منگل، 30 مارچ، 2010

خلافت کے متعلق

تانیه رحمان صاحب نے ایک پوسٹ لکھی هے جس میں خلافت کے دوبارھ چالو کرنے کی بات ہے
اس پر میرا تبصرھ کچھ اس طرح ہے
کیوں نہیں جی ایک خلیفه هونا چاھیے اور وھ میں هونا چاھتا هوں
سبھی میں یه خلیفه بننا چاھتے هیں
جس کی خدا کی طرح مانی جائے
جس کا ایک حرم هو جس میں هزاروں هی لڑکیاں هوں
چودھ سال کی عمر میں داخل کی جائیں اور سوله سال کی عمر میں ریٹائیر کردی جائیں ، یورپی نسل کی لڑکیاں زیادھ هوں اور ان کے بالوں کو خزاب لگا کرکالا کردیا جائے که دیسی سی گوری لگیں ، حرم کے ملازمین کے تیروں کو کاٹ دیا جائے که کہیں حرم میں هوجود امت کی مقدس بیبیوں کی بغل میں ناں دینے لگیں ـ
یورپی قانون اٹھارھ سال سے کم کی بچی کو استعمال پر پیڈافیل کہے تو اس کو کافر قرار دے دیا جائے اور خود ہر روز حرم ميں گھنڈ کی بوریوں کے منه کھولے جائیں ـ
لگی هوئی بوریاں غلاموں میں بانٹ دی جائیں اور امت کی فکر میں گھل گھل کر موٹا هو جاؤں که اٹھ کر چلنا مشکل هو ، مرغن غذاؤں کے کھانے سے پھوسیاں ماروں که دربار میں بیھنا مشکل هو لیکن شاعر میری پھوسیوں کو عطر سے تشبیه دیں ـ
کافر لوگ جمہوریت کی بدولت خوش حال هو ں اور توحید کے نام پر میں اللّه کا ڈسپیبیوٹر بن کر هو جاؤں اور شخصیت پرستی کی ایک ایسی تاریخ لکھوں که لوگ لوگ میرے حرم کی باتیں لکھا کریں
بس جی اس طرح کی ھزاروں خواہشیں هیں اور امت کے تعاون کی ضرورت ہے
لیکن میں تو جی کمیار هوں اور یہان صرف شخصیت پرستی هی نهیں نسل پرستی بھی هو گی ؟؟
لوک چاند پر چلے گئے هم حرم ميں بھی کسی اور چیز میں جانا چاھتے هیں
کھنڈ کی بوری کا وھ لطیفه بڑا پرانا ہے که کسی کھتری کے گھر میں جوان لڑکی تھی اور اس کا ملازم بھی جوان تھا ، کھتری هر روز اپنی بیوی کو کہتا تھا اؤ کھنڈ کھائیے!!ـ
اور کمرے ميں چلے جاتے تھے
ایک دن اس کی بچی کہنے لگی
باپو اج میں نے بھی کھنڈ کھائی هے
کھتری کا تراھ هی نکل گيا ور اس نے پوچھا کسی کے ساتھ؟؟
اپنے ملازم بگو کے ساتھ !!ـ
کھتری نے ملازم کو پکڑ لیا اور کہنے لگا
اؤے جب گھر میں کھلی بوری موجود ہو تو تم نے اس میں سے کھنڈ کیوں نهیں کھادی اوئے ؟؟
نویاں بوریاں دے منه کھول دتے نی !!ـ

