بدھ، 17 دسمبر، 2014

سولہ دسمبر ، پشاور میں بچوں کا قتل


پشاور میں ہونے والا بچوں کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے کہ جس نے دل کو چیر کر سکھ دیا ہے ۔
میرے بھی بچے ہیں ، اور اپ بھی جن کے بچے ہیں ،زرا ان کے منہ دیکھ کر بتائیں کہ کیا ان کی عمر ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے ؟
فوج نے جو جیش ، لشکر اور جتھے بنا کر قوم کی بغل میں دئے ہوئے ہیں ناں   ۔
ان کی جو فصل تیار ہو رہی ہے اس کا پھل ہے ۔
پاکستان کے مسائل کا گڑھ ہی فوج ہے ،۔
نظریہ ضروت سے لے کر عدالتی نظام کس نے تباھ کیا ؟
تعلیم میں زہر کس  گھولا؟
طاقت کے بے جا اظہار کی راہیں کس نے قوم کو دیکھائیں ۔
ملک میں مسائل پیدا کر کے ، بشمول مسئلہ کشمیر فوج کے ناگزیر ہونے  کا پروپیغینڈا اور اس کی اوجھل میں چھاؤنیوں کی لگژری لائف   کون انجوائے کر رہا ہے ۔
طاقت سے اداروں کے آڈٹ جیسی بنیادی رسم کس نے ختم کی ہے ؟
دوستو! فوج کی حمایت میں بات کرنے سے پہلے سوچ لو
کہ اس فوج کی  حمایت جھوٹ کی حمایت ہے ۔
اور جس بندے کو رب نے عقل دی ہو وہ جھوٹ کی حمایت نہیں کیا کرتا ۔

پاکستان کی سیاست اب ،اج اس دور سے گزر رہی ہے  ، کہ جس میں سیاستدانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہوا ہے کہ اب فوج کی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالا جائے گا ۔
اگر چہ کہ یہ سیاستدان بھی  فوج ہی کی پیداوار ہیں ۔
لیکن ایک قدرتی سیاستدان نے ان کو یہ راھ دکھلا دی ہے کہ
جس جس نے فوج کی غلطیوں پر پردہ ڈالا  ، وہ ہی مارا گیا ۔
اکہتر سے پہلے کے سیاستدان  باری باری خفیہ طور پر ٹھکانے لگا دئے گئے ، باقی کو کونے لگا کر بنگال کو علیحدہ ہی کر دیا  ، اس غلطی پر بھٹو نے پردہ ڈالا ، اور مارا گیا ۔
گارگل کے پہاڑوں سے نواز شریف نے ان کی جانیں بچائیں تو اس کو بے عزت کیا گیا ۔
زرداری کی بیوی ، سالے  کو قتل کر کے  قاتل تک غائب کر دئے گئے ۔
 تو اب اگر  آپریشن ضرب عضب کو کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے تو اس لئے کہ سیاستدان قوم کی فوج کا وہ چہرہ دیکھا دینا چاہتے ہیں جو کہ اس بھگیاڑ کا اصلی چہرہ ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے

کوؤئیں کے پانی کو پاک کرنا ہے تو؟
پہلے اس میں سے کتا نکالنا ہو گا ۔
اداروں کو ان کی حدود اور فرائض کا علم جاننا ہو گا ۔
اور خود پر اخلاقی قدغن لگانے ہوں گے ، شتر بے مہار  کو کوئی نہ کوئی کہیں ناں کہیں یا تو قتل کر دیتا ہے یا پھر نتھ ڈال دیتا ہے ۔
اور اگر یہ دونوں کام نہ بھی ہو سکیں تو خود ہی کسی گڑھے میں گر جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سولہ دسمبر ہے ۔
آج کے دن ،  انیس سو اکہتر میں پاکستان  ٹوٹ گیا تھا ، پاکستان ٹوٹ چکا ہے ۔
لوگوں کا پاکستان ، انیس سو باون (1952ء) میں چوری ہو گیا تھا ۔
اکہتر میں انہی چوروں کے ہاتھوں سے گر کر پاکستان ٹوٹ گیا تھا ۔
جوروں کے اس ٹولے کو چوری کرنے کی عادت پڑ چکی ہے ۔
الیکشن چوری کر کے  دیتے ہیں ، رقبے اور اعزاز چوری کر کے رکھ لیتے ہیں ۔
چوروں کے اس بکٹیریا کا ایک ہی تریاق ہے ۔
وہ ہے انصاف!۔
صرف اور صرف خالص انصاف کی فضا ہی  میں ان کا دم گھٹ سکتا ہے ، کہ جس سے ان  چوروں کی موت واقعی ہو سکتی ہے ۔

