ہفتہ، 31 جنوری، 2009

ادھر ُادھر سے

باتیں تو کئی تھیں چھوٹی چھوٹی لکھنے کو
ایک تو یه که جاپانی حکومت کے پاس جو رقم ایکسٹرا پڑی تھی اس کاحل اخر کار سب لوگوں کو بارھ بارھ هزارین سکه رائج الوقت بانٹا جائے گا
میرا تبصرھ
انتہائی احمقانه فیصله!!ـ
یه جاپان میں ایک مزدور کی ایک دیہاڑی کی کمائی هے
اور کسی کو لیے بھی اتنی اهمیت نهيں رکھتی که لوگ اس رقم کو اهم سمجھیں
بہرحال جی سیانی قوم هے
هو سکتا ہے که اچھا هی فیصله ثابت هو ـ
سکول کے ایک لڑکے نے اپنے استاد کے رویے سے تنگ آ کر خود کشی کرلی هے
لو جی اب اس استاد کا تو جینا دو بھر هو گیا
کسی بھی دن اس کی خود کشی کی بھی خبر اجائے گی
چنگیز خان کی اولاد ایک منگولین پہلوان هے جی اساشوریو جاپان کی سومو کشتی کا پهلوان اس دور کا جاپان کا یوکوزونا ہے جی
یوکوزونا بمعنی زمانے کا طاقت ور
رستم زماں
تو اس نے اس دفعه جب یه ٹائیٹل جیتا تو بازو کھڑے کرکے متکبرانه جیت کا اظہار کیا تھا
جاپانی لوگوں نے اس بات کا بڑا برا منایا هو که جی یه کوئی باکسنگ یا ریسلنگ نهیں هے که که عامیانه حرکات کی جائیں
زمانے بھر کو معلوم هے که تم طاقت ور هو اس لیے تمہیں کسر نفسی کا اظہار کرنا چاهیے که جی اپ لوگوں کی زرھ نوازی هے ورنه میں کیا اور میری حثیت کیا کا رویه اپنانا چاهیے ـ
ایک اور جاپانی سومو پہلوان گانجا کے ساتھ رنگے هاتھوں گرفتار هوا هے
اس کا بھی کام ختم اب یا تو گاؤں چھوڑ جائے یا مر جائے ـ
جاپان کا معاشرھ اب اس سے نفرت کرے گا
ایک سیاستدان کا بیٹا مکینک کی دوکان پر رات کو چوری کرنے گیا شٹر کے سامنے جاکر اس کو کیمرھ نظر ایا تو اس نے پيچھے هٹ کر اس کیمرے کا رخ بدل کر دیا اور اس کے بعد گیراج میں داخل هو کر پچاس هزار کی رقم چوری کی لیکن جب اس کو باهر والا کیمرھ نظر ایاتھا اور اس نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا تو اس کی تصویر رھ گئی جس نے اس کو گرفتار کروادیا
اس کے باپ نے میڈیا والوں کو بتایا که پولیس کو چاهیے که اس کو سخت سے سخت سزا دلوانے کی کوشش کی کرے ـ
اور جس مکینک کی چوری هوئی هے اس نے بتایا ہے که یه لڑکا ایک سال اور کچھ مہینے پہلے میرے پاس مرسڈیز بینز پر ایا تھا اس کی گاڑی کا کام کچھ زیادھ نهیں تھا اس لیے میں نے اس کو مفت میں کردیا تھا
یه لڑکا میری چوری کرنے آگیا بڑا احسان فراموش نکلا جی ـ
بیس سال پہلے ساتھ کے گاؤں کا مئیر رشوت کے الزام میں گرفتار هوا تھا
اج بھی کسی کو اس گاؤں کا نام بتائیں تو جاپانی فوراً کہتے هیں
اچھا وه گاؤں جہان کا مئیر رشوت میں گرفتار هوا تھا
بس جی جاپانی ایسے هی هیں

جمعہ، 30 جنوری، 2009

عزت دے کر ازمائیش

بندے کی کوالٹی کا معلوم کرنے کے لیے میں اس طرح کیا کرتا هوں که
هر کسی کو بہت زیادھ عزت دیتا هوں
اتنی زیادھ کی اس بندے کے گاؤں کے چوھڑے نے بھی اس کوکبھی جی جناب کہـ کر نہيں بلایا هوگا که میں اس کو جی جناب کہـ کر پکارتا هوں ـ
سارا گاؤں جس کو حسینا مراثی کہـ کر پکارتا هو میں اس کو بھی حسین بھائی حسین بھائی کہـ کہـ کر بڑی عزت دیتا هوں
اچھو نے ایک دن کہا
خاور صاحب آپ بھی کافی سے زیادھ کھسکے هوئے هو
مج کی موتری جیسا منه بنا کر کھسیانی هنسی والے حسینے کو اپ بھائی بھائی کہـ کر پکارتے هو
کیوں اس کا دماغ خراب کرنا ہے
تو میں نے کہا اشرف صاحب آپ کو بھی تو سارا گاؤں اچھو کہتا ہے میں آپ کو بھی تو اشرف صاحب کہتا هوں ناں ؟
او جی هم بھی آپ کی عزت کرتے هیں ناں ؟
تعلیم نهيں هے تو کیا جی همیں بندے کی پہچان ہے
میں یه سمجھتا هوں که اگر اپ نے کسی کو اس کی اصلیت میں دیکھنا ہے تو اس کو بے جا عزت دے کر دیکھو اگر تو اس بندے کی اصلیت اچھی هو گي تو وه آپ کا مشکور هو گا اور اپ کی بھی عزت کرے گا
لیکن کم ظرف بندھ تھوڑے هی دنوں میں آپ کی شاستگی کو اپ کی کمزوری سمجھ کر سوار هونے کی کوشش کرے گا
یہاں پوائینٹ کی بات ہے که جیسے هی بندھ آپ کو توں تکار پر ائے اپنا شاستگی کا لبادھ اتار دیهاتی بن جاؤ اور اس بندے کی ماں بہن کے ڈنگروں کے ساتھ تعلقات جوڑنے شروع کروں اور گالیوں کی بھر مار کردو
تو ایسا بندھ پھر آپ کو معتبر سمجھنے لگے گا
بندوں کو آپ ائینه لگتے هیں اور اپ میں وه خود کو دیکھتے هیں
اگر وه ادمی جھوٹا هو گا تو اپ اس کو عزت دیں گے تو وه اپ کو جھوٹا کہے گا
اور اگر سچا هوگا تو آپ سچا سمجھے گا
اگر عزت والا هوگا تو آپ کی عزت کرے گا اور اگر بے عزتا هے تو جی آپ کو بے عزت کرکے هی چھوڑے گا ـ
باقی جی یه میرا فارمولا هے
هوسکتا ہے که آپ اس سے متفق ناں هوں

