منگل، 31 جنوری، 2012

دی خاور کنگ اور بلاگ

ميں نے اردو میں بلاگ لکھنا شروع کیا تھا
تو مجھے اس بات کا یقین تھا که پانچ چھ سال تو کوئی شائد اس کو پڑھنے بھی نهیں آئے گا
کیونکه انٹر نیٹ ابھی شروع هوئے چند هی سال هوئے تھے اور
لوگاں کو انگریزی ایسے چڑھی هوئی تھی جیسے چوھڑے کو شراب چڑھی هو
کمپیوٹر میں اردو کے لکھنے کا حال اج بھی یه ہے که
انگریزی چڑھے لوگ اس کو
کار محال است
بیکار است
غریب است
که
کار دیگران هی سمجھتے هیں
جب میں نے بلاگ لکھنا شروع کیا تو مجھے کچھ علم نهیں تھا که کوئی اور بھی اردو ميں بلاگ لکھ رها هے که نهیں
اور بلاک لکھنے کی اخلاقیات اور موضوعات وغیره کیا هیں
صرف ایک لفظ پڑھا سنا تھا جی انٹر نیٹ پر
اور بس پھر مفت بلاگ بنانے کی سائیٹ بلوگر مل گئی اور چل سو چل ـ
جب لکھنا شروع کیا تو دلچسپی هوئی که اردو میں سرچ کریں
تب جا کر کچھ دوسرے بلاگ ملے جن ميں مجھے جو یاد هیں
ان ميں دانیال کا نام آتا ہے اور
بعد میں شیعب دبئی والا
اور پھر
ایک هی گھر کے تین اردو بلاکر
اجمل صاحب ، ان کے بیٹے زکریا اور ان کی بیٹی عنبرین کا بلاگ تھا
بہت عرصه تو میں نام کے معاملے میں هی کنفیوژن کا شکار رها که
نام کیا رکھیں جی بلاگ کا؟
خاور کی بیاض
کے نام سے کچھ کاپی پیسٹ اور نقلیں بھی لکھیں
میرے بلاگ پر پہلا تبصره ایک خاتون نے کیا تھا
رومن اردو ميں
که ميں بھی اردو لکھنا چاهتی هوں
اور دوسرا تبصره تھا اجمل صاحب کا
جو که میری توقع سے بہت جلدی هوئے
که میں اس کی توقع نهیں کرتا تھا
مجھے یاد هے که پہلے پہل تو تبصرے کے جواب کا کیا کروں کهاں لکھوں کی پریشانی بن گئی که
بات میرے بلاگ پر لکھی هے تبصره بھی یهیں هوا هے اور ميں سوچ رها هوں که جواب تبصره کرنے والے بندے کے بلاگ پر لکھا هو گا؟؟
اک بد تمیز تھا
ایک رانا قدیر تھا
یه رانا قدیر بھی بڑی بچگانه طبیت کا بنده تھا
بس رس رس جاتا تھا اور بلاگنگ چھوڑنے كی دھمکیاں
قارئین کی ناں چھوڑنے کی درخواستیں
لیکن اج اس نام کے بندے کو کوئی جانتا بھی کم هی هو گا که
اگر بلاگنگ کرو کے تو بلاگر کی پہچان کے مالک هو ں گے ناں جی
ورنه
جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟؟
اردو کی بلاگنگ کی دنیا ميں بڑے لوگ داخل هوئے
لیکن مستقل مزاجی سے چلنے والے هیں
اپنا ڈیره والے منیر صاحب
میرا پاکستان والے افضل صاحب
منافقت کے خلاف والے اجمل صاحب
اور
میں خود خاور کنگ!!ـ
یه کنگ کا لاحقه بھی جی میرا خود کا خود کو دیا هوا نهیں ہے
اسی کی دهائی میں راشد پٹواری نے پہلی دفعه کها تھا اور پھر علاقے کے سارے هی لوگ کہنے لگے
معنوں کا علم ہے که نهیں
لیکن اج بھی همارے علاقے کا رهنے والا کهیں بھی مل جائے ، کنگ صاحب هی که کر بلاتا هے
بلاگنگ کے چند سالوں ميں کئی لوگ آئے اور چلے گئے
میں جو که خود زیاده مذہبی نهیں هوں
اس لیے مذہبی ریا کاروں کی مخالفت کرتا رهتا هوں
اور سمجھتا هوں که اردو کی بلاگنگ میں اگر تغرے ، تعزیے اور تعویز لگے بلاگ نهیں هیں تو اس میں میری بھی کوشش شامل هےـ
