منگل، 29 جون، 2010

مرده معاشرھ

جس معاشرے ميں اچھے برے کی پہچان هی ختم هو کر رھ جائے لوگان دی مت مار دتّی جائے که هر بات ميں سازش شامل کردو
اس معاشرے کو کیا کہیں گے
میں بات یه کہنا چاھتا تھا که پاکستان میں اج کل جاپان سے گئی مشینری کا ریٹ دو سو روپے کلو چل رها ہے یعنی که پریشر جیک بھی دوسو روپے اور موٹر بھی دو سو روپے حالانکه موٹر میں تانبا هوتا ہے
بجلی کے سرکٹ بریکر بھی دو سو روپے کلو ! یارو کی لوگ هیں یه پاک لوگ ؟؟
پاکستان سامان بھینجے والا خاور بھی تو ایک قسم کا اسمگلر هے ناں اور یه سارا بکھیڑا اسمگلنگ کا پھیلایا هوا ہے
لیکن جی یه مسئله ابھی شروع نهیں هوا ہے
جب کسی خاور نے پہلی بار کچھ پاکستان بھیجا تھا اور وھ سمان کسٹم افیسر نے رشوت لے کر کلئیر کردیا تھا تو ان دونوں نے پاکستان سے ایک صعنت کی موت کا سمان کردیا تھا
تو جی اسی طرح کچھ دھائیوں میں پاک صعنت مر چکی هے
ملک میں جھوٹ اتنا ہے که خدا کی پناھ ،جعلی ڈگریاں والے اسمبلی ممبر
اور خاور کی طرح گلے کرتے هیں که پاکستان کے کاروباری حالات ٹھیک نهیں جب تم اسمگلنگ کرو گے تو کاروبار ایسا هی هو جائے گا ور جب تم جھوٹے لیڈر اگے لے کر آؤ کے یا تم پر لاد دیے جائیں کے اور تم چب کرکے کندھے اچکا کر زیادھ سے زیادھ یه کہ دو کے سانوں کی !!
تو پھر معاشرھ مرتا جائے گا
ملک کے لاکھوں سے زیادھ مولوی جو لاکھوں هی مسجدوں میں بیٹھے هیں اگر یه لوگ جھوٹ نه بولتے تو کیا پاکستان کے سادھ دل لوگوں کو سچ بولنے کی بھی تعلیم نهیں دے سکتے تھے؟
یه زمین اب تک لاشوں کا ایک ڈھیر اپنے اندر لیے چپ چاپ گردش کرهی ہے
اور اس کے سینے پر ایک لاش یه پاک معاشرھ ہے
جس لاش کو سیاستدان کتوں کی طرح بھنبوڑ رهے هیں ، ان کتوں کی امریکی ٹرینگ هے اور گوراخون !!-
تعلیم مردھ ،ضمیر مردھ ، صعنت مردھ ، هر چیز مردھ
نظریه پاکستان وه مرده ہے جس کو پاک فوج نے ٧١ میں قتل کردیا تھا اور اب اس نظریے کی حفاظت کا جھوٹ بول رهی ہے
جھوٹ کی ایک تکرار ہے کهاگر کسی کا منه دیکھیں که یار یه جھوٹ بول رهاهے تو اس کا رویه هوتا ہو تم کو سمجھ نهیں لگ رہی هے یه سج ہے کیونکه میرے اس جھوٹے سے مفادات هیں

اتوار، 27 جون، 2010

دعائیں اور بد دعائیں

یا اللہ پاکستان کے ایٹم بم کی حفاظت فرما کی دعائیں تو هم سنتے هی رهتے هیں مساجد میں
جیسا که وھ نیو یارک والے حملے سے پہلے امریکه میں مساجد میں پاک مولوی یاالله امریکه کو تباھ کردے کی دعائیں مانگا کرتے تھے
امریکه میں بیٹھ کر امریکه کو بد دعائیں
یهاں جاپان میں جاپان کی پناھ میں پناھ گزین مولوی کچھ اس طرح کے تاسف کا اظہار کرتے ههں که
اس کفرستان ميں اسلام کی شمع جلائے رکھنی ہے
اور اگر ان کو کہیں که اپ اسلام کے قلعے میں واپس چلے جائیں تو
ان کو ایسا سنائی دیتا ہے جیسے کوئی کہـ رها هو که جہنم میں چلے جاؤ
ایٹم بم کی حفاظت پر بی بی جی والے هارون صاحب نے بھی لکھا هے اور میں بھی پر لکھنے کا سوچ هی رها تھا
پہلے تو سوچا که اپنی بات هارون صاحب کے بلاگ پر تبصرے مین لکھ دیتے هیں لیکن بی بی جی پر تبصرھ کرکے کچھ ایسا لگتا ہے که جیسے کسی کی چوکھٹ پر آس لگائے بھکاری کی طرح کھڑے هیں که کب تبصرے کو شرف بی بی یابی هو اور همارے بھی مقدر جاگ جائیں
جاپان کی کمائی نے خاور کو بھی اس قابل کردیا هے که خود داری کا مظاهرھ کرسکے اس لیے بی بی جی پر تبصرھ کرکے پرمیشن ملنے کا انتظار کرنے میں خود داری کو ٹھیس لگتی ہے
کیا دل چسپ مذاق هے که رب سے ایٹم بم کی حفاظت کی دعا کررهے هیں
امیر اپے کے مرنے پر ڈانگ کی حفاظت کے لیے چوکیدار رکھ لین اور پھر بیچارے چوکیدار پر باڈی گارڈ رکھ لیں
پاک فوج کی حفاظت کے لیے دعا کریں
کیونکه فوج کچھ اور کاموں میں مصروف هے روز نامه اخبار کی خبر ہے
که جاپان میں چالیس سال پہلے ایٹمی پلانٹ چل رهے تھے ،اور جاپان کبھی بھی ایٹمی پاور نہیں کہلوایا هے
اور همارے یه حالت ہے که چوھے کو ہلدی کی گھنڈی ملی اور وھ پنساری بن بیٹھاـ
سپر پاور امریکه ٹکساس میں ایٹمی پاور پلانٹ لگا رها هے اور اس کو لگانے کا ٹھیکه جاپان کی کمپنی توشیبا نے مانگا تھا ، ایک اندازے کے مطابق اگر توشیبا کو یه ٹھیکه مل جاتا ہے تو توشیبا ایٹمی پلانٹ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن جائے گی
اور جی توشیبا جاپان نهیں هے توشیبا صرف ایک کمپنی هے جاپان نامی ملک کی جس ملک میں اسطرح کی کئی کمپنیاں هیں .
تیل کے پریشر سے چلنے والے جیک
جیسا که کرین میں هوتا ہے ، ان جیکوں کو چلانے والے سوئچ اور وول اور پمپ یهاں جاپان میں کوڑیوںکے مول مل جاتے هیں ، میں نے کچھ ٹن تجربے کے لیے پاکستان بھیجےتھے
پاکستان میں لوکاں کو سمجھ هی نهیں هے اس لیے لوہے میں بیچنے پڑیں گے
تھوڑی سی سمجھ سے ان جیکوں سے آٹومیٹک خراد اور ورمے بنائے جاسکتے هیں
لیکن جی پاک سوچ ، بہت هی پاک ہے اس کو استعمال کرنے کہیں یه گھس هی نه جائے اس لیے سوچنے جیسے نیچ کام کافر لوگاں پرچھوڑ دیتے هیں ـ
پاک فوج کے متعلق لوگ اصل بات کیوں نهیں لکھتے که یه فوج ملک کے لیے کس حد تک نقصان دھ ہے
اس کی بھی مجھے سمجھ لگ رهی هے ، اس لیے میں بھی پاک فوج کے کردار پر لکھنے سے ڈرتا هوں
کیا کلچر ہے جو انہوں نے پاکستان کو دیا هے
بھکاری
بے غیرت
ایٹم بم رکھ لیں جی کسی پاک جگه پر اور مجھے تو صرف یه چاەیے که مجھے پاکستان واپس جانے دیں
مجھے میرا پاکستان واپس کردیں
جهاں لوگ کھیلوں میں حصه لیتے تھے
جهاں ایک دیسرے کے دکھ سکھ ایک هوتے تھے
جهاں کوئی بے چھت نهیں هوتا تھا جہان کوئی بھوکا نهیں سوتا تھا
یارو یه توحید میں بڑی برکت هے
اس مين بڑی باتیں هیں سوچنے والوں کے لیے عقل والوںکے لیے فکر کرنے والوں کے لیے!!
تو جھکا جب غیر کے آگے
نه رھا تیرا تن اپنا نه من اپنا
اگر ضرورت ایجاد کی ماں هے
تو
کاریگر
ایجاد کے ابا جی هوتے هیں
اباجی کی عزت کرو