بدھ، 28 جنوری، 2009

تعلیم دشمنی

طالبان کی سکول دشمنی کو پيچھے ایک راز کی بات هے جو که هماری بہادر فوج لوگوں کو بتانا نہیں چاھتی
وه راز یه ہے که حکومتی فوجی یا ملیشیا والے اپنے ٹھکانے سکولوں میں بناتے هیں ـ
تو جی حمله پھر سکول پر هی هو گا ناں جی ـ
میڈیا ہے دنیا کی بہادر ترین کہلوانے کی شوقین پاک فوج کے پاس
تو
جی
جو چاھے آپ کا حسن کرشمه ساز کرے
اصل میں میں یه بات اردو جہاں نام کے بلاگ پر ان کی ایک پوسٹ لیڈیز فسٹ پر کومنٹ میں لکھنا چاھتا تھا
لیکن وهاں میرے لیے تبصرھ کرنا ممکن نهیں هو پته نهیں کیوں ؟
هر بار ایرر اتا ہے
بات یه ہے که هماری حکومتوں کا وطیرھ رها ہے جی صدیوں سے بلکه هزاروں سال سے که هم جب هندو تھے تو تب بھی برهمن عام لوکوں کی تعلیم کے خلاف تھے اور جب
هم ملسمان هو گئے تو تو برابری کی تعلیمات کا سبز باغ دیکھا کر همیں مسلمان کر کے پھر کچھ هی عرصے کے بعد سید بن کے مسلمانوں کے برهمن بن بیٹھنے والے پیدا هو گئے
اب جی اپ همارے حکمرانوں کی ذہنیت دیکھ لیں
تاحیات چئیر مینی
طاقت کل بننے کی کوشش
وغیرھ ان کا بس چلے تو برهمن کی طرح لوگوں کو چھودر بنا کر دیں مگر نام کا هی سہی اسلام کی بھی لاج رکھنی هوتی هے
ایک دفعه اندرون سندھ ةرین بر سفر کرنے والے ایک دوست نے بتایا که اس نے دیکھا که وڈیرھ صاحب سیٹ پر بیٹھے هیں او ر باقی سب لوگ نیچے فرش پر
لیکن سیٹیں خالی پڑی هیں
تو جی اس دوست نے وڈیرھ صاحب سے پوچھا که جی ان لوگوں کو بھی سیٹ پر بٹھا دیں ناںجی
تو وڈیرو نے فرمایا
که اپ نے قران نهیں پڑھا ہے ؟
که اللّه جس کو چاهے عزت دے اور جس کو چاھے ذلت ـ
ان لوگوں کو رب نے ذلیل پیدا کیا ہے آپ کون هوتے هیں جی ان کو برابر بٹھانے والے ؟؟
هماری تاریخ میں برصغیر کی تاریخ کی بات کر رها هوں
کس حکمران نے تعلیم کی مخالفت نهیں کی ہے ؟
اگر جی لوگ پڑھ جائیں تو ان کو معلوم هو جائے گا که
پاک فوج کو چوکیداری کے لیے رکھا ہے ناں که
رقبوں پر قبضے کے لیے
اور ناں جی پلاٹوں کی بندر بانٹ کے لیے ـ
اگر آپ نے پاک فوج کو دیکھا جب یه سکیم پر نکلتے هیں تو
سکولوں میں ڈیرھ لگاتے هیں
تو جی ان کے دشمن پھر سکولوں پر هی حملے کرین گے ناں جی ؟؟
یه پاک فوج اپنے هی لوگوں پر حملے کرتی هے اپنے هی لوگےں کو گمراھ کرتی هے اپنے هی ملک پر قبضه کرتی هے
اپنے هی لوگوں کے رقبے اور پلاٹ ھتھیالیتی هے
چلو جی بقول شخصے
گھر کی عزت گھر میں هی رھ جاتی هے
دیوار کو باهر گرنے سے پہلے اندر هی گرا لیتے هیں ـ
بیگانے پتروں سے پہلے هی گھر میں هی ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

اتوار، 25 جنوری، 2009

ستاروں په کمند

خوش حال خان خٹک کے ایک پشتو شعر کا علامه اقبال نے منظوم ترجمه کیا تھا
جس کو زیادھ تر لوگ اقبال کا هی شعر سمجھتے هیں
محبت مجھے ان جوانوں سے هے
ستاروں په جو ڈالتے هیں کمند

اور خود اقبال نے یه کها تھا
سبق ملتا ہے مجھے معراج نبوی سے یه
عالم بشریت کی زد میں هیں گردوں

