منگل، 15 نومبر، 2011

ناکام دوره

جاپان کے غیر معروف کاروباری ،معروف لکھاری اور نقاد خاور کھوکھر پاکستان کے ناکام دورے سے واپس جاپان پهنچ گئے هیں
پاکستان کے متذکره دورے کے متعلق خاور کو پهلے هی علم تھا که یه ایک ناکام دوره هے
اس دورے ميں پاکستان ميں خاور نے بهت سی بے مقصد ملاقاتیں بھی کی اور بہت سی بے مقصد کانفرنسں بھی
خاور کی شمولیت والی یه کانفرینسیں عموماً دھریک کے درخت کی چھاؤں میں هوئیں ، جهاں شرکاء کی تعداد عموماً پانچ سے دس هوا کرتی تھی
ان شرکاء میں دوکان پر انے والے گاهکوں کی تعداد کو بھی شامل کیا گیا هے
کیونکه خاور بہرحال اپنے قصبے اور اردگرد کے دیهات میں خاصا مقبول بنده رها هے
ان کانفرنسوں میں شمولیت کے لیے جو رفقاء سب سے دور سے تشریف لاتے تھے
ان میں شامل هیں
جناب نعمت الله سمور
اور
یونس گورایه
جو که حافظ آباد کے نواحی علاقے سے اتے تھے
گاؤں سے علامه افتخار احمد خالد، آفتاب چیمه (ٹیلی فونوالے)اپنا چاچا اقبال ، اور برادری کے لطیف ، عنصر ، ننھا ، سیٹھ عابد ، اور بہت سے سیٹھ
کیونکه میری برادری کو لوگ علاقے میں سیٹھ کے سابقے کے ساتھ بلاتے هیں
پاکستان کے اس دورے کے مقاصد
خور خاور کو بھی معلوم نهیں تھی
بس
ایک موهوم سی سوچ اپنے غریبی کے دنوں کے دوستوں کو یه جتلانے کی تھی که دیکھو جی خاور اب کچھ امیر هو گیا هے
لیکن
غریبی کے دوستوں کو مل کر احساس هوا که وه بھی پاکستام ميں رہتے هوئے کچھ ناں کچھ کر رهے هیں اور اپنی زمین پر هونے کی وجه سے
خاور سے بھاری هیں
اس لیے ناکام دوره
اور بھی ناکام ثابت هوا
اور خاور کو شدت سے احساس هوا که پاکستان نهیں چھوڑنا چاهیے تھا
کیونکه خاور جاپان سے كمائی كركے ایک دن واپس پاكستان جانے کا تارگٹ لے کر ایا تھا
خاور کا یه دوره اس تارگٹ کے پورا هونے سے پہلے کیا گیا هے
جس لیے خاور کو واپس جاپان انا هی پڑا
اس لیے
خاور کا یه دوره ناکام دوره
ثابت هوتا هے
وجه تحریر بالا
کمپیوٹر میں جب وائرس آجاتا ہے تو کمپیوٹر کو اس کا علم نهیں هوتا هے
کمپیوٹر اس وائرس کو بھی اپنی هی کوالٹی سمجھ کر
چلائے جاتا هے
اسی طرح
جب بندے میں وائرس آتا هے
میں اس وائرس کو ملک صاحبان کا وائرس کهتا هوں
تو بنده بھی اس کو اپنی کوالٹی سمجھتا هے
اس وائرس کی پہچان هے که جس ميں یه وائرس آ جائے وه بندے کو اوپر سے نیچے دیکھتا ہے
جس طرح كمپیوپر كے وائرس كا
صرف اس كوچلانے كو هی علم هوتا هے
اسی طرح
ملک صاحب وائرس کا بھی اردگرد کے لوگوں کو هی علم هوتا هے که
"ان" صاحب میں بھی وائرس آچکا هے
لیکن اکر وائرس ناں ایا هوا هو تو؟
زرا سا سوچنے سے
یه نتیجه نکالا جا سکتا هے که
خاور سے جتنے سال پہلے جاپان آئے تھے
حالات کی بہتری کی وجه سے صرف اتنا هی کاروبار
خاور کی نسبت بڑا ہے
ورنه
خاور اپ سے اچھے مکان ميں رهتا هے
اپ سے اچھے اوزار اور مشینیں استعمال کرتا هے
کباڑیے کے کام کی وجه سے سوٹ نهیں پہنتا
ورنه گھر پر جو سوٹ پڑے هیں
کرسٹنڈیور ، ورسچ ، ارمانی ، پئرکارڈن، هیوگوبوس، وغیره
هوسکتا هے که اپ کے سارے کپڑے اس ایک سوٹ کی قیمت کے بھی ناں هوں
اور سب سے بڑی بات که خاور
سقراط کی طرح جانتا هے که خاور ایک کم علم بنده هے
اور اپ کو اس بات کا بھی علم نهیں هے که اپ ایک بے علم بندے هیں،
اسی لیے
وائرس زده لوگوں کے پاکستان کے دورے، کامیاب دورے هوتے هیں
اور اپنے مقصد کو بھول نان سکنے والے
خاور کا پاکستان کا دوره ناکام ثابت هوا

6 تبصرے:

ali کہا...

واہ خاور صاحب واہ۔ ہماری طرف سے ایسے ناکام دورے کا افسوس قبول فرمائیں۔
پر دورہ ناکام ہی ہو تو اچھا ہوتا ہے یقین نہ آئے تو کسی ڈاکٹر سے پوچھ لیں ۔
بہت عمدہ لکھا ہے بہت عمدہ

یاسرخوامخواہ جاپانی کہا...

جو کامیاب دورہ کرکے واپس آتے ہیں
جناب وہ پِچّھوں کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔

محمداسد کہا...

اچھا لکھا خاور، پڑھ کر لطف آیا۔

جعفر کہا...

میں بھی جی ناکام دورے پر آیا ہوا ہوں اور چونکہ میں اتنا مشہور نہیں تھا اس لیے مجھ سے تو کوئی کانفرنس کرنے بھِی نہیں آیا۔ البتہ چونکہ میں تقریبا اس لیول تک پہنچ گیا ہوں جہاں سے نیچے گرا تھا تو رشتے دار وغیرہ بڑی تعریفیں کرتےہیں جی اور کہتے ہیں کہ ویکھو ایس منڈے ول کیہ کم وکھایا جے اینے۔۔۔ اور یہ سارے وہی ہیں جو کہتےتھے جی کہ بھکھے مرن گے ایہہ سارے، منگدے پھرن گے۔۔ تو جی اس ناکام دورے کی یہی ایک کامیابی ہے۔ اور مجھے بھی ایسے لوگوں کی خدمت کرکےبڑی خوشی ہورہی ہے جو مجھے دیکھ کے جی رستہ بدل لیتے تھے۔

Saad کہا...

دلچسپ دورہ ثابت ہوا یہ تو۔

درویش خُراسانی کہا...

خاور صاحب ناکام دورہ مبارک ہو۔بہت اچھا لکھا ہے۔