ہفتہ، 26 جون، 2010

مملکت زناں

وهی دارا وهی چنڈال چوکڑی اور باتاں هی باتاں
خاور نے بتایا که وھ دنیا کی دوسری نظریاتی مملکت تھی ،اپنے پاک ملک کے بعد
زنانیوں نے بنائی تھی مملکت زناں ستان مردوں کے گھورنے سے سے خواھ مخواە ميں لائینیں مارنے سے اور عشق لڑانے کے گندے کام سے آزادی حاصل کرنے کے لیے،

لگن هو جدوجہد کرنے کے تو دھنے جٹ کو خدا مل گیا تھا زنانیوں کو ملک نهیں ملنا تھا
اس ملک میں مرد بچوں کو پیدا هوتے هی نسبندی نما کرکے مردوں والے گندے کاموں کے لیے غیر کار آمد بنا دیا جاتا تھا
اچھو ڈنگر کے منه سے نکل گیا
یعنی خسرے؟؟
اوئے نهیں اچھے مرد ڈنگرا!!- خاور نے کہا
میک اپ کا سمان بھی نهیں بکتا هو گا اس ملک ميں تو؟
وھ وی کٹ گلے کی قمیض اور تنگ چاکوں کی قمیض اور ترچھی بؤیں کیا هوئیں؟؟
بھولے سنیارے نے پوچھا
تاریخ میں اس کا کوئی تذکرھ نهیں ملتا که جس ملک ميں مرد هی نهیں هوں کے وہاں کی عورتیں کس قسم کے کپڑے پہنتی هوں گی
کون کون سے پہلو کو اجاگر کرتی هوں گی اور کیوں کرتی هوں گی؟
جب آرتھ کرنے والی چیز هی نهیں تھی تو کس کا کیا ارتھ کرتی هوں گی،
فیر مینوں اس ملک میں چھوڑ آؤ جہاں بندھ کام تو دھیان سے کرسکے که ناں اجاگر کولہے هوں گے ناں عیاں بلندیاں اور پستیاں
رمضان میں روزے بھی خراب نهیں هوں گے
یه باؤ مستری کا تقاضا تھا
ماسٹر طفیل نے سوال جڑ دیا
که یه بچے پیدا کیسے هوتے تھے زنان ستان ميں
جواب تھا ٹیکے کے ساتھ
اچھو ڈنگر نے پھر لقمه دیا یعنی مجھوں (بھینسوں)کی طرح،
لیکن یه ٹیکے اتے کہاں سے تھے ؟؟گڑتھو چوھڑے نے پوچھا
ناپاک لوکاں کے ملک سے !!-
کسی نے بتایا
تو گڑتھو نے دوبارھ پوچھا
لگاتا کون تھا؟
گامے کو غصہ آ گیا
کوئی بھی لگائے یانه لگائے یه کیا ٹر ٹر ہے بات سننے دو ، چسکا آ رها ہے که ایسے ملک میں اگر مجھے ویزھ مل جائے یا ڈنکی لگ جائے تو ……………
بس جی یه ملک اسی طرح کچھ تیس سال تک چلتا رھا ، نئی پود کی لڑکیوں کو ناں هی شجر ممنوعه کا معلوم تھا اور ناں هی کوئی چکھنے والا
کیونکه مرد اور گھوڑا اگر خسی کردیا جائے تو جو چیز بنتی هے اس کو دیکھ کر مردوں کا تو ہاسا نکل جاتا ہے لیکن زنانستان ميں ان کو مرد هی کہا جاتا تھا
ایک دن پڑوسی ملک کے اصلی مردوں نے حمله کردیا، اور لچا پن دیکھانے لگے ، انہوں نے ساری هی جوان لڑکیوں کو جن کو کسی بھی مرد نے نہیں چھوا تھا،نه صرف چھوا بلکه مجروع کردیا ،ان حمله آوروں نے جو اسلحه استعمال کیا اس کا کوئی ذکر زنانستان کی کتابوں یا میڈیا میں نهیں تھا،
اس حملے میں مجروع هو جانے والی لڑکیوں نے بغاوت کردی اور ظالم مردوں کے ساتھ شامل هو کر بڑی بوڑهیوں کو کوسنے دینے لگیں
تم لوگوں نےمجروع کردینے والے اس ھتھیار سے هم کو بے خبر کیوں رکھا تھا
اب تو هم مردوں کے ظالم معاشرے کے ساتھ الحاق چاھتی هیں
الحاق کا تقاضا کچھ اس جوش خروش سے کیا گیا اس کی مثال هی نهیں ملتی
بہت سے بڑی بوڑھیوں نے بھی اپنی ساتھیوں سے غداری کی اور چھپ چھپاکر مجروع هونے چلی گئیں
سب لوگ ہنسی خوشی رہنے لگے
سنا ہے که کچھ سال بعد پھر کچھ خواتین کو مردوں کی نظریں چبھنے لگی تھیں

