سوموار، 30 اکتوبر، 2006

پاک مٹی

پاکستان میں دهول مٹی ـ
ایسے لگتا هے که آندهیاں چل رهی هیں ـ
دوسرے ملکوں میں رهنے والے پاکستانیوں کی اکثریت یه سمجهتی هے که پاکستان کا جغرافیائی ماحول هی دهول مٹی والا هے ـ
جو که ایک مغالطه هے ـ
آبادی کےنزدیک اور آبادیوں کے اندر تو دهول کی آندهیاں چل رهی هیں لیکن آگر آپ کسی زرعی فارم یا آبادی سے دور کهیتوں میں هیں تو کتنی بهی تیز هوا میں دهول مٹی نہیں هوتی ـ
اس کی وجه یه هے که همیں آبادیوں کو منظم کرنا نہیں آیاـ
جتنا پاکستان همیں اللّه جی نے دیا هے وه بہت خوبصورت هے اور اس میں سے جتنا حصّه هم نے بنایا هے یعنی آبادیاں وهاں ایسے لگتا هے که بهوتوں کی بارات گذر گئی هے ـ
ٹوٹی هوئی سڑکیں گند ابلتی هوئی نالیاں بدصورت دیواریں اور اس پر دهول کا طوفان ـ
مٹی کی بهری ٹرالیاں سڑکوں پر مٹی بکهیرتی جاتی هیں ان کے پیچهے پیچهے تیز رفتار بسیں اس مٹی کو اڑا کر طوفان اٹهاتی هیں ـ
یہی مٹی پانی کی نالیوں میں گر کر ان کی سطح کو بلند کردیتی هے جو که گندے پاني کے ابلنے کا باعث هے ـ
محلے کا کوئی سیانا بنده اس گارابنی مٹی کو نالی سے نکال کر پانی کا بہاؤ بناتا هے مگر یه گارا بنی مٹی وهیں پڑی رهتی هے جو آهسته آہسته خشک هو کر دوباره نالی میں گر جاتی هے ـ
مٹی بهری ٹریکٹر ٹرالی کا کوئی انتظام هونا چاهئے مٹی کو سڑکوں پر بکهیرتی نه جائیں ـ سہواَ آگر هو بهی جائے تو اس مٹی کو اٹهانے کا انتظام هونا چاهئےـ جیسا که ترقی یافته ممالک میں ہے ـ
نالیوں میں گرے گارا مٹی کا بهی انتظام هونا چاهیے که اس کو فوراَ آبادی سے باہر منتقل کیا جائے ـ
هم نے ایٹم بم بنالیا هے مکر کچرے کو پراسیس کرنے نظام نهيں بناسکےـ
پرانے زمانے میں بیلدار هوا کرتے تهے جو که سڑک کے دونوں کناروں کی مٹی کو هموار رکهنے کے ذمه دار هوتے تهے ـ
سڑک کے کنارے درختوں اور گهاس کے بهی ذمه دار هوتے رهے ـ
اب وه بیلدار کیا هوئے ؟؟
دوسرے ممالک آبادی کے بڑهنے کے ساتھ ساتھ انتظامی آسامیاں بهی بڑهاتے هیں
هم هیں که پہلے سے موجود آسامیاں بهی ختم کیے جارهے هیں ـ
یا کہیں یه وجه تو نہیں هے که
پاکستان کی پاک مٹی کے طوفان اٹهاکر بہبوت ملے جوگیوں کی طرح پاک مٹی ملے بهوت بنناچاهتے هیں ؟

عید کے دن همارے گاؤں میں ایک ایکسڈنٹ هوا هے جس میں دو نوجوان لڑکے فوت هو گئے هیں ـ
ایک لڑکا تها فیض مستری کا اور دوسرا لڑکا تها نعیم مرزائی صاحب کا صاحبزاده ـ
موٹر سائکل سواری کے شوق نے ان کی جانیں لے لیں ـ مبینه طور پر لڑکے نشے میں بهی تهے ـ
فیض مستری صاحب کا لڑکا تو موقع پر هی مر گیا تها لیکن سلیم مرزائی صاحب کے لڑکے کو لاهورہسپتال لے گئے تهےـ چوهدری فضل محمود ان کے ساتھ گیا تها اور وه بتا رها تها که ہسپتال کی ایمرجینسی میں زخمی اور کٹے پهٹے لوگ اس طرح لائے جارہے هیں که جیسے کہیں جنگ لگی هوئی ہے ـ
همارے ہستال عام حالات کے زخمیوں کے لئیے بهی ناکافی هیں اگر خدانخواسته جنگ شروع هو جائے تو ہمارا کیا بنے گا ؟
آپنے دفاع کے مضبوط هونے کي بڑهکیں ہم نے اکہتر میں بهی سنییں تهیں ـ
http://urdu.noosblog.fr/urdu/
پاکستان سے کمنٹ کے لئیے اوپر والے لنک په کریں ـ

اتوار، 29 اکتوبر، 2006

اللّه جی کا صحیع نام

هم قرآن کو کسی بهی کتاب سے اہم سمجهنے والے لوگ قرآن کو صرف ایک کتاب هی کے طور پر نہیں لیتے بلکه همارے دهرم میں قران احکام هیں زبردست حکمت والے رّب کے جس کا ذاتی نام هے اللّه ـ
جی هاں اللّه ـ
مگر اس دفعه پاکستان کے سفر میں نے اللّه جی کے نام کو لکهنے میں ایک بہت اهم غلطی پکڑی هے ـ
لفظ اللّه کو دو طرح لکها جاتا هے ایک اس طرح که جس طرح میں لکھ رهاهوں ـ
که آخر والی ه گولائی میں لکهی گئی هے ـ یا پهر اس ه کو سانپ کی طرح لکها جاتا هے ـ
مگر آج کل پاکستان میں دیواروں پر لکهی هوئی مشہوریوں میں یه لفظ کچھ اس طرح لکها هوتا هے ـ
ــ ــ اللّد ــ ــ
یه لفظ همارے رب اللّه جی کا نام نہیں هے ـ

هم میں سے کتنے هیں ـ جو اوریجنل سوچ رکهتے هیں؟
شائد بہت هی کم !ـ
دوسروں کی بنائی مشینوں کی تکنیک میں ہم انجنئرینگ کرتے هیں اور مغربی لوگوں کی تحقیق کو پڑه کر اہل علم میں شمار هوتے هیں ـ
اسلام میں اجتہاد کا ایک آپشن بهی ہے مگر هم میں کوئی مجتہد هے هی نہیں ـ
چلو جی اجتہاد تو دور کی بات هے ـ هم میں سے کتنے آپنے اردگرد کی بے ترتیبیوں کا احساس کرتے هیں ؟
شائد کوئی بهی نہیں ـ دوسروں په تنقید کئیے جاتے هیں ـ
بے ترتیبیوں کا احساس کرنا اور شخصیات پر تنقید دو مختلف چیزیں هیں ـ
آئیں سب مل کر اس غلطی کی تصیح کریں ـ
میرے بهائی حاجی ننها نے آپنی دوکان کا نام بسم اللّه چاول سٹور رکها هے ـ
کی رنگ اور کارڈوں کی حد تک تو اللّه جی کا نام صحیع هے مگر دیواریں لکهنے والوں نے اللّه جی کے نام کو صحیع نہیں لکها ـ
آپنے گهر کی حد تک میں سختی بهی کر سکتا هوں ـ اس لئیے میں نے ننها جی سے کہا هے که اس کو ٹهیک کروائیں ـ
ابهی جب میں یه پوسٹ لکھ کر اپ لوڈ کرنے کے لئیے ننها جی کے گودام پر پہنچا تو ننها جی نے دیواروں لکهنے والے دو آرٹسٹوں کو بٹهایا هوا تها که میری بات سن کر جائیں ـ میں نے ان کو اللّه جی کے نام کو صحیع لکهنے کي وضاحت کی هے ـ
اور انہون نے وعده کیا هے که اس بات کا خیال رکهیں گے اور دوسرے آرٹیسٹوں کو بهی کہیں گے ـ
http://urdu.noosblog.fr/urdu/
پاکستان سے کمنٹ کے لئیے اوپر والے لنک په کریں ـ

