منگل، 30 نومبر، 2010

مغالطے

ایک لکھاری کو چاہیے که وھ ایک جج کی طرح سوچے
که سماجی یا معاشرتی مسائل کا فیصلہ جذبات سے نهیں کرے
میں نے کہیں بھی یه فیصله نہیں دیا ہے که توهین رسالت کی سزا غلط ہے که صحیع
میں کچھ اور کہنا چاہتا هوں
پاکستان میں کچھ مغالطے پائے جاتے هیں
جیسے که
جب بھی اپ ، شرک کے خلاف لکھیں گے اپ کو بتایا جائے گا که بتوں (مورتوں) والی آیتیں اپ همارے بزرگوں پر لگا رهے هیں
میرے خیال میں لوگوں کا مغالطہ نکالنا چاهيے که جی دنیا میں کہیں بھی کوئی دھرم مذہب ایسا نهیں هے جو کہیں پڑا هوا کوئی پتھر اٹھائے اور اس کو اپنی عبادت گاھ میں رکھ لے اور اس سے عقیدت شروع کردے
ہر مورت کے پیچھے ایک شخصیت هوتی ہے اور
اور هر شخصیت اپنے دور کی بڑی چنگی شخصیت رهی هوتی هے
دوسرا مغالطہ که کوئی بھی بندھ کہیں اٹھتا ہے اور اچانک نبی پاک کو گالیاں دینے لگتا هے
پاگل کتے نے کاٹا هوتا ہے اس کو کیا؟
ایک بابا مذاق کر رها تھا که زمانه هی برا آ گیا هے جس کے نرخرے میں انگوٹھا دو ، وهی انکھیں نکالتا ہے
جس کو دو تھپڑ لگا دو گالیوں پر اتر اتا ہے
تو اور کیا کرے جی وھ جس کے نرخرے میں انگوٹھا دیا هوا هو اپ نے ؟؟
ہر پاکستانی اسلام پر باتیں شروع کردیتا هے
اور هر بندے کا اپنا هی اسلام هے
اور هر اسلام دنیا کے سارے نظاموں سے معاشروں سے ملکوں سے اعلی هے
اس لیے هر دوسرے بندے کو اس بندے کااسلام قبول کرلینا چاهیے
اور جب اس تبلیغ کا ہدف ایک عیسائی بنتا ہے
اور وھ بھی معاشرے کا " ماڑا ترین " بندھ تو اس پر تو تبلیغ کرنےبڑا جوش خروش آ جاتا ہے ناں جی
اس کو کہا جاتا ہے که مسلمان هوتے هی تم بھی همارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکو گے !!ـ
لیکن
مجھے هائی سکول کے دور میں باورے کے جوزف نے کها تھا که تم کیا مجھے ساتھ بیٹھاؤ کے کھانے میں ، ميں تم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا هی نهیں چاھتا
اصلی میں جوزف بھی میری تبلیغ سے تنگ آیا هوا تھا
میں نے اس کو کہا که هم لوگ تم لوگوں کو اپنے برتن تک نهیں چھونے دیتے
تو اس نے کہا که میں خود تم لوگوں کے چھوئے برتن کو دھو کر کھانا کھاتا هوں
اگر ایسی باتیں کرکر کے کسی کو تنگ کیا جائے اور وھ بھی روزانہ
اور رویه بھی هو که هم تم پر احسان کررهے هیں
که تم کو اسلام کی دعوت دے رهے هیں
اور دعوت دینے والے میں اتنی بھی سمجھ ناں هو که اگر جوزف مسلمان هو بھی گیا تو اس کا معاشرے میں مقام کیا هو گا؟؟؟
وھ اپنی یا اپنے بچوں کی شادیاں کہاں کرے گا
کن لوگوں کے ساتھ معاملات کرئے گا؟
اور معاشرھ اس کو کیا کہے گا؟؟
دین دار !!!ـ
کیا اپ نے پنجاب میں دین دار دیکھے هیں؟؟
ایک گالی هوتی ہے جی یه لفظ بھی ، کچھ خاندانوں کے لیے
اسلام اسلام اسلام
اور یا پھر کوئی اور لفظ
هو که اس کی تکرار سے کان پک جائیں اور جان چھوٹنے کی کوئی سبیل ناں هو اور بندے کے منہ سے نکل جائے که
ایسی کی تیسی اوئے تمہارے دھرم کی یا ٠٠٠٠٠
تو اس میں قصور کس کا هے ؟؟؟
مار دو جی توهین رسالت کے نام پر کسی کو بھی
لیکن اس اکسانے والے کو بھی پھانسی لگنی چاهیے
توهین کرنے والے کے ساتھ هی
چوک میں !!!!٠
ایک جج کی طرح سوچو سر جی جج کی طرح
هاں کچھ لوگ هوتے هیں جو شام چھ بچےکے بعد شراب کے نشے میں لوگوں کو گالیاں دینے لگتے هیں
اسحق بھٹی نامی ایک چوەڑے کی مثال ہے یهاں جاپان میں
لیکن یه چوەڑا بھی اپنے کاروباری حریفوں کو گالیاں دیتا ہے اور
مزے کی بات هے که گالیاں کھانے والے اور سننے والے سب لوگوں کا هاسا نکل جاتا ہے
کیونکه یه کسی کی بہن یا ماں کے ساتھ واردات کرنے کی نهیں اپنی گھر کی عورتوں کے ساتھ وارداتوں کی تفصیل پڑھنے لگتا هے
یهاں بھی اپ کو جج بن کر سوچنا پڑے گا که جو بندھ اپنی بہن بھانجیوں کے رشتے گامے کے ساتھ جوڑ رها هے کیا اپ اس کو سزا دیں گے ؟؟؟

54 تبصرے:

عثمان کہا...

او خاور بادشاہ آپ کن چکروں میں پڑ گئے ہیں؟
آپ جو سمجھا رہے ہیں ہمیں پتا ہے۔ یا کم از کم مجھ لبرل اور روشن خیالیے کو پتا ہے۔
جو نہیں سمجھنا چاہتے وہ اپنے جذبات کے غلام ہیں۔ بلکہ جذبات کے پجاری ہیں۔ جسے انھوں نے "غیرت" کا نام دے رکھا ہے۔
آپ نے اپنے دین ایمان ، نظریات اور اعمال کا حساب اللہ کو دینا ہے۔ ان مذہب پرستوں کو نہیں۔ اللہ کے دین کے نام پر جذبات پرستی اور مذہب پرستی کرنے والے ان مذہب پرستوں کو اللہ کیسی کیسی ذلت سے نوازتا ہے اس کے نمونے ہمارے چاروں طرف ہیں۔ نشانیاں ہیں یہ بھی خدا کی۔
جزاک اللہ

عنیقہ ناز کہا...

جی ہاں، جب میں ان لوگوں کی اس قسم کی باتیں پڑھتی ہوں تو یہی سوچتی ہوں کہ یہ اپنے ارد گرد کے عام لوگوں سے واقف نہیں اور باتیں غیرت کی کرتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے معاشرے میں لوگ دوسرے کا جلوس نکالنے کے لئے کیسے کیسے ڈرامے اسٹیج کر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ توہین کی سزا موت ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے۔ دوسرے لوگ بھی اسی معاشرے کی پیداوار ہیں لیکن انہیں یہ چیزیں کیوں نظر آتی ہیں اور محسوس ہوتی ہیں جو یہ لوگ محسوس کرنے سے عاری ہیں۔ یا تو انکے اندر وہ جینز نہیں ہے یعنی اپنی بناوٹ میں نارمل نہیں ہیں، یا نفسیاتی طور پہ کوئ کجی پائ جاتی ہے یا پھر انکے مفاد تمام چیزوں پہ حاوی پہ حاوی ہیں۔
خیر، جزاک اللہ خیر۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جی خاور بادشاہ
آپ کی بات تو ہماری ہی بات ھے۔اگر آپ نے پڑھی تو میری اس موضوع پر پہلی پوسٹ کچھ اسی طرح ہی کی تھی۔
جہاں پر جزاک اللہ اور اللہ رسولﷺ کا نام آ جائے وہاں پر عبد اللہ بن ابی بریگئیڈ ہماری بات کہاں سمجھے گا۔اب ڈاکٹری ہمارے جینز کی بھی کردی جائے تو کیا کر سکتے ہیں۔
اب کوئی مخصوص عینک سے ہی دوسروں کی عزت ذلت دیکھے تو کیا کر سکتے ہیں۔یہ عینک کہاں کی بنی ھے۔ہمیں نہیں معلوم جی۔
ہمیں تو یہ معلوم ھے۔کہ متفق نہ ہونے کی صورت میں ہمارا جلوس لازمی نکلتا ھے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

کیا پختون قوم قبل اسلام بھی لڑاکی تھی ؟ کیا ہندؤستان میں بسنے والی اقوام اسلام سے پہلے اور بعد میں بھی اسی طرح باہر سے حملہ آور ہونے والی اقوام کے سامنے سپر ڈال دیتی تھیں؟ کیا ترک ہمیشہ سے بہادر اقوام میں شمار ہوتے تھے؟ تو جواب یقینی طور پہ ہاں میں آئے گا۔ کیونکہ قوموں جہاں قوموں کا مزاج بننے میں ہزاروں سال لگتے ہیں ۔ تب ایک قوم کا اچھا یا برا مزاج بنتا ہے۔ البتہ اسلام اچھی قوموں میں ایک اضافی وصف ہوتے ہوئے ابکی تمام اچھی صفات کو صقیل کر دیتا ہے ۔ چمکا دیتا ہے ۔مگر ہر قسم کی برائی سے آشنا اور اور تمام عیوب کی خوگر قوموں میں اسلام کا انقلاب نہائیت دہیما ہے کیونکہ ایسی اقوام جیسے پاکستانی قوم کے اندر اسقدر سماجی تضاد اور تنازعے بھرے ہوئے ہیں کہ یہ شعوری و لاشعوری طور پہ اسلام یا دیگر کسی ضاطبے پہ کان دھرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں قوم کے مزاج میں بستی ہر برائی کا ناطہ اسلام سے جوڑ دینا حقائق کو من پسند نام دینا ہے۔

اسلام اور سماجی برائیاں دو مختلف عوامل ہیں۔پاکستان میں آجکل یہ چلن عام ے اور اس چلن کو عام کرنے والے خاصی تکنیکی بنیادوں پہ کام کرتے ہیں۔ جس سے آپ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ اثر لے رہیں ہیں۔ اس چلن میں اپنی ہر قسم کی سماجی اور قومی برائیوں کو اسلام کے سر منڈھ دو۔ نہ خود بدلیں گے نہ کسی دوسرے کے دل میں بدلے جانے کی امنگ اٹھنے دیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا کہ باقی دیگر سارے نظاموں سے پچھلی نصف صدی سے زائد عرصے سے پاکستان کا ستیا ناس مار رکھا ہے ۔ پاکستانی قوم میں دنیا کا ہر عیب در آیا ہے ۔ آج بھی کسی ذمہ دار کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ قوم کیا سے کیا ہورہی ہے ۔ قوم کی مادی اور نظریاتی ضروریات کونسی ہیں؟ اخلاقی اقدار ختم ہوگئیں ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے انگریز تھے ۔ انھیں کیا ضرورت پڑی تھی کہ مسلمانوں کا مزاج بہ حیثیت ایک قوم بننے دیتے؟ اس سے قبل وہ قومیں تھیں جو قوم کو اپنی رعایا سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو مطلق العنان بادشاہ سمجھتے اور کہلواتے تھے۔اسلام ان کے لئیے بھی اتنا ہی مسئلہ تھا جس قدر آج کے حکمرانوں کو اپنی حاکمیت و تخت شاہی کے لئیے محسوس ہوتا ہے۔یہ قوم کو مزید ننگا ہونے کی ترغیب تو دیں گے اسلام کی طرف کبھی نہیں آنے دیں گے ۔