یهی حال وکی پیڈیا میں بھی هے که
مذہبی ریا کاروں کا راسته روکنے میں میری کوشش اس لیے کامیاب رهی که یهاں
اصلی والے اهل علم بھی تھے جنهوں نے میرا ساتھ دیاـ
مجھے اپنے بلاگ لکھنے کا ایک فخر هےـ
که یه میری پہچان هے
لیکن اردو کے وکی پیڈیا سے تعلق بھی میرا فخر هے ـ
اردو سیاره اور پھر اردو محفل بعد کی باتیں ، لیکن ان دو سائیٹوں نے انٹر نیٹ پر اردو کی اشاعت کے لیے بهت نام پایا هے ـ
مجھے یاد هے که اردو محفل کی شروعات پر میں نے ایک پیسٹ بھی لکھی تھی ـ
لیکن یقین کریں که مجھے اس وقت تک بلکل بھی سمجھ نهیں تھی که جو چیز یه لوک بنانے جا رهے هیں یعنی که فورم !!ـ تو یه هو گی بلا اور کرے گی کیا؟
اردو کی بلاگنگ میں اج کے لکھنے والے لوگ !ـ
میں سمجھتا هوں که مجھے سے زیاده علم والے اور سمجھدار هیں ـ
مجھے یاد نهیں آ رها که کسی شاعر نے کها تھا
که میں چراغ سحر تو هوں لیکن میرے بعد اندھیرا نهیں اجالا آ رها هے
اسی طرح سے میں بلاگ لکھنے والوں میں پرانا ترین تو هوں لیکن
بہتر ترین نهیں هوں ـ
لیکن اس بات کی خوشی ضرور هے که
اج کے دور کے بهترین لوگ جو که لکھنے والے هی هوتے هیں کسی بھی دور کےـ
اور اج کے بهترین لوگ هیں جی وه لوگ جو لکھتے هیں
اور ان ميں سے بھی اچھے هیں وه لوگ جو کسی کے لیے نهیں اپنے لیے لکھتے هیں
اور وه هیں جی بلاگر
میں بھی ان لوگوں میں شامل هوں ـ
بلکه مشکور هوں که ان لوگوں نے مجھے بھی شمولیت دی هوئی هے ـ
ان اچھے لوگےں ميں بھی کچھ عادتیں
بری هیں ـ
جیسے که کچھ بری عادتیں مجھ میں بھی هیں
ایک سب سے بری عادت جو هے
وه هے
تبصره کرنے والے پر چڑھ دوڑنے کی!!ـ
پنجابی میں کہتے هیں
لکدی لاء کے چڑھ جانا
اس بات کی معنویت پر غور کریں ـ
لکدی لاء کے چڑھ جانا
اور یه کوئی اچھا رویه نهیں هےـ
میں نے تبصروں کے متعلق یه رویه رکھا هوا هےکه
میں نے جو اچھا سمجھا اپنی دانست ميں اسے لکھ دیاهے
اب تبصره کرنے والا تنقید کرے یا تائید مجھے اس کا جواب دینا نهیں بنتا
که اس طرح سے جواب در جواب کا ایک سلسله چل نکلتا هے جو که بلاگنگ نهیں چاٹنگ کهلوائے گا
چاٹنگ میرا مقصد نهیں هےـ
هاں اکر میں محسوس کروں که تحریر میں کچھ کمی ره گئی هے
تو اس کے لیے یا تو میں ایک اور پوسٹ لکھوں گا
یا پھرپھر صرف اس خامی یا کمی کی بابت بتا کر !!ـ بس!!!ـ
اور تبصره کتنا بھی غلط یا تلخ کیوں ناں هو میں اسے ڈیلیٹ نهیں کروں گا
کیوں؟؟
کیونکه
اج سے سالوں بعد یا صدیوں بعد اگر کوئی اس تحریر کوپڑھے تو اس کو اندازه هو سکے که لکھاری کیا سوچتا تھا اور اس دور کے لوگ اس تحریر کے متعلق کیا رویه رکھتے تھے
گندی گالیاں تک لکھ جانے والے بھی هوتے تھے که نهیں "اُس" دور ميں ؟؟
میں نے اپنی سوچ کو الفاظ کا روپ دے کر چھوڑ جانا هے
اوراس تحریر کی بقا کی دعا مانگنی هے
باقی میں غلط تھا که صحیع ، گندا تھا که پاک ؟
اس بات کا فیصله انے والے وقتوں کے لوگ کریں گےـ
یعنی اپ !!ـ جو اس تحریر کو پڑھ چکے هیں ـ