منگل، 16 دسمبر، 2014

مائکرو بلاگنگ ،فیس بک کے کچھ اسٹیٹس ۔


میں نے ، آج تک  کوئی ایسا گھر ، نہ دیکھا نہ  سنا ہے
کہ
جہاں “فارن” سے ائے ہوئے “کماؤ” سے کھانے کی مد میں پیسے نہ نکلوائے جاتے ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے ، آج تک  کوئی ایسا گھر ، نہ دیکھا نہ  سنا ہے
کہ
جہاں “فارن سے آئے ہوئے “کماؤ”  کی دس دن مہمانوں کی طرح خدمت کر کے یہ احساس دلایا جاتا ہو
کہ جو کمائی تم بھیج چکے ہو اس کمائی سے ہم “خود انحصار” ہو چکے  ہیں ۔

جاپان میں اپ کسی بھی اسٹیشن یا سٹور کے مردانہ ٹوائلٹ میں ،پیشاب کر کے اس ٹوائلٹ کو جھک کر  ادب دیں اور کہیں کہ مہربانی ۔
ٹوائلٹ اپ کے پیشاب کو پانی چھوڑ کر بہا دے گا۔
اپ اس کو بے شک ٹوائلٹ کی تمیز سمجھ لیں  ۔
لیکن یہ جاپان کی تکنیک کا کمال ہے ۔

گندی جگہوں پر شیاطین کا تو اپ نے پڑھا سنا ہی ہو گا؟
جاپان کے ٹوایلٹ ، اپ کوئی بٹن دبائیں یا نہ دبائیں “ گند” کو ٹھکانے لگا کر اپ کے استنجے میں بھی مدد کرتے ہیں ۔
یہ کسی پیرمجیب سنگھ  کا کمال نہیں ہے کہ اس نے شیاطین کو قابو میں کر کے “کام “ پر لگایا ہوا ہے ۔
یہ جاپان کی تکنیک کا کمال ہے۔

آپ ٹوٹنی کے سامنے پاتھ کرتے ہیں ،اور پانی کی دھار نکل کر اپ کے ہاتھ چوم لیتی ہے ۔
ساتھ میں ایک ٹوٹنی ہے اس اگے ہاتھ کریں ، یہ صابن کی پچکار مار کر اپ کی کثافتوں کو دور کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔
یہ سارا کمال کسی  پیر ٹوٹنی سنگھ سائیں کی کرامات کا نہیں ہیں ۔
یہ جاپان کی تکینک کا کمال ہے ۔

ٹیچر بتا رہا تھا ،  آکسیجن انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری چیز ہے جس سے ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن 1773ء میں دریافت کی گئی تھی ۔
جیدو ڈنگر نے یہ  سن کر کہا۔ ربّا تیرا شکر اے ، میں 1773 کے بعد پیدا ہوا ، ورنہ میں نے تو مر ہی جانا تھا ۔


بیوی ، خاوند سے ! میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی !۔
خاوند : ٹھیک ہے ۔
بیوی : وجہ نہیں پوچھو گے ؟
خاوند: نئیں ! میں تمہارے فیصلے کی  قدر کرتا ہوں ، اور کے صحیع ہونے کا یقین کرتا ہوں ۔

گامے نے خان کو بتایا ، مجھے الہ دین کا چراغ ملا ہے ۔
میں نے اس جن کو کہا کہ میرے خان کی عقل کو دس گنا کر دو!۔
ریڈی میڈ خان نے اشتیاق سے پوچھا ،تو؟ اس نے کیا جواب دیا ؟
جن کہتا ہے ریاضی کی رو سے صفر پر ضرب کا اصول لاگو نہیں ہوتا ۔

گاما بتا رہا تھا کہ
جب بھی بیوی خاوند کی اٹینشن( توجہ ) چاہتی ہے تو بیمار اور پریشان بن جاتی ہے ۔
لیکن اگر خاوند بیوی کی توجہ چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ
اچھے کپڑے پہن کر خوشبو لگائے اور خود کو خوش خوش ظاہر کرئے ۔
بیوی خود ہی پوچھ لے گی ۔
کیڑی سوکن کول چلا ایں ؟؟

انڈیا میں ہونے والے میچ میں پاکستان کی جیت پر اسٹیڈم میں چھا جانے والی خاموشی  !۔
تین کے مقابلے میں چار  گول ، ایک زیادہ گول سے چھا جانتے والے خاموشی کو ایک  “انگل “ نے توڑا ۔
اور ایسا توڑا کہ ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے ۔
اچھے کھیل پر دشمن کو بھی داد دینے والے سپورٹ مین سپرٹ  ،اسٹیڈیم میں کسی ایک بھی بھارتی میں اگر نہیں تھی تو؟
انگل کی تکلیف کی برداشت ہی پیدا کر لیتے ۔

غیر شادی شدہ لڑکوں کو اس “ ایپلی” کا کم ہی علم ہے۔
جس کے ایکٹو ہوتے ہی سسٹم کی ساری ویب سائیٹس  بند ہو جاتی ہیں ، سارے چاٹ روم ہائڈ ہو جاتے ہیں ، سبھی ضروری فولڈر کچرا اور وال  پیپر پر بیوی کی فوٹو لگ جاتی ہے ۔
اس ایپلی کو شادی کہتے ہیں ۔