آپ نے پاکستان کے جس سماجی تعصب کی طرف دیندار ، جمعدار اور پاکستان میں ٹٹی خانوں(پاکستان کے سب عیسائی یہ کام نہیں کرتے اور انہیں چوہڑا بھی نہیں کہا جاتا)سے جن عیسائی خاندانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستانی قوم کے سماجی تعصب کو بنیاد بناتے ہوئے جس طرح اسلام کو زیر موضوع لے آئیں ۔ یہ درست حقائق نہیں ۔ کیونکہ جسطرح شادی بیاہ پہ سہرا۔ گانہ، مہندی، اور اسطرح کی بہت سی دیگر لغویات جہاں سے مسلمانوں میں آئیں ہیں وہیں سے آیا یہ سماجی تعصب بھی باقی ہے۔ یہ تعصب اور نسلی تفاخر صرف مسلم اور غیر مسلم یا شودر قوموں سے مسلمان ہونے والی قومیں جیسے دیندار ، جمعدار، مصلی، اور میراثی وغیرہ کے ساتھ ہی نہیں بلکہ یہ ایک ہی ذات کے لوگ اپنی برادری تک میں ایک دوسرے سے جعلی برتری و کم تری کا تعصب برتتے ہیں ۔ اور یہ سماجی رویے اور تعصب پاکستان میں ہر طرف جاری و ساری ہے۔ اور اسکا اسلام سے کوئی لین دین نہیں۔ اسلام ایسے رویوں سے سختی سے روکتا ہے۔ اب یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اسلام کو ماننے والے پاکستان میں کونسا رویہ اپنائے ہوئی ہیں ۔ اسلئیے ضرورت اس امر کی ہے کہ روئیوں اور سماجی برائیوں پہ بات کرتے ہوئے اسلام کو تختہ مشق نہ بنا جائے۔ جو لوگ اسلام کا نام لیکر اپنی مطلب براری کرتےہیں ہیں وہ اسی طرح بدتر لوگ ہیں جیسے ایک پولیس مین جرم روکنے کا حلف اٹھا کر جرم کو نہ صرف ہوا دے بلکہ خود جرم کرے ۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

یہ ساری بحث اسلام اسلام کئیے بغیر بھی کی جاسکتی تھی ۔ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آسیہ مسیح ملزمہ کو یوں کہا گیا اور ملزمہ بہت غصے والی تھی اور اس نے پورے اسلام کو ہی گالی دے دی اور نہ صرف گالی دی بلکہ اسے معمول بنا لیا تو بھی یہ احسن کام نہیں کیونکہ آپ ایک دن جاپانی قانون کے کسی تقاضے کو پورا نہ کرنے پہ۔ جاپان میں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے پولیس والے کو سر عام گالی دے کردیکھیں اور کہہ دیں کہ آپ غصے میں تپے رہتے ہیں پھر جو نتیجہ آئے اسکے ذمہ دار بھی خود ہونگے۔کیا قانون کے تقاضے صرف جاپان میں ہی پورے کرنے چاہئیں اور پاکستان میں لاقانونیت کا مطالبہ کیا جانا چاہئیےَ؟ تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تقاضوں کو پروا کرنے کی بجائے ملزمہ کو انعام کے طور پہ امریکہ بیج دیا جائے؟

ملزمہ آسیہ کا کیس چل رہا ہے اگر وہ قصور وار ٹہری تو سزا پا جائے گی اور بے قصور ہوئی تو رہا ہوجائے گی۔ جیسے پاکستان کے دیگر فوجداری مقدمات میں سزائیں اور با عزت رہائیاں ہوتیں ہیں۔ ان دیگر فوداری مقدمات میں بھی لوگوں کو پھانسی ہوجاتی ہے ۔ پاکستانی پولیس کے روائیتی تفتیشی طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت ممکن ہے کہ ان فوجداری مقدمات میں بھی بے گناہ پھانسی چڑھا دئیے جاتے ہونگے ، انکے لئیے کبھی کوئی بلاگ ۔ یا گورنر پنجاب نہیں تڑپا ۔ کیا یہ ساری مشق ملزمہ آسیہ کی ایک مخصوص مذھب سے تعلق ہونے کی وجہ سے ہے؟

خرم کہا...

ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے۔ اللہ جزا دے۔

کاشف نصیر کہا...

اوے خاور بادشاہ آپ کن چکروں میں پڑ گئے، ان احمقوں کو سمجھائیں گے، عقل سے پیدل ہی یہ لوگ، انہیں کچھ نہیں پتا، دنیا تو کیا یہ اپنے آس پاس کا بھی ادراک نہیں رکھتے. انتہائی سطحی سوچ ہے ان گنوار انتہاپسندوں کی.
آپ ہمیں بولیں! عقل کل تو ہم ہیں، دنیا بھر کی قابلیت تو ہمارے اندر ہے، ہم جانتے ہیں دنیا میں کیا ہورہا ہے، گرد و پیش پر بھی ہماری ہی نظر ہے اور وقت کے ساتھ کیسے چلنا ہے یہ بھی ہمیں پتہ ہے، بس یہ سالے احمق یہی جزباتیات سے آگے کچھ نہیں جانتے.

عثمان : مانا کہ ہم کم عقل ہیں، جزباتیت میں اندھے ہیں، چیزوں کو سمجھنے کے صلاحیت سے محروم ہیں اور ادراک و تدبر ہمارے بس کی بات نہیں لیکن یار تم تو علامہ ہو نا. اسکے باوجود بجائے بات دلیل سے کرنے کے تم جزباتیت کے طعنے سے کام چلارہے ہو.

خاور جی، اگر اجازت ہو تو میں ایک عرض کرتا ہوں، محمد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی ناموس پر اظہار خیال کرتے ہوئے اکثر احتیاط نہیں کی جاتی. میں بلامبغالغہ عرض کروں گا کہ مجھ سے بہت کہا گیا کہ اس موضوع پر کچھ لکھوں لیکن حال یہ ہے کہ میں خود کو اس سطح کی بحث قابل نہیں سمجھتا، کوشش بھی کروں تو قلم ساتھ نہیں دیتا اور ہونٹ سل جاتے ہیں. اس انتہائی نازک مسئلہ کو بازیچہ اطفال بناکر ہر کاری کمین کے لئے بحث کا دروازہ کھولنا کوئی مناسب عمل نہیں ہے.
صرف اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ چاہے دشمن ایک مسلمان کی نظروں کے سامنے اسکے معصوم بچوں کو قتل کردیں، اسکی بہن بیٹی کو اٹھالے جائیں، اسکے گھر اور کاروبار کو تباہ کردیں، اسکے ملک پر ایٹم بم گرادیں وہ سمجھوتہ کرسکتا ہے لیکن محمد رسول اللہ کی ناموس پر وہ کبھی سمجھوتا نہیں کرسکتا. یہ مسلمانیت ہے، لیکن روشن خیال اس فلسفے عشق کو کہاں سمجھے گے. وہ ہر معاملے کو عقل کے ترازو پر تولتے ہیں اور تعلق کو اپنی عقل سے چھوٹا سمجھتے ہیں.

عقل کی بات ہے تو میں عقل کے میدان میں بھی چیلنج کرتا ہوں، لیکن لوگ یہاں تو عقل کے نام پر بھی صرف اپنی خواہشات کا پرچار کرتے ہیں اور وہ بھی بغیر کسی دلیل کہ.

عنیقہ ناز کہا...

کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایسا کوئ قانون بنایا جسکی رو سے انکی بے عزتی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ کیا قرآن ایسا کوئ ایسا حکم دیتا ہے کہ اللہ کے رسول کی ناموس پہ حملہ کرنے والے کو قتل کر دیا جائے۔ اپ نے دلیل کی بات کی اس بات پہ دلیل رسول کی ذاتی زندگی اورقرآن سے لے آئیں۔
دوسری طرف اس قانون کے بننے کے بعد سے جتنے بھی ایسے کیسز سامنے آئے انکی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھتی ہے اور اکثر کے ساتھ زمینی معاملات جڑے ہوئے تھے۔
ایسا کیوں ہے کہ پنجاب کی زمین پہ توہین رسالت کے واقعات اتنے تسلسل سے ہوتے ہیں۔ اور ایسا کیوں ہے کہ اہل پنجاب اس معاملے پہ غیرت سے بھرے رہتے ہیں۔ کیا پنجاب کی زمین پہ زیاددہ مذہبہ لوگ رہتے ہیں۔ کیا پنجاب کی زمین پہ اسلام کے عین مطابق زندگی گذارنے والے رہتے ہیں۔
عیسائ تو کراچی میں بھی بہت ہیں، آج تک کراچی سے کتنے واقعات تووین رسالت کے رپورٹ ہوئے ہیں انہیں سامنے لائیں۔
آپ سب بیٹھ کر اپنی ایک ڈفلی بجاتے رہتے ہیں اور وہ ہے روشن خیال کی۔ اس قوالی کو گانے کے علاوہ آپ سب کس فن میں مہارت رکھتے ہیں ذرا اسے بھی سامنے لائیں۔

کاشف نصیر کہا...

عنیقہ آپا:
آپ اب آئی ہیں صحیح نقطے پر
جی ہاں جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تو اس کے ساتھ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اپنی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی ناپاک جسارت کرنے والوں کے قتل کا قانون بنایا تھا. صحیح بخاری کی کم از کم سات مستند احادیث اس حوالے سے موجود ہیں، کعب بن اشرف وہ پہلا یہودی تھا جسے حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے حکم حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے قتل کر ڈالا تھا. دوسرا واقعہ حضرت عمر فاروق کا ہے آپ نے ایک مسلمان کو صرف اس لئے قتل کردیا تھا اس نے دربار رسالت سے فیصلہ صادر ہوجانے کے بعد حضرت عمر کے پاس اپنا اور ایک یہودی کا تصفیہ حل کرانے چلا آیا تھا. اس شخص کے خاندان والے دیت اور خون بہا کے لئے چلے آئے تو قرآن مجید میں حضرت عمر فاروق کے حق میں آیت اتری، تیسرا قابل ذکر واقعہ فتح مکہ کا ہے جب آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن گستاخوں کا نام لے کر یہ ارشاد فرمایا کہ اگر یہ لوگ خانہ کعبہ کے گلاف سے بھی چمٹ جائیں تو انہیں قتل کردو. کبھی زندگی میں اگر بخاری شریف کی شکل دیکھی ہے تو یہ تمام روایات آپ کو وہاں مل جائیں گی.

جو رویات روشن خیال لے کر آتے ہیں وہ تمام کی تمام ہجرت سے قبل مکہ کے زمانے کی ہیں. مکہ کے اندر مسلمانوں کو اللہ کی طرف سے ہاتھ باندھے رکھنے اور ہر طرح کا ظلم سہنے کا حکم تھا. آپ کو شاید نہ پتہ ہو کہ اللہ تعالی نے مکہ میں جہاد پر پابندی لگائی ہوئی تھی.

یہ ہماری عجیب بدقسمتی ہے کہ ہم پی ایچ ڈی اور ایم بی اے کرکے خود کو عالم فاضل سمجھنے لگتے ہیں اور حال یہ ہوتا ہے کہ دین کی بنیادی کتابوں کو بھی کبھی کھول کے نہیں دیکھا ہوتا.

وقار اعظم کہا...

انیقہ جی 1986سے 2007 تک توہین رسالت کے 361 مقدمات درج کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 49 فیصد مقدمات غیر مسلوموں کے خلاف بنائے گئے اور 51 فیصد مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے۔ غیر مسلموں کے خلاف بنائے گئے 49 فیصد مقدمات میں 26 فیصد احمدی اور 21 فیصد مسیحی شامل ہیں۔ ان 361 مقدمات میں 761 افراد نامزد کیے گیے۔

توہین رسالت کے تمام 361 مقدمات میں سے دو تہائی پنجاب میں، 15 فیصد سندھ میں اور 5 فیصد خیبر پختونخواہ میں درج کیے گئے۔ مسیحی اور احمدی پنجاب میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ جبکہ سندھ مِں اقلیتوں میں ہندوئوں کی اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود یہاں بھی زیادہ تر مقدمات میں عیسائی اور احمدی ہی نامزد کیے گیے۔ یہاں کے لوگوں کو عیسائیوں سے کوئی خاص دشمنی ہے کیا؟ سارے زمینی معاملات انہی کے ساتھ جڑے ہیں؟

ماشااللہ کتنا درد ہے جی 361 مقدمات کا، میرے وطن میں نہ جانے کتنے دفعہ 302 کا شکار بنادیے جاتے ہیں جن کی تعدا یقینا ہزاروں میں ہے۔ کبھی ان کے خلاف بھی ایک پوسٹ لکھیں کہ اسے ختم کردیا جائے۔

کراچی کے غازی عبدالقیوم شہید کا واقعہ تو یاد ہی ہوگا گو کہ قیام پاکستان سے پہلے کا ہے۔ پنجاب کے پاس غازی علم دین شہید ہے تو اہل کراچی بھی کسی سے پیچھے نہیں۔

کاشف نصیر:: آپ نے پھر بخاری کا حوالہ دیا۔ لوگ صرف اپنی من پسند احادیث کو ہی مانتے ہیں بھائی۔

گمنام کہا...

