جمعہ، 14 اکتوبر، 2011

میں بزدل هوں


یارو اس زمین پر سب سے قدر والی چیز ہے
زندگی
جی هاں جان
جس گے لیے بند کیا کیا جتن کرتا ہے اور
کشٹ اٹھاتا ہے
پینترے بدلتا هے
لیکن یارو کچھ لوگ هیں که یه قیمتی ترین چیز
جان!!ـ
ہتھیلی پر لیے پھرتے هیں
الله کے نام پر دینے کےلیے
اور
جان دے کر کهتے هیں
جان دی که دی هوئی اسی کی تھی
حق تو یه هے که حق ادا ناں هوا
جب میت گھر پہنچتی ہے تو
ماں کو مبارک ملتی ہے
شهید کی ماں
میں بزدل هوں که
یا
جان کے لیے هلکان
یا که اپنی ذمه داریوں کی مجبوریوں میں بندھا
لیکن
مجاهدوں کو دل ميں اچھا جانتا هوں
میں ان کے ساتھ شامل نهیں هوں
لیکن
ان کی عزت کرتا هوں
هاں پاکستان کے اخباری تعلیم یافته لوگ کہـ سکتے هیں که
لیکن
جی
وه خود کش حمله
اسلام میں تو خود کشی حرام هوتی هے

قران میں هے که جنگ ميں تمهارا پاؤں پیچھے نهیں پڑنا چاهیے
مگر جنگ کے حربے کے لیے
یعنی که مرجاؤ یا جیت جاؤ
تیسرا اپشن نهیں ہے
اور یه هے جنگ کا حربه
ناں که خود کشی
لیکن اس سے بھی ضرور ی بات یه هے که
پاکستان ميں هونے والے بم دھماکے کیا وقعی خود کش حملے هوتے هیں ؟؟
اگر هاں تو
جنرل ضیاع کے دور ميں شروع هوئے یه حملے ضیاع کے دور میں بم دھماکے کیوں کہلواتے تھے
اور اج خود کش حملے کا نام کس نے دیا هے
اور یه خود کش کیا درختوں پر لگتے هیں که کبھی کسی کے ماں باپ بھائی بہن کی کهانی غیر سرکاری ذریعے سے ملی هی نهیں هے
ڈرون حملوں ميں مرنے والوں کے لواحقین
بدله کس سے لیں کے؟؟
حمله آور لوگوں سے هی لیں کے نان جی؟؟
کون هیں یه حمله آور لوگ جو پاکستانیوں کو مار رهے هیں؟؟
نیٹو اور اس کے اتحادی بشمول پاک فوج اور حکمران !!ـ
تو جی حملے بھی انہی پر هوں گے ناں جی

غیروں سے كها تم نے غیروں سے سنا تم نے
کچھ هم سے کہا هوتا کچھ هم سے سنا هوتا

7 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یا کنگ لوگاں نے سر دیواروں سے ٹکرا کے مر جانا ہے
یا
پھر
دماغی ٹینشن سے ان کے نازک سےدماغی خلئیوں نے پٹاکہ مار دینا ہے۔
یہ کنگ کی پٹڑی کیوں بنیاد پرستوں کی طرف جانا شروع ہو گئ؟

UncleTom کہا...

چلو خاور صاحب انتظار کرو اب ایک فتویٰ آپ پر بھی آرہا ہے ، روشن خیالی کے شہد میں بھگا ہوا ۔ آہو

گمنام کہا...

"میں بزدل هوں که
یا
جان کے لیے هلکان
یا که اپنی ذمه داریوں کی مجبوریوں میں بندھا
"

يعنی کہ رسول کے حکم کی کوئی پرواہ نہيں؟ تو جب اسلام جھوڑ ديا تو فتوی بازی کس ليئے؟ چور مچائے شور سنا ہے کبھي؟

راشد کامران کہا...

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے۔۔
کیا وطن عزیز کا دورہ کیا ہے یا مقیم ہیں؟

عنیقہ ناز کہا...

راشد کامران صاحب نے تو ایک لوہار والی کہہ ڈالی۔ تو اب کس دن پھٹ رہے ہیں جاپان کی کسی سب وے میں۔ اپنے مجاہد ساحب کے والدین کی فکر تو لاحق ہو گئ لیکن ان لوگوں کے والدین کو کیوں چھوڑ دیا جو اس مجاہد کے ہاتھوں مارے گئے۔ انکا کیا قصور؟ صرف یہ کہ نہ آپ جیسے لوگوں کی عقیدت کے نشے میں چور درندوں کا شکار ہوئے۔ کیا خیال ہے خدا آپ سے نہیں پوچھے گا کہ کیوں خاور ان لوگوں کے لئے کس کو آواز اٹھانی تھی یہ جو ایک بمبار کے ساتھ مارے گئے۔ اس وقت بھی خدا کے آگے یہی کہیں گے اوجی میں ترو کوئ ڈگری نئیں رکھدا، میں اللہ لوکی، بزدل میں تو جو آپکا نام لے کر پٹی پڑھادے وہی سیکھ جانداں۔
خوف مجاہد سے زیادہ بڑی چیز، خوف خدا ہے۔ ویسے آجکل مجھے بھی پنجاب جاتے ہوئے بڑا ڈر لگتا ہے جی کہیں واپسی میں، میں بھی یہی نہ لکھ رہی ہوں۔ جان دی دی ہوئ اسکی تھی۔ مگر مجھے خدا کے آگے لاجواب ہونے سے بڑا ڈر لگتا ہے۔

Jafar کہا...

ہائے ظالم تجھے کس عمر میں خدا یاد آیا

گمنام کہا...

منافقت پنجابيوں پہ ختم ہے۔ جتنے برے اتنا ہی پارسائی کا زعم۔

اگر ملک کی پينسٹھ فيصد آبادی اتنی ہی عقلمند اور پارسا ہے تو ملک کا پٹھہ کيوں بيٹھا ہوا ہے؟ يقينا کسی باہر والے کا قصور ہے کيوں کہ اپنے ہاں تو کوئی مسئلہ نہيں۔ چلو کہيں باہر چل کر آرام سے سوچتے ہيں کہ کس کس فرقے اور کس کس ملک کا کتنا قصور ہے۔ اسکے علاوہ جہاد کی کمی کا رونا بھی ہے۔ اگر ہم بزدل ہيں يا ہميں جاپان ميں آرام سے بيٹھنا اچھا لگتا ہے تو اسکا مطلب يہ تو نہيں کہ دوسرے جہاد نہ کريں۔ ہيں نہ بے غيرت۔ ہم پڑھے لکھے نہيں اسليئے ہميں بے غيرت کوئي نہ کہے۔