اتوار، 5 جولائی، 2015

اکیلا بھیڑیا


شیر بڑا طاقتور ہوتا ہے، جنگل کے بادشاھ کو  پیٹ کی مجبوریاں  سرکس میں  مسخروں کی مسخریاں بھی سہنی پڑتی ہیں ۔
جرآت اور بہادری  کی مثال شیر ، سرکس میں تماشا کرتا ہے۔
لیکن
کبھی کسی نے بھیڑئے کو بھی سرکس میں تماشا کرتے دیکھا ہے ؟
نہیں ! بھیڑیا انا اور خود داری سے مر جاتا ہے ،غلامی نہیں کرتا۔
جاپانی کاروباری لوگ خود کو بھیڑئے کی مثال دیتے ہیں ۔
بھیڑیا گروہ میں کام کرتا ہے ، بھیڑئے کے شکار کرنے میں ڈسپلن ، اور جارحیت ہوتی ہے ۔ طاقتور شکار  کا سامنا ذہانت سے کرتا ہے ۔
خطرے میں گھرے ساتھی کو بچانے کے لئے جان تک کی بازی لگا دیتا ہے ۔
لیکن بھیڑئے کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر کئی دن تک شکار نہ ملے ، بھوک سے برا حال ہو تو بھیڑئے ایک دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں ، نقاہت سے جس  ساتھی کو اونگ آ جائے سب اس پر حملہ کر کے اس کو کھا جاتے ہیں  ۔
انسانی معاشرہ  اج بھی  قبل از تاریخ کے انسان کی طرح شکار کر کے ہی کھاتا ہے ۔
پہلے زمانے میں جنگل میں جانور مار کر کھاتا تھا
آج  ! ابادیوں میں کرنسی  کا شکار کرتا ہے
پرانے زمانے میں جو  فرد جسمانی طور پر جتنا طاقتور  جبلت میں ظالم ہوتا تھا
وہ اتنا کامیاب شکاری اور گروھ کا سردار ہوتا تھا
اج کے دور میں بھی کرنسی کے شکاری لوگوں میں جو جتنا  جسمانی اور ذہنی طور ہر طاقور ہے وہی زیادہ شکار کرتا ہے  ۔
اس کے بعد  انسانوں میں کرنسی کے شکار کرنے میں مختلف جانوروں کی عادات پائی جاتی ہیں ۔
کوئی شیر کی طرح  ،شکار  کیا کھایا ور سستی سے پڑے رہے ، کوئی گیڈر کی طرح جہاں داء لگا مار کے کھا لیا رونہ بزدلوں کی طرح چھپتے پھرے ،۔ کوئی لومڑی کی طرح چھوٹی موٹی چیز مل گئی تو خود سے کر لیا ورنہ کسی بڑے شکاری کا مارا ہوا بچا کھچا  کھا لیا۔
کچھ لوگ گائے بھینسیں ہوتی ہیں ۔
کمیشن، ری سائیکل کا سود اور چندے کی گھاس کھا کر خود کو شیر سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا !۔

کمینہ ترین جانور ہوتا ہے لکڑ بھگڑ  ، بہت سے لوگوں کا شکار کا طریقہ اس جانور سے بھی ملتا ہے ۔

بھیڑیا ،جس کے شکار کے طریقے کو جاپانی  اپناتے ہیں ۔
دو چار افراد یا کہ دو چار کمپنیاں مل کر کام کرتی ہیں ۔
ان کمپنیوں اور افراد میں ایک کوالٹی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ لوگ اپنے گروھ کے لوگوں کے ساتھ انتہائی مخلص ہوتے ہیں ۔
پیٹھ پیچے وار نہیں کرتے  دوسرے ساتھیوں کا فائدہ سوچتے ہیں ۔
پیٹھ پیچھے دوستوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔
لیکن جہاں کسی کمپنی  کو سستی پڑی  وہیں بھیڑئے کی جبلت کہ دوسرے کمپنیاں اس کو اپنے میں مدغم کر لیتی ہیں ۔
اکیلے کاروباری کو  جاپانی اکیلا بھیڑیا کہتے ہیں ۔
اوکامی ایّتتو
اوکامی ایتتو  ، اکیلا کام پر نکلتا ہے  ۔ خود دار اور انا پرست بھی ہو سکتا ہے ۔
جاپانی کاروبای لوگ ایسے بندے  کی بہت رسپکٹ کرتے ہیں ، کوشش کرتے ہیں کہ ایسے بندے کا راستہ نہ کاٹیں ، ایسے بندے کو خود سے طاقتور سا محسوس کرتے ہیں ۔
بھیڑیوں کے ہر گروہ کی امید یہ ہوتی ہے کہ یہ بندہ ہمارے ساتھ مل جائے یا کہ ہمارے ساتھ تعاون کرئے  ۔
یہاں جاپان میں بہت کم ہی سہی
لیکن کچھ پاکستانیوں نے بھی  خود کو “اوکامی اتتو” کی طرح خود کو منوایا ہوا ہے  ۔

ہفتہ، 4 جولائی، 2015

کارٹون سیریز دورائے مون

ٹی وی پر چلنے والی کارٹون سیریز جسکو
پاکستان میں جس کو دورے مون کہتے ہیں
یہ لفظ اصل میں دورائے مون ہے ۔
دورائے مون ایک بلی ہے
روبوٹ بلی جو کہ ٹام مشین پر سفر کرکے مستقبل بعید  سے اس زمانے میں آئی ہوئی ہے ۔
اس کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے
کہ اس بلی کو “ دورائی یاکی “ نامی مٹھائی بہت پسند ہے ۔
یہ نام دورائے مون دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا ہے
دورا اور مون ۔
لفظ دورا  دورائی یاکی نامی مٹھائی کو پسند کرنے کی وجہ سے
اور مون لفظ کے لئے پس منظر میں ایک کہانی ہے
کہ پرانے زمانے میں ایک بہت بہادر اور جی دار چور گزرا ہے جس کا نام تھا
ایشی کاوا گوئے مون
ایشی کاوا گوئے مون کو لوہے کے ٹب میں ابال کر مار دیا گیا تھا
یعنی کہ اس کو پانی میں ابال کر مارنے کی سزا ہوئی تھی ۔
دورائے مون کے نام کا دوسرا حصہ مون اس گوئے مون سے لیا گیا ہے
جیسا کہ جاپان میں بہت سی چیزوں میں دو ناموں کو جب جوڑ کر پڑہتے ہیں تو دونوں ناموں کا آدھا حصہ سائلینٹ کر جاتے ہیں ۔
جاپانی میں آوارہ کتے یا بلی کو  نورا اینو ( آوارہ کتا ) یا کہ نورا نیکو( آوارہ بلی ) بھی کہتے ہیں ۔
یا کہ کتا یا بلی لگائے بغیر لورا بھی کہہ دیا جاتا ہے ۔
اس لفظ لورا کے وزن پر لفظ دورا  بنا
اور گوئے مون کا مون لگا کر اس کو دورا مون  کا نام دیا گیا ۔
دورائے مون نامی  کارٹون سیزیز
پہلے پہل کارٹون کی شکل میں شائع ہوئی ، انیس سو انہتر کے دسمبر میں   پہلی بار چھ میگزین میں شائع ہوئی ۔
اس کارٹون سیزیز کے خالق کا نام ہے
فوجیکو فوجی او
اس سیریز کی اریجنل سٹوریز ایک ہزار تین سو پنتالیس ہیں ۔
اس  سیزیز کی اصلی میگزین  جاپان کے تویاما کین کی تاکا اوکا سنٹرل لائیبریری میں رکھے ہوئے ہیں ۔
تاکا اوکا جو کہ اس کارٹون سیریز کے خالق کی جائے پیدائش ہے ۔

