ہفتہ، 23 اپریل، 2011

مخصوص ذہنیت

امراض مخصوصه زنانه
امراض مخصوصہ مردانہ
اگر ایک بچه کسی بڑے سے ان کا پوچھ هی بیٹھے تو ؟
کیا جواب هو گا ؟
اپ بھی تو اب بڑے هیں
کسی بچے کو ان امراض کے متعلق سوال کیا کیا جواب دیں گے؟
مولوی اشرف ، اس سوال کو سن کر پہلے تو ایک نظر لڑکے کو دیکھے گا
اگر اس کی عمر هی دس سال یا اریب قریب هو گی تو
اس کا جواب هو گا
چل بھاگ جا
ایسے سوال تیرے ذہن میں پیدا هی کیسے هوئے اوئے
اور هو سکتا هے که منڈے کے ابا جی کو بتائے که منڈا اب اس قسم کے سوال پوچھنے لگا ہے
اورامکان هے که منڈے کو جھڑکیاں پڑ جائیں
اب جی کچے ذہن میں یه بات چڑ پکڑ لے گی کہ که جو لفظ هے ناں مخصوصہ ، اس میں کوئی معیوب بات هے
اس لے جس کو بھی که لفظ لگ جائے گا وھ معیوب کم معتوب هو گا
اسی لیے اپ دیکھیں گے که پاکستان میں
لفظ
مخصوص ذہنیت
کو ایک گالی (مہذب قسم کی)کو طور پر استعمال کیا جاتا هے
فقرے میں استعمال
وھ جی مخصوص ذہنیت کے لوگ هوتے هیں ،
کچھ مخصوص ذهنیت کے لوگ
وغیرھ وغیرھ
لیکن اس مخصوص ذہنیت کی خاصیت هے کیا؟؟
اس پر غور نهیں کیا جائے گا
بس
امراض مخصوصه کی طرح کی چیز سمجھ کر استعمال کرتے جائیں کے
حالانکه
میں بھی ایک مخصوص ذهنیت کا بندھ هوں
میری ذہنیت کی خاصیت هے که
میں توحید کے معاملے میں سمجھوتے کا قائل هی نهیں هوں
یا که
جھوٹ سے نفرت کرنے والوں کی مخصوص ذہنیت
شراب سے رغبت رکھنے والی مخصوص ذہنیت
یه مخصوص ذہنیت بد بھی هو سکتی هے اور نیک بھی لیکن
اس لفظ کو گالی بنا دیا کيا هے
اردو کی بلاگنگ میں
اج کل ایک مخصوص ذہنیت کے لوگوں نے
ایک لفظ روشن خیالی کو گالی سا بنا دیا هے
اور دوسری طرف ایک مخصوص ذهنیت کے لوگوں نے اپنی سوچ کو روشن خیالی کا نام دیا هوا هے
اردو کے بلاگ لکھنے والوں کے لیے ایک بات که
اب جب اپ بلاگ لکھ رهے هیں تو
جس عمر میں اپ نے تعلیم حاصل کی تھی اس وقت کے لکھایوں اور اج کے لکھاریوں میں کیا فرق هونا چاهیے یا
که حالات نے پیدا کردیا هے
اس کو سمجچھنے کی کوشش کریں
پہلے جب کوئی اپنا لکھا کسی اخبار میں یا رسالے میں شائع کروا لیتا تھا تو
قاری کے لیے یہی حرف اخر هوتا تھا
یا اگر کسی نے خط لکھ بھی دیا لکھاری کو تو کیا هے ؟؟
لکھاری جواب دے یا ناں دے
جو خط لکھاری کی انا کو تسکین دیں ان کو رکھ لے اور باقی کو ردی کردے
لیکن اب اگر اپ کو کسی سے نظریاتی اختلاف هے
جی هاں نظریاتی اختلاف ناں که ذاتی اختلاف
تو اس کے نظریے کے بخیے ادھیڑ دیں جی اس کے بلاگ پر تبصرے کرکرکے
اور اگر اس بلاگ پر تبصرے کرنے میں قدعن لگا هوا هو تو؟
اپ اپنے بلاگ پر اس کے خلاف لکھیں
لیکن کیا اپ کو نظریاتی اختلاف اور ذاتی اختلاف کا فرق معلوم هے؟؟
میں خود
جب کسی موٹے پداں والے کے خلاف لکھتا هوں یا کسی ساکے بھٹی کے خلاف یا کسی بھی اپنی بہن کے یار برے بندے کے متعلق لکھتا هوں تو اس سے مجھے ذاتی اختلاف هوتا هے