"یہاں کے لوگوں کو عیسائیوں سے کوئی خاص دشمنی ہے کیا؟ سارے زمینی معاملات انہی کے ساتھ جڑے ہیں؟
"

تمام مذہبی دہشتگرد، کالعدم اور فرقہ پرست تنظيميں مياں نواز شريف کی ووٹر ہيں اور نواز شريف کی سرپرستی انہيں حاصل ہے۔ يہ جيش اور لشکر کس صوبہ ميں اپنے اصل مراکز رکھتے ہيں؟ يہ گوجرہ اور شانتی نگر کہاں واقعہ ہيں؟ بھارتی پنجاب ميں؟ ديگر صوبوں ميں مدارس کے نفوز کے بعد چند واقعات ہوئے وگرنہ اس کا خاص تعلق پنجاب سے ہی ہے۔

گمنام کہا...

"
کاشف نصیر:: آپ نے پھر بخاری کا حوالہ دیا۔ لوگ صرف اپنی من پسند احادیث کو ہی مانتے ہیں بھائی۔
"

چند واقعات کو اپنی مرضی کے سياق و سباق ميں رکھ دينے کو شريعت نہيں کہتے۔ شريعت واضح احکامات کا نام ہے۔ شريعت کو نبی بھی تبديل نہيں کرسکتا اسليئے اگر کسی موقعہ پر کچھ کيا اور کسی اور موقعہ پہ کچھ تو يہ شريعت نہيں بلکہ موقعہ محل کے مطابق فيصلے تھے۔ جاہل ملاؤوں کے پاس اور تو کوئی خوبی نہيں صرف جھوٹ اور دہشتگردی کرسکتے ہيں سو وہ کررہے ہيں۔

کاشف نصير کے ديوبندی ملا عورت کی حکمرانی کو حرام قرار ديتے ہيں ليکن مال لگنے پر عورت کی حکمرانی کو تسليم بھی کرليتے ہيں اور اسی حکمرانی کے تابع عہدہ بھی قبول۔ يعنی جس بات سے مال بنے وہ عين شريعت اور جس بات سے حلوے مانڈے اور غنڈہ گردی ميں رکاوٹ آئے وہ شريعت کے خلاف۔ اس بات کو ذہن ميں رکھيں تو ان ملاؤوں کی اچھل کود کی وجہ سمجھ آجاتی ہے۔

کاشف نصیر کہا...

بے نام تبصرہ نگار پہلے اپنی شاخت ظاہر کرنے کی اخلاقی جرت پیدا کریں، پھر دین کے معاملے میں بحث کریں. نبی کے دائرہ اختیار میں کیا ہے اور کیا نہیں اس بات کا فیصلہ کرنے سے بہتر کیا یہ نہیں ہے اپنے اپنے گریبان میں جھانکا جائے. مان لیا کہ آج کا مولوی جاہل ہے، کیا پچھلے چودہ سو سال میں آنے والا ہر مولوی جاہل تھا. شیخ السلام حافظ ابن تیمیہ بھی جاہل تھے؟ علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر اور قائد اعظم بھی جاہل تھے. کبھی فرصت ملے تو علامہ کی نظم "کراچی اور لاہور" کو پڑھنا چاہئے.
حدیث بلکل بھی متنازعہ نہیں ہیں. اسلامی ریاست کے قیام کے بعد جس کسی نے بھی توہین رسالت کی اسے قتل کیا گیا اور رسول اللہ کے واضع حکم پر. میں پھر کہوں گا سنے سنائے اور اپنی مرضی کے دین کے بجائے کبھی بخاری اور مسلم جیسی کتابوں کو بھی کھول کر دیکھ لینا چاہئے. کسی کو جاہل اور احمق کہنے سے پہلے خود اپنی علمی قابلیت پر بھی نظر رکھنی چاہئے.

کاشف نصیر کہا...

اس موضوع پر پاکستان کے چوٹی کے اہل قلم کے مضامین پر بھی ایک نظر ڈال لینا بہتر معلوم ہوتا ہے.
اوریا مقبول جان
http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101110707&Issue=NP_LHE&Date=20101201
حامد میر
http://jang.com.pk/jang/nov2010-daily/25-11-2010
/col4.htm
http://ejang.jang.com.pk/11-29-2010/Karachi/pic.asp?picname=06_05.gif
ہارون رشید
http://jang.com.pk/jang/nov2010-daily/30-11-2010/col1.htm
انصار عباسی
http://jang.com.pk/jang/nov2010-daily/29-11-2010
/col10.htm
عرفان صدیقی
http://ejang.jang.com.pk/11-28-2010/Karachi/pic.asp?picname=07_06.gif

گمنام کہا...

"اس موضوع پر پاکستان کے چوٹی کے اہل قلم کے مضامین پر بھی ایک نظر ڈال لینا بہتر معلوم ہوتا ہے.
"

خواجے کے گواہ ٹٹو۔ يہ تمام مذہبی انتہاپسند، جھوٹ بولنے ميں يکتا اور دہشتگردوں کے حامی ہيں۔ اب تو ثابت ہوگيا کون لوگ غنڈہ گردی جاری رکھنے کے ليئے اچھل کود کررہے ہيں۔

گمنام کہا...

“ شیخ السلام حافظ ابن تیمیہ بھی جاہل تھے؟ “

تمام دہشتگردوں کو ابن تیمیہ بہت پسند ہے کيونکہ اس نے انکی مرضی کے فتوی ديئے۔ وہابی بھی ابن تیمیہ کو بڑا مانتے ہيں اور وہابيوں کے کرتوت سب کے سامنے ہے۔ اسلام ابن تیمیہ کے ساتھ شروع نہيں ہوا خدا کا شکر ہے۔

“ علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر اور قائد اعظم بھی جاہل تھے. کبھی فرصت ملے تو علامہ کی نظم "کراچی اور لاہور" کو پڑھنا چاہئے“

علامہ اقبال کو تو مولويوں نے بھی کافر قرار ديا ليکن علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر قرآن و سنت پہ آخری سند نہيں۔

جہاں تک قائد اعظم کا تعلق ہے، ضرورت پڑھنے پر اب تم مولويوں نے کافراعظم کو بھی باپ بنا ليا ہے؟ يہ ڈرامہ بند کردو اب۔ کبھی کچھ کبھی کچھ۔

“حدیث بلکل بھی متنازعہ نہیں ہیں.“

اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہيں۔ احاديث نہ صرف قرآن سے متصادم ہيں بلکہ آپس ميں بھی متضاد بات کرتي نظر آتی ہيں۔ حديث چاہے بخاری اور مسلم کی کيوں نہ ہوں انہيں ايسے نہيں پڑھا جا سکتا کہ وہ آپس ميں يا قرآن سے ٹکراتی ہوں يا اسلام کی بنيادی تعليمات کے خلاف ہوں ورنہ اسلام تضادات کا مجموعہ اور ايک بے معنی چيز بن جائے گا جس ميں سے ہرکوئی اپنی مرضی، مفاد کا مطلب لے لے۔ منافقوں کو بعض احاديث کا يہی اسلوب پسند ہے کہ ان احاديث کو اگر اسلامی تعليمات کے سياق و سباق سے ہٹا کر پڑھا جائے تو اپنی مرضی کا مطلب نکالا جاسکتا ہے۔ سارا فتنہ ايسے ہی منافقين کی وجہ سے ہے۔

ايک حديث جو لڑنے بھڑنے والے ملاؤوں کو بہت پسند ہےاور اکثر ٹي وی شوز ميں پڑھتے نظر آتے ہيں اسکا راوي عکرمہ ہے جو ايک خارجی تھا اور مسلمانوں سے بغض رکھتا تھا ليکن مولوی لوگ اس نام نہاد حديث کے اس سياق و سباق کو گول کرجاتے ہيں کيونکہ اس سے مقصد فوت ہوتا ہے۔

جہاں تک کعبہ سے لپٹنے والی بات کا تعلق ہے اس ميں بھی ايک شخص کو معاف کرديا گيا تھا۔ اگر شريعت کا حکم ہوتا تو کبھی نا چھوڑا جاتا۔ تمہارا جھوٹ کھل گيا۔ جنگوں کے زمانے ميں جس کو خطرہ يا اکسانے والا سمجھا گيا اسکو مارديا باقيوں کو چھوڑ ديا۔ يہ جنگ کی حکمت عملی ہے شريعت کا خاص حکم نہيں۔

جو بات مکی يا مدنی دور سے مشروط ہے وہ حکمت عملی ہے شريعت نہيں۔

تم جيسے مدرسے سے نکلے جہلا دوسروں کو جاہل سمجھ کر بيوقوف بنانے کا کام بند کرديں تو يہ مسئلہ حل ہوجائے۔ کوئی ڈھنگ کا کام کرو مذہب بيچنے کا کام کرکے عاقبت خراب نہ کرو۔

گمنام کہا...

“حدیث بلکل بھی متنازعہ نہیں ہیں.“

حديثيں ايسی بھی ہيں جن ميں اونٹ کا پيشاب پينے کا حکم ہے، يہ بخاری اور مسلم دونوں ميں ہے۔ اب جاؤ فورا اونٹ کے پيشاب ميں غوطہ لگا کے آؤ، تاکہ تمھارے احاديث پہ اعتقاد کا پتہ چلے۔

وقار اعظم کہا...

احادیث کو جمع کرنے کے سلسلے میں جو طریقہ اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ جو شخص بھی رسول صلی اللہ و علیہ وسلم سے کوئی بات منسوب کرتا اس کو یہ بتانا پڑتا کہ اس نے وہ بات کس سے سنی ہے اور اوپر سلسلہ بہ سلسلہ کون کس سے وہ بات سنتا اور آگے بیان کرتا رہا ہے۔ اس طرح رسول اللہ تک روایت کی پوری کڑیاں دیکھی جاتی تھیں۔ تاکہ یہ اطمینان کرلیا جائے کہ وہ صحیح طور سے منقول ہوئی ہے۔ اگر روایت کی پوری کڑیاں نہ ملتی تو اس کی صحت مشتبہ ہوجاتی تھی۔ اگر کڑیاں نی کریم تک پہنچ جاتیں لیکن بیچ میں کوئی راوی ناقابل اعتماد ہوتا تو ایسی روایت بھی قابل قبول نہ تھیں۔

دنیا کے کسی انسان کے حالات اس طرح مرتب نہیں ہوئے۔ یہ خصوصیت صرف نبی کریم کو حاصل ہے کہ آپ کے بارے میں کوئی بات بھی سند کے بغیر تسلیم نہیں کی گئی اور سند میں بھی صرف یہی دیکھا گیا کہ ایک حدیث کا سلسلہ روایت رسول اللہ تک پہنچتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس سلسلے کے تمام راوی بھروسے کے قابل ہیں یا نہیں۔ اس غرض کے لیے راویوں کے حالات کی بھی پوری جانچ پڑتال کی گئی اور اس پر مفصل کتابیں لکھ دی گئیں جن سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون قابل اعتماد تھا اور کون نہ تھا۔ کسی کی سیرت و کردار کا کیا حال تھا۔ کس کا حافظہ ٹھیک تھا اور کس کا ٹھیک نہ تھا۔ کون اس شخص سے ملا تھا جس سے اس نے روایت نقل کی ہے اور کون اس سے ملاقات کے بغیر ہی اس کا نام لے کر روایت بیان کررہا ہے۔ اس طرح اتنے بڑے پیمانے پر راویوں کے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں کہ آج بھی ہم ایک ایک حدیث کے متعلق یہ جانچ سکتے ہیں کہ وہ قابل اعتماد ذرائع سے آئی ہے یا ناقابل اعتماد ذرائع سے۔

اس کے باوجود بے نام اور اپنے والد گرامی کی تلاش میں پھرنے والے اپنی مطلب براری کے لیے الٹی سیدھی باتیں کرتے پھرتے ہیں۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ معاملات کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اوچھے ہتکنڈوں پر اتر آتے ہیں۔ دوسروں کا نام استعمال کرکے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہیں۔ مخالفین کے بلاگ پر گالیاں تحریر کرتے ہیں اس کے باوجود اعلی اخلاق و کردار اور دلیل کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

کاشف نصیر کہا...

بے نام صاحب میں آپ نے حدیث کی صحت پر اپنے جس اصلول کا اظہار کیا ہے میری پوری اگہی کے مطابق یہ اصلول پورے پاکستان میں صرف قادیانی اور پرویزیوں (مرزا پرویز) کے یہاں پایا جاتا ہے اور دونوں ہی کا تعلق اسلام سے سوائے ڈاکہ ذنی اور دھوکہ دہی سے کچھ نہیں بنتا. آپ کا معاملہ بھی یہی ہے. شاید آپ اس لئے اپنی شناخت لکھتے ہوئے شرمارہے کہ کہیں قادیانی کہ کہ مسترد نہ کردیا جائے. لیکن آپ جتنا بھی چھپا لیں آپ کی قادیانیت چھپ نہیں سکتی.