دنیا میں ، اونچی ترین پہاڑ کی چوٹی، ایوریسٹ ہے ۔
سب سے لمبا دریا ، دریائے نیل ہے ۔
سب سے لمبا ہائی وے روڈ کناڈا میں ہے جس کی لمبائی آٹھ ہزار کلومیٹر ہے ۔
ورڈ بنک کا ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی (امریکہ ) میں ہے ۔
بین القوامی عدالت ، ہیوگ ( ہالینڈ) میں ہے ۔
سعودی عرب  دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کوئی بھی قدرتی ندی یا دریا نہیں ہے  ۔

جمعہ، 28 نومبر، 2014

جیدو ڈنگر

جیدو ڈنگر! گھر جنوائی تھا ، امیر بیوی کو گامے کے گھر سے نکلتے دیکھ کر بھی اس کے گھر پہنچے تک کچھ نہیں کہا ۔
گھر پہنچ کر جیدو ڈنگر کی نظریں الٹی پہنی شلوار کی سلائی میں الجھ کر رہ گئیں  ۔
جیدو ڈنگر نے ڈرتے ڈرتے جب سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے
اس دن سے جیدو کی بیوی نے جیدو کی زندگی حرام کئے ہوئی ہے کہ
تم مجھ پر شک کرتے ہے ، یہ دشمنوں کی سازش ہے
ہمارے گھر کا سکون  تباھ کرنے کی  ۔
جیڈو ڈنگر کی بیوی کہتی ہے کہ  کسی بھی گھر کا سکون تباھ کرنے کے لئے اس گھر کی بیوی کے کردار کو مشکوک کرنے والے ہی اس گھر کے اصلی دشمن ہوتے ہیں ۔
جیدو ڈنگر تو تھا ہی اب اس پر شکی مزاج اور دشمنوں کا “لائی لگ “ ہونے کا لیبل بھی لگ گیا ہے ۔

نوٹ : یہ ایک فکشن کہانی ہے ، کسی فرد یا ادارے کے کردار سے مطابقت محض اتفاقیہ ہی ہو سکتی ہے ۔

اتوار، 26 اکتوبر، 2014

لیبل


سرکے کی بوتل پر سردائی کا لیبل لگادینے سے بھی سرکے کی ترشی پر کوئی فرق نہیں پڑتا  ۔
لیکن ہماری قوم کا عمومی رویہ یہ بن چکاہے کہ اپنے اندر کی اصلیت کو چھپانے کے لئے اپنے لیبل بدل رہے ہیں ۔
دھوکہ دہی کہ یہ کوشش وہ دوسروں سے کم اور اپنے اپ سے زیادہ کر رہے ہیں  ۔
بڑی کوشش کر کے اپنے پر لگانے کے لئے ایک لیبل کسی مستند حکومت سے لے لیتے ہیں ۔
برطانیہ سے امریکہ سے فرانس سے جاپان سے ، بڑی ہی کوشش کر کے پاسپورٹ کا لیبل لے لیتے ہیں ۔
اس لیبل کو نیشنیلٹی ( قومیت) کہہ کر خود پر چپکا لیتے ہیں ۔
لیکن کیا برٹش پاسپورٹ سے اپ انگریز ، ویلش یا اسکاٹ ہو جاؤ گے ؟
جہاں جہاں اپ کو اپنا لیبل دیکھانے کی ضروت پڑے گی  ،وہاں وہاں دیکھنے والا دل میں سوچے کا “ سرکے کی بوتل پر سردائی کا لیبل “ ۔

اسی طرح  کیا خود پر ملک ، شیخ ، رحمانی  وغیرہ کا لیبل لگانے سے  کیا اپ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اب اپ کے باپ دادا کا پیشہ بھول گئے ہیں ؟
خود فریبی میں مبتلا ایسے معاشرے میں  ، اگر کوئی بندہ   اپنے اپ پر وہی لیبل لگا لے جو کہ اس بندے کے اندر ہے تو؟
ہر بندہ دیکھ کر چونک چونک جاتا ہے ۔
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے
آپ کا تعلق پاکستان میں کس جگہ سے ہے ؟
جی میں تلونڈی کا کمہار ہوں !!۔
یقین جانیں کہ اج تک میں نے ایک بھی بندہ ایسا نہیں دیکھا  جو یہ سن کر چونکا نہ ہو ۔
اپنی اصلیت کو ٹائٹل میں چھپائے ہوئے میرے مخاطب کو  ایسے لگتا ہے کہ خاور نے اس کو ننگا کر دیا ہے ۔
ہر بوتل کے لیبل کو دیکھ کر  بوتل کے اندر جھانکنے کی عادی قوم  ، جب ہر لیبل کے کی بوتل کے اندر مختلف مال دیکھتی ہے
تو ایسی عوام کو  اصلی چیز دیکھ حیرانی ہوتی ہے ۔

