اتوار، 13 نومبر، 2005

گر دى گل

ماں دهى نوں ٹردياں مت ديندى
ميرى گل دا ذرا خيال ركهيں
وهڑا سوهرياں دا تلكن بازياں نى
توں قدم سنبهال سنبهال ركهيں
سارے جگ نال ناں بهاويں بنے تيرى
پر توں صلح خصم دے نال ركهيں

سوموار، 7 نومبر، 2005

فرانس كے هنگامے

علاقه هى بدنام تها ـ كليشىسوبه چٹے دن ادمى كو لوٹ ليا جاتاتها ـ پوليس كى گاڑيوں پر پتهراؤ عام سى بات تهى ـ پاكستانى لوگ ايكـ دوسرے كو مشوره ديا كرتے تهے كه كليشىسوبه كے علاقه ميں جانے سے اجتناب كروـ
فرانس كے اس علاقے ميں پچهلے دنوں پوليس سے فرار كى كوشش ميں اس علاقے كے دو لڑكے بجلى لگنے سے فوت هو گئے ـ
يه بات هنگاموں كا بهانه بن گئى ـ

ہفتہ، 5 نومبر، 2005

عيد كا چاند

عيد كا چاند
اج ميں نے عيد كا چاند ديكها ـ
اج چار نومبر دوهزار پانچ عيسوى ـ (٤ ـ ١١ ـ ٢٠٠٥) ـ
كے شام پانچ بج كر پچاس منٹ پر ميں فرانس كے شهر شارتر سے گاڑى پر نكل رها تها ـ شارتر كے بڑے چرچ كے ميناركے اوپر پەلے دن كا ەلال نظر آ رها تها ـ اور واضع طور پر يه پەلے دن كا چاند تها ـ
يعنى كه عيد الفطر اج پانچ نومبر كو هے ـ اور هم لوگ دو دن پهلے منا چكے هيں ـ
اس دفعه پچهلے مەينے كا اخرى دنوں كا چاند بهى هر روز نظر اتا رها هے ـ اور اماوس كى ٹهيكـ تين راتوں كے بعد چار نومبر كو چاند نظر آيا هے ـ مگر هم نے اماوس كى ايكـ رات كے بعد عيد منا لى ـ
ميرے ساتهـ وركـ نام كا ايكـ سكهـ كام كرتا هے ـجب ميں نے اسے بتايا كه كل عيد هے اس نے بهى كەا كه اج اماوس كى پەلى رات هے كل تو عيد هو ەى نهيں سكتى ـ
رات جب هم نے چاند ديكها اس وقت بهى وركـ ساتهـ تها ـ وركـ نے تكرار كے ساتهـ كەا كهـ
پاء جى خاور ميں نهيں كيندا سى كه ماس دى تناں راتاں توں پهلاں چن نكل اى نهيں سكدا ـ
ديكهـ ليں ايكـ سكهـ كو چاند كے نكلنے كا پته ەے اور مسلمانوں كے احباب اختيار كو پته نهيں هے ـ
بحر حال دوسروں كا تو پته نهيں ميں تو اج اكيلا هى دو ركعت نماز پڑهوں گا اور رمضان كے دو روزوں كا كفاره بهى ادا كروں گا ـ
ميں نے يه سب لكهـ ديا هے كه سند هے ـ
اللّه جى هم سب كو معاف فرمائيں ـ آمين!ـ

جمعرات، 3 نومبر، 2005

اكيلے كى عيد

عيد مباركـ
اج همارى عيد تهى يهاں فرانس ميں ـ اكتوبر كى چار كو همارا پەلا روزه تها ـ
سب مسلمانوں كو عيد مباركـ ـ
ميرے خيال ميں تو چاند نظر نهيں ايا هو گا مگر كيونكه هم نے تيس روزے پورے كر لئيے هيں اس لئيے اج عيد كى نماز پڑه لى گئى ـ
باقى ميرى عيد تو كئى سالوں سے اداس سى گذرتى هے اج بهي گهر كے پاس والى افريقى لوگوں كى مسجد ميں نماز پڑهى ـ
عيد ملنے والا ايكـ بهى پاكستانى نهيں تها ـ
بحر حال اب گاڑى لے كر نكلتا هوں پەلے تو گاڑى كو دهونا هے ـ
ٹائروں كى هوا وغيره پورى كرنى هے ـ
اس كے بعد پيرس سنٹر(شانزے ليزے يا اوپرا كے پاس) ميں گهومنے نكلوں گا شائد كوئى دلچسپ شخصيت مل جائے ـ
اللّه اپ سب لوگوں كو خوشياں ديكهاے