جمعہ، 27 جنوری، 2012

لوک کہانی اور میڈیا

جاپانی زبان کی ایک لوک کہانی کے
جس ميں ایک بچه جس کا نام هوتا هے
اورا شیما تارو
ایک دن سمندر کے کنارے شرارتی بچوں کی زد میں آئے ایک کچھوے کو بچاتا هے
جس پر کچھوا اوراشیما تارو کو اپنے دیس کی سیر کی دعوت دیتا هے
کچھوا تارو کو لے کر زیر آب اپنے دیس لے جاتا جهاں تارو کجھ دن گزارتا هے
واپسی پر کچھوے اس کو ایک بکس دیتے هیں که اسے ناں هی کھولنا که تمهارے لیے یه هی بہتر هے
جب اوراشما تارو سمندر سے باهر اتا هے تو زمین پر زمانے بدل چکے هوتے هیں صدیوں کا فرق پڑ چکا هوتا هے
لوگوں سے اپنے متعلق پوچھتا ہے تو بڑے بوڑھے اس کو بتاتے هیں که
هاں اس نام کے ایک لڑکے کا سنا تو تھا جو سمندر میں ڈوب کر مر گیا تھا
اس بات پر اوراشیما کی حیرانی اور حالت کو جاپانی زبان میں محاورے کے طور پر بولتے هیں
مثلاً ایک سڑک سے چند سال بعد گزر هو اور وهاں عمارتیں هیں عمارتیں بن چکی هوں تو
کهتے هیں میری تو اوراشیما تارو والی حالت هو گئی
که زمانه هی بدل چکا تھا
میری بھی کچھ یهی حالت هوئی
که مسالے خریدنے تھے
عمران کے خلال فوڈ نما ریسٹورینٹ پر گیا تو سوچا که کھانا بھی کھاتے چلے جاتے هیں
ٹی وی پر مولوی لگے تھے تغرے چل رهے تھے
عمران کا بھائی پوچھنے لگا که مولوی هی چلنے دوں یا
خبریں دیکھیں گے؟
مجھے پاک ٹی وی دیکھنا کم هی نصیب هوتا هے بلکه
سالوں سے دیکھا هی نهیں هے
پاکستان بھی گیا تو
کچھ بجلی کی کم اور کچھ دوسری مصروفیات
اور کچھ همارے گھر میں کیبل کی کمی
ٹی وی پر پروکرام چل رها تھا
جرم بولتا هے
میری بھی حالت اورا شما تارو والی هو ئی
که زمانه هی بدل چکا هے
سنسنی انگیز طرزکلام
پراگنده خیالات
یه کیا دیکھایا جارها هے لوکاں کوجی؟
مجھے محسوس هوا که
پروگرام دیکھانے والوں کے ذہن بھی واضع نهیں هیں که وه لوگان کو بتانا کیا چاهتے هیں
ایک خبر میں مجرموں کو مظلوم بنا کر پیش کیا چارها هے تو دوسری میں پولیس کو بیوقوف
تیسری میں قانون کی بے بسی
تو چوتھی ميں قانون کو ظالم بنا کر پیش کیا جارها هے
اور هر بات پر لقمه دیا جارها هے !ـ
تو
پھر
جرم بولتا هے!!!ـ
اور یه انداز بیاں
یه سنسنی خیزیان
لگتا هے پنجابی فلموں کی انڈسٹری کو تباه کر دینے والے مکالمه نگاراور کہانی کار
اور دوسرے فنکار مل کر اج کل میڈیا چلا رهے هیں !!ـ
اچھے خاصے مرد
خاور کی سوچ کو پریشان کرکے رکھ دیا هے جس چیز نے اس کو روز دیکھنے والے
کس سوچ کے مالک هوں گے؟؟
سوچ کی پریشانی هے که
زلف پریشان کی طرح گلیان سڑکیں ، شهر ابادیاں
هر چیز پریشاں هے
الجھی هوئی سوچ هے که هر چیز الجھی هوئی هے
که
سلجھی هوئی هوئی کوئی چیز بھی هوگی پاکستان میں ؟؟
هندو ، مسلمانوں کو بیوقوف سمجھا کرتا تھا
پاکستان بنا کر
هم نے ساٹھ سالوں ميں هندو کا نظریه صحیع ثابت تو نهیں کر دیا کهیں؟؟
اورا شیما تارو والی حالت هے جی میری!!!ـ