اتوار، 28 مارچ، 2010

بلاگنگ کی دنیا

وھ ایک بلاگر هوا کرتے تھے بدتمیز نام کے اب تو بس کبھی کبھی تبصرون میں نظر اتے هیں یا سکائیپ پر اون کمپیوٹر چھوڑ کر نیو یارک نکل جاتے هیں ، ان کی بدتمیزی یه تھی که سب کان چنگے کرکے زبان بے زبانی سے جیسے پوچھ رهے هوں که جی کیا بد تمیزی هے ؟؟
جی نهیں اب کی بڑے تمیز دار هیں جی
اور اب نئی پیدائش هوئی هے جی پھپھے کٹنی کی
اور ان کا ندز بھی یه هی لگتا هے که اصل والی پھپھے کٹنیوں کو گیڈر کٹ لگائیں گی اور کبھی کبھی حقوق نسواں کی حامی مرد مار زنانیوں کے ساتھ مل کر مردوں کی مت مارا کریں گی ـ
پھپھے کٹنی کہتے هیں جی که جو ماں سے زیادھ لاڈ جتائے وھ پھپھنے کٹنی هی هو سکتی هے ـ
جی ہاں ماں سے زیادھ پیار تو صرف رب هی کرتا ہے ناں جی بندے سے !!ـ
دادی سے سنی کہانیوں میں پھپھے کٹنی هوا کرتی تھی جن کی کیٹا گریاں هوتی تھیں که ایک وھ تھی جو اسمان کو ٹاکی لگاکے آسکتی تھی اور دوسری تھی کی ٹاکی لگنے کی صلاحیت تو نهین رکھتی تھی لیکن اسمان سے ٹاکی اتار کے لاسکتی تھی
اور جو بڑی اور اصلی والی پھپھے کٹنی هوا کرتی تھی وھ اسمان پر ٹاکی لگا بھی سکتی تھیا ور اسمان سے ٹاکو اتارکر لابھی سکتی تھی ـ
یه اسمان پر ٹاکی لگانا اور اتارنا جو مجھے سمجھ ایا وھ یه هے که اسمان میں ٹاکی لگانا یعنی فساد ڈالنا ـ
باقی جی اپ کی سمجھ پر که کیا سمجھیں ـ
اب اگر یه اسماجی پیرس والی اسمان سے ٹاکی اتارنے والی پھپھے کٹنی هیں تو جی فیر تے بڑی چنگی اے
ورنه ؟؟؟؟
پھپھے کٹنی کے خصم کی خیر مانگیں جی رب سے ـ
پچھلے چھ سالوں میں بلاگنگ کی دنیا کے رنگ میں بھی دیکھ رها هوں که کئی لوگ چھوڑتے چلے گئے کچھ نے راهیں بدل لیں اور کچھ چل رهے هیں اور نئے لکھنے والے بھی شامل هو رهے هیں
اور مجھے اس بات کی دل خوشی ہے که نئے لکھنے والے بہت بہتر لکھ رهے هیں ، کوئی اور شائد برا محسوس کرئے لیکن مجھ سے تو اچھا لکھ رهے هیں !!ـ
وکی پیڈیا پر ثاقب سعود کے انے سے وکی کا حلیه هی بدل گیا اور اس کو بعد ایک سے ایک لوگ هیں که ان کے کام کی داد ناں دینا بخیلی هو گی
اور مجھے فخر ہے که وکی کے ماحول کو غیر جانبدار بنانے ميں میرا بھی حصه ہے
اب جی سب بلاگروں سے ایک اپیل هے که اردو گو سب رنگ کی بلاگرون کی لسٹ پرانی هو چکی هے اور میرے پاس وقت کی کمی هے ائیں میری مدد کریں ک نئی لسٹ بنادیں که اس کو اپ ڈیٹ کیا جاسکے
اور اگر کوئی علم رکھتا ہو تو مجھ گائیڈ کرے کی اس کے کھلنےکی سپیڈ کیسے بڑھائی جاسکے
که جیسا که وینس اب بند پڑا ہے اسی طرح اگر سیارھ پر کوئی مسئله هو جائے تو متبادل موجود رهے
دوستوں کی آرا کا انتظار رهے گا