جمعرات، 26 اکتوبر، 2006

رحمانیوں کے بارے


اے ڈی میکلیگن آپنی کتاب ذاتوں کا انسائکلوپیڈیا میں رحمانیوں کے متعلق لکھتے ہیں ـ
یاد رہے کہ یہ کتاب ١٨٩٢ء اٹهاره سوبانوے عیسوی کی مردم شماری کے مطابق لکهی گئی تھی ۔
اس لئے ان کی کتاب کے لکهے جانے کے بعد کے حالات ، مجهے اپنے بڑوں سے سنی روایات اور آپنے اندازوں سے لکهنے پڑیں گے ـ
اس پوسٹ سے کچھ پیرے اردو کے انسائکلوپیڈیا  وکی پیڈیا میں بهی شائع کئے جائیں گے تاکہ  سند رہے ۔
کمہاروں کے اور کئی دوسری گوتوں کے رحمانی بن جانے کی یا کہ کہلوانے کی وجہ کیا تھی ،۔ ـ
ای ڈی میکلیگن آپنی کتاب ذاتوں کا انسائکلوپیڈیا میں لکھتے ہیں ـ
پاک رحمانی ـ
ایک مسلمان فرقہ یا سلسلہ اور نوشاہیوں کی شاخ ہے ـ
یه گوجرانوالہ میں مدفون شاھ رحمان کے پیروکار ہيں ـ ان میں اور نوشاھیوں میں بس یہی ایک فرق ہے یه وجد کی حالت میں درختوں سے الٹے لٹک جاتے ہیں  اور جسموں کو آگے پیچهے جهلاتے ہوئے اللّہ ہو کا ورد کرتے ہیں،۔
 اور آخر کار تهک کر گر پڑتے ہیں  ـ
 ان کی روایت ہے کہ پاک رحمان ایک دفعہ آسمان پر گئے اور اسے نوشوھ  نے بلوا بهیجا ـ
 تو اس نے اپنے استاد کے احترام میں سر کے بل جانا بہتر خیال کیا ـ

تاہم بتایا جاتا ہے کہ فرقے کے جاہل لوگ ہی ایسا کرتے ہیں ـ
مندرجہ بالا تحریر
ای ڈی میکلیگن کی کتاب ذاتوں کا انسائکلوپیڈیا سے کاپی کی گئی ہے ،۔
 لیکن
 جس طرح کے پاک رحمانیوں کے متعلق موصوف  لکهتے ہیں ۔
  میں جو کہ گوجرانوالہ کا باسی ایک کمہار ہوں
اس طرح کے لوگ میں نے گوجرانوالہ  میں کہیں نہیں دیکهےـ

اس کے متعلق میرا خیال هو که ١٨٩٢ء سے اب تک  یعنی سن 2006ء تک بہت بہت سی چیزیں بدل چکی ہیں ـ
ایک بہت بڑی تبدیلی یہ بات کوئی کہ ہند کی تقسم اور پاکستان کا بننا ہے ـ

 پاکستان بننے کی کی بہت بڑی بڑی مہربانیوں میں سے ایک مہربانی یه ہے  کہ پاکستان کے قیام نے  ہندو سے دوری کی بدولت ہمیں بہت سے تواہم پرستیوں سے نجات ملی دلائی ـ
اس لئے پاک رحمانی لوگ بهی غالباَ یہ مجذوبانہ حرکات چهوڑ چکے ہیں ـ
ہاں شاه رحمان کا مقبره گوجرانوالہ میں ہے ـ
 اور ان شاه رحمان صاحب سے وابستہ  محیّرالعقول واقعات کا میں بهی شاہد ہوں ـ
یه مقبره واقع هے گوجرانوالہ سے حافظ آباد جاتے ہوئے قلعه دیدار سنگھ کے بعد ایک گاؤں نوکهر آتا ہے ـ
اس گاؤں نوکھر کے بعد میں روڈ سے نکلنے والی ایک سڑک بهڑی شاه رحمان کے مقبرے کو جاتی ہے ـ
بکرمی کلینڈر کے مہینے جیٹھ کی نو تاریخ کو تیز آندهی اور بارش آیا کرتی تهی ـ اس اندھی کو شاه رحمان کی بھڑی کہتے ہیں ۔
میں نے سالہاسال یه طوفان ہر سال کی جیٹھ کی نو تاریخ کو دیکها ہے ـ
لوگ گندم کی فصل کو تهریشر کرنے کے لئیے اس طوفان کے گذرنے کا انتظار کیا کرتے تهےـ
انیس سو اٹهاسی عیسوی تک میں اس طوفان کے باقاعدگی سے آنے کا شاہد ہوں ـ
اس کے بعد میری جہاں گردی ، کہ اپنے گاؤں ہی کی گلیاں بھولی بسری یادیں ہیں ۔
یه ایک روایت بهی ہے اور اس کے عینی شاہدین بهی ہیں کہ
نو جیٹھ کو ایک گدها کہیں نه کہیں ضرور حاضر ہو گا اور گدھا شاھ رحمان کی قبر پر پیشاب کرکے ھینکے گا اور اندهی اور بارش شروع ہو جائے گی ـ
چاچے مالک نے بتایا که اس کی نوجوانی کے دنوں میں جب اس نے نیا نیا ٹانگہ بنایا تها ـ
ان دنوں چاچا مالک ایک سال نو جیٹھ کو شاه رحمان کے مقبرے پر گیا تها ۔
 اس وقت شاه رحمان کا مقبره صرف ایک کچی قبر ہوتا تها جس کے گرد جهاڑیوں کی ایک مضبوط باڑ بنائی گئی تهی ـ
ملنگوں کا جمگٹا لگا رہتا تها ـ
ان ملنگوں کے لاکھ نظر رکھنے کے باوجود ایک سرکش گدھے نے اس قبر پر پيشاب کر کے ھینکنا شروع کردیا تھا ۔
اس قبر کے پجاری منلگ دئے جلائے بیٹھے تھے.۔
 گدھے کے پیشاب کی واردات کے بعد اندھی چلنی شروع ہو گئی
 اور سب ملنگ لوگ جو موم بتیاں اور دئے جلا کر بیٹھے تھے کہ بھڑی (اس دن کے طوفان کو بھڑی ہی کہتے ہیں) میں یہ بتیاں بجهنے نہیں دیں گے ـ
انفھی اور طوفان فوراَ ہی شروع ہو گیا تھا۔

۔ ملنگ موم بتیاں جلا جلا کر ہار گئے تھے
 یہ باتیں چاچے مالک کی بتائی ہو ہیں ۔
اور
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب ایک بندے نے مجھے پہلی دفعہ کہا تھا کہ

تم لوگ تو رحمانی ہوتے ہو ناں ؟؟
تو میں نے کہا که نہیں ، تم ایسا کیوں کہ رہے پو ؟
تو اس نے بتایا کہ
کمہار لوگ شاه رحمے کو مانتے ہیں
اس لیے
اس بات کی روشنی میں دیکهیں تو بات اس طرح سے بنتی ہے که گدھے صرف کمہاروں کے ہی ہوتے تهے اور ہر سال شاھ رحمے کی قبر پر پیشاب کرنے والا گدها بهی کسی نه کسی کمهار کا هی هوتا تها ـ

