منگل، 2 فروری، 2010

زبان یار من

یه شعر که مجھے بھی اس کا دوسرا مصرع معلوم نهیں تھا کهه ایک کالم میں پڑھا تو اس کی دو منعی پر پنجابی کے دومنعی سے مماثلت نظر آئی
اگر اپ کو فارسی نهیں اتی تو رہنے دیں اس کا ترجمعه ناں هی کروائیں
زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
چه خوش بودے اگر بودے زبانش در دہن من
باقی جی بات هو کسی ملک کی که جو تکنیکی طور پر پاک ملک جیسا هو تو بات نهں هے لیکن جاپان میں
ایک سائیٹ بنائی تھی ایک جاپانی دوست کے لیے
http://www.kuwagatasite.com/
میں نے اس دوست کو سائیٹ پر مسلسل کام سے معذرت کی تھی ، که یه دوست کیڑے بیچنا چاھتا ہے سائٹ پر یه جو تصویر ہے اس کو کابوت موشی کہتے هیں جاپانی میں اور اس سے لڑکے بھالے کھیلتے هیں گرمیوں میں یه مہنگے بکتے هیں شہری لوگوں میں ، اس لیے دیہات سے پکڑ کر ان کو سائیٹ بر بیچنے کا آئیڈیا اس دوست کا تھا جس کا نام ہے سگی موتو
اس کی بیوی نےایک دن فون پر سائیٹ پر تصویریں لگانے کےلیے مجھے طریقه پوچھا
میں نے اسکو لوگ ان هونے کا طریقه بتانے کے لیے کہا که ہسٹری بار میں دومین لکھو
اس کا سوال تھا ہسٹری بار کیا هے ؟
میں نے بتایا که جہاں ڈبلیو ڈبلیو لکھاهوتا ہے اس نے کہا که وھ تو نهیں ہے
میں نے کو فائیل سے یو آر ایل ڈالنے کا بتایا
جب میں نے اس کو کہا کوواگاتا سائیٹ ڈاٹ کوم تو اس کا سوال تھا
ڈاٹ کو سپیلنگ ڈی او ٹی هی هیں ناں ؟؟
ایک اور جاپانی ہے ان دنوں ٹی وی پر کلاسک جاپانی گانوں ميں سیکھ رها ہے
اس کی ایک کوالٹی ہے که وھ جاپانی زبان کا وھ ایڈیشن بولتا ہے جو اردو میں لکھنو کے پرانے نوابوں کا هوتا تھا
اس کی جاپانی سن کر سننے والے کو ہنسی ضبط کرنا مشکل هوجاتا ہے
که ایسی پاکیزھ زبان تو اب شہنشاھ کی فیملی هی بولتی ہے یا شاھی خاندان کے نوکر که شاھ کو مخاطب کرنے کے بھی تو آداب هوتے هیں ناں جی
یه لڑکااس سال بیس سال کا هوا ہے
بیس سال کا هونے پر جاپان میں جنوری کے دوسرے سوموار کو ایک دن منایا جاتا ہے جس دن سارے بیس سال کی عمر کو پہنچے جوان لڑکے اور لڑکیاں آپنے آپنے شہر یا گاؤں اکٹھے هوتے هیں
اس دن اس سنگر لڑکے نے گول گول گیندوں کے ڈیزائین والا کی مونو (جاپانی روایتی لباس) پہنا هوا تھا
جو که معمول سے ھٹا هوا سا ڈزائین ہے
جس پر اس سے میڈیا والوں نےپوچھا که اس کے هم عمروں نے اس لباس پر کوئی بات تو نهیں کی هے؟؟
تو اس نے بتایا که سب لوگ کہ ـ رهے تھے
ڈاٹ ڈاٹ
فیر ڈاٹ
آگے وی ڈاٹ هی ڈاٹ
کمپئیر کو ہنسی ضبط کرنا مشکل هو رها تھا که اس لڑکے نے سوال جڑ دیا
یه ڈاٹ ہے کیا چیز؟؟
یه باتیں هیں جی ان لوگوں کی جو جاپان کے براٹ اپ هیں
تو جی پاک دیهاتیوں کا کیا هو گا
وهاں امریکه میں کافی میں میٹھا گولنے کے لیے سٹرا کی ایک قسم ہے جس کو لمبائی میں درمیان سے دبا دیا گیا ہے که سٹرا سخت هوجائے
اس سٹرا کو پانی میں ڈال کر اگر بندھ کوشش کرے تو بھی کافی زور لگا کرهی کوئی قطرھ کھینچا جاسکتا ہے
ایک دن زلفی نے بتایاکه جب وھ نیا نیا امریکه آیا تھا تو اس نے کوشش کی تھی کی اس سٹرا کے ساتھ کافی پینے کی لیکن بعد میں کسی نے بتایاکه یه کافی پینے کےلیے نهیں هے
چینی گھولنے کے لیے هے
بھر زلفی پوچھنے لگا که تم نے بھی تو یه چیز امریکه آکر هی دیکھی ہے تم نے یه غلطی کیوں نہیں کی ؟
میں نے کها که مجھے سٹرا سے کافی پینے سے زبان کے جلنے کا خطرھ تھا اس لیے ميں اپنی دانست میں اس سٹرا کو استعمال ناں کرکے پینڈو سا فیل کررها تھا
لیکن یار جی ایک جاپانی نے لاس اینلس ائیر پورٹ پر مجھے یه بتا کرحیران کردیا که امریکه کا کافی پینے کا سٹرا استعمال میں بڑا مشکل ہے کافی کھینچی هی نهیں جاتی
بندھ پوچھے که جاپان میں تم نے کبھی کافی کو سٹرا سے پیا ہے
حاصل مطالعه
ساری دنیا امریکه کو سیانا سمجھتی ہے
فارسی کے شعر کا دوسرا مصرع
ہر خواهش په دم نکلے
تاڈا کی خیال اے ؟؟