جمعرات، 18 جون، 2015

وہ اللہ کو رب مانتے تھے


بادبانوں والے اس بحری جہاز پر ، مولوی وہ صرف دو ہی تھے ۔
مہینوں کا سفر تھا ،  زیارت کے لئے حجاز کی طرف سفر میں شامل سب لوگ ہی مولوی صاحبان کی عزت کرتے تھے ۔
سمندر میں ، دور ایک سرمئی سی لکیر دیکھ کر مولوی صاحب نے اشارہ کر کے جہازی سے پوچھا 
وہاں اس جزیرے کا کیا نام ہے  ۔
اس جزیرے کو بابا کا جزیرہ کہتے ہیں ۔
جہازی نے بتایا کہ اس جزیرے میں کوئی ابادی نہیں ہے ،۔
بس دو بابے رہتے ہیں ۔
نہ کسی سے کچھ مانگتے نہ کسی پر انحصار کرتے ہیں  ،مچھیرے جب ان کے جزیرے پر اترتے ہیں تو  یہ بابے مچھیروں کی بھی خدمت کرتے ہیں ۔ لیکن کسی سے لیتے کچھ نہیں ۔
بس اپنی کاشت کاری کرتے ہیں ،اور مچھلیاں پکڑ کر بھوک مٹاتے ہیں   ۔
اس جزیرے پر پہنچنے والوں کو کچھ نہ کچھ دے کر  خوش ہوتے ہیں ۔
اپ کو معلوم ہی ہے مولوی صاحب ، غریب مچھیرے دو مٹھ چاول یا تھوڑے سے جو کے دانوں سے خوش ہو جاتے ہیں ۔
مولی صاحب نے جہاز کے کپتان سے درخواست کی کہ ہم نے ان بابوں کو ملنا ہے
جہاز کو اس جزیرے کی طرف موڑو ، ہم ان بابوں کو دین کی باتیں بتانی چاہتے ہیں  ۔
جہاز جزیرے کی طرف موڑ لیا گیا ، سب زیارتی لوگ بھی  خوش تھے کہ چلو چند دن خشکی پر گزار لیں گے ۔
جہاز کے ساحل کر لگتے ہی بابے ریت پر آن کھڑے ہوئے ، انہون نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ
اوپر والے نے ان کے پاس مہمان بھیجے ہیں ۔
افریقہ کے ایک بڑے علاقے میں بولی جانے والی بولی میں وہ بابے بات کر رہے تھے ۔
جب انہوں نے اوپر والے کا کہا تو مولوی نے پوچھا کہ
کیا تم اوپر والے کو جانتے ہو ؟
ہاں ! ہم اس کو اللہ کہہ کر پکارتے ہیں ۔
اللہ جو سارے جہانوں کا مالک ہے ۔
وہ ہم سے بہت پیار کرتا ہے ،اتنا پیار کہ ہم اس کے پیار سے دی گئی نعمتوں کو برتتے ہیں ۔ اور اس پیار میں مگن رہتے ہیں ۔
اللہ کے پیار  میں بڑی لذت اور سرور ہے ۔
اسی میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ۔
مولوی نے پوچھا کیا تم اس کو پکارنے کا صحیح طریقہ جانتے ہو ۔
سادہ دل بابوں نے انکار میں سر ہلا دئے اور پوچھنے لگے کہ وہ کیا ہوتا ہے ۔
مولویوں نے ان کو بتایا کہ عبادت کے لئے  نماز  اور دیگر عبادات ہوتی ہیں  ان کو سیکھنا پڑے گا ۔
بابے بڑے خوش ہوئے  کہ اللہ کی عبادت کا ہمیں بھی سکھا دو ۔
مولویوں سارا دن لگا کر بمشکل ان کو کلمہ اول سکھایا۔
بوڑہی عمر کے طوطے کی طرح رٹا لگانے پر بھی یاد مشکل تھا
بابے بار بار بھول جاتے تھے
لیکن بڑی ہی خلوص نیت سے سیکھتے رہے ۔
نماز کے متعلق جب سبق شروع ہوا تو  سورہ الحمد پر ہی پورا دن گزر گیا ۔
پانچ دن کے قیام میں جو ہو سکا مولوی حضرات نے ان کو سکھایا
بابے  بڑے خوش تھے کہ اب وہ اللہ کی خوش نودی کے لئے زیادہ بہتر عبادت کر سکیں گے
بڑے شوق سے سارا سار دن رٹے لگا رہے تھے
کبھی کہیں اٹک جاتے تو مولوی ان کو یاد کروا دیتے
 پانچویں دن صبح سویرے فجر کی نماز کے بعد جہاز نے لنگر اٹھائے اور سفر پر روانہ ہوا ۔
بابے بڑے شوق سے الوداع کرنے کے لئے ساحل کی ریت پر دیر تک ہاتھ ہلاتے رہے ۔
جہاز کوئی دو میل گیا ہو گا کہ  جہازیوں کو پیچھے سے کوئی پکارنے کی آوازیں آنے لگیں  ۔
سپیدہ سحر میں دور سمندر کے پانی کے چھینٹوں کی دھول سی اڑتی نظر آئی ایسا لگ رہا تھا کوئی چیز جہاز کی طرٖف دوڑتی چلی آ رہی ہے  ۔
جہاز کے بادبان کھینچ کر انتظار کیا جانے لگا کہ لمحوں میں وہ نظر انے لگے
وہ دونوں بابے پانی پر دوڑتے چلے آ رہے تھے ۔
ان کی سانس پھولی ہوئی تھی ۔
مولوی ان کو دیکھنے کے لئے جہاز کی دیوار پر جھک آئے ۔
جہاز کے پاس پہنچ کران بابوں نے  پھولی ہوئی سانسوں سے کہا
بوڑہی عمر میں سبق یاد نہیں آرہا تھا 
سورة الحمد کی ترتیب ایک دفعہ پھر یاد کروا دیں ۔
مہربانی ہو گی!!!۔
مولوی یہ دیکھ کر کہنے لگا
اپ لوگ جس طرح عبادت کیا کرتے تھے اسی طرح کرتے رہو
اور ہمارے لئے بھی دعا کرنا کہ اللہ ہمیں بھی اپ جیسی عبادت نصیب فرمائے ۔