بدھ، 23 جون، 2010

عورت مرد کی جنگ

اسماء که ایک پوسٹ پرمیں نے یه تبصرھ کیا
‎کسی سیانے نے کہا تھا که
‎میں عورت کے متعلق اپنی اصلی رائے اس وقت دوں گا جب میرے پاؤں قبر میں هوں گے اور رائے دیتے هی قبر میں چھلانگ لگا دوں گا
‎اور میں نے سوچ رکھا ہے که عورت کے متعلق اپنی اصلی رائے اس وقت دوں گا ، جب میں شجر ممنوعه چکھنے کے “جوگا” هی نهیں رهوں
‎میری اس تحریر سے کوئی اندازھ بھی لگا سکتا ہے اور میرا شجر ممنوعه والا کھیل ختم بھی هو سکتا ہے ؟؟
‎لیکن نهیں جی دیسی خواتین کو میں نے کبھی کھیل کا پاٹنر نهیں چنا ہے، اور ناں هی چننے کا ارادھ ہے اسی لیے اردو ميں لکھ بھی دیں تو جی میچ کھیلنے والے کھیل میں شامل هوتے هی رهیں گے که ان کو اردو کی سمجھ هی نهیں هے
‎کائینات کی یه سب سے بڑی حقیقت ہے که عورت پیاری بڑی لگتی ہے لیکن دیسی نهیں هونی چاھیے که اس کو اپنی عزت کا خیال هو ناں هو مجھے اس کی عزت کا خیال ہے
‎سکائیپ پر کال کرکرکے خاور پر ٹرائیاں کرنے والی بھی تھیں اور هو سکتا ہے که وھ یه بلاگ پڑھ بھی رهی هوں
‎ٹرائیاں کرنے کی وجه وھ تصاویر تھیں جو میرے پرانے پڑھنے والے جانتے هیں که بالغ لطیفوں والی سائیٹ پر لگی تھیں ـ
تواس کے جواب میں اپنی بی بی عنیقه نے یه جواب دیا
‎خاور صاحب، جب میں اکثر کمپیوٹر کھولتی ہوں تو لکھا آتا ہے اسکائیپ پہ فلاں شخص یا شخصیات آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میرے گھر کے آدھے سے زیادہ افراد باہر ہیں۔ اس لئے اسکائیپ استعمال ہوتا ہے۔میں نے ہمیشہ ان پیغامات کے متعلق یہ سوچا کہ یہ اسکاءیپ کا کچھ اپنا ڈیفالٹ پروگرام چلتا رہتا ہے۔ کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں قطعآ نہیں جانتی۔ جبکہ کچھ ہماری اسی بلاگی دنیا کے لوگ ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے بہ نفس نفیس بات کرنے میں بھی دلچسپی نہ رکھتے ہونگے چہ جائیکہ اسکائیپ پہ قطعا بات کرنے کے خواہشمند نہیں ہونگے۔
‎تو اپنے بلاگی حضرات کی سمجھ دانیاں اور فہمیاں جاننے اور سمجھ لینے کے بعد میں یہ عین اپنا فرض کفایہ سمجحتی ہوں کہ اس وقت موجود بلاگر خواتین کی طرف سے آپکے اس خیال کی تردید فرمائووں کہ وہ آپ پہ ٹرائیاں مارتی ہیں۔ ان میں سے کوئ بھی مجھے اس جوگے نہیں لگتی۔ ان میں یہ ناچیز بھی شامل ہے۔ کیونکہ مجھے اسکا تجربہ اس وقت ہوا جب فیس بک پہ ڈفر صاحب کی طرف سے مجھے یہ پیغام ملا کہ میں آپکو اپنے دوستوں میں شامل کر لوں۔ میں نے ایسا ہی کیا کہ ان دنوں میں نے کوئ سو سے اوپر لوگوں کو اس طرھ شرف دوستی دیا۔ پھر اسکے بعد آپکی طرف سے پوسٹ آئ کہ آپ دراصل فیس بک پہ دوستی کرنے کے لئے فارغ نہیں اور معذرت خواہ ہیں۔
‎حالانکہ میرے لئے اسکی کوئ ضرورت نہ تھی کہ فیس بک پہ موجود ڈیڑھ سو لوگوں کے تو مجھے نام بھی یاد نہ تھے۔ اگر میرے نام کے ساتھ آپکو کبھی بھی کوئ ایسی چیز ملے تو اسے ہمیشہ مشینی غلطی سمجھئیے گا۔ اس معاملے میں جب میں اللہ نے کثرت سے نوازا تھا تب بھی میں نے کام نہیں لیا۔ اور اب تو اور بھی کام ہے زمانے——–۔
‎اور ہاں عورت ہی نہیں، اس کائینات میں موجود مرد بھی بڑے پیارے لگتے ہیں۔ جب وہ اپنی اور دوسرے دونوں کی عزت کا خیال رکھتے ہیں۔
‎اور اس چیز پہ کوئ پوسٹ ضرور لکھئیے گا کہ مردوں کے یہاں بلوغت کا مسئلہ اتنی گھبیرتا کیوں رکھتا ہے ۔ جبکہ خدا نے ہر نوع کے جانور سمیت انسانوں میں بھی ہر دو جنس کو زندگی کے اس مرحلے سے گذرنے کا موقع دیا ہے۔
‎میں آپکے بلاگ پہ اب تبصرے سے گریز کرنا چاہونگی کہ آپکا یہ تبصرہ انتہائ خطرناک ہے۔