عنیقہ ناز کہا...

کاشف نصیر صاحب، بخاری شریف کی دو کاپیاں میرے سامنے ہی اس وقت پڑی ہیں۔ جس میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہیں رسول اللہ نے آنکھوں کے امراض کے لئے اونٹ کا پیشاب پینے کا مشورہ دیا۔ وہ لوگ اونٹ کا دودھ اور پیشاب پینے کے بجائے اونٹ لے بھاگے جسکی بناء پہ رسول اللہ نے انکے قتل کا حکم دیا۔ ی حدیث بخاری شریف کی عربی متن بمع اردو شرح میں جلد سوئم میں موجود ہے۔ واقعات کو انکے سیاق و سباق سے نکال لینے کے بعد یہی ہوتا ہے جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں۔
صحیح بخاری کی اس حدیث کے بارے میں جسکا حوالہ میں آپکو دے رہی ہوں آپ کیا کہتے ہیں۔ یہی کہ آنکھوں کے مرض کے لئے اونٹ کا پیشاب پینا طب نبوی ہے۔
کیا آپ نے صحیح بخاری شریف خود پڑھی ہے یا مولانا صاحبان کی اپنے نکتے کو سپورٹ کرنے والی احادیث ہی پڑھی ہیں۔
اسی بخاری شریف میں رسول اللہ ایک صحابی کو رمضان کا روزہ توڑنے کی سزا ساٹھ مسلسل روزے کی سزا اتنی موقوف کرتے ہیں کہ معاف کر دیتے ہیں۔ کیا آجکے مولانا صاحبان یہ استحقاق استعمال کر سکتے ہیں۔
احادیث کے ضمن میں یہ دعوی دوہرایا جاتا ہے کہ ہر شخص کے کردار کے بارے میں معلوم کیا گیا۔ میرا خیال ہے کہ کہنے والوں کو اور کچھ نہیں شبلی نعمانی کی سیرت النبی کا تعارفی حصہ ضرور پڑھ لینا چاہئیے۔ اگر احادیث اتنی مضبوط چیز ہوتیں تو رسول اللہ انہیں اپنی زیر نگرانی لکھواتے، بار بار سنتے اور انہیں درست کرواتے۔ لیکن رسول اللہ نے ایک لمبے عرصے تک اسکی منادی رکھی اور بعض روایات کے تحت اپنی زندگی میں اسکی جازت نہیں دی۔ آخر رسول اور خدا کی کتاب پہ کس چیز کو فوقیت دی جاتی ہے۔
اب یہ میرے پیش کردہ نتائج نہیں بلکہ وقار اعظم کے پیش کردہ نتائیج ہیں۔ جسکے مطابق دو تہائ ےوہین رسالت کے واقعات پنجاب میں ہوئے ہیں۔ سندھ میں میں نے خاصے دور دراز علاقوں کا سفر کیا ہے۔ اور وہاں کے جاہل دیہاتی یہ کہتے ملے کہ ہم تو بالکل سکون سے رہتے تھے۔ جب سے یہاں چندے کے مدارس قائم ہوئے یں فرقہ وارانہ اور مذہبی تفرقہ پیدا ہوا ہے۔
یہ میں نہیں ایک ان پڑھ دیہاتی کہتا ہے۔ کراچی میں ایک بڑی تعداد عیسائیوں کی ہے۔ شہر کے بہترین ، معیاری اسکول وہ ہیں جو مشنری اسکول ہیں۔ یعنی عیسائ انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں۔ شہر میں توہین رسالت کے واقعات کیوں نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ شہر فیوڈل سوچ کے اثر سے باہر ہے۔ وہ فیوڈل سوچ جو جاگیردار اور مولوی صاحب کے گٹھ جوڑ سے مل کر بنتی ہے۔ اس شہر کے اندر اگر آج کوئ ایسی دقیانوسی سوچ کا حامل نظر آتا ہے تو افسوس کی بات ہے کہ انکا کوئ نہ کوئ علاقائ پس منظر پنجاب سے جا کر جڑتا ہے۔
اگر اخبار میں کسی عورت کو کردار پہ شک کی بناء پہ قتل کیا جاتا ہے تو مجھے اس خبر کی تفصیل پڑھنے سے پہلے پتہ ہوتا ہے کہ مرنے والی یقینا پاکستان کے فیوڈل نظام کے پس منظر کے حامل شخص سے تعلق رکھتی ہوگی۔
بہر حال، میں چاہونگی کہ آپ صرف اس اونٹ والی حدیث کا صحیح پس منظر ڈھونڈھ کر لے آئیں یا پھر آئیندہ سے آنکھوں کے امراض کے لئے اونٹ والوں سے رابطہ کرنے کی سب کو اسی زور و شور سے نصیحت کریں جیسی کہ آپ آسیہ بی بی جیسے لوگوں کو پھانسی پہ چڑھانے کی مہم میں کر رہے ہیں۔

کاشف نصیر کہا...

آپ سیدھی سادھے انداز میں کیوں نہیں کہ دیتی کہ میں حدیث کو نہیں مانتی۔ میں بحث ختم کردوں۔
اونٹ کے پیشاب والی حدیث کا آپ نے ذکر کیا، لیکن وہ حدیث لانا بھول گءیں جس میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا ذکر ہے۔ کیونکہ یہ حدیث بھی آپ کہ مطلب کی ہے۔

میں بھی پچاس دفعہ یہ کہ چکا ہوں قرآن و حدیث کو صرف اور صرف سیاق و ثباق کی روشنی میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ ورنہ سواءے روشن خیالوں کی طرح ہونے کہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

جس آخری حدیث کا آپ نے حوالا دیا علمائ اسے صرف محمد صلہ اللہ و علیہ وسلم کا اسحق سمجھتے ہیں۔ آپ کہیں تو ہم آپ کا بھی اسحق قبول کرلیتے ہیں۔

وقار اعظم کہا...

محترمہ آپ سے کس نے کہا کہ ہم کسی آسیہ نامی خاتون کو سزا دلوانے کے لیے مہم چلا رہا ہوں۔ ہم تو جی قانون کو ختم کرنے والوں کے خلاف مہم چلارہا ہوں۔ یہ نیچے دو لنک ہیں جن جو ادھر کراچی میں وقوع پذیر ہوئے۔

http://www.jasarat.com/epaper/mmdetails.php?date=26-02-2010&file=36&category=nation
http://www.jasarat.com/epaper/mmdetails.php?date=09-04-2008&file=27&category=nation

آپ جیسوں کے لیے لمحہ فکر یہ کہ فوڈل نظریات یہاں کراچی میں بھی آگئے۔ ان میں آخر الذکر واقعہ تو انتہائی خوفناک ہے اور اگر قانون ختم ہوگیا تو شاید یہ ہر گلی کوچے میں ہورہا ہو۔

دوسری بات یہ کہ اوپر اور نہ جانے کتنی جگہوں پر شاتم رسول کو قتل کرنے کے واقعات پر مشتمل احادیث بیان کی گئی ہیں لیکن خیر سے خود کو شیخ الحدیث سمجھنے کے بعد بندہ ایسی ہی حدیث سامنے لاسکتا ہے وہ بھی توہین رسالت کے سلسلے میں۔ میں احادیث کے بارے میں آپ کے ان خیالات سے میں کماحقہ آگاہ ہوں کہ بعض روایات میں رسول اللہ نے حدیث لکھنے سے منع کیا۔ اور مزے کی بات یہ کہ یہ بعض روایات ہی آپ جیسے لوگوں کو بہت پسند ہیں برخلاف ان روایات کے جو تسلسل سے آئے ہیں۔ تو جی لگے رہیں۔۔۔۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ان گلابی انگریزوں کیلئے یاسر عمران مرزا نے انگریزی میں بھی قرآن کا ترجمعہ کیا ھے۔
مسئلہ یہ ھے۔کہ انہیں اسلام الرجی ھے۔دلائل دو اگر حدیث تو یہ کہہ دیتے ہیں۔ہم حدیث کو نہیں مانتے۔
قرآن کا حوالہ دو تو پھر کچھ نہ کچھ بکواس ہی کریں گے۔
یہاں پر بھی پیسٹ رہا ہوں۔یاسر عمران مرزا کے بلاگ پر بھی جا کر پڑھ لیں۔

Other than the faith in and following the Prophet (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم), another dimension of our relationship with him is our love for him. In Islam, having faith and following his commandments is not acceptable without love. In certain circumstances, following without love is hypocrisy. Love with the Prophet should not be a formality. This love must be dominant over all other loves. The closest relation and the most favorite things should be considered nothing in front of this love. Everything must be sacrificed for this love, but it should not be sacrificed for anything. Quran describes the standard for this kind of love.

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ۔

O Prophet, tell them: If your fathers, your sons, your brothers, your spouses, your relatives, the wealth that you have acquired, the business in which you fear a loss, and the homes which you like are dearer to you than Allah, His Messenger, and making Jihad (struggle) in His Way, then wait until Allah brings about His decision. Allah does not guide the transgressors. (Al Tauba 9:24)

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تصیح ؛ یاسر عمران مرزا نے انگلش ترجمعہ والی پوسٹ لکھی۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

ان پنجابیوں کی ایسی کی تیسی۔
توہین رسالت کو مقدمے یہ ہی کیوں بناتے ہیں۔
چلیں مان لیا۔یہ پنجابی ہی گندے ہیں۔
اب کوئی حکیم لقمان کا نطفہ بتائے کہ ان پنجابیوں کا کیا کریں؟

کاشف نصیر کہا...

تو خامی پنجابیوں میں ہوئی نہ، نہ کہ قانون میں

عثمان کہا...

بھائیو ، حدیث کے شیدائیو
حدیث پر اندھا اعتقاد اور ایمان رکھتے ہو تو اونٹ کا پیشاپ پی کر دیکھاؤ۔ شرمندہ ہو کر آئیں بائیں شائیں نہ کرو۔ پیشاپ پی کر دیکھاؤ۔
ڈرامے بند کرو اور اپنی منافقت چھوڑو۔ تمھیں عبداللہ بی ابی کہتے بھی ڈر لگتا ہے کہ تم اس کا بھی ریکارڈ توڑ چکے ہو۔

عنیقہ ناز کہا...

کاشف نصیر صاحب، میں حدیث کو مانتی ہوں۔ اسی کے بیان کئے ہوئے طریقے کے مطابق وضو کرتی ہوں، نماز پڑھتی ہوں، روزے رکھتی ہوں ، زکوۃ دیتی ہوں اور خدا نے ےوفیق دی تو حج بھی کرونگی۔ لیکن میں انکی اندھی مقلدین میں سے نہیں ہوں۔
وقار اعظم صاحب، کراچی میں یہ خوفناک صورت ھال پہ پہنچ گیا ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں جہالت پھیلائ جائے گی یہی صورت بنے گی۔ ہ پچھلے تیس ، چالیس سالوں کی پھیلائ ہوئ جہالت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے خون میں لفظ خوفناک کی وجہ سے بڑا جوش پیدا ہوتا ہو۔ لیکن ایڈوینچرزم سے باہر نکل کر یہ ایک قوم کی موت ہے۔
باقی سب کے لئے، جب ہم پوچھتے ہیں کہ پنجاب میں ان جرائم کی دو تہائ فیصد کیوں ہے تو پنجاب کے حکیم لقمانکیوں خآموش ہو جاتے ہیں اور اس کا مناسب جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی ہانکنے لگتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اپنے طور پہ حقائق جمع کر کے یا اگر ایسا کرنے سے معذور ہیں تو اپنے ذاتی خیالات اس بارے میں بتائیں کہ کیوں ان جرائم کا دو تہائ فی صد اس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ کم ازکم کوئ ایسا شخص تو ایسا کر ہی سکتا ہے جو پنجاب کی سر زمین پہ پیدا ہوا اور وہاں سے ثقافتی تعلق رکھتا ہے۔ اسے کچھ تو اندازہ ہوگا کہ وہاں ان جرائم کی اکثریت کیوں پائ جاتی ہے۔ لیکن افسوس، اردو بلاگنگ کی دنیا میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے جس زور شور سے اس چیز کے لئے لڑ رہے ہیں اسی زورشور سے وہ اس چیز کا جواب دینے سے معذور ہیں۔ اس لئے اس موضوع کے اس حصے کی طرف سرے سے آتے ہی نہیں۔

وقار اعظم کہا...