جمعہ، 26 مارچ، 2010

چغل خورسے اپیل

چغل خور لوگوں سے ایک التماس اور مشورھ ہے که اپ سب لوگوں کو مولوی صاحبان اور دوسرے لوگ تو کہـ کہـ کر تھک چکے هیں که چغل خوری گناھ ہے لیکن اپ کو مزھ هی بہت اتا هے اس لیے کیا کیا جائے که اپ لوگ اس کی جگه کوئی دوسرا مزھ لے لیا کریں ـ
لڑکی لڑکے لکھے خطوط اڑا کر مزھ لیتے هوئے آپ نے هو سکتا ہے که قتل بھی کروائے هوں ـ
لیکن مزے کی جن بلندیوں بر اپ اج کل هیں ان کی تو تاریخ میں مثال بھی مشکل هے که اپ کے پاس ایک موبائیل فون ہے اورکچھ لوگوں کے پاس تو آئی فون هے ، اور اپ ان دنوں کسی کو فون کرکے اس کے مخالف کا ذکر کرکے بھلے مانس کی گالیان ریکارڈ کر لیتے هیں اور پھر ان گالیوں کو لہرا لہرا کر محفلوں میں فخر کرتے هیں ، اپ سیاسی اور سماجی تنظیموں میں شامل هی اس لیے هوتے هیں که اپ کی چغل خوری کی لت پوری هو سکے
میں خاور بھی اپ لوگوں سے التماس کرتا هوں که اپ اس بری عادت کو چھوڑنے کی کوشش کریں ، جس طرح سگریٹ کو چھوڑنے کے لیے کچھ لوگ کوئی اور عادت اپناکر چھوڑ دیتے هیں اپ بھی کوئی ایسی عادت اپنا لیں که جس سے معاشرے کو نقصان کی بجائے کسی ایک بندے کو رکھ لیں اور یه بھی هو سکتا ہے که اس بندے کو اپ کی کجھلی مٹانے کا بھی مزھ اتا هو ، اس لیے اپ دونوں کا کام هو جایا کرئے گا ـ
شمالی سرحد کے کچھ لوگوں کو اس چیز کا بہت شوق هے ان میں سےکسی کو رکھ لیں
یا کوئی بھی طریقه اختیار کریں اپ کی بڑی مہربانی هو گی که یه چغل خوری چھوڑ دیں ، اس سے بڑی تکلیف هوتی هے ، اپ کی چغلیوں سے کچھ پهلوان لوگ شراب پی کر فون پر گالیاں دینا شروع هو جاتے هیں ، اور شام کے وقت هم گھریلو لوگوں کا بچوں میں بیٹھنے کا وقت هوتا ہے اس لیے گالیوں کی تکنیک میں ماهر هونے کے باوجود مقابلے سے دستبردار هو جاتے هیں ـ
اس لیے اپ سے التماس ہے که چغلی چھوڑ هی دیں
اپ کی گھر کی خواتین کا بھی سنا ہے که انہی عادتوں کی مالک هیں ، بلکه کچھ کا تو سنا هے که چغلی خوری هی نہیں چغلی گر بھی هیں که خود هی کسی کے خاوند سے وصل کی لذت لے کراس لذت کا اس کی بیوی کو بتا کر دھری لذت لیتی هیں ـ
خاندانی مرض کا علاج کیا کیا جاسکتا ہے ؟؟ گاما بھی صرف پکے کے روٹ کا مسافر ہے کچے کے لیے اپ کسی "خاص " سے هی اپنی گاڑی چلوا سکتے هیں ـ
اس مرض کے لیے صرف التماس اور ترلا منت هی کی جاسکتی ہے
لیکن اگر اپ اس مغالطے کی مرض کا شکار هیں که اپ جوکررهے هیں ، وھ چغلی نهیں هے لیکن جو دوسرے کررهے هیں صرف وھ چغلی هے تو پھر ؟؟؟؟؟
اپ کے شر سے ،میرا رب هی مجھے بچائے !!ـ
فقط
خاور کھوکھر