بدھ، 17 جون، 2015

زرداری ! قدم بڑھاؤ اور تم جانو


زرداری بڑا کمیشن خور ہے ، زرداری بڑا کرپٹ بندہ ہے ، زرداری کے گھوڑے مربے کھاتے ہیں ۔
کھائے خصماں دا سر !!!۔
مجھے زرداری کی اخلاقیات پر بڑا اختلاف ہے
لیکن مجھے کیا معلوم کی زرداری کی اخلاقیات ہیں بھی کہ نہیں ۔
مجھے تو جو اخباروں نے ، میڈیا نے بتایا میں تو وہی جانتا ہوں
فوج  کے جنریلوں کو للکار کر  زرداری نے جو کام کیا ہے
یہ شاباش ہے قابل ہے
میں نے جو دیکھا ہے ، کہ فوج کے جرنیلوں کے فعلوں پر بھی بات کرنے کا جو للکارا زرداری نے مارا ہے ۔
یہ ہوتا ہے اصلی سیاستدان !!!۔
پاکستان جہاں سیاستدان جی ایچ کیو کے گملوں میں پنیری لگتے ہیں ۔
زرداری ایک " بائی چانس " اور خودرو بوٹی کی طرح اگا ہوا سیاستدان ہے ،۔
جس کی جڑیں لگتا ہے کہ زمین میں خاصی گہری ہیں ۔
کہیں بھی کسی بھی زندہ معاشرے میں
کسی بھی ترقی کرنے والے ملک میں سیاستدان
فوج پر قدغن لگاتے ہیں ۔

زرداری کی سوچ کو اہل نظر بہت پہلے پہچان گئے تھے
جب اس نے فوج کے لگائے ہوئے اور فوج کے ہی چرکے لگے شریفین کو اس بات پر منا لیا تھا کہ " واری واری " حمومت کرتے ہیں ۔
یہ واری واری فوج کے اقتدار میں انے سے روکنے کی سازش تھی
یہ سازش جاری ہے
اگر
زرداری کی یہ سازش کامیاب ہو گئی تو ؟
ملک پر بڑی مہربانی ہو گی
سیاست کا گند ، عوام خود ہی ٹھیک کر لیں گے ۔

زرداری صاحب کھچ کے رکھو ،۔
زرداری صاحب قدم بڑھاؤ
کم از کم
میں تو اپ کے ساتھ نہیں ہوں  ۔

سوموار، 15 جون، 2015

بقا کی جبلت


جس طرح جانوروں میں اپنی بقا کی جبلت پائی جاتی ہے اسی طرح آدمیوں میں بھی پائی جاتی ہے
اور آدمیوں میں بھی
سب سے زیادہ مضبوط جبلت مراثیوں کی ہے ۔
یہ واحد لوگ ہیں جو کسی بھی قسم کے حالات میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،
پبلک کے جذبات کو کیش کروانے کا فن ان کو آتا ہے ۔
ہند میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی انہون نے ہندو موسیقی کو مسلمان کر کے اپنا اپ قائم رکھا اسیطرح
آج کے پاکستان میں یہ لوگ سید بن چکے ہیں ۔
اور جس چیز کی قوم میں ڈیمانڈ ہے ،اسی کی سپلائی کر رہے ہیں ۔
جب گانوں کی دیمانڈ ہے ،گانے جب نعتوں کی ڈیمانڈ ہو گی نعتیں ۔

ایک بے تکلف دوست تھا
کہا کرتا تھا
خاور یار ، تم ناں چاہے فرانس کے بہترین ڈیزائینروں کے ڈیزائین کئے ہو سوٹ پہن لو
رب نے تمہیں پرسنیلٹی بھی انتہا کی دی ہوئی ہے ۔
ساری دنیا دھوکا کھا سکتی ہے
لیکن
جب بھی تم کسی گدھے کے پاس سے گزرو کے ، اس گدھے کی ڈر سے پیٹھ جھک جائے کہ کہیں کونی مار کر پسلیاں ناں سینک دے  ۔
کیونکہ
کسی اور کو پتہ چلے ناں چلے گدھے کو پتہ چل جائے گا
کہ سوٹ کے اندر ایک  کمہار ہے ۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ
ہند کے سبھی قبائل میں سے سب سے بڑھ کر  خوش ذوق ، زیرک ، اہل علم اور نفیس ترین لوگ جو ہیں وہ مراثی ہیں ۔
اس لئے کسی بھی قبیلے کے فرد کا قبیلہ بدلنے پر بھانڈا پھوٹ سکتا ہے
کہ
سوٹ کے اندر کمہار ہی ہو گا
لیکن
جب ایک مراثی کوئی بہروپ بھرے کا تو؟
وہ ایک بہترین بھروپ ہو گا
چاہے گانے والے کا ہو یا قوالی کا
چاہے مرثیہ گو کا ہو یا پاپ گانے والے کا
یا فیر اقوال بزرگاں سنا سنا کر مسلمانوں کا برہمن بننے کا
مراثی ایک استاد قبیلہ ہے ، میری یہ مجال کہ میں ان کی انسلٹ کا سوچوں
میں تو صرف ایک بات کا ذکر کر رہا ہوں کہ
جانوروں کی بقا کی جبلت کی ایک بہترین مثال کیا ہو سکتی ہے  ۔

جمعرات، 11 جون، 2015

چھاڈو لوگ


یہ ایک لسٹ بنائی ہے ، ان باتوں کی جو کہ بڑے بڑے “چھاڈو” لوگ چھوڑتے رہتے ہیں ۔
ایسے کردار اپ کے اردگرد بہت ہوں گے جو کہ اس لسٹمیں موجود کوالٹیوں کے مالک ہو ں گے ۔
کچھ کم کچھ زیادہ ۔
میں ے کسی کا نام نہیں لکھا ۔
اپ لوگ اپنی نزدیکی شخصیت کا نام لکھ کر خود ہی انجوائے کر لیں ۔