محترمہ انیقہ ناز: پنجاب پنجاب کی رٹ لگانے سے پہلے کراچی پہ بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے تھی نہ۔ آپ تو بڑی عالمہ و فاضلہ ہیں جی۔ لیکن بغض معاویہ میں بندہ کیا کچھ کرڈالتا ہے۔ ویسے یہ تو صرف 2 کیسز ہیں جو پچھلے 1 سال میں وقوع پذیر ہوئے۔ اگر تھوڑی سی محنت اور کرلوں تو یقین ہے کہ ان کی تعداد 261 سے زائد ہی پہنچ جائے۔

پورے ملک کا 50 سے ساٹھ فیصد حصہ پنجاب میں آباد ہے۔ اب اگر وہاں جرائم ہوں تو لوگ کہیں کہ پنجاب جرائم میں سب سے آگے ہے۔ ہیں جی۔ اور بحث مباحثے میں وہی مرغے کی ایک ٹانگ، پنجاب، پنجاب، پنجاب۔ ویسے میرا خیر سے پنجاب سے کوئی تعلق نہیں۔ تعلق ان سے ہے جو بقول آپ کے گشن بہار میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔

اور ہاں یہ اس طرح کی باتیں تو قادیانی بھی کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو کیا ہم مان لیں؟ سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع میں اللہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ:

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں،حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں،مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعُورنہیں ہے۔ان کے دلوں میں ایک بیماری ہےجسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا،اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو اُنہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعُور نہیں۔اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان لاوٴ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمانلائیں؟ خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں،مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں،تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اُن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ،وہ ان کی رسّی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بد لے گمراہی خریدلی ہے، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نورِبصارت سلب کرلیااور انہیں اس حال میں چھوڑدیاکہ تاریکیوںمیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ بہرے ہیں،گونگے ہیں،اندھے ہیں،یہ اب نہ پلٹیں گے۔

وقار اعظم کہا...

عثمان بھیا: بات دراصل یہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا کہ میرا نبی حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتا۔ اور جو باتیں آپ کر رہے ہیں پچھلے 1400 سالوں سے ایسے لوگ موجود رہے ہیں اور علماء حق نے اس بارے میں اپنا حق ادا کردیا ہے تو کچھ نیا لائو پائی جی۔
سورۃ بقرہ کے تیسرے رکوع میں اللہ نے کچھ ایسے ہی لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے کچھ یوں ارشاد فرمایا کہ:

ہاں ، اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھّر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔جو لوگ حق بات کو قبو ل کرنے والے ہیں،وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کرجان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے ربّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہے ، وہ انہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کر تا ہے، جو فاسق ہیں.

یار کاشف، اب عبداللہ بن ابی بریگیڈ سیاق و سباق کا رونا نہ شروع کردے۔ یا یہ کہ کچھ نہیں تو قرآن و حدیث بیچ میں لے آتے ہیں۔
LoLzzz

عثمان کہا...

جی میرے بھائی،
رسول اللہ سے غلط باتیں منسوب نہ کرو۔ رسول اللہ کبھی وہ بات نہیں کرسکتے جو آپ حدیث کا نام لے کر ان کے نام لگا دیتے ہو۔ رسول اللہ کی شخصیت کا مطالعہ کرو۔ قرآن پر تدبر کرو پھر استدلال سے بات کرو۔ ورنہ خوارج بھی تھے جو بڑے پکے نمازی تھے لیکن دین ان کے حلق سے نہ اترا تھا۔ وہ فتنہ باز بھی تھے جو حضرت علی کے خلاف جنگ پر اترتے اور جب بات بن نہ پڑتی تو قرآن نیزوں پر لا کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتے۔
دین میں تدبر کئے بغیر اندھی تقلید کرنا دین کی توہین ہے، اندھی تقلید کرنی ہے تو مذہب پرست اور بت پرست میں کیا فرق ہے بھائی۔ دونوں اندھی روایت اور اندھی تقلید ہی کررہے ہیں۔
دین خلاف فطرت کوئی بات نہیں کرتا۔ اس لئے کہا ہے غلط اور ضعیف احادیث پر اندھا اعتقاد کرکے دین کا تمسخر نہ بناؤ۔ رسول اللہ کبھی وہ نہیں کہہ سکتے جو اس "حدیث" میں کہا گیا ہے۔ لیکن آپ کو ضعیف احادیث پر اتنا اصرار ہے کہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے کے مصداق ہر چیز پس پشت ڈال کر محض اپنی انا کی خاطر احادیث کو دین کی اصل روح اور فہم پر فوقیت دیتے ہو۔
دلیل نہ بن پڑی تو محض اپنے جذبات کے لئے آیات اور احادیث کو نیا رخ کیوں دیا؟

میرا چیلنج اپنی جگہ موجود ہے۔
اللہ ہمیں ہدایت دے۔

وقار اعظم کہا...

بھیا آپ حضرات کے لیے تو جو چیز حلق سے نیچے نہ اترے وہ ضعیف ہے۔ اب میں یہاں کہاں احادیث پوسٹ کرتا پھروں۔ توہین رسالت کے سلسلے کی تمام احادیث ضعیف ہیں اور قوی تو صرف آپ حضرات کا ۔نام نہاد روشن خیالانہ جلسفہ ہے۔

ویسے یہ روشن خیالیوں کا وطیرہ ہے جی۔ بات توہین رسالت کی ہورہی تھی اور اسے ایک غیر متعلق موضوع کی طرف لے گئے تاکہ معاملہ الجھایا جاسکے۔ اور احادیث پر انگلی اٹھا کر تمام احادیث کو متناضہ بنایا جاسکے۔ ویسے میرا اندیشہ درست ثابت ہوا۔۔۔۔

عثمان کہا...

میرے بھائی ،
اندیشہ کیا مجھے ہمیشہ سے پتا ہے کہ مذہب پرست کبھی بھی اپنی بات دلیل سے آگے نہیں بڑھا پائے۔ رسول اللہ ﷺ کی تمام زندگی گواہ ہے۔ مکی دور سے لے کر فتح مکہ تک۔ ساری سیرت پر نظر ڈال لیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ نہ ان لوگوں پر جنھوں نے ان پر طائف میں پتھر پھینکے۔ نہ ان لوگوں سے جنہوں نے آپ کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ نہ ان لوگوں سے جو بازاروں میں آپ پر فقرے کستے۔ نہ ان لوگوں سے جنھوں نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ تلوار جب بھی اٹھی تو صرف دین کی سربلندی کے لئے۔ قتل کا حکم جب بھی دیا تو صرف ان بدنصیبوں کے خلاف جو بڑے پیمانے پر فتنہ پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ ہر وہ شخص جو آپ کی خدمت میں معافی کا خواستگار ہوا اسے معاف کیا۔
کیا رسول اللہ ﷺ کی پوری شخصیت ، کردار اور اعلیٰ اخلاق کی ان تمام مثالوں اور ثبوتوں کو آپ کی بیان کردہ چند نام نہاد روایات کے آگے ڈھیر کردیں ؟؟ جس میں زمان و مکان اور تدبر سے مبرا ہوکر محض اپنے جذبات کی خاطر من پسند مطالب نکالے گئے ہیں ؟؟
نہیں میرے بھائی۔ دین اس سے کہیں گہرا ہے۔ اس کی پوری فصیل جذبات اور اندھی تقلید پر نہیں بلکہ فطری استدلال پر قائم ہے اسی لئے تو دین فطرت ہے۔ اسے لئے تو دوسرے مذاہب سے ممتاز ہے۔
ورنہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے انجیل کو اپنے مقاصد کے لئے کرپٹ کیا۔ انجیل کی آیات میں جان اور پال کی لغویات اور روایت ٹھوک کر اسے انجیل سے بلند کردیا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو رسول کو بشر سے اوپر کرکے اسے خدا بنا ڈالتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو اندھی روایت اور تقلید میں پڑ کر بتوں اور قبروں کو محض اس لئے پوج رہے ہیں کہ ان کے پرکھوں نے بھی اسے ایسے ہی پوجا تھا۔ دین میں اپنے مقاصد کے واسطے لغو کس نے کھڑا کیا ہے۔ اور کن غلط راستوں پر ہے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
آپ نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ میں نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا پاکستان کے بلاگ سے لے کر اس بلاگ تک میرا کٹر موقوف سب کے سامنے ہے۔ جب کہ اس مقابلے میں آپ موضوع بدل کر روشن خیالیوں کے خلاف تحریر نکال لائے۔ بات ہورہی تھی توہین رسالت کی آپ شروع ہوگئے فیشن شو کے قصے۔ بات ہورہی ہے قانون میں ترمیم کی۔ اسے دین کی روح کے موافق کرنے کی۔ آپ شروع ہوگئے سیاست کے قصے۔
کہاں تک سنائیں کہاں تک سنو گے۔
احادیث پر اختلاف اور اس کی متنازع تاریخ پر کتب کی کتب بھری پڑی ہیں۔ خود محدیث یکجا نہ ہوسکے۔
عقل اللہ کی دین۔ جب زندگی کے ہر معاملے میں اسے استعمال کرنا واجب ہے تو دین جیسے اہم ترین معاملات میں اسے لات کیوں مارتے ہو۔ اپنی قبر میں جواب تو دے سکو گے کہ جو کیا سوچ سمجھ کر کیا اندھی تقلید میں پڑ کر دین دنیا برباد نہیں کی۔

وقاراعظم کہا...

ارے عثمان بھائی غنیمت ہے کہ آپ کو قبر کی بھی فکر ہے ورنہ تو اکثر روشن خیال عذاب قبر کے ہی منکر ہوتے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ عذاب قبر کے متعلق قرآن سے دلیل دو۔ اگر دلیل دو تو پھر وہی سیاق و سباق کا رونا روتے ہیں۔

ہم فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ضعیف حدیث ہے تو کیا توہین رسالت کے معلق احادیث بھی ضعیف ہیں؟ یہاں کہا گیا کہ علماء بھی آپس میں متفق نہیں تو جناب ان پہ تو سارے مکتب فکر کا اتفاق ہے پھر میں نہ مانوں کی رٹ کیوں اپنے خود ساختہ نام نہاد عدم تشدد کے فلسفہ کی وجہ سے؟ میں یہاں کسی قرآنی آیت یا حدیث کا حوالہ نہیں دے رہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ پر نالہ وہیں گرتا رہے گا۔ تاریخ کی کتب بھری پڑی ہے ان دلیلوں سے۔ بس دیدہ بینا کی ضرورت ہے۔ بقول ڈاکٹر جواد روشن خیال دوسروں کو جامد تقلید کا طعنہ دیتے ہیں لیکن اپنے نظریات میں کیس انتہائی مقلد سے کسی طرح مختلف نہیں ہوتے۔ فہم و فراست مستعار ہوتی ہے۔ جو مغرب نے کہہ دیا وہ انکے نزدیک ثبوت بن جاتا ہے۔

ہماری محدود معلومات میں اضافے کا شکریہ کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا اور آپ نے کیا کیا۔ دوسروں کو جامد تقلید کا طعنہ اور چار چیزیں جان کر خود کو شیخ الحدیث سمجھنے کی خوش فہمی۔ حضرت آپ نے میری پوسٹ کا حوالہ دیا ہے تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ وہ توہین رسالت کے بارے میں نہیں ہے۔ توہین رسالت تو اس کا ضمنی حصہ ہے۔ اصل میں تو وہ روشن خیالوں کی نفسیات اور منافقت عیاں کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے۔

عثمان کہا...

وقار بھائی ،
حیرت ہے کہ آپ نے محض چند طعنے دے کر معاملہ لپیٹ دیا۔ ورنہ آپ کے پسندیدہ رنگ رنگ کے مسلکی علماء نکاح حرام سے لے کر کفر کا سرٹیفیکیٹ دینے سے باز نہیں آتے۔ چلیں خیر ہے آہستہ آہستہ آپ بھی "ترقی" کرلیں گے۔
آپ نے حسب معمول وہی مغرب والا طعنہ دہرایا ہے۔ تو میری جان شائد آپ کو یقین نہ آئے کہ "مغرب" کے ہاتھ کون مظبوط کررہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اسلام مخالف مستشرقین یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ اسلام تشدد سے پھیلا ہے۔ لیکن وہ کبھی اپنا پروپیگینڈا ثابت نہیں کرپائے۔ عصر حاضر میں مذہب پرست اور طالبان اپنی حرکتوں سے اس پروپیگینڈا کو کیسے درست ثابت کرنے میں لگے ہیں یہ ہمارے سامنے ہے۔ آج اسلام مخالف قوتوں کو پروپیگینڈا پھیلانے والے مستشرقین کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ کہ آپ لوگ آج ان کا سب سے مظبوط بازو ہیں۔
باقی آپ قرآن چھوڑ کر جس مرضی کا ہاتھ پکڑنے کو فوقیت دیتے رہیں۔ مجھے کوئی پریشانی نہیں۔

علامہ کاشف نصیر کہا...

