جمعرات، 8 دسمبر، 2011

دین سلام

ایک تو جی میں اج کل "دین سلام " والوں سے بڑا تپا هوا هوں
هر بات میں دین سلام
اور کم علمی که انتها که دین کے لغوی معنی تک نهیں معلوم
اور ناں هی اسلام کے لغوی معنے معلوم هیں
تو جی
دین سلام دین سلام کرکرکے
ایتوں کے طغرے لگا لگا کے
آب زم زم کی جھوٹی تحقیات کے طغرے
اور اصلی بات که
سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا
یا
عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا یاپھر کسی عیب یا آفت سے نجات پانا، اور سلام کے ایک معنی صلح کے بھی ہیں
اور یه ساری باتیں پاک دین (نظام پاکستان ) میں تو پائی نهیں جاتیں
اور ناں هی کسی اور ملک کے دین (نظام) میں پائی جاتی هیں
جو مسلم کهلواتا هے
هاں یه صفات
دین جاپان ، دین امریکه اور دین یورپ میں بدرجه اتم پائی جاتی هیں
اؤ ادیان (سسٹمز) پر بات کریں که کس کے دین (سسٹم ) میں کیا خامیاں هیں ؟؟
اور کیا خوبیاں هیں ؟؟
شائد که تیرے دل میں اتر جائے میری بات!!!ـ

7 تبصرے:

یاسرخوامخواہ جاپانی کہا...

آجکل میرے محسوسات بھی ایسے ہی ہوتے جا رہے ہیں۔
کچھ اس طرح کی پوسٹ لکھی ہوئی ہے۔
چھاپنے سے پہلے سوچ رہا تھا۔۔۔
میری کتنی چھترول ہوگی۔؛ڈ

محمداسد کہا...

ڈاکٹر ذاکر نائیک اکثر اپنی تقاریر میں کہتے ہیں کہ اسلام کو اس کے ماننے والوں سے نہیں بلکہ اسے تخلیق اور پیش کرنے والے سے پہچانا چاہیے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو نصیحت کرے لیکن اولاد اس کا غلط استعمال کرے تو اس سے نصیحت کی صحت پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔

عمیر ملک کہا...

دیکھیں کون کون آپ سے بات کرتا ہے ادیان پہ۔۔۔؟

Memon کہا...

’آب زم زم کی جھوٹی تحقیات کے طغرے ‘
ڈاکٹر ایموتو کی تحقیق کا لنک بھی آپ کو بتا دیا گیا ، پھر بھی میں نہ مانوں ۔ جاپان یا مغربی ممالک کے سسٹمز کی آپ تعریفیں تو بہت کرتے ہیں، لیکن ان سے سیکھتے کچھ نہیں ۔ ان کی اچھی بات اپناتے کوئی نہیں ۔ ان کے سسٹم کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ جب کوئی بات دلیل اور ثبوت کے ساتھ پیش کی جائے تو مان لیتے ہیں۔ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرے ۔

مولوی ٹوکا کہا...

بھائی یہ فیک ہے ثابت ہو چکا ہے ، اپنا نالج اپڈیٹ کریں .....ڈاکٹر یموٹو والا فراڈ پرانا ہوگیا ہے ، بی بی سی نے ایک ڈاکو منٹری بنی تھی آب زمزم پی سیسہ اور آرسنک مرکبات ہیں جو انسانی صحت کے لئے مضر ہیں

گمنام کہا...

Holland;

http://www.youtube.com/watch?v=bwExkrCesKg

Memon کہا...

مولوی ٹوکے صاحب، آپ ڈاکٹر ایموتو کی تحقیق پر اعتبار نہ کریں، اور بی بی سی پر ’ایمان‘ رکھتے ہیں ۔ جو بی بی سی کہہ دے اسے آپ معتبر سمجھتے ہیں، اور اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہ آپ کا ذاتی فعل ہے ، اور آپ اس کے لیے آزاد ہیں ۔ لیکن ڈاکٹر ایموتو کا وجود اور اس کی زمزم پر تحقیق تو ایک حقیقت ہے ۔ اس کی تحقیق کے طریقہ کار اور نتائج سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن اس کے وجود سے تو انکار نہ کریں۔

اور بھائی ‘نامعلوم‘ صاحب ۔ جو لنک آپ نے دیا ہے اس کی کچھ وضاحت بھی کردیں ۔