بدھ، 4 جنوری، 2012

هیرو اور انسان


گاندھی بھی ایک انسان تھا
لوگوں اپنے هیروز کو بھی انسان هی بنا کر پیش کرو
که اس میں معاشرتی فوائد هیں
ورنه برائیوں پر پرده ڈالنے کے لیے یه بہانه بنایا جائے گا
که
هم کمزور لوگ نبیوں کی سنت کیسے پوری کرسکتے هیں ـ

میں مسلمانوں گے متعلق نهیں لکھوں گا
که
بیچارے ذہنی نابالغوں کے اسلام کی توهین هو جاتی هے


3 تبصرے:

نورمحمد ابن بشیر کہا...

هم کمزور لوگ نبیوں کی سنت کیسے پوری کرسکتے هیں ـ

لاجواب جملہ ہے محترم۔۔۔۔ ہمارے لئے تو بس بہانےہی ہیں

................................

اس خاکسار کی دو گزارشات ہیں ۔۔۔
اول تو یہ کہ اگر ورڈ وریفیکیشن نکال دیں تو جوابنے میں آسانی ہوتی ہے۔۔۔
دوم یہ کہ کمینٹ کو مین پیج پر ہی کیوں نہیں رہنے دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امید ہے کہ توجہ دیں گیں

احمد عرفان شفقت کہا...

حیرت ہے یہ تصویر آپکے ہاتھ کہاں سے لگی؟ اور یہ ساتھ میں جو خاتون ہے یہ کون ہو گی؟
باقی یہ بات مجھے بھی عجیب لگتی ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو سپر ہیومن بنا کر دیکھنے کے دھوکے سے کیوں مسحور رہتے ہیں۔

ali کہا...

بھائ صاحب ہم کو تو گاندھی پر پہلے دن کا ہی شک تھا۔