اگر مذہب پرستوں سے مخاطب ہیں تو وہ اس وقت اونٹ کا پیشاپ ڈھونڈنے میں مصروف ہیں جسے وہ بخاری شریف کی کسی "حدیث" کی رو غٹاغٹ پئیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ پینے کے بعد جزاک اللہ بھی کہہ بیٹھیں۔ پھر ہی کہیں جا کر اس گانے پر ٹھمکے لگانے کی باری آئے گی۔
دین کا تمسخر (جسے یہ اپنے تئیں محبت سمجھتے ہیں) بنانے میں ان بدنصیبوں نے کیا کیا تصورات اور جھوٹ تراش رکھے ہیں اور پھر انھیں اللہ اور رسول سے جوڑنے سے بھی باز نہیں آتے۔ لیکن اللہ بھی پھر کیا وار کرتا ہے کہ ذلت انھیں کا مقدر بن جاتی ہے۔
اللہ اسلام کو عہد حاضر کے ان مسلمانوں سے

علامہ کاشف نصیر کہا...

“حدیث بلکل بھی متنازعہ نہیں ہیں.“

حديثيں ايسی بھی ہيں جن ميں اونٹ کا پيشاب پينے کا حکم ہے، يہ بخاری اور مسلم دونوں ميں ہے۔ اب جاؤ فورا اونٹ کے پيشاب ميں غوطہ لگا کے آؤ، تاکہ تمھارے احاديث پہ اعتقاد کا پتہ چلے۔

عنیقہ ناز کہا...

وقار اعظم صاحب، آپ نے فرمایا،
میرا نبی حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتا۔ اور جو باتیں آپ کر رہے ہیں پچھلے 1400 سالوں سے ایسے لوگ موجود رہے ہیں اور علماء حق نے اس بارے میں اپنا حق ادا کردیا ہے تو کچھ نیا لائو پائی جی۔

کیا اللہ نے قرآن میں یہ بھہ کہیں فرمایا ہے کہ علمائے حق رسول اللہ سے جتنی باتیں وابستہ کر کے کہیں گے وہ سب حق قرار پائیں گی۔ اگر اللہ ایسا کہہ رہا ہے تو سو بسماللہ اور اگر اللہ ایسا نہیں کہہ رہا تو دین کی شکل مسخ کرنے والا واجب القتل اور جہنمی ہونا چاہئیے۔
یقیناً میں خدا سے یہ توقع رکھونگی کہ وہ دین کی شکل بگاڑنے والوں اور علمائے حق کے نام پہ بدعتیوں کا گروہ قائم کرنے والوں کو روز قیامت جہنم کی انتہائ گہرائیوں کی قربت دے۔
ویسے آپ میں سے اب تک کوئ اس اونٹ والی حدیث کی تفصیل لے کر نہیں آیا۔ اسکی کوئ خاص وجہ، یہ حدیث بھی تو علمائے حق سے گذر کر صحیح البخاری کے اوراق کی زینت بنی ہے۔ یہ صرف ایک حدیث نہیں ہے اسکے علوہ حدیثوں کا انبار ہے جسے پڑھ کر کسی عام شخص کا مسلمان رہنا مشکل ہوجائے اور جو شاید آپکی نظر سے گذری بھی نہ ہونگی کیونکہ دوسروں سے اسلامی ماخذ کے مطالعے کے بارے میں پوچھنے والوں نے اپنے ماخذات کو خود صحیح طور پہ پڑھا ہی نہیں ہوتا۔ جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا جائے تو پھر کسی اور عالم حق کا لکھا ہوا مضمون روانہ کر دیں گے حدیث کا انکار اور فتنہ عقل پرستی۔ اس مضمون کی نقلیں بیچنے والوں سے صرف ایک گذارش ہے کہ دوسروں کے لکھے ہوئے مضامین پڑھنے کے بجائےاحادیث کی جتنی بھی مستند کتابں ہیں انہیں خود ایک دفعہ اپنے آپ بھی پڑھ کر دیکھیں۔ ۔ کیا کسی عالم حق نے ان کتابوں کے عوام الناس کے پڑھنے پہ پابندی لگائ ہے۔ یہ بات میرے علم نہیں۔ ہو سکتا ہے کل کہیں کوئ ایسا مضون کسی بلاگ پہ موجود ہو جسکی رو سے یہ کتب صرف یہ یہ لوگ پڑھ سکتے ہیں۔ اور اسکے بارے میں بھی کوئ حدیث موجود ہو۔
دین میں اس طرح کی تحریفات کرنے والوں کو وہ کون سی وجوہات ہیں جنکی بناء پہ قادیانیوں کے گروہ میں نہ ڈالا جائے۔ وہ کون سی دینی یا اخلاقی رکاوٹ ہے جسکی بناہ پہ مجھے آپکو قادیانی یا اسی طرح کے دوسروں گروہوں کی پیروی کرنےوالا نہیں کہنا چاہئیے۔
آخر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ اسی سچے مذہب پہ یقین رکھتے ہیں جو قرآن پیش کرتا ہے اور آج سے چودہ سو سال پہلے جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیش کیا تھا۔
کوئ ثبوت نہیں ہے؟
وہ جو چیخ چیخ کر اپنے آپکو مومن اور دوسرے کا فاسق کہہ رہے ہوتے ہیں دراصل ایسا وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لئے کہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ چیخ چیخ کر دوسروں کو دینی لحاظ سے بے کرادرا کہنے سے انکا پنا کردار اہمیت اختیار کرے گا۔ دراصل یہ بھی ایک ذہنی بیماری ہے۔

کاشف نصیر کہا...

عنیقہ اور عثمان
میرے امتحانات چل رہے ہیں جس کے بعد احادیث اور سیرت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنے والے اور عافیہ کو جسم فروش ماں سے گھٹیا قرار دینے والوں اور ملعونہ آسیہ کی غم میں مرنے والے روشن خیالوں کی انشاللہ کچھ نہ کچھ مرمے ضرور کروں گا۔ اونٹ کے پیشاب والی حدیث کے سایق و ثباق پر بھی انشاء اللہ روشنی ڈالوں گا۔ ویسے میرا آپکو مشورہ ہے کہ ایک مشکوک بلاگر جو ناجانے خاتون ہیں بھی نہیں اس بلاوجہ کے حساس ترین معاملے پر کود کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالیں۔ انتہائی سنجیدہ مشورہ ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تو خاموش ہوجائیں کہ قیامت کے دن دربار رسالت میں عزر کی کوئی صورت باقی رہ جائے۔

ویسے آپ نے سنا ہوگا کہ ایک خاتون تین مردوں کو جہنم میں لے جاسکتی ہے تو کیا ایک خاتون بلاگر تین چار مرد بلاگرز کو! اس لئے بچ کہ رہنا بابا

کاشف نصیر کہا...

عثمان
میرے امتحانات چل رہے ہیں جس کے بعد احادیث اور سیرت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنے والے اور عافیہ کو جسم فروش ماں سے گھٹیا قرار دینے والوں اور ملعونہ آسیہ کی غم میں مرنے والے روشن خیالوں کی انشاللہ کچھ نہ کچھ مرمے ضرور کروں گا۔ اونٹ کے پیشاب والی حدیث کے سایق و ثباق پر بھی انشاء اللہ روشنی ڈالوں گا۔ ویسے میرا آپکو مشورہ ہے کہ ایک مشکوک بلاگر جو ناجانے خاتون ہیں بھی نہیں اس بلاوجہ کے حساس ترین معاملے پر کود کر اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالیں۔ انتہائی سنجیدہ مشورہ ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تو خاموش ہوجائیں کہ قیامت کے دن دربار رسالت میں عزر کی کوئی صورت باقی رہ جائے۔

ویسے آپ نے سنا ہوگا کہ ایک خاتون تین مردوں کو جہنم میں لے جاسکتی ہے تو کیا ایک خاتون بلاگر تین چار مرد بلاگرز کو! اس لئے بچ کہ رہنا بابا

کاشف نصیر کہا...

یار عثمان
"رسول اللہ ﷺ کی تمام زندگی گواہ ہے۔ مکی دور سے لے کر فتح مکہ تک۔ ساری سیرت پر نظر ڈال لیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے لئے کبھی بدلہ نہیں لیا۔ نہ ان لوگوں پر جنھوں نے ان پر طائف میں پتھر پھینکے۔ نہ ان لوگوں سے جنہوں نے آپ کی راہ میں کانٹے بچھائے۔ نہ ان لوگوں سے جو بازاروں میں آپ پر فقرے کستے۔ نہ ان لوگوں سے جنھوں نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ تلوار جب بھی اٹھی تو صرف دین کی سربلندی کے لئے۔ قتل کا حکم جب بھی دیا تو صرف ان بدنصیبوں کے خلاف جو بڑے پیمانے پر فتنہ پھیلانے کے مرتکب ہوئے۔ ہر وہ شخص جو آپ کی خدمت میں معافی کا خواستگار ہوا اسے معاف کیا۔"
ویسے آپکو یہ باتیں کیسے پتہ چلیں، حدیث تو مشکوک ہیں نہ! تو پھر یہ باتیں؟ یار کسی چاہنے والے نہ گھڑ دی ہونگی ایسے ہی! جیسے کسی مذہب پرست نے باقی حدیث جو آپکو ناپسند ہیں وہ گڑھی۔ اووف یہ بخاری اور مسلم بھی نا
ویسے عثمان ایک مشورہ ہے قرآن اور حدیث کا اطاعت کی نیت سے ایک بار پھر مطالعہ کرو تو شاید مکی اور مدنی دور کا فرق بھی سمجھ آجائے اور یہ بھی کہ اسلام میں امنا و صدقہ کا اصول بھی نا کہ یہ کہ قرآن اور حدیث میں جو دل کرے اور جو برا لگے اسے جھوٹا کہ دو۔
ویسے اونٹ کا پیشاب والی حدیث کا ذکر ایک گمنام نے کیا اور ایک مشکوک خاتون بلاگر نے اس کو اپنے تفریح کا سامان سمجھ لیا۔ تم کیوں ان جیسے کو ساتھ اچھے خاصے بھلے آدمی ہو۔اور ہاں اگر ان خاتون کے پاس دو ایدیشن کھلے ہیں تو اس میں انہوں نے وہ حدیث کیوں نہ پڑھی جس میں رسول اللہ نے اس حکم پر دیگر مسلمانوں کو عمل کرنے سے روک دیا تھا۔

ویسے مکہ آکر جب ہاتھ کھولنے اور جہاد کرنے کا حکم ہوا تو رسول اللہ صلہ اللہ و علیہ وسلم نے متعہ یعنی قلیل مدتی شادی کا بھی حکم دیا تھا کو کیا تم متعہ کرنا پسند کرو گے؟ روشن خیالوں کے لئے یہ کافی پتہ کی حدیث ہے۔ بس ایک کام کرنا ہوگا شیعوں کی طرح متعہ کی حرمت والی حدیث کو جھوٹا کہ دو اور دبا کے کرو مزے۔ کیسا؟ ویسے ان خاتون بلاگر کو یہ حدیث بھی بتادینا ہوسکتا ہے مستبقل قریب میں انکے کام آجائے۔

عثمان کہا...