‎جس کو پڑھ کر اپنی اسماءبی بی جو که بیبی کم اور بابا زیادھ هیں ان کو بھی جاگ آکئی که خاور کی کیہندا اے
‎اور لکھتی هیں
‎جسطرح بيوقوف کو ايک لطيفے پر دو دفعہ ہنسی آتی ہے ميرا بھی يہی حال ہے اب عنيقہ ناز کے تبصرے کے بعد خاور صاحب کے تبصرے کی سمجھ آئی ہے واللہ چچا جان ميں تو آپکو اپنے حقيقی چچا کی طرح سمجھتی ہوں اور سکائپ بلا کا تو مجھے پتہ تک نہيں ميں نے تو ايک جو يونيورسٹی ميں ٹرائی ماری تھی اسی کی کاميابی کا دکھ جھيل رہی ہوں ويسے ميں نے ايک دن آپکے بالغوں والے لطيفوں کی سائيٹ جو کھولی اف ف ف
‎اور اب خاور کا جواب

بی بی جی بلکه بیبیو اپ کو غلط فہمی هو گئی ، میں بلاگر خواتین کی بات نهیں کررها وھ کوئی اور تھیں اور میرے پاس وقت بھی تھا اور باتاں بھی کی تھیں ،
ایک اپ خواتین کو هر بات اپنے اپ پر پھبتی کیوں لگتی هے؟
اور بلوغت والا سوال ایک جاپانی لڑکی نے بھی یا تھا
تو بی بی جی اس پر وھ والا لطیفه یاد آ گیا جب چرچل کو پاگل خانے کے معائینے کے دوران ایک صحتمند پاگل نے اپنی ذہنی صحت کا میڈیکل سرٹیفکیٹ هونے کا فخر کرکے چرچل کی ذہنی صحت پر شک کیا تھا
اس لے بی بی جی لڑکیاں تو جب سیانی هوتی هیں تو ان کو خود بھی معلوم هوجاتا هے که اج سے سیانی هیں لیکن مرد بے چارے بچوں والے هو کر بھی ایوں سے هی رہتے هیں
باقی اپ نے میرے پہلے تبصرے کو بالغ نظری سے پڑھا هوتا تو اپ کو اور بی بی عنیقه کو بھی معلوم هو جاتا که ميں لکھ رها هوں که جی دیسی خواتین میرے لیے ماں بہن جیسی هیں ، که ان کو اپنی عزت کا خیال هو که ناں هو میں ان کی عزت کرتا هوں
لیکن جی اپ خواتین بھی کمال کی چیز هیں که مجھ جیسے بندے کو عورت مرد کی بحث میں کھینچ لائی هیں
بے چارے ناتجربه کار یاکم تجربه کارلڑکوں کو تو اپ بے حال کردیں گی
بی بی جی میں عورت اور مرد کے تعلقات ميں ساری منازل سے گزرا هوں اور بار بار گزرا هوں
لطیف جذبوں کے سرخ بادل بھی دیکھے هیں اورکثیف جذبوں کے بن بارش کے سیلاب بھی
خود اذیتی کی لذت میں عورت مرد کے فرق کا پاک معاشرے میں تصور هی نهیں هے
ان مسافتوں کی باتیں اردو زبان میں نهیں لکھی جاتی که ابھی یهاں مرد هی نهیں عورتیں بھی بلوغت کی منزلوں کے وچکار هیں
خواتین کا معامله مشکل هوتا ہے که ان کی ساری عمر خود کو مرد سے بہتر ثابت کرنے میں گزر جاتی هے
باقی جی میں یه سمجھتا هوں که اگر اپ عقل مند هیں تو سب کو معلوم هو جائے گا که اپ عقل مند هیں اورر اگر اپ بیوقوف هیں تو چاھے کتنی هی ایڑیاں "چک چک' لیں اپ کا اصلی قد سب کو نظر اجائے گا
یه تو لوکاں سے پوچھیں یا لوکاں دے خیالات کی کھوج کریں اپ کے متعلق، تے فیر اصلی گل باہر نکلے گی
وھ مرزا صاحباں کی کتاب ميں لکھا ہے
ہس ہس لاندیاں یاریاں تے رو رو دیندیاں دس
جنس پر بات شروع کرلیں گی اور پھر سب کو بتاتی پھریں گی "اُس" نے یه کہا تھا
میں ایک دفعه پھر لکھوں گا که میں دیسی زنانیوں کو ماں بہن کر طرح سمجھتا هوں اس لیے بڑھی لکھی بیبیوں سے درخواست ہے که مجھ سے ناں لکھوائیں جو اردو میں نهیں لکھا گیا ہے بلکه انگریزی سے پڑھ لیں که عورت نامی جنس کا کیا مول هے مارکیٹ میں
هم دیسی مردوں نے عورت کو انمول بنادیا ہے
ہمارے معاشرے ميں ماں هوتی هے بہن هوتی هے بیٹی هوتی هے بیوی هوتی هے
لیکن بلوغت کی منزلوں کی زیادھ هی طے کرلینی والی فی میل ان پوسٹوں سے ترقی کرکے " ایک عورت" هی بن جاتی ہے . اور عورت نامی جنس جن باٹوں میں تلتی هے پھر مرد ان کو انہی باٹوں سے تولتے هیں
آگر اپ بیبیون نے بھی ترقی کرلی ہے تو مرد عورت کی جنگ جاری رکھیں ، لذت لینے والوں کو لذت کا سمان ملے گا
میرے گاؤں علاقے کی کسی عورت کی کہ کردیکھ لیں که خاور بدکار ہے تو وھ میری غیر موجودگی میں هی میری شرافت کی گارنٹی دے دے گی
کیونکه میں واقعی ایک چنگا مرد هوں دیسی بی بیوں کے لیے
میرے خیال ميں میرے کم لکھے کی زیادھ جانیں گی اور مجھے عورت مرد کی جنگ میں نهیں کھینچیں گی
که میں آپ لوکاں کو ان رشتوں ميں هی دیکھتا هوں جو میرے معاشرے میں رائیج هیں
ایک اور بات کی وضاحت کے فیس بک پر اپنی عدیم الفرصتی کی وجه سے نه جاسکنے پر جو میں نے لکھا تھا
اس کا مطلب یه هے که دوستو میرے پاس وقت کم هے اس لیے جو ضروری بات کرنی هو میل کرلیں یا فون
اس کا یه مطلب نهیں تھا که میں کسی خاتون کو سنا رها هوں ، کیونکه ان دنوں وھ والی سائیٹوں کی خواتین کی طرف سے جنک میل بھی بہت ارهی تھیں
اور مزے کی بات ہے که فیس بک کا اؤنٹ میں نے خود نهیں بنایاتھایه کسی نے بنادیا تھا مجھے تو میلوں کے انے سے معلوم هوا تھا که میری ای میل کا اکاؤنٹ بن چکا ہے اور بھر میں نے جا کر دیکھا تو نام بھی عجیب ساتھا جس کو میں نے بدل کردیا اور بس !!-