7 تبصرے:

محمد وارث کہا...

امیر خسرو کا شعر ہے یہ اور دوسرا مصرع ہے

چہ خوش بُودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

لطف آتا ہے اسطرح کا شعر پڑھ کر
:)

افتخار اجمل بھوپال کہا...

پھلا شعر ہے

زبانِ یار تُرکی اَست و مَن تُرکی نمی دانم

دوسرا مجھ سے پہلے ہی بتا دیا گیا ہے

asma paris کہا...

ميں بھی فرانس ميں شروع ميں لوگوں کو پاگل سمجھتی تھی چلتے چلتے خود سے باتيں کرتے ہنستے جا رہے ہوتے ہيں بعد ميں پتہ چلا وہ خود سے نہيں کسی سے باتيں کر رہے ہوتے ہيں کان ميں لگا آلہ ٹوپی کی وجہ سے نظر نہيں آ رہا

خرم کہا...

پینڈو کہیں کے بھی ہوں پینڈو ہی ہوتے ہیں۔ سُنا ہے کہ امریکی پینڈو جب نیویارک آتے ہیں تو بسوں میں کھڑے ہو کر اونچی عمارتوں کو دیکھتے ہیں اور سر دُھنتے ہیں۔

راشد کامران کہا...

کیا اچھا لکھا ہے۔۔ بہت خوب۔
جناب بات تو یہ ہے کہ ڈھالنے اور ڈھلنے کی اہلیت کتنی ہے کئی امریکی بھی پہلی دفعہ نہاری اور نان کی پلیٹ کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو ہانا چاہیے لیکن آہستہ آہستہ سب سیکھ جاتے ہیں۔۔ کوئی نا بتائے تو بھی انسان بڑی شے ہے سب سیکھ جاتا ہے۔۔ بات یہ ہے کہ یار من کی بات پر دھیان کتنا دیا جاتا ہے ترکی تو آہی جاتی ہے۔

میمن کہا...

اس بار کا آپ کا بلاگ تو کسی سیاست دان کی تقریر جیسا ہے ۔ لفاظی بہت زیادہ ، لیکن حاصل مطالعہ کچھ نہیں ۔ گویا نل بٹا نل ۔

سیلانی کہا...

گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ جاپان میں بیس سال کی عمر کا دن ۲۱ فروری کو نہی بلکہ ۱۵ جنوری کو منایا جاتا ہے۔