لیکن جب میں کسی لکھاری کے متعلق لکھتا هوں تو
اس سے مجھے نظریاتی اختلاف هوتا هے

اردو کی بلاگن کی دنیا میں جس زمانے میں میں بلاگ شروع هوئے میں سمجھتا هوں که ان شروع کے دنوں سے اج تک اگر میں ناں هوتا تو ؟
بلاگنگ کی دنیا میں
مذہبی رنگ زیادھ هوتا
اسلام طغرے لگا لگا کر بلاگ سجانے والے زیادھ هوتے اور
شخصیت پرستوں کے بلاگوں پر بڑي بہار هوتی
پیر بکری شاھ کی مینگنیوں میں کستوری کی خوشبو کا لکھا جاتا
اور پیر پھلویری شاھ کے چہرے کے داغوں کو چاند میں دیکھایا جاتا
یه ان کی مخصوص ذہنیت هوتی اور
یه هماری مخصوص ذہنیت هے
اب کرتے هیں جی شخصیات پر بات
بی بی عنیقه ناز
مجھے ان سے کئی دفعه اختلاف هوا
لیکن میں ان کی جس بات کو اچھا سمجھا هوں اس کی تعریف بھی کرتا هوں
عبدالله؟؟
ایک تبصرھ نگار ہے
مجھے اس کے پیچھے ایک عورت نظر اتی هے
جو هر جگه جہاں حقوق نسوان کی بات هو
سینگ اڑا دیتی هے
چلو جی ایک نام رکھ لیا
جعلی هی سہی
اس نام سے تبصرے کیے
اس نام کی بھی ایک مخصوص ذہنیت هو گی
جس کو لکھاری سمجھ هی جائے گا
اور نوک جھونک چلتی رهے گی
لیکن
یه
ایک اور
مخصوص ذہنیت
ہے
جی
ایک بڑا پرانا لطیفه ہے که
ایک بنده جھگڑے میں دوسرے سے پوچھتا هے
تم مجھے جانتے هو؟ میں کون هوں؟
دوسرا بندھ
مجھ سے کیا پوچھتے هو، اپنی اماں سے پوچھو که تم کسی کے هو اور کون هو
اب ان لوگوں کو جو که خود سے کچھ بھی نهیں هیں اور دوسروں کی شناخت استعمال کرکے تبصرےکرتے هیں
ان کو کیا کہوں؟؟