جس کی وجہ سے اس کمہار کی شامت آجایا کرتی ہو گی  ـ

ان دنوں علاقے کے سارے ہی کمہار اپنے اپنے گدھوں کی نگرانی سخت کر دیا کرتے ہوں گے مگر انسان غلطی کا پتلا ہوتا ہے
کسی نہ کسی سے کوئی کمی ره جاتی ہو گی  اور پهر ہر سال کی طرح گدها اپنا کام دیکها جاتا ہو گا ۔
اب کمہاروں نے اپنی شامت سے بچنے کے لیے یہ بہانا بنانا شروع کردیا ہو گا کہ
جی ہم تو بابے رحمے کو ماننے والے ہیں یه گدها ہی سراسر قصور وار ہے
بابے رحمے کے ماننے کے دعوے دار رحمانی کہلوانے لگے  ـ
پرانے زمانے میں رحمانی کہلوانا صرف اور صرف بابے رحمے کے ماننے والے توہم پرست لوگوں سے جان چهڑوانے كا بہانا تها ـ
لیكن آہستہ آہستہ یہ  رواج بنتا گیا اور خود کمهاروں نے بهی اس کا برا نہیں منایا اس لیے بهی
  یه لفظ زمانے میں رائج ہو گیا ہو گا ـ
مشینی ویٹ تهریشر کے آنے سے پہلے یعنی ستّر کی دهائی تک لوگ آپنے گندم کی فصل کو کاٹ کر ڈهیروں کی شکل میں محفوظ کر لیا کرتے تهے ـ جن ڈهیروں کو علاقائی زبان میں کهلاڑے کہتے تهے ـ
اور شاه رحمان کی بهڑی والےطوفان کے گذرنےکا انتظار کیا کرتے تهے کہ اس طوفان میں فصل خراب نہ ہو جائے۔

آج سے پچاس سال پہلے سے لے کر بیس سال پہلے تک ہم کمہاروں میں تعلیم کی بہت ہی کمی پائی جاتی تهی ـ
ان دنوں بہت سے غیر ہنر مند لوگ (کشمیری ھاتو)گدھوں پر باربرداری کام کرکے کمہاروں میں شامل ہو چکے تهےـ
ان کشمیریوں نے خاص طور پر رحمانی بننے کو ترجیع دی کہ اس طرح ان کو پنجاب میں مکس اپ ہونے میں اسانی ہو گی
نوے کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے یه کشمیری هاتو کمہاروں سے نکل نکل کر بٹ بننے میں کامیاب ہو گئے
که بہت سے بٹ ایک دوسرے کو کہتے ہیں  کہ
یه کمهاروں سے بٹ ہوا ہے ،۔

لیکن اصلی میں یه کشمیری لوگ ہی تھے جو ابھی تک فیصله نهیں کر سکے تھے کہ پاکستان  بننے کے بعد کیا گوت اپنائیں
اس وقت گوجراوالہ کی سرامک کی انڈسٹری میں بڑے بڑے نام جو ہیں یہ ان لوگوں کے ہیں جو کشمیری سے کمہار بنے تھے اور بعد میں کمہاروں والے کام ( مٹی کو آگ سے جلا کر برتن بنانا) کو سرامک انڈسٹری کا نام دے کر
لون ، بٹ اور ڈار وغیره بن گئے
ان دنوں کامونکے کے کمہاروں نے پہلے پہل خود کو رحمانی کہلوانا شروع کیا تها ـ
کامونکے کے کمہار مالی طور پر کافی مضبوط لوگ ہیں ـ
اس کے بعد تلونڈی موسے خان کے کمہاروں میں سے راقم کے نانکے جو کہ کھوکھر ہی ہیں انہوں نے رحمانی کہلوانا شروع کیا تھا ،۔
انیس سو اسی کی دہائی میں بسوں کی باڈیوں کی تعمیر میں رحمانی بس بلڈرز کا نام پاکستان میں تیسرے بڑے بس باڈی بلڈر کے طور پر اتا تھا ،م۔
یہ رحمانی، راقم کے ماماں کے چچا ذاد ہیں ،۔
غالباَ ان میں سے کوئی شاه رحمان کا ماننے والا تها جس کو لوگ رحمانی کہتے تهے ـ
 کچھ اس لفظ رحمانی میں کمیار کی نسبت نرمی بهی پائی جاتی ہے اس لیے ان کامونکے کے کمہاروں نے دوسرے کمہاروں کو جن کو کمہار کہلوانے میں ہتک محسوس هوتی تهی ان کو رحمانی کہلوانے کا راستہ ملا ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں که پہلے پہل کمهاروں میں رحمانی کہلوانے والے لوگ گوجرانوالہ کے ہی  ہیں ـ
لیکن ہم کمہاروں میں بھی برصغیر کی دوسری ذاتوں کی طرح گوتیں ہوا کرتی تھیں
جو که کم علمی کی وجہ سے معدوم ہوتی جا رہی ہیں ،۔
خود ہماری گوت کھوکھر ہے ،۔
اور ہمارے  رشتے داروں میں  جالب ، پینج ، چہل ، بھی گوتوں کے کمہار بھی ہیں ،۔

منگل، 24 اکتوبر، 2006

عید مبارک

Eidmubarek

سب پڑهنے والوں کو سب دوست احباب کو عید مبارک ـ
سب سجن متروں کو بهی عید مبارک ـ
دشمنوں کو بهی عید مبارک که اللّه ان کے دلوں سے کینه ختم فرمائے

حکمران ٹولے کو بهی عید مبارک ـ اللّه صاحب ان لوگوں کا لالچ ختم فرمائےـ

اتوار، 22 اکتوبر، 2006

نئےالفاظ


اس دفعه پاکستان آنے کے بعد دو نئےالفاظ سنے هیں،آپنی بولی میں !!ـ
جو ان دنوں پاکستان میں رائج لینگویج میں بولے جاتے هیں ـ

جنڈو وام اور کھپراـ

جنڈو وام کالفظ نشئیی کے لئے عموماً اور چرسی کے لئیے خصوصاَ بولا جاتا هے ـ
دوسرا لفظ کهپرا ایک قسم کی سنڈی هے جو چاول کو لگ جاتی هے ـ نسلوں سے چاول کا کاروبار کرنے والے کمہاروں کو اس سنڈی نے پریشان کر دیا هے که اس کا کوئی تریاق هی نہیں ہے ـ
کهپرانام کی یه سنڈی چاول جیسے پتلے اور باریک اناج میں بهی سوراخ کر دیتی هےـ 
یه سنڈی همارے ماحول میں ایک نئی آمد ہے ـ
 پنجاب میں اناج کو لگنے والے کسی بهی کیڑے کو میرے لوگ جانتے هیں اوران کا تریاق بهی که هماره کاروبار هی اناج کا رہا هے پرانوں سے ـ
میرے آپنوں کے بقول یه کهپرا آیا هے امریکه سے ـ
 ان چٹے ان پڑه لوگوں کو یه سبق کس نے پڑهایا ہے ؟ که امریکه بیالوجی میں اتنا ترقی یافته ہے که زہریلی دواؤں سے بهی نه مرنے والے کیڑے تیار کر لیتا هے؟؟ ـ
عوام میں عام تاثر پایا جاتا هے که کپاس پر آنے والی سنڈیاں بهی امریکه کا تحفه هیں ـ
جب پاکستانی عوام اس کهپرا سے اچهے خاصے تنگ پڑ جائیں کے تو امریکه همیں اس کهپرا کو مارنے والی مہنگی دوائیاں بیچے گا جن سے کهپرا مر جایا کرے گا مگر ختم نہیں هو گا ـ
اور بش صاحب حیرانی کا اظہار کیا کریں گے که لوگ امریکه سے نفرت کیوں کرتے هیں ـ