کاشف ،
کتب احادیث اور سیرت النبویٗ میں وہ باتیں جو بار بار متواتر اور ایک سے زائد جلیل القدر صحابہ سے روایات ہیں نیز ان میں کوئی خلاف عقل بات بھی نہیں تو ان کے یقین رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ ضروری ہے۔
لیکن اس کے برخلاف وہ احادیث جو ایک دو مقامات پر واقع ہوئیں۔ محض ایک یا دو غیر معروف صحابہ سے روایت ہیں نیز ان میں خلاف عقل کوئی بات موجود ہے (جیسا کہ زیر بحث حدیث) تو ان پر سو فیصد تیقن اور ایمان رکھنا صحیح نہیں۔ بلکہ دین میں غلو پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ یہ محض میرا خود ساختہ اصول نہیں بلکہ محدثین اور تاریخ دان خود اس اصول کی پیروی کرتے ہیں۔
جو واقعات میں نے گنوائے ہیں ان کے راوی محض ایک دو نہیں۔ بلکہ ہزاروں افراد ہیں۔ نیز وہ واقعات رسول اللہ کی شخصیت سے سو فیصد مناسب رکھتے ہیں۔ تو بس ان کے یقین کرنے میں کوئی شائبہ نہیں ہونا چاہیے۔
مکی اور مدنی دور میں صرف وہ احکامات جن کا حکم اللہ نے دیا صرف وہی تبدیل ہوئے ہیں۔ یہ نہیں کہ مکی دور میں رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کچھ اور تھی اور مدنی دور میں کچھ ہوگئی۔ رسول اللہﷺ کی شخصیت میں تضاد نہیں۔
یقینا رسول جس بات کا حکم دے وہ کرو۔ لیکن پہلے یہ ثابت ہونا چاہیے کہ یہ حکم اور حدیث رسول سے منسوب ہے۔

ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ کہ صرف قرآن اور صرف قرآن ہی ہے جو دین کا ماخذ ہے۔ اور جس کی آیات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہیں۔ لوگوں میں فہم و تشریح کا فرق ہوسکتا ہے لیکن صحت پر شبہ نہیں۔
جبکہ احادیث آیات قرآنی کے مماثل نہیں۔ یہ کہنا کہ بخاری اور مسلم کی احادیث اتنی ہی قابل اعتبار ہیں جتنا کہ آیات قرآنی ، بخاری اور مسلم کی کتب کو قرآن کے برابر لا کھڑا کرتا ہے جو ظاہر ہے کہ نا صرف دین میں پیدا کردہ غلو ہے بلکہ سخت قسم کی بدعت ہے۔
میرے نزدیک وہ لوگ جو احادیث کا صاف انکار کرتے ہیں اور وہ لوگ جو احادیث پر سو فیصد ایمان رکھ کر اسے دین کا ماخذ قرار دیتے ہیں ، دونوں برابر کی غلطی پر ہیں۔ بہتر ہے کہ میانہ روی اختیار کی جائے۔ اور احادیث پر اندھا اعتقاد نہ رکھا جائے۔ بلکہ عقل استعمال کرتے ہوئے اور زمان و مکان کے لحاظ سے جانچ لینا چاہیے کہ آیا بیان کی گئی حدیث قوی ہے اور قابل قبول ہے بھی کہ نہیں۔ مزید یہ بخاری اور مسلم میں اس قسم کی احادیث کا موجود ہونا ازخود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کتب پر سو فیصد ایمان رکھنا غلط ہے۔ باقی تدوین حدیث کی تاریخ سے بھی آپ واقف ہی ہوں گے کہ کس طرح یہ رسول کی وفات کے سینکڑوں سال بعد اور کن حالات میں لکھی گئیں۔
اب ان تمام حالات کی روشنی میں میں حیران ہوں کہ آخر تم کیوں ان کی صحت پر اتنے شدومد سے اصرار کرنا چاہتے ہو ؟ اندھا عتقاد کیوں میرے بھائی؟ اندھا اعتقاد کرنا ہے تو ہندومت ، سکھ ، عیسائیت ، کسی کی بھی پیروی ہوسکتی ہے؟ مذہب اور دین میں استدلال ہی تو بنیاد فرق ہے۔ کیا یہ سب سمجھنا اتنا ہی مشکل ہے ؟

عنیقہ ناز کہا...

کاشف نصیر صاحب، مشکوک آپ تو ہو سکتے ہیں مگر میں نہیں۔ کوئ آپکو نہیں جانتا مجھے بہ نفس نفیس کچھ لوگ تو جانتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ آپ لوگ کس طرح دروغ گوئ اور جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور پھر ہر جگہ یہ بیان کرتے پھرتے ہیں کہ ہم دیتے ہیں دلیل سے جواب۔
جو چیز صحیح بخاری شریف میں موجود ہے اسکا بیان ایک گمنام لکھاری اور عنیقہ ناز اس لئے دیتے ہیں کہ دونوں نے اسے پڑھا ہے۔ آپ درجنوں لوگ ایک بات کو دوہراتے رہتے ہیں میں تو نہیں کہتی کہ جاوید گوندل، کاشف نصیر، وقار اعظم، ابو سعد، افتخار اجمل اور دیگر ہم خیال لوگ دراصل مشکوک لوگ ہیں۔
بڑے ہو جائیں، یا آپ نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ آُ بڑے نہیں ہونگے اور اسی طرح اپنے آپکو مذاق اڑانے والوں کے لئے کام مال مہیا کرنے کا ذریعہ بنائیں رکھیں گے۔
آپ نے میرا اور گمنام کا تبصرہ غور سے نہیں پڑھا۔ گمنام نے شاید کہیں سے سنی ہوئ بات لکھی ہے۔ اس لئے انہوں نے پوری حدیث کا حوالہ نہیں دیا۔ میں نے آپکو پورے واقعے کی تفصیل دینے کی کوشش کی ہے اور اگر آپکے دل کی تسلی کے لئے صحیح بخاری سے پوری حدیث بھی لکھ سکتی ہوں میرے پاس موجود ہے۔ لیکن کاہلی کی وجہ سے نہیں لکھ رہی۔
مگر آپ بنیادی تجزئیے کی خصوصیت سے ایکدم محروم ہیں۔
آپکے ہی ایک اور ساتھی بھی اسی طرح بنیادی تجزئیے سے ایک دم محروم ہیں۔ وقار اعظم صاحب لکھتے ہیں کہ پنجاب میں یہ واقعات دو سو سلہ ہوئے ہیں اور کراچی میں یہ ایک واقعہ پچھلے باسٹھ سالوں میں پیش آیا۔ وجہ لکھتے ہیں کہ پنجاب پاکستان کی آبادی کا ساٹھ فی صدہے۔
اگر آپ تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو پنجاب اور کراچی کی آبادی کا تجزیہ کریں۔ پنجاب کی آبادی اس وقت ساڑھے آٹھ کروڑ کے قریب ہے۔ کراچی کی آبادی اس وقت پونے دو کروڑ کے قریب ہے۔
اب دونوں کی آبادی کی نسبت نکالیں۔ یہ بنتی ہے تقریباً ایک اور چار کی۔
یعنی اگر یہ واقعات پنجاب میں دو سو سولہ ہیں تو کراچی میں یہ کم از کم چون ہونی چاہئیے۔
یہ تو بالکل سیدھا سا حساب ہے لیکن آپ سب لوگ تو کسی عالم حق کی تحاریر سے نکال کر بیانات دیتے رہتے ہیں مگر کبھی اپنی عقل استعمال کر کے اتنے معمولی تجزئیے نہیں کر سکتے۔
آپ کو ایسا ہی کرنا چاہئیے کہ عقل پرستی تو گناہ ہے اور یقیناً کسی نہ کسی حدیث میں عالم حق کے علاوہ کسی کا اپنی عقل کو زحمت دینا کفر کے برابر ہوگا۔
کیا اب بھی مجھے آپکا مذاق نہیں اڑانا چاہئیے۔ ایک معمولی صلاحیت رکھنے والا شخص بھی اسکا مذاق اڑا سکتا ہے۔ اس میں رکھا ہی کیا ہے۔
امید تو نہیں دعا کر سکتی ہوں کہ آپ اپنے حصے کی عقل کو دنیا سے بغیر استعمال کے نہ لے جائیں۔

وقار اعظم کہا...

محترمہ انیقہ ناز: میرے تبصروں کو دوبارہ پڑھیے۔ میں نے کہاں کہا ہے کہ کراچی میں صرف ایک ہی واقعہ ہوا ہے۔

اور بھائی لوگ، یہ اونٹ والی حدیث کا غم کھائے جارہا ہے۔ ہیں جی۔ ویسے جی اس کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ کبھی واقعی بخاری کو کھول کر نہیں دیکھا ہے کیوں کہ اس حدیث کا تعلق توہین رسالت سے نہیں بلکہ قصاص سے ہے۔ اور عثمان بھیا، آپ کہتے ہیں کہ غیر معروف صحابی۔ او یار حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ غیر معروف صحابی ہیں؟ میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ احادیث حضرت انس سے روایت ہے۔

آنکھوں کے علاج کے سلسلے میں دسیوں احادیث موجود ہیں اگر اس کے باوجود کسی کا دل چاہے تو ضرور پیشاب والی حدیث پر عمل کرے۔ آخر کو بغرض علاج الکوحل کی کچھ مقدار بھی تو جائز ہے۔

اور ویسے مکھیوں کا گند بھی تو میٹھا ہوتا ہے۔ جسے یار لوگ شہد کے نام سے چٹ کرجاتے ہیں۔ اسے بھی عقل پر پرکھ لو۔۔۔۔۔
LoLzzz

عثمان کہا...

وقار میری جان ،
ایک اور صحابی حضرت ابو ہریرہ سے ہزاروں احادیث روایت ہیں۔ جانتے ہو وہ صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کتنے سال رہے ؟ صرف ڈیڑھ یا دو سال۔ وہ بھی خیبر کے بعد۔ اور ایسی ایسی "احادیث" ان سے روایت ہیں کہ جو برگزیدہ صحابہ جو مکی دور سے آپ کے ساتھی تھے ان سے بھی منقول نہیں۔ امید ہے میرے دوست کو معروف اور غیر معروف کا کسی حد تک اندازہ ہوگیا ہوگا۔ لیکن پرنالہ آپ کا وہیں گرے گا۔
میں حیران ہوں آپ شہد کی مکھیوں تک پہنچ گئے لیکن انسانی جسم میں موجود خوردبینی جانداروں کی موجودگی بطور "دلیل" اپنے مقدمے کے حق میں کیوں نہیں پیش کی ؟ حدیث کا غم مجھے نہیں بلکہ آپ کو کھائے جا رہا ہے میں تو مذہب پرستوں کے مذہب کے نئے ماخذات سے بچ رہتا ہوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ قرآن اور عقلی استدلال ہی کافی ہے۔
کیوں اس فضول بحث میں پڑ کر خود کو شرمندہ کرتے ہو میرے بھائی۔ میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اندھی تقلید کرنی ہے تو مسلمان ہونے پر فخر کیوں ؟؟

khokhar976 کہا...

بار بار اس گفتگو میں قادیانیوں کا ذکر آرہا ہے اور کم خلق افراد تو ڈھٹائی سے جھوٹ سچ ملا کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔
جماعت احمدیہ، حضرت مسیح موعود (ع) کی تعلیمات کے مطابق کسی دینی
معاملہ کے جبر پر یقین نہیں رکھتی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو قاضی ٹھہرایا ہے۔ احادیث کو قرانی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔ اگر کوئی حدیث قرآن سے متصادم ہو تو اس حدیث کی تاویل کرکے اسے قرآن سے مطابق سمجھیں ورنہ چھوڑ دیں۔
بعض متشابہ احادیث کی تاویل بھی قرآن کی روشنی میں کریں۔
طلوع اسلام والے طبقہ میں اور عبداللہ چکڑالوی کے پیروکاروں میں احادیث کے بارہ میں سختی پائی جاتی ہے جو گستاخی کی بات ہے۔ کئی اعتراض ان کے تو عقلی دلائل سے ہی دور کئے جا سکتے ہیں۔
اہل حدیث طبقہ صحابہ کے واقعات کو بھی حدیث کہتا ہے۔ حالانکہ وہ تاریخی واقعات ہیں، رسول اللہ (ص) کے فرمودات نہیں۔ اور تاریخ میں ابہام اور اختلاف رائے تو مسلم بات ہے۔
سنت نبوی کو حدیث پر فوقیت ہوگی کیونکہ یہ نسل در نسل عملی طور پر منتقل ہو کر ہم تک پہنچی ہے اور زیادہ قابل اعتبار ہے۔
احادیث کے طرز بیان، الفاظ کی صحت، فصاحت اور بلاغت بھی ان کی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ رسول اللہ (ص) کا کلام سب سے فصیح ہے۔
جن واقعات کو بنیاد بنا کر مولوی حضرات موت کی سزا کی بات کرتے ہیں ان سب پر کلام ہو سکتا ہے۔ کئی احادیث تو جنگی جرائم اور قتل عمد کی ہیں۔ اور کچھ ان میں مرفوع اور مجروح روایات ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر قانون بنانا حد درجہ کا ظلم ہے۔
ان سے کوئی پوچھے کہ آپ کا اسلام کیسا موقع پرست دین ہے کہ طاقت آئی تو سب سزائیں سخت ہو گئیں اور انہیں جرائم کو گویا حالت محکومی میں نظرانداز کر دیا گیا۔ اسلام کو کیسا سستا بنا کر بیچتے ہیں یہ ملا۔ اللہ کی پناہ!

khokhar976 کہا...

