بدھ، 17 فروری، 2010

پاک جمہوریت

جمہوریت کو انگریزی میں کہتے هیں
لوکاں کی حکومت لوکاں کے ذریعے لوکاں پر
لیکن جی اس کا پاک ستان ترجمعه ہے
کرسی نشینوں (چئرمین) کی حکومت چمچوں (پارٹی ورکر) کے ذریعے لوکاں پر ـ
پاک ستان کو جب عربی لوگ لکھتے یا کہتے هیں تو باک ستان بن جاتا ہے
اور جاپان زبان ميں کم عقل کو باکا کہتے هیں
اس لیے جب کسی عربی کی زبان سے باکستان سنتے هیں تو لگتا هے که کمعقلوں کے رہنے کی جگه کہـ رها هے
اور مزے کی بات هے که هماری چیزوں کی ڈیفینیشن نے هم لوگوں کو کم عقل هی بنا کے رکھ دیا هے
استعمار کو هم لوگ جمہوریت کهتے هیں ـ
سلیکشن کو هم لوگ الیکشن کہتے هیں ـ
میٹھے کو مزھ کہتے هیں
گورے کو سوھنا کہتے هیں
چالاک کو سیانا کہتے هیں
پاکستان کی سیاست اب کچھ لوگ باہر کے ممالک میں متعارف کروانے کی کوشش کررهے هیں
یه لوگ کون هیں ؟
یه وھ لگ هیں جو یا تو کسی کو ماتحت بنا کر رکھتے هیں یا کسی کے ماتحت رھ کر هی مطعمن هوتے هیں
ان لوگوں کو برابری کی بنیاد پر دوستیوں تعلقات کا علم هی نہیں هے ـ
باہر کے ممالک ميں هم لوگ کیوں هیں ؟
اس لیے که پاکستان کے پاکستان کے سیاسی ، معاشی ، اور معاشرتی حالات میں هم لوگ مس فٹ تھے ـ
پاک معاشرے نے همیں رد کردیا که هم نے اس معاشرے کو چھوڑ کر رد کردیا اس میں اختلاف پایا جاسکتاہے لیکن یه حقیقت ہے که باہر رهنے والے لوگ جن میں میں بھی شامل هوں ، پاکستان کو رہنے کے قابل نهیں سمجھتے ـ
اگر کسی کو میرے اس لکھے پر سیاست چمکانے کی کوشش کرنی ہے تو میرے ساتھ بحث کرنے سے پہلے جاپان کا ویزھ چھوڑ کر دے اور بات کرئے ـ
باہر کا ویزھ لینے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے ؟؟
اس کا مطلب کیا هے ؟
پاکستان چھوڑنے کے لیے کتنی کوشش کی !!ـ
تکنیکی طور پر باصلاحیت لوگوں سے معذرت کے ساتھ جن کو کچھ ممالک نے خود بلا لیا هو گاـ
یورپ امریکه اور جاپان میں سیاسی پارٹیاں اور ان کے ورکر ان ممالک کے حالات پر کیا اثر کرسکتے هیں ؟؟
نشستن ، گفتن ، خوردن، برخاستم
اایک چھوٹی سی بات ہے جس کا که هر بندے کو علم هونا چاھیے که اگر جاپانی حکومت هم پناھ گزینوں سے کوئی بات کرنی چاھے گی تو وھ کسی بھی سایسی پلیٹ فارم پر بات نهں کرئے گی بلکه یہاں موجود لوگوں کی کسی تنظیم یا لیڈر سے بات کرنا پسند کرئے گی
لیکن پارٹیاں بن رهی هیں اور مزے کی بات یه هے که ان پارٹیوں ميں اس بات کا مقابله ہے که ان ميں سے کسی بندے کے پاکستان میں سایسی پارٹی کے لیڈر سے کتنے تعلقات هیں
اور پاکستان والا لیڈر کیا ہے اور اس کے جمہوریت سے کتنے تعلقات هیں ؟
تاحیات چئیر پرسن!!!ـ
ختم شد
یہان تک لکھ کر ذہن بدل گیا که که بات کچھ بور سی هو گئی هے

4 تبصرے:

راشد کامران کہا...

درست کہہ رہے ہیں جناب کوئی بوریت نہیں۔۔ یہ تاحیات چیر پرسن کا چکر ہی غضب ہے کہ جمہوریت کیے غم میں گھلنے والے کبھی جمہوریت لانا ہی نہیں چاہتے اور ہمارے بھولے عوام پوچھتے ہیں جمہوریت سے ہمیں ملا کیا ۔۔ کوءی پوچھے جمہوریت آءی کہاں؟

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ستاراں آنے کھری گل کيتی جے ۔ پر کی کريئے لوکی سانوں کدی جاہل ملا تے کدی انتہاء پسند آکھدے نيں

asma paris کہا...

چچاجان مجھے آپکا ايميل معلوم نہيں اسليے يہاں لکھ رہی ہوں خرم ابن شبير کے بلاگ پر تشريف لے جائيں اور ووٹ دينے پر اکتفا نہ کريں بلکہ لنک کاپی پيسٹ کر کے اچھا سا مضمون بنا کر جاپان ميں موجود اس تمام پاکستانی کميونٹی کے ووٹ ميری بچيوں کو ڈلوائيں جن کا آپ ہر وقت ذکر کرتے ہيں کہ انہيں سياست ميں يا خبروں ميں رہنے کا بڑا شوق ہے بشمول موٹا پداں والا کے ، بلکہ جتنے بھی فورم آپ جانتے ہيں پاکستانی يا جاپانی وغيرہ سب سے پرسنلی آپ ووٹنگ کے ليے کہيں اور جاپانی بھابی سے بھی کہيں بہت سارے ووٹ ہميں جمع کر کے ديں چچا جان آج آپ نے پچھلے سارے تعلقات برقرار رکھے ہوتے تو نو سو ووٹ تو پکے تھے اور وہ بھی دنيا کے تمام ممالک سے

میمن کہا...

پاک جمہوریت میں سب سے مظلوم طبقہ خود جمہور ہے ۔ کچھ اس لئے کہ اسے دبایا جاتا ہے ، اور کچھ اس کئے کہ یہ حقوق یا برابری کی بات کرنے کی بجائے اپنا مطلب نکالنے میں کوش ہے ۔
پاکستان کے تاحیات پارٹی لیڈروں کی تو بات چھوڑیں ، جاپان کی چھوٹی چھوٹی تنظیموں کے معمولی عہدیدار بھی مخالفانہ رائے برداشت نہیں کر سکتے ۔ تو پھر جمہوریت کہاں سے آئے گی ؟؟؟