اتوار، 19 اکتوبر، 2014

منظم کتوں کی کہانی ۔

ستر کی دہائی کے اخری سالوں میں سے کسی سال کی بات ہے ۔
ہمارے گاؤں میں  ایک کتے نے  تین اور کتے ساتھ ملا کر ایک ٹولی بنا لی تھی  ۔
لیڈر کتے  کی قیادت میں  یہ چار کتوں کے ٹولے کا گاؤں والوں کو اس وقت احساس ہوا جب ان کتوں نے جوگیوں کا عید پر قربانی کے لئے لیا ہوا  بھیڈو لیلا پھاڑ کھایا ۔
جوگیوں کے گھر کے سامنے ہی  پسرور روڈ کے دوسری طرف ، پرانی والے چوہدریوں کے کھیتوں میں ، کتوں کی اس واردات کو دیکھنے والے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی ۔
بھیڑ اس لئے لگی کہ کتوں کو  بھیڈو پر حلمہ کرتے دیکھ کر پہلے پہنچنے والے  لوگوں لوگوں نے جب کتوں کو ڈرا کر بھگانے کی کوشش کی تو ، کتے بجائے ڈرنے کے ،  غرا کر ان لوگں پر بھی لپکے  ، جس سے ڈر کر لوگ ایک فاصلے پر کھڑے ہو گئے  اور دوسروں کو بھی نزدیک جانے سے منع کرنے لگے ۔
سارے گاؤں میں ان کتوں کی دلیرانہ واردات کے چرچے ہونے لگے  ۔
دوسرے ہی دن ان کتوں نے فقیروں کی کھوئی کے اوپری طرف ، کمہاروں کے  بھیڈو لیلے کو پھاڑ کھایا ۔
چاروں کا یہ ٹولہ  پسرور روڈ پر بڑی منظم اور دھلکی چال میں چلتا ہوا گاؤں کے شرقاً اور غرباً  گشت کرنے لگا ۔
قصائیوں کے پھٹوں کے نزدیک بڑے  دلیرانہ انداز میں بیٹھ جاتے تھے اور جب تک یہ چار کا ٹولہ ہوتا تھا  کسی اور کتے کو قصائی کے پھینکے ہوئے چھچھڑے کی طرف لپکنے کی جرآت نہیں ہوتی تھی ۔
لیکن منگل بدھ کے دن جب کہ قصائی گوشت کا ناغہ کرتے ہیں ۔ یہ چار کا ٹولہ کسی نہ کسی کی بھیڑ یا بکری پھاڑ کھاتے ۔
دو تین ہفتے گاؤں میں انہی کے چرچے اور باتیں ہوتی رہیں ، ۔ بڑی عمر کے مردوں کے ہاتھ میں چھڑیاں نظر انے لگیں کہ جب یہ کتے سڑک پر چل رہے ہوتے تھے  تو سامنے سے انے والے انسانوں کو طرح دے کر گزرنا پڑتا تھا ، ورنہ منظم کتے، دانت نکوستے ہوئے پاس سے گزرتے تھے تو بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا تھا ۔
دین دار لوگوں نے ایک دفعہ  ڈانگیں لے کر منظم ہو کر ان کتوں پر حملہ کیا  ،  پہلے تو کتے ڈٹ گئے  لیکن آدمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے غراتے ہوئے بڑی اکڑ سے پسپا ہوتے ہوئے کھیتوں میں فرار ہو گئے ،لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد پیپل والی ٹیوب ویل موٹر کے پاس ٹہل رہے تھے ۔
گوشت کے ناغے کے ، منگل بدہ کے روز طھی ان کتوں نے واردات ڈالی اور گاؤں میں قربانی کے لئے پالے ہوئے دو جانور اور کم ہو  گئے ۔
دین داروں کے ڈانگ بردار ناکام حملے کے بعد  خوشی محمد فقیر  کی قیادت میں  رائفل اور ڈانگوں کے ساتھ کتوں کو قتل کرنے کی مہم نکلی ۔ خوشی محمد فقیر رائفل لئے گھوڑے پر سوار تھا  اور ساتھ میں ڈانگ بردار دین دار ہانکا کرنے اور گھیرنے کے لئے شامل تھے ۔
ان لوگوں نے چار کے ٹولے کتوں کو” ہوئے والی” (گاؤں) اور تلونڈی کے درمیانی کھیتوں میں  گھیر لیا ، راجباھ ( سوئے ) کی طرف فرار ہوتے کتوں میں سے  تین کتے خوشی محمد فقیر نے رائفل کے فائیر کر کے مار گرائے ، لیکن لیڈر کتا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا  ۔
لیڈر کتا کئی دن تک گاؤں میں نظر نہیں آیا ۔
کوئی دو ہفتے بعد یہ لیڈر کتا گاؤں میں پھر نظر انے لگا ، لیکن اب یہ کتا بڑا مسکین سا بنا ہوا  سڑک کے درمیان چلنے کی بجائے  مکانوں کی دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتا تھا ۔
قصائیوں کے پھٹے کے پاس چھیچھڑوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے کتے اس کو دیکھ کر اس کے لئے جگہ چھوڑ دیتے تھے  ۔
اس لیڈر کتے  نے بھی دوسرے کتوں اور انسانوں پر غرانا چھوڑ دیا تھا ۔
اس کتے کو پھر ساری زندگی کوئی ٹیلنٹ والے کتے نہ مل سکے جس لئے یہ لیڈر کتا ایک اور ٹولہ نہ بنا سکا ۔
یہ کتا مدتوں زندہ رہا  ۔ گاؤں میں لوگ اس کی طرف اشارے کر کے بتایا کرتے تھے ۔
یہ ہے وہ کتا جو ساتھی کتوں کے ساتھ مل کر لوگوں کے جانور پھاڑ کھایا کرتا تھا ۔

