اتوار، 11 دسمبر، 2011

مذهب کی افیم

مذہب ایک افیم کی طرح کی چیز هوتی هے
کسی سیانے کا قول هے اوپر والا میرا نهیں !!ـ
عمران حمید نے لکھا ہے كه
آپ کی اکثر تحاریر اس قسم کی کیوں ہوتی ہے کہ کیونکہ میں نے سنا پڑھا نہیں لہذا ایسا نہیں ہوتا یا پھر اگر میں نے ایسا جانور نہیں دیکھا اس سے ملتا جلتا جانور دیکھا ہے تو ایسا جانور ہو ہی نہیں سکتا؟

اگر میرا رویه وقعی ایسا هے تو یه بهت هی احمقانه رویه هے
مجھے اس پر غور كرنا هو گا اور كر بھی رها هوں
كه ایسے هی رویے كے تو میں خلاف هوں لیكن كهیں نادانستگی میں خود بھی اسی رویے کا شکار تو نهیں هو چکا؟؟
پاک مذہب کے نشے کے نشئی لوگ کسی بھی بندے کو اسی بحث میں کھینچ نے کی کوشش کرتے هیں که مذہب پر بات کرو جی
اور اگر بات کر لیں تو ؟
ان کے اسلام کی توهین هو جاتی هے
مہروں کے لڑکے بھینیس چرانے جاتے تھے تو ان کی باتيں بڑی دلچسپ هوتی تھیں که
هماری مج کے سینگ
اور همارے مج کا دوده
اور ایسے ایسے مغالطے که بندے کا هاسا هی نکل جائے
همارے بڑے بزرگ هندو هوا کرتے تھے
توحید کی سمجھ لگنے سے پہلے
شجرے والے مسلمانوں سے معذرت کے ساتھ که مجھے اپنے بڑوں کے هندو هونے سےکوئی شرمندگی نهیں هے
میرے نزدیک شرمندگی والی بات یه هے که
میں توحید کے فلسفےمیں شک کا شکار هو جاؤں
جب همارے بزرگ هندو سے مسمان هوئے تو برادری والوں نے کها
گنگا جل جیسے پوتر پانی تمہیں مسلمانی ميں کهاں ملیں گے
تو مولوی نے بزرگوں کو بتایا که
آب زم زم هے ناں جی
بجرنگ بل جیسا نعره جس سے دشمن کا دل دهل جائے اس کا کیا کرو کے جی؟
مولوی نے بتایا
یاعلی کا نعره ہے ناں جی
بجرنگ بلی کے وزن کا
دهارمک معاملات کو نمپٹانے اور شراپ وغیره سے پچانے کے لیے برہمن کہاں سے لاؤ گے؟؟
اسلام کے ٹھیکداروں نے بتایا که
سید صاحب آل رسول هیں ناں جی
هندو نے کها که هماری رکھشا کرنے والے لاکھوں دیوی دیوتا هے
تو مسلمانوں کو بتایا گیا که
همارے ولی هوتے هیں غوث اور ابدال هوتے هیں
قلندر هوتے هیں اور مونث قلندر بھی هوتی هے
لو جی اب اپنی اپنی مج کے سینگ بڑے کرو
یا مج کی کرامات کا تذکره
مجھے اسلام میں بتایا گيا
که سب مسلمان برابر هوتے هیں
اور پھر سید او آل رسول کے برابر ناں هوںے کا درس دیا گیا
مجھے بتایا گیا که
اسلام ایک مکمل ترین ضابطه حیات ہے
اور پھر وه درس دیے گئے که٠٠٠٠٠٠٠٠ـ
چلو جی اس طرح کرلیتے هیں
اسلام ایک بهترین معاشره چاهتا هے
تو؟
اب زم زم کے غیر معمولی پانی کے ثابت هوجانے سے معاشرے میں کیا تبدیلی آئے گی؟
سارے طغرے تعویذ اور وظیفے مل کیا کرلیتے هیں ؟
یا کیا کیا هے جی ان سب چیزوں کی بهتات نے پاکستان ميں ؟؟
مذهب کی افیم کھاؤ اور نعره لگاؤ
یه تہذیبی نرگسیت نهیں هے
منافقت هے
جی هان منافقت
اور وه بھی انتہائی اعلی سطح کی منافقت
توحید کا فلسفه
اور شرک کا معاشره
برابری کا درس اور نسلی تفاخر کا معاشره
معاشرتی تعمیر کا دعوه
اور معاشرتی تقابل تک ناں کر سکنے والی سوچ اور تعلیم
اور جب آئینه دیکھاؤ تو
سب یه رویه اختیار کرتے هیں که
یه شرک کرنے والے
یه نسل تفاخر والے
یه معاشرے میں انتشار پھلانے والے
سب دوسرے مسالک ے هی
میرا مسلک
تو جی
وه هے ، یه هے وغیره وغیره هے

