پیمانے مقرر کیے جاتے هیں
پاک لوگوں کی طرح نهیں که پروفیسر اور تکنیکی لوگوں کو گھاس هی نہیں ڈالتے
جی هاں آپ علم کو ذلیل کروں دنیا آپ کو ذلیل کرکے رکھ دے گی
اپ نے دیکھا هوگا که کیسے اهل علم امریکه والوں نے پاک لوگوں کے وزیر اعظم پر بھی کتے چھوڑ کر اور ننگا کرکے پریڈ کروائی تھی ـ

چھڈو جی قنوطیت کی باتیں
بابے نجمی نے لکھا تھا
دوش ناں دیو هواواں نوں سر توں اڈیاں تمبوواں دا
کلے ٹھیک نهیں ٹھوکے خورے ساتھوں رسے ڈھلے رے
اگر هم کلے ٹھیک ٹھونک کر اور رسے خوب باندھ کر رهتے تو شائد اج همارے امن کا تمبو همارے سر سے ناں اڑ چکا هوتا

ہفتہ، 7 مارچ، 2009

گشتی

پنجابی میں ایک عقل کی بات کرتے هوئے شاعر کہتا ہے

راهوں ناں کدی کراھ پئے بھاویں پینڈا کنا دور هوئے

انجانی رهیں اختیار ناں کریں چاھے منزل کتنی بھی دور هو



ماں پیو نوں ناں مند اکھیے بھاویں اینہاں دے وچ قصور هوئے

والدین کو کبھی برا نه کهو چاهے قصور بھی ان کا هی هو



ٹردی پھردی ناں رن کریے بھاویں جنتان او حور هوئے

گھومنے پھرنے والی عورت کو بیوی نه بناؤ چاھے حور جیسی خوبصورت هو



گھومنے کی شوقین عورت کو پنجابی میں گشت پر نکلی مونث گشتی کہتے هیں

اور یه لفظ اپنے اصل معنوں سے هٹ کر اب ایک گالی بن چکا هے

گشتی رن

زرا بالغانه سا لطیفه ہے

که ایک مراثی نے چوھدریوں سے بھینس مانگی ، تو چوھدری نے اس کو ایک بھینس عنایت کردی

که یه بھینس بس '' لگی هوئی '' هے اب اس کی ٹہل سیوا کرو که جب بچه دے کی تو دودھ پینا ـ

کچھ دن گزرے که بھینس پھر ''بول '' پڑی ـ

مراثی اس کو پھر لگوا کر لایا

که ایک مہینے کے اندر پھر '' بول '' پڑی

اسی طرح جب تین چار دفعه هوا

که ایک دن چوھدری نے پوچھا

اوئے مراثیا

سناؤ بھینس کا؟؟

تو مراثی ھاتھ جوڑ کر کہنے لگا جی چوھدری صاحب اس کو بھینس نه کہیں ، بھینسیں تو جی هوئیں آپ کی هماری والی تو جی گشتی ہے گشتی ـ



تو جی پهلے تو پاکستان میں صرف گشتی رنیں هوتی تھیں اور اب سنا ہے که جی گشتی عدالیتیں بھی هوا کریں گی