جمعرات، 25 ستمبر، 2014

تکّے فیل ، صوفی

یہود نصاری کی ترقی سے مرعوب جاہلوں کا کوئی علاج نہیں ہے
رائٹ برادرز نے سائکلوں کے پرزے لگا کر جو جہاز بنایا تھا
وہ ابھی کل کی بات ہے
ان جاہلوں کو معلوم نہیں  کہ داتا گنج بخش  نے کئی صدیاں پہلے اپنی کھڑاواں اڑا کر دیکھا دی تھیں ۔
صوفی کی باتیں سن کر گامے کے منہ سے سوال نکل گیا
اچھا؟ وہ کیسے ہوا تھا؟
تم بھی جاہل ہی ہو  تم یہ بھی معلوم نہیں کہ لاہور میں دودہ لینے والے جوگی  کے دودہ میں داتا صاحب نے “انگل “ ڈال دی تھی جس پر جوگی غصے میں داتا صاحب سے مقابلہ کرنے آ گیا تھا
اور جوگی  ہرن کی کھال پر سوار اڑتا ہوا  ایا تھا
داتا صاحب نے اپنی کھڑاواں کو حکم دیا تھا جو اڑ کر جوگی کے سر پر لگنے لگی تھیں ۔
گاما :اس طرح تو فیر داتا صاحب کی فلائی  ترقی سے بھی پہلے جوگی کی فضائی ترقی ہو گئی ناں جی ؟
اوے گامیا بد بختا  تم ایک ہندو کو داتا صاحب پر ترجیع دے رہے ہو ؟
تم بھی یہود نصاری کی ترقی سے مرعوب جاہل ہو جاہل ۔
صوفی صاحب ، ہندو مریخ پر پہنچ گئے ہیں ، لیکن اپ کی فلائی ترقی کہاں گئی کہ طالبان پر جب فضائی حملے ہوئے تھے تو کھڑاواں والی تکنیک  والے کہاں تھے ؟
اور یہ جو تئیس  ستمبر سے امریکیوں نے خلافت اسلامیہ پر فضائی حملے شروع کئے ہیں ۔
یہاں بھی کوئی کھڑاواں لے کر آؤ،!۔
صوفی صاحب علم وہ ہوتا ہے جس پر عمل کی تحقیق ہو کر ترقی کرئے یہ کیسا علم ہے کہ
کھڑاواں ایک ہی دفعہ اڑی تھیں ، اس کے بعد کیا کھڑاواں کے تکے فیل ہو گئے ہیں ؟
ایک عام سا مستری سائکل کے تکے ٹھیک کر لیتا ہے
تم صوفیوں نے صدیوں میں ایک بھی ایسا  ولی پیدا نہیں کیا جو کھڑاواں کے تکے ہی ٹھیک کر لیتا ۔