اتوار، 20 جون، 2010

تلونڈی

دو تین سال پہلے ميں نے ایک پوسٹ ميں ذکر کیا تھا صاحب موچی کا جو که اس پوسٹ
کے درمیان اتاہے


تو جی جس گاؤں کا هے ناں جی یه صاحب موچی وھ گاؤں بھی اپنی طرز ميں بے مثال هے


تونڈی موسے خاں یهاں کے ایک علامه صاحب هیں ، انہوں نے ایک ایک سائیٹ بنائی ہے جو که کسی گاؤں کی باتاں کے لیے شائد دنیا کی پہلی سائیٹ هے ، یهاں علامه صاحب نے بھی ان صاحب صاحب موچی کا ذکر کیا هے اور فوٹو بھی لگائی هے ، یاد رہے که موچی لکھ کر میں ان صاحب کی هتک نهیں کررها هوں بلکه اپ اگر اس بندے سے پوچھیں که تہاڈا ناں کی اے ( آپ کا نام کیا ہے )؟ تو اس کا جواب هو گا


اوئے تینوں صاحب موچی دا وی پته نهیں ؟!!-یه ہے جی صاحب موچی



هاں جی یه تلونڈی موسے خاں ہے جہاں آپ کو اگر کوئی پاگل بھی نظر ائے تو هو سکتا ہے که اپ کو پینٹ شرٹ میں دیکھ کر انگریزی میں باتاں شروع کردے
کسی ریھڑی والے کو غلط شعر سنا کر هو سکتا ہے که اپ کو سننا پڑ جائے
باؤ جی شہروں آئے او؟
گاؤں چھوڑے مدت هو گئی !!- سنا ہے که اب تلونڈی کا ماحول بس ایویں جیا هی هو گيا هے
ایک روپے کے نوٹوں پر دستخط والے ممتاز خان صاحب ، مشہور شاعر عدم صاحب اسی گاؤں کے تھے
اور بھی بڑی بڑی چیزاں هوئی هیں ، ان کا ذکر بد هوتا هی رہتا ہے
ایک خادم حسین هوا کرتا تھا ، ذہنی طور پر بچه رھ گیا تھا لیکن گاؤں میں کوئی اس کو برے نام سے نهیں پکارتا تھا، اور اج بھی کوئی پاگل پن کی بات کرے تو اس کو تلونڈی اور گرد نواح کے دیہات میں خادم حسین کہ دیا جاتا ہے
ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار اس کو زبانی یاد تھی اور اردو کے ہجے کرنا اس ختم تھا که ہس ہس کر برا حال هو جائے
ایک حنیف موچی هوا کرتا تھا ، پاگل ، گم سم بولنا جیسے اتا هی نهیں لیکن اس کو انگریزی کی کتاب دیکھاؤ اور پیار سے پاس بٹھا کر ترجمعه کرنے کو کہو تو مشین کی طرح فقرے پڑھ پڑھ کر ترجمعه کرتا جائے گا اور هو گا بھی صحیع ترجمعه
اس کو لوگ کہا کرتے تھے که پڑھ پڑھ کر پاگل هو گیا ہے
کمیاروں کے منڈے خاور کو هر وقت کتاب پکڑے دیکھ کئی بابے کہا کرتے تھے تیرا حنیف والا حال هو جانا اے
جب نیا نیا فون گوجرانواله کے ساتھ ڈائریکٹ هوا تو رات کو فون انے لگے اور وھ بھی لڑکیوں کے ان دنوں کالر آئی ڈی تو هوا نهیں کرتی تھی ، وھ سہیل مرید بتاتا ہے که خود کو سیٹلائیٹ ٹاؤن کی بتا کر ساری رات باتاں کرنے والی لڑکی کے منه سے ایک دن نکل گیا
توں وی خادم حسین ای ایں !!-

جمعہ، 11 جون، 2010

ایک فحش پوسٹ ، تاریک گوشے

ادبی ذوق والے لوکاں سے بے ادب پوسٹ پر پیشگی معذرت ،یه پوسٹ اس لیے لکھی گئے هے تاکه شرپسندوں کی زندگی کے تاریک پہلو اجاگر کیے جائیں ، کسی کے ماتھے پر حرامی نهیں لکھا هوتا ہے کچھ تاریک پہلو ، کون ؟کیوں ؟کیسا ہے؟

کہانی اس رات سے شروع هوتی هے جس کو اسحاق بھٹی کی ماں کی سہاگ رات کہ سکتے هیں . سوال یه پیدا هوتا ہے که اس کی ماں کے خصم کی سہاگ رات کیوں نهیں؟

اس لیے که وھ بے چارھ دن بھر شادی کی مصروفیات میں تھکا هوا مسہری والے کمرے میں داخل هوتےهی هیں سو گیا تھا

ارمانوں بھرے دل والی ساقے کی ماں تو بیچاری دل مسوس کر رھ گئی

وھ جو نورجہاں نے کہا تھا

ہماری سانسوں میں اج تک وھ حنا کی خوشبو مہک رهی ہے

اس حنا کی مہکتی خوشبوں میں اسحاق بھٹی کی ماں کے خصم کے خراٹے گونج رهے تھے

اپنی حسرتوں کی لاش لیے ، جسم میں اٹھنے والے سیلابوں کو سنبھالتی ساری رات مسہری پر بیٹھی رهی که شاید اس " مرد " بچے کو جاگ آ جائے

لیکن!!!.