گشتی پولیس بھی هوا کرتی تھی اب بھی هو شائد

گشتی پولیس

گشتی رنیں

گشتی عدالتیں

میں تو کہوں یه حکومت هی گشتی ہے

دروں کے شوقین اپنے صدر صاحب بھی گشتی صدر هیں ناں جی

گشتیاں ای گشتیاں نے جی

زندگی که گاؤں کی ایک حسین لڑکی

پھنس گئی ہے تماش بینوں ميں ـ

سوموار، 2 مارچ، 2009

وطنے دی بوٹی اور اس کی مہک

اپنے عالمی اخبار والے مصباح حسین سابق القمر والے صاحب کا فون ایا جی اج اسٹریلیا سے
چھوٹتے هی پوچھتے هیں
جی خاور صاحب اپ بھی تلونڈی موسے خان سے هیں
جی هاں جی میں تلونڈی موسے خان سےهوں اور جی اپنے نسوانی نام والے صنف کرخت کے شاھ صاحب کے اباء بھی ہمارے پنڈ کے نکلے جی ـ
پیر محمود شاھ صاحب هوا کرتے تھے جی همارے گاؤں میں هماری پیدائش سے پہلے کی بات ہے
مشہور ہے که تلونڈی میں مچھر اور مکھی ان پیر صاحب کو دعا سے نهیں ایا کرتا تھا
ساتھ کے گاؤں نوئیں کے ، بلکه اصل گاؤں نوئیں کے جس میں سے تلونڈی نام کا گاؤں نکلا تھا
اس گاؤں میں سانپ کے کاٹے سے موت کے واقعات هوتے رهتے هیں مگر بڑے بزرک کہا کرتے تھے که تلونڈی کی جوح(حد) میں اتے هیں ان پیر محمود شاھ صاحب کی دعا ہے که سانپ کا زہر ختم هو جاتا ہے
میں تو جی ان باتوں کومانتا نهیں هوں مگر پته نهیں که کیا وجه ہے که تلونڈی میں سانپ کے کاٹے کی موت کا سنا نهیں هے کبھی ـ
اور هماری هوش میں مچھر مکھی اتناتھا که جی ایکسپورٹ کرکے بھی کم ناں پڑے ـ
ایک کردار هوا کرتا تھا
جی حاجی دارو گر
کھوکھر گوت کے ماچھی هیں جی اور داروگری یعنی آتش بازی تیار کرتے تھے لیکن هماری هوش میں هم نے ان کو ابلے آلو چھولے کی ریھڑی لگاتے دیکھا ہے
گورنمنٹ ھائی سکول تلونڈی موسے خاں کے پڑھے هوئے لوگوں کو سب کو هی یاد ہےیه یه کردار
که ادھی چھٹی کے وقت اسی سے آلو چھولےلے کر کھایا کرتے تھے
حاجی دارو گر یه ناں سمجھیں که الو چھولے بیچتا تھا تو کوئی جاهل ادمی تھا
جی تلونڈی کا تو پاگل بھی اجنبی کے ساتھ اردو میں بات شروع کردے
یه حاجی صاحب ایسے ایسے شعر سناتے تھے که فارسی کے طالب علموں کو بھی الفاظ کے معنی ماسٹر جی سے پوچھنے پڑیں
ایک دفعه حاجی نے بتایا که پیر صاحب کے پاس جب اوقلی هوتی تھی تو اکر کسی کو حال پڑ جاتا تھا تو پیر صاحب حاجی کو اشارھ کیا کرتے تھے که تم سنبھالو اسے
اور جی خاجی صاحب چھ فٹے جوان بندے تھے
حاجی صاحب کے منه سے میں نے خود سنا هے كه حال كا تو سب ڈرامه هوتا هے
جب میں اس کو دبوچ لیا کرتا تھا تو جی بندے کی چیں بول جایا کرتی تھی
اپنی جوانی میں یه حاجی صاحب ایک ماجھی لرکی پر عاشق هو گئے تھے
عاشق بھی ایسے که صبح جس گلی میں سے گزر کر اس نے باهر حوائج ضروریه کے لیے جانا هوتا تھا
اس گلی میں جھاڑو دے کر پانی کا چھڑکاؤ کردیا کرتے تھے
روایت ہے که پیر محمود شاھ صاحب نے اس کو خوش هو کر پوچھا که حاجی کوئ خواهش هو تو بتاؤ
تو حاجی نے کہا که جی ماچھن چاهیے
پیر صاحب نے فرمایا
اوے جھلیا وه ماچھن تیری قسمت میں نهیں هے
که تمہاری قسمت میں کافی اولاد ہے اور اس کی قسمت میں کچھ نهیں بنجر هے
تو حاجی کا بڑا لڑکا همارا دوست هوا کرتا تھا
ضمیرالحسن
لڑکپن میں توڑے دار بندوق اور اس کے ساتھ شکار اور اس کا بارود بنانے میں حاجی دارو گر صاحب کو رهنمائی کی کہانی پھر کبھی سہی
تو جی اپنے مصباح صاحب ان پیر صاحب کی اولاد هیں
پیر صاحب کے بچے گاؤں چھوڑ کر کهیں اور چلے گئے تھے
کسی سکینڈل کی وجه سے وه سکینڈل کیا تھا
میں نے ایک دفعه صدیق کھل والے سے پوچھا تو اس نے جھڑک دیا تھا که
اب تم کو میں کیا بتاؤں
اب تھوڑا سا یاد اتا ہے که ریھڑے پر سمان لادھا جارها هے اور عورتیں افوسوس اور تاسف سے کهـ رهی هیں که
اج پیر لوگ واقعی گاؤں چھوڑ گئے جی
مصباح صاحب سے معذرت کے ساتھ که هو سکتا هے کوئی بات ان کے خلاف جاتی هو
مگر یہی باتیں هیں که گاؤں میں عام لوگ جانتے هیں
یا هوسکتا ہے که اب جوان لوگوں کو یه بھی معلوم ناں هو
مصباح صاحب کی تحاریر کا لنک
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=misbah

Popular Posts