بدھ، 24 ستمبر، 2014

پانچواں حصہ

ہمارے ایک بزرگ تھے ( اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے) ،انہون نے گوجرانوالہ کے ایک گاؤں جنڈیالہ باغ والا سے نکل کر یورپ میں ٹھکانا کیا تھا ۔
ستر کی دہائی کے اخری سالوں کی بات ہے ، حاجی صاحب سپین کے شہر بارسلونا میں سیٹل ہوئے ۔
ایک دفعہ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ
بارسلونا میں ، اس زمانے میں یورپ میں سیٹل ہونے کی جدوجہد، پانچ دوست بھی شامل تھے ، ان پانچ دوستوں نے کاغذوں کی مہم بھی مل کر سر تھی  ۔
ان مہمات کے دوران انہون نے مل کر یک مکان بھی کرایہ پر لیا ، جس میں ضروریات زندگی کی اشیاء  بھی مل کر خریدیں ۔
روزی روزگار  کے حصول کے معاملات ، ویزے کے انتظام کے دوران ان لوگوں نے بڑی منت سے ایک ایک چیز خریدی تھی ،  فریج ، واشنگ مشین ، ٹیلی وژن ،اور ایک ایک پلیٹ گلاس ، چمچے کانٹے کی خریداری بھی ان کی یادوں کا ایک حصہ تھیں ۔
بستر قالین اور کپڑے خشک کرنے والے ہینگر ، یہ سب چیزیں کوئی ایک دن میں ہیں بن گئیں تھی سال ہا سال لگے  تھے ۔
کام کاج بھی چلتا رہا ، مسائل میں کمی واقع ہوئی ، ماحول بدلا تو  ایک دوسرے  کی عادتوں پر تنقیدی نظر بھی پڑنے لگی ، تنقید کرنے والوں میں بھی نقائص نظر انے لگے ۔
تو؟
بات تو تکار سے بڑہ کر علیحدگی تک پہنچ گئی ۔
پانچ میں سے ایک دوست نے اکیلے میں مکان کرائے پر حاصل کر لیا ۔
اکیلے میں مکان حاصل کر لینے والے دوست نے  مشترکہ مکان میں  میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر دیا ۔
باقی کے سب دوستوں نے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، کہ چیزیں مل کر خریدی ہیں تو ، ان  کا بٹوارہ بھی ہو سکتا ہے ۔
سب دوستوں نے مل کر حساب کر کے پانچواں حصہ کرنے کے لئے محفل بنائی ،تو پانچویں دوست کا مطالبہ تھا کہ میں “ ایک  ایک” چیز میں سے پانچواں حصہ لوں گا۔
پر پلیٹ اور پر کپ میں سے ، ہر چمچے اور ہر کانٹے میں سے ، فریج میں سے اور واشنگ مشین سے ہر قالین سے اور ہر بستر سے “ کاٹ “ کر میں اپنا پانچواں حصہ لوں گا ۔
اس بات پر بہت دن بحثیں ہوئیں ، بہت سے معقولیت پسند اس معاملے میں دخیل ہوئے  ۔
اس بحث میں ایک دفعہ تو معاملہ اس نتیجے تک بھی پہنچا کہ
سارا سامان تم اکیلے لے جاؤ ، لیکن سامان کو کاٹ کر بانٹ کر  خراب نہ کرو۔
لیکن
ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ
اس بندے نے ہر چیز میں سے کاٹ کر اور توڑ کر اپنا حصہ لیا تھا ۔
ہمارے بزرگ ، حاجی صاحب کا اصرار تھا کہ ایسا واقعہ ہوا تھا یہ کوئی کہانی نہیں ہے ۔

ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

کچھ کہانیاں

ایک دفعہ کا ذکر ہے
کہ کہیں کسی گاؤں کے دو جوان دوست سفر پر نکلے تو انہوں نے زندگی میں پہلی بار کیلا دیکھا، نام تو سنا ہوا تھا  پہلی بار اس کو خرید کر بڑے چاؤ سے سنبھال کر لے کر چلے ، اس کے بعد انہوں نے زنگی میں پہلی بار ٹرین کے سفر کے لئے ٹکٹ لی اور ٹرین میں سوار ہوئے ،۔
سنبھال کر پکڑے ہوئے کیلے کو ٹرین کے چلنے کے کچھ دیر بعد ایک جوان نے  بلکل ننگا ( چھلکا اتار کر ) کر کے منہ میں ڈالا ہی تھا کہ ٹرین سرنگ میں داخل ہو گئی ، یک دم اندہیرا سا چھا گیا  ، اس جوان نے فوراً اپنے ساتھی سے سوال کیا ، تم نے ابھی کیلا تو نہیں کھایا؟
جواب ملا، نہیں ! ۔
کھانا بھی نہیں ، میں تو کھاتے ہی اندھا ہو گیا ہوں ، تم بچ جانا ۔
بچپن سے ہی پڑہایا جاتا ہے
ایک تھا بادشاہ ، جو کہ بہت غریب تھا ، پھٹے پرانے کپڑے پہنتا تھا ، ٹوٹی جوتی پہنتا تھا گھر میں فاقے ہوتے تھے ، لیکن اس کے دور میں دریا کے کنارے ایک بکری بھی پیاسی نہیں رہتی تھی ۔
اب بے چاری بکری دریا کے کنارے بھی پیاسی رہ گئی تو ؟ وہ بکری  پاکستانی ہی ہو سکتی ہے کہ اس کی ٹانگ کو کسی نے رسی باندہی ہو گی ۔
پھٹے کپڑوں والے بادشاھ کے پاس اگر سمجھ بوجھ ہوتی تو ، اپنے جولاہوں اور موچیوں کو “کام” کرنے کا ماحول ہی میسر کر دیتا کہ  بادشاھ ے لئے بھی اور عام لوگوں کے لئے بھی جوتیاں اور کپڑے بنا کر کاروبار ہی کر لیتے ۔
اب پتہ نہیں کہ بادشاھ جولاہوں اور موچیوں کے خلاف تھا یا کہ ان کو “ کمی “ سمجھ کر ٹریٹ کرتا تھا ۔
ملک میں دولت اور مال کی بہتات تھی  کیونکہ دوسرے ممالک سے مال غنیمت آ جاتا تھا ۔
کبھی کبھی کپڑے کی تقسیم پر منہ ماری بھی ہو جاتی تھی  ، لیکن اپنے جولاہوں کی کارگردگی کا کوئی ثبوت نہیں  ملتا ۔