جنڈو وام
ایک نسل پہلے تک تلونڈی میں نشئی لوگ معاشرے سے کٹے هوئے هوتے تهےـ
  تلونڈی اور نواحی دیہات کے سارے بهنگی اور چرسی لوگ تلونڈی کے قبرستان میں سائیں غفور کے پاس بیٹها کرتے تهے ـ
 قبرستان میں  بهنگ اگائی جاتی تهی مگر اس کے کهیت کی وٹیں نہیں بنائی جاتی تهیں که بهنگ اگانا جرم هے اس لئیے بهنگ کے کهیت کو کهیت جیسا نظر نہیں آنا چاهئیےـ
کوٹنے لگا کرتے تهے سردائیاں بنائی جاتی تهیں ـ
چرس کے سوٹے لگا کرتے تهےـ
اور سائیں غفور کا یه ڈیره هوتا تها تلونڈی کے پرائمری سکول کے قلب میں ـ
مگر اس ڈیرے کی بهی روایات تهیں که کسی بچے کو یه نشئی لوگ آپنے پاس کهڑا نهیں هونے دیتے تهے ـ
سائیں غفور  سائیں سلوکی  منظور مرزائی  تحصیلدار موچی اور کئی دوسرے همیں سختی سے بچوں کو جهڑک دیاکرتے تهے ـ
اور سارے گاؤں کا ماحول ایسا تها که اس ڈیرے کے لوگوں کو حقیر سمجها جاتا تها ـ
چرسی کے لفظ سے ایک ہتک کا احساس پیدا هوتا تها ـ
کودے میراثی کا چهوٹا بهائی، پنّو مراثی ہیروئن کی اوور ڈوذ سے قصائیوں کے برف والے پهٹے پر مر گیا تها ـ
کودے کی بیوی کیجو اس کی لاش کو کمہاروں کے ریڑے پر لاد کر روتی هوئی جا رهے تهی ـ
که نیامت نائی نے اس کو کهڑا کرکے اونچی آواز میں کہا تها که اس کے مرنے پر رونا عین گناه هے
 بلکه تم کو خوشی کرنی چاهئیے که خود مرنا چاهتا تها اس کی مرنے کی کوششوں کا سارا گاؤں گواه هے ـ
خود
اسی نیامت نائی کا ایک بیٹا جنڈو وام هو گیا تها اور چرس کے سوٹے کا جنڈو وام ـ
 وه لڑکا اب کہیں فوج میں چلا گیا هے ، بقول نیامت نائی کےاس کا مُنڈا هوائی جہازوں کو گریس دینے کے کام پر لگ گیا ہے ـ
ایک دن اس لڑکے کا فون آیا تو نیامت نائی نے اس کو کہا که پُتر  پنڈ میں تم سوا من چرس پی  چکے هو اب بهی تم شوق سے پی سکتے میری طرف سے کوئی پابندی نہیں مگر میرے پاس گاؤں نه آنا وهیں کہیں مر کهپ جاناـ
کچھ اس طرح کا رویه هوتا تھا نشئی لوگوں سے، تلونڈی کے لوگوں کا
ایسے ماحول والے گاؤں میں آج بہت سے نشئی پیدا ہو چکے هیں ـ
ایک دن منیرا گجر همارے دروازے پر آکر بیٹھ گیا که میں نےخاور کو ملنا هے ـ مجهے ننهے نے آ کر بتایا که منیرا گجر آیا ہے ـ پچاس روپے کا خرچا ہے ـ بیٹھک میں نہیں بیٹھانا هے که منیرا گجر معتبر نہیں رها هے ـ
منیرا گجر خاصا معقول آدمی هوا کرتا تها ـ نشے نے اس آدمی کو ختم کردیا هے اب منیرا گجر نیم پاگل گاؤں میں پهر رها هوتا ہےـ
یه وهی منیر گجر هے جس نے خاور کی بیٹریاں والی دوکان میں خاور کے جاپان انے کے بعد
کتے کی قبر بنا کر روحانیت کی دوکانداری کرنے والے ایک چرسی بابے کی دوکانداری ختم کی تھی
کچھ وقت منیر تلونڈی کا ڈاکخانہ بھی چلاتا رها هے
میڈیکل سٹور اور مبھائی کی دوکان کرنے کا تجربه رکھنے والا
اج ایک کملا بنا هوا هے
اکرم جولاه
بیٹا ہے مولوی اشرف صاحب کا ـ
 مولوی صاحب کے چھ بیٹے هیں اور لڑکی نہیں هے ـ
اس لئیے مولوی صاحب کو آپنی مردانگی کا بڑا مان تها ـ مولوی اشرف کا کھر همارے گهروں کے درمیان تها ـ مولوی صاحب برملا کہا کرتے تھے که گدهے لوگوں کے درمیان پهنس گیا هوں ـ
جی هاں مولوی صاحب میرے خاندان کو یعنی کمہاروں کو گدھے کہا کرتے تھے
یعنی که اتنی بھی عقل نہیں تھی که
کمہار اور کدھے کا فرق کرسکیں
اور میری برادری کا رویه ان کی عزّت افزائی والا هی هوتا تها که همارے مولوی صاحب هیں ـ
مولوی صاحب کا رویه کمہاروں کے ساتھ ہتّک آمیز هی رها هے ـ
اسلئیے کمہاروں نے ان کو اغنور(نظرانداز) کرنا شروع کردیا تھا ـ
ایک دفعه طافو ڈبے نے ان کے بیٹے اکرم کو بہت مارا تهاـ
جب طافو ڈبه اکرم کو مار رها تها تو مولوی صاحب بھی کهڑے تهے اور بہت سے کمہار بهی لیکن کسی نے بهی طافو کا هاتھ نہیں روکا تھا که مولوی صاحب کے رویے کی وجه سے کمہاروں کا بهی ذہن بن چکا تها که
سانوں کی!!ـ
سوڈے واٹر کی بوتل سے مار مار کر طافو نے اکرم کو اده موّا کردیاتها ـ
مولوی صاحب نے روتے هوئے پکارا که کوئی بچاؤ میرے بیٹے کو !ـ
تو کمہار مدد کو بڑهے اور طافو بهاگ گیا کیونکه طافو ڈبه کمہاروں سے کئی دفعه مار کها چکا تها ـ
مجهے یاد ہے که ایک دفعه چاچے یونس سے لڑائی میں طافو سائیکل چهوڑ کر بهاگا تها ـ
روحانیت کے علمدار مولوی اشرف صاحب مشرک آدمی تهے ـ
غیر اللّه کے نام کی نذر نیاز اور غیراللّه  کے نام کی محفلیں عام سی بات تهی ـ
پچهلے دنوں مولوی صاحب فوت هو گئے هیں ـ مرنے سے پہلے ان کی شکل بگڑ گئی تهی که ان کے بیٹوں نے کسی کو ان منه نہیں دیکهنے دیا ـ
مگر ان کے بیٹوں نے ان کو جامع مسجد کے صحن میں دفنانے کی کوشش کی جس کو بیری والیے جاٹوں نے نہیں هونے دیا ـ
کیونکه یه مسجد بیری والے کهوه کی زمینوں میں بنائی تهی مولوی اشرف صاحب نے ـ
ان مولوی صاحب کا بیٹا اکرم جولاه چرس کے سوٹے لگاتا هے اور روحانیت کے نعرے لگاتا ہے ـ
باپ کی خانقاه تو بیری والیے جاٹوں کی عقلمندی نے بننے نہیں دی
مگر
اکرم جولاه چرس کی مہربانی سے مجذوب بن چکا هےـ
اورتلونڈی کے عام لوگوں کی نظر میں جنڈووام ـ 