ایپل کے بانی سٹیو جابز کا باپ بھی الجزائر کا مسلمان تھا
اس لیے کمپوٹر کی ساری ٹکنالوجی بھی مسلمانوں کے نام کر لو جی

7 تبصرے:

مکی کہا...

حالات کافی خراب ہونے والے ہیں...

احمد عرفان شفقت کہا...

الجزائر کا نہیں جی، شام کا مسلمان تھا جابز کا ابا۔

مولوی ٹوکا کہا...

پیغمر اسلام کا ارشاد ہے کہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوءی فوقیت حاصل نہیں ہے
جناب یہ تو ہیں ہاتھی کے دکھانے کے دانت اب میں آپ کو ہاتھی کے کھانے کے دانت دکھاتا ہوںآپ کے پیغمبر فرماتے ہیں کہ الایمہ من قریش؛ یعنی خلافت پر صرف قریش کا حق ہے؛ اور انصار مدینہ جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ خلافت ان کا حق ہے یکسر محروم کر دیے گیے۔ اور روي عن النبي أنه قال : لا تنكحوا النساء إلا الأكفاء یعنی عورتوں کی شادی ان کے برابر کے خاندان میں کیا کرو؛ یہی وجہ ہے کی کسی سید زادی کی شادی کسی غیر سید زادے سے نہیں ہو سکتی

عنیقہ ناز کہا...

مولوی صاحب، یقیناً یہ تمام احادیث ہونگیں کیونکہ قرآنی حوالے تو میں نے اس سلسلے میں دیکھے نہیں۔
یہ جو بخارا کے اصل سید اور نجیب الطرفین سید ہیں وہ کہتے ہیں کہ نماز میں التحیات میں جو سلام آل رسول پہ بھیجا جاتا ہے وہ دراصل ہم پہ بھیجا جاتا ہے۔ میں حیرانی سے ان سے پوچھتی ہوں کہ حجہ الوداع میں جو برتری کے تمام دعوی پیغمبر نے اپنے پیروں تلے کچلے وہ کون سے دعوے تھے۔ اس پہ وہ کوئ واضح جواب نہیں دیتے بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ اہل بیت سے بغض رکھنے والے ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔
آپ لا دین تو نہیں ہونے والے؟
:)

عنیقہ ناز کہا...

تبصرہ ادھورا رہ گیا۔ میرا بھی خیال ہے کہ حالات کہیں خراب نہ ہوجائیں۔ میں اپنے کمپیوٹر پہ پروکسی سرور ڈالنے سے قاصر ہوں کہ اس سے میرا جنیئن ونڈوز متائثر ہوتا ہے۔ آپکے بلاگ سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔
:)

منیر عباسی کہا...

آپ کی تحریر پر تبصرہ ادھار رہا۔ باقی دودھ کے جلوں کے تبصرے پڑھ کر دل کو پتہ نہیں کیوں اتنی خوشی ہوئی۔

کچھ اپنا پن سا نظر آیا۔

اللہ پاک آپ کی کنفیوژن جلد سے جلد دور کرے۔

مرزا غلام عباس عباس کہا...

یہ قول شاید اسٹریلین ڈاکٹر سیگمنڈ فرائیڈ کا ہے۔
میرے خیال سے آپ نے مذہب سے ذیادہ پاکسنان میں موجود مذہبی لوگوں سے بیزاری کا اظہار کیا ہے؟
لیکن آپ یہ بھی سوچیں کہ یہ لوگ ایسے کیسے بن گئے؟ اور آپ ان سے مختلف کیوں ہیں؟ بیمار کو بد پرہیزی کے تعنے دینے سے بہت بہتر ہوتا ہے کہ اس سے ہمدردی کی جائے اور اس کے علاج کا کوئی چارہ کیا جائے۔