اتوار، 22 جنوری، 2012

بلا عنوان

یه پاکستان میں هر مشکوک موت کے ڈانڈے آرمی سے کیوں ملتے هیں
یا که
هر مشکوک قتل کے اشارے آرمی کی طرف کیوں جاتے هیں؟؟
http://www.bbc.co.uk/urdu/rolling_news/2012/01/120121_rollingnews3.shtml
وه مسخ شده بلوچ لاشیں
غائب شائیب لوگ
پراسرار قتل
نامعلوم قاتل
بے شناخت لاشیں

میری پاک قاتلوں سے بہت عاجزانه درخواست هے که
پاکستانیوں کو قتل ناں کریں
کیونکه
قتل هو کر بنده مرجاتا ہے

منگل، 17 جنوری، 2012

یونیکس کی سی ڈیز

یارو منڈا ضد کرتا هے که
یونیکس کی سی ڈیز جاپان سے هی بھیجو
اپ کو تو معلوم هی هے که جن کو باهر کی کمائی اتی ہے ان کی عادات
هوتی هیں که سب کام
اور چیزیں باهر سے هی آ جائیں
اور رویه بن جاتا هے
کم جوان دی موت اے
اور هر چیز کی ذمه داری کسی اور کی هوتی هے
اور هر بگڑے کام ميں غلطی بھی کسی اور کی هوتی هے
اور هر ذمه داری ٹالنے کے لیے هوتی هے
اس لیے

علمائے یونیکس سے مدد کی اپیل ہے که
مجھے بتائیں که ميں یه سیڈیز کهاں سے حاصل کروں؟؟
صرف سی ڈیز هی چاهیے
ڈاؤن لوڈ یا کسی قسم کا م نهیں بتانا هے جی
یونکیس کے علمائے کرام کو میں نے ذہین پایا هے
اس لیے
مجھے یقهن هے که
ان کو میری بات کی سمجھ لگ گئی هو گی
هے کوئی عالم جو بتائے که پاکستان ميں کهاں سے مل سکتی هے یا که کہاں سے ملیں گی