اتوار، 15 اکتوبر، 2006

ٹله جوگیاں

اس وقت میں آپنے پنڈ(گاؤں) میں ہوں ـ
هم لوگ تلونڈی کو کہتے تو پنڈ هیں مگر یه اتنابهی پنڈ نہیں هےـ اچھاخاصا قصبه هے ـ جو که گوجرانواله کے ضلع آفس سے صرف پانچ کلومیٹر کے فاصلے په ہے ـ
بڑے شہروں میں رہنے والے لوکاں(لوگ) کو''پچھوں کتهوں دے او'' کاسوال پوچهنے کا رواج انگریزی میں بهی هے اور جاپانی میں بهی هےـ
اور عموماَاس سوال کا جواب کوئی نه کوئی پنڈ هی هوتا هے ـ
اس لئيے همیں بهی اپنے پنڈ پر فخر هے اور اس کی باتاں (باتیں)چنگی (اچهی)لگتی هیں ـ
مگر آپنے پنڈ میں هوتے هوئے انٹر نیٹ تک رسائی خاصا مشکل کام هے ـ
آپنے گھر سے اگر انٹرنیٹ په ایکسیس لیتا هوں تو سپیڈ اتنی سست هوتی هے که یاهو کے میل بکس سے ایک میل پڑهنےپه بهی پندره منٹ لگ جاتے هیں ـ
ایکسچینج والوں سے تار کے بدلنے کا کہا هے تو ان کا جواب هے که ہمارے گهر کے کنکشن والی ڈی پی او(مجهے نہیں پته یه کس چیز کا مخفف ہے) پرانی هو کر زنگ زده هو چکی هے اور اس زنگ کی لیکج شائد ڈیٹا کی ترسیل پر اثر انداز هو رہي هے ـ
اور اس زنگ زده ڈی پی او کو کهولنا بڑے مسئلے کا باعث بنے گا ـ
گوجرانواله کے مشرقی سائیڈ کی کتنی هي ایکسچینجوں پر سپر وائزر هیں آپنے ناصر کهوکهر صاحب ـ مگر یه ناصر کھوکھر صاحب بهی انتہائی شریف بندے هیں ان کی فیملی کے متعلق علاقے میں مشہور تها که کسی کو دهمکی بهی دے رہے هوں ایسے لگتا هے که مشوره دے رہے هیں ـ
اب آپ هی بتائیں ایسے شریف افسر کو لوگ کیسے لیتے هیں ؟
بہرحال میں نے ناصر کو پیغام بهیجا هے که مجهے ملیں اور میں ان کے ساتھ ایکسچینج چلتا هوں ـ
کل میں نے اپنے بهائی غلام مرتضی عرف حاجی ننها کے گودام نما دفتر والے فون سے انٹر نیٹ ایکسیس لیا تها تو یہاں په سپیڈ معقول هی تهي اس لئیے یه پوسٹ وهیں سے اپ لوڈ کروں گا ـ

اس سال ہمارے گاؤں میں گھروں میں چیونٹے نکل آئے هیں ـ چیونٹی کا یه بڑا سا ماڈل هوتا هے ـ
پنجابی میں چیونٹی کو کیڑی کہتے هیں چیونٹے کو کیڑا حالنکه یه چیونٹی کا نر نہیں هے ـ
هر گھر میں درجنوں کے حساب سے آزادی سے گهوم رهے هیں ـ
اور لوگ کہـ رہے هیں که یه اس سال هي نکلے هیں ـ
اس کے علاوه نیم کے پودے بهی ادهر اُدهر اُگ آئے هیں ـ
نیم اور شرینہ کے درخت تقریباَهمارے علاقے میں ناپید هو چکے هیں ـ
شرینه کے درخت کو اردو میں کیا کہتے هیں مجهے معلوم نہیں ـ اس درخت کے پتے جس گهر میں بیٹا پیدا هوتا هے ہمارے علاقے میں اس کے دروازے پر باندهے جاتے هیں ـ
طبعی معاملات میں بهی استعمال هوتے هیں مگر مجهے اب یاد نہیں که کہاں ـ
یه شرینه تو اب بهی مشکل سے هي ملتا هے مگر نیم اس سال قدرت نے پهر عطا کي هےمگر بد اندیش لوگ اس کي قدر کم هي کر رہے هیں ـ
کل میں نے آپنے گودام کے صحن میں مرغیوں کا کچلا هوا ایک پورا دیکها تو میں نے ننهے سے پوچها که یه کس چیز کا پودا مرغیوں نے کچلا هے تو ننهے نے بتایا که اس سال نیم نے پودے بہت اُگ آئے تهے ـ
مجهے اس پودے کے کچلے جانے کا دکھ ہواـ
میں نے ننهے سے کہا که تمہیں پته هے ناں که نیم کے پتے چهال اور نمکولي میں قدرت نےشفاء رکهی هے
اور یه نیم جو که اب تقریباَ ناپید هو چکی هے قدرت نے تمہیں دوباره دی ہے اور اس کی حفاظت سے اگر غافل هو جاتے هو تو نامعلوم کتنے هي سالوں تک یه دوباره نه اُگے؟
ننهے نے بتایا که وه کتنے سال سے ایک نیم کے درخت کی حفاظت کر رها هےجو همارے جانورں والي جگه میں کچھ سال پہلے اُگ آیاتها ـ
نیم کے اس چهوٹے سے پودے سے بہت لوگ پتے لینے آتے هیں ـ
اللّه هماری قوم کو درختوں کي حفاظت کرنے کا شعور عطاء فرمائے ـ آمین!ـ

بی بی سی په ایک رپورٹ شائع ہوئي هے ـ
جہلم کے قریب واقع جوگیوں کے ٹلے کی ـ
میرے خیال میں صاحب مضمون نے کسی غیر ملکی کی تحقیق کا صرف ترجمه کر دیا هے اور خود سے کچھ نهیں سوچا ـ
جاپان میں جس زمیں میں چاول بویا جاتا هے وهاں دوسری کوئی فصل نہیں اُگتی اگلے سال پهر چاول هي بویا جاتا هے ـ
لیکن ایک تهوڑا سا علاقه ایسا بهی هے که وهاں چاول کی کٹائی کے بعد گندم بُو دی جاتی هےاور پهر چاول بهی ـ جاپان میں اس علاقے کا ذکر کیاجاتا هے که بڑی بات هے اس زمیں کي ایسي زمین جاپان میں اور کہیں نہیں ـ
ایک دفعه میں نے اخبار جہان میں ایک رپورٹ جاپان کے اس علاقے کے متعلق پڑهی تهی جس میں اس علاقے کی زمین کی اس خصوصیت کا ذکر کرکے یه لکها تها که چاول کے علاوه بهی فصل دینے والی ایسی زمین دنیا میں صرف یہیں هے ـ
اخبار جہان کے اس لکهاری کو گوجرانواله اور سیالکوٹ کی زمینوں کا علم نہیں تها ـ
اسی طرح بی بی سي کے لکهاری کو ہیر وارث شاه کا معلوم نہیں هےـ
لکهتے هیں ـ
ٹلہ پنجابی میں پہاڑی کو کہتے ہیں اور مذکورہ پہاڑ تاریخ میں ٹلہ جوگیاں، ٹلہ گورکناتھ یا ٹلہ بالناتھ بھی کہلاتا رہا ہے۔گو کہ گرو گورکناتھ کا ذکر توہمیں تاریخ اور روایت دونوں میں ملتا ہے لیکن مالناتھ کا کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون تھا اور کس زمانے میں گزرا۔

بالناتھ ایک بڑا جوگی تھا جس کا زمانہ ایک انگریز مؤرخ کا خیال تھا کہ پندرھویں صدی عیسوی تھا۔اسی بالناتھ نے خانقاہ قائم کی اوراسی کی وجہ سے یہ ٹلہ بالناتھ کہلائی۔

لیکن یہ قیاس غلط لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوالفضل کا اکبرنامہ بتاتا ہے کہ بادشاہ اکبر کے زمانے، یعنی سولہویں صدی میں بھی ٹلہ بالناتھ کو اتنا قدیم سمجھا جاتا تھا کہ اس کے آغاز کا کسی کو علم نہیں تھا۔ یہ تو طے ہے کہ برصغیر کے ’کن پھٹے‘ یا وہ جوگی جو اپنے کان چھدوا کر ان میں ہالےڈالتے ہیں کا بانی مانتے ہیں، گرو گوکناتھ کو ہی اپنا مرشد اور اور اپنے فرقہ اور یہ فرقہ پندرہوں صدی سے کہیں پہلے سے وجود میں ہے۔ بالناتھ کے بارے میں یہ گمان گزرتا ہے کہ وہ گورکناتھ کے بعد نامی گرامی گرو گزرے۔