جمعرات، 14 اپریل، 2011

میاگی کا حال دوسری قسط

بات اس طرح شروع ہوئی تھی کہ اب جب کہ خاور کے پاس بھی کائی تائی کا پرمٹ ہے تو کیوں ناں تسونامی میں غرق ہونے والی گاڑیوں کو خریدا جائے جو کہ صرف میاگی کین کی حد تک ایک لاکھ جھیالیس ہزار کی تعداد میں خراب ہو گئیں ہیں جب میں نے اپنے بائر سے بات کی تو اس نے کہا کہ تابکاری والی گاڑیوں کا سکریپ تو وہ خریدے گا ہی نہیں اس لیے ہماری لست سے اباراکی کے ساحلی علاقے اور فوکوشیما خارج کردیا گیا یہ تھی وجہ منافقین کی تقلید میں فوکوشیما سے کترا کر گزر جانے کی فوکو شیما نیشی کے ایٹر سے نکل کر پاس ہی سیون الیون کے سامنے ایک ٹرانپورٹ کمپنی کا دفتر تھا ان سے ملنے گئے ان کے چار ٹرک پانی میں خراب ہوئے تھے ان سے چار ٹرکوں کا سودا طے کرکے میاگی کی طرف منہ کیا سیندائی اسٹیشن کے پاس میزو بوچی صاھب کے ساتھ لنچ کیا یہ میزو بوچی صاحب ردی کا کام کرتے تھے لیکن ان کی فیکٹری کا یہ حال ہو گیا ہے سب کچھ غق ہو گیا ہے اور میزو بوچی کوئی کوئی اجنبی نہیں ہے دوست ہے صرف خبروں میں سنی ہوئی شخصیت نہیں ہمارے ساتھ زندگی کزارتا جیتا جاگتا شخص ہے جس کا سب کچھ غرق آب ہو گیا ہے یہاں سے ہم سمندر کے ساتھ ساتھ چلتے جنوب کی طرف سفر کرتے ہیں ، ہر طرف تباہی کا منظر ہے میلون تک جڑوں سے اکھڑے درخت بکھرے پڑے ہیں کھیتوں میں سمندر کا بانی واہس جاتے ہوئے ریت اور نمک چھوڑ گیا ہے اس زمین کو اباد کرتے کتنے سال لگیں گے؟ جو مکان کھڑے رہ گئے ہیں ان پر بانی کا نشان لگا ہوا ہے کہ کس بلندی تک جا کر پانی واپس پلٹا تھا شام کو سیندائی اسٹیشن کے سامنے واقع ہوٹل ویسٹ ان ہوٹل میں پہنچے یہاں رات کزارنی تھی جو کمرے ہمیں ملے وہ پینتسویں منزل پر تھے اس ہوٹل کا ایک کمرے کا رات کا کرایہ بتا کر میں اپنی امارت کا رعب نہیں ڈالوں گا کہ کرایہ کانائی ساں نے دیا تھا نہا کر رات کے کھانے کے لئے نکلے پاس ہی ایک گائے کی زبان کے تکوں کا ریسٹورینٹ تھا اس مین چلے گئے اس ریسٹورینٹ کے عملے کا کام کرنے کا انداز دیکھ کر دل خوش ہو گیا دب بھر مصیبت زدہ لوگ اور ماحول دیکھ کر دل بجھ سا گیا تھا کہ اس ریسٹورینٹ میں کام کرنے والے سب لوگ ایسے کام کررہے تھے جیسے کام نان ہو ان کا مشغلہ ہو سبھی لوگ خوش دلی سے کام کررہے تھے اس کے بعد جو سیندایی جائے اور کبکی چو نان جائے وہ کوئی خاتون یا پھر وچکارلا ہی ہو سکتا ہے سبھی دوستوں نے شراب پی خاور نے بھی کوکے کولے کے تین گلاس ڈکارے اور جینی چائے اولون چا پی شراب کانے کا ماحول تھا کہ اردو کی شاعری تھی ساقی تھا جام تھا خم تھا خرابات تھی کھلی زلف تھی ، عشق کی گستاخیوں کو بھی اجازت تھی اکسٹرا اخراجات اٹھانے والوں کے لیے وصل کی وادیوں میں شجر ممنوعہ بھی تھا لیکن جی شکاری کرکے کھاتا ہے قصائی کی دوکان سے نہیں باہر نکل کر کانائی سان نے ساتھ ائے تین دوستوں کو چند لاکھ کی رقم دی کہ کھیل لو!!!!۰ میں اور خاور واہس جارہے ہیں ٹیکسی لے کر واپس پہنچے ہی تھے کہ وہ تین بھی واپس آگئے تم کو کیا ہوا ہے ؟؟ جب پوچھا تو سوزوکی نے بتایا کہ جی یہ یامادا سان اڑ گیا تھا کہ میں نہیں جاوں گا کہیں بھی کیوں کہ میری ایک بیوی بھی ہے اپنے اہنے کمرے میں جاکر ابھی سوئے ہی تھے کہ زمین ہلنے لگی جمعرات سات اپریل والے زلزلے کی بات کررہا ہوں پینتسوین منزل پر حال کچھ ایسا تھا کہ جیسے بانس زمین پر رکھ کر ہلائیں تو زمین کے پاس سے کم ہلتا ہے اور اوپر سے زیادہ کمرے میں اوازوں کا طوفان تھا ٹیلی فون کی کھنٹی الارم اور پتہ نہیں کیا کیا میں کھڑکی کے پاس جا کر دیوار کا سہارالے کر کھڑا ہو گیا کہ موت کا دن تو مقرر ہے چلو تلاش کرنے والوں کو لاش جلدی مل جائے ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیے میں مسلسل پکار رہا تھا یا اللہ خیر یا اللہ خیر