جمعرات، 18 مارچ، 2010

جدید ماسی برکتے

آپ نے ماسی برکتے کا نام تو سنا هو گا؟
خاله اخبار یا کچھ بھی کہـ لیں ، یه شخصیت ادھر کی خبر ادھر اور غیب چغلی کی شہکار چیز هوتی تھیں ـ
هر گاؤں اور محلے میں پائی جاتی تھیں ـ
لوگوں کو ان کے مخالفوں کے متعلق غصه دلا کر ان کے منه سے نکلی هوئی باتاں دوسروں کو سنا کر گاؤں کی ٩٠ فیصد لڑائیوں کی وجه هوتیں تھیں ـ
اج اکیسویں صدی میں ان ماسیوں کے مردانه ایڈیشن بھی بازار میں دستیاب هیں
یا کہہ لیں کہ انہی ماسیوں کے ہونہار سپوت ہیں
جو ماں کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔


مغرب کے جادو گر جو کہ طرح طرح کے جادو بنا کر ان کو سائینسی ایجادات کے نام پر بیچتے ہیں ۔

 جادو گروں نے ان کو ایسا منتر بتا دیا هے جس سے، یه لوگ چغلی کو پیکٹ میں بند کر کے ساتھ لے کر مخالفوں کو سنا دیتے هیں ـ
یه جادو مغرب سے آیا هے اور اس کو موبائیل فون کہتے هیں
اس جادو سے اور بھی کتنے هی جنتر منتر هوتے هیں جیسا که محبوب قدموں میں ، روحانی وصل اور جسمانی وصل کے لیے مقامات کا تعین ـ
اور اس وصل کے دوران کی یادوں کو بھی منجمد کرکے ساتھ لے جاؤ اور اگر ماسی کے بیٹوں ميں سے هو تو بس پھر لڑائی مسٹ ہے
ایک مخصوص گھریلو پس منظر هوتا ہے جی ان لوگوں کا ، هر بندے کے بس کا کام نهیں ہے چغلی کو پیکٹ بنا کر ڈلیولری کرنا !!ـ
تو جی اس مخصوص خاندانی پس منظر کے سپوتوں کو موبائیل فون کی صورت میں چغلخوری کی ڈیلوری تو اسان کی ہی ہے مرچ مسالحے ابھی منہ زبانی ہی کیاجاتے ہیں ۔

سوموار، 8 مارچ، 2010

عادتاں

اردو کی مشهور بلاگر ساتھی جناب عنیقه ناز صاحبه جو که کالم نگار بھی هیں
انہوں نے میری ایک بوسٹ میں تبصرے میں یه پوچھا ہے
که
میں ذاتی طور پہ اس چیز پہ یقین نہیں رکھتی کہ انسانی خواص اس چیز سے تعلق نہیں رکھتے کہ کوئی انسان کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے۔ مخصوص جغرافیائی حالات میں رہنے کی وجہ سے لوگوں میں مزاجاً کچھ ہم آہنگیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ کوئ شخص بازار میں پیدا ہوا ہے، کسی پیشہ کرنے والی عورت کا بچہ ہے، یا کسی خبیث شخص کا تخم ہے اس سے بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اصیل گھرانوں میں بھی رذیل عادتوں والے اشخاص ہوتے ہیں۔
لیکن مجھے یہ جاننے سے بڑی دلچسپی ہے کہ انسان ان خواص کو کیوں اختیار کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ کیوں بہترین اوصاف اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
مجھے انکے جواب نہیں معلوم۔
لیکن جی مزے کی بات ہے که میں بھی معاملے میں کوئی پکی رائے نهیں رکھتا هوں
لیکن ایسا هوتا ضرور هے که کچھ لوگوں کی عادتیں اچھی اور کچھ کی بری هوتی هیں
پنجابی کا محاورھ ہے که گھر گھرانے هوندے نے
پنڈ گھرانے نهیں هوندے
یعنی که عادتیں اچھی یا بری گھروں کی تو هو سکاته هیں شہروں یا گاؤں کی نهیں
ایک نظریه جو که قران کو پڑھتے هوئے میں نے نکالا هے اس کے مطابق
شیطان لوگوں کو مفلسی کے خوف میں مبتلاکرتا ہے
جس سے لوگ کمائی کے لیے شیطانی کاموں پر اتر اتے هیں
چوری ملاوٹ جھوٹ یا پھی ایک لفظ میں بد معاشی پر اتر اتے هیں
یه علیحدھ بات ہو که لفظ بدمعاش کا بامحاروھ معنی اب کچھ اور هیں
تو جی جن لوگوں کے پاس عقل سلیم هوتی هے
ان کو رزق کے معاملے کی سمجھ لگ جاتی هے اس لیے وھ بد معاشی کی بجائے بد معاملگی کی بجائے
سدھ معاشی اور سدھ معاملگی سے کام لیتے هیں
اس لیے ان کی عادتیں لوگان کو اچھی لگتی هیں اور
شیطان کے ڈالے وسوسے میں آچکے لوگ
شارب کٹ کے لیے جو جو کام کرتے هیں اس کی تفصیل تو سب کو هی معلوم هے
یاد رهے که میں کوئی مذھبی بندھ نهیں هوں یه میری سوچ هے