ہفتہ، 14 جنوری، 2012

بلاگ پوسٹ


پاکستان میں اج کل ایک لفٹین کرنل کی بیٹی کی ذهانت کا اور اس کی بیماری کا بڑا چرچا هے
الله اسے شفا دے
که بجے سب کے پیارے هوتے هیں
بلکل انہی بچوں کی طرح که جن کے باپ فوج کے لفٹین نهیں بن سکتے
گدھا ریہڑی چلا کر بچوں کو پالتے ـ
هو سکتا ہے که کسی بلڈی سولین کا بچه بھی ذهین هو جائے؟؟
هو بھی جائے گا تو کیا!!ـ
جاڑے کی چاندنی اور غریب کی جوانی تو بس کہیں آئی آئی که ناں آئی جیسی هی هوتی هے ناں جی؟
ایک دفعه ایمبیسی میں کام پڑ گیا
کسی نے فون کر کے ایمبیسی میں بتا دیا که خاور آرها هے
اور یه بڑا زہریلا بنده هے
اس کو اعتراض کا موقع نهیں دینا ـ
عملے نے بہت تعاون کیا که ایک فارم پر میوکی کے دستخط کی ضرورت تھی لیکن دستخط نهیں تھے ،
متعلقه افسر صاحب نے کها که گھر سے فیکس کروا لیں اسطرخ سے بھی کام چل جائے گا
مجھے بڑی سهولت محسوس هوئی ـ
کام هو جانے کے بعد افسر صاحب نے پوچھا که جی اب تو کسی بات پر اعتراض نهیں ناں جی؟؟
میں نے کها که اعتراض تو ہے لیکن اکر طبع نازک پر ناگوار نان ہو تو!!ـ
مجھے اعتراض ہے که جیسا رویه اپ نے اج میرے ساتھ اپنایا هے
ایسا هی رویه سارے هی پاکستانیوں کے ساتھ هر روز اپنایا جائے تو بهتر هے ـ
افسر نے ہنس کر بات ٹال دی لیکن
خاور کی سوچ کچھ اسی طرح کی هی هے
اس لئے میری نظر میں کسی فوج کے فرشتے لفٹین کی اولاد بھی اور بلڈی سیولین کہلوائے جانے والے عام سے پاکستانی کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہے
اگر اچھو ڈنگر کا ابا کمپیوٹر خرید کر اپنے بچوں کو دینے کے جوگا ہوتا تو اچھو بھی شائید ڈنگر نہیں ہوتاـ
اور پاکستان میں یہ حالات کس نے پیدا کیے ہیں کہ
کچھ لوگ تو سارے پلاٹ اور رقبے
نام کر لیں اور کچھ لوگ که
جن کو روٹی کے لالے پڑے هیں ، سائیکل تک خریدنے کے لیے سالوں پلاننگ کرنی پڑتی هے
کمپیوٹر تو دور کی بات هے
یهاں کلکولیٹر چلانے کی "جاچ" سیکھنی پڑتی هے ، کیونکه میسر نهیں
سر جی پاکستان کا نظام بناؤ که پاکستان کے سورسز پاکستانیوں پر خرچ هوں
ناں که هندو کا هوّا ، کشمیر کا مسئله ، دہشت کی جنگ اور وغیره وغیره پر خرچ
تو پھر دیکھیں که پاکستان (سویلین) ميں ٹیلنٹ کتنا هے
خود داری ایک چیز هوتی هے جو که بھیک پر پرورش پانے والوں کے لیے اجنبی چیز هوتی هے
اج کل ایک اور سوال میرے ذہن ميں پیدا هو رها هے
که
ویت نام کی جنگ میں جب امریکی فوجیوں کو جنسی ٹوائلٹ کی ضرورت هوئی تو انہوں نے ڈالر کی دیواریں چن کر بنکاک اور نواح میں اپنی ضرورت پوری کرلی
اب جب که افغانستان میں نیٹو کی فوجیں مہم پر هیں اور ان کے پاس ڈالر بھی هیں اونچی دیواریں چن کر خامیوں کو چھپانے کے لیے تو؟؟
اج کل ان کی اس بھوک کا کیا علاج کیا جارها هے، جس بھوک کو فرائیڈ نے کھانے کی بھوک کے بعد کی دوسری اهم بھوک بتایا تھا
جی هاں جنسی بھوک کی بات کر رها هوں
کون هیں جو ان کو سپلائی کر رهے هیں ؟؟
مال کہاں سے آ رها هے؟
یا که تحقیق نامی مشقت سے بیزار پاک قوم کو تب هی پته چلے گا جب کوئی جاپانی یا یورپی بتائے گا؟؟

ذہنی بد کاری


پنجابی میں کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
کچھ کم عقل یه بات کسی غریب گهرانے کے کسی فرد کے کسی بات میں ترقی کرجانے پر طنزیه بهی کہتے هیں ـ
لیکن اصل میں بات اپنی طاقت کے مغالطے میں مبتلا کسی کے متعلق کہا جاتا ہے ـ
ایسے سماج جو افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا هوں ان کے اپنی ترقی کے ڈهنڈورے پیٹنے کو بهی کہتے هیں ـ
ہم پاکستانی یه نہیں سوچتے که تعمیر ترقی کی باتیں اس قوم کو زیب دیتی هیں جو تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے تک پہنچ چکی هو ـ
هم قومی حثیت سے افلاس اور جہالت کے جس نقطے پر کهڑے هیں
وہاں سے تعمیر ترقی کی باتیں دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوه کچھ نهیں ـ
پهر پنجابی کا ایک محاوره
بُنڈ وچ گهوں نہیں تے کاواں نوں سینتراں ـ
هم اپنی اس پسماندگی کے سلسلے میں قابل ملامت بهی هیں اور قابل رحم بهی
لیکن قابل معافی بلکل بهی نہیں ـ
کچھ عقلمند دوست جن کو میں واقعی عقلمند سمجهتا هوں
آپنی قوم کے قابل معافی هونے کا کہتے هیں اور اس کے لیے دلیل ان کی هوتی هے ـ
که
ہماری تعلیمی پسماندگی اور جہالت کے پس منظر ميں صرف غلامی کی هی ایک صدی نہیں سماجی ، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی انحطاط کی بهی کئی صدیاں شامل هیں
اور ہمں ماضی کے اس زبردست نقصان کی تلافی کے لیے جو مہلت ملی ہے وه بڑی مختصر ہے اور اس مختصر مہلت میں ہم صدیوں کے قرضے چکانے سے قاصر هیں ـ
لیکن
اس معقول عذر کے باوجود میں اپنی قوم کو قابل معافی نہیں سمجهتا