منگل، 12 اپریل، 2011

میاگی کین کا حال

بات کچھ لیٹ سی ہو گئی ہے کہ سات اپریل والے زلزلے کو اج پانچ دن گزر گئے ہیں اس رات میں میا گی کین میں تھا جو کہ زلزلے کا مرکز کین تھی ۶ اپریل کی صبح ۶بجے ہم روانہ ہوئے تھے اباراکی کین کے شہر کوگا سے ، لیکن پرانے جاننے والے اس علاقے کو سانوا کہتے ہیں مقاصد تھے ؟؟ اس سے پہلے تھوڑی تفصیل کہ مسٹر کانائی میرے دوست ہیں ان کا ردی کاغذ کا کاروبار ہے اور ان کا یہ کاروبار خاصا وسیع ہے کہ جاپان کے کتنے ہی کینوں میں پھیلا ہوا ہے گیارہ مارچ والی تسونامی میں ان کے فوکوشیما ، میاگی اور ایواتے والے آڑھتیوں کی فیکٹریاں غرق ہو گئیں ہیں تو ایک مقصد تو ان ارھتیوں کو حوصلہ دینا تھا کہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ اس نقصان سے بحالی کی طرف چلا جاسکے اور دوسرا مقصد تھا کہ تسونامی کی غارت گردی کو اپنی انکھوں سے دیکھ کر عبرت حاصل کریں تابکاری کو ماپنے والا آلہ ہمارے پاس تھا ہمارے علاقے میں تابکاری کی سطح ہے اعشاریہ صفر سات اباراکی کین سے روانگی ہوئی تھی ، جس کین کی شمال مشرقی سرحدیں فوکوشیما سے ملتی ہیں اور میا گی کین اس سے اگے ہے کہ فوکوشیما کین کی شمالی اور شمال مشرقی سرحدیں میاگی کین سے ملتی ہیں لیکن جی تابکاری ہے ناں جی فوکوشیما میں اس لیے جاپان میں مقیم پاکستانیوں کی زیادہ تعداد جو کہ انٹر نیٹ پر تصویریں لگوانے کی شوقین ہے اور بہت سے مشہوری کے شوقین منافق بھی فوکوشیما سے کترا کر گزار جاتے ہیں اور میاگی کین اور ایواتے کا رخ کرتے ہیں ہینگ لگے ناں پھٹکری رنگ آئے چوکھا حالانکہ خاور ناں تو نیٹ پر تصویریں لگانے کا شوقین ہے اور ناں ہی منافق لیکن جی اس دفعہ کے اس سفر میں پم لوگوں نے فرقہ تصویریہ اور منافقوں کی تقلید میں فوکوشیما سے کترا کر گزر گئے ہم نے فوکوشیما کے مغرب میں واقع توچیگی کین سے گزرنے والے ہائی وے توہوکو ہائی وے پر سفراختیار کیا ہمارے پاس تابکاری کو ماپنے والا آلہ بھی تھا ہائی وے پر چلتے ہوئے تابکاری کی سطح مسلسل بڑھتی ہی چلی گئی جو کہ ادھا تارا کی پارکنگ تک جاتے جاتے تین اعشاریہ صفر صفر ہو چکی تھی اور پھر اس کے بعد کم ہوتے ہوتے میاگی کین کے شہر سیندائی میں اس تابکاری کی سطح ہمارے مقام روانگی سے بھی کم ہوتی ہوئی اعشاریہ صفر ایک ریکارڈ ہوئی جاری ہے

اتوار، 10 اپریل، 2011

پاکستان اور تابکاری

انٹر نیٹ پر سلیقه میگ اور ایکسپریس پر خبر لگی هے که

فوکو شیما ایٹمی بجلی گھر سے تابکاری کے اثرات


پاکستان تک پہنچ گئے تشویش کی بات نہیں‘ ایٹمی توانائی کمیشن


یارو کچھ معاملات ميں پاکستان کی تکنیک بڑی پہنچی هوئی هے
یهاں جاپان کی ساری ڈویژنوں میں تو تابکاری بہنچی نهیں هے اور
پاکستان پہنچ بھی گئی هے
وھ جس طرح پنجاب کی کی گالیوں میں کچھ پرزے بڑے فاصلے طے کرکے پہنچ جاتے هیں
کچھ اس طرح کا معامله هو گا؟؟
یهاں جاپان میں ایک سود خور جاپانی کے ڈیرے پر کچھ بھٹی چوہڑے (دین دار) رهتے هیں ،ان کے پاکستان والے گھروں میں کچھ ملا هو گا!!ـ
لیکن وھ بھی تابکاری تو نهیں هے
کچھ ڈنگروں کے پرزے هیں
لیکن
هو سکتا هے که
ان کے استعمال سے تابکاری پیدا هوئی هو