    ◆    بحر مردار کو جس نے قتل کیا تھا۔
    ◆    وہ جب ڈنڈ لگاتا ہے تو ؟ اپنے بازو سے زمین کو دھکیل دیتا ہے ۔
    ◆     اس نے ہی مونا لیزا کو مسکراہٹ دی تھی ۔
    ◆    وہ کمپیوٹر کے ری سائکل بن کو بھی ڈلیٹ کر سکتا ہے ۔
    ◆    وہ کسی بھی کتاب کے سرورق کو دیکھ کر اس کتاب کا مضمون سارے کا سارا جان جاتا ہے ۔
    ◆    وہ ایک مچھلی کو بھی پانی میں ڈبو کر قتل کر سکتا ہے ۔
    ◆     اس نے ایک دفعہ ایک گھوڑے کی ٹھوڑی پر کک لگائی تھی ،اج دنیا اس کو زورافے کے نام سے جانتی ہے ۔
    ◆    وہ میکڈونلڈ  پر دال چاول کا آڈر بھی دے سکتا ہے ۔
    ◆    برمودا کی تکون ، پہلے ایک مربع شکل کی ہوتی تھی ، اس نے اس مربفے کے ایک کونے کو کک کی تھی جس نے برمودا ایک تکون بن گئی تھی ۔
    ◆    یہ صاحب گرمیوں کی بارش  میں بھی سنو مین  بنا سکتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب کوڈ لیس فون سے بھی دشمن کی مشکیں کس سکتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب ، صرف ایک سبزی آلو سے بھی سالن بنا سکتے ہیں
    ◆    یہ صاحب ایک گھنٹے کے اوکشن کو بیس منٹ میں بھکتا سکتے ہیں ۔
    ◆    کون کہتا ہے ؟ روم واز ناٹ بلٹ ان ون ڈے ، انہوں نے روم کو ایک دفعہ ایک دن میں بھی بنا دیا تھا ۔
    ◆    ان صاحب کی ایک دفعہ تلوار سے لڑائی ہو گئی تھی ، اس مقابلے میں تلوار ہار گئی تھی ۔
    ◆    یہ صاحب طبلے ہر ہارمونیم کے سر نکال سکتے ہیں ۔
    ◆    ان صاحب کے بچپن میں جو بستر گیلا ہو جاتا تھا ، وہ اصل میں بستر کا موتر نکل جانے کی وجہ سے ہوتا تھا ۔
    ◆    یہ صاحب جینے کے لئے سانس نہیں لیتے ، بلکہ ہوا اپنی بقا کے لئے ان کے سینے کے اندر آتی جاتی رہتی ہے ۔
    ◆    یہ صاحب مریخ پر بھی جا چکے ہیں ، اسی لئے وہاں زندگی کا کوئی نشان نہیں مل رہا ۔
    ◆    ان صاحب پر ملک کے ٹاپ سیکرٹ بھی عیاں ہوتے ہیں ۔
    ◆    یہ صاحب گصے سے دیکھ لیں تو ؟ پانی بھی ابلنے لگتا ہے ۔
    ◆    ایک پتھر  سے دو پرندوں کا شکار ؟ نہیں یہ صاحب دو پتھروں کو ایک پرندے سے شکار کر سکتے ہیں ۔
    ◆    ان صاحب کو کوئی بھی گوگل پر  تلاش کر کے نہیں پا سکتا ، کیونکہ انہوں نے گوگل کو اپنی تلاش کی اجازت ہی نہیں دی ہوئی ہے ۔
    ◆    یہ صاحب سپائیڈر میں کو کیڑے مار سپرے سے شکار کر سکتے ہیں ۔
    ◆    اگر یہ صاحب کورٹ میں پیش ہو جائیں تو ؟ کورٹ کے جج کو سزا سنا دیں ۔
    ◆    ان کو گھڑی پہننے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وقت ان کی مرضی سے چلتا ہے ۔
    ◆    لوگوں کو درائیونگ لائیسنس اٹھارہ سال کی عمر میں ملتا ہے ، ان صاحب نے اٹھارہ دن کی عمر میں لے لیا تھا ۔
    ◆    اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہے ، تو یہ صاحب اس بات کو اپنی ذاتی توہین سمجھ لیتے ہیں ۔
    ◆    صرف یہی صاحب ہیں جن کا دماغ چاچے چودھری سے بھی تیز چلتا ہے ۔
    ◆    اگر کوبرا سانپ بھی ان صاحب کو کاٹ لے تو کوبرا تڑپ تڑپ کر مر جائے ۔




اتوار، 7 جون، 2015

جنریشن گیپ


ریٹائیر پروفیسر صاحب ۔ شہر چھوڑ کر جب اپنے گاؤں جانے لگے تو پچھتر سال کی عمر کے اخری دفعہ جامعہ میں گئے
یادیں تازہ کرنے کے لئے ، کچھ منظر یادوں میں بسانے کے لئے ، کچھ خام مال جھاڑے کی اندھیری لمبی راتوں میں لطف لینے کے لئے ۔
انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا بینچ پر بیٹھا پڑھائی میں مگن ہے ۔
ان کو اپنی جوانی کے دن یاد آ گئے کہ اسی طرح پڑھائی میں مگن ،دنیا سے الگ اپنی ہی دنیا میں ہوتے تھے ۔
پروفیسر صاحب اس لڑکے کے پاس  بنچ پر بیٹھ گئے ۔
لڑکے نے سر اٹھایا اور ایک معمر بندے کو دیکھ کر کچھ اس طرح گویا ہوا

کہ تم پچھلی نسل کے لوگ ! ہماری نسل کی ترقی کا ادراک بھی نہیں کر سکتے
جس دنیا میں اپ لوگ پیدا ہوئے تھے اج کی دنیا اس بلکل مختلف ہے ۔
وقت کو برتنے کا انداز ؟ تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے ۔
لڑکا لیکچر دینے والے انداز میں بات جاری رکھتا ہے ۔
اج کا جوان ٹی وی رکھتا ہے ، ہوائی جہاز ، خلاء کا سفر ، مائیکرو ویو اون استعمال کرتا ہے ۔
میں درجنوں کتابیں ، اج ایک چھوٹی سی چیپ میں لے کر چلتا ہوں ۔
اج کا جوان بجلی ، ہائیٹروجن اور ہائی بریڈ کاریں استعمال کرتا ہے ۔
ہم جو کمپیوٹر استعمال کر رہے ہیں ، اس کی سپیڈ روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے ۔
یہاں تک پہنچ کر جوان لڑکا سانس لینے کو رکا ۔
تو پروفیسر صاحب نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور بات کرنے لگے
ہاں بیٹا !! ایسا ہی ہے
جب ہم یعنی میری نسل کے لوگ پیدا ہوئے تھے تو یہ چیزیں نہیں تھیں
اس لئے ہم نے اور ہماری نسل کے لوگون نے ایجاد کر کے اپ کو دیں ۔
بیٹا جی اگر میری نسل کے لوگون کو طعنہ دینا ہی ہے تو
اس بات کا دو کہ تمہاری نسل کے لوگ انے والی نسلوں کے لئے کیا بنا رہے ہو جو چھوڑ کر جاؤ گے ؟؟؟؟؟۔
حاصل مطالعہ
جہاں ڈیگریوں  والوں کی ڈگریاں نقلی اور تعلیم یافتاؤں کی تعلیم نقل سے حاصل کی گئی ہو
اس معاشرے کے سینئیرز نے کیا چھوڑا؟
اور اج کے جوان ،انے والی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کر جائیں گے ؟