ایک اور دفعہ کا ذکر ،ایک اور بادشاہ تھا ، وہ بہت امیر تھا ، حتٰی کہ اس کا غلام بھی امیر ہو چکا تھا ، اس بادشاھ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا ، تبلیغ کے لئے اس نے کوئی سترہ دفعہ دارالکفر پر حملے کئے ۔
دارلکفر کی عورتوں اور مردوں کو غلام بنا کر منڈیوں میں اس لئے بیچتا تھا تاکہ  مذہبی آقاؤں کے مذہب کی خدمت کرئیں ۔
یہ بادشاھ بڑا علم دوست تھا کتاب لکھنے کا معاوضہ سونے میں طے کر کے چاندی میں بھی ادا کر دیا کرتا تھا،۔
۔
دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں کوئی لڑکا رہتا تھا جس نے پہلے والے بادشاھ کی کہانیاں پڑھی ہوئی تھیں ،اس کو بادشاھ سے اتنی عقیدت اور محبت تھی کہ اس نے جوان ہو کر جب کمائی شروع کی تو اس نے اپنے ابا جی کو بھی مجبور کر کے اس بادشاھ کی طرح کا لباس اور جوتے پہننے پر مجبور کردیا تھا ۔
کیلا کھا کر اندھے ہوئے لوگوں کو اس کی یہ ادا بڑی پسند آئی تھی اور اس واہ واہ کیا کرتے تھے ۔
جس سے یہ جوان اور بھی بڑھ چڑھ کر اپنے اباجی کی خدمت میں  گندے سے گندے اور  کپڑے اور ٹوٹے جوتوں نہ صرف پیش کیا کرتا تھا بلکہ اباجی کے درجات بلند کرنے کے لئے اباجی کو استعمال کرنے پر مجبور کیا کرتا تھا ۔
کیلا کھانے سے بچے ہوئے لوگ اس جوان کا ابا جی کے ساتھ سلوک دیکھ جو کہا کرتے تھے وہ ناقابل تحریر ہے ۔
تاریخ کی کتابیں پڑھ پڑھ کر یہی ہوتا ہے کہ
کسی کو کیلا کھانے سے اندھیرا چھا جاتا ہے اور کوئی بچ جاتا ہے ۔
کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ زیادہ پڑہی گئی کتابوں کا علم شارٹ سرکٹ کر جاتا ہے ۔

جمعہ، 19 ستمبر، 2014

گندے اور ملامتی لوگ

داتا گنج بخش  کی کتاب کشف المجوب میں  ایک فرقے کا ذکر آتا ہے، درویشوں کے ایک فرقے کا جس کو مصنف نے “فرقہ ملامتیہ “ لکھا ہے ۔
وہ والا پرانا لطیفہ ! خادم حیسن اور گنڈا سنکھ  والا ۔
اس لطیفے سے اپ گنڈا سنگھ کے روئے سے  ملامتی فرقے کا  اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
ضود کو ملامت زدہ بنا کر  حلئے سے  باتوں سے حرکات سے خود کر ملامتی بنا رہے ہوتے ہیں ۔
عام زندگی میں ایسے لوگ بھی آپ کو ملیں گے جو کہیں گے
جی میں تو گنہگار سا بندہ ہوں ۔
میں تو جی ادنٰی سا محب وطن ہوں ۔
میں تو جی ناقص سا مسلمان ہوں ۔
ملامتی لوگ !!۔
خود کو ملامت کر کے فخر کر رہے ایسے ذہنی مریضوں کو اگر کوئی کہے کہ یہ تو گنہگا لوگ ہیں تو؟
ان کو غصہ آ جائے گا  ۔
لیکن یہ لوگ بھی بیچارے کیا کرئیں کہ جن کو تاریخ ہی ایسی  پڑہائی گئی ہے کہ
شخصیات پرستی اور شخصیات بھی ایسی کہ
ایک تھا بادشاھ  جو ٹوپیاں بنا کر گزارہ کرتا تھا ۔
بندہ پوچھے کہ توپیوں کی کمائی سے تو لال قلعے کی “ ٹیپ “ تک نہیں ہو سکتی  تو یہ بادشاہ باقی کے گزارے کیسے کرتا تھا ؟
مرہٹوں کی  “ بغل “ میں تیر دئیے رکھا  ۔ سکھوں کے قتل کئے ۔ جنگوں میں اس کو ٹوپیاں بنانے کا وقت کب ملتا تھا ۔
ایک تھا بادشاہ ، جس کے کپڑوں کو پوند لگے تھے ،جوتیاں ٹوٹی ہوئی ہوتی تھیں ۔
یہ سب تعلیم دی جا تی رہی ہے ایک خاص ذہن بنانے کے لئے کہ لوگ بھالے اپنی غریبی میں راضی رہیں اور حکومت کرنے والے گلچھڑے اڑاتے پھریں ۔
یہاں اتنی بھی سوچ نہیں ہے کہ ٹوپیاں بنانے والے بادشاہ  نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا کیا ؟ باپ کے ساتھ کیا کیا ؟ اس بادشاھ کی موت کے بعد اس حکومت کا کیا بنا ؟
پیوند لگے کپڑوں والے وقعے تو سنائے جاتے ہیں
لیکن اس حکومت کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔؟
چھڈو پراں جی ۔
مٹی پاؤ تے روٹی شوٹی کھاؤ۔
عقل علم کی باتیں ، کافروں  ، گمراھ لوگوں  یا پھر ان کے لئے چھوڑ دو جن کو بقول پاک لوگوں کے ابھی استنجا کرنا بھی نہیں آتا ۔
استنجا پر فخر کرنے والی قوم ، باقی ساری چیزیں گلیاں سڑکیں ، کپڑے ، زبان  لہجے ، روئیے گندے
اور استنجے والئ جگہ کی صفائی پر فخر ، اوئے کون لوگ او تسی ؟؟