بدھ، 2 نومبر، 2005

دفاعى بجٹ يا جرنيلوں كى ليگزرى

بى بى سى كے مطابق
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے دفاعی بجٹ میں کمی نہیں کر سکتے۔ راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں جنرل نے کہا کہ دفاعی بجٹ اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان کو ایک ہی تناظر میں دیکھنا ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں کمی کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں سوچا ہے کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنا ملک کی سلامتی کی صورتحال کے لیے مناسب نہیں ہو گا۔

ـ
جەاں تكـ ميں نے ان صاحب كو سنا اور پڑها ەے ـ جب يه صاحب كەتے هيں دفاع تو اس كے معنى هوتے هيں فوجى جرنيل اور ان كى عياشى(ليگزرى)ـ
اج كے بعد اگر اپ جنرلصاحب كے لفظ دفاع كو جرنيل عياشى كر كے پڑهيں تو آپ كو بەت سے حقائق كا ادراكـ حاصل هو گا ـ
هم جنرل صاحب سے صرف يه درخواست هى كر سكتے هيں ـ
جنرل صاحب کو جرنيل عياشى بجٹ میں فوری طور پر کمی کرنی چاہئے کیوں کہ ابھی ملک کو کسی جارحیت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر خطرہ ہے تو وہ صرف ان لوگوں کی زندگی کو ہے جو زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں، جن کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جنرل صاحب کو چاہئے کہ وہ جرنيل عياشى بجٹ کم سےکم یا ختم کرکے زلزلہ متاثرین کے لئے خیمہ بستیاں قائم کرنے کے بجائے ان کے لئے نئے شہر بسائے تاکہ لوگ مستقل طور پر محفوظ ہوجائیں۔جب ہر عام پاكستانى زلزلہ زدگان کے لئے مالی امداد کرسکتا ہے تو فوج اپنے بجٹ میں کیوں کمی نہیں کرسکتی؟
دفاعی بجٹ کا کیا قبرستانوں کا دفاع کرنے کو مسٹر مشرف کو؟

مختاراں مائى

بى بى سى كے مطابق امريكه ميں مختاراں مائى كا بيان
میں خواتین پر جبر اور انہیں زو آوری سے تابع رکھنے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوں ـ

جس عورت كے ساتهـ مختاراں مائى كے بهائى نے سيكس كيا تها اور جس كى سزا كے طور پر پنچائيت نے مختاراں مائي كے خلاف فيصله ديا تها كيا وه عورت ايكـ عورت نهيں هے ـ
كيا وه كسى كى بهن يا بيٹى نهيں هے ؟؟؟؟ـ



امریکی دورے کے دوران انہیں سابق امریکی صدر بل کلنٹن’وومن آف دی ائیر‘ کا ایوارڈ دیں گے

يار كلنٹن صاحب بهى كيا مرد هے؟ كلنٹن صاحب كى اس سال كى عورت !!يه صاحب سالانه كتنى عورتيں چيكـ كرتے هيں ـ