اور ہم اپنی تعلیمی پسماندگی میں اخلاقی طور پر دیوالیه هو چکے هیں ـ
اب ہمیں معافی نہیں تلافی کرنی هو گی ـ
جی ہاں تلافی !!ـ
تلافی کیسے کریں ؟؟
کہاں سے شروع کریں ؟
یارو میں بهی اسی ذہنی پسماندگی کے شکار معاشرے کا ایک فرد هوں میری سوچ کی پرواز بهی محدود ہے
کیا کریں کہاں جائیں ؟
ضیاء صاحب جب جاپان آئے تهے تو انہوں نے جاپانی قوم سے نقد خیرات کی بجائے تکنیک کی بهیک مانگي تهی
تو
معاشی ،اخلاقی ، تکنیکی ، تعلیمی اور معاشرتی طور پر امیر تر اس جاپانی قوم نے پوچهاتها که پاکستان کے پاس ہماری تکنیک وصول کر ''جوگے '' هاتھ کتنے هیں ؟؟
اور ضیاء صاحب کا منه بند هو گیاتها
پهر ضیاع صاحب نے اس کی کیا تلافی کی؟؟

اُجڑیاں مسیتاں دے گالڑ امام
انہیاں وچ کانے راجے
ضیاع صاحب بهی تو اس قوم کے تعلیمی انحطاط کے ذمه داروں میں سے ایک تهے
صدیوں سے ہمیں تعلیم سے دور رکها گیا ہے ـ
ایک کرب ہے که سونے نہیں دیتا
علاج کیا هو ؟
پهر بات وهیں آ جاتی ہے
که میری اوقات کیا ہے اور حثیت کیا ہے اور باتیں کیا کررها هوں
شائد اسی کو کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
لیکن ایک نسخه ہے اس بیماری کے علاج کو شروع کرنے کا میں نہیں کہتا که یه علاج ہے
هاں علاج کی شروعات کا یقین ہے مجهے اس نسخے سے ـ
چهوٹا منه تے بڑي بات
یارو آؤ قرآن کے ترجمعے کو عام کریں
لوگوں کو دعوت دیں که قران کا ترجمعه پڑها کریں ـ
تفسیر کو بهی بعد میں پڑھ لیں گے
ابهی صرف ترجمعه اور اس پر غور ـ

انداز بیاں گر چه که میرا شوخ نہیں
شائد که تیرے دل میں اُتر جائے میری بات

منگل، 10 جنوری، 2012

ٹھنڈے بے غیرت

ایک ملک میں حکومت مخالف مظاہروں میں فوجی فائیرنگ سے پانچ ہزار لوگ مر گئے!!۰
ملک کے سربراہ نے گیر ملیی میڈیا کو بتایا
کہ
ہم نے ایسے لوگوں کے ساتھ دہشت گردوں والے سلوک کے لئے کمر باندہ لی ہے
میں اپنے ملک کی عوام کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور ان کی حفاثت کروں گا
تو سوال پیدا ہوا کہ
جو لوگ مارے کئے وہ
کیا عوام نہیں ھے
تو کیا تمہاری۰۰۰کے خصم تھے؟؟

ایک ملک کی فوج نے اپنے ہی ملک پر قبضہ کر لیا
ملک میں بغاوت ہو گئی
ادھا ملک علیحدہ ہو گیا
فوجی سربراہ نے کہا
ہم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں
ملکی دفاع میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی
ہم دشمن کو وہ کر دیں گے ہم دشمن کو یہ کردیں گے
تو سوال پیدا ہوا کہ
ادھا ملک گنوا کر جغرافیے کے ساتھ جو بلاد کار کردیا گیا ہے
وہ کیا تمہاری ۰۰۰ کی ۰۰۰ تھی جو استعمال کے لیے ۰۰۰۰کو دے دی

ایک ملک کے وزیر داخلہ کا بیان
شر پسندوں کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر کسی نے امن خراب کرنے کی اجازت مانگی ہی نہیں تو؟؟؟

بدھ، 4 جنوری، 2012

هیرو اور انسان


گاندھی بھی ایک انسان تھا
لوگوں اپنے هیروز کو بھی انسان هی بنا کر پیش کرو
که اس میں معاشرتی فوائد هیں
ورنه برائیوں پر پرده ڈالنے کے لیے یه بہانه بنایا جائے گا
که
هم کمزور لوگ نبیوں کی سنت کیسے پوری کرسکتے هیں ـ