بار بار اس گفتگو میں قادیانیوں کا ذکر آرہا ہے اور کم خلق افراد تو ڈھٹائی سے جھوٹ سچ ملا کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں۔
جماعت احمدیہ، حضرت مسیح موعود (ع) کی تعلیمات کے مطابق کسی دینی
معاملہ کے جبر پر یقین نہیں رکھتی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو قاضی ٹھہرایا ہے۔ احادیث کو قرانی تعلیمات کی روشنی میں پرکھنا چاہیے۔ اگر کوئی حدیث قرآن سے متصادم ہو تو اس حدیث کی تاویل کرکے اسے قرآن سے مطابق سمجھیں ورنہ چھوڑ دیں۔
بعض متشابہ احادیث کی تاویل بھی قرآن کی روشنی میں کریں۔
طلوع اسلام والے طبقہ میں اور عبداللہ چکڑالوی کے پیروکاروں میں احادیث کے بارہ میں سختی پائی جاتی ہے جو گستاخی کی بات ہے۔ کئی اعتراض ان کے تو عقلی دلائل سے ہی دور کئے جا سکتے ہیں۔
اہل حدیث طبقہ صحابہ کے واقعات کو بھی حدیث کہتا ہے۔ حالانکہ وہ تاریخی واقعات ہیں، رسول اللہ (ص) کے فرمودات نہیں۔ اور تاریخ میں ابہام اور اختلاف رائے تو مسلم بات ہے۔
سنت نبوی کو حدیث پر فوقیت ہوگی کیونکہ یہ نسل در نسل عملی طور پر منتقل ہو کر ہم تک پہنچی ہے اور زیادہ قابل اعتبار ہے۔
احادیث کے طرز بیان، الفاظ کی صحت، فصاحت اور بلاغت بھی ان کی سچائی کی گواہی دیتے ہیں۔ رسول اللہ (ص) کا کلام سب سے فصیح ہے۔
جن واقعات کو بنیاد بنا کر مولوی حضرات موت کی سزا کی بات کرتے ہیں ان سب پر کلام ہو سکتا ہے۔ کئی احادیث تو جنگی جرائم اور قتل عمد کی ہیں۔ اور کچھ ان میں مرفوع اور مجروح روایات ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر قانون بنانا حد درجہ کا ظلم ہے۔
ان سے کوئی پوچھے کہ آپ کا اسلام کیسا موقع پرست دین ہے کہ طاقت آئی تو سب سزائیں سخت ہو گئیں اور انہیں جرائم کو گویا حالت محکومی میں نظرانداز کر دیا گیا۔ اسلام کو کیسا سستا بنا کر بیچتے ہیں یہ ملا۔ اللہ کی پناہ!

وقار اعظم کہا...

بھیا عثمان بات دراصل یہ ہے کہ جو حدیث وجہ بدہضمی تھی آپ حضرات کے لیے میں نے اس کے متعلق عرض کیا کہ وہ حضرت انس رضی اللہ سے روایت ہے۔ مجھے اس کا پورا ادراک ہے کہ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ منکرین حدیث کے اعتراض کا سب سے بڑا حدف ہیں کیونکہ آپ نے جس ذوق و شوق، محنت و جستجو اور ایثار استقامت کے ساتھ ارشادات نبوی کو محفوظ کیا اور اگلی نسلوں تک پہنچایا و بذات خود علم و فضل کے متلاشیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی خدمات کا مختصر ذکر کرتا ہوں کہ:

1- اصحاب صفہ میں سے شامل ہیں۔
2- عمرة القضاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔
3- غزوہ وادی القر‏ی محرم 7 ہجری میں ‏آپ نے حضور کے ساتھ شرکت فرمائی۔
4- حجة الوداع میں حضور صلی اللہ کے ساتھ ‏آپ نے بھی حج ادا فرمایا۔
5- غزوہ ذات الرقاع میں حضور کے ساتھ شامل رہے۔
6- فتح مکہ میں شامل رہے۔
7- غزوہ حنین میں شامل رہے۔
8- غزوہ تبوک میں شامل رہے۔
راویات سے حضرت ابو ہریرہ کا بعض سرایا میں بھی شرکت کاپتہ ‌چلتا ہے۔ 9-
10- عہد صدیقی میں فتنہ ارتداد کو ختم کرنے میں پیش پیش رہے۔
11- عہد فاروقی میں یرموک کے جہاد میں ‏آذربائیجان اور ‏آرمینیہ کے جہاد میں شرکت کی۔
12- حضرت عمر نے قدامہ بن مظعون کی معزولی کے بعد حضرت ابو ہریرہ کو بحرین کا عامل مقرر کیا۔
13- عہد عثمانی میں بھی ‏آذر بائیجان اور ‏آرمینیہ کے جہاد میں شامل رہے۔
14- عہد عثمانی میں جب باغیوں نے ان کا محاصرہ کیا تو حضرت ابو ہریرہ حضرت عثمان کی حمایت اور نصرت میں پیش پیش رہے۔
15- عہد مرتضی میں مسلمانوں میں پیش ‏آنے والی جنگیں جمل اور صفین سے بالکل کنارہ کش رہے۔
16- ‏آپ نے 5374 احادیث حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نقل کی ہیں۔
17- صحاح ستہ اور موطا امام مالک میں مجموعی طور پر 2218 احادیث ‏آپ کی روایت کردہ ملتی ہیں۔
18- صحیح بخاری و مسلم میں ‏آپ کی روایت کردہ 609 احادیث ملتی ہیں۔

مندرجہ بالا خصوصیات کا ذکر میں نے اس لیے کیا ہے کہ حضور والا کہتے ہیں کہ ڈیڑھ سال جبکہ غزوہ وادی القر‏ی محرم 7 ہجری میں ہوا اور حجۃ الوداع 10 ہجری میں باقی میرا خیال ہے کہ روشن خیال حساب کتاب میں ماہر ہوتے ہیں۔ فتنہ پرویزیت کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد بندہ ایسے ہی بونگیاں مارتا ہے۔

اور اس سے پہلے تو پیشاب پیشاب کی رٹ لگائے ہوئے تھے ابھی جب آپ ہی کے اندز سے گفتگو کی توکہتے ہیں کہ حدیث کا غم مجھے نہیں ہے۔ ذرا ایک نظر اوپر بھی ڈال لیں تو لگ پتا جائے گا۔ اور جنہیں شرمندگی ہونی چاہیے انہیں تو ہے نہیں اور ہم شرمندہ اچھا لطیفہ ہے۔ ادھر دو چیزیں مشترک ہیں، اونٹ کا پیشاب اور شہد کی مکھی کا گند تو انسانی جسم میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ خیر سے نام نہاد عقل پرستوں کی جانب سے اسے عقلیت کی بنیاد پر پررکھنے کا منتظر ہوں۔

عثمان کہا...

یا الہی کن لوگوں سے واسطہ پڑ گیا ہے۔ تبصرے پڑھ پڑھ کر ششدر ہوں۔ شرمندگی ہوتی کہ کس بحث میں شریک ہوں۔ اور آیا شریک بحث واقعی ایک عاقل و بالغ انسان ہے۔
یہ ٹھکا ٹھک اٹھارہ پوائنٹ لگا کر آپ نے کیا ثابت کیا ہے؟ انیسواں پوائنٹ تو آپ بھول گئے کہ رسول کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ بیسواں پوائنٹ کہ رسول کے ہمراہ چہل قدمی کرتے رہے۔ استدلال کا یہ "معیار" ہو تو اچھے بھلے بندے کا ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔
ارے بھئی میں تو دہی بھی کھاتا ہوں جو دودھ میں ملے کچھ بیکٹیریاز کا کارنامہ ہے۔ اس کے لئے مجھے کسی حدیث کی بھی ضرورت نہیں۔ اب ان دلائل سے آپ اپنی اندھی تقلید پرستی ثابت کرتے رہیں۔ میں شکست ہی تسلیم کرتا ہوں۔ صرف اونٹ ہی نہیں گائے کا پیشاپ بھی غٹا غٹ پی لیجئے۔ اور اپنا بول براز بھی تو ہے منہ میں ڈالنے کے لئے۔ ارے بھئی جب مکھی کا ڈال رہے ہیں تو اپنا ڈالنے میں کیا حرج ہے؟
یا اللہ یہ دن بھی دیکھنا تھا جب مذہب پرست اونٹ کا پیشاپ حلال کرائیں گے۔ اور اس کے لئے کیا کیا "دلائل"۔ اللہ تیری شان۔
آپ آہستہ آہستہ اپنی لائن پر آ رہے ہیں۔ اب جلدی اگلے تبصرے میں مجھے گالیاں نکالیے اور اپنی فتح کا علان کیجئے۔ آپ لوگوں سے یہ بحث کرکے میری عقل مجھ سے شرمندہ ہے۔

وقار اعظم کہا...

حضور کیا بات ہے آپ کی یہ پوائنٹ تو جی ڈیڑھ سال والی چول کے لیے ہے یعنی منکرین حدیث کے جھوٹ کو آشکار کرنے کے لیے۔

پیشاب پر اصرار آپ کررہے تھے حضور ورنہ آنکھ کے علاج کے لیے اور بھی بہت ساری احادیث ہیں۔ اب سوال کے جواب میں ایک سوال ہوا تو حضور برا مان گئے اور فریق مخالف کو پیشاب پینے کی دعوت دینے لگے۔ میرا تو بس ایک سوال تھا کہ مکھیوں کے گند کے بارے میں حضور جیسے عقل پرستوں کی عقل کیا کہتی ہے؟

علامہ کاشف نصیر کہا...

http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/12/101208_wikileaks_saudi_party_hackers_zz.shtml

علامہ کاشف نصیر کہا...

http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/12/101208_wikileaks_saudi_party_hackers_zz.shtml

علامہ کاشف نصیر کہا...

وکی لیکس میں افشاء ہونے والی امریکی سفارتی دستاویزات میں سعودی عرب میں امریکی قونصل جنرل مارٹن آر کوین کی وہ خط و کتابت بھی شامل ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف تو جدہ کی سڑکوں پر کٹر وہابیت نظر آتی ہے لیکن پس پردہ امراء کے نوجوانوں کی زیر زمین شاہانہ زندگی بھی تیزی سے پھل پھول رہی ہے۔

قونصل جنرل مارٹن آر کوین کے مطابق جدہ میں ایک زیر زمین ہیلووین پارٹی میں جو ایک شہزادے کی رہائش گاہ پر ہوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ نوجوان سعودی عورتیں اور مرد موجود تھے۔ اس ہیلووین پارٹی میں امریکی قونصل خانے کے اہلکاروں نے بھی شرکت کی۔

رہائش گاہ کے اندر داخل ہونے سے پہلے شہزادے کے سکیورٹی گارڈز کی چیک پوسٹ سے گزرنے کے بعد جو منظر سامنے آیا وہ سعودی عرب سے باہر کسی بھی نائٹ کلب جیسا تھا۔ نوجوان جوڑے ناچ رہے تھے، میوزک چلانے والا ڈی جے اور ہر کوئی مخصوص لباس میں تھا۔

علامہ کاشف نصیر کہا...

اس پارٹی کے لیے رقم کا انتظام مشروبات بنانے والی ایک امریکی کمپنی اور خود میزبان شہزادے نے کیا تھا۔

امر بالمعروف نہی عن المنکر نامی مذہبی پولیس کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی جب کہ اس پارٹی میں داخلہ سختی سے نافذ العمل مہمانوں کی لسٹ کے لحاظ سے تھا۔
ایک نوجوان سعودی تاجر کے مطابق اس طرح کی تقریبات ہمیشہ شہزادوں کے گھروں میں یا ان کی موجودگی میں ہوتی ہیں جس کی وجہ سےمذہبی پولیس کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا۔

سعودی سلطنت میں اس وقت دس ہزار سے زائد شہزادے ہیں۔

سعودی قانون اور روایات کے مطابق شراب پر سختی سے پابندی ہے لیکن اس تقریب میں شراب وافر مقدار میں موجود تھی جسے تقریب کے لیے بنائے گئے بار سے مہمانوں کو دیا جا رہا تھا۔

امریکی قونصل جنرل لکھتے ہیں کہ اگرچہ اس تقریب میں اس بات کا براہ راست مشاہدہ نہیں کیا گیا لیکن کوکین اور حشیش کا استعمال ان سماجی تقریبات میں عام ہے اور دوسرے موقعوں پر دیکھا گیا ہے۔