ہفتہ، 30 مئی، 2015

اہل دل لوگ


معذور بچوں کے لئے انگریزی ایک لفظ رائج ہے ۔
سپیشل چائلڈ
دو سال پہلے برطانیہ میں اس بات کی مہم چلی تھی کہ
ایسے بچوں کو پالنے والے والدین کو سپیشل پیرینٹس کہاجائے۔
کیونکہ
جس کرب اور مشقت سے ان والدین کاواسطہ ہے
اس کرب کو کوئی دل والا ہی محسوس کر سکتا ہے
یا پھر میرا رب ۔
ایسے والدین خاص طور پر والدہ  کے لئے تو ایسے بچے کی پرورش چوبیس گھنٹے کا کام ہوتا ہے  ۔
ایک معذور بیٹے کی ماں  ، جس کے بیٹے کا جسم مفلوج ہے اور ذہن بھی چند ماھ کے بچے سے زیادہ ترقی نہ کر سکا ،۔
اس کی ماں ایک دن بتا رہی تھی کہ “ حارث “ کی رات کو سوتے سوتے سانس رک جاتی ہے ۔ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ رال اس کے حلق میں روکاوٹ بن کر سانس کو بند کر دیتی ہے ۔
اگر ایسے میں کوئی حارث کی مدد نہ کرئے تو حارث کی زندگی کا اختتام بھی ہو سکتا ہے  ۔
اس لئے جب بھی  حارث کی سانس رکتی ہے
رات کو جاگ کر میں اس کی گرن سیدہی کر کے ، جگا کے اس کی مدد کرتی ہوں ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوا کہ
رات کو میٹھی نیند سوئے ہوئے ، کیسے علم ہوتا ہے کہ
معذور بچے کی سانس رک گئی ہے ۔
جب کہ سانس رکنے سے کوئی شور بھی تو پیدا نہیں ہوتا ، معذور بچہ کوئی  پکار بھی نہیں کر سکتا
تو کیسے علم ہوتا ہے ؟
تو حارث کی ماں نے بتایا
ایک ماں کو اس بات کا علم ہو جاتا ہے
اور نامعلوم حس ہوتی ہے جو ایک ماں کو جگا کر دیتی ہے !!۔

جاپان میں ایسے بچوں کی تعلیم کا بھی انتظام ہوتا ہے
کیا تعلیم دیتے ہوں گے ؟
بس یہی کہ اپنے جسم کو کیسے بچانا ہے ۔ جو بچے بات کو سن کر ردعمل دیکھا سکتے ہیں ، ان کو معاشرے کے لئے کارآمد فرد بنانے کے لئے ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ فیکٹریوں یا کہ ملوں میں کسی سادہ سے کام پر لگے رہیں اور کوئی چیز بنا بنا کر  کام کرتے رہیں ۔
دن رات معذور بچوں کی پرورش  ایسے والدین کی  زندگی کو انجوائے کرنے کی حس ہی مر  جاتی ہو گی  ۔
ان کو گیت سنگیت کا کیا لطف آتا ہو گا ؟
ان کو محفلوں میں بیٹھنے کا کیا موقع ملتا ہو گا ؟
ان کو کمائی کے کیا مواقع ہوں گے ؟
لیکن میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اسے والدین  مفلس کم ہی ہوتے ہیں ۔
اور ان کے دل بھی بڑے ہوتے ہیں ۔ صرف اپنے بچے کے لئے ہی نہیں بلکہ سب کے لئے  ۔
اپنے گھر میں اگائی ہوئی سبزیاں ، یا کہ فصل اٹھنے پر
معذور بچوں کے والدین کو ، میں عام لوگوں کی نسبت زیادہ فراخ دل پایا پے  ۔
پھر بھی اخر انسان ہیں  ، انسانی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے  ، بچوں پر غصہ بھی آتا ہو گا
اپنی قسمت پر شکوے بھی پیدا ہوتے ہوں گے  ۔
 زندہ معاشروں میں جیسے کہ
جاپان میں ایسے والدین کا بوجھ بٹانے کے لیے کچھ تنظیمیں کام کرتی ہیں ۔
جو کہ چھٹی کے دن ایسے بچوں کو  ، ان کے والدین کی بجائے  پارکوں میں ، کھیل کے میدانوں میں
سمندر کی سیر یا کہ جھولے جھولنے کے لئے لے کر جاتے ہیں ۔
تاکہ سپیشل پیرینٹس  ، جو کہ چوبیس گھنٹے ان بچوں کے لئے ہلکان ہو  چکے ہوتے ہیں ان کو بھی ایک دن چھٹی مل جائے اور کہیں جا سکیں یا کہ ناں
کم از کم گھر میں کچھ گھنٹے بے فکر ہو کر سو تو سکیں  ۔
مزے کی بات یہ کہ ان تنظموں  کو بھی اس سے کوئی کمائی نہیں ہے  ۔
یہاں کام کرنے والے لوگ  وہ ہیں جو ریٹائر ہو چکے ہیں یا پھر اتنے دولت مند کہ کمائی سے زیادہ کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں ۔
میں ایسے لوگوں کو اہل دل کہوں گا
کہ جو اپنے اپ ( خود غرضی) سے بہت اوپر اٹھ چکے ہوتے ہیں اور اب دوسروں  کی مدد کر کے لطف لیتے ہیں ۔

میں یہاں اپنے بچوں کے ساتھ پارک میں ہوں
جہاں معذور بچوں کو لے کر کچھ “دل والے” لوگ بھی ان کو سیر کروانے آئے ہوئے ہیں ۔
ایک ایک بچے کے ساتھ ایک نفر ہے
ایک سیکنڈ بھی نظر ہٹانے کی مہلت نہیں ہے۔
کچھ بچے اب بچے نہیں رہے ، ایک اٹھارہ سال کا لڑکا ، جو کہ ذہنی طور پر تو ایک بچہ ہے لیکن جسمانی طور پر ایک بھر پور مرد ، اگر یہ بچہ ضد کر جائے تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا اس لئے ایسے بچے کے ساتھ تین یا چار لوگ تھے اور ایسے چوکنا ہو کر چل رہے تھے
 جیسے کسی وی آئی پی  کے ساتھ چوکنا گارڈ چلتے ہیں ۔
 وی آئی پی کے گارڈ تو اس خطرے سے چوکنا  چلتے ہیں کہ کوئی وی آئی ہی پر حملہ نہ کر دے
لیکن یہ لوگ اس لئے ایکٹو ہو کر چل رہے تھے کہ یہ بچہ کسی پر حملہ نہ کر دے ۔
لیکن دل ہے کہ اس بچے کو بھی انجوائے کروانا چاہتا ہے
اور اس کو پارک کی سیر پر لے کر آئے ہوئے ہیں  ۔

ایسے میں ایک دس سالہ معذور بچہ اپنے پچاس سالہ اٹینڈینٹ کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیتا ہے ۔
میں دیکھ رہا تھا
اس اٹنڈنٹ نے بچے کو پکڑ کر اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر کئی دفعہ یہ کہا
مارنے سے درد ہوتا ہے ، کیا میں مار کر دیکھاؤں ؟
اور بچہ ہے کہ انکھوں میں انکھیں ڈال کر  دیکھ رہا ہے ۔
اٹینڈنٹ پھر کہتا ہے ، مارنے سے درد ہوتا ہے ، کیا میں مار کر دیکھاؤں ؟
اس فقرے کی تکرار نے بچے کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا ۔
جاپانی ایک عظیم قوم ہیں ، ان کی اس عظمت کی بنیاد ان کا اخلاق اور اصول ہیں ۔
کیا اپ کے ارد گرد کوئی اسپیشل پیرینٹس ہیں ؟
کیا اپ نے کبھی ان کے کسی کام آنے کا سوچا ہے ، احساس کیا ہے ۔
یاد رہے کسی کے کام آنا اس کو پیسے دینا نہیں ہوتا ۔
خود دار لوگ بھیک نہیں لیا کرتے ، لیکن درد بھرے دل سے ان کے بچے کو کبھی کبھی اپنا بچہ سمجھ کر ،اس بچے کے ساتھ کھیل لینے سے  والدین کے دل ضرور کھل اٹھیں گے ۔