ہفتہ، 6 مارچ، 2010

رانا صاحب مذکور

رانا صاحب کا تاریخ جغرافیه بڑا پراسرار هے
پراسرار اس لیے که ان کی تاریخ اور جفرافیه ، اسرار کے پردوں میں چھپا هوا هے
لاہور کے نزدیک ایک قصبے میں ان کے والد صاحب کے ایک دن اچانک رانا هونے کا سن کر لوگوں کو حیرت تو هوئی لیکن پاکستان کی عام ذھنیت کے مطابق لوگوں نے "سانوں کی " کہـ کر کندھے اچکائے اور اپنے اپنے کام میں لگ گئے
رانا صاحب مذکور کے والد ٹرک ٹرانسپورٹ تھے بلکه کسی کے پاس اڈھ مینجر تھے لیکن اب تاریخ (راناصاحب مذکور کی بقلمخود) میں ان کو ٹرانسپوٹر هی لکھا جاتا ہے
محققین کا کہنا ہے که جس قصبے کے رانے هونے کا یه رانا صاحب مذکور دعوھ کرتے هیں اس علاقے کے سارے رانے کالے رنگ کے هوتے هیں ، لیکن حیرت انگیز طور پر ان رانا صاحب مذکور کی اولاد کا رنگ اس قصبے کے کمهاروں کی طرح سفید هے
لیکن جب اس قصبے کے کمہاروں سے پوچھا گیا تو ان میں سے کوئی بھی اس الزام کو اپنے سر لینے کے لیے راضی نهیں هوا هے
بڑے بزرگوں کا کہنا ہے که ان کا تعلق اس بازار سے بھی هو سکتا ہے کیونکه ان کو عادات رانوں سے زیادھ اُن سے ملتی هیں ـ
مثلاً پیسے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ، اپنی رقم کے لیے کنجوس اور دوسروں کے خرچے پر هوشیار، محسن کشی ،
جو بندھ بھی مدد کرئے اس کو نیچا دیکھانے کی کوشش وغیرھ وغیرھ ـ
لیکن جیسا که اس بازار کی مارکیٹ میں جنس نازک کی هی مالیت هوتی هے ، اسلیے جنس کرخت ان کے والد نے ٹرکوں کے اڈے پر نوکری کرلی تھی