گردوں !ـ کہکشاں !ـ
دور ستاروں کی باتیں بشر کی دسترس میں هیں یا نهیں ؟
٤ اکتوبر ١٩٥٧ کے روز عظیم روس نے پہلا سیٹلائیٹ خلا کو داغا تھا ـ
اس کے بعد ایک لمبی لسٹ ہے جی خلا میں بھیجے جانے والے راکٹوں کی ـ
امریکه اور روس کو خلا میں دوڑ نے دنیا کو بہت کچھ دیا هے
انسانیت کے جثے پر لگے زخموں پر کچھ مرهم اس دور کیا ایجادات نے رکھاهی هے
لیکن اے کاش که اس دوران دریافت هونے والی تکنیکوں کو اسلحے کی بجائے زراعت میں استعمال کیا جاتا تو
لوگ گولیوں یا بموں کی بجائے شوکر اور کیلسٹرول سے مرتے ، چلو یارو بھوک سے مرنے سے تو بہتر ہے ناں جی که لوگ بسیار خوری سے مریں ـ
ستاروں په کمندیں ڈالنے والے جوانوں کی فهرست میں اب جی جاپانی جوانوں کانام
اور دنیا کو ایک للکارتی هوئی دعوت که جی عام لوگ بھی کچھ کر هی سکتے هیں
اگر وه پاکستان میں پیدا ناں هوں تو ـ
شعله ون نام کا ایک سیٹلائیٹ کچھ جوانوں نے تیار کیا هے
کوڑے کرکٹ سے چیزوں کو چن چن کر خاور کی طوکیو میں پسندیدھ جگه اکی هابار کی ایلکٹرونس مارکیٹ سے پیسے جوڑ جوڑ کر پرزے اکھٹے کرکے بنایا گیا هے
ان جوانوں نے جو که اوساکا کی ایک ٹیکنیکل یونورسٹی کے طالبان ہیں باقی تو سب هی چیزیں تیار کر لی تهیں مگر ایک ایسی دھات جو که خلا میں جاکر بیرونی اثرات کا مقابله کر سکے م اس بز انے والے اخراجات ان غریب طالب علموں کے بس کے نهیں تھے اور اس کے بعد اس سیٹلائیٹ کو خلامیں داغنے کاکام تو ان کے خیال میں یه تھا که جی انے والی نسل میں کوئی اس کام اگے بڑھائے گا
عظیم لوگوں کا خیال هوتا ہے که جی هم اپنے حصے کا کام کرکے مرجاتے هیں اور انے والے اس سے اگے اپنے حصے کا کرلیں گے
پاکستان کے ابا جی لوگوں کی طرح نہیں که اپنے باپ کا کام بھی اگے نهیں بڑھایا اور ناں هی اولاد کے کام کو بڑھنے دیا ہے
بس جی کھایا پیا
ٹٹی کی اور مرگئے
اباجی بہت عظیم تھے
هان جی تو اوساکا کے ان سٹوڈنٹوں نے اپنے اردگر جب اس بات کا ذکر کیا تو ایک فیکٹری کے مالک نے ان کو کہا که تم نے جلدی کیوں نهیں بتایا؟
اس فیکٹری میں جو جو مشینیں استعمال کرنی هیں استعمال کروں اور جہاں جهاں پیسوں کی ضرورت ہے بتاؤ ـ
تکنیکی ذهن رکھنے والے ادمی کو هی اس خوشی کا ادراک هو سکتا هے
که ایک جدید ترین فیکٹری کی خراد مشینیں اور اوزار آپ کی دسترس میں هوں
جاپان میں اوساکا کا علاقه ایسا هے که یہاں کے لوگوں کی عادتیں آپنے سندھی اور پنجابی لوگوں کی اج سے تیس چالیس سال پهلے والی عادتوں سے بهت ملتی هیں
ایک دوسرے سے ملنا جلنا ، هنسی مذاق ، ایک دوسرے کے خاندان کی نسلوں تک کا معلوم تعاون وغیرھ وغیرھ
شعله ون کے سیٹلائیٹ کو انهوں نے
مایدو
کا نام دیا هے مائیدو کا لفظ اوساکا کے علاقے کی بولی میں شکریے کے لیے استعمال هوتا هے اور دوسرے جاپان میں بھی ـ
اردو میں اس لفظ کا تاثر کچھ اس طرح بنے گا
بڑی مہربانی جی !ـ آپ هماری دوکان پر ائے ـ
ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے جوانوں سے محبت کا یه انداز جو اس فیکٹری مالک نے اپنایا ہے آپ کی کیسا لگا ؟؟
مجھے بڑا اچھا لگا ہے جی
مائیدو کے علاوھ پانچ دوسرے سیٹلائیٹ بھی اس راکٹ پر رکھ کر بھیجے گئے هیں
یه چھ سیٹلائیٹ پرائیویٹ فیکٹریوں اور یونورسٹیوں اور عام لوگوں کے تیار کردھ هیں
یاد رهے
جاپان کی یونیورسٹیاں بہت تحقیقی کام کرتی هیں
اتنے زیاھ که اردو میں جو جاسوسی ناولوں میں ترقی یافته اقوام کی خفیه ایجنسیوں کے سنسنی خیز خفیه منصوبے هوتے هیں ناں جی
ان سے کچھ بڑھ کر هی کام هوتا هے جاپان کی یونورسٹی میں ـ
میری بیوی می یو کی بھی جاپان کی ایک مشهور تکنوکی یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہے
اس کے طالب علمی کے دنوں میں مجھے کئی دفعه اس کے ساتھ یونورسٹی جانا هوا تھا
یارو حیرتوں کا ایک سمندر ہے
سوچ رکھنے والوں لیے ـ
جاپان سے اس دفعه بھیجے جانے والے یه چھ سیٹلائیٹ بہت سے سیٹلائیٹوں میں سے چنے گئے سیٹلائیٹ تھے
جی هان پرائیویٹ سیکٹر میں اتنا کام هو رها هے که پاک لوگوں کی حکومت بھی اتنا نہیں کرسکتی
بس جی جب اپ ایک انجنئیر کو
اوئے لوهارا
کہـ کر پکاریں گے تو امریکه لوهار کو ویزھ بھی دے گا اور اس صاحب کہـ کر پکارے گا اور پیسے بھی دے گا تو
لوهار کا دل تو وطن کے لیے دھڑکے گا مگر اس کی صلاحتیں کسی اور کے کام آئیں گی

عام بشریت کی زد میں هیں گردوں
اور هم نے اس بات پر بحت میں گزار دیے که جی رسول بشر تھے که نہیں
بشریت کی زد میں گردوں کو لانے کا معامله تو بهت بعد میں ائے گا
پہلے بشریت کی ڈیفینیشنز تو مقرر کرلیں جی
آپنے ایمپورٹیڈ دھرم کے ٹھیکیدار ـ
یاد رهے خلا میں باریک زرات بھی تیر رهے هیں جو سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اس سوراخ کر دیتے هیں
اس سے بچاؤ کی تکنیک پر بھی کام هو رها هے
جیسے که فائبر کا نمدا که ذرات اس میں الجھ کر ره جائیں سوراخ ناں کریں ـ
شائد قرآن میں جو اسمان کی خبریں لینے کی کوشش کرنے والے شیطانوں پر شعله لپکنے کی بات ہے وه ان زرات کی هی ناں هو ـ
او نئیں جی !!ـ
اے گل نهیں لکھنی مولوی مارن دے ـ