میں مسلمانوں گے متعلق نهیں لکھوں گا
که
بیچارے ذہنی نابالغوں کے اسلام کی توهین هو جاتی هے


منگل، 3 جنوری، 2012

ٹیگ کا جواب


عمار ابن ضیاءکی طرف سے شروع کیا گیا ٹیگ کا سلسله
جی که عرفانیات سے هوتا هوا مجھ تک ایا هے
لیکن مجھے اس کو اگے منتقل کرنے کی سمجھ نهیں آ رهی ہے


2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
دبئی کے لیے جاپان سے پارٹس کی ایکسپورٹ کے کام کو شروع کرنا اور اس کو ترقی دینا ہے

۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
جاپانی ین کی قدر کے کم هونے کا انتظار هے یاکه جاپانی چیزوں کی قیمت کم هو اور غیر ملکی خریاداروں کی آمد هو

۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
اپنے سکریپ یارڈ پر حکومتی اجازت نامے کے ساتھ گاڑیوں کی کٹائی کا کام شروع کرنے ميں کامیابی

۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
چھٹی چھوٹی سی پریشانیوں کے علاوه کچھ نهیں ،

۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
کوئی خاص نهیں ، کام کی مصروفیات نے مشین سا بنا دیا هے ، یه سوال پڑھ کر یه احاساس اور بھی بڑھا هے
۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
 پہلا هفته تو بڑا هی مصروف  اور کیش کی کمی کا احساس

۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
هزروں خواهشیں ایسی که هر خواهش په دم نکلے ، سرور کو سیٹ کرنے اور اس پر ویب هوسٹ کا علم حاصل کرنا چاهتا هوں تاکه
بلوگر کی طرح کا ایک بلاگ بنانے والی سائیٹ بنا دی جائے ـ