اور آپنی بیک گراؤنڈ کو چھپانے کے لیے لاهور کے اس نزدیکی قصبے میں وارد هوئے تھے
جہاں ان کے سر پر ایک اصلی والے رانا صاحب نے دست شفقت رکھا تھا
یاد رهے یه لفظ دست شفقت ہے : دسته شفقت : نهیں ہے
که اگر دسته هوتا تو اولاد کا رنگ بھی رانوں جیسا هو جاتا
رانا صاحب مذکور انگریزی کے اس مقولے کے قائل هیں که جھوٹ اتنا بولو که سچ لگنے لگے ، اس لیے خود کو رانا کہلوانے کا جھوٹ اس تسلسل اور تکرار سے بولتے رہے هیں که اب ان کو خود بھی اپنے رانے هونے کا یقین هو چکا هے ـ
انهی رانا صاحب مذکور کے جاننےوالے کسی مراثی نے ایک سٹیچ ڈارامه بھی بنایا تھا ، تھا که کیسے مراثی سے رانا هوا جاتا هے اور اگر برادری والے دیکھ لیں تو کیسے کیسے مذاق کرتے هیں ـ
رانا صاحب مذکور بڑے هی بے عزتی پروف هیں ، جیسا که کچھ چیزیں واٹر پروف هوتی هیں ، اسی طرح یه بے عزتی پروف هیں ، ان کو مہینے میں اوسط دو دفعه کسی ناں کسی سے گالیاں کھانے کی عادت هے اور گالیاں بھی منه پر
بعض اوقات تو رانا صاحب مذکور ان لوگوں سے بھی گالیاں کھانے میں کامیاب هو جاتے هیں جن کی شائستگی کا زمانه گواھ هوتا ہے ، ہے ناں جی تکنیک؟؟
رانا مذکور کی معلوم تاریخ ميں جس کسی نے بھی رانا صاحب مذکور پر احسان کیا ، رانا صاحب مذکور کو کھڑا هونے میں مدد کی ، رانا صاحب مذکور نے جتنی جلدی هو سکا اس کے احسان کے بدلے ميں اس شخص کو گرانے کی کوشش کي ، جس ادمی نے ان کو باہر کے ملک منتقل هونے میں مدد کی، اس کو برا کہنے میں انہوں نے عمر گزار دی ہے ، باہر جاکر جس بندے نے ان کو اپنی فیکٹری میں کام پر رکھا ، رانا صاحب مذکور نے اس بندے کی بیوی کو ورغلا کر ایک بڑی رقم کے ساتھ فرار هو گئے ـ
جو بندھ ان کو میڈیا میں لے کر آیا رانا صاحب مذکور نے اس بندے کو نیچا دیکھانے کے لیے دن رات ایک کردیا هے ، حد هے که فراڈیوں کی حمایت ميں اس بندے سے بھی گالیاں کھا چکے هیں ـ
جس بندے نے ان کو سیاست میں ایک مقام دلوایا ، رانا صاحب مذکور نے اس بندے کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش میں بڑی ذلت اٹھائی لیکن جی رانا صاحب مذکور تو هیں هی بڑے بیعزتی پروف ـ
ایک بڑا پرانا لطیفه ہے
که
پرانے زمانےمیں
کسی گاؤں کی چوھدرانی اپنی مراثن کو ساتھ لے کر میکے جارهی تھی
راستے ميں اجاڑ سی جگه پر ڈاکوؤں سے سامنا هو گیا
ڈاکو لوگوں نے ان کے زیور وغیرھ اتار لیے تقدی اور سامان بھی چھین لیا
پته نہیں کیا خیال آیا که ڈاکو لوگ ان دونوں کو علیحدھ اطراف میں جھاڑیوں میں لے گئے
جب ڈاکو فارغ هوکر فار هو گئے تو ننگی چوھدرانی نے کپڑے پہنتے هوئے مراثن کو کها که
مراثنے ریوز بھی گئے اور نقدی بھی لیکن رب چوھدری کو زندگی دو اور بن جائیں کے
شکر کی بات ہے که عزت بچ گئی !!!ـ
مراثن تو سٹپٹا هی اٹھی اور کہنے لگی
چوھدرانیے میری تو عزت لٹ گئی هے !!ـ