بی بی سی کے ان صاحب نے آکر ہیر وارث شاه پڑهی هوتی تو ان کو معلوم هوتا که رانجهےنے ٹله جوکیاں پر جا کر بالناتھ جوگی سے جوگ لی تهی اور کان پهڑوائے تهے ـ
رانجهے اور بالناتھ کی باتیں پنجابی شاعری کا سرمایا هیں ـ
مجهے اس بحث کا صرف ایک شعر یاد آرها هے ـ
جو که بالناتھ نےرانجهے سے کہا تهاـ
میں نے چاچے بالے(محمد اقبال کمیار) سے هیر وارث شاه کی کتاب مانگی هے ـ اگلی پوسٹ میں اور بهی شعر نقل کروں گا
شعر هے
وارث شاه نه پتر فقیر هوندےـ
جٹاں موچیاں تیلیاں دے ـ

بی بی سی کي تحریر کا لنک

جمعہ، 13 اکتوبر، 2006

پنڈ کی باتاں

مجهے نہیں پته که یه لفظ رحمانی آیا کہاں سے ہے ـ
اس لفظ کا تاریخ جغرافیه اور محل وقوع میرے لئیے تو بلکل اجنبی ہے ـ
میرے سارے آپنے رحمانی کہلوانے لگے هیں ـ آچهے بهلے هم کمہار ہوا کرتے تهےـ
اور جس سے بهی رحمانی بننے کی بابت پوچهتا هوں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیتا ـ
کیونکه هم رحمانی کہلواتے هیں اس لئیے هم رحمانی هيں ـ
یه هوتا هے جواب میرے آپنوں کا ـ
آگر کوئی پڑها لکها آدمی اس بات کو جانتا هو که کمہار رحمانی کیسے هوئے تو مجهے بهی بتائے که میں بهی تو جانوں که رحمانی کی اصلی ڈیفینیشنز کیا هیں ـ
خاور ابهی رحمانی نہیں ہوا اور شائد کبهی بهی نه هو کیونکه هم تو جی ایسے هی هیں ـ

یارو یه پاکستان میں تو انٹر نیٹ کے ساتھ بہت مسائل هیں ـ
بلاگر کی سائیٹ واقعی نهیں کُهلتی !ـ
اس سے بهی بڑا مسئله نیٹ تک رسائی ہے ـ
همارے گهر پے فون لائین تو هے مگر وی بهی کهنبے سے فون سیٹ تک دو جکه ٹوٹی هوئی هے ـ
میں نے سو روپے والا انٹرنیٹ کارڈ خریدا هے ـ
اس پر ایک فون نمبر ایک لوگان نمبر اور ایک پاسورڈ هے ـ
یه موڈم کے ساتھ انٹرنیٹ تک پہنچ کا ذریعه هے ـ
میں نے آج یه کارڈ گوجرانواله سے خریدا ـ
گوجرانواله تک آنے جانے میں میں نے جو لید مکس مٹی پهکی ہے اس گله کرنے کا ایک کمہار هونے کے ناطے میرا حق نہیں بنتا که میرے اباء گدهوں کے پیچهے چلتے هوئے یه لید مکس مٹی بہت پهکا کرتے تهے ـ
میرے اندازے کے مطابق کوجرانواله کا ہر شہری ڈیڑه چهٹانک لید تو روزانه کهاتا هي هوگا ناں ـ
کارڈ لا کر میں نے اپنی پاور بک کی سیٹنگ بدلی اور دو تین ٹرائیوں میں میں اؤن لاین ہو گیا
دوتین ٹرائیاں اس لئیے که موڈم ایرر آتا تها ـ
اون لائین هونے کے بعد سپیڈ بہت هی سست تهی ـ
سپیڈ کا سست ہونا میرے خیال میں فون کی تار کا ٹوٹا هوا هونا ہے ـ
اتنی سست رفتار که غصّه دلانے والی سستی ـ
بیس که پچیس منٹ کے بعد وه کام هوا که پاکستان کے باہر کسی اور ملک میں اس کا تصوّر بهی نہیں کیا جاسکتاـ
یعنی فون کی لوڈشیڈنگ ـ
فون میں ٹون آنی بند هو ئي تهی میں نے گهر والوں سے پوچها تو بتایا گیا که یه کوئی نئی بات نہیں ہے ـ
کئی دفعه ایسا ہوا هے اور صرف ہمارے ساتھ هی نہیں کئی لوگوں کے ساتھ بهی هوتا رہتا هےـ
میں نے آپنے بهائی حاجی ننها سے بات کی که فون کا کچھ کرو!ـ
ننهابهائی تلونڈی کی فون ایکسچینج میں گئیےاس وقت تک ایکسچینج تو بند هو چکی تهی مگر چوکیدار نے پیغام پہنچانے کا وعده کیاہےـ امید ہے که آچ ہماری فون کی تار بدل جائے گي ـ
مگر یه فون کی لوڈ شیڈنگ کی طرح کی خرابی ہے کیا؟
اس کا بهی کوئی حل نکلنا چاهئیے ـ
اب میں پاکستان کا مقبول ترین فقره ،،سانوں کی ،،کہـ کرتوره نہیں سکتا که معامله آپنے ساتھ هو رها هے ـ
کی خیال هے جی تہاڈا بیچ اس بات کے؟؟
http://urdu.noosblog.fr/urdu/
پاکستان سے کمنٹ کے لئیے اوپر والے لنک په کریں ـ
میري تحاریر سے اختلاف والے معزز بلاگر کی کمنٹ کا جواب انشاء اللّه فرانس واپس پہنچ کر دوں گا ـ

جمعرات، 12 اکتوبر، 2006

ٹیکسی ڈرائیور

یه پاکستان هے ـ گیاره اکتوبر بروز بده دن کے ایک بجے میں لاهور کے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر پہنچا ـ
ایمیگریشن کسٹم کے معاملات تو ٹهیک هي تهے ـ
مگر لاہور ایئرپورٹ کے ٹیکسی ڈرائیور!ـ هو سکتا هے که آپ میں سے کسي کو ان سے واسطه نه پڑا هو؟
که اگرآپ یه بلاگ پڑه رہے ہیں تو اس کا مطلب هے که آپ کمپیوٹر رکهنے کی اسطاعت والے پاکستانی هیں اور آپ کی آپنی سواری بهی هو گي ـ
لیکن میں آپنی سواری نہیں رکهتا اس لئیے لاہور ائیرپورٹ سے عموماًٹیکسی پرگهر آنا پڑتا هےـ پہلے پرانے ائیرپورٹ سے میں اسطرح کیا کرتا تها که رکشه لے لیا کرتا تها ـ
رکشے پر یادگار چوک تک اور وهاں سے اور یادگار چوک سے سیالکوٹ والي ویگن یاکوئی سواری لے کر گوجرانواله میں چهچهر والی نہر کے پل پر اتر جایاکرتا تها ـ
چهچهروالی نہر سے همارا گاؤں قریب ہي ہے اس نہر کے پل سے کوئی سی بهی عوامی سواری یعنی کهٹارا ویگن یا بس وغیره میں بیٹھ کر تلونڈی آجایاکرتا تها ـ مگر اب والے نئے ائیرپورٹ سے ٹیکسی هی لینی پڑتی هےـ
یه لاہور کے ٹیکسی ڈرائیور بڑے هی چوّل (کمینے)لوگ هیں ـ
عجیب منگتے بهکاری لوگوں والا رویه هے ـ
مجهے معلوم تها که منزل پر پہنچ کر یه ٹیکسی ڈرائیور کرایه کے علاوه کا تقاضا کرنے لگتے هیں ـ بلکه دوران سفر هي اپنی پرانی سواریوں کی سخاوت کا ذکر شروع کردیتے هیں تاکه آپ بهی سخی هونے کا مظاہره کریں ـ
اس لئے اس دفعه میں نے کیا کیا که ان ے پہلے هي وعده لے لیا که بهیک کا تقاضا نہیں هو گا ـ
ٹیکسیوں کے کاؤنٹر والے نے تلونڈی تک کے باره سو روبے مانگے تهے ـ میں نے بغیر کسی اعتراض کے اس کا تقاضا مان لیا مگر آپني شرط بتا دي که میں اس کرایے علاوه مجھ سے انعام کے نام پر بهیک کا تقاضا نہین هونا چاهئیے ـ
مگر میرے ذہن میں تها که میں ڈرائیور کو کرایے کے علاوه دو سو روپےدے دوں گا ـ
مگر منزل پر پہنچ کر یعنی گهر کے سامنے جب میں نے اس کو دوسو روبے دیئے تو جناب ڈرائیور صاحب تو آکڑ گئیے که اتنے تهوڑے ـ عجیب حیرت زده سا منه بنالیا جس پز لکها لگتا تها که صرف دوسو میں نے اس کو کہا که میں نے لاہور ائیرپورٹ پر تم سے اور تمہارے مالکان سے وعده لیا تها که مقرره کرایه سےایک روپیه بهی ذیاده نہیں دوں گا ـ
کیا ایسا هي هوا تها ناں ؟؟
ڈرائیور کا جواب تها که ایساهی هوا تها ـ
تو پهر آگرمیں دوسو روپے دے رها هوں تو کیا یه میري مہربانی نہیں هے کیا ؟
ڈرائیور کہنو لگا که
جی اتنی تهوڑی مہربانی ـ چار سو تو کریں ناں جي ـ
قصّه مختصر میں نے اس کو چار سو هي دے کر جان چهڑوائی تهي ـ
دوران سفر اس ڈرئیور نے آپنا نام محمد عباس بتایا ـ
محمد عباس کا تعلق تها گوجرانواله جناح روڈ سے ـ
محمد عباس مجھ سے پوچهتا هے که کس ملک میں ہوتے هیں ؟
میں نے بتایا که فرانس ـ
تو محمد عباس تو پوچها که کیا فرانس اٹلی کا شہر هے ؟
مجهے آپنے بیوقوف بنائے جانے کا احساس ہوا مگر پهر بهی میں نے محمد عباس کو بتایا که فرانس آپني جگه ایک ملک ہے اور دنیا کے معتبر ملکوں میں سے هے ـ
تو محمد عباس پوچهتا هے که
فرانس میں کرنسي کون سي چلتی هے؟
آپ میں اندر سے تو تپ گیا مگر میں نے تحمّل سے پوچها که یا آپ کو پیرس کا پته هے ؟
محمدعباس کو پیرس کا پته تها ـ
میں نے اس کو بتایا که پیرس فرانس نام کے ایک بڑے ملک کا صرف ایک شہر هے ـ
کیسے کیسے کهوچل لوگوں سے پاکستان بهرا پڑا ہے؟
کیا آپ کو نہیں لگتا که یه بنده مجهے بنا رها تها؟؟
http://urdu.noosblog.fr/urdu/
پاکستان سے کمنٹ کے لئیے اوپر والے لنک په کریں ـ