اتوار، 1 جنوری، 2012

یادیں

بہت سال پہلے کی بات ہے که میں گاؤں گیا تھا که
معلوم هو ا
میرے ایک اجھے دوست ملک ذکاء  الله  بٹ کا چھوٹا بھائی ضیاءلاهور ميں قتل هو گیا هے
قاتل یا قاتلوں نے بڑے هی بہیمانه  طریقے سے اینٹیں مار مار کر  قتل کیا تھا که میت دیکھ کر خوف اتا تھا
دو دن بعد هی ذکاءءالله نے بتایا که سیف الله جو که ذاکاء الله کا چھوٹا بھائی هے اور ان دنوں ملائشیا محنت مزدوری کے لیے گیا هوا تھا
کهیں ملائیشا سے براسته تھائی وطن واپسی کی کوشش میں بنکاک میں جیل میں هے
میری اگلی منزل جاپان تھی
بھائی ننھےپریشر ککر لانے کا کہا ھا اور جلیبیان بنانے کیے مسالے رنگ کاٹ ٹاٹری وغیره
اور ایک جاپانی ساچو نے پاکستان سے قالین لانے کی فرمائیش کی تھی
میں نے سوچاکه میں براسته بنکاک جاپان چلا جاتا هوں
اور سیف الله کو بھی ملتے چلا جاؤں گا
میں جب بنکاک گیا تو
جیل کا معلوم کرکے ملاقات کے لیے گیا
فارم پر کرکے سیف کے ملاقاتیوں والے جنگلے مين انے تک کے وقت ميں میں نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں
کیلے بسکٹ جوس اور دیگر چیزیں جو که جیل کی کنٹین سے ملیں وه بھی  سیف الله کے لیے داخل کرواءدیں اور ایک معقول سی رقم کو که کہ لین که ان دنوں پاکستانی پولیس مین کی ایک ماه کی تنخواه کا نصف تھی بھی سیف کے اکاؤنٹ ميں داخل کروا دی
جب سیف الله جنگلے میں پہنچا تو اسے نهیں معلوم تھا که میں نے کیا کیا اس کے نام پر اندر بھیجا هے
اس لیے جب میں نے استفسار کیا که کسی چیز کی ضرورت تو ہے؟
تو اس نے کہا که
ایک تو پسی هوئی مرچ لے دیں که اندر چاول تو مل جاتے هیں لیکن اکر مرچ هو گی تو پانی میں گھول کر ان پر ڈال کر کھالیا کروں گا
اور اگر هو سکے تو پانچ سو ڈالر کی رقم بھی دے دیں که اس طرح ميں ٹکٹ کٹوا کر جلدی پاکستان جا سکتا هوں
میرے پاس خاصی بڑی رقم موجود تھی
لیکن پتی نهیں کیوں میں بخیلی کا شکار هو گیا که میں نے اس کو کها که  مرچ وغیره تو بھیج دیتا هوں لیکن پانچ سو ڈالر مشکل هیں
میں تمهارے بڑے بھائی سے کهتا هوں
مجھے معلوم بھی تھا که ذکاء کے مالی حالات بہت خراب هیں
مجھے چاهیے تھا که ميں پانچ سو ڈالر قربان کر دیتا
لیکن شائد ذکاء کے مالی حالات کے خراب هونے کا علم هونے کی وجه سے مجھے اپنی رقم مرتی هوئی لگی تھی
که
میں بخیلی کر گیا
ایک که دو دن بعد جب ميں ناریتا پہنچا تو
ایمکریشن والوں نے پکڑ لیا که
اس دفعه انٹری نهیں ملے گی
کیوں؟؟
جواب تھا که انسپکٹر کی صوابدید پر!!ـ
یهاں سے فل فئر کی بنکاک تک کی ٹکٹ کوئی ستره سو ڈالر کی بنی
بنکاک ميں کیا کرنا تھا
ميں نے سوچا که اب فرانس چلتے هیں
بنکاک سے فرانس تک کی ٹکٹ
لی اور پیرس چلا گیا ، جن دوستوں سے ملنے کی امید تھی وه نان مل سکے اس لیے بارسلونا کی طرف منه کیا
ایک ماه یهاں ره کر لندن کے لیے ٹرین پر پیرس اور پھر لندن !!ـ
لندن مين چند هفتے رهنے کے بعد کوریا سے ایک جاپانی دوست کا پیغام ملا که یار کوریا هی اجاؤ
ذرا رونق رهے گی
لندن سے بائیٹرین پیرس اور پھر براسته کراچی بنکاک اور بنکاک سے سیول
سیول ميں جب اس جاپانی دوست سو جاپان سے ڈیپورٹ هونے کی بات کی تو اس نے کها
که فارغ بیٹھے هیں کیوں ناں ناریتا چلیں اور ذرا ایمگریشن والوں سے  منه ماری کرکے آتے هیں
چلو جی چلو چلتے هیں
لیکن جب ٹکٹوں والے سے پوچھا تو اس نے بتایا که اج کی تاریخ ميں ناریتا کے لیے کوئی سیٹ نهیں هیں
هاں اوساکا کے لیے سیٹ مل سکتی هے
جاپان دوست کہنے لگا
ایک هی بات هے
چلو اوساکا چلتے هیں
که اوسکا کے لوگ زنده دل هوتے هیں ، اس لیے منه ماری کا بھی مزه آئے گا
کچھ جگتیں سنیں گے کچھ کہیں گے اور واپس آ جائیں کے که جو سرخ رنگ کی مهر تمهارے پاسپورٹ پر جاپان ایمگریشن نے لگا دی هے اس کی روشنی میں اب تمهیں جاپان کی انٹری تو ملنی نهیں هے
اوسکا میں ایمگریش کاؤنٹر پر گیا تو انسپکٹر نے فارم دیکھا اور انٹری کی مہر لگانے جارها تھا که جاپانی دوست نے کها
وه مہر تو دیکھو !ـ
هم اس پر بات کرنے آئے هیں
اب جی نیا کٹا کھل گیا
اور ایک لمبی تفتیش
لیکن افسر لوگ هم کو ئی بات نهیں کرنے دے رهے
ایک گھنٹا بعد انٹری کی مهر لگا کر کہتے هیں که جاؤ!!ـ
یه تو مزه نهیں آیا !!ـ
جاپانی دوست نے کها
لیکن چلو
اب تم بھائی کے پاس جاؤ اور میں سیول واپس جاتا هوں
اس وقت تک وه سارا سامان قالین اور جلیبیوں کے مسالے اور پریشر ککر میں ساتھ هی لے کر چل رها تھا
ایک پانچ سو ڈالر سیف الله کو ناں دینے کے بعد اس سامان کو منزل تک پهنچانے پر میرا کوئی پانچ هزار ڈالر خرچ آیا تھا

لیکن سف الله کا گاؤں ميں رویه کیا هے؟؟
سب کو بتا رها هے که خاور بھائی جان ملاقات کے لیے آئے تھے اور بهت سا سامان اور ایک بڑی رقم بھی دے گئے تھے
لیکن خاور اس کی پوری مدد ناں کرسکنے پر شرمنده ہے