بدھ، 21 جنوری، 2009

وقت توں ورے

کسے آکھیا کن فیکون تے کسے نے آکھیا چھناکا ـ
هویا ہے سی هے کچھ ضرور پر میں تے اوتھے هے نهیں سان پرکجھ کجھ سمجھ رلدی اے که کی هویا هوئےگا
فلیش دی فائیل بن کے چالو هو گئی که لاٹو رڑ پیا ؟
بناں والے نے وقت بنا دیتا تے اس دے چکر وچ رکھ دیتا سانوں ـ
تے کمن کیریان کھاندے لوک چکر تےچکر که جتھوں تک سوچ یا نظر جائے بس چکر اے چکر ـ
جے کوئی سیانا پہنچیا وی تے ایس گل تے که چکر اے
سورج دے دوالے تاریاں دا ـ
نیوکلس دے دوالے ایکٹرون تے پروٹون دا تے کوئی هور باریکی وچ پیا تے اونوں لبیا که اینہاں چکراں وچ فیر ایک چکر اے
اے چکریاں کھاندی دنیا کچھ هور وڈے چکراں دا چکر اے
اکھدے نے اے کہکشاں اے تے هور کسے نال رل کے هور کسے چکر داحصه اے
ایس وقت نوں بنان والا اپی وقت تو پرے تے ورے کلے بیٹھ کے پته نهیں کی پیا کردا
کردا هوئگا جو پہلاں کردا سی !!ـ
پر پہلاں کی تے بعد کی ؟
او تے هے ای وقت تو پرے وے
میں وقت وچ قید وقت تو باهر سوچ ای نہیں سکدا ـ
ازل تے ابد کچھ نهیں بس وقت تو پرے وے جو کچھ اوے اے ازل تے ابد ـ
کسے کجھ اکھیا تے کسے کجھ پر او هے کی اے
گاڈ رب مزدا بھگوان یا خلائ مخلوق ؟؟
نہیں او جو وی اینہاں توں بہت ورے بیٹھا اے
تے فیر مذہب کی نے ؟؟
ڈرامه ؟
نهیں
اے کچھ هیں سہی
پر جے میں دیسا ناں تے فیر میں منصور حلاج وانگو ں سولی تے چھول جاواں گا یاکسی سقراط وانگوں زهر پیاله پینا پئے گا
جے میں لکھاں جو میرے اندر اے تے لوکاں تو برداشت نہیں هونا
فیر انج کرنے آں او ای لکھنے آں جو لوک برداشت کر سکن
که ایک سیانے نے اکھیا سی
خاصاں دی گل عاماں اگے تے نهیں مناسب کرنی ـ

مقدس حق اور سنہرا خواب

منٹو کے ایک افسانے
دیوانه شاعر
کے شروع میں لکھا ہے
اگر مقدس حق دنیا کی متجسس نگاهوں سے اوجھل کر دیا جائے ، تو رحمت هو اس دیوانے پرجو انسانی دماغ پر سنہرا خواب طاری کردے ـ حکیم گورکی
یارو کتنی گہری بات کر گیا هے جی یه سیانا بندھ
اگر یه هو جائے جو که ناممکن ہے تو پھر اگر سنہرا خواب بھی ناں هوا تو ؟
اگر میں نے اس سے زیادھ لکھا تو کفر کا فتوی لگ جائے گا اور کوئی مجھے قتل کرکے غازی بن جائے گا
دیکھا ہے جو میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے

منگل، 13 جنوری، 2009

بلاک اور خبریں

میں نے ایک نیا سلسله شروع کیا هے
جاپانی خبروں کو ترجمعه کر کے
http://gmkhawar.net
پر لگانے کا ـ
فجر کی نماز میں جانےسے پہلے میرے پاس وقت هوتا هے اس لیےمیں نے یه سلسله شروع کیا هے
ان دنوں فجر کی نماز سوا چھ بجے هوتی هے
اور میں چار بچے جاگ جاتا هوں
مسجدمیں جماعت تک پہنچنے سے پہلے اتنا وقت مل هی جاتا هےکه کچھ ترجمعه کیا جاسکے
اردو میں جاپانی خبروں کا اس حد تک ترجمعه آپ کہیں نہیں ملےگا
اردو کے قارئین کے لیے جاپان کی خبروں تک کسی حد تک هی سهی یه پہلی رسائی هے ـ
اردو کے سب رنگ جو که
http://khawar.riereta.net/urdu/
اور
http://urdu.gmkhawar.net
هے تو بلاگروں کو ایک جگه کرنے کا پلیٹ فارم مگر میں نے اس میں
http://gmkhawar.net
کا بھی لنک دے دیا هے
هوسکتا ہے که کسی کو اعتراض هو که میں اردو کے سب رنگ کا ایڈمن هوں اور اپنی بنائی هوئی ایک سایٹ کو یہاں دے کر اختیارات کا ناجائیز استعمال کررها هوں
تو اسے قارئین سے کذارش هے که ابنے اعتراضات کھل کر لکھیں
اگر اعتراضات زیادھ هوئے تو اس سائیٹ کو اردو کے سب رنگ سے ھٹا دیا جائےگا
یہاں ایک خبر لکھ رها هوں جاپان سے والی جو که میں نے
http://gmkhawar.net
پر لگائی ہے
لیکن کیونکه یه بات کچھ دلچسپ تھی اور میں اس پر کچھ اور بھی لکھنا چاھتا تھا جو که ایک خبر میں ممکن نہیں تھا تو جی اس کو میں نے مذید لکھ کر یہان بلاگ پر لکھ رها هوں