منگل، 1 نومبر، 2005

لندن

انگريزوں كا دعوي هے كه قديم رومى دور ميں بهى لندن ايكـ سر گرم مركز تها ـ يه چهوٹا سا گاؤں دريائے تهيمز كے كنارے اس طرح اباد كيا گيا كه ايكـ طرف سے دريا اس كى حفاظت كرتا تها ـ
تاريخ بتاتى هے كه جن دنوں عرب مسلمانوں كى تهذيب هسپانيه يعنى اسپين ميں عظمت كى بلنديوں كو چهو رهى تهى ـ ان دنوں لندن ايكـ چهوٹے سے گاؤں كى حثيت ركهتا تها ـ جهاں كى دلدلى اور بنجر زمين پر چند جهونپڑى نما مكانات اور كچى سڑكيں تهيں اور لوگ بهى ذياده تر وحشى اور غاروں كے باسى تهے ـ
چناچه جب انگريزوں كى فوج رچرڈ شير دل كى قيادت ميں صلاح الدين ايوبى سے صليبى جنگوں ميں مقابله كرنے گئى تو اس كىاكثريت كهالوں ميں ملبوس تهى اور مسلمان فوج كے لباس اور هتهيار ديكهـ كررچرڈ كے فوجى دنگ ره گئے ـ
١٢٥٨ء كے سقوط بغدادكے عظيم الميے كے بعد جب تەذيب كا سورج مغررب ميں طلوع هوا تو يورپى اقوام نے اپنے شهر منظم كرنے شروع كئيے ـ يورپ ميں شهر بسانے كے لئيے پهلے كوئى يادگارمثلا فوارا يا گهنٹا گهر قسم كى چيز تعمير كر كے اس كے گرد ايكـ بهت بڑا گول چوراها بنايا جاتا تهاجس سے كچهـ فاصلے پر اردگرد گولائى ميں مكانات بننے شروع هو جاتے تهے اور يوں شەر وجود ميں آجاتا تها ـاس كے برعكس مشرق ميں پەلے ايكـ سيدها طويل بلكه مستطيل بازار تعمير كيا جاتا هے جس كے اردگرد مكانات تعمير كئے جاتے هيں ـ
انگريزوں نے برصغير ميں جو شەر اباد كئےان ميں اپنا انداز اپنايا چناچه لائل پور موجوده فيصل اباداور گوجرانواله ميں يەى اصول برتا گياـ
اصل لندن بهى ايكـ فوارے كے گرد آباد هے جس كا نام پكڈلى سركس هےـ
اس فوارے پكڈلى سركس كے چاروں طرف چهـ بازار نكلتے هيں جو اده اده ميل لمبے هيں اصل شەر لندن كى بس يهى حدود هيں يعنى ايكـ ميل لمبا اور ايكـ ميل چوڑا ـ
انگريزوں كى كالونياں هونے كى وجه سے جب دور دور كى دولت سمٹ كر لندن پەنچى تو چند ەزار كى آبادى سے يه شەر لاكهوں كا شەر بن گيا اور لندن كے گرد مضافاتى بستياں بنائى گئيں اور انهيں مكمل شەروں كے اختيارات دئيے گئے چناچه لندن شەر سے كەيں بڑےباره شەر لندن ك گرد ١٩٤٥ ميں آباد كئيے گئے ـ
ان شەروں كو ەوم كاؤنٹى كا نام ديا گيا ـ برطانيه بهر ميں ايسى كاؤنٹيوں كى تعداد ٣٢ هے جنميں سے باره لندن ميں ەيں ـ
لندن شهر اور اس كى كاونٹيوں كا موجوده كل رقبعه ٦١٠ مربع ميل هے جسے عظيم تر لندن كەا جاتا ەے ـ
ايكـ محتاط اندازے كے مطابق روزانه گياره باره لاكهـ افراد لندن ميں داخل هوتے گهومتے پهرتے اور شام كے واپس جاتے هيں اور ٹرانسپورٹ كے بەترين نظام سے فائده اٹهاتے هيں جو ەائى ويز سے لے كر ريل كے جديد نظام تكـ پهيلا هوا هے ـ
لندن كےهيتهرو هوائى اڈے پرقريبا ساڑے چار كروڑمسافر سالانه سفر كررتے هيں دنيا كى سب سے پەلى زير زمين ريل گاڑى١٨٦٣ء ميں لندن ميں چلائى گئى ـ دوسرى جنگ عظيم ميں زير زمين ريل گاڑى كے نظام كو كافى نقصان پەنچا ـ
اب اس كى پٹريوں كى كل لمبائى٢٥٤ميل هے ـلندن كا كوئى مقام ايسا نەيں جو اس كى دسترس سے باەر هو ـ

.(محمد يونس بلوچ جرمنى )

Popular Posts