تاشقند سے

جی هاں یه تاشقند هے ـ
اس وقت میں تاشقند کے انٹرنیشنل ائرپورٹ پر لاہور کي فلائت کا انتظار کر رها هوں ـ
ائرپورٹ کی شاندار عمارت عالی شان ماضی کی نشاندهی کرتي هے مگرٹوٹے ہوئے سیڑهیوں کے کنارے غربت کا اظہار بهی کر رہے هیں ـ
لیکن ہر چیز ٹوٹی هوئی اورپرانی ہونے کے باوجود صاف ستهری اور دهلی هوئی هے ـ
بہت هی پرانے ماڈلوں ٹرک هیں مگر رنگے هوئے هیں ـ
عجیب سے ٹریکٹر کے پیچهے بس کی باڈی کو ٹانگے کی طرح جوتا هوا هے ـ
بہت سے پرانے هوائی جہاز گرؤنڈیڈ کر دئیے گئے ہیں ان جہازوں کو دیکھ مجهے خیال آیا که اگر آج زرداری صاحب کی حکومت هوتی تو انہوں نے یه جہاز بهی پاکستان کے کهاتے میں ڈال دینے تهے ـ
جب یه وسطی ایشاء کے ممالک آزاد هوئے تهے تو ہمارا رویه ان کے ساتھ بڑے بهائی کی طرح تها اور ان کو چهوٹے بهائی سمجهتے تهے ـ
مگر اس وقت بهی یه ممالک هماری نسبت آرگنائز تهے اور آج تو بہت بہتر هیں ـ
اسلئے یة ممالک پاکستان کو بڑا بهائی نہیں سمجهتےـ
باقی باتاں هوں گی جی آپ سے پاکستان پہنچ کر ـ
اللّه سوہنے دے حوالے ـ

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2006

آفغان لوک

ایک اصل النسل افغان کبهی بهی پاکستان کا دوست نہیں هو سکتا ـ
یه اپنی فطرت میں ایک کمینے ڈاکو کے جین لئے هوئے لوگ جب بهی بهوکے مرنے لگتے هیں تو پاکستان میں (یاتقسیم سے پہلے پاکستان والے علاقے) بهکاری بن کر آجاتے هیں ـ
اور هماری شرافت کا ناجائز فائده اٹها کر سیّد بن جاتے هیں ـ
شائد افغان لوگوں کے دیہاتوں میں ان کو بچپن سے هی یه بتایا جاتا هے که جب تم نے پنجاب جانا هے یا کسي پنجابی کو ملنا هے تو خود کو سیّد بتانا هے ـ
اس طرح بیوقوف پنجابی تمہیں کهانے کو بهی دیں گے اور ہندو سماج کے مطابق تم کو برہمن والي عزّت بهی دیں گے ـ
آپ ان سیّد لوگوں کي گهریلو رسمیں دیکهیں یه افغان لوگوں سے ملتي ہوں گي ـ
ان کے اباء کا شجره دیکهیں وه افغانستان کے کسی شہر سے پاکستان امیگرینٹ ہوئے ہوں گے اور آپنی نسل کو رسول اکرم سے ملادیں گے ـ
ذرا ان سے کوئي پوچهے که مکّے اور مدینے میں تو رسول اکرم کی نسل سے کوئي بهی روحانیت کا ٹهیکدار نہیں هے ـ
کیا رسول کي نسل کے سارے لوگ ایران اور افغانستان میں هي آ گئے تهے ؟
یه اسلام کے پرچار کے ٹهیکیدار خانقاہوں کے مالک آپنے آباء کا پیشه دیکهیں که کیا تها بهیک مانگنا اور جب داؤ لگے پنجابی لڑکوں اور لڑکیوں کو اغواء کر کے افغانستان کي غلاموں کي منڈیوں میں بیچنا ؟؟
ہمارے معاشرے میں ذات پات کا ایک سسٹم تها که هم میں برهمن کشتری ویش اور شودر هوا کرتے تهے ـ
یه افغان لوگ جب بهی پاکستان میں ایمگرینٹ هوئے انہوں نے خود کو مسلمانوں کا برہمن (یعنی سیّد) هي بن کر متعارف کروایا هے ـ
اس سے کم پر یه راضی هي نہیں ہوتے ـ
مجهے یه باتیں اس لئے لکهنی پڑیں که ان دنوں یہاں پیرس میں بہت سے افغانی نظر آتے هیں اور انہوں نے کسی طرح برطانیه میں داخل هونا هوتا هے ـ
ایجینٹوں کي تلاش اور داؤ لگنے کے انتظار میں پریشان حال ان افغانیوں سے جب بهی بات کرنے کا اتفاق هوا انہوں نے خود کو سیّد هي کہـ کر متعارف کروایا ـ
اب تو آگرکوئی میرے سامنے خود کو سیّد کہتا هے
تو میرا ہاسا نکل جاتا ہے ـ