اساھی ٹی وی کے پروگرام پر اعتراض
یومی اوری اخبار نے لکھا ہے که
اساهی ٹیلی وژن نے ایک بلاگ فیچر کو ذرائیع معلومات کے دعوے کے ساتھ پیش کیا ہے ـ
جو بلاگ که اساھی کے اپنے اسٹاف ممبر کا لکھا هوا ہے ـ
یه پروگرام هفتے کی رات سات بجے براڈکاسٹ کیا گیا
اس پروگرام میں دیکھائی جانے والی معلوما ت میں سے کچھ اس بلاگ سے لی گئیں تھیں جو که اساھی ٹیلی وژن کے سٹاف کے فرد یا افراد کا لکھا هواتھا ـ
اس پروگرام میں انگریزی کے لفظ نیوز کے هجے این ای ڈبلیو اور ایس کو نارتھ ساؤتھ اور ایسٹ ویسٹ کے الفاظ کے پہلے هجے سے لے کر بنایا گیا لفظ کا پوچھ کر اس کے صحیع یا غلط هونے کا پوچھا گیا تھا ـ
اس کے علاوه اس پروگرام میں بتایا گیا که چینی اور کورین زبانوں میں جنگلی سور اور فارمی سور کے لیے ایک هی لفظ استعمال کیا جاتا ہے ـ
اس لیے چینی کلینڈر جس میں سالوں کے نام جانوروں کے نام سے موسوم کیے جاتے هیں
اس میں سے جس سال کو جاپان میں جنگلی سور کا سال کہتے هیں هیں وه اس کو چینی میں فارمی سور کےسال کے طور پر بھی بولاجاسکتا ہے ـ
سالمون مچھلی کو جاپانی میں ساکے اور شاکے کہے جانے میں کیا اختلاف هے اس کی بھی بات کی گئی تھی ـ
اس پروگرام ميں جس ٹوپک پر بات کی گئیں ان کی معلوم کے ذرائیع چھ بلاگ تھے
همارے هاں پاک بولیوں میں چاهے اردو هو یا پنجابی اس میں بھی جنگلی اور فارمی سور کےلیے ایک هی لفظ هے
جبکه انگریزی میں اس کے لیے علیحدھ سے الفاظ رائیج هیں ـ
یه سال ٢٠٠٩ جینی کلیڈر کے حساب سے گائے کا سال ہے
گائے اور بیل جس کو پنجابی میں گوکا کہتے هیں
گوکا فیملی میں بھینس کو شامل نہیں کیا جائے گا گوکا هو گا بیل یا گائے یا ان کے بچے
پنجابی میں ایک محورھ بھی هے جو که اب مجھے یاد نہیں آرها لیکن اس کا معنے بنتے هیں که گوکا اووڑ (خشک سالی)کے سال برداشت کر سکتا ہے اور جھڑی (بارش کا موسم) کے پہر بھی نهیں ـ
چینی بارھ جانوروں کے نام سے ایک کلنڈر رکھتے تھے پرانے زمانے سے
یاد رهے که چین هی ایک اسا ملک هے جس کی حکومتوں کا ریکارڈ ساڑھے چار هزار سال پہلے لکھ کر رکھا جانے لگا تھا
اس ریکارڈ میں سے بہت سا جنگوں اور موسمی افات میں ختم هو کیا لیکن جتنا بھی مل سکا ہے وه بھی پرانے زمانے کے حالات سمجھنے کے لیے کافی هے ـ
چینی زبان اشکال سے لکھی جاتی هے اور یه طریق پرانوںسے رائج ہے اس لیے چینی لوگوں کو اپنی پرانی دستاویز کو پڑھنے میں کوئی خاص دشواری نہیں هوئی ـ
هماری طرح نہیں که موهن جوڈرو کے کھنڈرات سے ملنے والی تحاریر پڑھ هی نہیں سکے
اور جس پر ان تحاریر کو پڑھنے کی
ذمه داری ڈالی گئي اس نے نیا هی شوشه چھوڑ دیا که
وه لوگ تحریر سے واقف هی نهیں تھے اس لیے ان کو پڑھا هی نہیں جاسکتا ـ
بلکه یه پڑھنے والی چیز هی نہیں هیں ـ
چینی کلینڈر میں یه سال گائے کا هے
اگر کو ئی شخص گائے کے سال کی بیدائیش ہے تو اس کی عمر اس سال بارھ سال یا چوبیس سال یا اسی طرح بارھ جمع کرکے سمجھ لیں گے
اور اکر کوئی حادثه یا وقعه اس سال هو ہے تو اس کو بھی اسی طرح سے دیکھ لیں گے اور اکر یه بات صدیوں پرانی هو گي تو اس دور کے بادشاھ کے نام سے عرصے کا اندازھ لگایا جائے گا ـ
لیکن یاد رهے که همارے یہان کلینڈروں کا جو نظام رائیج تھا وه دنیا میں کہیں بھی پائے جانے والے نظام سے زیادھ بہتر تھا
جس کی ایک مثال اب بھی بکرمی کلینڈر کی صورت میں موجود هے
لیکن اس موضوع پر لکھنا اسلام کے ٹھیکیداروں کو کت کتاریاں کرنے وال بات هو گی اس لیے اس بات کو بھر کبھی سہی کے لیے چھوڑ دیتے هیں جب تک که پاک قوم ذہنی طور پر بالغ نہیں هوجاتی ـ
جاپان میں بھی سور کو اکر فارمی هے تو اچھا نہیں سمجا جاتا
یعنی فارمی سور کو جاپانی میں بوتا کہتے هیں اور جنگلی کو اینو شی شی ـ
اپ اکر کسی کو بوتا کہـ کر پکاریں تو وه غصه کرے گا
یا کسی کے گھر کو بوتا کے گھر سے تشبیح دیں تو بھی غصه کرے گا ـ
اس لیے جاپانی جینی کلینڈر کے سور کے سال کو اینو شی شی کا سال کہتے هیں
اگ ان کو کہیں که یه سور کا سال ہے
تو جواب ملے گا که سور کا کوئی سال نہیں هوتا
یه اینو شیشی کا سال ہے
اب همارے لیے بھی بوتا ور اینو شی شی ایک هی بات تھی اس لیے ان معاملات کا معلوم هوا ـ
فلپائین میں بھی غالباً سور کےلیے ایک هی لفظ استعمال کیا جاتا هے اور موٹے تازے بندے کو سور جیسا کہـ کر پکارنا اس بندے کی تعریف کے زمرےمیں اتا ہے ـ
جاپان میں جسم فروش فلپائینی عورتیں جب کسی گاهک کو سور جیسا کہـ کر پکاتی تھیں تو ان کام مقصد اپنے گاهک کو لبھانا هوتا تھا مگر جاپانی غصه کر جایا کرتے تھے

جمعہ، 9 جنوری، 2009

میں کتھے جاواں ؟؟

یه کیا ہے ؟؟
که میتوں کو سجدھ کر رهے هیں ـ
میں نے یه تصور کہیں سے انٹر نیٹ غالباً بی بی سی سے

ان لوگوں کو اپنے اس فعل کے لیے کہیں بخاری مشکواة ،ترمذی یا اسی قسم کی کسی کتاب سے حواله مل هی جائے گا
اور اس بات کی مخالفت کرنے والوں کو بھی انہیں کتابوں میں سے حواله مل جائے گا اور پھر ایک دوسرے پر گمراھ هونے کے الزامات هوں گے ـ
اور اگر میں قران کی بات کروں تو مولوی صاحبان اچھل اچھل کر
لیکن
مگر
اگر
چونکه
وغیرھ وغیرھ
یارو کیسی کتابیں هیں یه جو اقوال رسول کے نام پر ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ

بدھ، 7 جنوری، 2009

تبدیلیاں

میں اپنے ان محسوسات کو کیا نام دوں ؟؟
سائینسی ترقی کی رفتار ؟
یا کچھ اور؟
میرے خیال میں یه دنیا کی بے ثباتی کی بات ہے اور بندے کے اپنے مشاهدے کے غلام هونے کا ثبوت بھی
انسان مشاھدے کا غلام هے !!ـ
سکرین پر چلنے والی فلم میں جس چیز کو دیکھ رها هوتا ہے اس کی حقیقت کچھ اور هوتی هے
اپنی نظورں سے دیکھے کو هی حقیقت سمجھنے کا مغالطه کھا جاتا ہے جی انسان ـ
همارے دیکھتے هی دیکھتے کتنی چیزیں بنیں اور ختم هو گئیں
هم نے مشاهدھ کیا که یه چیز آئی اور چھا گئی اور پھر مٹ گئی
کچھ چیزوں کو لمبا وقت ملا تو ان میں انے والی تبدیلیاں حیران کن هیں ـ
ابھی اگلے دن کی بات لگتی هے که گاؤں کے سارے گھروں میں پانی کا نلکا نہیں هوتا تھا میں هینڈ پمپ کی بات کر رها هوں ـ
پھر سارے کاؤں میں هر گھر میں نلکا هوا تو دور سڑکوں پر بھی نکلے لگے که مسافروں کو پانی پینے میں میں اسانی رهے ـ
یه علیحدھ بات ہے که نلکے کی مشین چوری کر کے سکریپ بیچ کر کھانے والے نشئی هر دور میں رهے
پھر اب یه دن هیں که همارے گھر میں بھی پاکستان میں نلکا نہیں ہے
کیا اپ کے گھر میں ہے ؟؟

هاتھ سے چلنے والے آٹے کی چکی گھر میں پری تو دوکھی مگر اس پر هر روز کا آٹا پیسنے کا کام هماری پیدائیش سے چند هی سال پہلے بند هوا تھا
که گاؤں میں ایک خراس بھی هوا کرتا تھا بجلی آنے سے پہلے اٹے کی بیلوں سو چلنے والی چکی کو کہتے هیں خراس ، هآارے گاؤں میں یه خراس همارے گھر کے سامنے هوا کرتا تھا مگر بجلی کی چکیاں آنے کے بعد یه خراص بیکار پڑا رھتا تھا گاؤں کے ایک یا دو گھر ایسے تھے جو کبھی کنھی اس کو استعمال کرتے تھے
ورنه هم بچے اس پر جھولے جھولتے تھے
خراس کے پاٹ اگر جڑے هوتے تھے تو خراس کو چلانا هم بچوں سے ممکن نہیں هوتا تھا
اس لیے اس کے نیچے ایک گراری سی لگی هوئی تھی پاٹوں کا فاصله بڑھانے گٹھانے کے لیے ، آٹے کو باریک یا موٹا کرنے کے لیے پاٹوں کو اوپر نیچے کرنے کا سسٹم تھا جی یه ـ
گھٹنے نیچے ٹیک کے اور بھی نیچے چھک کر اس گراری کو کماتے هوئے ایک دن میں نے اوپر دیکھا تو اندھیرے میں مجھے ایک لاٹو سا نظر ایا
میں نے سوچاکه شائید کو کل پرزھ هو گا جی خراس کا میں نے اس کو پکڑ لیا
اور یه تھا که بھڑوں کا چھته
ایسے لگا که هاتھ میں اگ هی لگ گئی که ایک دم درجنوں بھڑوں نے ڈنگ جو لگا دئے تھے
بے سوچے سمجھے میں نے هاتھ کو زمین پر رگڑنا شروع کردیا که اس سے ساری بھڑیں مر گئیں مگر هاتھ سوج گیا تھا جی
خراس کو بجلی کی موٹر سے چلنے والی چکیاں کھا گئیں
اور چکیوں کو فلور ملیں ـ
کنؤں کو نلکے گھا گئے اور نلکوں کو واٹر سپلائی
اور واٹر سپلائی سسٹم نے میرے شہر گوجرانوالہ کو دیا ہے جی هیپاٹیٹس سی کا وائیریس ـ

چارا کاٹنے والی مشین ٹوکا همارے پاس تو تھی مگر میں نے اپنے داداجی حاجی اسماعیل تڑوائی کے چھوٹے بھائی دادا جی ابراهیم کو دیکھا ہے که ان کے گھر پر هاتھ سے چارا کترا کرتے تھے
لکڑی کی منڈھی پر هاتھ والے ٹکوے سے ـ
پھر جی مشین والے ٹکوے بھی گئے که اب موٹر والے ٹوکے هیں ـ

چاول کے چھڑنے کو اوکھلیوں میں چھڑنے کی صرف باتیں سنی هیں
هم نے چاول کو مشینوں پر هی چھڑتے دیکھا ہے
ستر کی دھائی میں همارے گاؤں میں جو تین چار مشینیں تھیں ان میں ایک میرے چاچا مالک اور چاچا یونس کی ملکیت تھی
ابا جی کے تین بھئیوں میں سے ان دونوں میں سے بھی چچا یونس تو زمینوں پر رهتا تھا چچاملک هی مشین پر کام کیا کرتا تھا
چاول چھڑنے کی مشین کے ساتھ ایک مسئیله تھا که جب بھی سیزن شروع هوتا تھا تو پولیس والے مشینوں کو سیل کرنے اجاتے تھے
اس سیل کو توڑ کر مشین چلا کر دوبارھ لگانا بھی ایک فن تھا جی
رات کو هر روز مشین چلایاکرتےتھے
که ستر کی دھائی میں سو روپے تک کی دھاڑی لگا کرتی تھی ـ

پھر جی سیلر آ گئے
مشین اور پھک ایک کہانی سی بن کے رھ گئے هیں جی اب تو ،
پھک که گھوڑے بڑی رغبت سے کھاتے تھے
کہتے هیں که گھوڑا اگر کڑوا بادام کھا لے تو مرجاتا ہے
میں نے دیکھا ہے همارے گھوڑے کی کھرلی میں کوئی پھک میں بادام ڈال جاتا تھا که ان کا گھوڑا مر جائے
لیکن جی اللّه کا فضل هی رھا جی ورنه جی ماڑے بندے کا گھوڑا مر جائے تو اس کے لیے چاهے امریکه کا صدر بھی مر جائے گھوڑے کا غم زیادھ هوتا ہے ـ

بجلی بھی همارے دیکھتے هوئے هی آئی جی همارے گاؤں میں بھی اور همارے گھر میں بھی ـ
اور ٹیلی وژن کا انٹینا چوھدریوں کی چھت پر اختر خان صاحب عرف کوکن مراثی کو لگاتے دیکھ کر هر بندھ دوسرے سے پوچھ رها تھا که یه کیا لگ رها ہے که چوھدریوں کی چھت پر؟