جمعہ، 29 مئی، 2015

دوہزار پندرہ مئی جون کے فیس بک کے چٹکلے


اخرت میں بخشش ، تو بڑی دور کی بات ہے ۔
اپنے  *مذہبی * صاحب کا بس چلے تو؟
کسی جاپانی کو اوکشن کی ممبر شپ تک  کی “اجازت “ نہ  دیں ۔
(^.^)
جس طرح اپ ،اپنے مذہبی سکالر کی عقیدت اور علمی قابلیت کے معترف ہیں ۔
اسی طرح ، قادیانی ، مرزا غلام احمد کے ، مولوی طاہر کے قادری لوگ اپنے اپنے بڑے کے علم کے معترف ہیں ۔
بریلوی ، دیو بندی ، اہل حدہث ، اہل تشیع ، بلکہ ہندو ، سکھ ، کیتھولک  لوگوں کا بھی  یہی حال ہے ۔
اس لئے اگر اپ کو قران کی باتیں کرتا خاور  عجیب لگتا ہے تو ؟ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ، بلکہ ! تکنیکی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔
کیونکہ
 اپنا اپنا کمپیوٹر سسٹم ہے جس میں دوسرے سسٹم کا فائل فارمیٹ   چلانے پر ایرر آ جاتا ہے ۔
(^.^) ��

بیوی ،اچھو سے پوچھتی ہے ، سونے  کی چین کب لے کر دو گے ؟
اچھو .، جب مجھے چین سے سونے دو گی !!!۔
(^.^) ��

ایک پارٹی میں  ، گانے چل رہے تھے ، ڈی جے نے نیا گانا لگانے سے پہلے کہا ۔
ایک ڈانس کرنے والا میوزک لگا رہا ہوں ، جس جس کو ڈانس نہیں کرنا ،وہ جا کر اپنی  بھینس چرائے !!۔
گامے نے یہ سن کر اپنی بیوی کو کہا ۔ چل بھلئے لوکے  میں تمہیں کھانا کھلاؤں  ۔
(^.^) ����

دماغ اگر پرنٹر ہوتا تو ؟ میں اپنے خیالات کو  تصاویر میں مجسم  کر لیتا۔
دل  میں اگر بلیو ٹوتھ ہوتا تو دل  کی دل سے راہیں نکال لیتا ۔
سکھ اگر  میموری سٹک ہوتے تو ؟ میں ان کا بیک اپ لے لیتا ۔
ہائے کاش کہ زندگی  ایپل کے کمپیوٹروں کی طرح  ہسٹری کا اپشن رکھتی  ، تو میں اپنے بچپن کی فائیلیں  ہی کھولے رکھتا  ۔
لیکن
یہ سب ممکن نہیں ہے اس لئے میں زندگی کو سچائی سے گزارنے کے مشن پر لگا ہوا ہوں ۔
اس لئے میرے خیالات  مجسم نہ بھی ہو بد بو نہیں دیتے ۔
میرا دل اپنے جیسوں کے دلوں سے راہ نکال ہی لیتا ہے
اور سکھ میری زندگی میں دکھوں پر چھائے ہوئے سے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔
اور بچپن ؟ 
چھڈو پراں ، ساری عیاشیاں تو فطرت مہیا ہی نہیں کرتی ۔
(^.^) ��

میں ایسے بندے کو جانتا ہوں  ، جس نے ایک چھوٹا سا ویلڈنگ پلانٹ سائکل کے پیچھے رکھا ہوا ہوتا تھا
 اور گاؤں گاؤں گھوم کر آواز لگاتا تھا
ٹوٹی ہوئی چیزیں ویلڈ کرا لو !!!۔
جس گھر میں کام نکلتا تھا ، وہ بندہ اسی گھر کی بجلی لے کر  ، فی راڈ کے پیسے چارج کرتا تھا،۔
اور اپنے گھر کو چلا رہاتھا
حاصل مطالعہ
محنتی لوگوں کے پاس بے روزگاری کے بہانے نہیں ہوا کرتے ۔
(^.^) ��

آئی لوّو یو ! آئی لوّو یو سو مچ!!!۔
یہ کہنا چاہتا تھا
رانجھا ، ہیر سلیٹی کو
لیکن
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
بارہ سال بھینسیں چراتے گزر گئے ، ہیر کو کھیڑے لے گئے ۔
رانجھے کو “ انگریزی “ کا یہ  فقرہ  کہنا نہ آیا !!!۔
(^.^) ��


پھندو فقیر کہا کرتا تھا
خاور پائی ، رب نے یہ انگلیوں کے درمیان جو گیپ رکھا ہے ناں اس میں  قدرت کی بڑی  رمز اور حکمت پوشیدہ ہے ۔
اگر کوئی پوچھ لیتا تھا کہ اخر وہ رمز یا حکمت ہے کیا ؟
تو!۔
پھندو بتایا کرتا تھا ، حکمت یہ ہے کہ
کسی دن
کوئی
بندہ پھندو کے نزدیک آئے اور
چرس بھرا سگریٹ دے کر کہہ سکے کہ
لے پھندو یار سوٹا لاء ۔
(^.^)

گامے کے گھر پر پولیس کی ریڈ ہو گئی ، گامے کو پکڑ کر پولیس نے صحن میں بٹھا لیا ۔
اوئے گامیا! پولیس کو اطلاع ملی ہے کہ تم نے اپنے گھر میں ایک خطرناک دہشت گرد کو چھپا رکھا ہے ۔
گاما: تھانیدار صاحب ! اطلاع تو اک دم صحیح اور پکی ہے
لیکن
کل سے وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہے ۔
(^.^)

گامے کی سالگرہ پر اس کی بیوی پوچھتی ہے
اجی اپ کے برتھ ڈے پر گفٹ دینا چاہتی ہوں ، آپ کو کیا چاہئے؟
گاما یہ سن کر بہت خوش ہوا
اور کہنے لگا
نئیں ، بھلئے لوکے  چیز کوئی نہیں چاہئے ،
بس تم مجھے پیار کرو، مجھے عزت دو، اور میرا کہنا مانو!! بس یہی کافی ہے ۔
بیوی کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی !!۔
نئیں ! میں تو گفٹ ہی دوں گی !!!!۔
(^.^)

ذاتی  مفادات اور مالی فوائد کے لئے ، جماعت اسلامی کا نام لینے والے لوگ !۔
یہاں جاپان میں اپنی “ خامیاں “ چھپانے کے لئے تین اوزار استعمال کرتے ہیں ۔
ایک : مذہب
دو : داڑھی
تین: محراب ( ماتھے والا!۔
جو زیادہ ہی زہریلے ہیں وہ چوتھا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔
خود کو عربی نسل کا ( سید) بنا کر پیش  کرتے ہیں ۔
(^.^) ��

جج: تمہارا نام کیا ہے ؟
ملزم: غلام ، گاما حضور ، گاما!!۔
جج: تم پر الزام ہے کہ تم نے سال ہا سال سے اپنی بیوی کو ڈرا کر ، دھمکا کر ، دبا کر،  اس کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے ۔
گاما : گگیاتے ہوئے ، حضور ، وہ ۔ ۔ ۔!۔
جج گامے کی بات کاٹتے ہوئے ، صفائی کی ضرورت نہیں ہے ،
طریقہ بتاؤ طریقہ؟؟
(^.^)

پاگل خانے کا ڈاکٹر ایک پاگل سے پوچھتا ہے ، کیسے ہو ؟
پاگل : میں نے پانچ سو صفحوں کی ایک کتاب لکھی ہے
ڈاکٹر : اچھا کیا لکھا ہے ؟
لکھا ہے کہ میں کمائی کر کے اپنے گھر کی غربت مٹانے کے لئے جاپان آیا ، میں نےاپنے گھر کی  غریبی مٹائی ، جاپان کی نیشنیلٹی لے  لی ، اور  صحافتی کارنامے کرنے لگا ۔
ڈاکٹر ، یہ تو ایک صفحے کی کہانی ہے باقی کیا لکھا ہے ؟
باقی کے صفحات میں کیا لکھا ہے ؟؟
پاگل :  باقی کے صفحات میں ، میں یہہ ، میں وہ ، وہ برا ، میں اچھا  کی تکرار ہے ۔
ڈاکٹر: اس کتاب کو پڑھے گا کون؟
پاگل : چھپوا کر بانٹتا رہوں گا ، کوئی نہ کوئی میرے جیسا ، پڑھ ہی لے گا!!!۔
(^.^)

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
گر سو برس بھی جیتے  یہی انتظار ہوتا
،،،،،،،،،،
اچھو ڈنگ اس شعر کی تشریح کر رہا تھا
کہ
شاعر کا کوئی یار بہت مارلدار اور لاولد  ہے ۔
جس کے انتقال فرما جانے پر اس کی جائیداد اور مال شاعر کو مل جانا ہے
لیکن وہ یار بہت صحت مند ہے اور  اس کے وصال کی خبر  انے کی کوئی امید نہیں ہے
اس بات سے مایوس شاعر کے دل کا دکھ زبان پر  آگیا ہے کہ
گر سو برس بھی انتظار کریں گے تو  انتظار ہی کرتے رہیں گے ۔
(^.^)

کسی  گانؤں ( اج سے گاؤں کو ایسے ہی لکھا جائے گا)  میں  بجلی انے والی تھی ۔
اس گانؤں کے لوگ بہت خوش تھے  ، خوشی سے ناچ گا رہے تھے
ان میں کتا بھی تھا جو کہ زیادہ ہی خوشی کا اظہار کر رہا تھا
کسی نے پوچھا ، تمہیں کیا کہ بجلی آئے نہ آئے ؟
تم کیوں خوش ہو ؟
پگلے ! جب بجلی آئے گی تو گانؤں میں کھنبے بھی تو لگیں گے ناں ؟؟؟
(^.^)

ایک عورت نے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور فوراً ہی نیچے کر لئے ۔
اس کا خاوند دیکھ رہا تھا۔
خاوند نے پوچھا دعا کیوں نہیں مانگی ؟
بیوی نے کہا: میں یہ دعا مانگنے لگی تھی کہ
اللہ اپ کی سب مشکلات دور کر دے
لیکن پھر مجھے ڈر لگا کہ اس دعا سے کہیں مجھے ہی کچھ نہ ہو جائے !!!۔
(^.^)

عجب دستور  زباں بندی ہے تیری محفل میں
کہ یہاں بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
۔
 خلاصے ، ٹیٹ پیپر اور گیس پیپر  ، اپ کو امتحان تو پاس کراوا دیتے ہیں  ، جیسے بوٹی اور نقل
لیکن اگر
تعلیم حاصل کرنی ہے تو نصاب کی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہوتا ہے  ۔
لکھنے والوں کی باتیں ، بھی خلاصے ، ٹیسٹ پیر اور گیس پیپر ہی ہوتے ہیں ۔
اور سنی ہوی تقریریں ؟ ایسے ہی ہیں جیسے بوٹیاں  اور چلاکیاں!!۔
اگر ، “ تعلیم” حاصل کرنی ہے تو ؟ نصاب کی کتاب  اللہ کا کلام ہے  ۔
(^.^)

اس  کے والد صاحب کی طبعت خراب رہتی تھی ۔
وہ اپنے والد صاحب کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے  “ اس “ کے والد کو دیکھ کہا ۔
اپ کے والد صاحب کے کچھ “ٹیسٹ “ کروانے ہوں  ۔
یہ سن کا “ اس “ کا تراھ نکل
اور ڈاکٹر صاحب کی منت کرتے ہوئے کہنے لگا
ڈاکٹر صاحب ، ابا جی کی عمر زیادہ ہے
ان سے ٹیسٹ نہ کروائیں ، “ ون ڈے “ یا “ ٹونٹی ٹونٹی “ سے کام چلا لیں ۔
 (^.^)

جاپان میں اس پرندے کو گرمیوں کا پرندہ سمجھا جاتا ہے، جسے “سوبا مے” کہتے ہیں ۔ اور پاکستان میں اس کو سردیوں کا پرندہ ، اور اس کو ابابیل کے نام سے پکارتے ہیں  !!۔
جاپان میں یہ پرندہ انڈے بچے جننے کے لئے آتا ہے ،۔ آکست اور ستمبر میں بہت نظر آتا ہے ۔
جگہ جگہ اس پرندے کے گھونسلے نظر اتے ہیں ، کئی دفعہ تو گھروں کی بیٹھک یا کہ لوگوں کی روز مرھ کی زندگی میں روکاوٹ سی بھی پیدا ہوجاتی ہے  ۔
لیکن جاپانی لوگ  ، فطری طور پر  بچوں کا تحفظ کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اس لئے  چند دن کی بات ہے کا کہہ کر  ابابیل کے انڈے بچوں  کی پرورش اور بقا میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالتے ۔
جاپانی لوگ اپنے بچوں کو  “جاپان “ ہونے کا یقین رکھتے ہیں ۔
اس لئے ہر فرد ہر کسی کے بچے کے تحفظ کا خیال رکھتا ہے ۔
اسی لئے یہاں سب لوگ محفوظ ہیں  ۔
حتیٰ کہ غیر محفوظ ممالک کے پناھ گزین لوگ  بشمول پاکستانی  بھی خود کو یہاں محفوظ خیال کرتے ہیں ۔
(^.^)

مغربی دنیا میں لوگ
 شادی
 پر خوشیاں مناتے ہیں ۔
پاکستان میں شادی  پر؟
پھوپیاں اور چاچیاں  مناتے ہیں  ۔
(^.^) ����

مجھے دوسروں  کے اندر کے شیطان  پر حملے کرنے کا کوئی شوق نہیں  ۔
میں اپنے اندر کے شیطان کو کچلنے میں مصروف ہوں ۔
لیکن جب کس کا شیطان میرے مفادات یا عزت نفس پر حملہ کرتا ہے تو ؟
میں  شیطانی کرنے والے کے شیطان  کو آئینہ ضرور دیکھاتا ہوں ۔
شیطان  کہیں کے  ۔
(^.^)

جھگڑالو بیویوں سے نپٹنے کے لئے
 سیانے خاوندوں نے کچھ اصول بنا رکھے ہیں  ۔
اور وقت پڑنے پر یہ سب اصول فیل ہو جاتے ہیں  ۔
(^.^)

خوش قسمتی مٹھی میں بند ریت کی مانند ہوتی ہے ،
کوشش کے باوجود کھسک  کر نکل جاتی ہے ۔
یاں یہی ریت  دعا کی طرح پھلائے  ہاتھوں پر ٹکی رہتی ہے  ۔
(^.^)


برے دن سدا نئیں رہندے ،
برے دن  تہانوں ، تجربہ دے کے ، تے تہاڈی زندگی دی کتاب تے دستخط کر کے ٹر جاندے نیں  ۔
مولا خوش رکھے ،
(^.^)

میری زندگی میں شامل واحد جھوٹ !
یہ جھوٹ  جو کہ میں خود  سے بولتا ہوں
اور اکثر بولتا ہوں ۔
وہ ہے یہ سوچ
کہ
بعد میں لکھ لوں گا  ، کیونکہ مجھے یہ بات یاد رہے گی  ۔
(^.^)

لوکی تے  بڑے ای لج پاڑ نیں  ۔
اٹھے پہر حسد تے شرارت تے تلّے ہوندے نئیں  ۔
میرا رب ! بڑ لجپال اے ،۔
ایس دے وچ کوئی شک ای نئیں
ایسے لئی تے میں بچیا ہویا واں ۔
(^.^)

کوئیز محفل میں سوال تھا ، وہ کون سی چیز ہے جو سخت سردی میں بھی گرم رہتی ہے ؟
پاڈے مغل نے ہاتھ لمبا کر کے اٹھا دیا ۔
اینکر نے مائک پاڈے مغل کے سامنے کر دیا ۔
مغل کا جواب تھا  : گرم مصالحہ!!!۔
اینگر نے کہا ، ہاں ایک طرح سے  تمہارا جواب بھی درست ہی ہے ۔
مغلپاڈے نے پانچ فٹے قد کی ایڑہیاں اٹھا کر اور توند سے پچکے ہوئے سینے کو تان کر کہا
میں تو جینئس ہوں ، ویسے ہی مجھے غرور کرنے کی عادت نہیں ہے  ۔

ہفتہ، 16 مئی، 2015

پھر دوسری دفعہ کا ذکر ہے

دوسری دفعہ کا ذکر
کہ
خان ، مغل اور سید نامی بندوں  نے جسم کی فضول چربی  سے تنگ جس سے ان کے جسم ڈھلکے ہوئے تھے  گامے کو کہا کہ ہم کو بھی  کبھی ہائیکنگ  پر لے کر چلو  ، ہم بھی شائد تمہاری طرح  نائس باڈی  نظر آنے لگیں ۔
گاما ان سب کو لے کر پہاڑوں پر ہائکنگ کے لئے  پہنچ گیا ۔
فارمی مرغیاں کھا کھا کر  بیماریوں سے ہلکان ،  تینوں صالحین کی سہولت کا خیال کرتے ہوئے  گامے نے پہاڑ بھی  اسان سا چنا تھا کہ ایک دن میں  پہاڑ کر سر کرکے رات گھر پر گزاریں گے ۔
پہاڑ پر چلتے چلتے  ایک چھوٹا سا بادل بارش برساتا گزرا تو سب صالحین نے نزدیکی کھوہ میں پناھ لی ۔
لیکن بد قسمتی کہ زلزلے کے جھٹکے بھی اسی وقت انے تھے کہ ایک پتھر  لڑھک کر کھوہ کے منہ پر آ ٹکا اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا  ۔
خود کو تنگ جگہ پر مقید پا کر صالحین کے  رنگ فق ہو گئے  ، اور لگے واویلا کرنے ، گاما ان سب کا منہ دیکھ رہا تھا ۔
سید نامی  بندے کو حکایت صالحین کی وہ کہانی یاد آ گئی جس میں ان ہی کی طرح کچھ لوگ غار میں پھنس گئے تھے اور انہوں نے  اپنی اپنی زندگی کی نیکیاں خدا کو جتلا جتلا کر غار کے منہ پر اٹکا ہوا پتھر سرکا لیا تھا ۔
سب سے پہلے مغل نے اپنی زندگی کی نیکیاں جتلانی شروع کیں
کہ کس طرح اس نے مسجد کی خدمت  کر کر کے  کیا کیا نیکیاں کی ہیں
لیکن پتھر زرا بھر بھی نہ سرکا !!،۔
اس کے بعد خان نے اپنی نیکیاں جتلانی شروع کیں کہ کس طرح اس نے جرگوں میں  مظلوموں کو صبر کی تلقین  اور ظالموں کو درگزر کے واعظ کئے تھے  ۔
لیکن پتھر پھر بھی ذرا بھر نہ سرکا ۔
اس کے بعد سید صاحب نے اپنے سید ہونے کی  مسجد کے متولی ہونی کی اور بھیک مانگ مانگ کر مسجد پر لگانے کی نیکیاں بڑے رقت بھرے انداز میں جتلائیں ۔
لیکن پتھر پھر بھی نہ سرکا ۔
ان سب کی یہ حرکات دیکھتا ہوا گاما ، گویا ہوا
اوئے منافقو !!۔
خود سے بھی جھوٹ بولتے ہو ، اور خدا سے بھی جھوٹ بولتے ہو ،؟
اوئے منافقو ، میں بھی تو تم لوگوں کو دیکھتا رہتا ہوں ۔ بھیک مانگتے ہو ، سود کھاتے ہو ، باعزت لوگوں کی عزت اچھالتے ہو ،۔
اور پھر کہتے ہو کہ  کیونکہ جس کا باپ بڑا کاروباری ہے وہ معافی نہیں مانگے گا ۔
بد بختو !۔
جس پر سب صالحین نے یک آواز کہا کہ اچھا تو تم بتاؤ اپنی نیکیاں
کہ ان سے شائد   پتھر  سرک جائے !!۔
ان کی یہ بات سن کر
گامے نے  جیب سے جدید ترین ماڈل کا آئی فون نکالا اور ریکسیو والوں کو فون کیا کہ میرے فون کو ٹریس کر کے میری مدد کو پہنچو
میں یہان کھوہ میں پھنس گیا ہوں ۔
اور تھیلے سے کافی کا ٹین نکالا اور کھول کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر چسکیاں لینے لگا اور گنگنانے لگا ۔
ہیر آکھدی جوگیا ، جھوٹ بولیں
وے کون وچھڑے یار مالاوندا ای !!!۔