بہرحال دوسری رات اس نے خود هی جرأت کی اور اپنے خصم کے بالوں ميں انگلیاں پھیرنے لگی ، لیکن ہائے آرزو که بخاک شد والی بات . بالوں میں انگلیاں پھرنے سے اس "مرد " بچےکو پھر نیند آ گئی ،

خواہش اس کو کهتے هیں جو مرنے تک بھی پوری هو

جو دل هی دل میں رھ جائے اسے ارمان کهتے هیں

اسحاق بھٹی کی ماں کی خواهش بھی ارمانوں میں بدلنے والی تھی

که تیسری رات بھی جب اس عورت نے اپنے خصم کے سر کو مالش کرنی شروع کی که شائد اس "مرد " بچے کی مردانگی جاگے لیکن وه تو وھ پھر سو گیا

اسحاق بھٹی کی ماں نے اس کے پاؤں دبانے سے لے کر " ٹٹولنے " تک جو بھی هو سکا کیا لیکن وھی ڈھاک کے تین پات!!ـ

بھٹی اور کھوکھر لوگ جب تک اپنا پورا نام ناں بتائیں اپ ان کے مذہب کا اندازھ نہں لگا سکتے خاص طور پر گوجرانواله ڈویژن کے بھٹی اور کھوکھر، گوجرانواله میں ضلعی عدالتوں کے پاس هی ایک گاؤں هے جو که اب شهر کا هی حصه هے ، کھوکھر کے یهاں بڑے بڑے پڑھے لکھے چوھڑے پائے جاتے هیں یه ابادی غیر مسلموں کی ہے اور یهاں نام رکھنے کا رواج بھی کچھ اسطرح کا هے اپ ان کے مذہب کا اندازھ نهیں لگا سکتے،

اسی طرح بھٹیوں کا هے، یه بھی کچھ اس طرح کے نام رکھتے هیں که صرف ان کے گاؤں کے لوگوں کو هی معلوم هوتا ہے که یه چوھڑے هیں یا پھر ان کی عادات سے سیانے ان کو پہچان جاتے هیں ـ

ان کی ایک پہچان یه ہے که جب یه غیر ممالک میں جائیں شراب ضرور پیتے هیں اور پھر اکڑتے هیں ، پنجابی کی چوھڑے والی آکڑ مشہور ہے

اسحاق بھٹی کی ماں اور اس کا خصم بھی غیر مسلم بھٹی تھے

جن کو ان کے علاقے کے لوگ چوھڑے کہتے تھے

اس چوھڑے کا ایک بڑا بے تکلف دوست تھا گاما گمیار ، اس کا بھٹیوں کے گھر بڑا آنا جانا تھا، بچپن سے ہم پیاله هم نواله گامے سےکالو بھٹی کی بڑی بے تکلفی تھی

ایک دوسرے کے گھر میں اجانا بھی تھا ، اس دن جب گاما آیا تو کالو بھٹی نے اس کو بڑے فخر سے بتایا که اس بڑی اچھی بیوی ملی هے ، جو که بڑی هی خدمت گزار ہے ساری رات اس دباتی هے

وھ بھی پاس هی بیٹھی تھی ، اکڑ اکڑ میں کچھ زیادھ هی اکڑ گیا اور بادشاهوں کے لہجے ميں اپنی بیوی سے پوچھتا هے

مانگ ، کیا مانگتی هے ، میں اپنے یار گامے کے سامنے وعدھ کرتا هوں که تمهاری هر خواهش پوری کروں گا!!ـ

اسحاق بھٹی کی ماں نے ھاتھ جوڑ کر اس سے کہا

میرے سر کے تاج ،مجھے طلاق دے دے !!ـ

کالو بھٹی کا تو تراھ هی نکل گيا

اوے وھ کیوں؟؟

بس جی اپ کو بڑی مہربانی هو گی ـ اسحاق بھٹی کی ماں نے ترلامارا.

یهاں گاما انٹری مارتا ہے اور پوچھتا ہے اور اؤے کالو مجھے پوری بات بتاؤ که هوا کیا هے ان تین راتوں میں ؟؟

ساری بات سن کر گامے نے کالو سے کہا که مجھے معاملے کی سمجھ آ گئی هے

اس کو میرے ساتھ ذرا بھیجو ، میں اس کو اکیلے میں سمجھاتا هوں ، پھر یه تم سے طلاق نهیں مانگے گی

گامي نے اسحاق بھٹی کی ماں کو ایسا سمجھایا که وھ بے چاری چند ہفتے بعد هی الٹیاں کرنے لگی ،

گامے کے اس سمجھانے کے ٹھیک دس مہینے بعد اسحاق بھٹی پیدا هوا تھا

اور اس دوران کالو نےاپنی بیوی کو سمجھانے کی ساری ذمه داری گامے پر چھوڑ دی تھی

گاما جو که مسلمان تھا اس نے کالو پر مسلمان هونے کا دباؤ ڈالنا شروع کردیا تھا که اسحاق بھٹی کی تربیت اسلامی طریقے سے هونی چاھیے

اسطرح اس خاندان کو مسلمان کرنے کی سعادت گامے کمیار کے حصے ميں آئی !ـ

اس سحاق بھٹی کا ایک یار ہے پپو لی ، اس کو لی اس لیے کہتے هیں که ایک دن کسی نے اس کو ٹریکٹر کی اوٹ میں لے جاکر اس کی کچھ " لی " تھی .

انگریزی میں هومو سیکسول کی وارادات کہتے هیں غالباً

اس پپو لی نے ایک دن اسحاق بھٹی کو بتایا که

سارے بالغ لوگوں کا کوئی نه کوئی راز هوتا ہے اگر ان کو کہا جائے که مجھے اندر کی بات کا پته چل گیا هے تو خرچا پانی نکلنے کا انتظام هو جاتا ہے

اب اسحاق بھٹی کو یه گر ازمانے کا ایا بھی تو گامے کمیار کو کہنے لگا

مجھے اندر کی ساری بات کا معلوم هو گیا هے !!-

گامے نے حیران هو کر اس کا منه دیکھا اور پوچھا

واقعی؟؟

اسحاق بھٹی کے ہاں کہتے هی گامے نے ایک گھٹنا نیچے ٹکایا اور بانہیں کھول کرکهنے لگا

اچھا تو پھر آؤ اپنے اصلی ابے کے گلے لگ کر ٹھنڈ پاؤ

یهاں سے اسحاق بھٹی کے تراھ نکلنے کا سلسله شروع هوتا ہے که اس نے ٹوھ میں رہنا شروع کردیا