بانس پر کبوتروں کو چھتری جیسی چیز لگاتا هوا کوکن مراثی مجھے وه سین اب بھی کل هی کی بات لگتا ہے
میں جب پہلی بار ٹیلی وژن دیکھنے گیا تو خبریں لگی هوئیں تھی
چوھدریوں کے گھر آنے والے مهمانوں جیسا ایک بندھ تھا که کچھ کہے جارها تھا
مجھے اس کی کسی بات کی سمجھ نہیں لگی مجھے یه بھی یاد نهیں که وه کون سی زبان بول رها تھا
پھر جی کچھ هی سالوں میں گھرگھر ٹی وی هی ٹی وی هو گئے ـ
هان ٹیلی وژن ایک ایسی چیز ہے که جس کے ختم هونے کا مجھے تو انے والی کچھ دھائیوں تک بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا ـ

میرے خیال میں جو چیزیں لمبا عرصه همارے ساتھ چلیں گی وه هوں گی ٹیلی فون کسی بھی شکل میں ریڈیو اور ٹیلی وژن اور اخبار ـ
میوزک کے لیے هر ماسٹر وائیس کے ریکارڈ جس پر کتے کی بھنپو کے سامنے فوٹو هوتی تھی ـ
بہت بعد میں پته چلا که یه کتا هے جی
هاچی کو جس کا مجسمه طوکیو شہر کے شی بیا اسٹیشن کے سامنے هے ـ
شیبیا سپیشن پر حاچی کو کا مجسمه ملاقات کرنے والو ں کے ملنے کی مشہور جگه هے ـ
ان ریکارڈ پلیئیر میں ریکارڈ کو بدلنا گانے کا مزا کرکرا کر دیتا تھا اس لیے ریکارڈ کو آٹومیٹک میں بدلنے والی چینچر نام کی مشین کے انے سے اس ریکارڈ پلئیر کا نام هی چینجر پر گیا ـ
عنایت کوٹیا کمهار که چالیس اور پچاس کی دھائی کا ایک پنجابی لوک گلوکار جس کے گانے اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ، هاں اپنا او آر جی ڈاٹ کوم کی سائیٹ پر اس کے کچھ گانے مل هی جاتے هیں
عنایت کوٹیے کے بہت سے ریکارڈ ابا جی کے ننھیال ميں ڈسکه میں میں نے دیکھے تھے که عنایت کوٹیے کمهاروں کا همارے ڈسکه والے رشته داروں سے بڑا تعلق تھا
لیکن کیونکه همارے دادا جی ان عنایت کوٹیوں کو پسند نہیں کرتے تھے اس لیے عنایت کوٹ کے کمهار همارے علاقے مین بھی انے سے گبھرایا کرتے تھے
میں نے جب اباپنے دادا جی سے مخالفت کی وجه پوچھی تو انہوں نے بتایا که
یه عنایت کوٹیے جس گاؤں میں جاتے هیں اس گاؤں کی عورتوں کو بگھا لے جاتے هیں ورغلا کر
اس لیے ـ
دادا جی کی اس بات پر دادی نے جو تبصرھ کیا تھا وه قابل تحریر نہیں که اس میں میری انسلٹ کا پہلو نکلتا هے ـ
میٹرک میں پڑھنے کے دوران مجھے اس بات کا شوق چڑھا که میں پنجابی کے لوک فنکار عنایت کوٹیے کے ریکارڈ محفوظ کر لوں
اس کے لیے میں جب ڈسکه گیا اور ابا جی کے ماموں کے بیٹوں سے ان ریکارڈوں کا پوچھا تو انہوں نے بتایا که همیں تو ان سے دلچسپی هی نہیں هے کہیں صندوقوں کے پیچھے پڑے هوں گے
بڑی تگ دو کے بعد ان ریکارڈوں کو نکالا تو سب کے سب هی کہیں ناں کہیں سے ٹوٹے هوئے تھے که کوئ بھی قابل استعمال نہیں تھا
جب میں نے چینچر کا پوچھا تو
بالے نے ہنستے هوئے بتایا که وه تو کباڑی کو دے دی
وه چلتی بھی نہیں تھی لیکن کباڑی کوئی بیوقوف تھا که اس کے بھی پیسے دے گیا
میں نے سوچا که چاچا بالے بیوقوف کباری نہیں تم هو که جس نے ایک انٹیک چیز بیچ دی ـ
بحرحال پھر جی ٹیپ ریکارڈ آئے
واک میں کا چرچا رها که سی ڈی آ گئی اور اب ایم پی تھری پلیر هیں که آئ پوڈ اور پته نہیں جی که کیا کیا ـ
ویڈیو كی كہانی که بیٹا تو چلا هی کم دن لیکن ویڈیوپر بڑی بہار ائی که لوگ بھالے شهر سے ویڈیو کرایه پر لے کر اتے تھے جس کے ساتھ تین فلمیں هوتی تھیں
صبح تک فلمیں دیکھ دیکھ ان کا براحال هو چکا هوتا تھا
مجھے یه فلمیں دیکھنے کا اتفاق نہیں هوا که ایک تو جی ابا جی فلموں کے خلاف تھے اور دوسرا عشاء کی نماز گے بعد گھر سے باهر رهنے کا تو جی تصور هی نہیں کیا جا سکتا تھا ـ
اب سنا هے که ویڈیو کیسٹ کی فروخت بھی بند هو گئی هے ـ
ثبات ایک ، تغیر کو هے زمانے میں
گندم کو بالیوں سے نکالنے کا عمل انگریزی میں ویٹ تھریشنگ کہتے هیں جی
مجھے یاد ہے که هم بیلوں کے ساتھ پھلے کے ساتھ کیا کرتے تھے کتنے هی دن لگ جاتے تھے اور پھر بھی کندم کے پودے ميں ایک گانٹھ سی هوتی هے وه گندم کے دانے کی هی هم وزن هو جاتی هے اس کو نکالنا بہت مشکل هوتا تھا
مستری محمد حسین نے پہلی بار تھریشر مشین بنائی تھی جی همارے گاؤں میں مستری صاحب نے کہیں مشین دیکھی تھی که آ کر لکڑی سے اس کی کاپی بنا لی اور بجلی کی موٹر پر اس کو چلاتے تھے اس کو پہیے بھی نہیں لگے هوتے تھے اس کو جہان بھی لے کر جانا هوتا تھا کسی چیز پر لادھ کر لے جاتے تھے ـ
پھر مستری محمد حسین کے بیٹوں نے لوہے که چادر سے ویٹ تھریشر بنا کر بیچنا شروع کیے
تو جی پسرور روڈ پر سڑک کے کنارے مستری عبدالرحمان شاد اور مستری بشیر بھٹی بھنگو والے کے بنائے هوئے تھریشروں كی قطاریں لگی هوئی تھیں ـ
پھر کمبائین مشینیں آگئیں
لیکن کمپائین کا ایک نقصان هوا که هم توڑی اور پرالی کو ضائع کرنے لگے هی اور همارے پاس کا کوئی حل بھی نہیں ہے
لیکن جن ممالک میں یه چیز ایجاد هوئی هے انہوں نے بیلر نام کی مشین سو توڑی اور پرالی کو اکٹھا کرنے کا بھی انتظام رکھا هوا ہے
میں ایک دفعه مستری عبدلرحمان سے بات کی کیون ناں اب بیلیر بنا کر لوگوں کو دئے جائیں
کمبائین کے انے سے تھریشروں کا کاروبار ختم هونے کی وجه سو عبدلرحمان شاد کی پوزیشن بھی کمزور هی هے
اور اس نے کہا که ایک دفعه وه مشین لا دیکھاؤ تو سهی
لیکن یارو میں بھی پچھلے کتنے هی سالوں سے کچھ اس بری طرح حالات میں پھنسا هوا هوں که
یه کام نہیں کر سکا
استاد دامن کے یه شعر
هان جی میں استاد دامن کو پسند کرتا هوں
اس لیے عام طور پر میرے بلاک بر استاد دامن کےشعر هوتے هیں