میں ان سیّدوں سے کہنا چاہتا هوں که آگر تم واقعی رسول عربی کی نسل سے هو تو آپنے آپنے شجرے اور نسلی ثبوتوں کے ساتھ واپس عرب چلے جاؤ که اب عرب میں بهوک نہیں ہے ان عرب میں تیل نکل آیا هے اور آگر تم نسلی طور پر عربی هو تو عرب کی زمینوں پر تمہارا بهی حق هے ـ
ان زمینوں سے نکلنے والا تیل بهی تمہارا هے ـ
جاؤ اس تیل میں سے آپنا حصّه لو اور امیر ہوجاؤ
مگر
ان افغان لوگوں کا شجره نسب ساده دل پنجابیوں اور سندهیوں کو تو گمراه کر سکتا هے مگر عربوں میں جا کر خود کو عرب ثابت نہیں کر سکتا ـ
دوسری بات
آجکل کرزائی صاحب کا پاکستان کے خلاف بیانات دینا بهی ان کے اصل النسل افغان هونے کا ثبوت ہے ـ
هم نے ان افغان مہاجرین کو اکسپٹ کر کے اپنا معاشرتی ڈهانچه تباه کر لیا هےـ
کلاشنکوف کلچر ڈاکے قبصه گروپ اور ہیروئین همارے معاشرے میں یه افغان لے کر آئے هیں ـ
هم ان کے گند کو سنبهالتے سنبهالتے خود میلے میلے سے ہو گئے هیں اور یه کرزئی صاحب اب پاکستان کو برا کہـ رهے هیں ـ

میں مشرف صاحب کے حکومت پر ناجائز قبضے کو کبهی بهی جائز نہیں کہوں گا ـ
مگر
بین الاقوامی معاملات میں مجهے ان کی بہت سی باتیں اچهی لگنے لگی هیں ـ
آرمنٹیج کي پاکستان کو پتهر کے زمانے میں دکهیلنے والي دهمکی کو بهی مشرف صاحب جس طرح ڈیل کر رہے هیں آگر مشرف صاحب اس میں کامیاب ہو جاتے هیں تو آرمنٹیج صاحب کا ملک پتهر کے زمانے ميں واپس تو نہیں جائے گا مگر سپر پاور بهی نہیں رہے گا ـ

http://urdu.noosblog.fr/
اگر میرا یه بلاگ سپاٹ والا بلاگ آپ کے نیٹ ورک په نہیں گهل رها تواُپر دئیے لنک سے کهول لیں ـ

اتوار، 1 اکتوبر، 2006

نقارخانے میں توتی

نقارخانے میں طوطی والا محاوره تو سب نے سنا هے ـ
مگر یه طوطی جو ہے یه طوطے کی موّنث طوطی نہیں ہے بلکه چهوٹا باجا هے
جیسے باجے کو پنجابی میں توتا بهی کہتے ہيں ـ
بلاک بهي میڈیا کے نقارخانے می طوطی والی بات ہے ـ
میڈیا کے نقار خانے میں آرکسٹرا کے سامنے تیلی لےکر کهڑا کردارآج کا امریکه ہے ـ
اور اس نقار خانے میں وہی دهن بجتی ہے جو امریکه کی بنائی ہوئی ہو ـ
اور اس دهن پر سب سے ذیاده سر دهنتے میں نے دیکها ہے انگریزی جاننے والے پاکستانیوں کو ـ
جو بنده انگریزی سیکھ جاتا هے وه خود کو عقلمند سمجهنے لگتا هے ـ
اور اس کی معلومات کا ماخذ هوتی ہیں انگریزي کی دهنیں ـ
انگریزی کے میڈیا کی ایک مقبول دهن ہےـ
بے ہنر اور پران پسند(دقیانوس) مسلمان ـ
اس بات کو ثابت کرنے کے لئے اعدادشمار اور ڈاکومنٹری فلمیں اور نیوز اور ارٹیکل اور بلاک اور پته نہیں کیا کیا لکها جا رها هے ـ اور مزے کی بات ہے که انگریزی جاننے والا طبقه جو کےعموماً آپنی اوریجنل سوچ نہیں رکهتاانگریزی کے اس پروپیگینڈے کو آپنی آپنی زبانوں میں ترجمه کر کے ساده دل مسلمانوں کو بهی گمراه کر رها هے ـ
میں آج جو بات کرنا چاهتا هوں یه ہے که نیویارک کے گیاره ستمبر دوہزار والے واقعے کے بعد میڈیا لوگوں کو کیا گمراہی دے رها هے اور اس کا مقصد کیا هے اور امریکه اس مقصد میں کس حد تک کامیاب رها هے ـ

یه ایک حقیقت ہے که گیاره ستمبر والا کام القائیده کا هي کام هے ـ
مگر
مغربی میڈیا لوگوں کو بتا رها هے که نہیں یه کسي اور کی سازش هے بے هنر اور پران پسند مسلمان اتنی تکنیکی صلاحیت رکھ هی نہیں سکتے ـ
مگر یه نہیں بتائے گا که پهر کس نے کیا ہے؟
دیکهیں لڑائی بهی ایک تکنیک هے ـ جس میں دشمن کے نقصان کو ذیاده بتانا اور اور دشمن کو بیوقوف ثابت کرنا بهی ضروری هوتا هے ـ
بہت سے لوگ جو که اندر سے آپ کے خلاف هیں مگر اپ کی طاقت سے خائف آپ پر حمله آور نہیں هوتے یا آپ کی طاقت سے خائف هونے کی وجه سے آپ پر حمله آور کسی اور گروه سے بهی اتحاد نهیں کرتے
اگر ان لوگوں کو کسی طرح اس بات پر لے آیا جائے که آپ ایک بیوقوف سے آدمی هیں اور آپ کی طاقت اتنی بهی نہیں که اس کا توڑ نه کیا جاسکے تو کیا خیال هے که اندر سے آپ کے خلاف یه لوگ آپ کے دشمنوں کے ساتھ شامل نہیں هوں گے؟؟
گیاره ستمبر والے واقعے سے امریکه مخالف لوگوں میں یه تاثر ابهرا تها که امریکه اتنا بهی طاقت ور نہیں که اس کی طاقت کا کوئی توڑ هی نه هو ـ
اس تاثر کی طاقت نے بہت سو جوانوں کو امریکه مخالف لوگوں کے ساتھ شامل هونے کی تحریک دی تهی
اور امریکه مخالف نوجوانوں میں سے اس تاثر کو ختم کرنے کے لئےاس بات کا پروپیگینڈاشروع کیا گیا که پہاڑوں میں رهنے والے بے گهر بے هنر اور جنگلی سے لوگ اتنا بڑا پروجیکٹ بنا هی نہیں سکتےـ
سی این این فوکس نیوز اور کئي طرح کے میڈیا کے جغادری نام اس بات کو ثابت کرنے کو لئے ایڑهی جوٹی کا زور لگارہے هیں اوراس باتکو ثابت کرنے میں کسی حد تک کامیاب بهی هیں ـ
ایک هوتا هے جهوٹ اور پهر سفید جهوٹ اور پهر اعداد شمار
جهوٹ کی اعلی ترین قسم اعدادشمار سے یه ثابت کیا جارها ہے که یه کام القائده کا نہیں ہے ـ
تو
پهر کس کا هے؟؟
آگر القائده اتنی هي بے ہنر اور بے وّقت هے
تو پهر اس پر حمله کرنے کا جواز کیا هے ـ
آگر القائده کے لوگ چهپتے پهر رهے هیں تو دینا کے جدید ترین ہتهیاروں سے لیس امریکی فوجیوں کو قتل کون کر رها ہے ـ
آگر مسلمان اتنے هي بے هنر کم عقل اور گنوار هیں تو دنیا کی مہذب ترین قوم امریکی آپنی پوری طاقت سے حمله کر کے بهی پچهلے پانچ سالوں میں ان کو کچل کیوں نہیں سکے؟؟
اور دوسری طرف اس پروپوگینڈے کا توڑ کرنے والے لوگوں کے پاس میڈیاکی طاقت تو نہیں هےمگران توڑ کرنےکا آپناهي طریقه هےـ
ان لوگوں نےافغانستان اور عراق میں آپنی جانیں دے کر پچهلے پانچ سالوں میں یه ثابت کر دیا هے که امریکه اتنا بهی طاقتور نہیں هے که آپنی غیرت کا سودا کر لیا جائےـ

ذرا نم هو تو ی مٹی بڑی زرخیز هے ساقی

عروس سلطنت کے چہرے په جس سے رونق آتی هے
شہیدوں کے جمال افزاء لہو کا غازه هوتا هے

Popular Posts