که یه گاما کرتا کیا ہے

ایک دن اس نے گامے کو گھر میں داخل هوتے دیکھ کر چھپ کر اس کو دیکھنے کا چارا کیا تو اس نے کھڑکی کی درز سےکیا دیکھا که گاما اور اس کی ماں پہلوانوں کی طرح قدرتی لباس میں کشتی لڑ رہے هیں اور گاما جیت گیا ہے اور اس کی ماں نیچے پڑی تکلیف سے کراھ رهی ہے

ابھی بچه تھا بے چارھ اس کو سمجھ نهیں لگ سکی که ماں وصل کی لذت کی انتہا پر ہے

لذت کی انتہا سے بے حال ماں کی اس کفییت کو اسحاق بھٹی ماں کا کرب سمجھا اور گامے کو ایک ظالم کے روپ ميں دیکھ کر رونے لگا، اس دن سے اسحاق بھٹی کو سارے کمیار ظالم اور دشمن نظر اتے هیں ، جب بھی شراب پیتا ہے اس کا جی چاھتا ہے که کسی کمیار کو گالیاں دے لیکن جب اس کو گامے کی پریکٹیکل گالی یاد اتی ہے تو اس کے انسو نکل جاتے هیں ،

ایک چوھا کہیں شراب کے ڈرم میں گر گیا ،ڈبکیان کھاتا جب باہر نکلا تو نشے میں چور هو چکا تھا اور نشے نے اتنی ہمت عطا کر دی تھی که اکڑ کر کھڑا هو گیا که ایسا لگتا تھا که دم پر کھڑا ہے

اور للکار کا کہنے لگا

کتھے وے او بلی ؟ لیاؤ اج میں اینوں کچیاں کھا جاواں

بس کچھ اسی طرح جب اسحاق بھٹی شراب پی لیتا هے تو کمہاروں کو فون کرکر کے گالیاں دیتا ہے اور للکار للکار کر منڈی میں انے کو کہتا ہے

لیکن اگلے دن نشه اترنے پر کمہاروں سے ڈر بھی لگتا ہے که وھ حال ناں کریں جو گامے نے اس کی ماں کا کیا تھا

جاپان کے مشہور کمیار کو جب اس نے گالیاں دی تو وھ ہنس کر رھ گیا اور زیر لب بس اتنا کہا تھا

اسحاق بھٹی ولد گاما کمیار، ماں دا بہادر پتر

نوٹ : هو سکتا ہے که اس پوسٹ کی دوسری قسط لکھنی پڑ جائے


منگل، 8 جون، 2010

کالم اور گالم

بات ٹھیک هی ہے که اگر کوئی کالم کے اسٹائل میں لکھتا ہے تو اس پر اعتراض کرنے کی کیا ضرورت هے ؟
میری کچھ پوسٹیں بھی تو گالم کے انداز میں هوتی هیں ناں ، گ پر زور ہے
بس ذرا جی چاھتا ہے که بلاگنگ میں کچھ انفرادیت هو ، که پیشه ور لوگوں سے مختلف هو
املا کی غلطیوں کے متعلق بات یه ہے که جلدی میں ٹائیپ کرتے هوئے کنجیوں کے دبانے اور ناں دبانے سے اور دب جانے سے فرق پڑتا ہے
ایک تو ے اور و کی غلطی هوتی هے کیونکه میرے کی بورڈ پر یو والی کنجی سے و اور ے لکھا جاتا ہے ے کو لکھنے کے لیے شفٹ کو دبا کر یو پر انگلی مارنی هوتی ہے لیکن جب شفٹ کم دبتی هے تو ے کی بجائے و هو جاتا ہے لکھا میرے هو تا ہے اور بن میرو جاتا هے
بندھ پوچھے که ایک دفعہ ٹائیپ کرکے اس پر نظر ثانی کیوں نهیں کرتے جی کنگ صاحب !!-
بس یہی نقص ہے جی املا کی غلیطیاں زیادھ هونے کا
اندر کے کنگ کو سمجھاتا هوں تو مصروفیت کا بہانہ بناتا ہے
اصل میں کام کتنے هی هوتے هیں جن میں سے وقت نکال کر ٹائیپ کرتا هوں اور اس دوران بھی " مگن " هو کر نهیں رها جاتا، خیالات اوارگی پر نکل جاتے هیں
باقی جن دوستوں نے اس بات کا ذکر کیا هے میں غلطی نهیں مانتا ان کو مغالطه لگ گیا هے
اوئے بھلیو لوگو میں تو بڑا چنگا بندھ هوں اتنا چنگا که لوگ فراڈ مار جاتےهیں