اتوار، 14 ستمبر، 2014

فارمی مرغی


پاؤل سے گال !! ایک سائینسدان تھا ، جو کہ جانوروں کی سائینس “ذووالوجی “ کا ماہر تھا ۔ امریکہ کی ریاست ورجینیا کے رہنے والے اس سائینس دان نے 1957ء میں برائلر چکن تیار کیا تھا ۔
اسی نے مالیکیولوں کا ایسا علاماتی چارٹ تیار کیا تھا ، جس نے ایک عام سے پرندے کو فارمی جانور بنا دیا ۔
اسی کی تحقیق سے یہ ممکن ہو سکا کہ پیدا ہونے سے لے کر “گوشت” کی عمر تک پہنچے کے لئے جس پرندے کو چھ ماہ لگتے تھے اب وہی پرندہ چھ ہفتے میں تیار ہوجاتا ہے اور اس کا وزن یعنی کہ گوشت کی مقدار بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
فارمی مرغی کی ہسٹری کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے
اس کو دینا میں آئے ہوئے ابھی آدھی صدی ہی ہوئی ہے
پاکستان میں فارمی مرغی کے فارم انیس سو اکیاسی میں پہلی بار اصغر خان کے بیٹے نے متعارف کروائے تھے ۔
تحریک استقلال والے اصغر خان کے بیٹے کے فارمنگ شروع کرنے سے پہلے  پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بھی لوگ اس حیران کن بات سے واقف ہو چکے تھے کہ
سعودیہ میں مرغی کا گوشت ، چھوٹے بڑے دونوں گوشتوں سے سستا ہوتا ہے

اس فارمی مرغی کو تیار  کرنے میں اس بات کا خیال کار فرما تھا کہ گوشت جلد سے جلد تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچایا جا سکے ۔
اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے پچیس سال میں انسانوں میں بھی گوشت کی بڑہوتی کی سپیڈ کو ایکسیلیٹر لگا ہوا ہے ۔
بڑھے ہوئے پیٹ ، فارمی مرغی کی طرح کے ملائم ملائم مسل !۔
انسانی تاریخ میں فلک نے شائد پہلی بار  دیکھے ہوں گے۔
فارمی سوروں اور فارمی  مرغیوں کی  خوراک میں جو ایکسیلیٹر ان کے گوشت کو بڑہانے کے لئے لگایا گیا ہے ۔
وہ ایکسیلیٹر ! اب اس گوشت کو کھانے والے انسانی جسموں تک پہنچ چکا ہے ۔
ثواب اور عذاب ! بنانے والے رب نے کسی حد تک انسانی جسم ہی رکھ دئے ہوئے ہیں ۔
جن کو بیماریاں بھی کہہ سکتے ہیں ۔
بکٹیریا ، انسانی جسم میں بیماریاں بھی بنتے ہیں اور بیماری کے خلاف مدافعت بھی بنتے ہیں ۔
یہ کھاد لگی فارمی مرغیوں کے گوشت کی خوراک ان بیٹیریا کو بھی مضبوط کرتی ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کھاد بیماری کے بکٹیریا کو مضبوط کرتی ہے تو مدافعت والے بکٹیریا بھی تو مضبوط ہو رہے ہیں ۔
لیکن اس بات کا جواب یہ ہے کہ کائینات توازن پر قایم ہے کسی بھی چیز کی بہتات بھی خوبی کی بجائے خامی بن جاتی ہے ،۔
جس کی مثال انسانی جسم میں چربی ، شوگر کیشلم کی زیادتی کی دی جا سکتی ہے ۔
بیماریوں کے خلاف مدافعت کرنے والے بیکٹریا بھی اپنی بہتات کے ساتھ عذاب بن جاتے ہیں ، جس عذاب کی سب سے بڑی قسم بلڈ پریشر اور شوگر کی زیادتی بنی ہوئی پے ۔