میری تو ایک عزت تھی
بلکل بھی باقی نہیں بچی ہے !!ـ
تمهاری زیادھ عزتیں هوں گی ، ان میں سے کچھ بچ گئیں هوں گی ـ
تو یه رانا صاحب مذکور بھی زیادھ عزتوں والے هیں ، اس لے دو چاد دفعه کی بے عزتی سے ان کا کچھ نهیں بگڑتا ہے
اور کچھ گھنٹے بعد هی عزت دوبارھ چارج هو جاتی هے ـ
ان کے جغرافیه کچھ اسطرح ہے
ان کی بائیں طرف ایک کےشت کا لوتھڑا سا لٹک رها ہے جس کو ھاتھ کہتے هیں اسی طرح دائیں طرح بھی هے ، ان سے رانا صاحب مذکور تقریر کے دوران ہلا ہلا کر مکھیاں اڑانے کی طرح کا کام لیتے هیں
ان کے پيچھے کی طرف دو بڑے بڑے گول گول سے مٹکے هیں ان سے رانا صاحب مذکور گند کے اگراسٹ کا کام لیتے هیں ، اس کو رانا صاحب مذکور اپنی تشریف کہتے هیں ،
سرکےاگلی طرف ان کا ایک سوراخ ہے جس کو منه کہتے هیں ، اس منه کو بواسیر کا مرض لاحق هے اس منه سے صرف گند هی جھڑتا رھتا ہے ، یا پھر تقریر کے نام پر شور نکلتا ہے
اوپر لکھے هوئے خیالات رانا مذکور کے اردگرد کے لوگوں میں عام پائے جاتے هیں اس لیے محققین نے ان کی اصلیت جاننے کے لیے لاهور کے اس بازار کے انسائیکلوپیڈیا ، مامے مودے سے رابطہ کیا اور ان سے ملاقات کا وقت لے کر پاکستان ميں ان کو ملنے کے لیے ایک وفد بھیجا ـ
ماما مودا سارے ھیرا بازار کا ماما ہے ،ھیرا منڈی میں کون ہے جو ان کو نهیں جانتا یا که مامامودا سے کسی کی کون سی بات چھپی ہے
ماما مودا چلتا پھرتا انسائلکوپیڈا ہے ، هیرا منڈی کا !ـ
مامے نے جب محققین کا ایجنڈا سنا تو اس نے کہا که جی سب سے پہلے تو رقم دو جی اگر آپ نے اس بندے کے لیے معلومات لینی هیں تو
امیر ملک سے گئے هوئی وفد کے لے ایک لاکھ کے قریب پاک روپے کچھ زیادھ نهیں تھے
اس لیے فوراً ادا کردئے گئے
مامے مودے نے رانا صاحب مذکور کے راجپوت نسل هونے کی تصدیق کر دی اور دلائل دیے که
مامے مودے نے کہا که جی اس بات کی سب سے بڑی نشانی که !!ـ اس بندے میں ہمارا خون شامل ہے یه ہے که !!ـ اس نے جس ملک میں باہر گیاتھا اس ملک میں اپنے محسن کی هی بیوی کو ورغلاکر بمع پیسوں کے لے نکل گیا تھا
یه سب سے بڑی نشانی هے ہمارے خون کی که هم پیسے کے لیے سب کچھ کرسکتے هیں ـ
لیکن آن دی ریکارڈ میں آپ لوگوں کو بتا دوں که یه بندھ واقعی راجپوت نسل کا هے
ہماری جس خاله سے اس کا ابا پیدا هوا تھا وھ خاله خود ایک اصلی راجپوت کی اولاد تھی ، اور اس خاله کی نتھ بھی ایک راجپوت نے هی اتاری تھی لیکن اس کو بچه دینے والا راجپوت بہت بعد ميں آیا تھا ، جس سے اس رانے مذکور کا ابا پیدا هوا تھا ،اس لے اس رانے مذکور کے نقلی هونے کے شک میں مبتلا لوگ غلطی پر هیں ـ اس کی تصیح کر لی جائے که رانا صاحب مذکور پدری طور پر کئی نسلوں سے راجپوت هیں ـ
مادری طور پر هی صرف رانا صاحب مذکور هم میں سے هیں !!ـ مامے مودے نے بتایا ـ