اے دنیا محل سراں دی اے، تے مسافراں بیٹھ کھلو جانا

واری واری اے ساریاں کوچ کرنا، آئی وار ناں کسے اٹک جانا

میرے ویہندیاں ویہندیاں کئی هو گئے تے میں کنیاں دے ویہندیاں هو جاناں

دامن شال دوشالے لیراں والیاں نے ، سبھناں خاک وچ سمو جانا ـ

ہفتہ، 3 جنوری، 2009

نہلے پر دھلا

کورین عورت کی جاپان میں جعلی پاسپورٹ پر انٹری ـ
ایک جنوبی کورین خاتون جو که اپریل ٢٠٠٨ میں جعلی پاسپورٹ پر ، بائیومیٹریک کے تکنیکی ماهر جاپان کے کنٹرول سسٹم کو دھوکه دینے میں کامیاب !!ـ
اپنی انگلیوں پر مخصور ٹیپ لگا کر ایمگریشن کے فنگر پرنٹ ڈیٹا بیس کو گمراھ کیا گیا ـ
ذرائع کے مطابق اکیاون ساله کورین خاتون دوهزار سات میں جاپان سے اوّر سٹے کے جرم میں گرفتار هو کر ڈیپورٹ کر دی گئی تھی ـ
اگست دوهزار آٹھ ميں دوبارھ اس خاتون کو جاپان میں پایا گیا
اب یه خاتون کوریا میں هیں ـ
ڈیلی یومی اوری کے ساتھ اس خاتون کا انٹرویو

سوال:اپ پہلی دفعه کب جاپان گئیں ؟؟
خاتون: ستمبر ا٩٩٩ مین ایک ٹوریسٹ کے طور پر لیکن ویزھ کی معیاد کے اختتام پر بھی میں انگانو میں ڈش واشر اور ریسٹرونٹ کے ویٹریس کے وطر پر کام کرتی رهی ـ
٢٠٠٧ میں مجھے جاپان سو ڈی بورٹ کر دیا گیا مگر ميں ضرور جاپان جانا چھتی تھی که مجھے وهاں ایک مرد ملا تھا جس کو میں بھول نہیں پاتی تھی ـ
سوال : پھر آپ کیسے جاپان واپس گئیں ؟
خاتون: ایک دوست خاتون جس سے میں ایمگریشن میں ملی تھی اس کے تعارف سے اپریل دوهزار آٹھ میں میں سیول میں ایک بروکر سے ملی
یه ملاقات ایک کافی بار میں هوئی ـ
مجھے بتایاکیا تھا که ایک خاخ قسم کی ٹیپ انگلیوں پر لگانے سے کتنے هی کورن لوگ جاپان مین انٹر هوئے هیں ـ
اس ٹیپ سے فنگر پرنٹ اسکینر کو دھوکه دینا ممکن هے ـ
سوال : اپ نے کتنی رقم ادا کی تھی؟
خاتون : تیرھ لاکھ ین ـ تقریباً تیرھ هزار ڈالر امریکن !
سوال: کیا اب اپ اس بروکر کے ساتھ رابطه کر سکتی هیں ؟؟
خاتون نہیں ، اب اس کا فون نمبر تبدیل هو چکا ہے ـ

جمعہ، 2 جنوری، 2009

انتقال کی معذرت

اردو کے سب رنگ قارئین سے بہت هی معذرت کے ساتھ که ، سرور کی کچھ خرابی کی وجه سے اس پر فائیلیں اپ لوڈ نہیں هو رهیں هیں ـ
میں نے انتظامیه سے رابطه کرنے کو کوشش کی ہے مگر اس سرور کی انتظامیه بارسلونا میں ایک لاابالی لوگوں کا ٹوله ہے ـ
جب ان کو خیال ائے گا ٹھیک کر دیں گے یه چند گھنٹوں میں بھی هو سکتا هے اور چند سالوں میں بھی ـ
اس لیے اردو کے سب رنگ کو
یهاں
منتقل کر دیا گیا ہے
http://urdu.gmkhawar.net
اردو کے سب رنگ کے وزٹر قارئن اس ایڈریس کو نوٹ فرما لیں
اور دوستوں کو بھی بتا دیں
امید ہے که اب یہی ایڈریس چلے گا
پرانے والااگر کام بھی کرنے لگا تو اس کو
http://urdu.gmkhawar.net
کے ساتھ ری ڈائیریکٹ کر دیا جائے گا
آپ کا مخلص
خاور کھوکھر

جمعرات، 1 جنوری، 2009

پہلی کرنیں

چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان سے دوهزار نو سن عسوی کو سورج کی پہلی کرنیں ـ



خاور (مشرق) سے نکلنے والے نئے سورج کی پہلی کرنیں دریائے تھونے کي پانی میں رقصاں ـ


جاپان کا ایمیج فُوجی پہاڑ سررج کی پہلی کرنوں سے اجاگر ـ

2009