‎غم دنيا،غم عقبی'، غم دوراں، غم دوست

جس جگه ميں ہوں اگر فرشته ہو تو پاگل ہو جائے

جمعرات، 3 جون، 2010

مکھی په مکھی مار تعلیم

خلاصے اور ٹیسٹ پیپر پڑھ کر تعلیم حاصل کرنے والے ، سمریوں کی سمری کرکے انگریزی یافته لوگ، نالج اتنا که اس کو اخباری نالج کہتے هیں ، اخبار بھی وھ که انگریزی سے ترجمعه کرتے هوئے یه بھی نهیں سوچتے که نام کا اصل تلفظ کیا هو گا
دنیا میں پھول هی پھول کھلے هیں ،
همارا ملک دنیا کا سب سے بہتر ملک هے
هم دنیا میں سب سےاچھے مسلمان هیں ـ
اسلام تو اب صرف پاكستان میں هی رھ گیا ہے
اور جی ان کو جھٹلائے
وھ کھسکا هواہے
مضمون لکھنے میں کسی ناں کسی کی نقل کرنی هے ، اور اس کو معیاری تحریر کہنا ہے ، شاعری یا تو فراز کے وزن پر هونی چاھیے یا امام دین کے وزن پر بلاگ پوسٹ کسی کالم نگار کی طرز پر هونی چاھیے
جو اپنی طرز پر لکھے اس کو گالم نگار کہ دو مقروں کی ساخت استادوں جیسی لفظوں کا چناؤ کہانی کاروں جیسا
تو اصلی معاشرھ کیا هوا؟
کیا پاکستانی زبان میں گالیاں نهیں هوتی هیں ؟
یا کسی نے نہیں سنی هیں ، معاشرے مین اصل میں هو گیا رھاہے اس کی تصویر اگر لکھنے والا نہیں کھینچے گا تو انے والے لوگ بڑھا کریں گے که تحاریر سب اچھا لکھتی هیں تو پاکستان کے معاشرے میں بگاڑ کہاں تھا جی عیوب صاحب کے دور سے لے کر ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
هی اور شی کے تعلقات کو فحاشی لکھتے هیں ، اور هی اینڈ هی کے تعلقات پر لکھنا هی خرام هے بلکه سوچنا بھی حرام ہے تو پھر شی اینڈ شی کے تعلقات تو پاکستان ميں هوتے هیں نہیں هوں گے ؟؟
شتر مرغ کی طرح منه ریت میں دبائے انسانی معاشروں سے طوفان نہیں گزارا کرتے، میرے خیال مين بلاگروں میں تو کچھ ایسے پیدا هونے چاہیے جو اصل بات لکھیں چاھے وھ ادب کے جغادری ناموں سے بلکل هی مختلف کیوں ناں هو
ایسا لکھا هو که پڑھنے والے کو اس ميں اپنا اپ نظر ائے که ایسا تو میں بھی لکھ سکتا هوں ، یه تو میرو اردگرد کا حال هے ، یه واردات تو یهیں هوئی تھی ، یه معامله تو میرا اپنا بھی هو سکتا هے
میرے پاس تعلیم نهیں هے ، میرے پاس تحقیق کے لیے وقت نهیں هے میں غریب گھر کا غریب بیٹا تھا اور اب غریب باپ هوں ، میں اپنی غریبی کو دور کرنے کے لے مسلسل جدوجہد کررها هوں
اور اس جدوجہد میں ایک اصل پن هے ، ناں مين جھوٹ بولتا هوں ناں هی منافقت کرتا هوں ، نان هی وعدھ خلافی کرتا هوں ، مال کو بیچنے سے پہلے اس میں موجود جقائص سے کاہک کو اگاھ کرتا هوں تو بہت سے لوگ طنزیه ہنستے هیں که خاور کبھی کامیاب نهیں هو سکتا که اس کو بزنس کا طریقه هی معلوم نهیں هے
اسی طرح لکھتے هوئے بھی جو میرا دل چاھتا ہے اور جو اندر سے بات اٹھتی ہے لکھ دیتا هوں
اس سوچ میں نہیں پڑجاتا که یه تحریر کسی استاد کی تحریر سے مشابہ هو یا ادبی سی لگے
کوئی اس کو بے ادب سمجھے که مراثی پن ( ویسےکبھی کسی نے مراثی کی بے عقلی کی بات بھی سنی ہے کیا ؟؟؟) میں تو جی ایسا هی هوں ـ
جرنل ضیاع کے رود سے ایسا هوا ہے که هر تقرییب کو تلاوت سے شروع کرنا هے
اور تو جی کنجرییاں بھی پرفارمنس سے پہلے اسیا کرنے لگی هیں ـ
اس طرح کی چیزیں جو رائج هو جاتی هیں هم جیسے لوگ ان روایات کو توڑتے هیں تو پہلے پہل عجیب لگتا هے بعد میں لوگ خاور کو پڑھ سمجھتے هیں که ایسا تو میں بھی لکھ سکتا هوں
تو یهی خاور کی کامیابی هے لیکن جب یه عام سے لوگ لکھنے لگ جاتے هیں تو ان کو خاص بننے کا جنون چڑھتا ہے اور پھر خاور کا لکھا هوا
عامیانه سا لگنے لگتا هے

بدھ، 2 جون، 2010

سرمے والی سرکار کا اسلام

جو کسی کو بھی مارنے کی سکت ناں رکھتا هو وھ بھی جب طالب علم بس ڈائیوروں اور کلینڈروں کو مار رهے هوتے تھے تو ایک ادھ مکه مار کے اپنا ٹھرک پورا کر لیتے تھے که نیند اچھی اجاتی هو گی خود کو بہادر خیال کرکے اسی طرح پاکستان ميں جس کا کسی پر زور ناں چلے وھ قادیانیوں پر چڑھ دوڑتا هے . صرف ایک جگه دیکھی هے گوجرانواله کا قریبی قصبه تلونڈی موسے خاں جہاں پر بریلوی مسلک کے مولوی اشرف صاحب وھابیوں کی وھ کرتے تھے کی رب بچائے لیکن کبھی مرزائیوں کے خلاف ایک لفظ نهیں بولا تھا، یه وه قصبه هے جہاں اپنے مخمور اور مشہور شاعر جناب عبدلاحمید عدم پیدا هوئے تھے
کیونکه هو سکتا ہے که اگلے دن مولوی صاحب شہید هو جاتے . جب سارے ملک ميں مرزائیوں کے گھروں کو اگیں لگائیں جارهی تھیں سترکی دھائی میں ، ان دنوں بریلوی مولوی اشرف کی دوکان کا دروازھ جلتا دیکھ کر کمہاروں نے اگ بجھائی تھی اور مولوی صاحب چپ هی کرکے رھ گئے تھے
پورے ملک ميں دیکھ لیں کچھ پاکستانی مار دیے گئے هیں اور دوسرے پاکستانی ان کے مرنے پر بغلیں بجا رهے هیں
سارے جہان کا درد ان کی پنڈلیوں میں ہے فلسطین میں کسی مذہب کے مارے جائیں ان سادھ دلوں کو پھدک پھدک احتجاج چڑھ جاتا هے . لاهور میں پاکستانی مارے جائیں تو ان کو اسلام یاد آجاتا ہے
قادیانیوں کے متعلق بات هو تو گالیان نکالنے لگ جاتے هیں اور اگر بت پرستی پر قران کی بات کریں تو کہتے هیں اپ همارے بزرگوں پر بتوں والی ایات فٹ کرکے هماری انسلٹ کررهے هو
آئین نے ان کو اقلیت کیا قراردیا سب لوگون نے قانون ھاتھ میں لے لیا هے
یه غلط بات ہے مرزائی بھی اتنے هی پاکستانی هیں جتنا که کوئی بھی هو سکتا ہے
ایک گاؤں ميں ہندو مسلمان اور سکھ مل کر رها کرتے تھے اس وقت اتنا رولا نہیں هوتا تھا جتنا اب ہے
کیوں ؟؟؟