جمعہ، 5 مارچ، 2010

عورت مرد

یه فارمولا مجھے ایک عرب لڑکی فاطمه نے پیرس میں بتایا تھا
اچھی دوست تھی که ایک دن کہنے لگی که میں اپنے بوائے فرینڈ سے گزرا نهیں کرسکتی
کل سے لڑائی هوئی هے اب تو بس !!ـ
اگلے هی دن خوش باش تھی میں نے پوچھا لڑائی کا کیا هوا؟؟
ہنستے هوئے کہنے لگي اُس نے مجھے نہانے والی کردیا رات کو اس لیے اب لڑائی ختم
جاپان والی میری بیوی پچھلے اٹھارھ سال سے میرے ساتھ ہے پہلے یه دوست تھی پھر گرل فرینڈ بنی اور پھر بیوی ، یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن جب سے ماں بنی هے
اس کو میری کمائی بھی کم نظر انے لگی هے اور میری جاپانی بولنے کی اہلیت بھی کم نظر انے لگی ہے اور اس کو میری عقل پر هی شک هونے لگا ہے
کیونکه اس کو اپنی ڈگریاں نظر انے لگی هیں
عورت کو مارنے کا میں حامی نہیں هوں اس لیے فاطمه والا فارمولا استعمال کرتا هوں ـ
لیکن عورت کا مار کھانے کو جی چاھتا ہو اس کا مجھے علم عورتوں هی کی زبانی هوا تھا
ـ 1990 میں ابھی میں بلیک بیلٹ سے ایک درجه نیچے پراؤن بیلٹ باندھا کرتا تھا که ایک دفعه ایک ٹورنامنٹ ميں مختلف علاقوں کے کلبوں سے لڑکے لڑکیاں ائی هوئیں تھیں
ان میں سے تھوچیگی کین کے شہر اوتسونومیا کے کلب کے لڑکے لڑکیوں سے میری بڑی بے تکفی تھی
ابھی ان کی عمریں سوله اور اٹھارھ کے درمیان هی تھیں لیکن بلیک بیلٹ تھیں مجھے پوچھنے لگیں که سناؤ اپنی گرل فرینڈ کا ؟؟
میں نے ان کو بتایا که بات بات پر ناراض هو جاتی هے ـ
کیا کروں ؟؟
ایک نے کہا که اس کو دو چار لگا دو
میں نے کہا که یه تو بڑی زیادتی هو جائے گی
تو اس کی حمایت میں دوسری ساری لڑکیاں جن کی تعداد اس وقت مجھے یاد ارهی ہے چھ تھی کہنے لگیں
هاں هاں
لگا دو دو چار
ہم جو کہـ رهی هیں ، هم بھی عورتیں هیں اور کبھی کبھی مار کھانے کو بھی جی چاھتا ہے
ان میں مینا نام کی وھ لڑکی بھی تھی جس کو میں ایک دفعه مذاق میں موٹی کہـ بیٹھا تھا
اس وقت تو اس نے یه بات مذاق میں اڑا دی لیکن دس بیس منٹ بعد هی کہنے لگی بوبی اٹھو تم کو پریکٹس کرواؤں
اب مینا بلیک بیلٹ تھی اور سینئر هونے کے ناطے میں نے مشکور هوتے هوئے اس کو بو کیا اور لڑائی کا پوز بنایا ، تجربه کار مینا نے میرے نلوں (ٹیسٹیکل) پر کک لگائی که جس کی مجھے توقع هی نہیں تھی
درد سے بلبلاتے بوبی کو کہنے لگی اب کبھی مجھے موٹی نهیں کہنا بلکه کسی بھی لڑکی کو موٹی نهیں کہنا ـ

تو ان سب لڑکیوں کی بات مانتے هوئے واپس آ کر جب میں ان دنوں میری گرل فرینڈ کانام تھا کازمی اب یه بھی ایک کردار تھا که اس کی مان اور چھوٹی بہن کی بھی ایک هی کہانی هے جو که قابل تحریر نهیں هے
شام کو جب اس نے پنجابی کا وھ لفظ هے ناں جی روس پینا اب اس لفظ کا اردو میں صحیع لفظ مجھے تو معلوم نهیں هے
جب کازمی روس پئی تو میں نے ججھکتے هوئے لگا دیا جی ایک تھپڑ !!ـ
کازمی مجھے لپٹ کر رونے لگی
اور لڑائی ختم